سورۃ المجادلۃ   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 58 : 1-22 / 22اللہ نے سُن لی[1] اُس عورت کی بات جو اپنے شوہر کے معاملے میں تم سے تکرار کررہی ہے اور اللہ سے فریاد کئے جاتی ہے ۔ اللہ تم دونوں کی گفتگو سن رہا ہے ،[2] وہ سب کچھ سننے اور دیکھنے والا ہے۔{۱} تم میں سے جو لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کرتے ہیں [3]ان کی بیویاں ان کی مائیں نہیں ہیں ، ان کی مائیں تو وہی ہیں جنہوں نے ان کو جنا ہے ۔ [4]یہ لوگ ایک سخت ناپسندیدہ اور جھوٹی بات کہتے ہیں[5] اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے ۔[6]{۲} جو[7] لوگ اپنی بیویوں سے ظہار کریں پھر اپنی اُس بات سے رجوع کریں جو انہوں نے کہی تھی،[8] توقبل اس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں ، ایک غلام آزاد کرنا ہوگا ۔ اس سے تم کو نصیحت کی جاتی ہے ، [9]اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔ [10]{۳} اور جو شخص غلام نہ پائے وہ دو مہینے کے پے درپے روزے رکھے قبل اِس کے کہ دونوں ایک دوسرے کو ہاتھ لگائیں۔ اور جو اس پر بھی قادر نہ ہو وہ ساٹھ(۶۰) مسکینوں کو کھا نا کھلائے۔ [11]یہ حکم اس لیے دیا جارہا ہے کہ تم اللہ اور اس کے رسول ؐپر ایمان لا ؤ۔ [12]یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں ، اور کافروں کے لیے درد ناک سزا ہے ۔[13]{۴} جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ؐ کی مخالفت کرتے ہیں[14] وہ اسی طرح ذلیل و خوار کردیئے جائیں گے جس طرح اِن سے پہلے کے لوگ ذلیل و خوار کئے جاچکے ہیں۔ [15]ہم نے صاف صاف آیات نازل کردی ہیں ، اور کافروں کے لیے ذلّت کا عذاب ہے ۔[16]{۵} اُس دن ( یہ ذلّت کا عذاب ہونا ہے) جب اللہ ان سب کو پھر سے زندہ کرکے اٹھائے گا اور انہیں بتا دے گا کہ کیا کچھ کرکے آئے ہیں۔ وہ بھول گئے ہیں مگر اللہ نے ان کا سب کیا دھراگِن گِن کر محفوظ کررکھا ہے[17] اور اللہ ایک ایک چیز پر شاہد ہے۔{۶} کیا[18] تم کو خبر نہیں ہے کہ زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا اللہ کو علم ہے ؟کبھی ایسا نہیں ہوتا کہ تین آدمیوں میں کوئی سرگوشی ہو اور ان کے درمیان چوتھا اللہ نہ ہو ، یا پانچ آدمیوں میں سرگوشی ہو اور ان کے اندر چھٹا اللہ نہ ہو۔ [19]خفیہ بات کرنے والے خواہ اِس سے کم ہوں یا زیادہ ، جہاں کہیں بھی وہ ہوں ، اللہ ان کے ساتھ ہوتا ہے۔[20] پھر قیامت کے روز وہ اُن کو بتادے گا کہ انہوں نے کیا کچھ کیا ہے ۔ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔ {۷} کیا تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جنہیں سرگوشیاں کرنے سے منع کردیا گیا تھا پھر بھی وہ وہی حرکت کئے جاتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا ؟