سورۃ الرحمٰن   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 55 : 1-78 / 78نہایت مہربان ( اللہ ) نے {۱} اِس قرآن کی تعلیم دی ہے۔[1]{ ۲} اُسی نے انسان کو پیدا کیا [2]{۳} اور اسے بولنا سکھایا۔[3]{۴} سُورج اور چاند ایک حساب کے پابند ہیں [4]{۵} اور تارے[5] اور درخت سب سجدہ ریز ہیں۔ [6]{۶} آسمان کو اُس نے بلند کیا اور میزان قائم کردی۔ [7]{۷} اس کا تقاضایہ ہے کہ تم میزان میں خلل نہ ڈالو {۸} انصاف کے ساتھ ٹھیک ٹھیک تولو اور ترازو میں ڈنڈی نہ مارو۔[8] {۹} زمین[9] کو اس نے سب مخلوقات کے لیے بنایا[10]{۱۰} اس میں ہر طرح کے بکثرت لذیذ پھل ہیں۔کھجور کے درخت ہیں جن کے پھل غلافوں میں لپٹے ہوئے ہیں ۔{۱۱} طرح طرح کے غلے ہیں جن میں بھوسابھی ہوتا ہے اور دانہ بھی[11]{۱۲} پس اے جنّ وانس ، تم اپنے رَبّ کی کن کن نعمتوں [12]کو جھٹلا ؤ گے ۔[13]{۱۳} انسان کو اُس نے ٹھیکری جیسے سُوکھے سڑے گارے سے بنایا [14]{۱۴} اور جنّ کو آگ کی لپٹ سے پیدا کیا۔ [15]{۱۵} پس اے جنّ وانسؑ ! تم اپنے رَبّ کے کن کن عجائب قدرت [16]کو جھٹلا ؤ گے۔{۱۶} دونوں مشرق اور دونوں مغرب، سب کا مالک وپروردگاو ہی ہے[17]{۱۷} پس اے جنّ وانس! تم اپنے رَبّ کی کن کن قدرتوں[18] کو جھٹلا ؤ گے ؟{۱۸} دو سمندروں کو اس نے چھوڑ دیا کہ باہم مل جائیں {۱۹} پھر بھی ان کے درمیان ایک پردہ حائل ہے جس سے وہ تجاوز نہیں کرتے۔[19]{۲۰} پس اے جنّ وانس! تم اپنے رَبّ کی قدرت کے کن کن کرشموں کو جھٹلا ؤ گے ؟{۲۱} ان سمندروں سے موتی اور مونگے [20]نکلتے ہیں۔[21]{۲۲} پس اے جنّ وانس!تم اپنے رَبّ کی قدرت کے کن کن کمالات کو جھٹلا ؤ گے؟[22]{۲۳} اور یہ جہاز اسی کے ہیں [23]جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح اونچے اُٹھے ہوئے ہیں۔{۲۴} پس اے جنّ وانس ! تم اپنے رَبّ کے کن کن احسانات کو جھٹلا ؤ گے ؟[24]{۲۵} ہر چیز[25] جو اس زمین پر ہے فنا ہوجانے والی ہے۔{۲۶} اور صرف تیرے رَبّ کی جلیل و کریم ذات ہی باقی رہنے والی ہے {۲۷} پس اے جِنّ واِنس! تم اپنے رَبّ کے کن کن کمالات کو جھٹلا ؤ گے ؟ [26]{۲۸} زمین اور آسمانوں میں جو بھی ہیں سب اپنی حاجتیں اسی سے مانگ رہے ہیں۔ہر آن وہ نئی شان میں ہے۔[27] {۲۹} پس اے جنّ وانس ! تم اپنے رَبّ کی کن کن صفات حمیدہ کو جھٹلا ؤ گے؟[28]{۳۰} اے زمین کے بوجھو،[29] عنقریب ، ہم تم سے باز پُرس کرنے کے لیے فارغ ہوئے جاتے ہیں[30]{۳۱} ( پھر دیکھ لیں گے کہ ) تم اپنے رَبّ کے کن کن احسانات کو جُھٹلاتے ہو؟[31]{۳۲} اے گروہ جنّ وانس! اگر تم زمین اور آسمانوں کی سرحد وں سے نکل کر بھاگ سکتے ہو تو بھاگ دیکھو ۔ نہیں بھاگ سکتے۔ اس کے لیے بڑا زور چاہیے ۔