سورۃالانعام   -  6 : 111-165 / 165اگر ہم فرشتے بھی ان پر نازل کردیتے اور مُردے ان سے باتیں کرتے اور دنیا بھر کی چیزوں کو ہم ان کی آنکھوں کے سامنے جمع کردیتے تب بھی یہ ایمان لانے والے نہ تھے ، اِلاّیہ کہ مشیت الہٰی یہی ہو( کہ یہ ایمان لائیں) [78]مگر اکثر لوگ نادانی کی باتیں کرتے ہیں ۔{۱۱۱} اور ہم نے تو اسی طرح ہمیشہ شیطان انسانوں اور شیطان جنوں کو ہر نبی کا دشمن بنایا ہے جو ایک دوسرے پر خوش آئند باتیں دھوکے اور فریب کے طور پر القا کرتے رہے ہیں ۔[79] اگر تمہارے رَبّ کی مشیت یہ ہوتی کہ وہ ایسا نہ کریں تو وہ کبھی نہ کرتے ۔ [80]پس تم انہیں ان کے حال پر چھوڑ دو کہ اپنی افتراپردازیاں کرتے رہیں۔ { ۱۱۲} (یہ سب کچھ ہم انہیں اسی لئے کرنے دے رہے ہیں کہ )جو لوگ آخرت پر ایمان نہیں رکھتے اُن کے دِل اِس (خوشنما دھوکے ) کی طرف مائل ہوں اور وہ اس سے راضی ہوجائیں اور ان بُرائیوں کا اِکتساب کریں جن کا اِکتساب وہ کرنا چاہتے ہیں۔ {۱۱۳} پھر جب حال یہ ہے تو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور فیصلہ کرنے والا تلاش کروں ، حالانکہ اس نے پوری تفصیل کے ساتھ تمہاری طرف کتاب نازل کردی [81]ہے ؟ اور جن لوگوں کو ہم نے (تم سے پہلے ) کتاب دی تھی وہ جانتے ہیں کہ یہ کتاب تمہارے رَبّ ہی کی طرف سے حق کے ساتھ نازل ہوئی ہے، لہٰذا تم شک کرنے والوں میں شامل نہ ہو۔[82] { ۱۱۴} تمہارے رَبّ کی بات سچائی اور انصاف کے اعتبار سے کامل ہے، کوئی اس کے فرامین کو تبدیل کرنیوالا نہیں ہے اور وہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے {۱۱۵} اور اے نبی ؐ! اگر تم اُن لوگوں کی اکثریت کے کہنے پر چلو جو زمین میں بستے ہیں تو وہ تمہیں اللہ کے راستے سے بھٹکادیں گے ۔ وہ تو محض گمان پر چلتے اور قیاس آرائیاں کرتے ہیں۔[83]{۱۱۶} درحقیقت تمہارا رَبّ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کے راستے سے ہٹا ہوا ہے اور کون سیدھی راہ پر ہے۔{۱۱۷} پھر اگر تم لوگ اللہ کی آیات پر ایمان رکھتے ہو تو جس جانور پر اللہ کا نام لیا گیا ہو اُس کا گوشت کھا ؤ۔[84]{۱۱۸} آخر کیا وجہ ہے کہ تم وہ چیز نہ کھا ؤ جس پر اللہ کا نام لیا گیا ہو ؟ حالانکہ جن چیزوں کا استعمال حالتِ اضطرار کے سوا دوسری تمام حالتوں میں اللہ نے حرام کردیا ہے ان کی تفصیل وہ تمہیں بتاچکا ہے ۔[85]بکثرت لوگوں کا حال یہ ہے کہ علم کے بغیر محض اپنی خواہشات کی بنا پر گمراہ کُن باتیں کرتے ہیں ، ان حد سے گزر نے والوں کو تمہارا رَبّ خوب جانتا ہے۔{۱۱۹} تم کھلے گناہوں سے بھی بچو اور چھپے گناہوں سے بھی ، جو لوگ گناہ کا اکتساب کرتے ہیں وہ اپنی اس کمائی کا بدلہ پاکر رہیں گے۔{ ۱۲۰} اور جس جانور کو اللہ کانام لے کر ذبح نہ کیا گیا ہو اس کاگوشت نہ کھا ؤ ، ایسا کرنا فسق ہے ۔ شیاطین اپنے ساتھیوں کے دلوں میں شکوک و اعتراضات القا کرتے ہیں تاکہ وہ تم سے جھگڑا [86]کریں، لیکن اگر تم نے ان کی اطاعت قبول کرلی تو یقینا تم مشرک ہو۔