سورۃالانعام   -  6 : 36-110 / 165دعوت حق پر لبیک وہی لوگ کہتے ہیں جو سننے والے ہیں ، رہے مردے،[25] تو انہیں تو اللہ بس قبروں ہی سے اٹھائے گا اور پھر وہ ( اس کی عدالت میں پیش ہونے کے لیے ) واپس لائے جائیں گے۔ {۳۶} یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس( نبی ؐ )پر اس کے رَبّ کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اُتاری گئی ؟ کہو ، اللہ نشانی اتارنے کی پوری قدرت رکھتا ہے ، مگر ان میں سے اکثر لوگ نادانی میں مبتلا ہیں ۔[26]{۳۷} زمین میں چلنے والے کسی جانور اور ہوا میں پروں سے اُڑنے والے کسی پرندے کودیکھ لو ، یہ سب تمہاری ہی طرح کی انواع ہیں ، ہم نے ان کی تقدیر کے نوشتے میں کوئی کسر نہیں چھوڑی ہے، پھر یہ سب اپنے رَبّ کی طرف سمیٹے جاتے ہیں۔ {۳۸} مگر جو لوگ ہماری نشانیوں کو جھٹلاتے ہیں وہ بہرے اور گونگے ہیں ، تاریکیوں میں پڑے ہوئے ہیں۔[27] اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے سیدھے رستے پر لگا دیتا ہے۔[28]{۳۹} اِن سے کہو ، ذراغور کرکے بتا ؤ ، اگر کبھی تم پر اللہ کی طرف سے کوئی بڑی مصیبت آجاتی ہے یا آخری گھڑی آپہنچتی ہے تو کیا اس وقت تم اللہ کے سوا کسی اور کو پکارتے ہو ؟ بولو اگر تم سچّے ہو۔ {۴۰} اس وقت تم اللہ ہی کو پکارتے ہو ، پھر اگر وہ چاہتا ہے تو اس مصیبت کو تم پرسے ٹال دیتا ہے ۔ ایسے موقعوں پر تم اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو بھول جاتے ہو [29]{۴۱} اور تحقیق تم سے پہلے بہت سی قوموں کی طرف ہم نے رسول بھیجے اور ان قوموں کو مصائب وآلام میں مبتلا کیا تا کہ وہ عاجزی کے ساتھ ہمارے سامنے جھک جائیں ۔{ ۴۲} پس جب ہماری طرف سے ان پر سختی آئی تو کیوں نہ انہوں نے عاجزی اختیار کی؟ مگر اُن کے دل تو اور سخت ہوگئے اور شیطان نے اُن کو اطمینان دلایا کہ جو کچھ تم کررہے ہو، خوب کررہے ہو۔{ ۴۳} پھر جب انہوں نے اُس نصیحت، کو جو انہیں کی گئی تھی ، بھلادیا تو ہم نے ہر طرح کی خوشحالیوں کے دروازے ان کے لیے کھول دیے ،یہاں تک کہ جب وہ ان بخششوں میں جو انہیں عطا کی گئی تھیں خوب مگن ہوگئے تو اچانک ہم نے انہیں پکڑلیا اور اب حال یہ تھا کہ وہ ہر خیر سے مایوس تھے۔ { ۴۴} اس طرح اُن لوگوں کی جڑکاٹ کررکھ دی گئی جنہوں نے ظلم کیا تھا اور تعریف ہے اللہ ربّ العٰلمین کے لیے ( کہ اس نے ان کی جڑکاٹ دی){۴۵} اے نبی ؐ! ان سے کہو ، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ تمہاری بینائی اور سماعت تم سے چھین لے اور تمہارے دلوں پر ُمہر کردے[30] تو اللہ کے سوا اور کونسا اِلٰہ ہے جو یہ قوتیں تمہیں واپس دلا سکتا ہو؟ دیکھو ، کس طرح ہم بار بار اپنی نشانیاں ان کے سامنے پیش کرتے ہیں اور پھر یہ کس طرح ان سے نظر چُراجاتے ہیں۔{۴۶} کہو ، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ کی طرف سے اچانک یا علانیہ تم پر عذاب آجائے تو کیا ظالم لوگوں کے سوا کوئی اور ہلاک ہوگا؟ {۴۷} ہم جو رسُول بھیجتے ہیں اسی لئے تو بھیجتے ہیں کہ وہ نیک کردار لوگوں کے لیے خوشنجری دینے والے اور بدکرداروں کے لیے ڈرانے والے ہوں ۔ پھر جو لوگ ان کی بات مان لیں اور اپنے طرِز عمل کی اصلاح کرلیں ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔{۴۸} اور جو ہماری آیات کو جھٹلائیں وہ اپنی نافرمانیوں کی پاداش میں سزا بھُگت کررہیں گے۔{۴۹} اے نبی ؐ!ن سے کہو ، ’’ میں تم سے یہ نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں۔ نہ میں غیب کا علم رکھتاہوں ، اور نہ یہ کہتا ہوں کہ میں فرشتہ ہوں۔ میں تو صرف اس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو مجھ پر نازل کی جاتی ہے ‘‘[31] پھر اِن سے پوچھو ’’ کیا اندھااور آنکھوں والا دونوں برابر ہوسکتے ہیں ؟ [32]کیا تم غور نہیں کرتے‘‘ ؟{۵۰} اور اے نبی ؐ! تم اس (علم وحی ) کے ذریعہ سے اُ ن لوگوں کو نصیحت کرو جو اس کا خوف رکھتے ہیں کہ اپنے رَبّ کے سامنے کبھی اِس حال میں پیش کئے جائیں گے کہ اُس کے سوا وہاں کوئی ( ایسا ذی اقتدار ) نہ ہوگا جو ان کا حامی و مددگار ہو، یا ان کی سفارش کرے ، شاید کہ (اِس نصیحت سے متنبہّ ہوکر ) وہ تقویٰ کی رَوش اختیار کرلیں۔ [33]{۵۱} اور جولوگ اپنے رَبّ کو رات دن پکارتے رہتے ہیں اور اس کی خوشنودی کی طلب میں لگے ہوئے ہیں انہیں اپنے سے دورنہ پھینکو ۔[34] اُن کے حساب میں سے کسی چیز کا بارتم پر نہیں ہے، اور تمہارے حساب میں سے کسی چیز کا باران پر نہیں۔اس پربھی اگرتم انہیں دور پھینکو گے تو ظالموں میں شمار ہوگے۔[35]{ ۵۲} دراصل ہم نے اِس طرح ان لوگوں میں سے بعض کو بعض کے ذریعہ سے آزمائش میں ڈالا ہے[36] تا کہ وہ انہیں دیکھ کر کہیں ’’ کیا یہ ہیں وہ لوگ جن پر ہمارے درمیان اللہ کا فضل و کرم ہوا ہے؟‘‘ ہاں ! کیا اللہ اپنے شکر گزار بندوں کو اِن سے زیادہ نہیں جانتا ہے ؟{۵۳} جب تمہارے پاس وہ لوگ آئیں جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں تو ان سے کہو ’’تم پر سلامتی ہے۔ تمہارے رَبّ نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے۔ (یہ اس کا رحم وکرم ہی ہے کہ) اگر تم میں سے کوئی نادانی کے ساتھ کسی بُرائی کاارتکاب کربیٹھا ہو پھر اس کے بعد تو بہ کرے اور اصلاح کرلے تو وہ اسے معاف کردیتا ہے اور نرمی سے کام لیتا ہے‘‘[37] {۵۴} اور اس طرح ہم اپنی نشانیاں کھول کھول کر پیش کرتے ہیں تا کہ مجرموں کی راہ بالکل نمایاں ہوجائے ۔