[32]{۳۳} اپنے رَبّ کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلا ؤ گے ؟{۳۴} ( بھاگنے کی کوشش کروگے تو ) تم پر آگ کا شعلہ اور دھواں [33]چھوڑ دیا جائے گا جس کا تم مقابلہ نہ کرسکوگے{۳۵} اے جنّ وانس! تم اپنے رَبّ کی کن کن قدرتوں کا انکار کروگے؟{۳۶} پھر (کیا بنے گی اُس وقت ) جب آسمان پھٹے گا اور لال چمڑے کی طرح سرخ ہو جائے گا ؟[34]{۳۷} اے جنّ واِنس! (اُس وقت) تم اپنے رَبّ کی کن کن قدرتوں کو جھٹلا ؤگے؟[35]{۳۸} اُس روز کسی انسان اور کسی جنّ سے اُس کا گناہ پوچھنے کی ضرورت نہ ہوگی [36]{۳۹} پھر (دیکھ لیا جائے گا کہ) تم دونوں گروہ اپنے رَبّ کے کن کن احسانات کا انکار کرتے ہو؟[37]{۴۰} مجرم وہاں اپنے چہروں سے پہچان لئے جائیں گے۔ اور انہیں پیشانی کے بال اور پا ؤں پکڑ پکڑ کر گھسیٹا جائے گا{۴۱} ( اُس وقت ) تم اپنے رَبّ کی کن کن قدرتوں کو جھٹلا ؤ گے ؟ {۴۲} ( اس وقت کہا جائے گا) یہ وہی جہنم ہے جس کو مجرمین جھوٹ قرار دیا کرتے تھے{۴۳} اُسی جہنم اور کھولتے ہوئے پانی کے درمیان وہ گردش کرتے رہیں گے۔[38]{ ۴۴} پھر اپنے رَبّ کی کن کن قدرتوں کو تم جھٹلا ؤ گے ؟[39]{۴۵} اور ہر اس شخص کے لیے جو اپنے رَبّ کے حضور پیش ہونے کا خوف رکھتا ہو،[40] دو باغ ہیں۔[41]{۴۶} اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟[42]{۴۷} ہری بھری ڈالیوں سے بھر پور {۴۸} اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟{۴۹} دونوں باغوں میں دو چشمے رواں{۵۰} اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟{۵۱} دونوں باغوں میں ہر پھل کی دو قسمیں۔ [43]{۵۲} اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟{۵۳} جنتی لوگ ایسے فرشوں پر تکیے لگاکے بیٹھیں گے جن کے استر دبیز ریشم کے ہوں گے ،[44] اور باغوں کی ڈالیاں پھلوں سے جھکی پڑرہی ہوں گی۔ {۵۴} اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟ {۵۵} ان نعمتوں کے درمیان شرمیلی نگاہوں والیاں ہوں گی[45] جنہیں اِن جنتیوں سے پہلے کبھی کسی انسان یا جنّ نے نہ چھوا ہوگا[46] {۵۶} اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟{۵۷} ایسی خوبصورت جیسے ہیرے اور موتی {۵۸} اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟ {۵۹} نیکی کا بدلہ نیکی کے سوا اور کیا ہوسکتا ہے۔[47] {۶۰} پھر اے جنّ واِنس ! اپنے رَبّ کے کن کن اوصاف حمیدہ کا تم انکا رکرو گے؟[48]{۶۱} اوراُن دوباغوں کے علاوہ دو باغ اور ہوں گے۔[49]{ ۶۲} اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟ {۶۳} گھنے سر سبز وشاداب باغ۔[50] {۶۴} اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے؟ {۶۵} دونوں باغوں میں دو چشمے فواروں کی طرح اُبلتے ہوئے۔