[21] یہ لوگ چُھپ چُھپ کر آپس میں گناہ اور زیادتی اور رسول ؐکی نافرمانی کی باتیں کرتے ہیںاور جب تمہارے پاس آتے ہیں تو تمہیں اُس طریقے سے سلام کرتے ہیں جس طرح اللہ نے تم پر سلام نہیں کیا[22] ہے، اور اپنے دلوں میں کہتے ہیں کہ ہماری اِن باتوں پر اللہ ہمیں عذاب کیوں نہیں دیتا ؟[23] اُن کے لیے جہنّم ہی کا فی ہے۔ اُسی کا وہ ایندھن بنیں گے ۔ بڑا ہی بُرا انجام ہے اُن کا ۔{۸} اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تم آپس میں پوشیدہ بات کرو تو گناہ اور زیادتی اور رسُول ؐ کی نافرمانی کی باتیں نہیں ، بلکہ نیکی اور تقویٰ کی باتیں کرو اُس اللہ سے ڈرتے رہو جس کے حضور تمہیں حشر میں پیش ہونا ہے۔[24] {۹} کانا پھوسی تو ایک شیطانی کام ہے ، اور وہ اِس لئے کی جاتی ہے کہ ایمان لانے والے لوگ اُس سے رنجیدہ ہوں ، حالانکہ اللہ کے اذن کے بغیر وہ اُنہیں کچھ بھی نقصان نہیں پہنچا سکتی ، اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔[25] {۱۰} اے لوگو جو ایمان لائے ہو!جب تم سے کہا جائے کہ اپنی مجلسوں میں کشادگی پیدا کرو تو جگہ کشادہ کردیا کرو ،[26] اللہ تمہیں کشادگی بخشے گا ۔ اور جب تم سے کہا جائے کہ اُٹھ جا ؤ تو اُٹھ جایا کرو [27] تم میں سے جو لوگ ایمان رکھنے والے ہیں اور جن کو علم بخشا گیا ہے ، اللہ ان کو بلند درجے عطا فرمائے گا ،[28] اور جوکچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔{۱۱} اے لوگو جو ایمان لائے ہو!جب تم رسول ؐسے تخلیہ میں بات کرو ،تو بات کرنے سے پہلے کچھ صدقہ دو،[29] یہ تمہارے لئے بہتراور پاکیزہ تر ہے ، البتہ اگر تم صدقہ دینے کے لیے کچھ نہ پا ؤ تو اللہ غفور ورحیم ہے۔ { ۱۲} کیا تم ڈرگئے اِس بات سے کہ تخلیہ میں گفتگو کرنے سے پہلے تمہیں صدقات دینے ہوں گے ؟ اچھا ، اگر تم ایسا نہ کرو اور اللہ نے تم کو اس سے معاف کردیا ۔ تو نماز قائم کرتے رہو ، زکوٰۃ دیتے رہو۔ اور اللہ اور اس کے رسول ؐکی اطاعت کرتے رہو ۔تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔[30] {۱۳} کیا تم نے دیکھا اُن لوگوں کو جنہوں نے دوست بنایا ہے ایک ایسے گروہ کو جو اللہ کا مغضوب ہے ؟[31] وہ نہ تمہارے ہیں نہ اُن کے ، [32]اور وہ جان بوجھ کر جھوٹی بات پر قسمیں کھاتے ہیں۔[33]{۱۴} اللہ نے اُن کے لیے سخت عذاب مہیّا کررکھا ہے ، بڑے ہی بُرے کرتُوت ہیں جو وہ کررہے ہیں۔{۱۵} اُنہوں نے اپنی قسموں کو ڈھال بنارکھا ہے جس کی آڑ میں وہ اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکتے ہیں ،[34] اس پر اُن کے لیے ذلّت کا عذاب ہے۔{۱۶} اللہ سے بچانے کے لیے نہ اُن کے مال کچھ کام آئیں گے نہ اُن کی اولاد ۔ وہ دوزخ کے یار ہیں ، اسی میں ہمیشہ رہیں گے۔