[87] {۱۲۱} کیا وہ شخص جو پہلے مُردہ تھا پھر ہم نے اسے زندگی بخشی[88] اور اس کو وہ روشنی عطا کی جس کے اُجالے میں وہ لوگوں کے درمیان زندگی کی راہ طے کرتا ہے اس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جو تاریکیوں میں پڑا ہواہو اور کسی طرح اُن سے نہ نکلتا ہو[89] ؟ کافروں کے لیے تو اسی طرح اُن کے اعمال خوشنما بنادیئے گئے ہیں[90] { ۱۲۲} اور اسی طرح ہم نے ہر بستی میں اس کے بڑے بڑے مجرموں کو لگا دیا ہے کہ وہاں اپنے مکرو فریب کا جال پھیلائیں۔ دراصل وہ اپنے فریب کے جال میں آپ پھنستے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے۔{ ۱۲۳} جب ان کے سامنے کوئی آیت آتی ہے تو وہ کہتے ہیں ’’ ہم نہ مانیں گے جب تک کہ وہ چیز خود ہم کونہ دی جائے جو اللہ کے رسولوں کو دی گئی ہے ‘‘ ۔[91] اللہ زیادہ بہتر جانتا ہے کہ اپنی پیغامبری کا کام کس سے لے اور کس طرح لے ۔ قریب ہے وہ وقت جب یہ مجرم اپنی مکاریوں کی پاداش میں اللہ کے ہاں ذلت اور سخت عذاب سے دوچار ہوں گے۔{ ۱۲۴} پس (یہ حقیقت ہے کہ ) جسے اللہ ہدایت بخشنے کااِرادہ کرتا ہے اُس کا سینہ اسلام کے لیے کھول دیتا ہے[92] اور جسے گمراہی میں ڈالنے کا ارادہ کرتا ہے اس کے سینے کو تنگ کردیتا ہے اور ایسا بھینچتا ہے کہ ( اسلام کا تصور کرتے ہی) اسے یوں معلوم ہونے لگتا ہے کہ گویا اس کی روح آسمان کی طرف پرواز کررہی ہے۔ اس طرح اللہ ( حق سے فرار اور نفرت کی ) ناپا کی اُن لوگوں پر مسلّط کردیتا ہے جو ایمان نہیں لاتے{۱۲۵} حالانکہ یہ راستہ تمہارے رَبّ کا سیدھاراستہ ہے اور اس کے نشانات ان لوگوں کے لیے واضح کردیے گئے ہیں جو نصیحت قبول کرتے ہیں۔ {۱۲۶} ان کے رَبّ کے پاس ان کے لیے سلامتی کا گھر ہے[93] اور وہ ان کا سرپرست ہے اس صحیح طرز عمل کی وجہ سے جواُنہوں نے اختیار کیا۔{۱۲۷} جس روز اللہ ان سب لوگوں کو گھیر کرجمع کرے گا اس روز وہ جنوں ( یعنی شیاطین جن ) [94]سے خطاب کرکے فرمائے گا کہ ’’ اے گروہ جن ، تم نے تو نوع انسانی پر خوب ہاتھ صاف کیا‘‘۔ انسانوں میں سے جو ان کے رفیق تھے وہ عرض کریں گے ’’ پروردگار ، ہم میں سے ہر ایک نے دوسرے کو خوب استعمال کیا ہے[95] ، اور اب ہم اُس وقت پر آپہنچے ہیں جو تو نے ہمارے لئے مقرر کردیاتھا۔ ‘‘ اللہ فرمائے گا’’اچھا اب آگ تمہارا ٹھکانا ہے ، اس میں تم ہمیشہ رہوگے ۔‘‘ اس سے بچیں گے صرف وہی جنہیں اللہ بچانا چاہے گا، بیشک تمہارا رَبّ دانا اور علیم ہے ۔[96]{۱۲۸} دیکھو،اس طرح ہم ( آخرت میں ) ظالموں کو ایک دُوسرے کا ساتھی بنائیں گے اُس کمائی کی وجہ سے جو وہ ( دنیا میں ایک دوسرے کے ساتھ مل کر) کرتے تھے۔[97]{۱۲۹} (اس موقع پر اللہ ان سے یہ بھی پوچھے گا کہ )’’اے گروہ جن وانس ! کیا تمہارے پاس خود تم میں سے ایسے رسول ؑ نہیں آئے تھے جو تم کو میری آیات سناتے اور اس دن کے انجام سے ڈراتے تھے؟‘‘ وہ کہیں گے ’’ہاں، ہم اپنے خلاف خود گواہی دیتے[98] ہیں۔‘‘ آج دنیا کی زندگی نے ان لوگوں کو دھوکے میں ڈال رکھا ہے ، مگر اس وقت وہ خود اپنے خلاف گواہی دیں گے کہ وہ کافر تھے ۔