{۶۶} اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟{۶۷} اُن میں بکثرت پھل اور کھجوریں اور انار (ہوں گے) ۔{۶۸} اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے؟ {۶۹} ان نعمتوں کے درمیان خوب سیرت اور خوبصورت بیویاں (ہوں گی) ۔{۷۰} اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے {۷۱} خیموں میں ٹھہرائی ہوئی حوریں(ہوں گی)۔ [51] {۷۲} اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟{۷۳} ان جنتیوں سے پہلے کبھی کسی انسان یا جن نے اُن کو نہ چھوا ہوگا۔{۷۴} اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟ {۷۵} وہ جنتی سبز قالینوں اور نفیس ونادر فرشوں [52]پر تکیے لگا کے بیٹھیں گے ۔{۷۶} اپنے رَبّ کے کن کن انعامات کو تم جھٹلا ؤ گے ؟{۷۷} بڑی برکت والا ہے تیرے ربّ ِجلیل و کریم کا نام ۔{۷۸}
سورۃ الواقعۃ   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 56 : 1-96 / 96جب وہ ہونے والا واقعہ پیش آجائے گا {۱} توکوئی اُس کے وقوع کو جھٹلانے والا نہ ہوگا۔[1]{۲} وہ تہ وبالاکر دینے والی آفت ہوگی[2] {۳} زمین اُس وقت یکبارگی ہلا ڈالی جائے گی [3]{۴} اور پہاڑ اس طرح ریزہ ریزہ کردئے جائیں گے {۵} کہ پراگندہ غباربن کررہ جائیں گے۔{۶} تم لوگ اس وقت تین گروہوں میں تقسیم ہوجا ؤ گے ۔[4]{۷} دائیں بازو والے ،[5] سودائیں بازو والوں ( کی خوش نصیبی) کا کیا کہنا۔ {۸} اور بائیں بازو والے [6]، توبائیں بازو والوں ( کی بدنصیبی ) کا کیا ٹھکانا۔ {۹} اور آگے والے تو پھر آگے والے ہی ہیں۔ [7]{۱۰} وہی تو مقرب لوگ ہیں{۱۱} نعمت بھری جنتوں میں رہیں گے۔ { ۱۲} اگلوں میں سے بہت ہوں گے {۱۳} اور پچھلوں میں سے کم [8]{۱۴} مُرصَّع تختوں پر{۱۵} تکیے لگائے آمنے سامنے بیٹھیں گے۔{۱۶} اُن کی مجلسوں میں اَبدی لڑکے [9] دوڑتے پھرتے ہوں گے {۱۷} جاری چشمہ سے ستھری شراب کے (کنٹر) جام و ساغر اور آبخورے لیے (پھریں گے) {۱۸} جسے پی کر نہ اُن کا سرچکر ائے گانہ اُن کی عقل میں فتور آئے گا۔[10]{۱۹} اور وہ ان کے سامنے طرح طرح کے لذیذ پھل پیش کریں گے کہ جسے چاہیں چُن لیں {۲۰} اور پرندوں کے گوشت پیش کریں گے کہ جس پرندے کا چاہیں استعمال کریں۔[11]{۲۱} اور ان کے لیے خوبصورت آنکھوں والی حوریں ہوں گی{۲۲} ایسی حسین جیسے چُھپا کر رکھے ہوئے موتی۔[12]{۲۳} یہ سب کچھ اُن اعمال کی جزا کے طور پر انہیں ملے گا جو وہ دنیا میں کرتے رہے تھے۔{ ۲۴} وہاں وہ کوئی بے ہودہ کلام یا گناہ کی بات نہ سنیں گے[13]{۲۵} جو بات بھی ہوگی ٹھیک ٹھیک ہوگی۔