{۱۷} جس روز اللہ ان سب کو اٹھائے گا ، وہ اُس کے سامنے بھی اُسی طرح قسمیں کھائیں گے جس طرح تمہارے سامنے کھاتے ہیں[35] اور اپنے نزدیک یہ سمجھیں گے کہ اِس سے ان کا کچھ کام بن جائے گا ۔ خوب جان لو ، وہ پرلے درجے کے جھوٹے ہیں۔ {۱۸} شیطان اُن پر مسلّط ہوچکا ہے اور اس نے اللہ کی یاد اُن کے دل سے بھلادی ہے۔ وہ شیطان کی پارٹی کے لوگ ہیں ۔ خبردار رہو ، شیطان کی پارٹی والے ہی خسارے میں رہنے والے ہیں۔{۱۹} یقینا ذلیل ترین مخلوقات میں سے ہیں وہ لوگ جو اللہ اور اس کے رسُول ؐ کا مقابلہ کرتے ہیں۔{۲۰} اللہ نے لکھ دیا ہے کہ میں اور میرے رسول ؐہی غالب ہوکررہیں گے۔[36] فی الواقع اللہ زبردست اور زورآور ہے۔{۲۱} تم کبھی یہ نہ پا ؤ گے کہ جو لوگ اللہ اور آخرت پر ایمان رکھنے والے ہیں وہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہوں جنہوں نے اللہ اور اس کے رسول ؐکی مخالفت کی ہے ، خواہ وہ ان کے باپ ہوں ، یا ان کے بیٹے ، یا ان کے بھائی یا اُن کے اہلِ خاندان ۔[37] یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں میں اللہ نے ایمان ثَبْت کردیا ہے اور اپنی طرف سے ایک روح عطا کرکے ان کو قوت بخشی ہے۔ وہ ان کو ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اِن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ اُن سے راضی ہوا اور وہ اللہ سے راضی ہوئے۔ وہ(حزب اللہ) اللہ کی جماعت کے لوگ ہیں۔خبردار رہو! (حزب اللہ)اللہ کی پارٹی (جماعت) والے ہی فلاح پانے والے ہیں۔{ ۲۲}
سورۃ الحشر   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 59 : 1-24 / 24اللہ ہی کی تسبیح کی ہے ہر اُس چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے ، اور وہی غالب اور حکیم ہے[1]{۱} وہی ہے جس نے اہلِ کتاب کافروں کو پہلے ہی ہلّے میں [2]اُن کے گھروں سے نکال باہر کیا۔ [3]تمہیں ہر گزیہ گمان نہ تھا کہ وہ نکل جائیں گے ، اور وہ بھی یہ سمجھے بیٹھے تھے کہ اُن کی گڑھیاں انہیں اللہ سے بچالیں گی۔ [4]مگر اللہ ایسے رُخ سے اُن پر آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ گیا تھا۔[5] اس نے اِن کے دلوں میں رُعب ڈال دیا ۔نتیجہ یہ ہوا کہ وہ خود اپنے ہاتھوں سے بھی اپنے گھروں کو برباد کررہے تھے اور مومنوں کے ہاتھوں بھی برباد کروا رہے تھے ۔[6] پس عبرت حاصل کرو،اے دیدہ ٔبینا رکھنے والو! [7]{۲} اگر اللہ نے اُن کے حق میں جَلاوطنی نہ لکھ دی ہوتی تو دنیا ہی میں وہ انہیں عذاب دے ڈالتا۔[8] اور آخرت میں تو ان کے لیے دوزخ کا عذاب ہے ہی۔{۳} یہ سب کچھ اس لیے ہوا کہ انہوں نے اللہ اور اس کے رسول ؐکا مقابلہ کیا اور جو بھی اللہ کا مقابلہ کرے اللہ اس کو سزادینے میں بہت سخت ہے۔{ ۴} تم لوگوں نے کھجوروں کے جو درخت کاٹے یا جن کو اپنی جڑوں پرکھڑا رہنے دیا، یہ سب اللہ ہی کے اِذن سے تھا۔