سورۃالمائدۃ   -  5 : 82-120 / 120 تم اہل ایمان کی عداوت میں سب سے زیادہ سخت یہود اور مشرکین کو پا ؤ گے، اور ایمان لانے والوں کے لیے دوستی میں قریب تران لوگوں کو پا ؤ گے جنہوں نے کہا تھا کہ ہم نصاریٰـ ہیں۔ یہ اس وجہ سے کہ ان میں عبادت گزار عالم اور تارک الدنیا فقیر پائے جاتے ہیں اور ان میں غرورِنفس نہیں ہے۔{ ۸۲} جب وہ اس کلام کو سنتے ہیں جو رسُول ؐ پر اترا ہے تو تم دیکھتے ہو کہ حق شناسی کے اثر سے ان کی آنکھیں آنسو ؤں سے تر ہوجاتی ہیں۔ وہ بول اٹھتے ہیں کہ ’’ پروردگار! ‘‘ہم ایمان لائے ، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔‘‘{۸۳} اور وہ کہتے ہیں کہ ’’ آخر کیوں نہ ہم اللہ پر ایمان لائیں اور جو حق ہمارے پاس آیا ہے اُسے کیوں نہ مان لیں جب کہ ہم اس بات کی خواہش رکھتے ہیں کہ ہمارا رَبّ ہمیں صالح لوگوں میں شامل کرے‘‘ ؟{۸۴} ان کے اس قول کی وجہ سے اللہ نے ان کو ایسی جنتیں عطا کیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں اور وہ ان میں ہمیشہ رہیں گے۔یہ جزاء ہے نیک رویہّ اختیار کرنے والوں کے لیے ۔{۸۵} رہے وہ لوگ جنہوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکارکیا اور انہیں جھٹلایا ، تو وہ جہنم کے مستحق ہیں۔{۸۶} اے لوگو جو ایمان لائے ہو!جو پاک چیزیں اللہ نے تمہارے لئے حلال کی ہیں انہیں حرام نہ کرلو[104] اور حد سے تجاوز نہ [105]کرو ، اللہ کو زیادتی کرنے والے سخت ناپسند ہیں۔ {۸۷} جو کچھ حلال وطیب رزق اللہ نے تم کو دیا ہے اسے کھا ؤ پیو اور اس اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو جس پرتم ایمان لائے ہو۔{۸۸} تم لوگ جو مہمل قسمیں کھالیتے ہو ان پر اللہ گرفت نہیں کرتا ،مگر جو قسمیں تم جان بوجھ کر کھاتے ہوان پروہ ضرور تم سے مواخذہ کرے گا۔( ایسی قسم توڑنے کا ) کفارہ یہ ہے کہ دس مسکینوں کو وہ اوسط درجہ کا کھانا کھلا ؤ جو تم اپنے بال بچوں کو کھلاتے ہو، یا انہیں کپڑے پہنا ؤ ، یا ایک غلام آزاد کرو، اور جو اس کی استطاعت نہ رکھتا ہو وہ تین دن کے روزے رکھے ۔ یہ تمہاری قسموں کا کفّارہ ہے جب کہ تم قسم کھا کر توڑ دو ۔[106] اپنی قسموں کی حفاظت کیا کرو ۔[107] اس طرح اللہ اپنے احکام تمہارے لئے واضح کرتا ہے شاید کہ تم شکر ادا کرو۔{۸۹} اے لوگو جو ایمان لائے ہو!یہ شراب اور جوّا اور یہ آستانے اور پانسے ،[108] یہ سب گندے شیطانی کام ہیں ، ان سے پر ہیز کرو ، امید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی۔[109]{ ۹۰} شیطان تو یہ چاہتاہے کہ شراب اور جوئے کے ذریعہ سے تمہارے درمیان عداوت اور بغض ڈال دے اور تمہیں اللہ کی یاد سے اور نماز سے روک دے۔ پھر کیا تم ان چیزوں سے بازرہوگے؟ {۹۱} اللہ اور اُس کے رسُول ؐکی بات مانو اور باز آجا ؤ ، لیکن اگر تم نے حکم عدولی کی تو جان لو کہ ہمارے رسولؐ پر بس صاف صاف حکم پہنچادینے کی ذمہّ داری تھی{ ۹۲} جو لوگ ایمان لے آئے اور نیک عمل کرنے لگے انہوں نے پہلے جو کچھ کھایا پیا تھا اس پر کوئی گرفت نہ ہو گی بشرطیکہ وہ آئندہ ان چیزوں سے بچے رہیں جو حرام کی گئی ہیں اور ایمان پر ثابت قدم رہیں اور اچھے کام کریں ، پھر جس جس چیز سے روکا جائے اس سے رکیں اور جو فرمان الٰہی ہو اسے مانیں ، پھر تقویٰ کے ساتھ نیک رویہّ رکھیں ۔ اللہ نیک کردار لوگوں کو پسند کرتا ہے۔ { ۹۳} اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ تمہیں اس شکار کے ذریعہ سے سخت آزمائش میں ڈالے گا جو بالکل تمہارے ہاتھوں اور نیزوں کی زد میں ہوگا، یہ دیکھنے کے لیے کہ تم میں سے کون اس سے غائبانہ ڈرتا ہے ، پھر جس نے اس تنبیہ کے بعد اللہ کی مقرر کی ہوئی حد سے تجاوز کیا اس کے لیے دردناک سزا ہے۔{ ۹۴} اے لوگو جو ایمان لائے ہو! احرام کی حالت میں شکار نہ مارو،[110] اور اگر تم میں سے کوئی جان بوجھ کر ایسا کر گزرے تو جو جانور اس نے ماراہو اسی کے ہم پلہ ایک جانور اسے مویشیوں میں سے نذردینا ہوگا جس کا فیصلہ تم میں سے دو عادل آدمی کریں گے، اور یہ نذرانہ کعبہ پہنچایا جائے گا ، یانہیں تو اس گناہ کے کفارہ میں چند مسکینوں کو کھاناکھلانا ہوگا ، یا اس کے بقدر روزے رکھنے ہوں گے ،[111]تاکہ وہ اپنے کئے کا مزا چکھے ۔پہلے جو کچھ ہوچکا اسے اللہ نے معاف کردیا، لیکن اب اگر کسی نے اس حرکت کا اعادہ کیا تو اس سے اللہ بدلہ لے گا، اللہ سب پر غالب ہے اور بدلہ لینے کی طاقت رکھتا ہے۔ {۹۵} تمہارے لئے سمندر کا شکار اور اس کا کھانا حلال کردیا گیا ،[112] جہاں تم ٹھیرو وہاں بھی اسے کھاسکتے ہو اور قافلے کے لیے زاد راہ بھی بنا سکتے ہو ۔ البتہ خشکی کاشکار ،جب تک تم احرام کی حالت میں ہو، تم پر حرام کیا گیا ہے۔ پس بچو اس اللہ کی نافرمانی سے جس کی پیشی میں تم سب کو گھیر کر حاضر کیا جائے گا۔{۹۶} اللہ نے مکان محترم ، کعبہ کو لوگوں کے لیے ( اجتماعی زندگی کے) قیام کا ذریعہ بنایا اور ماہ حرام اور قربانی کے جانوروں اور قلادوں کو بھی ( اس کام میں معاون بنادیا) [113] تاکہ تمہیں معلوم ہوجائے کہ اللہ آسمانوں اور زمین کے سب حالات سے باخبر ہے اوراُسے ہر چیز کا علم ہے۔[114] {۹۷} خبردار ہوجا ؤ! اللہ سزا دینے میں بھی سخت ہے اور اس کے ساتھ بہت درگزر اور رحم بھی کرنے والا ہے۔ {۹۸} رسول ؐپر تو صرف پیغام پہنچادینے کی ذمّہ داری ہے ، آگے تمہارے کھلے اور چھپے سب حالات کا جاننے والا اللہ ہے۔ {۹۹} اے پیغمبر ؐ ! ان سے کہہ دو کہ پاک اور ناپاک بہرحال یکساں نہیں ہیں خواہ نا پاک کی بہتات تمہیں کتنا ہی فریفتہ کرنے والی[115] ہو ، پس اے لوگو جو عقل رکھتے ہو ، اللہ کی نافرمانی سے بچتے رہو، اُمید ہے کہ تمہیں فلاح نصیب ہوگی۔ {۱۰۰} اے لوگو جو ایمان لائے ہو! ایسی باتیں نہ پوچھا کرو جو تم پر ظاہر کردی جائیں تو تمہیں ناگوار ہوں،[116]لیکن اگر تم انہیں ایسے وقت پوچھوگے جب کہ قرآن نازل ہورہا ہو تو وہ تم پر کھول دی جائیں گی۔ اب تک جو کچھ تم نے کیا اسے اللہ نے معاف کردیا، وہ درگزر کرنے والا اوربُردبار ہے ۔{۱۰۱} تحقیق تم سے پہلے ایک گروہ نے اسی قسم کے سوالات کئے تھے ، پھر وہ لوگ انہی باتوں کی وجہ سے کفر میں مبتلا ہوگئے [107]{ ۱۰۲} اللہ نے نہ کوئی بَحیِرہ مقرر کیا ہے نہ سائبہ نہ وصیلہ اور نہ حام۔[118] مگر یہ کافر اللہ پر جھوٹی تہمت لگاتے ہیں اور ان میں سے اکثر بے عقل ہیں ( کہ ایسے وہمیات کو مان رہے ہیں) { ۱۰۳} اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آ ؤ اس قانون کی طرف جو اللہ نے نازل کیا ہے اور آ ؤ پیغمبر ؐ ! کی طرف تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ہمارے لئے تو بس وہی طریقہ کافی ہے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔ کیا یہ باپ دادا ہی کی تقلید کئے چلے جائیں گے خواہ وہ کچھ نہ جانتے ہوں اور صحیح راستہ کی انہیں خبر ہی نہ ہو؟{۱۰۴} اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنی فکر کرو ، کسی دوسرے کی گمراہی سے تمہارا کچھ نہیں بگڑتا اگر تم خود راہ راست پر [119]ہو، اللہ کی طرف تم سب کو پلٹ کر جانا ہے ، پھر وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔{۱۰۵} اے لوگو جو ایمان لائے ہو!جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آجائے اور وہ وصیت کررہا ہو تو اس کے لیے شہادت کا نصاب یہ ہے کہ تمہاری جماعت میں سے دو صاحب عدل آدمی [120] گواہ بنائے جائیں ، یا اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور وہاں موت کی مصیبت پیش آجائے تو غیر لوگوں ہی میں سے دو گواہ لے لیے جائیں ۔ [121]پھر اگر کوئی شک پڑجائے تو نماز کے بعد دونوں گواہوں کو (مسجد میں ) روک لیا جائے اور وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ’’ ہم کسی ذاتی فائدے کے عوض شہادت بیچنے والے نہیں ہیں،اور خواہ کوئی ہمارا رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو (ہم اس کی رعایت کرنے والے نہیں) اور نہ اللہ واسطے کی گواہی کو ہم چھپانے والے ہیں، اگر ہم نے ایسا کیا تو گناہ گاروں میں شمارہوں گے۔