[14]{۲۶} اور دائیں بازو والے ، دائیں بازووالوں( کی خوش نصیبی) کاکیا کہنا{۲۷} وہ بے خار بیریوںمیں ہوں گے[15] {۲۸} اور تہ بہ تہ چڑھے ہوئے کیلوں{۲۹} اور دور تک پھیلی ہوئی چھا ؤں{۳۰} اور ہردم رواں پانی {۳۱} (اور) بہ کثرت پھلوں [16]میں{۳۲} جو نہ کبھی ختم ہونے والے ہیں بلکہ بے روک ٹوک ملنے والے ہیں {۳۳} اور اُونچی نشست گاہوں (میں ہوں گے)۔ {۳۴} اُن کی بیویوں کو ہم خاص طور پر نئے سرے سے پیدا کریں گے {۳۵} اور اُنہیں باکرہ بنا دیں گے [17]{۳۶} اپنے شوہروں کی عاشق[18] اور عمر میں ہم سن۔[19]{۳۷} یہ کچھ دائیں بازو والوں کے لیے ہے۔{۳۸} وہ اگلوں میں سے بھی بہت ہوں گے{۳۹} اور پچھلوں میں سے بھی بہت۔ {۴۰} اور بائیں بازو والے ، بائیں بازو والوں ( کی بدنصیبی ) کا کیا پوچھنا {۴۱} وہ لُو کی لپٹ اور کھولتے ہوئے پانی میں ہوں گے {۴۲} اور کالے دھوئیں کے سائے (میں ہوں گے){۴۳} جو نہ ٹھنڈ اہوگا نہ آرام دہ {۴۴} یہ وہ لوگ ہوں گے جو اس انجام کو پہنچنے سے پہلے خوشحال تھے {۴۵} اور گناہ عظیم پراصرار کرتے تھے ۔[20]{۴۶} اور وہ کہتے تھے ’’کیا جب ہم مرکر خاک ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجررہ جائیں گے تو پھر اٹھاکھڑے کئے جائیں گے ؟ {۴۷} اور کیا ہمارے باپ دادا بھی اُٹھائے جائیں گے جو پہلے گزر چکے ہیں؟ ‘‘{۴۸} اے نبی ؐ! ان لوگوں سے کہو، یقینا اگلے اور پچھلے {۴۹} سب ایک دن ضرور جمع کئے جانے والے ہیں جس کا وقت مقرر کیا جاچکا ہے۔ {۵۰} پھر اے گمراہواور جھٹلانے والو!{۵۱} تم زَقّوم کے درخت [21]کی غذا کھانے والے ہو{ ۵۲} اُسی سے تم پیٹ بھرو گے{ ۵۳} اور اُوپر سے کھولتا ہوا پانی پیو گے{ ۵۴} تَونس لگے ہوئے اونٹ کی طرح (پیوگے){۵۵} یہ ہے ( ان بائیں بازو والوں ) کی ضیافت کا سامان روز جزا میں ۔[22]{۵۶} ہم نے تمہیں پیدا کیا ہے پھر کیوں تصدیق نہیں کرتے؟[23] {۵۷} کبھی تم نے غور کیا ،یہ نطفہ جو تم ڈالتے ہو {۵۸} اس سے بچہ تم بناتے ہو یا اُس کے بنانے والے ہم ہیں ؟[24]{۵۹} ہم نے تمہارے درمیان موت کو تقسیم کیا ہے ، [25]اور ہم اس سے عاجز نہیں ہیں{۶۰} کہ تمہاری شکلیں بدل دیں اور کسی ایسی شکل میں تمہیں پیدا کردیں جس کو تم نہیں جانتے ۔[26]{۶۱} اپنی پہلی پیدائش کو تو تم جانتے ہی ہو ،پھر کیوں سبق نہیں لیتے ؟[27]{۶۲} کبھی تم نے سوچا ، یہ بیج جو تم بوتے ہو { ۶۳} اِن سے کھیتیاں تم اُگاتے ہو یا اُن کے اُگانے والے ہم ہیں ؟[28]{۶۴} ہم چاہیں تو ان کھیتیوں کو بُھس بناکر رکھ دیں اور تم طرح طرح کی باتیں بناتے رہ جا ؤ {۶۵} کہ ہم پر تو اُلٹی چَٹی(تاوان)پڑگئی {۶۶} بلکہ ہمارے تو نصیب ہی پھوٹے ہوئے ہیں۔{۶۷} کبھی تم نے آنکھیں کھول کردیکھا ، یہ پانی جو تم پیتے ہو{۶۸} اسے تم نے بادل سے برسایا ہے یا اس کے برسانے والے ہم ہیں ؟ [29]{۶۹} ہم چاہیں تو اسے سخت کھاری بناکر رکھ دیں ، [30]پھرکیوں تم شکر گزار نہیں ہوتے ؟ [31]{۷۰} کبھی تم نے خیال کیا ، یہ آگ جو تم سُلگاتے ہو {۷۱} اس کا درخت [32]تم نے پیدا کیا ہے ، یا اس کے پیدا کرنے والے ہم ہیں؟۵ { ۲ ۷} ہم نے اُس کو یاد دہانی کا ذریعہ [33]اور حاجت مندوں کے لیے [34]سامان زیست بنایا ہے { ۷۳} پس اے نبی ؐ! اپنے رَبّ عظیم کے نام کی تسبیح کرو۔[35] {۷۴} پس [36]نہیں میں قسم کھاتاہوں تاروں کے مواقع کی {۷۵} اور اگر تم سمجھو تو یہ بہت بڑی قسم ہے {۷۶} کہ یہ ایک بلند پا یہ قرآن ہے[37]{۷۷} ایک محفوظ کتاب میں ثبت[38]{۷۸} جسے مطہرین کے سوا کوئی چُھو نہیں سکتا۔[39] {۷۹} یہ ربَّ العالمین کا نازل کردہ ہے {۸۰} پھر کیا اس کلام کے ساتھ تم بے اعتنائی برتتے ہو[40] {۸۱} اور اس نعمت میں اپنا حصہ تم نے یہ رکھا ہے کہ اسے جھٹلاتے ہو؟[41]{۸۲} پھر کیوں نہیں ( تم روح کو پھیر لیتے )،جب مرنے والوں کی جان حلق تک پہنچ چکی ہوتی ہے {۸۳} اور تم اس وقت آنکھوں دیکھ رہے ہوتے ہو کہ وہ مررہاہے { ۸۴} اور اُس وقت تمہاری بہ نسبت ہم اس کے قریب ہوتے ہیں مگر تم کو نظر نہیں آتے ،{۸۵} اگر تم کسی کے محکوم نہیں ہو ؟{۸۶} توپھر کیوں نہیں تم واپس لے آتے (اس نکلتی ہوئی جان کو) اگر تم اپنے اس خیال میں سچے ہو۔{۸۷} پھر وہ مرنے والا اگر مقربین میں سے ہو{۸۸} تواس کے لیے راحت اور عمدہ رزق اور نعمت بھری جنت ہے{۸۹} اور اگر وہ اصحا بِ یمین میں سے ہو{۹۰} تو اس کا استقبال یوں ہوتا ہے کہ سلام ہے تجھے ، تو اصحاب الیمین میں سے ہے ۔{۹۱} اور اگر وہ جُھٹلانے والے گمراہ لوگوں میں سے ہو{۹۲} تواس کی تواضع کے لیے کھولتا ہوا پانی ہے {۹۳} اور جہنم میں جھونکا جانا ۔{۹۴} یہ سب کچھ قطعی حق ہے {۹۵} پس اے نبی ؐ! اپنے ربِّ عظیم کے نام کی تسبیح کرو ۔[42]{۹۶}
سورۃ الحدید   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 57 : 1-29 / 29اللہ کی تسبیح کی ہے ہراُس چیز نے جو زمین اور آسمانوں میں ہے[1] ، اور وہی زبردست اور دانا ہے۔[2]{۱} زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک وہی ہے ، زندگی بخشتا ہے اور موت دیتا ہے ، اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ { ۲} وہی اول بھی ہے اور آخر بھی ، اور ظاہر بھی ہے اور مخفی بھی،[3] اور وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔{ ۳} وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا اور پھر عرش پر جلوہ فرماہوا ۔[4] اُس کے علم میں ہے جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اُس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اُتر تا ہے اور جو کچھ اس میں چڑھتا ہے[5] وہ تمہارے ساتھ ہے جہاں بھی تم ہو۔