[9] اور (اللہ نے یہ اِذن اس لیے دیا) تا کہ فاسقوں کو ذلیل و خوار کرے۔ [10]{۵} اور جو مال اللہ نے اُن کے قبضے سے نکال کر اپنے رسُول ؐ کی طرف پلٹا دیے،[11] وہ ایسے مال نہیں ہیں جن پر تم نے اپنے گھوڑے اور اونٹ دوڑائے ہوں ، بلکہ اللہ اپنے رسولوں کو جس پر چاہتا ہے تسلط عطا فرمادیتا ہے ، اور اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔ [12] {۶} جو کچھ بھی اللہ تعالیٰ بستیوں کے لوگوں سے اپنے رسُول ؐ کی طرف پلٹا دے وہ اللہ اور رسول ؐاور رشتہ داروں اور یتامیٰـ اور مساکین اور مسافروں کے لیے ہے[13] تاکہ وہ تمہارے مالداروں ہی کے درمیان گردش نہ کرتا رہے۔[14] جو کچھ رسُول ؐ تمہیں دے وہ لے لو اور جس چیز سے وہ تم کو روک دے اس سے رُک جا ؤ۔[15] اللہ سے ڈرو ،اللہ سخت سزادینے والا ہے۔ {۷} (نیزوہ مال ) اُن غریب مہاجرین کے لیے ہے جو اپنے گھروں اور جائدادوں سے نکال باہر کئے گئے ہیں۔[16] یہ لوگ اللہ کا فضل اور اس کی خوشنودی چاہتے ہیں اور اللہ اور اس کے رسول ؐکی حمایت پر کمر بستہ رہتے ہیں۔ یہی راست باز لوگ ہیں۔{۸} (اور وہ اُن لوگوں کے لیے بھی ہے ) جو اِن مہاجرین کی آمد سے پہلے ہی ایمان لاکر دارالہجرت میں مقیم تھے۔[17] یہ اُن لوگوں سے محبت کرتے ہیں جو ہجرت کرکے ان کے پاس آئے ہیں اور جو کچھ بھی اُن کو دے دیا جائے اس کی کوئی حاجت تک یہ اپنے دلوں میں محسوس نہیں کرتے اور اپنی ذات پر دوسروں کو ترجیح دیتے ہیں خواہ اپنی جگہ خود محتاج ہوں۔[18] حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اپنے دل کی تنگی سے بچالئے گئے ۔وہی فلاح پانے والے ہیں۔[19]{۹} (اور وہ اُن لوگوں کے لیے بھی ہے ) جو اِن اگلوں کے بعد آئے ہیں [20] جو کہتے ہیں کہ ’’ اے ہمارے رب! ہمیں اور ہمارے اُن سب بھائیوں کو بخش دے جو ہم سے پہلے ایمان لائے ہیں اور ہمارے دلوں میں اہلِ ایمان کے لیے کوئی بغض نہ رکھ ، اے ہمارے رب ! تو بڑا مہربان اور رحیم ہے ۔‘‘[21]{۱۰} تم [22]نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جنہوں نے منافقت کی روش اختیار کی ہے ؟ یہ اپنے کافر اہل ِکتاب بھائیوں سے کہتے ہیں ’’ اگر تمہیں نکالا گیا تو ہم تمہارے ساتھ نکلیں گے ، اور تمہارے معاملہ میں ہم کسی کی بات ہر گز نہ مانیں گے ،اور اگر تم سے جنگ کی گئی تو ہم تمہاری مدد کریں گے ۔ ‘‘ مگر اللہ گواہ ہے کہ یہ لوگ قطعی جُھوٹے ہیں۔{۱۱} اگر وہ نکالے گئے تو یہ اُ ن کے ساتھ ہر گز نہ نکلیں گے ، اور اگر ان سے جنگ کی گئی تو یہ ان کی ہر گز مددنہ کریں گے ، اور اگر یہ ان کی مدد کریں بھی تو پیٹھ پھیر جائیں گے اور پھر کہیں سے کوئی مدد نہ پائیں گے۔