‘‘{۱۰۶} لیکن اگر پتہ چل جائے کہ ان دونوں نے اپنے آپ کو گناہ میں مُبتلاکیا ہے تو پھر ان کی جگہ دو اور شخص جو اُن کی بہ نسبت شہادت دینے کے لیے اہل ترہوں ان لوگوں میں سے کھڑے ہوں جن کی حق تلفی ہوئی ہو ، اور وہ اللہ کی قسم کھا کر کہیں کہ ’’ ہماری شہادت اُن کی شہادت سے زیادہ برحق ہے اور ہم نے اپنی گواہی میں کوئی زیادتی نہیں کی ہے ، اگر ہم ایسا کریں تو ظالموں میں سے ہوں گے‘‘۔ {۱۰۷} اس طریقہ سے زیادہ توقع کی جاسکتی ہے کہ لوگ ٹھیک ٹھیک شہادت دیں گے ، یا کم از کم اس بات ہی کا خوف کریں گے کہ اُن کی قسموں کے بعد دوسری قسموں سے کہیں ان کی تردیدنہ ہوجائے ۔ اللہ سے ڈرو اور سنو ، اللہ نافرمانی کرنے والوں کو اپنی رہنمائی سے محروم کردیتا ہے۔ {۱۰۸} جس روز[122] اللہ سب رسولوں کو جمع کرکے پوچھے گا کہ تمہیں کیا جواب [123] دیاگیا، تو وہ عرض کریں گے کہ ہمیں کچھ علم نہیں ،[124] آپ ہی تمام پوشیدہ حقیقتوں کو جانتے ہیں ۔{۱۰۹} پھر تصور کرو اُس موقع کا جب اللہ فرمائے[125] گا کہ ’’ اے مریم کے بیٹے عیسیٰ ؑ! یاد کر میری اس نعمت کو جو میں نے تجھے اور تیری ماں کو عطا کی تھی ، میں نے روح پاک سے تیری مددکی، تو گہوار ے میں بھی لوگوں سے بات کرتا تھا اور بڑی عمر کو پہنچ کر بھی ، میں نے تجھ کو کتاب اور حکمت اور تورات اور انجیل کی تعلیم دی ، تو میرے حکم سے مٹی کا پتلا پرندے کی شکل کا بناتا اور اس میں پھونکتا تھا اور وہ میرے حکم سے پرندہ بن جاتا تھا ، تو مادر زاد اندھے اور کوڑھی کو میرے حکم سے اچھا کرتا تھا ، تو مرُدوں کو میرے حکم سے نکالتا تھا [126]، پھر جب تو بنی اسرائیل کے پاس صریح نشانیاں لے کے پہنچا اور جو لوگ ان میں سے منکر حق تھے انہوں نے کہا کہ یہ نشانیاں جادوگری کے سوا اور کچھ نہیں ہیں تو میں نے ہی تجھے اُن سے بچایا{۱۱۰} اور جب میں نے حواریوں کو اشارہ کیا کہ مجھ پر اور میرے رسول پر ایمان لا ؤ تب انہوں نے کہا ہم ایمان لائے اور گواہ رہو کہ ہم مسلم ہیں ‘‘[127]{۱۱۱} (حواریوں [128]کے سلسلے میں) یہ واقعہ بھی یاد رہے کہ جب حواریوں نے کہا ’’ اے عیسیٰ ؑ !بن مریم! کیا آپؑ کارَبّ ہم پر آسمان سے کھانے کا ایک خوان اتار سکتا ہے‘‘ ؟ تو عیسیٰ ؑ نے کہا اللہ سے ڈرو اگر تم مومن ہو۔ {۱۱۲} انہوں نے کہا ’’ہم بس یہ چاہتے ہیں کہ اس خوان سے کھانا کھائیں اور ہمارے دل مطمئن ہوں اور ہمیں معلوم ہوجائے کہ آپ ؑ نے جو کچھ ہم سے کہا ہے وہ سچ ہے اور ہم اُس پر گواہ ہوں۔ ‘‘ {۱۱۳} اس پر عیسیٰؑ ابن مریم نے دعا کی’’اے اللہ، ہمارے رَبّ! ہم پر آسمان سے ایک خوان نازل کرجو ہمارے لئے اور ہمارے اگلوں پچھلوں کے لیے خوشی کا موقع قرار پائے اور تیری طرف سے ایک نشانی ہو ، ہم کو رزق دے اور تو بہترین رازق ہے ۔