[99]{ ۱۳۰} (یہ شہادت اُن سے اس لیے لی جائے گی کہ یہ ثابت ہوجائے کہ ) تمہارا رَبّ بستیوں کو ظلم کے ساتھ تباہ کرنے والا نہ تھا جب کہ ان کے باشندے حقیقت سے ناواقف ہوں۔[100] {۱۳۱} ہر شخص کا درجہ اس کے عمل کے لحاظ سے ہے اور تمہارا رَبّ لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔{۱۳۲} تمہارا رَبّ بے نیاز ہے اور مہربانی اس کا شیوہ [101]ہے ۔ اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اورتمہاری جگہ دوسرے جن لوگوں کو چاہے لے آئے جس طرح اس نے تمہیں کچھ اور لوگوں کی نسل سے اٹھایا ہے۔ { ۱۳۳} تم سے جس چیز کا وعدہ کیا جارہا ہے وہ یقینا آنے والی ہے[102]۔ اور تم اللہ کو عاجز کردینے کی طاقت نہیں رکھتے۔ { ۱۳۴} اے نبی ؐکہہ دو کہ لوگو ، تم اپنی جگہ عمل کرتے رہو اور میں بھی اپنی جگہ عمل کررہا ہوں ،[103] عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ انجام کار کس کے حق میں بہتر ہوتا ہے ، بہر حال یہ حقیقت ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔{۱۳۵} اِن لوگوں [104]نے اللہ کے لیے خود اُسی کی پیدا کی ہوئی کھیتیوں اور مویشیوں میں سے ایک حصہ مقرر کیا ہے اور کہتے ہیں یہ اللہ کے لیے ہے ، بز عم خود ، اور یہ ہمارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے۔[105] پھر جو حصہ اُن کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کے لیے ہے وہ تو اللہ کو نہیں پہنچتا مگر جو اللہ کے لیے ہے وہ ان کے شریکوں کو پہنچ جاتا [106]ہے ۔ کیسے بُرے فیصلے کرتے ہیں یہ لوگ!{۱۳۶} اور اسی طرح بہت سے مشرکوں کے لیے ان کے شریکوں نے اپنی اولاد کے قتل کو خوشنمابنا دیا [107]ہے تاکہ ان کو ہلاکت میں مبتلا کریں [108]اور ان پر ان کے دین کو مشتبہ بنادیں۔[109] اگر اللہ چاہتا تو یہ ایسا نہ کرتے، لہٰذا انہیں چھوڑ دو کہ اپنی افتراپر دازیوںمیں لگے رہیں۔[110]{۱۳۷} کہتے ہیں یہ جانور اور یہ کھیت محفوظ ہیں ، اِنہیں صرف وہی لوگ کھاسکتے ہیں جنہیں ہم کھلانا چاہیں۔ حالانکہ یہ پابندی ان کی خود ساختہ ہے ۔[111] پھر کچھ جانور ہیں جن پر سواری اور باربرداری حرام کردی گئی ہے اور کچھ جانور ہیں جن پر یہ اللہ کا نام نہیں لیتے ،[112] اور یہ سب کچھ انہوں نے اللہ پر افترا کیاہے ،[113]عنقریب اللہ انہیں ان افترا پر دازیوں کا بدلہ دے گا۔ {۱۳۸} اور کہتے ہیں کہ جو کچھ ان جانوروں کے پیٹ میں ہے ، یہ ہمارے مَردوں کے لیے مخصوص ہے اور ہماری عورتوں پر حرام ، لیکن اگر وہ مُردہ ہوتو دونوں اس کے کھانے میں شریک ہوسکتے ہیں۔ [114]یہ باتیں جو انہوں نے گھڑلی ہیں ان کا بدلہ اللہ انہیں دے کر رہے گا۔ یقینًا وہ حکیم ہے اور سب باتوں کی اسے خبر ہے۔{۱۳۹} یقینا خسار ے میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اپنی اولاد کو جہالت و نادانی کی بنا پر قتل کیا اور اللہ کے دیے ہوئے رزق کو اللہ پر افترا پر دازی کرکے حرام ٹھہرالیا۔ یقینا وہ بھٹک گئے اور ہر گز وہ راہ راست پانے والوں میں سے نہ تھے۔ [115]{ ۱۴۰} وہ اللہ ہی ہے جس نے طرح طرح کے باغ اور تاکستان اورنخلستان[116] پیدا کئے ، کھیتیاں اگائیں جن سے قسم قسم کے ماکولات(کھانے کی چیزیں) حاصل ہوتے ہیں، زیتو ن اور انار کے درخت پیدا کئے جن کے پھل صورت میں مشابہ اور مزے میں مختلف ہوتے ہیں۔ کھا ؤ ان کی پیداوار جب کہ یہ پھلیں ،اور اللہ کا حق ادا کروجب ان کی فصل کاٹو،اور حد سے نہ گزرو کہ اللہ حد سے گزرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔{۱۴۱} پھر وہی ہے جس نے مویشیوںمیں سے وہ جانور بھی پیدا کئے جن سے سواری و باربرداری کا کام لیاجاتا ہے اور وہ بھی جو کھانے اور بچھانے کے کام آتے ہیں ۔[117] کھا ؤ ان چیزوں میں سے جو اللہ نے تمہیں بخشی ہیں اور تم شیطان کے نقش قدم کی پیروی نہ کرو، وہ تمہارا کھلادشمن ہے۔[118]{ ۱۴۲} یہ آٹھ نرو مادہ ہیں ، دو بھیڑ کی قسم سے اور دو بکری کی قسم سے ۔( اے نبی ؐ!)اِن سے پوچھو کہ اللہ نے ان کے نر حرام کئے ہیں۔ یا مادہ ، یاوہ بچے جو بھیڑوں اور بکریوں کے پیٹ میں ہوں؟ ٹھیک ٹھیک علم کے ساتھ مجھے بتا ؤ اگر تم سچے ہو۔[119]{ ۱۴۳} اور اسی طرح دو اونٹ کی قسم سے ہیں اور دو گائے کی قسم سے ۔ پوچھوان کے نر اللہ نے حرام کئے ہیں یا مادہ ، یاوہ بچے جو اونٹنی اور گائے کے پیٹ میں ہوں؟[120] کیا تم اس وقت حاضر تھے جب اللہ نے ان کے حرام ہونے کا حکم تمہیں دیا تھا؟ پھر اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ کی طرف منسوب کرکے جھوٹی بات کہے تا کہ علم کے بغیر لوگوں کی غلط رہنمائی کرے۔ یقینًا اللہ ایسے ظالموں کو راہ راست نہیں دکھاتا۔ {۱۴۴} (اے نبی ؐ!) ان سے کہو کہ جو وحی میرے پاس آئی ہے اس میں تو میں کوئی چیز ایسی نہیں پاتا جو کسی کھانے والے پر حرام ہو ، اِلا ّیہ کہ وہ مردار ہو ، یا بہایا ہوا خون ہو ، یا سور کا گوشت ہو کہ وہ ناپاک ہے ، یا فسق ہو کہ اللہ کے سواکسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو ۔[121] پھر جو شخص مجبوری کی حالت میں ( کوئی چیز ان میں سے کھالے) بغیر اس کے کہ وہ نافرمانی کا ارادہ رکھتا ہو اور بغیر اس کے کہ وہ حد ِضرورت سے تجاوز کرے ، تو یقینا تمہارا رَبّ درگزر سے کام لینے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔{۱۴۵} اور جن لوگوں نے یہودیت اختیار کی ان پر ہم نے سب ناخن والے جانور حرام کردیے تھے۔ اور گائے اور بکری کی چربی بھی بجز اس کے جو ان کی پیٹھ یا ان کی آنتوں سے لگی ہوئی ہو یا ہڈی سے لگی رہ جائے۔ یہ ہم نے ان کی سرکشی کی سزا انہیں[122] دی تھی اور یہ جو کچھ ہم کہہ رہے ہیں بالکل سچ کہہ رہے ہیں۔{۱۴۶} اب اگر وہ تمہیں جھٹلائیں تو ان سے کہہ دو کہ تمہارے رَبّ کا دامن رحمت وسیع ہے اور مجرموں سے اس کے عذاب کو پھیر انہیں جاسکتا[123]{۱۴۷} یہ مشرک لوگ ( تمہاری ان باتوں کے جواب میں) ضرور کہیں گے کہ :’’اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم شرک کرتے اور نہ ہمارے باپ دادا، اور نہ ہم کسی چیز کو حرام ٹھہراتے‘‘۔