سورۃ الجمعۃ   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 62 : 1-11 / 11اللہ کی تسبیح کررہی ہے ہر وہ چیز جو آسمانو ںمیں ہے اور ہر وہ چیز جو زمین میں ہے۔ بادشاہ ہے نہایت مقدس ، زبردست اور حکیم۔[1]{۱} وہی ہے جس نے اُمیّوں [2] کے اندر ایک رسول خود اُنہی میں سے اٹھایا ، جو اُنہیں اُس کی آیات سُناتا ہے ، اُن کی زندگی سنوارتا ہے ، اور اُن کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ،[3] حالاں کہ اِس سے پہلے وہ کُھلی گمراہی میں پڑے ہوئے تھے ۔[4]{ ۲} اور( اِس رسول ؑ کی بعثت ) اُن دوسرے لوگوں کے لیے بھی ہے جو ابھی اُن سے نہیں ملے ہیں [5] اللہ زبردست اور حکیم ہے۔ [6]{۳} یہ اس کا فضل ہے ، جسے چاہتا ہے دیتا ہے اور وہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔{۴} جن لوگوں کو تورا ت کا حامل بنایا گیا تھا مگر اُنہوں نے اس کا بارنہ اٹھایا ،[7] اُن کی مثال اُس گدھے[8] کی سی ہے جس پر کتابیں لدی ہوئی ہوں ۔ اِس سے بھی زیادہ بُری مثال ہے اُن لوگوں کی جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلادیا ہے ۔[9] ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ۔{۵} اِن سے کہو: ’’ اے لوگوجو یہُودی بن گئے ہو! [10] اگر تمہیں یہ گھمنڈ ہے کہ باقی سب لوگوں کو چھوڑ کر بس تم ہی اللہ کے چہیتے ہو[11] تو موت کی تمنّا کرو اگر تم اپنے اس زعم میں سچّے ہو‘‘۔ [12]{۶} لیکن یہ ہر گز اُس کی تمنّا نہ کریں گے اپنے اُن کرتوتوں کی وجہ سے جو یہ کرچکے ہیں۔[13] اور اللہ ان ظالموں کو خوب جانتا ہے۔{۷} اِن سے کہو ، ’’ جس موت سے تم بھاگتے ہو وہ تو تمہیں آکر رہے گی۔ پھر تم اُس کے سامنے پیش کئے جا ؤ گے جو پوشیدہ و ظاہر کا جاننے والا ہے ، اور وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کچھ کرتے رہے ہو ۔‘‘{۸} اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب پکارا جائے نماز کے لیے جمعہ کے دن[14] تو اللہ کے ذکر کی طرف دوڑ و اور خرید و فروخت چھوڑ دو ۔[15]یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو ۔{۹} پھر جب نماز پوری ہوجائے تو زمین میں پھیل جا ؤ اور اللہ کا فضل تلاش کرو۔[16] اور اللہ کو کثرت سے یاد کرتے رہو ،[17] شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہوجائے ۔[18]{۱۰} اور جب اُنہو ں نے تجارت اور کھیل تماشا ہوتے دیکھا تو اُس کی طرف لپک گئے اور تمہیں کھڑا چھوڑدیا۔[19] اِن سے کہو ، جو کچھ اللہ کے پاس ہے ، وہ کھیل تماشے اور تجارت سے بہتر ہے ۔ [20]اور اللہ سب سے بہتر رزق دینے والا ہے۔[21] {۱۱}