[38]{۵۵} ( اے نبی ؐ )اِن سے کہو کہ ’’ تم لوگ اللہ کے سوا جن دوسروں کو پکارتے ہو اُن کی بندگی کرنے سے مجھے منع کیا گیا ہے ۔‘‘ کہو ،’’میں تمہاری خواہشات کی پیروی نہیں کروں گا ۔ اگر میں نے ایساکیا تو گمراہ ہوگیا اور راہِ راست پانے والوں میں سے نہ رہا ‘‘{۵۶} کہو’’میں اپنے رَبّ کی طرف سے ایک دلیل روشن پر قائم ہوں اور تم نے اسے جھٹلادیا ہے ، اب میرے اختیار میں وہ چیز ہے نہیں جس کے لیے تم جلدی مچار ہے ہو ، فیصلے کا سارا اختیار اللہ کو ہے وہی امر حق بیان کرتاہے اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والاہے‘‘ {۵۷} کہو : اگرکہیں وہ چیز میرے اختیار میں ہوتی جس کی تم جلدی مچا رہے ہو [39]تو میرے اور تمہارے درمیان کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا۔مگر اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ ظالموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جانا چاہیے۔{۵۸} اُسی کے پاس غیب کی کنجیاں ہیں جنہیں اس کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔بحروبر میں جو کچھ ہے ۔سب سے وہ واقف ہے ۔ درخت سے گرنے والا کوئی پتہ ایسا نہیں جس کا اسے علم نہ ہو۔ زمین کے تاریک پردوں میں کوئی دانہ ایسا نہیں جس سے وہ باخبر نہ ہو ۔ خشک و ترسب کچھ ایک کھلی کتاب میں لکھا ہوا ہے ۔{۵۹} وہی ہے جو رات کو تمہاری روحیں قبض کرتا ہے اور دن کو جو کچھ تم کرتے ہو اسے جانتا ہے ، پھر دوسرے روز وہ تمہیں اسی کا روبار کے عالم میں واپس بھیج دیتا ہے تا کہ زندگی کی مقرر مدت پوری ہو۔ آخر کار اسی کی طرف تمہاری واپسی ہے ، پھر وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو ۔{۶۰} اپنے بندوں پر وہ پوری قدرت رکھتا ہے اور تم پر نگرانی کرنیوالے مقرر کرکے بھیجتا ہے، [40]یہاں تک کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے تو ہمارے بھیجے ہوئے فرشتے اس کی جان نکال لیتے ہیں اور اپنا فرض انجام دینے میں ذرا کو تاہی نہیں کرتے{۶۱} پھر سب کے سب اللہ ، اپنے حقیقی آقا کی طرف واپس لائے جاتے ہیں۔خبردار ہوجا ؤ ، فیصلے کے سارے اختیارات اسی کو حاصل ہیں اور وہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔{۶۲} (اے نبی ؐ! )ان سے پوچھو ،صحر ا اور سمندر کی تاریکیوں میں کون تمہیں خطرات سے بچاتا ہے؟ کون ہے جس سے تم (مصیبت کے وقت) گِڑگِڑا گِڑ گِڑا کر اور چپکے چپکے دعائیں مانگتے ہو؟ کس سے کہتے ہو کہ اگر اس بلا سے اس نے ہم کو بچالیا تو ہم ضرور شکر گزارہوں گے؟ {۶۳} کہو، اللہ تمہیں اس سے اور ہر تکلیف سے نجات دیتا ہے پھر تم دُوسروں کو اُس کا شریک ٹھہراتے ہو۔