‘‘{۱۱۴} اللہ نے جواب دیا ’’ میں اُس کو تم پر نازل کرنے والا ہوں ،[129] مگر اس کے بعد جو تم میں سے کفر کرے گا اسے میں ایسی سزادوں گا جو میں نے دنیا جہانوں میں کسی کو نہ دی ہوگی‘‘۔{۱۱۵} غرض جب (یہ احسانات ) یادلاکر اللہ فرمائے گا کہ ’’ اے عیسیٰؑ ابن مریم ! کیا تو نے لوگوں سے کہاتھا کہ اللہ کے سوا مجھے اور میری ماں کو بھی اِلٰہ [130]بنالو‘‘ ؟ تو وہ جواب میں عرض کرے گا کہ ’’سبحان اللہ! میرا یہ کام نہ تھا کہ وہ بات کہتا جس کے کہنے کا مجھے حق نہ تھا ، اگر میں نے ایسی بات کہی ہوتی تو آپ کو ضرور علم ہوتا ، آپ جانتے ہیں جو کچھ میرے دل میں ہے اور میں نہیں جانتا جو کچھ آپ کے دل میں ہے ، آپ تو ساری پوشیدہ حقیقتوں کے عالم ہیں۔{۱۱۶} میں نے اُن سے اُس کے سوا کچھ نہیں کہا جس کا آپ نے حکم دیا تھا ، یہ کہ اللہ کی بندگی کرو جو میرا رَبّ بھی ہے اور تمہارا رَبّ بھی ۔میں اسی وقت تک ان کا نگراں تھا جب تک کہ میں ان کے درمیان تھا۔ جب آپ نے مجھے واپس بلا لیا تو آپ ان پر نگراں تھے اور آپ تو ساری ہی چیزوں پر نگراں ہیں۔ {۱۱۷} اب اگر آپ انہیں سزادیں تو وہ آپ کے بندے ہیں اور اگر معاف کردیں تو آپ غالب اور دانا ہیں ۔‘‘{۱۱۸} تب اللہ فرمائے گا ’’یہ وہ دن ہے جس میں سچوں کو ان کی سچائی نفع دیتی ہے ، ان کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں، یہاں وہ ہمیشہ رہیں گے اللہ ان سے راضی ہو ا اور وہ اللہ سے ،یہی بڑی کامیابی ہے ‘‘ {۱۱۹} زمین اور آسمانوں اور تمام موجودات کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔{۱۲۰}
سورۃالانعام   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 6 : 1-35 / 165تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے زمین اور آسمان بنائے ، روشنی اور تاریکیاں پیدا کیں۔پھر بھی وہ لوگ جنہوں نے دعوت حق کو ماننے سے انکار کردیا ہے دوسروں کو اپنے رَبّ کا ہمسر ٹھہرا رہے ہیں۔ [1]{۱} وہی ہے جس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا، [2]پھر تمہارے لئے زندگی کی ایک مدت مقرر کردی، اور ایک دوسری مدت اور بھی ہے جو اس کے ہاں طے شدہ ہے۔[3] مگر تم لوگ ہو کہ شک میں پڑے ہوئے ہو۔ { ۲} وہی ایک معبود آسمانوں میں بھی ہے اور زمین میں بھی ، تمہارے کُھلے اور چُھپے سب حال جانتا ہے اور جو برائی یابھلائی تم کماتے ہواُس سے بھی و ہ خوب واقف ہے۔{ ۳} لوگوں کا حال یہ ہے کہ ان کے رَبّ کی نشانیوں میں سے کوئی نشانی ایسی نہیں جو ان کے سامنے آئی ہو اور انہوں نے اس سے منھ نہ موڑلیا ہو۔ { ۴} چنانچہ اب جو حق ان کے پاس آیا تو اسے بھی انہوں نے جھٹلا دیا۔ اچھا ،جس چیز کا وہ اب تک مذاق اُڑاتے رہے ہیں عنقریب اس کے متعلق کچھ خبریں انہیں پہنچیں گی۔