سورۃ المنافقون   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 63 : 1-11 / 11اے نبی ؐ! جب یہ منافق تمہارے پا س آتے ہیں تو کہتے ہیں ’’ ہم گواہی دیتے ہیں کہ آپ یقینا اللہ کے رسُول ؐ ہیں ۔‘‘ ہاں ، اللہ جانتا ہے کہ تم ضروراُ س کے رسول ؐہو ، مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ یہ منافق قطعی جُھوٹے ہیں[1] {۱} اِنہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنا رکھا ہے[2] اور اس طرح یہ اللہ کے راستے سے خود رکتے اور دنیا کو روکتے ہیں۔ [3]کیسی بُری حرکتیں ہیں جو یہ لوگ کررہے ہیں۔ {۲} یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اِن لوگوں نے ایمان لاکر پھر کفر کیا اِس لئے ان کے دلوں پر مہرلگادی گئی ، اب یہ کچھ نہیں سمجھتے۔[4] {۳} اِنہیں دیکھو تو ان کے جثے(جسم) تمہیں بڑے شاندار نظر آئیں۔ بولیں تو تم ان کی باتیں سُنتے رہ جا ؤ ۔[5] مگر اصل میں یہ گویا لکڑی کے کُندے ہیں جو دیوار کے ساتھ چُن کررکھ دیے گئے ہوں[6] ہر زور کی آواز کو یہ اپنے خلاف سمجھتے ہیں ۔[7] یہ پکّے دشمن ہیں ،[8] اِن سے بچ کر رہو ،[9] اللہ کی مار اِن پر ،[10] یہ کدھر اُلٹے پھر ائے جارہے ہیں[11]{۴} اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ آ ؤ تا کہ اللہ کا رسُول ؐ تمہارے لئے مغفرت کی دعا کرے ، تو سر جھٹکتے ہیں ، اور تم دیکھتے ہو کہ وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ آنے سے رُکتے ہیں۔[12]{۵} اے نبی ؐ! تم چاہے ان کے لیے مغفرت کی دُعا کرویا نہ کرو ، ان کے لیے یکساں ہے ، اللہ ہر گز انہیں معاف نہ کرے گا ،[13] اللہ فاسق لوگوں کو ہر گز ہدایت نہیں دیتا [14]{۶} یہ وہی لوگ ہیں جو کہتے ہیں کہ رسُول ؐ کے ساتھیوں پر خرچ کرنا بند کردو تا کہ یہ منتشر ہوجائیں ،حالاں کہ زمین اور آسمانوں کے خزانوں کا مالک اللہ ہے ، مگر یہ منافق سمجھتے نہیں ہیں {۷} یہ کہتے ہیں کہ ہم مدینہ واپس پہنچ جائیں تو جو عزت والا ہے وہ ذلیل کو وہاں سے نکال باہر کرے گا۔ [15]حالاں کہ عزت تو اللہ اور اس کے رسول ؐاور مومنین کے لیے ہے ،[16] مگر یہ منافق جانتے نہیں ہیں۔{۸} اے[17] لوگو جو ایمان لائے ہو ! تمہارے مال اور تمہاری اولاد یں تم کو اللہ کی یاد سے غافل نہ کردیں ۔ [18]جو لوگ ایسا کریں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں{۹} جو رزق ہم نے تمہیں دیا ہے اُس میں سے خرچ کرو قبل اس کے کہ تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے اور اُس وقت وہ کہے کہ ’’ اے میرے رب ! کیوں نہ تُو نے مجھے تھوڑی سی مہلت اور دے دی کہ میں صدقہ دیتا اور صالح لوگوں میں شامل ہوجاتا ‘‘ {۱۰} حالاں کہ جب کسی کی مہلت عمل پُوری ہونے کا وقت آجاتا ہے تو اللہ کسی شخص کو ہر گز مزید مہلت نہیں دیتا ، اور جو کچھ تم کرتے ہو ، اللہ اُس سے باخبر ہے۔{۱۱}
سورۃ التغابن   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 64 : 1-18 / 18اللہ کی تسبیح کررہی ہے ہر وہ چیز جو آسمانوں میں ہے اور ہروہ چیز جو زمین میں ہے ۔[1] اُسی کی بادشاہی ہے[2] اور اُسی کے لیے تعریف ہے[3] اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔[4]{۱} وہی ہے جس نے تم کو پیدا کیا ، پھر تم میں سے کوئی کافر ہے اور کوئی مومن ،[5] اور اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا ہے جو تم کرتے ہو۔