[124] ایسی ہی باتیں بنابنا کر ان سے پہلے کے لوگوں نے بھی حق کو جھٹلایا تھا یہاں تک کہ آخر کار ہمارے عذاب کا مزا انہوں نے چکھ لیا۔ ان سے کہو ’’ کیا تمہارے پاس کوئی علم ہے جسے ہمارے سامنے پیش کر سکو؟ تم تو محض گمان پر چل رہے ہو اور نری قیاس آرائیاں کرتے ہو‘‘{۱۴۸} پھر کہو ( تمہاری اس حجت کے مقابلے میں) ’’ حقیقت رس حجت تو اللہ کے پاس ہے،بے شک اگر اللہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا‘‘[125] {۱۴۹} ان سے کہو کہ ’’ لا ؤ اپنے وہ گواہ جو اس بات کی شہادت دیں کہ اللہ ہی نے ان چیزوں کو حرام کیا ہے ۔‘‘ پھر اگر وہ شہادت دے دیں تو تم ان کے ساتھ شہادت [126]نہ دینا ، اور ہر گز اُن لوگوں کی خواہشات کے پیچھے نہ چلنا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایاہے ، اور جو آخرت کے منکر ہیں اور جو دوسرو ں کو اپنے رَبّ کا ہمسر بناتے ہیں۔{۱۵۰} اے نبی ؐ! ان سے کہو کہ آ ؤ میں تمہیں سنا ؤں تمہارے رَبّ نے تم پر کیا پابندیاں عائد کی ہیں ،[127] یہ کہ اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو۔[128]والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو،[129]اور اپنی اولاد کو مفلسی کے ڈرسے قتل نہ کرو، ہم تمہیں بھی رزق دیتے ہیں اوراُن کو بھی دیں گے ، اور بے شرمی کی باتوں کے قریب بھی نہ جا ؤ [130]خواہ وہ کھلی ہوں یاچُھپی ،اور کسی جان کو جسے اللہ نے محترم ٹھہرایا ہے ہلاک نہ کرو مگر حق کے ساتھ۔[131] یہ باتیں ہیں جن کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم سمجھ بوجھ سے کام لو۔{۱۵۱} اور یہ کہ مال یتیم کے قریب نہ جا ؤ مگر ایسے طریقے سے جو بہترین ہو،[132] یہاں تک کہ وہ اپنے سن رشد کو پہنچ جائے۔ اور ناپ تول میں پورا انصاف کرو، ہم ہر شخص پر ذمہ داری کا اتنا ہی با ررکھتے ہیں جتنا اس کے امکان میں ہے۔[133] اور جب بات کہو انصاف کی کہو خواہ معاملہ اپنے رشتہ دار ہی کا کیوں نہ ہو۔اور اللہ کے عہد کو پورا کرو[134]۔ اِن باتوں کی ہدایت اللہ نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم نصیحت قبول کرو۔{ ۱۵۲} نیز اُس کی ہدایت یہ ہے کہ یہی میرا سیدھا راستہ ہے لہٰذا تم اسی پر چلو اور دوسرے راستوں پر نہ چلو کہ وہ اُس کے راستے سے ہٹا کر تمہیں پر اگندہ کردیں [135]گے ۔ یہ ہے وہ ہدایت جو تمہارے رَبّ نے تمہیں کی ہے شاید کہ تم کج روی سے بچو۔{ ۱۵۳} پھر ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب عطا کی تھی جو بھلائی کی روش اختیار کرنے والے انسان پر نعمت کی تکمیل اور ہرضروری چیز کی تفصیل اور سراسر ہدایت و رحمت تھی ۔ (اور اس لیے بنی اسرائیل کو دی گئی تھی کہ ) شاید لوگ اپنے رَبّ کی ملاقات پر ایمان لائیں۔[136]{ ۱۵۴} اور اسی طرح یہ کتاب ہم نے نازل کی ہے ایک برکت والی کتاب ۔ پس تم اس کی پیروی کرو اور تقویٰ کی روش اختیار کرو ، بعید نہیں کہ تم پر رحم کیا جائے۔