[4]{۵} کیا انہوں نے دیکھا نہیں کہ ان سے پہلے کتنی ایسی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں جن کا اپنے اپنے زمانے میں دور دورہ رہا ہے ؟ اُن کو ہم نے زمین میں وہ اقتدار بخشا تھا جو تمہیں نہیں بخشا ہے ، ان پر ہم نے آسمان سے خوب بارشیں برسائیں اور ان کے نیچے نہریں بہادیں ، (مگر جب انہوں نے کفران نعمت کیا تو ) آخر کار ہم نے ان کے گناہوں کی پاداش میں انہیں تباہ کردیا اور ان کی جگہ دوسرے دور کی قوموں کو اٹھایا ۔{۶} اے پیغمبر ؐ! اگر ہم تمہارے اُوپر کوئی کاغذ میں لکھی لکھائی کتاب بھی اُتاردیتے اور لوگ اسے اپنے ہاتھوں سے چھوکر بھی دیکھ لیتے تب بھی جنہوں نے حق کا انکار کیا ہے وہ یہی کہتے کہ یہ تو صریح جادُو ہے۔{۷} کہتے ہیں کہ اس نبی پر کوئی فرشتہ کیوں نہیں اُتاراگیا ؟[5] اگر کہیں ہم نے فرشتہ اتار دیا ہو تا تواب تک کبھی کا فیصلہ ہوچکا ہوتا ، پھرانہیں کوئی مہلت نہ دی جاتی ۔[6]{۸} اور اگر ہم فرشتے کو اُ تار تے تب بھی اسے انسانی شکل ہی میں اُتارتے اور اس طرح انہیں اسی شبہ میں مبتلا کردیتے جس میں اب یہ مبتلا ہیں۔ [7]{۹} اے نبی ؐ !تم سے پہلے بھی بہت سے رسولوں کا مذاق اڑایا جا چکا ہے، مگر ان مذاق اڑانے والوں پر آخرکار وہی حقیقت مسلّط ہوکر رہی جس کا وہ مذاق اُڑاتے تھے{۱۰} ان سے کہو ، ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھو جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا ہے۔[8]{۱۱} ان سے پوچھو آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے وہ کس کا ہے ؟ کہو ،سب کچھ اللہ ہی کا ہے ، [9]اس نے رحم و کرم کا شیوہ اپنے اوپر لازم کرلیا ہے (اسی لئے وہ نافرمانیوں اور سرکشیوں پر تمہیں جلدی سے نہیں پکڑلیتا) قیامت کے روز وہ تم سب کو ضرور جمع کرے گا ، یہ بالکل ایک غیر مشتبہ حقیقت ہے،مگر جن لوگوں نے اپنے آپ کو خود تباہی کے خطرے میں مبتلا کرلیا ہے وہ اسے نہیں مانتے۔{ ۱۲} رات کے اندھیرے اور دن کے اُجالے میں جو کچھ ٹھہرا ہوا ہے ،سب اللہ کا ہے اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے ،{ ۱۳} کہو اللہ کو چھوڑ کرکیا میں کسی اور کو اپنا سرپرست بنالوں ؟ اُس اللہ کو چھوڑ کر جو زمین و آسمان کا خالق ہے اور جو روزی دیتا ہے ، روزی لیتا نہیں ہے ؟[10] کہو مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں اُس کے آگے سرِ تسلیم خم کروں (اور تاکید کی گئی ہے کہ کوئی شرک کرتا ہے تو کرے) تُو بہر حال مشرکوں میں شامل نہ ہو ۔{ ۱۴} کہو! اگر میں اپنے رَبّ کی نافرمانی کروں تو ڈرتا ہوں کہ ایک بڑے ( خوفناک) دن مجھے سزا بھگتنی پڑے گی۔{۱۵} اس دن جو سزا سے بچ گیا اس پر اللہ نے بڑا ہی رحم کیا اور یہی نمایاں کامیابی ہے۔