سورۃ الذٰریٰت   -  51 : 31-60 / 60( ابراہیم ؑ نے )کہا ، ’’ اے فرستادگان الہٰی ! کیا مُہم آپ کو درپیش ہے؟ ‘‘[30]{۳۱} انہوں نے کہا ’’ ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں[31] {۳۲} تاکہ اس پرپکی ہوئی مٹی کے پتھر برسادیں {۳۳} جو آپ کے رَبّ کے ہاں حد سے گزرجانے والوں کے لیے نشان زدہ ہیں‘‘۔ [32]{۳۴} پھر [33]ہم نے اُن سب لوگوں کو نکال لیا جو اُس بستی میں مومن تھے {۳۵} اور وہاں ہم نے ایک گھر کے سوا مسلمانوں کا کوئی گھرنہ پایا[34]{۳۶} اِس کے بعد ہم نے وہاں بس ایک نشانی اُن لوگوں کے لیے چھوڑ دی جو درد ناک عذاب سے ڈرتے ہوں۔[35] {۳۷} اور (تمہارے لئے نشانی ہے )موسیٰ ؑ کے قصے میں ، جب ہم نے اُسے صریح سند کے ساتھ فرعون کے پاس بھیجا [36] {۳۸} تو وہ اپنے بل بوتے پر اکڑ گیا اور بولا یہ جادو گر ہے یا مجنون ہے۔[37]{۳۹} آخر کار ہم نے اُسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سب کو سمندر میں پھینک دیا اور وہ ملامت زدہ ہو کر رہ گیا۔[38]{۴۰} اور (تمہارے لئے نشانی ہے ) عاد میں ، جب کہ ہم نے ان پر ایک ایسی بے خیر ہوا بھیج دی{۴۱} کہ جس چیز پر بھی وہ گزر گئی اسے بوسیدہ کرکے رکھ دیا۔[39]{۴۲} اور ( تمہارے لئے نشانی ہے ) ثمود میں، جب اُن سے کہا گیا تھا کہ ایک خاص وقت تک مزے کر لو[40]{۴۳} مگر اس تنبیہ پر بھی انہوں نے اپنے رَبّ کے حکم سے سرتابی کی۔ آخر کار اُن کے دیکھتے دیکھتے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب [41]نے اُن کو آلیا {۴۴} پھر نہ اُن میں اُٹھنے کی سکت تھی اور نہ وہ اپنا بچا ؤ کرسکتے تھے۔[42] {۴۵} اور اِن سب سے پہلے ہم نے نوح ؑکی قوم کو ہلاک کیا کیونکہ وہ فاسق لوگ تھے ۔{۴۶} آسمان [43]کو ہم نے اپنے زور سے بنایا ہے اور ہم اِس کی قدرت رکھتے ہیں ۔ [44]{۴۷} زمین کو ہم نے بچھایا ہے اور ہم بڑے اچھے ہموار کرنے والے ہیں[45]{۴۸} اور ہرچیز کے ہم نے جوڑے بنائے ہیں [46] شاید کہ تم اِس سے سبق لو۔ [47]{۴۹} پس دوڑواللہ کی طرف ،میں تمہارے لئے اس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں۔ {۵۰} اور نہ بنا ؤ اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود ، میں تمہارے لئے اُس کی طرف سے صاف صاف خبردار کرنے والا ہوں ۔[48]{۵۱} یونہی ہوتا رہا ہے ، اِن سے پہلے کی قوموں کے پاس بھی کوئی رسول ؑ ایسا نہیں آیا جسے اُنہوں نے یہ نہ کہا ہو کہ یہ ساحر ہے یا مجنون۔[49]{۵۲} کیا اِن سب نے آپس میں اِس پر کوئی سمجھوتہ کرلیا ہے ؟ نہیں ، بلکہ یہ سب سرکش لوگ ہیں۔ [50]{۵۳} پس اے نبی ؐ!