{ ۱۲} ان کے دلوں میں اللہ سے بڑھ کر تمہارا خوف ہے ،[23] اس لیے کہ یہ ایسے لوگ ہیں جو سمجھ بوجھ نہیں رکھتے [24]{۱۳} یہ کبھی اکٹھے ہو کر ( کُھلے میدان میں ) تمہارا مقابلہ نہ کریں گے ، لڑیں گے بھی تو قلعہ بند بستیوں میں بیٹھ کر یادیواروں کے پیچھے چُھپ کر ۔ یہ آپس کی مخالفت میں بڑے سخت ہیں۔ تم انہیں اکٹھا سمجھتے ہو مگر ان کے دل ایک دوسرے سے پھٹے ہوئے ہیں۔ [25]ان کا یہ حال اس لیے ہے کہ یہ بے عقل لوگ ہیں۔{۱۴} یہ اُنہی لوگوں کے مانند ہیں جو اِ ن سے تھوڑی ہی مدّت پہلے اپنے کئے کامزہ چکھ چکے ہیں[26] اور ان کے لیے درد ناک عذاب ہے۔{۱۵} ان کی مثال شیطان کی سی ہے کہ پہلے وہ انسان سے کہتا ہے کہ کفر کر اور جب انسان کفر کر بیٹھتا ہے تو وہ کہتا ہے کہ میں تجھ سے بَری ُالذِمّہ ہوں ، مجھے تو اللہ رب العٰلمین سے ڈرلگتا ہے۔[27]{۱۶} پھر دونوں کا انجام یہ ہونا ہے کہ ہمیشہ کے لیے جہنم میں جائیں اور ظالموں کی یہی جزا ہے۔[28] {۱۷} اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ سے ڈرو ، اور ہر شخص یہ دیکھے کہ اُس نے کل کے لیے کیا سامان کیا ہے ۔[29] اللہ سے ڈرتے رہو، اللہ یقینا تمہارے اُن سب اعمال سے باخبر ہے جو تم کرتے ہو۔{۱۸} اُن لوگوں کی طرح نہ ہوجا ؤ جو اللہ کو بھول گئے تو اللہ نے اُنہیں خود اپنا نفس بُھلادیا، [30] یہی لوگ فاسق ہیں۔{۱۹} دوزخ میں جانے والے اور جنّت میں جانے والے کبھی یکساں نہیں ہوسکتے۔جنّت میں جانے والے ہی اصل میں کامیاب ہیں۔ {۲۰} اگر ہم نے یہ قرآن کسی پہاڑ پر بھی اُتار دیا ہوتا تو تم دیکھتے کہ وہ اللہ کے خوف سے دبا جارہا ہے اور پھٹا پڑتا ہے۔ [31]یہ مثالیں ہم لوگوں کے سامنے اس لیے بیان کرتے ہیں کہ وہ (اپنی حالت پر) غور کریں۔{۲۱} وہ[32] اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبُود نہیں۔[33] غائب اور ظاہر ہر چیز کا جاننے والا[34] ، وہی رحمن اوررحیم ہے۔ [35]{ ۲۲} وہ اللہ ہی ہے جس کے سوا کوئی معبُود نہیں۔ وہ بادشاہ ہے[36] نہایت مقدس، [37]سراسر سلامتی، [38]امن دینے والا ،[39] نگہبان،[40]سب پر غالب [41]اپنا حکم بزور نافذکرنے والا ،[42]اور بڑا ہی ہو کر رہنے والا ، [43]پاک ہے اللہ اُس شرک سے جو لوگ کررہے ہیں۔[44]{ ۲۳} وہ اللہ ہی ہے جو تخلیق کا منصوبہ بنانے والا اور اس کا نافذ کرنے والا اور اس کے مطابق صورت گری کرنے والا ہے۔[45] اس کے لیے بہترین نام ہیں۔[46] ہر چیز جو آسمانوں اور زمین میں ہے اس کی تسبیح کررہی ہے،[47] اور وہ زبردست اور حکیم ہے۔[48] { ۲۴}