[6]جو کام بھی تم کرتے ہو اُسے وہ دیکھ رہا ہے۔{ ۴} وہی زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے اور تمام معاملات فیصلے کے لیے اُسی کی طرف رجوع کئے جاتے ہیں {۵} وہی رات کو دن میں اور دن کو رات میں داخل کرتا ہے ، اور دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔ {۶} ایمان لا ؤ اللہ اور اس کے رسول پر[7] اور خرچ کرو[8] ان چیزوں میں سے جن پر اس نے تم کو خلیفہ بنایا ہے [9]جو لوگ تم میں سے ایمان لائیں گے اور مال خرچ کریں گے[10] ان کے لیے بڑا اجر ہے۔{۷} تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ تم اللہ پر ایمان نہیں لاتے حالاں کہ رسول ؐتمہیں اپنے رَبّ پر ایمان لانے کی دعوت دے رہا ہے[11]اور وہ تم سے عہد لے چکا ہے [12] اگر تم واقعی ماننے والے ہو ۔{۸} وہ اللہ ہی ہے جو اپنے بندے پر صاف صاف آیتیں نازل کررہا ہے تا کہ تمہیں تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لے آئے اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تم پر نہایت شفیق اور مہربان ہے ۔{۹} آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں خرچ نہیں کرتے حالاں کہ زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے۔ [13]تم میں سے جو لوگ فتح کے بعد خرچ اور جہاد کریں گے وہ کبھی اُن لوگوں کے برابر نہیں ہوسکتے جنہوں نے فتح سے پہلے خرچ اور جہاد کیا ہے ۔ ان کا درجہ بعد میں خرچ اور جہاد کرنے والوں سے بڑھ کرہے اگر چہ اللہ نے دونوں ہی سے اچھے وعدے فرمائے ہیں۔[14] جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبر ہے۔[15] {۱۰} کون ہے جو اللہ کو قرض دے ؟ اچھا قرض ، تا کہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا کر واپس دے اور اُس کے لیے بہترین اجر ہے۔[16] {۱۱} اُس دن جبکہ تم مومن مردوں اور عورتوں کو دیکھو گے کہ اُن کانوراُن کے آگے آگے اور ان کے دائیں جانب دوڑ رہا ہوگا[17] ( ان سے کہا جائے گا کہ ) ’’آج بشارت ہے تمہارے لئے ‘‘ ۔جنتیں ہوں گی جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، یہی ہے بڑی کامیابی۔{ ۱۲} اُس روز منافق مردوں اور عورتوں کا حال یہ ہوگا کہ وہ مومنوں سے کہیں گے ’’ ذرا ہماری طرف دیکھو تا کہ ہم تمہارے نور سے کچھ فائدہ اٹھائیں ‘‘۔[18]مگر اُن سے کہا جائے گا ’’ پیچھے ہٹ جا ؤ ، اپنا نور کہیں اور تلاش کرو ‘‘ ۔ پھرا ن کے درمیان ایک دیوار حائل کردی جائے گی جس میں ایک دروازہ ہوگا ۔ اُس دروازے کے اندر رحمت ہوگی اور باہر عذاب[19] {۱۳} وہ مومنوں سے پکار پکار کرکہیں گے ’’کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟‘‘[20] مومن جواب دیں گے ’’ہاں ، مگر تم نے اپنے آپ کو خود فتنے میں ڈالا ،[21] موقع پرستی کی ،[22] شک میں پڑے رہے ، [23]اور جُھوٹی توقعات تمہیں فریب دیتی رہیں ،[24] یہاں تک کہ اللہ کا فیصلہ آگیا ، اور آخر وقت تک وہ بڑا دھوکے باز [25] ( شیطان ) تمہیں اللہ کے معاملے میں دھوکا دیتا رہا{۱۴} لہٰذا آج نہ تم سے کوئی فدیہ قبول کیا جائے گا اور نہ ان لوگوں سے جنہوں نے کُھلا کُھلا کُفر کیا تھا۔[26] تمہارا ٹھکانا جہنّم ہے ، وہی تمہاری خبر گیری کرنے والی ہے[27] اور یہ بدترین انجام ہے ‘‘۔ {۱۵} کیا ایمان لانے والوں کے لیے ابھی وہ وقت نہیں آیا کہ اُ ن کے دل اللہ کے ذکر سے پگھلیں اور اُس کے ناز ل کردہ حق کے آگے جھکیں [28]اور وہ اُن لوگوں کی طرح نہ ہو جائیں جنہیں پہلے کتاب دی گئی تھی ، پھر ایک لمبی مدّت ان پر گزرگئی تو اُن کے دل سخت ہوگئے اور آج ان میں سے اکثر فاسق بنے ہوئے ہیں ؟ [29]{۱۶} خوب جان لو کہ اللہ زمین کو اس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے، ہم نے نشانیاں تم کو صاف صاف دکھادی ہیں ، شاید کہ تم عقل سے کام لو۔[30]{۱۷} مردوں اور عورتوں میں سے جولوگ صدقات[31] دینے والے ہیں اور جنہوں نے اللہ کو قرضِ حَسن دیا ہے، اُن کو یقینا کئی گنابڑھا کردیا جائیگا اور اُن کے لیے بہترین اجر ہے۔ {۱۸} اور جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لائے ہیں[32] وہی اپنے رَبّ کے نزدیک صدیق [33] اور شہید [34]ہیں ، اُن کے لیے اُن کا اجر اور اُن کا نور ہے[35] اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو جھٹلایا ہے وہ دوزخی ہیں۔{۱۹} خوب جان لو کہ یہ دنیا کی زندگی اس کے سوا کچھ نہیں کہ ایک کھیل اور دل لگی اور ظاہری ٹیپ ٹاپ اور تمہارا آپس میں ایک دوسرے پر فخر جتا نا اور مال واولاد میں ایک دوسرے سے بڑھ جانے کی کوشش کرنا ہے۔ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک بارش ہوگئی تو اُس سے پیدا ہونے والی نباتات کو دیکھ کر کاشت کا ر خوش ہوگئے۔ پھر وہی کھیتی پک جاتی ہے اور تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد ہوگئی ۔پھر وہ بُھس بن کررہ جاتی ہے۔ اس کے برعکس آخرت وہ جگہ ہے جہاں سخت عذاب ہے اور اللہ کی مغفرت اور اس کی خوشنودی ہے۔ دنیا کی زندگی ایک دھوکے کی ٹٹی کے سوا کچھ نہیں۔ [36]{۲۰} دوڑ و اور ایک دوسرے سے آگے بڑھنے کی کوشش کرو[37] اپنے رَبّ کی مغفرت اور اس جنت کی طرف جس کی وسعت آسمان و زمین جیسی ہے ،[38] جو مہیا کی گئی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ اور اس کے رسولوںؑ پر ایمان لائے ہوں ۔ یہ اللہ کا فضل ہے ، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے، اور اللہ بڑے فضل والا ہے ۔