اِن سے رُخ پھیرلو ، تم پر کچھ ملامت نہیں[51] {۵۴} البتہ نصیحت کرتے رہو ، کیوں کہ نصیحت ایمان لانے والوں کے لیے نافع ہے۔[52]{۵۵} میں نے جن اور انسانوں کو اس کے سوا کسی کام کے لیے پیدا نہیں کیا ہے کہ وہ میری بندگی کریں۔ [53]{۵۶} میں اُن سے کوئی رزق نہیں چاہتا اور نہ یہ چاہتا ہوں کہ وہ مجھے کھلائیں ۔[54]{۵۷} اللہ تو خود ہی رزّاق ہے ، بڑی قوت والا اور زبردست ۔[55]{۵۸} پس جن لوگوں نے ظلم کیا ہے[56] اُن کے حصے کا بھی ویسا ہی عذاب تیار ہے جیسا انہی جیسے لوگوں کو اُن کے حصے کامل چکا ہے ، اس کے لیے یہ لوگ مجھ سے جلدی نہ مچائیں۔[57]{۵۹} آخر کو تباہی ہے کفر کرنے والوں کے لیے اُس روز جس کا انہیں خوف دلا یا جارہا ہے۔{۶۰}
سورۃ الطور   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 52 : 1-49 / 49قسم ہے طُور کی[1] {۱} اور ایک ایسی کتاب کی جو لکھی ہوئی ہے { ۲} کھلی اوررقیق ِجلد میں[2]{۳} اور آباد گھر کی [3]{۴} اور اونچی چھت کی[4] {۵} اور مَوجزن سمندر کی[5]{۶} کہ تیرے رَبّ کا عذاب ضرور واقع ہونے والا ہے{۷} جسے کوئی دفع کرنے والا نہیں۔ [6]{۸} وہ اُس روز واقع ہوگا جب آسمان بُری طرح ڈگمگائے گا[7] {۹} اور پہاڑ اُڑے اُڑے پھریں گے[8] {۱۰} تباہی ہے اُس روز اُن جھٹلانے والوں کے لیے {۱۱} جو آج کھیل کے طور پر اپنی حجت بازیوں میں لگے ہوئے ہیں۔ [9]{۱۲} جس دن انہیں دھکے مار مار کرنا رِجہنم کی طرف لے چلا جائے گا{۱۳} (اُس وقت اُن سے کہا جائے گا کہ)’’یہ وہی آگ ہے جسے تم جھٹلا یا کرتے تھے۔{۱۴} اب بتا ؤ ، یہ جادُو ہے یا تمہیں سُوجھ نہیں رہا ہے ؟[10]{۱۵} جا ؤ اب جُھلسو اِس کے اندر ، تم خواہ صبر کرو یا نہ کرو ، تمہارے لئے یکساں ہے ، تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جارہا ہے جیسے تم عمل کررہے تھے‘‘۔{۱۶} متقی لوگ [11]وہاں باغوں اور نعمتوں میں ہوں گے {۱۷} لُطف لے رہے ہونگے اُن چیزوں سے جو اُن کا رَبّ اُنہیں دے گا ،اور ان کا رَبّ اُنہیں دُوزخ کے عذاب سے بچالے گا۔ [12]{۱۸} ( ان سے کہا جائے گا ) کھا ؤ اور پیومزے سے[13] اپنے اُن اعمال کے صلے میں جو تم کرتے رہے ہو۔{۱۹} وہ آمنے سامنے بچھے ہوئے تختوں پر تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے اور ہم خوبصورت آنکھوں والی حوریں اُن سے بیاہ دیں گے[14] {۲۰} جو لوگ ایمان لائے ہیں اور اُن کی اولاد بھی کسی درجۂ ایمان میں اُن کے نقش قدم پر چلی ہے ان کی اُس اولاد کو بھی ہم ( جنّت میں) اُن کے ساتھ ملادیں گے اور ان کے عمل میں کوئی گھا ٹا اُن کو نہ دیں گے ۔ [15]ہر شخص اپنے کسب کے عوض رہن ہے ۔[16]{۲۱} ہم ان کو ہر طرح کے پھل اور گوشت ،[17] جس چیز کو بھی اُن کا جی چاہے گا ، خوب دیے چلے جائیں گے۔ {۲۲} وہ ایک دُوسرے سے جامِ شراب لپک لپک کرلے رہے ہوں گے ، جس میں نہ یاوہ گوئی ہوگی نہ بدکرداری۔[18] {۲۳} اوراُن کی خدمت میں وہ لڑکے دوڑتے پھر رہے ہوں گے جو اُنہی (کی خدمت ) کے لیے مخصوص ہوں گے ،[19] ایسے خوبصورت جیسے چُھپا کررکھے ہوئے موتی ۔{۲۴} یہ لوگ آپس میں ایک دوسرے سے ( دنیا میں گزرے ہوئے ) حالات پوچھیں گے۔ {۲۵} یہ کہیں گے کہ ہم پہلے اپنے گھروالوں میں ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے تھے [20] {۲۶} آخر کار اللہ نے ہم پر فضل فرمایا اور ہمیں جُھلسا دینے والی ہوا [21]کے عذاب سے بچالیا۔{۲۷} ہم پچھلی زندگی میں اُسی سے دعائیں مانگتے تھے ، وہ واقعی بڑاہی محسن اور رحیم ہے ۔{۲۸} پس اے نبی ؐ! تم نصیحت کئے جا ؤ ، اپنے رَبّ کے فضل سے نہ تم کا ہن ہو اور نہ مجنون۔{۲۹} کیا [22]یہ لوگ کہتے ہیں کہ یہ شخص شاعر ہے جس کے حق میں ہم گردشِ ا یاّم کا انتظار کررہے ہیں ؟[23]{۳۰} اِن سے کہو اچھا ، انتظار کرو ، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتا ہو ں۔[24]{۳۱} کیا اِن کی عقلیں انہیں ایسی ہی باتیں کرنے کے لیے کہتی ہیں ؟ یا درحقیقت یہ عِناد میں حد سے گزرے ہوئے لوگ ہیں ؟ [25] {۳۲} کیا یہ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے یہ قرآن خود گھڑلیا ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ ایمان نہیں لانا چاہتے۔[26] {۳۳} اگر یہ اپنے اِس قول میں سچے ہیں تو اسی شان کا ایک کلام بنالائیں[27]{۳۴} کیا یہ کسی خالق کے بغیر خود پیدا ہوگئے ہیں ؟ یا یہ خود اپنے خالق ہیں ۔{۳۵} یا زمین اور آسمانوں کو انہوں نے پیدا کیا ہے ؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ یقین نہیں رکھتے [28]{۳۶} کیا تیرے رَبّ کے خزانے اِن کے قبضے میں ہیں؟ یا اُن پر اِنہی کا حکم چلتا ہے؟ [29]{۳۷} کیا ان کے پاس کوئی سیڑھی ہے جس پر چڑھ کر یہ عالم ِبالا کی سُن گن لیتے ہیں ؟ اِن میں سے جس نے سُن گُن لی ہو وہ لائے کو ئی کھلی دلیل ۔{۳۸} کیا اللہ کے لیے تو ہیں بیٹیاں اور تم لوگوں کے لیے ہیں بیٹے ؟ [30] {۳۹} کیا تم اِن سے کوئی اجر مانگتے ہو کہ یہ زبردستی پڑی ہوئی چٹّی(تاوان) کے بوجھ تلے دبے جاتے ہیں ؟[31]{۴۰} کیا اِن کے پاس غیب کے حقائق کا علم ہے کہ اُس کی بنا پر یہ لکھ رہے ہوں ؟[32] {۴۱} کیا یہ کوئی چال چلنا چاہتے ہیں؟ [33]اگر یہ بات ہے تو کفر کرنے والوں پر ان کی چال اُلٹی ہی پڑے گی۔[34]{۴۲} کیا اللہ کے سوا یہ کوئی اور معبود رکھتے ہیں ؟ اللہ پاک ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کررہے ہیں[35] {۴۳} یہ لوگ آسمان کے ٹکڑے بھی گرتے ہوئے دیکھ لیں تو کہیں گے یہ بادل ہیں جو امڈے چلے آرہے ہیں[36]{۴۴} پس اَے نبی ؐ! اِنہیں اِن کے حال پر چھوڑ دو یہاں تک کہ یہ اپنے اُس دن کو پہنچ جائیں جس میں یہ مار گرائے جائیں گے ۔{۴۵} جس دن نہ ان کی اپنی کوئی چال ان کے کسی کام آئے گی نہ کوئی ان کی مدد کو آئے گا۔{۴۶} اور اُس وقت کے آنے سے پہلے بھی ظالموں کے لیے ایک عذاب ہے ، مگر ان میں سے اکثر جانتے نہیں ہیں۔[37]{۴۷} اے نبی ؐ! اپنے رَبّ کا فیصلہ آنے تک صبرکرو،[38] تم ہماری نگاہ میں ہو ۔[39] تم جب اُٹھو تو اپنے رَ بّ کی حمد کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو[40]{۴۸} رات کو بھی اس کی تسبیح کیا کرو [41]اور ستارے جب پلٹتے ہیں اُس وقت بھی ۔{۴۹}
سورۃ النجم   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 53 : 1-62 / 62قسم ہے تارے کی[1] جب کہ وہ غروب ہوا {۱} تمہارا رفیق نہ بھٹکاہے[2] نہ بہکا ہے ۔[3]{۲} وہ اپنی خواہش نفس سے نہیں بولتا {۳} یہ تو ایک وحی ہے جو اس پر نازل کی جاتی ہے۔[4]{۴} اُسے زبردست قوت والے نے تعلیم دی ہے [5]{۵} (وہ فرشتہ)جو بڑا صاحب حکمت ہے۔ [6]وہ سامنے آکھڑا ہوا {۶} جبکہ وہ بالائی اُفق پر تھا [7]{۷} پھر قریب آیا اور اوپر معلّق ہوگیا{۸} یہاں تک کہ دوکمانوں کے برابر یا اس سے کچھ کم فاصلہ رہ گیا[8]{۹} تب اس نے اس ا للہ کے بندے کو وحی پہنچائی جو و حی بھی اُسے پہنچانی تھی[9]{۱۰} نظر نے جو کچھ دیکھا ، دل نے اُس میں جھوٹ نہ ملایا۔[10] {۱۱} اب کیا تم اُس چیز پر اس سے جھگڑتے ہو جسے وہ آنکھوں سے دیکھتا ہے ؟{۱۲} اور ایک مرتبہ پھر اُس نے اُس کو اُترتے دیکھا{۱۳} سدرۃ المنتہی کے پاس {۱۴} جہاں پاس ہی جنّت الماویٰ ہے۔[11]{۱۵} اس وقت سدرہ پر چھا رہا تھا [12]جو کچھ کہ چھارہا تھا۔ {۱۶} نگاہ نہ چندھیائی نہ حد سے متجاوز ہوئی [13]{۱۷} اور اس نے اپنے رَبّ کی بڑی بڑی نشانیاں دیکھیں۔[14] {۱۸} اب ذرا بتا ؤ ، تم نے کبھی اس لات ، اور اس عزیٰ(کو بھی دیکھاہے){۱۹} اور تیسری ایک دیوی منات کی حقیقت پر کچھ غور بھی کیا ہے؟[15] {۲۰} کیا بیٹے تمہارے لئے ہیں اور بیٹیاں اللہ کے لیے۔[16] {۲۱} یہ تو پھر بڑی دھاندلی کی تقسیم ہوئی !{۲۲} دراصل یہ کچھ نہیں ہیں مگر بس چند نام جو تم نے اور تمہارے باپ دادا نے رکھ لئے ہیں ، اللہ نے اِن کے لیے کوئی سند نازل نہیں کی۔ [17]حقیقت یہ ہے کہ لوگ محض وہم وگمان کی پیروی کررہے ہیں اور خواہشاتِ نفس کے مرید بنے ہوئے ہیں۔[18]حالاں کہ ان کے رَبّ کی طرف سے ان کے پاس ہدایت آچکی ہے۔[19]{۲۳} کیا انسان جو کچھ چاہے اس کے لیے وہی حق ہے؟[20] {۲۴} دنیا اور آخرت کا مالک تو اللہ ہی ہے۔{۲۵} آسمانو ںمیں کتنے ہی فرشتے موجود ہیں ، اُن کی شفاعت کچھ بھی کام نہیں آسکتی جب تک کہ اللہ کسی ایسےشخص کے حق میں اُس کی اجازت نہ دے جس کے لیے وہ کوئی عرض داشت سننا چاہے اور اُس کو پسند کرے۔[21]{۲۶} مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ فرشتوں کو دیویوں کے ناموں سے موسوم کرتے ہیں[22] {۲۷} حالانکہ اس معاملے کا کوئی علم اُنہیں حاصل نہیں ہے ، وہ محض گمان کی پیروی کررہے ہیں ،[23]اور گمان حق کی جگہ کچھ بھی کام نہیں دے سکتا {۲۸} پس اے نبی ؐ!جو شخص ہمارے ذکر سے منہ پھیرتا ہے ،[24] اور دنیا کی زندگی کے سواجسے کچھ مطلوب نہیں ہے ، اُسے اُس کے حال پر چھوڑ دو۔[25]{۲۹} اِن[26] لوگوں کا مبلغ علم بس یہی کچھ ہے ، [27]یہ بات تیرا رَبّ ہی زیادہ جانتا ہے کہ اس کے راستے سے کون بھٹک گیا ہے اور کون سیدھے راستے پر ہے۔ {۳۰} اور زمین اور آسمانو ںکی ہرچیز کا مالک اللہ ہی ہے[28] تا کہ [29] اللہ بُرائی کرنے والوں کو ان کے عمل کا بدلہ دے اور اُن لوگوں کو اچھی جزا سے نوازے جنہوں نے نیک رویہ اختیار کیا ہے {۳۱} جو بڑے بڑے گناہوں[30] اور کھلے کھلے قبیح افعال [31]سے پرہیز کرتے ہیں، اِلاّ یہ کہ کچھ قصور اُن سے سرزدہوجائے۔[32] بلاشبہ تیرے رَبّ کا دامن ِمغفرت بہت وسیع ہے۔[33] وہ تمہیں اس وقت سے خوب جانتا ہے جب اُس نے زمین سے تمہیں پیدا کیا اورجب تم اپنی ما ؤں کے پیٹوں میں ابھی جنین ہی تھے۔ پس اپنے نفس کی پاکی کے دعوے نہ کرو ، وہی بہتر جانتا ہے کہ واقعی متقی کون ہے؟{۳۲} پھر اے نبی ؐ! تم نے اُس شخص کو بھی دیکھا جو راہ حق سے پھر گیا ؟{۳۳} اور تھوڑا سادے کررک گیا [34]{۳۴} کیا اس کے پاس غیب کا علم ہے کہ وہ حقیقت کو دیکھ رہا ہے ؟ [35]{۳۵} کیا اُسے اُن باتوں کی کوئی خبر نہیں پہنچی جو موسیٰ ؑکے صحیفوں میں بیان ہوئی ہے؟{۳۶} اور اُس ابراہیم ؑ (کے صحیفوں میں)جس نے وفا کا حق ادا کردیا؟ [36]{۳۷} ’’ یہ کہ کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہیں اٹھائے گا [37] {۳۸} اور یہ کہ انسان کے لیے کچھ نہیں ہے مگر وہ جس کی اُس نے سعی کی ہے [38]{۳۹} اور یہ کہ اُس کی سعی عنقریب دیکھی جائے گی[39]{۴۰} پھر اس کی پُوری جزا اُسے دی جائے گی{۴۱} اور یہ کہ آخر کار پہنچنا تیرے رَبّ ہی کے پاس ہے{۴۲} اور یہ کہ اُسی نے ہنسایا اور اسی نے رُلایا [40] {۴۳} اور یہ کہ اسی نے موت دی اور اسی نے زندگی بخشی{۴۴} اور یہ کہ اسی نے نراور مادہ کا جوڑا پیدا کیا{۴۵} ایک بُوند سے جب کہ وہ ٹپکائی جاتی ہے [41]{۴۶} اور یہ کہ دوسری زندگی بخشنا بھی اُسی کے ذمہ ہے[42]{۴۷} اور یہ کہ اُسی نے غنی کیا اور جائدادبخشی[43] {۴۸} اور یہ کہ وہی شعریٰ کارَبّ ہے [44]{۴۹} اور یہ کہ اسی نے عاداولیٰ [45]کو ہلاک کیا {۵۰} اور ثمود کو ایسا مٹایا کہ ان میں سے کسی کو باقی نہ چھوڑا {۵۱} اور ان سے پہلے قوم نوحؑ کو تباہ کیا کیوں کہ وہ تھے ہی سخت ظالم و سرکش لوگ {۵۲} اور اوندھی گرنے والی بستیوں کو اٹھا پھینکا {۵۳} پھر چھادیا ان پر وہ کچھ جو ( تم جانتے ہی ہو کہ ) کیا چھادیا [46]{۵۴} پس [47] (اے انسان !) اپنے رَبّ کی کن کن نعمتوں میں توشک کرے گا؟‘‘[48]{۵۵} یہ ایک تنبیہ ہے پہلے آئی ہوئی تنبیہات میں سے ۔[49]{۵۶} آنے والی گھڑی قریب آلگی ہے ۔[50]{۵۷} اللہ کے سواکوئی اس کو ہٹانے والا نہیں[51]{۵۸} اب کیا یہی وہ باتیں ہیں جن پر تم اظہار تعجب کرتے ہو ؟[42]{۵۹} ہنستے ہو اور روتے نہیں ہو ؟{۶۰} اور گابجاکر انہیں ٹالتے ہو؟ [53]{۶۱} جھک جا ؤ اللہ کے آگے اور بندگی بجالا ؤ ۔[54]{۶۲}
سورۃ القمر   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 54 : 1-55 / 55قیامت کی گھڑی قریب آگئی اور چاند پھٹ گیا۔ [1]{۱} مگر اِن لوگوں کا حال یہ ہے کہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں ، منہ موڑ جاتے ہیں اور کہتے ہیں یہ تو چلتا ہوا جادو ہے ۔[2]{ ۲} انہوں نے (اس کو بھی ) جھٹلادیا اور اپنی خواہشات نفس ہی کی پیروی کی ۔ [3]ہر معاملے کو آخر کار ایک انجام پر پہنچ کر رہنا ہے۔[4]{ ۳} ان لوگوں کے سامنے ( پچھلی قوموں کے ) وہ حالات آچکے ہیں جن میں سرکشی سے باز رکھنے کے لیے کافی سامانِ عبرت ہے{ ۴} اور ایسی حکمت جو نصیحت کے مقصد کو بدرجۂ اَتم پورا کرتی ہے۔ مگر تنبیہات ان پر کار گر نہیں ہوتیں {۵} پس اے نبی ؐ! ان سے رُخ پھیرلو،[5] جس ۱وز پکارنے والا ایک سخت ناگوار[6] چیز کی طرف پکارے گا {۶} لوگ سہمی ہوئی نگاہوں کیساتھ[7] اپنی قبروں سے[8] اس طرح نکلیں گے گویا وہ بکھری ہوئی ٹڈّیاں ہیں۔ {۷} پکارنے والے کی طرف دوڑے جارہے ہوں گے اور وہی منکرین ( جو دنیا میں اس کا انکار کرتے تھے) اس وقت کہیں گے کہ یہ دن تو بڑ اکٹھن ہے۔