[41]{۶۴} کہو:’’ وہ اس پر قادر ہے کہ تم پر کوئی عذاب اوپر سے نازل کردے ، یا تمہارے قدموں کے نیچے سے برپاکردے یاتمہیں گروہوں میں تقسیم کرکے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کی طاقت کا مزہ چکھوادے ۔‘‘ دیکھو !ہم کس طرح باربار مختلف طریقوں سے اپنی نشانیاں انکے سامنے پیش کررہے ہیں شاید کہ یہ حقیقت کو سمجھ لیں ۔[42]{۶۵} تمہاری قوم اُس کا انکار کررہی ہے حالانکہ وہ حقیقت ہے۔ ان سے کہہ دو کہ میں تم پر حوالہ دار نہیں بنایا گیا ہوں[43] {۶۶} ہر خبر کے ظہور میں آنے کا ایک وقت مقرر ہے ، عنقریب تم کو خود انجام معلوم ہوجائے گا۔ {۶۷} اور اے نبی ؐ! جب تم دیکھو کہ لوگ ہماری آیات پر نکتہ چینیاں کررہے ہیں تو ان کے پاس سے ہٹ جا ؤ یہاں تک کہ وہ اس گفتگو کو چھوڑ کر دوسری باتوں میں لگ جائیں اور اگر کبھی شیطان تمہیں بھُلاوے میں ڈال دے[44] تو جس وقت تمہیں اس غلطی کا احساس ہوجائے اس کے بعد پھر ایسے ظالم لوگوں کے پاس نہ بیٹھو۔ {۶۸} ان کے حساب میں سے کسی چیز کی ذمہّ داری پرہیزگار لوگوں پر نہیں ہے ، البتہ نصیحت کرنا ان کا فرض ہے شاید کہ وہ غلط روی سے بچ جائیں۔[45]{۶۹} چھوڑو اُن لوگوں کو جنہوں نے اپنے دین کو کھیل اور تماشا بنارکھا ہے اور جنہیں دنیا کی زندگی فریب میں مبتلا کئے ہوئے ہے ۔ہاں مگر یہ قرآن سناکر نصیحت اور تنبیہ کرتے رہو کہ کہیں کوئی شخص اپنے کئے کرتوتوں کے وبال میں گرفتار نہ ہوجائے ، اور گرفتار بھی اِس حال میں ہو کہ اللہ سے بچانے والا کوئی حامی ومدد گار اور کوئی سفارشی اس کے لیے نہ ہو ، اور اگر وہ ہر ممکن چیز فدیہ میں دے کرچھوٹنا چاہے تو وہ بھی اس سے قبول نہ کی جائے ، کیونکہ ایسے لوگ تو خود اپنی کمائی کے نتیجے میں پکڑے جائیں گے۔ ان کو تو اپنے انکارِ حق کے معاوضے میں کھولتا ہوا پانی پینے کو اور درد ناک عذاب بھگتنے کو ملے گا۔ { ۷۰} اے نبی ؐ! ان سے پوچھو کیا ہم اللہ کو چھوڑکر اُن کو پکاریں جو نہ ہمیں نفع دے سکتے ہیں نہ نقصان ؟اور جب کہ اللہ ہمیں سیدھا راستہ دکھا چکا ہے تو کیا اب ہم الٹے پا ؤں پھر جائیں؟ کیا ہم اپنا حال اُس شخص کا ساکر لیں جسے شیطانوں نے صحرا میں بھٹکادیا ہوا ور وہ حیران وسرگرداں پھر رہا ہو درآں حا لیکہ اس کے ساتھی اسے پکار رہے ہوں کہ اِدھر آ،یہ سیدھی راہ موجود ہے ؟ کہو ’’ حقیقت میں صحیح رہنمائی تو صرف اللہ ہی کی رہنمائی ہے اور اس کی طرف سے ہمیں یہ حکم ملا ہے کہ مالک کائنات کے آگے سرِ اطاعت خم کردو {۷۱} نماز قائم کرو اور اس کی نافرمانی سے بچو ، اسی کی طرف تم سمیٹے جا ؤ گے ۔‘‘{۷۲} وہی ہے جس نے آسمان و زمین کو برحق پیدا کیا ہے۔ اور جس دن وہ کہے گا کہ حشر ہوجائے اسی دن وہ ہوجائے گا۔ اس کا ارشادعین حق ہے اور جس روز صُور پھونکا جائے گا[47] اس روز باد شاہی اُسی کی ہوگی[48] ، وہ غیب اور شہادت[49] ہر چیز کا عالم ہے اور دانا اور باخبر ہے۔{ ۷۳} ابراہیم ؑ کا واقعہ یاد کرو جب کہ اس نے اپنے باپ آزر سے کہا تھا ’’ کیا توبتوں کو معبود بناتا ہے؟[50] میں تو تجھے اور تیری قوم کو کھلی گمراہی میں پاتا ہوں ‘‘ {۷۴} ابراہیم ؑکو ہم اسی طرح زمین اور آسمانوں کا نظام سلطنت دکھاتے تھے [51]اور اس لیے دکھاتے تھے کہ وہ یقین کرنے والوں میں سے ہوجائے۔[52]{ ۷۵} چنانچہ جب رات اس پر طاری ہوئی تو اس نے ایک تارا دیکھا ، کہا یہ میرا رَبّ ہے۔ مگر جب وہ ڈوب گیا تو بولا ڈوب جانے والوں کاتو میں گرویدہ نہیں ہوں۔ {۷۶} پھر جب چاند چمکتا نظر آیاتو کہا یہ ہے میرا رَبّ۔ مگر جب وہ بھی ڈوب گیا تو کہا اگر میرے رَبّ نے میری رہنمائی نہ کی ہوتی تو میں بھی گمراہ لوگوں میں شامل ہوگیا ہوتا۔ {۷۷} پھر جب سورج کو روشن دیکھا تو کہا یہ ہے میرا رَبّ ، یہ سب سے بڑا ہے ۔ مگر جب وہ بھی ڈوبا تو ابراہیم ؑ پکارا ٹھا۔’’ اے برادران قوم!میں اُن سب سے بیزار ہوں جنہیں تم معبود حقیقی کا شریک ٹھہراتے ہو۔[53] {۷۸} میں نے تو یکسُو ہو کر اپنا رُخ اُس ہستی کی طرف کرلیا جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے اور میں ہر گز شرک کرنے والوں میں سے نہیں ہوں۔‘‘ {۷۹} اس کی قوم اس سے جھگڑنے لگی تو اس نے قوم سے کہا’’ کیا تم لوگ اللہ کے معاملے میں مجھ سے جھگڑتے ہو ؟ حالانکہ اس نے مجھے راہِ راست دکھادی ہے، اور میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے نہیں ڈرتا ، ہاں اگر میرا رَبّ کچھ چاہے تو وہ ضرور ہوسکتا ہے ، میرے رَبّ کا علم ہر چیز پر چھایا ہوا ہے ، پھر کیا تم ہوش میں نہ آ ؤ گے؟[54]{۸۰} اور آخر میں تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں سے کیسے ڈروں جبکہ تم اللہ کے ساتھ ان چیزوں کو الوہیت میں شریک بناتے ہوئے نہیں ڈرتے جن کے لیے اس نے تم پر کوئی سند نازل نہیں کی ہے ؟ ہم دونوں فریقوں میں سے کون زیادہ بے خوفی واطمینان کا مستحق ہے؟ بتا ؤ اگر تم کچھ علم رکھتے ہو ۔{۸۱} حقیقت میں تو امن اُن ہی کے لیے ہے اور راہ ِراست پروہی ہیں جو ایمان لائے اور جنہوں نے اپنے ایمان کو ظلم کے ساتھ آلودہ نہیں کیا۔‘‘[55]{۸۲} یہ تھی ہماری وہ حجت جو ہم نے ابراہیم ؑ کو اُس کی قوم کے مقابلہ میں عطا کی۔ ہم جسے چاہتے ہیں بلند مرتبے عطا کرتے ہیں ۔ حق یہ ہے کہ تمہارا رَبّ نہایت دانا اور علیم ہے۔ { ۸۳} پھر ہم نے ابراہیم ؑ کو اسحاق ؑ اور یعقوبؑ جیسی اولاد دی اور ہر ایک کو راہ راست دکھائی ( وہی راہِ راست جو ) اُس سے پہلے نوح ؑکو دکھائی تھی اور اسی کی نسل سے ہم نے دا ؤ د ؑ ، سلیمانؑ ، ایوب ؑ ، یوسف ؑ ، موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو(ہدایت بخشی) اس طرح ہم نیکو کاروں کو ان کی نیکی کا بدلہ دیتے ہے۔{ ۸۴} ( اُسی کی اولاد سے ) زکریا ؑ ، یحییٰ ؑ، عیسیٰؑ اور الیاس ؑ کو ( راہ یاب کیا) ہر ایک ان میں سے صالح تھا۔{۸۵} (اسی کے خاندان سے ) اسمٰعیل ؑ ، الیسعؑ ، اور یونس ؑ اور لوطؑ کو (راستہ دکھایا) ۔ ان میں سے ہر ایک کو ہم نے تمام دُنیا والوں پر فضیلت عطا کی{۸۶} نیزان کے آبا ؤاجد اد اور ان کی اولاد اور ان کے بھائی بندوں میں سے بہتوں کو ہم نے نوازا ، انہیں اپنی خدمت کے لیے چُن لیا اور سیدھے راستے کی طرف ان کی رہنمائی کی۔{۸۷} یہ اللہ کی ہدایت ہے جس کے ساتھ وہ اپنے بندوں میں سے جس کی چاہتا ہے رہنمائی کرتا ہے۔ لیکن اگر کہیں ان لوگوں نے شرک کیا ہوتا تو ان کا سب کیا کرایا غارت ہوجاتا۔[56]{۸۸} وہ لوگ تھے جن کو ہم نے کتاب اور حکم اور نبوت عطا کی تھی۔ [57] اب اگر یہ لوگ اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں تو (پروانہیں) ہم نے کچھ اور لوگوں کو یہ نعمت سونپ دی ہے جو اس سے منکر نہیں ہیں۔[58]{۸۹} اے نبی ؐ! وہی لوگ اللہ کی طرف سے ہدایت یافتہ تھے، انہی کے راستہ پر تم چلو، اور کہہ دو کہ میں (اِس تبلیغ و ہدایت کے ) کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ۔ یہ تو ایک عام نصیحت ہے تمام دنیا والوں کے لیے۔ {۹۰} ان لوگوں نے اللہ کا بہت غلط اندازہ لگایا جب کہا کہ اللہ نے کسی بشر پر کچھ نازل نہیں کیا ہے۔[59] اِن سے پوچھو ، پھر وہ کتاب جسے موسیٰ ؑلایا تھا ، جو تمام انسانوں کے لیے روشنی اور ہدایت تھی ، جسے تم پارہ پارہ کرکے رکھتے ہو ، کچھ دکھا تے ہو اور بہت کچھ چھپا جاتے ہو، اور جس کے ذریعہ سے تم کووہ علم دیا گیا جونہ تمہیں حاصل تھا اور نہ تمہارے باپ دادا کو ، آخر اُس کا نازل کرنے والا کون تھا ؟[60] بس اتنا کہہ دو کہ اللہ ،پھر انہیں اپنی دلیل بازیوں سے کھیلنے کے لیے چھوڑدو ۔{۹۱} ( اُسی کتاب کی طرح ) یہ ایک کتاب ہے جسے ہم نے نازل کیاہے۔ بڑی خیرو برکت والی ہے۔ اُس چیز کی تصدیق کرتی ہے جو اس سے پہلے آئی تھی اور اس لیے نازل کی گئی ہے کہ اس کے ذریعے سے تم بستیوں کے اس مرکز( یعنی مکہ ) اور اس کے اطراف میں رہنے والوں کو متنبہ کرو۔ جو لوگ آخرت کو مانتے ہیں وہ اِس کتاب پر ایمان لاتے ہیں اور ان کا حال یہ ہے کہ اپنی نمازوں کی پابندی کرتے ہیں[61]{ ۹۲} اور اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جُھوٹا بہتان گھڑے ،یا کہے کہ مجھ پر وحی آئی ہے درآں حالاکہ اس پر کوئی وحی نازل نہ کی گئی ہو ، یا جو اللہ کی نازل کردہ چیز کے مقابلے میں کہے کہ میں بھی ایسی چیز نازل کرکے دکھادوں گا؟ کاش تم ظالموں کو اس حالت میں دیکھ سکو جب کہ وہ سکراتِ موت میں ڈُبکیاں کھارہے ہوتے اور فرشتے ہاتھ بڑھا بڑھا کر کہہ رہے ہوتے ہیں کہ ’’لا ؤ ، نکالو اپنی جان ، آج تمہیں اُن باتوں کی پاداش میں ذِلِّت کا عذاب دیا جائے گا جو تم اللہ پر تہمت رکھ کر ناحق بکا کرتے تھے اور اس کی آیات کے مقابلے میں سرکشی دکھاتے تھے ‘‘ {۹۳} ( اور اللہ فرمائے گا)’’ لو اب تم ویسے تن تنہاہمارے سامنے حاضر ہوگئے جیسا ہم نے تمہیں پہلی مرتبہ اکیلا پیدا کیا تھا ، جو کچھ ہم نے تمہیں دنیا میں دیا تھا وہ سب تم اپنے پیچھے چھوڑ آئے ہو ، اور اب ہم تمہارے ساتھ تمہارے اُن سفارشیوں کو بھی نہیں دیکھتے جن کے متعلق تم سمجھتے تھے کہ تمہارے کام بنانے میں ان کا بھی کچھ حصہ ہے تمہارے آپس کے سب رابطے ٹوٹ گئے اور وہ سب تم سے گم ہوگئے جن کا تم زعم رکھتے تھے‘‘{۹۴} دانے اور گٹھلی کو پھاڑنے والا اللہ ہے۔ [62]وہی زندہ کو مردہ سے نکالتا ہے اور وہی مُردہ کو زندہ سے خارج کرنے والا ہے ۔ [63] یہ سارے کام کرنے والا تو اللہ ہے ،پھر تم کدھر بہکے چلے جارہے ہو ؟{۹۵} پردئہ شب کو چاک کرکے وہی صبح نکالتا ہے۔ اسی نے رات کو سکون کاوقت بنایا ہے۔ اسی نے چاند اور سُورج کے طلوع و غروب کا حساب مقرر کیا ہے ۔یہ سب اسی زبردست قدرت اور علم رکھنے والے کے ٹھہرائے ہوئے انداز ے ہیں{۹۶} اور وہی ہے جس نے تمہارے لئے تاروں کو صحرا اور سمندر کی تاریکیوں میں راستہ معلوم کرنے کا ذریعہ بنایا۔ دیکھو ہم نے نشانیاں کھول کر بیان کردی ہیں ان لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔[64]{۹۷} اور وہی ہے جس نے ایک جان سے تم کو پیدا کیا[65] پھر ہر ایک کے لیے ایک جائے قرار ہے اور ایک اُس کے سونپے جانے کی جگہ ۔ یہ نشانیاں ہم نے واضح کردی ہیں ان لوگوں کے لیے جو سمجھ بوجھ رکھتے ہیں۔[66]{۹۸} اور وہی ہے جس نے آسمان سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعے سے ہر قسم کی نباتات اگائی،پھر اس سے ہرے ہرے کھیت اور درخت پیدا کئے ، پھر ان سے تہ برتہ چڑھے ہوئے دانے نکالے اور کھجور کے شگوفوں سے پھلوں کے گچھے کے گچھے پیدا کئے جو بوجھ کے مارے جُھکے پڑتے ہیں ، اور انگور،زیتون اور انار کے باغ لگائے جن کے پھل ایک دوسرے سے ملتے جلتے بھی ہیں اور پھر ہر ایک کی خصوصیات جُدا جُدا بھی ہیں۔ یہ درخت جب پھَلتے ہیں تو ان میں پھل آنے اور پھر ان کے پکنے کی کیفیت ذراغور کی نظر سے دیکھو ، ان چیزوں میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔ {۹۹} اس پر بھی لوگوں نے جنوں کو اللہ کا شریک ٹھہرادیا [67]حالانکہ وہ ان کا خالق ہے ، اور بے جانے بُوجھے اس کے لیے بیٹے اور بیٹیاں تصنیف کردیں ،[68] حالانکہ وہ پاک اور بالاتر ہے۔ ان باتوں سے جو یہ لوگ کہتے ہیں{۱۰۰} وہ تو آسمانوں اور زمین کا موجد ہے۔ اس کا کوئی بیٹا کیسے ہوسکتا ہے جب کہ کوئی اس کی شریک ِزندگی ہی نہیں ہے۔ اس نے ہر چیز کو پیدا کیا اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔{۱۰۱} یہ ہے اللہ تمہارا رَبّ ، کوئی اِلٰہ اس کے سوا نہیں ہے ، ہر چیز کا خالق ، لہٰذا تم اسی کی بندگی کرو اور وہ ہر چیز کا کفیل ہے۔{ ۱۰۲} نگاہیں اس کو نہیں پاسکتیں اور وہ نگاہوں کو پالیتا ہے ،وہ نہایت باریک بین اور باخبر ہے{۱۰۳} دیکھو، تمہارے پاس تمہارے رَبّ کی طرف سے بصیرت کی روشنیاں آگئی ہیں ،اب جو بینائی سے کام لے گا اپنا ہی بھلا کرے گا اور جو اندھا بنے گا خود نقصان اُٹھائے گا ، میں تم پر کوئی پاسبان نہیں ہوں۔[69] {۱۰۴} اس طرح ہم اپنی آیات کو بار بار مختلف طریقوں سے بیان کرتے ہیں اور اس لیے کرتے ہیں کہ یہ لوگ کہیں ’’ تم کسی سے پڑھ آئے ہو ‘‘ اور جو لوگ علم رکھتے ہیں ان پر ہم حقیقت کو روشن کردیں ۔[70]{۱۰۵} اے نبی ؐ! اُس وحی کی پیروی کئے جا ؤ جو تم پر تمہارے رَبّ کی طرف سے نازل ہوئی ہے کیوں کہ اس ایک رَبّ کے سوا کوئی اوراِلٰہ نہیں ہے۔ اور ان مشرکین کے پیچھے نہ پڑو ۔ {۱۰۶} اگر اللہ کی مشیت ہوتی تو (وہ خود ایسا بندوبست کرسکتا تھا کہ) یہ لوگ شرک نہ کرتے ، تم کو ہم نے ان پرپاسبان مقرر نہیں کیا ہے[71] اور نہ تم ان پر حوالہ دار ہو۔ {۱۰۷} اور (اے مسلمانو!) یہ لوگ اللہ کے سواجن کو پکارتے ہیں انہیں گالیاں نہ دو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ یہ شرک سے آگے بڑھ کر جہالت کی بناپر اللہ کو گالیاں دینے لگیں۔[72] ہم نے تو اسی طرح ہر گروہ کے لیے اس کے عمل کو خوشنما بنادیا ہے ،[73] پھر انہیں اپنے رَبّ ہی کی طرف پلٹ کر آنا ہے ،اُس وقت وہ انہیں بتادے گا کہ وہ کیا کرتے رہے ہیں۔{۱۰۸} یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کھا کرکہتے ہیں کہ اگر کوئی نشانی[74] (یعنی معجزہ ) ہمارے سامنے آجائے تو ہم اس پر ایمان لے آئیں گے۔ اے نبی ؐان سے کہو کہ ’’نشانیاں تو اللہ کے اختیار میں ہیں۔‘‘ [75]اور تمہیں کیسے سمجھایا جائے کہ اگر نشانیاں آبھی جائیں تو یہ ایمان لانے والے نہیں۔ [76]{۱۰۹} ہم اُسی طرح ان کے دلوں اور نگاہوں کو پھیررہے ہیں جس طرح یہ پہلی مرتبہ اِس (کتاب) پر ایمان نہیں لائے تھے۔ [77]ہم انہیں ان کی سرکشی ہی میں بھٹکنے کے لیے چھوڑے دیتے ہیں۔{۱۱۰}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)