سورۃ الممتحنۃ   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 60 : 1-13 / 13اے[1] لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم میری راہ میں جہاد کرنے کے لیے اور میری رضا جو ئی کی خاطر (وطن چھوڑ کر گھروں سے ) نکلے ہو تو میرے اور اپنے دشمنوں کو دوست نہ بناؤ۔ تم اُن کے ساتھ دوستی کی طرح ڈالتے ہو ، حالانکہ جو حق تمہارے پاس آیا ہے اس کو ماننے سے وہ انکار کرچکے ہیں اور اُن کی روش یہ ہے کہ رسول ؐکو اور خود تم کو صرف اس قصور پر جلا وطن کرتے ہیں کہ تم اپنے رب ، اللہ پر ایمان لائے ہو ۔ تم چُھپا کراُن کو دوستانہ پیغام بھیجتے ہو، حالانکہ جو کچھ تم چھپا کر کرتے ہو اور جو علانیہ کرتے ہو،ہر چیز کو میں خوب جانتا ہوں۔ جو شخص بھی تم میں سے ایسا کرے وہ یقینا راہ ِراست سے بھٹک گیا{۱} اُن کا روّیہ تو یہ ہے کہ اگر تم پر قابو پاجائیں تو تمہارے ساتھ دشمنی کریں اور ہاتھ اور زبان سے تمہیں آزار دیں ۔ وہ تویہ چاہتے ہیں کہ تم کسی طرح کافر ہوجا ؤ[2]{۲} قیامت کے دن نہ تمہاری رشتہ داریاں کسی کام آئیں گی نہ تمہاری اولاد۔[3] اُس روز اللہ تمہارے درمیان جُدائی ڈال دے گا[4] اور وہی تمہارے اعمال کا دیکھنے والا ہے ۔[5]{۳} تم لوگوں کے لیے ابراہیم ؑ اور اُس کے ساتھیوں میں ایک اچھا نمونہ ہے کہ اُنہوں نے اپنی قوم سے صاف کہہ دیا ’’ ہم تم سے اور تمہارے اُن معبودُوں سے جن کو تم اللہ کو چھوڑ کر پُوجتے ہو قطعی بیزار ہیں ،ہم نے تم سے کفر کیا [6]اور ہمارے اور تمہارے درمیان ہمیشہ کے لیے عداوت ہوگئی اور بیر پڑگیا جب تک تم اللہ واحد پر ایمان نہ لا ؤ‘‘۔ مگر ابراہیم ؑ کا اپنے باپ سے یہ کہنا (اس سے مستثنیٰ ہے) کہ ’’ میں آپ کے لیے مغفرت کی درخواست ضرور کروں گا، اور اللہ سے آپ کے لیے کچھ حاصل کرلینا میرے بس میں نہیں ہے،[7] (اور ابراہیم ؑ واصحاب ابراہیم ؑ کی دعا یہ تھی کہ ) ’’ اے ہمارے ربّ !تیرے ہی اوپر ہم نے بھروسا کیا اور تیری ہی طرف ہم نے رجوع کرلیا اور تیرے ہی حضور ہمیں پلٹنا ہے۔{ ۴} اے ہمارے رب !ہمیں کافروں کے لیے فتنہ نہ بنادے[8] اور اے ہمارے رب ! ہمارے قصوروں سے درگزر فرما ،بے شک تُو ہی زبردست اور دانا ہے ‘‘۔{۵} اُن ہی لوگوں کے طرزِ عمل میں تمہارے لئے اور ہر اُس شخص کے لیے اچھاّ نمونہ ہے جو اللہ اور روز ِآخر کا امیدوار ہو ۔[9] اِس سے کوئی منحرف ہو تو اللہ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ محمود ہے۔ [10]{۶} بعید نہیں کہ اللہ کبھی تمہارے اور اُن لوگوں کے درمیان محبت ڈال دے جن سے آج تم نے دشمنی مول لی ہے۔[11] اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے اور وہ غفور ورحیم ہے ۔{۷} اللہ تمہیں اِس بات سے نہیں روکتا کہ تم اُن لوگوں کے ساتھ نیکی اور انصاف کا برتا ؤ کرو جنہوں نے دین کے معاملہ میں تم سے جنگ نہیں کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نہیں نکالا ہے۔ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔[12]{۸} وہ تمہیں جس بات سے روکتا ہے وہ تو یہ ہے کہ تم اُن لوگوں سے دوستی کرو جنہوں نے تم سے دین کے معاملے میں جنگ کی ہے اور تمہیں تمہارے گھروں سے نکالا ہے اور تمہارے اخراج میں ایک دوسرے کی مدد کی ہے۔ اُن سے جو لوگ دوستی کریں وہی ظالم ہیں[13]{۹} اے لوگو جو ایمان لائے ہو!جب مومن عورتیں ہجرت کرکے تمہارے پاس آئیں تو ( ان کے مومن ہونے کی ) جانچ پڑتال کرلو ، اور ان کے ایمان کی حقیقت تو اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ پھر جب تمہیں معلوم ہوجائے کہ وہ مومنہ ہیں تو انہیں کُفّار کی طرف واپس نہ کرو،[14] نہ وہ کفار کے لیے حلال ہیں اور نہ کفّار اُن کے لیے حلال ۔ اُن کے کافر شوہروں نے جو مَہر اُن کو دیے تھے وہ انہیں پھیردو ۔ اور اُن سے نکاح کرلینے میں تم پر کوئی گناہ نہیں جب کہ تم اُن کے مَہر اُن کو ادا کردو۔[15] اور تم خود بھی کافرعورتوں کو اپنے نکاح میں نہ روکے رہو ۔ جو مہر تُم نے اپنی کافر بیویوں کو دیے تھے وہ تم واپس مانگ لو اور جو مَہر کافروں نے اپنی مسلمان بیویوں کو دیے تھے انہیں وہ واپس مانگ لیں۔[16] یہ اللہ کا حکم ہے ، وہ تمہارے درمیان فیصلہ کرتا ہے اور وہ علیم وحکیم ہے۔{۱۰} اور اگر تمہاری کافربیویوں کے مَہروں میں سے کچھ تمہیں کفّار سے واپس نہ ملے اور پھر تمہاری نوبت آئے تو جن لوگوں کی بیویاں اُدھر رہ گئی ہیں اُن کو اُتنی رقم ادا کردو جو ان کے دیے ہوئے مَہروں کے برابر ہو[17] اور اُس اللہ سے ڈرتے رہو جس پر تم ایما ن لائے ہو۔ {۱۱} اے نبی ؐ! جب تمہارے پاس مومن عورتیں بیعت کرنے کے لیے آئیں[18] اور اس بات کا عہد کریں کہ وہ اللہ کے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کریں گی ، چوری نہ کریں گی ،[19]زنانہ کریں گی ، اپنی اولاد کو قتل نہ کریں گی ،[20] اپنے ہاتھ پا ؤں کے آگے کو ئی بہتان گھڑ کر نہ لائیں گی،[21] اور کسی اَمر ِمعروف میں تمہاری نافرمانی نہ کریں گی،[22] تو ان سے بیعت لے لو [23]اور ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو ، یقینا اللہ درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔ { ۱۲} اے لوگوجو ایمان لائے ہو!اُن لوگوں کو دوست نہ بنا ؤ جن پر اللہ نے غضب فرمایا ہے ، جو آخرت سے اُسی طرح مایوس ہیں جس طرح قبروں میں پڑے ہوئے کافر مایوس ہیں۔[24]{۱۳}
سورۃ الصف   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 61 : 1-14 / 14اللہ کی تسبیح کی ہے ہراُس چیز نے جو آسمانوں اور زمین میں ہے ، اور وہ غالب اور حکیم ہے۔[1] {۱} اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تم کیو ںوہ بات کہتے ہو جو کرتے نہیں ہو ؟{۲} اللہ کے نزدیک یہ سخت ناپسند یدہ حرکت ہے کہ تم کہو وہ بات جو کرتے نہیں[2]{۳} اللہ کو توپسند وہ لوگ ہیں جو اُس کی راہ میں اس طرح صف بستہ ہو کر لڑتے ہیں گویا کہ وہ ایک سیسہ پلائی ہوئی دیوار ہیں۔