[6]{۲} اُس نے زمین اور آسمانوں کو برحق پیدا کیا ہے ، اور تمہاری صورت بنائی اور بڑی عمدہ بنائی ہے ، اور اُسی کی طرف آخر کارتمہیں پلٹنا ہے۔[7] {۳} زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا اُسے علم ہے ، جو کچھ تم چھپاتے ہو اور جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو[8] سب اُس کو معلوم ہے ،اور وہ دلوں کا حال تک جانتا ہے۔ [9]{۴} کیا تمہیں اُن لوگوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جنہوں نے اِس سے پہلے کُفر کیا اور پھر اپنی شامتِ اعمال کا مزہ چکھ لیا ؟ اور آگے اُن کے لیے ایک درد ناک عذاب ہے ۔[10]{۵} اِس انجام کے مستحق وہ اِس لیے ہوئے کہ اُن کے پاس اُن کے رسول کھلی کھلی دلیلیں اور نشانیاں لے کرآتے رہے،[11] مگر اُنہوں نے کہا ’’ کیا انسان ہمیں ہدایت دیں گے ؟ ‘‘[12] اس طرح اُنہو ں نے ماننے سے انکار کردیا اور مُنہ پھیر لیا ، تب اللہ بھی اُن سے بے پروا ہوگیا اور اللہ تو ہے ہی بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ۔[13]{۶} منکرین نے بڑے دعوے سے کہا ہے کہ وہ مَرنے کے بعد ہر گز دو بارہ نہ اُٹھائے جائیں گے ۔[14] اُن سے کہو ’’نہیں ، میرے رب کی قسم تم ضرور اُٹھائے جا ؤ گے [15] پھر ضرور تمہیں بتایا جائے گا کہ تم نے (دنیا میں ) کیا کچھ کیا ہے ،[16] اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے ‘‘۔[17] {۷} پس ایمان لاؤ اللہ پر ، اور اِس کے رسُول ؐ پر اور اُس روشنی پر جو ہم نے نازل کی ہے[18] جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ {۸} ( اِس کا پتہ تمہیں اُس روز چل جائے گا ) جب اجتماع کے دن وہ تم سب کو اکٹھا کرے گا ۔ [19]وہ دن ہوگا ایک دوسرے کے مقابلے میں لوگوں کی ہار جیت کا ۔ [20]جو اللہ پر ایمان لایا ہے اور نیک عمل کرتا ہے ، [21]اللہ اس کے گناہ جھاڑ دے گا ۔ اور اسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ۔ یہ لوگ ہمیشہ ہمیشہ ان میں رہیں گے ۔ یہی بڑی کامیابی ہے۔{۹} اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے [22]وہ دوزخ کے باشندے ہوں گے۔ جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور وہ بدترین ٹھکانا ہے۔ {۱۰} کوئی مصیبت کبھی نہیں آتی مگر اللہ کے اِذن ہی سے آتی ہے۔[24] جو شخص اللہ پر ایمان رکھتا ہو اللہ اس کے دل کو ہدایت بخشتا ہے ،[25] اللہ کو ہر چیز کا علم ہے۔[26]{۱۱} اللہ کی اطاعت کرو اور رسول ؐکی اطاعت کرو۔ لیکن اگر تم اطاعت سے منہ موڑتے ہو تو ہمارے رسول ؐپر صاف صاف حق پہنچادینے کے سوا کوئی ذمّہ داری نہیں ہے۔[27]{۱۲} اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں ، لہٰذا ایمان لانے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہیے۔[28] {۱۳} اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تمہاری بیویوں اور تمہاری اولاد میں سے بعض تمہارے دشمن ہیں ، اُن سے ہوشیار رہو۔ اور اگر تم عفوو درگز ر سے کام لو اور معاف کردو تو اللہ غفور و رحیم ہے، {۱۴} تمہارے مال اور تمہاری اولاد تو ایک آزمائش ہیں ، اور اللہ ہی ہے جس کے پاس بڑا اجر ہے۔ [29]{۱۵} لہٰذا جہاں تک تمہارے بس میں ہو اللہ سے ڈرتے رہو ،[31] اور سنو اور اطاعت کرو ، اور اپنے مال خرچ کرو ، یہ تمہارے ہی لئے بہتر ہے ۔ جو اپنے دل کی تنگی سے محفوظ رہ گئے بس وہی فلاح پانے والے ہیں۔[32]{۱۶} اگر تم اللہ کوقرضِ حسن دوتو وہ تمہیں کئی گنا بڑھا کر دے گا [33]اور تمہارے قصوروں سے درگزر فرمائے گا ، اللہ بڑا قدر دان اور بُردبار ہے۔ [34]{۱۷} حاضر اور غائب ہر چیز کو جانتا ہے ، زبردست اور دانا ہے ۔{۱۸}
سورۃ الطلاق   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 65 : 1-12 / 12اے نبی ؐ!جب تم لوگ عورتوں کو طلاق دو تو انہیں اُن کی عِدّت کے لیے طلاق دیا کرو [1] اور عِدّت کے زمانے کا ٹھیک ٹھیک شمار کرو ،[2] اور اللہ سے ڈرو جو تمہارا رب ہے۔ ( زمانہ عدّت میں) نہ تم اُنہیں اُن کے گھروں سے نکالو ، اور نہ وہ خود نکلیں[3] اِلا ّیہ کہ وہ کسی صریح برائی کی مرتکب ہوں۔[4]یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیںاور جو کوئی اللہ کی حدوں سے تجاوز کرے گاوہ اپنے اوپر خود ظلم کرے گا ۔ تم نہیں جانتے شاید اس کے بعد اللہ (موافقت کی) کوئی صورت پیدا کردے۔ [5]{۱} پھر جب وہ اپنی ( عدت کی) مدت کے خاتمہ پر پہنچیں تو یا انہیں بھلے طریقے سے ( اپنے نکاح میں ) روک رکھو ، یا بھلے طریقے پر اُن سے جُداہوجا ؤ ۔[6] اور دو ایسے آدمیوں کو گواہ بنالو جو تم میں سے صاحبِ عدل ہوں ۔[7] اور ( اے گواہ بننے والو!) گواہی ٹھیک ٹھیک اللہ کے لیے ادا کرو ۔ یہ باتیں ہیں جن کی تم لوگوں کو نصیحت کی جاتی ہے ، ہراُس شخص کو جو اللہ اور آخرت کے دن پر ایمان رکھتا ہو۔[8] جو کوئی اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرے گا اللہ اس کے لیے مشکلات سے نکلنے کا کوئی راستہ پیدا کر دے گا[9] {۲} اور اسے ایسے راستے سے رزق دے گا جدھر اُس کا گمان بھی نہ جاتا ہو۔ [10]جو اللہ پر بھروسہ کرے اس کے لیے وہ کافی ہے۔ اللہ اپنا کام پورا کرکے رہتا ہے ۔[11]اللہ نے ہر چیز کے لیے ایک تقدیر مقرر کررکھی ہے۔{ ۳} اور تمہاری عورتوں میں سے جو حیض سے مایوس ہوچکی ہوں ان کے معاملہ میں اگر تم لوگوں کو کوئی شک لاحق ہے تو (تمہیں معلوم ہو کہ ) اُن کی عدّت تین مہینے ہے۔ [12]اور یہی حکم اُن کا ہے جنہیں ابھی حیض نہ آیا ہو[13] اور حاملہ عورتوں کی عدّت کی حدیہ ہے کہ اُن کا وضعِ حمل ہوجائے۔[14] جو شخص اللہ سے ڈرے اس کے معاملے میں وہ سہولت پیدا کردیتا ہے {۴} یہ اللہ کا حکم ہے جو اس نے تمہاری طرف نازل کیا ہے ۔ جو اللہ سے ڈرے گا اللہ اس کی برائیوں کو اس سے دور کردے گا اور اس کو بڑا اجر دے گا۔[15]{ ۵} اُن کو ( زمانہ ٔعدّت میں ) اسی جگہ رکھو جہاں تم رہتے ہو ، جیسی کچھ بھی جگہ تمہیں میّسرہو۔ اور انہیں تنگ کرنے کے لیے ان کو نہ ستا ؤ ۔[16]اور اگر وہ حاملہ ہوں تو ان پر اس وقت تک خرچ کرتے رہو جب تک ان کا وضعِ حمل نہ ہوجائے ۔