{۲۱} کوئی مصیبت ایسی نہیں ہے جو زمین میں یا تمہارے اپنے نفس پر نازل ہوتی ہو اور ہم نے اس کو پیدا کرنے سے پہلے[39] ایک کتاب ( یعنی نوشتۂ تقدیر ) میں لکھ نہ رکھاہو ۔[40] ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان کام ہے ۔[41]{۲۲} (یہ سب کچھ اس لیے ہے ) تا کہ جو کچھ بھی نقصان تمہیں ہو اس پر تم دل شکستہ نہ ہو اور جو کچھ اللہ تمہیں عطافرمائے اس پر پھُول نہ جا ؤ۔[42]اللہ ایسے لوگوں کو پسند نہیں کرتا جو اپنے آپ کو بڑی چیز سمجھتے ہیں اور فخر جتاتے ہیں {۲۳} جو خود بخل کرتے ہیں اور دُوسروں کو بُخل کرنے پر اکساتے ہیں۔[43] اب اگر کوئی روگردانی کرتا ہے تو اللہ بے نیاز اور ستودہ صفات ہے۔[44]{۲۴} ہم نے اپنے رسولوں کو صاف صاف نشانیوں اور ہدایات کے ساتھ بھیجا ، اور ان کے ساتھ کتاب اور میزان نازل کی تا کہ لوگ انصاف پر قائم ہوں۔[45] اور لوہا اُتارا جس میں بڑا زور ہے اور لوگوں کے لیے منافع ہیں [46] یہ اس لیے کیا گیا ہے کہ اللہ کو معلوم ہوجائے کہ کون اُس کودیکھے بغیراُس کی اور اُس کے رسولوں کی مدد کرتا ہے۔ یقینا اللہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔[47]{۲۵} ہم [48]نے نوحؑ اور ابراہیم ؑ کو بھیجا اور ان دونوں کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی ۔ [49]پھر اُن کی اولاد میں سے کسی نے ہدایت اختیار کی اور بہت سے فاسق ہوگئے۔[50]{۲۶} اُن کے بعد ہم نے پے درپے اپنے رسو ل بھیجے ، اور ان سب کے بعد عیسیٰؑ بن مریم کو مبعوث کیا اور اس کو انجیل عطا کی ، اور جن لوگوں نے اس کی پیروی اختیار کی ان کے دلوں میں ہم نے ترس اور رحم ڈال دیا،[51] اور رہبانیت [52]انہوں نے خود ایجاد کرلی ، ہم نے اُسے اُن پر فرض نہیں کیا تھا ، مگر اللہ کی خوشنودی کی طلب میں انہوں نے آپ ہی یہ بدعت نکالی [53]اور پھر اس کی پابندی کرنے کا جو حق تھا اسے ادا نہ کیا۔[54] ان میں سے جو لوگ ایمان لائے ہوئے تھے ان کا اجرہم نے ان کو عطا کیا ،مگر ان میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں۔ {۲۷} اے لوگوجو ایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرو اور اس کے رسول ( ؐ ) پر ایمان لا ؤ ،[55] اللہ تمہیں اپنی رحمت کا دُہراحصہ عطا فرمائے گا اور تمہیں وہ نور بخشے گا جس کی روشنی میں تم چلو گے ،[56] اور تمہارے قصور معاف کردے گا ،[57] اللہ بڑا معاف کرنے والا اور مہربان ہے۔{۲۸} (تم کو یہ روش اختیار کرنی چاہئے ) تا کہ اہل کتاب کو معلوم ہوجائے کہ اللہ کے فضل پر ان کا کوئی اجارہ نہیں ہے ۔اور یہ کہ اللہ کا فضل اس کے اپنے ہی ہاتھ میں ہے ، جسے چاہتا ہے عطا فرماتا ہے ، اور وہ بڑے فضل والا ہے۔{۲۹}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)