[3] {۴} اور یاد کرو موسیٰ ؑ کی وہ بات جو اس نے اپنی قوم سے کہی تھی کہ ’’ اے میری قوم کے لوگو!تم کیوں مجھے اذیت دیتے ہو حالاں کہ تم خوب جانتے ہو کہ میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں؟‘‘[4] پھر جب اُنہوں نے ٹیڑھ اختیار کی تو اللہ نے بھی انکے دل ٹیڑھے کردیے ، اللہ فاسقوں کو ہدایت نہیں دیتا۔ [5]{۵} اور[6] یاد کرو عیسیٰ ؑ بن مریم کی و ہ بات جو اس نے کہی تھی کہ ’’ اے بنی اسرائیل !میں تمہاری طرف اللہ کا بھیجا ہوا رسول ہوں، تصدیق کرنے والا ہوں اُس توراۃ کی جو مجھ سے پہلے آئی ہوئی موجودہے ،[7] اور بشارت دینے والا ہوں ایک رسول کی جو میرے بعد آئے گا جس کا نام احمدؐ ہوگا ‘‘ ۔[8]مگر جب وہ اُن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آیا تو انہوں نے کہا یہ توصریح دھوکا ہے ۔[9]{۶} اب بھلا اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹے بہتان باندھے [10]حالانکہ اسے اسلام ( اللہ کے آگے سراطاعت جھکادینے )کی دعوت دی جارہی ہو؟[11] ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ۔{۷} یہ لوگ اپنے منہ کی پھونکوں سے اللہ کے نور کو بجھانا چاہتے ہیں ، اور اللہ کا فیصلہ یہ ہے کہ وہ اپنے نُور کو پُورا پھیلا کررہے گا خواہ کافروں کو یہ کتناہی ناگوار ہو۔[12]{۸} وہی تو ہے جس نے اپنے رسُول ؐ کو ہدایت اور دین ِحق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ اسے پُورے کے پُورے دین پر غالب کردے خواہ مشرکین کو یہ کتناہی نا گوار ہو ۔[13]{۹} اے لوگوجو ایمان لائے ہو!میں بتا ؤ ں تم کو وہ تجارت [14]جو تمہیں عذاب ِالیم سے بچادے ؟ {۱۰} ایمان لا ؤ اللہ اور اس کے رسول ؐپر[15] اور جہاد کرو اللہ کی راہ میں اپنے مالوں سے اور اپنی جانوں سے یہی تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو! [16] {۱۱} اللہ تمہارے گناہ معاف کردے گا ، اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، اور ابدی قیام کی جنتوں میں بہترین گھر تمہیں عطا فرمائے گا ۔ یہ ہے بڑی کامیابی۔[17]{۱۲} اور وہ دوسری چیز جو تم چاہتے ہو ، وہ بھی تمہیں دے گا ، اللہ کی طر ف سے نصرت اور قریب ہی میں حاصل ہوجانے والی فتح،[18] اے نبی ؐ! اہل ایمان کو اس کی بشارت دے دو۔{۱۳} اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اللہ کے مددگار بنو ، جس طرح عیسیٰ ؑبن مریم نے حواریوں کو [19]خطاب کرکے کہا تھا : ’’ کون ہے اللہ کی طرف ( بلانے ) میں میرا مددگار ؟‘‘ اور حواریوں نے جواب دیا تھا :’’ ہم ہیں اللہ کے مددگار ‘‘[20]اس وقت بنی اسرائیل کا ایک گروہ ایمان لایا اور دوسرے گروہ نے انکارکیا ۔ پھر ہم نے ایمان لانے والوں کی ان کے دشمنوں کے مقابلے میں تائید کی اور وہی غالب ہو کررہے[21] {۱۴}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)