[17] پھر اگر وہ تمہارے لئے (بچّے کو) دودھ پلائیں تو ان کی اُجرت اُنہیں دو، اور بھلے طریقے سے (اُجرت کا معاملہ ) باہمی گفت وشنید سے طے کرلو[18]لیکن اگر تم نے ( اُجرت طے کرنے میں ) ایک دوسرے کو تنگ کیا تو بچّے کو کوئی اور عورت دودھ پلالے گی۔[19]{۶} خوشحال آدمی اپنی خوشحالی کے مطابق نفقہ دے ، اور جس کو رزق کم دیا گیا ہو وہ اُسی مال میں سے خرچ کرے جو اللہ نے اُسے دیا ہے ۔ اللہ نے جس کو جتنا کچھ دیا ہے اِس سے زیادہ کا وہ اُسے مکلف نہیں کرتا ، بعید نہیں کہ اللہ تنگ دستی کے بعد فراخ دستی بھی عطا فرمادے۔[20] {۷} کتنی ہی بستیاں ہیں جنہوں نے اپنے رَبّ اور اس کے رسولوں کے حکم سے سرتابی کی تو ہم نے ان سے سخت محاسبہ کیا اور ان کو بُری طرح سزادی۔{۸} انہوں نے اپنے کئے کا مزہ چکھ لیا اور اُن کا انجام کارگھاٹا ہی گھاٹا ہے{۹} اللہ نے (آخرت میں ) ان کے لیے سخت عذاب مہیّاکررکھا ہے ۔ پس اللہ سے ڈرو اے صاحب عقل لوگو جو ایمان لائے ہو ۔ اللہ نے تمہاری طرف ایک نصیحت نازل کردی ہے {۱۰} ایک ایسا رسول [21]جو تم کو اللہ کی صاف صاف ہدایت دینے والی آیات سُناتا ہے تا کہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے۔[22] جو کوئی اللہ پر ایمان لائے اور نیک عمل کرے ، اللہ اُسے ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ۔ یہ لوگ اُن میں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ نے ایسے شخص کے لیے بہترین رزق رکھا ہے۔{۱۱} اللہ وہ ہے جس نے سات آسمان بنائے اور زمین کی قسم سے بھی انہی کے مانند۔[23] اُن کے درمیان حکم نازل ہوتا رہتا ہے( یہ بات تمہیں اس لیے بتائی جارہی ہے) تا کہ تم جان لو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ، اور یہ کہ اللہ کا علم ہر چیز پر محیط ہے۔{۱۲}
سورۃ التحریم   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 66 : 1-12 / 12اے نبی ؐ! تم کیو ںاُس چیز کو حرام کرتے ہو جو اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہے ؟[1] (کیا اس لیے کہ) تم اپنی بیویوں کی خوشی چاہتے ہو ؟ [2] اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔[3]{۱} اللہ نے تم لوگوں کے لیے اپنی قَسموں کی پابندی سے نکلنے کا طریقہ مقرر کردیا ہے۔[4]اللہ تمہارا مولیٰ ہے ، اور وہی علیم وحکیم ہے۔ [5]{۲} ( اور یہ معاملہ بھی قابل تو جہ ہے کہ ) نبی ؐنے ایک بات اپنی ایک بیوی سے راز میں کہی تھی ۔ پھر جب اُس بیوی نے (کسی اور پر ) وہ راز ظاہر کردیااور اللہ نے نبی ؐکو اس ( افشائے راز ) کی اطلاع دے دی ، تو نبی ؐنے اس پر کسی حد تک (اُس بیوی کو ) خبردار کیا اور کسی حد تک اس سے درگزر کیا ۔ پھر جب نبی ؐنے اُسے (افشائے راز کی ) یہ بات بتائی تو اُس نے پوچھا آپ ؐکو اس کی کس نے خبردی ؟ نبی ؐنے کہا ’’مجھے اُس نے خبردی جو سب کچھ جانتا ہے اور خوب باخبر ہے ‘‘۔