{۱۵۵} اب تم یہ نہیں کہہ سکتے کہ کتاب تو ہم سے پہلے کے دوگروہوں کو دی گئی [137]تھی اور ہم کو کچھ خبرنہ تھی کہ وہ کیا پڑھتے پڑھاتے تھے{۱۵۶} اور اب تم یہ بہانہ بھی نہیں کرسکتے کہ اگر ہم پر کتاب نازل کی گئی ہوتی تو ہم اُن سے زیادہ راست روثابت ہوتے ۔ تمہارے پاس تمہارے رَبّ کی طرف سے ایک دلیل روشن اور ہدایت اور رحمت آگئی ہے ، اب اس سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کی آیات کو جھٹلائے اور اُن سے منھ موڑے ۔[138]جو لوگ ہماری آیات سے منھ موڑتے ہیں انہیں اس روگردانی کی پاداش میں ہم بدترین سزا دے کر رہیں گے۔{۱۵۷} کیا اب لوگ اس کے منتظر ہیں کہ ان کے سامنے فرشتے آکھڑے ہوں، یا تمہارا رَبّ خودآجائے، یا تمہارے رَبّ کی بعض صریح نشانیاں نمودار ہوجائیں ؟ جس روز تمہارے رَبّ کی بعض مخصوص نشانیاں[139] نمودار ہوجائیں گی پھر کسی ایسے شخص کو اس کا ایمان کچھ فائدہ نہ دے گا جو پہلے ایمان نہ لایا ہو یا جس نے اپنے ایمان میں کوئی بھلائی نہ کمائی ہو۔[140] اے نبی ؐ! ان سے کہہ دو اچھا،تم انتظار کرو، ہم بھی انتظار کرتے ہیں۔ {۱۵۸} جن لوگوں نے اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا اور گروہ گروہ بن گئے یقینا ان سے تمہارا کچھ واسطہ نہیں [141]، ان کا معاملہ تو اللہ کے سپرد ہے ، وہی اُن کو بتائے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے{۱۵۹} جو اللہ کے حضور نیکی لے کر آئے گا اس کے لیے دس گنا اجر ہے ، اور جو بدی لے کر آئے گا اس کو اتناہی بدلہ دیاجائے گا جنتا اس نے قصور کیا ہے اور کسی پر ظلم نہ کیا جائے گا۔{۱۶۰} اے نبی ؐ! کہو میرے رَبّ نے بالیقین مجھے سیدھاراستہ دکھا دیاہے ، بالکل ٹھیک دین جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ،ابراہیم ؑ کا طریقہ[142] جسے یکسُو ہو کر اُس نے اختیار کیا تھا اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا{۱۶۱} کہو، میری نماز ،میرے تمام مراسمِ عبودیت،[143] میرا جینا اور میرا مرنا ، سب کچھ اللہ رَبّ العٰلمین کے لیے ہے{۱۶۲} جس کا کوئی شریک نہیں۔ اسی کا مجھے حکم دیا گیا ہے اور سب سے پہلے سراطاعت جھکا نے والا میں ہوں۔ {۱۶۳} کہو کیا میں اللہ کے سوا کوئی اور رَبّ تلاش کروں ،حالاں کہ وہی ہر چیز کا رَبّ ہے ؟ [144]ہر شخص جو کچھ کماتا ہے اس کا ذمہّ دار وہ خود ہے، کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھاتا [145] پھر تم سب کو اپنے رَبّ کی طرف پلٹنا ہے ،اس وقت وہ تمہارے اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا۔ {۱۶۴} وہی ہے جس نے تم کو زمین کا خلیفہ بنایا، اور تم میں سے بعض کو بعض کے مقابلے میں زیادہ بلنددرجے دیئے، تاکہ جو کچھ تم کو دیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے۔[146] بے شک تمہارا رَبّ سزا دینے میں بہت تیز ہے اور بہت درگزر کرنے اور رحم فرمانے والا بھی ہے۔ {۱۶۵}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)