{۱۶} اگر اللہ تمہیں کسی قسم کا نقصان پہنچائے تو اس کے سوا کوئی نہیں جو تمہیں اس نقصان سے بچاسکے، اور اگر وہ تمہیں کسی بھلائی سے بہرہ مند کرے تو وہ ہر چیز پر قادر ہے۔{۱۷} وہ اپنے بندوں پر کامل اختیارات رکھتا ہے اور دانا اور باخبر ہے۔{۱۸} اِن سے پوچھو ، کس کی گواہی سب سے بڑھ کرہے؟ کہو، میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہ ہے،[11] اور یہ قرآن میری طرف بذریعہ وحی بھیجا گیا ہے تاکہ تمہیں اور جس جس کو یہ پہنچے۔سب کو متنبہ کردُوں۔کیا واقعی تم لوگ یہ شہادت دے سکتے ہو کہ اللہ کے ساتھ دوسرے اِلٰہ بھی ہیں؟[12] کہو، میں تو اس کی شہادت ہر گز نہیں دے سکتا[13]۔ کہو ، درحقیقت الٰہ (معبود) ٰتو بس وہی ایک ہے اور میں اُس شرک سے قطعی بیزار ہوں جس میں تم مبتلا ہو۔{ ۱۹} جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے وہ اس بات کو اس طرح غیر مشتبہ طور پر پہچانتے ہیں جیسے اُن کو اپنے بیٹوں کے پہچاننے میں کوئی اشتباہ پیش نہیں آتا۔[14] مگر جنہوں نے اپنے آپ کو خود خسارے میں ڈال دیا ہے وہ اسے نہیں مانتے ۔{ ۲۰} اوراُس شخص سے بڑھ کر ظالم کو ن ہوگا جو اللہ پر جھوٹا بہتان لگائے ،[15] یا اللہ کی نشانیوں کو جھٹلائے ؟[16] یقینا ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔{۲۱} جس روز ہم ان سب کو اکٹھا کریں گے اور مشرکوں سے پوچھیں گے کہ اب وہ تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریک کہاں ہیں جن کو تم اپنا الٰہ سمجھتے تھے{ ۲۲} تو وہ اس کے سوا کوئی فتنہ نہ اٹھا سکیں گے کہ ( یہ جھوٹا بیان دیں کہ ) اے ہمارے آقا !تیری قسم ہم ہرگز مشرک نہ تھے۔{ ۲۳} دیکھو ، اُس وقت یہ کس طرح اپنے اوپر آپ جھوٹ گھڑیں گے، اور وہاں ان کے سارے بناوٹی معبُود گم ہوجائیں گے۔ {۲۴} اِن میں سے بعض لوگ ایسے ہیں جو کان لگاکر تمہاری بات سنتے ہیں مگر حال یہ ہے کہ ہم نے ان کے دلوں پر پردے ڈال رکھے ہیں جن کی وجہ سے وہ اس کو کچھ نہیں سمجھتے اور ان کے کانوں میں گرانی ڈال دی ہے (کہ سب کچھ سننے پر بھی کچھ نہیں سنتے) [17] وہ خواہ کوئی نشانی دیکھ لیں ، اس پر ایمان لاکر نہ دیں گے۔ حدیہ ہے کہ جب وہ تمہارے پاس آکر تم سے جھگڑتے ہیں تو ان میں سے جن لوگوں نے انکار کا فیصلہ کرلیا ہے وہ ( ساری باتیں سننے کے بعد ) یہی کہتے ہیں کہ یہ ایک داستانِ پارینہ کے سِوا کچھ نہیں۔ [18]{۲۵} وہ اس امرِحق کو قبول کرنے سے لوگوں کو روکتے ہیں اور خود بھی اس سے دُور بھاگتے ہیں۔ (وہ سمجھتے ہیں کہ اس حرکت سے وہ تمہارا کچھ بگاڑ رہے ہیں) حالانکہ دراصل وہ خود اپنی ہی تباہی کا سامان کررہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے ۔