[6]{۳} اگر تم دونوں اللہ سے توبہ کرتی ہو ( تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے ) کیونکہ تمہارے دل سیدھی راہ سے ہٹ گئے ہیں ۔[7] اور اگر نبی ؐکے مقابلے میں تم نے جتھ بندی کی[8] تو جان رکھو کہ اللہ اُس کا مولیٰ ہے اور اُس کے بعد جبرئیل ؑ اور تمام صالح اہل ِایمان اور سب ملائکہ اس کے ساتھی اور مددگار ہیں،[9]{۴} بعید نہیں کہ اگر نبیؐ تم سب بیویوں کو طلاق دے دے تو اللہ اسے ایسی بیویاں تمہارے بدلے میں عطا فرمادے جو تم سے بہتر ہوں،[10]سچی مسلمان ، باایمان ،[11]اطاعت گزار ،[12] توبہ گزار ،[13] عبادت گزار ، [14]اور روزہ دار ، [15]خواہ شوہر دیدہ ہوں یاباکرہ ۔{۵} اے لوگوجو ایمان لائے ہو!بچا ؤ اپنے آپ کو اور اپنے اہلِ وعیال کو اُس آگ سے جس کا ایندھن انسان اور پتھر ہوں گے،[16] جس پر نہایت تُند خُو اور سخت گیر فرشتے مقرر ہوں گے جو کبھی اللہ کے حکم کی نافرمانی نہیں کرتے اور جو حکم بھی انہیں دیا جاتا ہے اسے بجالا تے ہیں ۔[17] {۶} ( اُس وقت کہا جائے گا کہ ) اے کافرو!آج معذرتیں پیش نہ کر و، تمہیں تو ویسا ہی بدلہ دیا جارہا ہے جیسے تم عمل کررہے تھے۔[18]{۷} اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ سے توبہ کرو ، خالص تو بہ ۔[19]بعید نہیں کہ اللہ تمہاری برائیاں دُور کردے اور تمہیں ایسی جنتوں میں داخل فرمادے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔[20]یہ وہ دن ہوگا جب اللہ اپنے نبی ؐکو اور ان لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے ہیں رسُوانہ کرے گا۔[21] اُن کا نور اُن کے آگے آگے اور اُن کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا اور وہ کہہ رہے ہوں گے کہ اے ہمارے رب! ہمارا نور ہمارے لئے مکمل کردے اور ہم سے درگزر فرما ، تو ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔[22]{۸} اے نبی ؐ! کُفّار اور منافقین سے جہاد کرو اور ان کے ساتھ سختی سے پیش آ ؤ ۔[23] ان کا ٹھکانا جہنم ہے اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے۔{۹} اللہ کافروں کے معاملے میں نوحؑ اور لوط ؑ کی بیویوں کو بطور مثال پیش کرتا ہے۔ وہ ہمارے دو صالح بندوں کی زوجیّت میں تھیں ، مگر انہوں نے اپنے اُن شوہروں سے خیانت کی[24] اور وہ اللہ کے مقابلہ میں اُن کے کچھ بھی نہ کام آسکے ۔ دونوں سے کہہ دیا گیا کہ جا ؤ آگ میں جانے والوں کے ساتھ تم بھی چلی جا ؤ۔{۱۰} اور اہلِ ایمان کے معاملہ میں اللہ فرعون کی بیوی کی مثال پیش کرتا ہے جب کہ اُس نے دعا کی ’’اے میرے ربّ!میرے لئے اپنے ہاں جنّت میں ایک گھر بنادے اور مجھے فرعون اور اس کے عمل سے بچالے[25] اور ظالم قوم سے مجھ کو نجات دے ‘‘۔{۱۱} اور عمر ان کی بیٹی مریم [26]کی مثال دیتا ہے جس نے اپنی شرمگاہ کی حفاظت کی تھی، [27] پھر ہم نے اس کے اندر اپنی طرف سے روح پھُونک دی [28]،اور اس نے اپنے رَب ّکے ارشادات اور اس کی کتابوں کی تصدیق کی اور وہ اطاعت گزار لوگوں میں سے تھی ۔[29]{۱۲}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)