{۸} ان سے پہلے نوح ؑ کی قوم جھٹلا چکی ہے،[9] انہوں نے ہمارے بندے کو جُھوٹا قرار دیا اور کہا کہ یہ دیوانہ ہے اور وہ بُری طرح جھڑکا گیا [10]{۹} آخر کار اُس نے اپنے رَبّ کو پُکارا کہ ’’ میں مغلوب ہوچکا ، اب تُو اِن سے انتقام لے ‘‘{۱۰} تب ہم نے موسلا دھار بارش سے آسمان کے دروازے کھول دیے {۱۱} اور زمین کو پھاڑ کر چشموں میں تبدیل کردیا،[11] اور یہ سارا پانی اس کام کو پورا کرنے کے لیے مل گیا جو مقدر ہوچکا تھا {۱۲} اور نوح ؑ کو ہم نے ایک تختوں اور کیلوں والی[12] پر سوار کردیا{۱۳} جو ہماری نگرانی میں چل رہی تھی یہ تھا بدلہ اس شخص کی خاطر جس کی ناقدری کی گئی تھی۔ [13]{۱۴} اُس کشتی کو ہم نے ایک نشانی بناکر چھوڑدیا ،[14] پھر کوئی ہے نصیحت قبول کرنے والا ؟ {۱۵} دیکھ لو ، کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات {۱۶} ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنادیا ہے،[15] پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ {۱۷} عاد نے جھٹلایا تو دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات {۱۸} ہم نے ایک پیہم نحوست کے دن [16]سخت طوفانی ہوا اُن پر بھیج دی{۱۹} جو لوگوں کو اُٹھا اُٹھا کر ا س طرح پھینک رہی تھی جیسے وہ جڑسے اکھڑے ہوئے کھجور کے تنے ہوں۔{۲۰} پس دیکھ لو کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات {۲۱} ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنادیا ہے ، پھر کیا ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ {۲۲} ثمود نے تنبیہات کو جھٹلایا {۲۳} اور کہنے لگے ’’ ایک اکیلا آدمی جو ہم ہی میں سے ہے کیا اب ہم اُس کے پیچھے چلیں ؟[17] اس کا اتباع ہم قبول کرلیں تو اس کے معنی یہ ہوں گے کہ ہم بہک گئے ہیں اور ہماری عقل ماری گئی ہے۔ { ۲۴} کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص تھا جس پر اللہ کا ذکر نازل کیا گیا ؟ نہیں ، بلکہ یہ پرلے درجے کا جھوٹا اور برخود غلط ہے‘‘ {۲۵} ( ہم نے اپنے پیغمبرسے کہا )’’ کل ہی اِنہیں معلوم ہوا جاتا ہے کہ کون پرلے درجے کا جھوٹا اور برخود غلط ہے۔{۲۶} ہم اونٹنی کو ان کے لیے فتنہ بنا کر بھیج رہے ہیں۔ اب ذرا صبر کے ساتھ دیکھ کہ ان کا کیا انجام ہوتا ہے۔{۲۷} اِن کو جتادے کہ پانی اِن کے اور اونٹنی کے درمیان تقسیم ہوگا اور ہر ایک اپنی باری کے دن پانی پرآئے گا‘‘ ۔[19]{۲۸} آخر کار اُن لوگوں نے اپنے آدمی کو پکارا اور اس نے اس کام کا بیڑ ا اُٹھایا اور اونٹنی کو مارڈالا[20]{۲۹} پھر دیکھ لو کہ کیسا تھا میرا عذاب اور کیسی تھیں میری تنبیہات۔ {۳۰} ہم نے ان پر بس ایک ہی دھماکا چھوڑا اور وہ باڑے والے کی روندی ہوئی باڑھ کی طرح بھُس ہوکر رہ گئے[21] {۳۱} ہم نے اِس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنادیا ہے ، اب ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟{۳۲} لوط ؑ کی قوم نے تنبیہات کو جھٹلایا{۳۳} اور ہم نے پتھرا ؤ کرنے والی ہوااس پر بھیج دی ، صرف لوطؑ کے گھروالے اُس سے محفوظ رہے ۔ رات کے پچھلے پہر بچا کر نکال دیا۔{۳۴} اپنے پاس کی نعمت اور فضل و کرم سے یہ جزا دیتے ہیں ہم ہر اُس شخص کو جو شکر گزار ہوتا ہے۔{۳۵} (لوطؑ نے) اپنی قوم کے لوگوں کو ہماری پکڑ سے خبردار کیا مگر وہ ساری تنبیہات کو مشکوک سمجھ کر باتوں میں اڑاتے رہے۔{۳۶} پھراُنہوں نے اُسے اپنے مہمانوں کی حفاظت سے باز رکھنے کی کوشش کی ، آخر کار ہم نے انکی آنکھیں مونددیں کہ چکھو اب میرے عذاب اورتنبیہات کا مزہ ۔[22]{۳۷} صبح سویرے ہی ایک اٹل عذاب نے اُن کو آلیا{۳۸} چکھو مزہ اب میرے عذاب کا اور میری تنبیہات کا۔ {۳۹} ہم نے اس قرآن کو نصیحت کے لیے آسان ذریعہ بنادیا ہے، پس ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ {۴۰} اور آلِ فرعون کے پاس بھی تنبیہات آئی تھیں{۴۱} مگر انہوں نے ہماری ساری نشانیوں کو جھٹلا دیا۔ آخر کو ہم نے انہیں پکڑا جس طرح کوئی زبردست قدرت والا پکڑا کرتا ہے۔ {۴۲} کیا تمہارے کُفّار کچھ اُن لوگوں سے بہتر ہیں ؟[23] یا آسمانی کتابوں میں تمہارے لئے کوئی معافی لکھی ہوئی ہے؟ {۴۳} یا ان لوگوں کا کہنا یہ ہے کہ ہم ایک مضبوط جتھا ہیں، اپنا بچا ؤ کرلیں گے ؟ {۴۴} عنقریب یہ جتّھا شکست کھا جائے گا اور یہ سب پیٹھ پھیر کر بھاگتے نظر آئیں گے۔[24] {۴۵} بلکہ ان سے نمٹنے کے لیے اصل وعدے کا وقت تو قیامت ہے ، اور وہ بڑی آفت اور زیادہ تلخ ساعت ہے ۔{۴۶} یہ مجرم لوگ درحقیقت غلط فہمی میں مبتلا ہیں اور ان کی عقل ماری گئی ہے۔{۴۷} جس روز یہ منہ کے بل آگ میں گھسیٹے جائیں گے اُس روز ان سے کہا جائے گا کہ اب چکھو جہنم کی لپٹ کامزہ ۔{۴۸} ہم نے ہر چیز ایک تقدیر کے ساتھ پیدا کی ہے [25] {۴۹} اور ہمارا حکم بس ایک ہی حکم ہوتا ہے اور پلک جھپکاتے وہ عمل میں آجاتا ہے ۔[26]{۵۰} تم جیسے بہت سوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں ،[27] پھر ہے کوئی نصیحت قبول کرنے والا ؟ {۵۱} جو کچھ انہوں نے کیا ہے وہ سب دفتر وں میں درج ہے {۵۲} اور ہر چھوٹی بڑی بات لکھی ہوئی موجود ہے۔[28] {۵۳} نافرمانی سے پرہیز کرنے والے یقینا باغوں اور نہروں میں ہوں گے {۵۴} سچی عزت کی جگہ ، بڑے ذی اقتدار بادشاہ کے قریب۔ {۵۵}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)