{۲۶} کاش تم اُس وقت کی حالت دیکھ سکتے جب وہ دوزخ کے کنارے کھڑے کئے جائیں گے۔ اس وقت وہ کہیں گے کاش کوئی صُورت ایسی ہوکہ ہم دُنیا میں پھر واپس بھیجے جائیں اور اپنے رَبّ کی نشانیوں کو نہ جھٹلائیں اور ایمان لانے والوں میں شامل ہوں۔{۲۷} در حقیقت یہ بات وہ محض اس وجہ سے کہیں گے کہ جس حقیقت پر انہوں نے پردہ ڈال رکھا تھا وہ اُس وقت بے نقاب ہو کر اُن کے سامنے آچکی ہوگی۔[19] ورنہ اگر انہیں سابق زندگی کی طرف واپس بھیجا جائے تو پھر وہی سب کچھ کریں جس سے انہیں منع کیا گیا ہے ، وہ توہیں ہی جھوٹے( اس لیے اپنی اس خواہش کے اظہار میں بھی جھوٹ ہی سے کام لیں گے) ۔{۲۸} آج یہ لوگ کہتے ہیں کہ زندگی جو کچھ بھی ہے بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے اور ہم مرنے کے بعد ہر گز دوبارہ نہ اُٹھائے جائیں گے۔{۲۹} کاش وہ منظر تم دیکھ سکو جب یہ اپنے رَبّ کے سامنے کھڑے کئے جائیں گے۔ اس وقت ان کا رَبّ ان سے پوچھے گا ’’ کیا یہ حقیقت نہیں ہے؟‘‘ یہ کہیں گے ’’ہاں اے ہمارے رَبّ !یہ حقیقت ہی ہے ‘‘وہ فرمائے گا ’’ اچھا ، تو اب اپنے انکار حقیقت کی پاداش میں عذاب کا مزا چکھو ‘‘۔{۳۰} نقصان میں پڑگئے وہ لوگ جنہوں نے اللہ سے اپنی ملاقات کی اطلاع کو جھوٹ قرار دیا۔جب اچانک وہ گھڑی آجائے گی تو یہی لوگ کہیں گے ’’ افسوس ! ہم سے اس معاملہ میں کیسی تقصیر ہوئی ‘‘ اور اِن کا حال یہ ہوگا کہ اپنی پیٹھوں پر اپنے گناہو ںکا بوجھ لادے ہوئے ہوں گے دیکھو ! کیسا بُرابوجھ ہے جو یہ اُٹھارہے ہیں، {۳۱} دنیا کی زندگی تو ایک کھیل اور ایک تماشا ہے۔[20]حقیقت میں آخر ت ہی کا مقام ان لوگوں کے لیے بہتر ہے جو زیاں کاری سے بچنا چاہتے ہیں، پھر کیا تم لوگ عقل سے کام نہ لوگے؟{۳۲} اے نبی ؐ !ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان سے تمہیں رنج ہوتا ہے، لیکن یہ لوگ تمہیں نہیں جھٹلاتے ،بلکہ یہ ظالم دراصل اللہ کی آیات کا انکار کررہے ہیں[21] {۳۳} تم سے پہلے بھی بہت سے رسُول ؑجھٹلائے جاچکے ہیں مگر اس تکذیب پر اور اُن اذیتوں پر جو انہیں پہنچائی گئیں ، انہوں نے صبر کیا، یہاں تک کہ انہیں ہماری مدد پہنچ گئی ۔ اللہ کی باتوں کو بدلنے کی طاقت کسی میں نہیں ہے،[22] اور پچھلے رسولوں کیساتھ جو کچھ پیش آیا اس کی خبریں تمہیں پہنچ ہی چکی ہیں { ۳۴} تاہم اگر ان لوگوں کی بے رُخی تم سے برداشت نہیں ہوتی تو اگر تم میں کچھ زور ہے تو زمین میں کوئی سرنگ ڈھونڈویا آسمان میں سیڑھی لگا ؤ اور ان کے پاس کوئی نشانی لانے کی کوشش کرو۔[23] اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ہدایت پر جمع کرسکتا تھا، لہذا نادان مت بنو ۔[24]{۳۵}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)