سورۃالمائدۃ   -  5 : 27-81 / 120اور ذرا انہیں آدم کے دو بیٹوں کا قصہ بھی بے کم وکاست سنا دو ۔ جب اُن دونوں نے قربانی کی توان میں سے ایک کی قربانی قبول کی گئی اور دوسرے کی نہ کی گئی۔ اُس نے کہا ’’میں تجھے مارڈ الوں گا‘‘۔ اس نے جواب دیا ’’اللہ تو متقیوں ہی کی نذریں قبول کرتا ہے۔ [48]{۲۷} اگر تُو مجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ اٹھائے گا تو میں تجھے قتل کرنے کے لیے ہاتھ نہ اٹھا ؤں گا،[49] میں اللہ رَبّ العٰلمین سے ڈرتا ہوں {۲۸} میں چاہتا ہوں کہ میرا اور اپنا گناہ تُو ہی سمیٹ لے[50] اور دوزخی بن کررہے۔ ظالموں کے ظلم کا یہی ٹھیک بدلہ ہے ‘‘ {۲۹} آخر کار اس کے نفس نے اپنے بھائی کا قتل اس کے لیے آسان کردیا اور وہ اسے مارکر ان لوگوں میں شامل ہوگیا جو نقصان اُٹھانے والے ہیں { ۳۰} پھر اللہ نے ایک کوّ ابھیجا جو زمین کھود نے لگا تا کہ اسے بتائے کہ اپنے بھائی کی لاش کیسے چھپائے ،یہ دیکھ کروہ بولا: ’’افسوس! مجھ پر میں اس کوّے جیسا بھی نہ ہوسکا کہ اپنے بھائی کی لاش چھپانے کی تدبیر نکال لیتا [51] ‘‘۔اس کے بعد وہ اپنے کئے پر بہت پچھتایا ۔[52]{۳۱} اسی وجہ سے بنی اسرائیل پر ہم نے یہ فرمان لکھ دیا [53]تھا کہ: ’’ جس نے کسی انسان کو خون کے بدلے یا زمین میں فساد پھیلانے کے سوا کسی اور وجہ سے قتل کیا اس نے گویا تمام انسانوں کو قتل کردیا اور جس نے کسی کو زندگی بخشی اس نے گویا تمام انسانوں کو زندگی بخش دی[54]۔‘‘مگر اُن کا حال یہ ہے کہ ہمارے رسول پے درپے ان کے پاس کھلی کھلی ہدایا ت لے کر آئے پھر بھی ان میں بکثرت لوگ زمین میں زیادیتاں کرنے والے ہیں {۳۲} جو لوگ اللہ اور اس کے رسُول ؐ سے لڑتے ہیں اور زمین میں اس لیے تگ ودَو کرتے پھرتے ہیں کہ فساد برپاکریں[55] اُن کی سزایہ ہے کہ قتل کئے جائیں ، یا سولی پر چڑھائے جائیں، یا ان کے ہاتھ اور پا ؤں مخالف سمتوں سے کاٹ ڈالے جائیں ، یا وہ جلاوطن کردیے جائیں[56]۔ یہ ذلّت ورسوائی تو ان کے لیے دنیا میں ہے اور آخرت میں ان کے لیے اس سے بڑی سزا ہے { ۳۳} مگر جو لوگ توبہ کرلیں قبل اس کے کہ تم اُن پر قابو پا ؤ۔ تمہیں معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔[57] { ۳۴} اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! اللہ سے ڈرو اور اس کی جناب میں باریابی کا ذریعہ تلاش کرو[58] اور اس کی راہ میں جدوجہد کرو،[59] شاید کہ تمہیں کامیابی نصیب ہوجائے۔{۳۵} خوب جان لو کہ جن لوگوں نے کفر کا رویّہ اختیار کیا ہے ،اگر ان کے قبضے میں ساری زمین کی دولت ہو اور اتنی ہی اور اس کے ساتھ ، اور وہ چاہیں کہ اسے فدیہ میں دے کر روز قیامت کے عذاب سے بچ جائیں ، تب بھی وہ ان سے قبول نہ کی جائے گی اور انہیں درد ناک سزا مل کررہے گی۔ {۳۶} وہ چاہیں گے کہ دوزخ کی آگ سے نکل بھاگیں مگر نہ نکل سکیں گے اور انہیں قائم رہنے والا عذاب دیا جائے گا ۔{۳۷} اور چور ، خواہ عورت ہویا مرد ، دونوں کے ہاتھ کاٹ دو،[60] یہ ان کی کمائی کا بدلہ ہے اور اللہ کی طرف سے عبرتناک سزا ۔ اللہ کی قدرت سب پر غالب ہے اور وہ داناو بینا ہے۔ {۳۸} پھر جو ظلم کرنے کے بعد توبہ کرے اور اپنی اصلاح کرلے تو اللہ کی نظر عنایت پھر اس پر مائل ہوجائے گی،[61] اللہ بہت درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔ {۳۹} کیا تم جانتے نہیں ہو کہ اللہ زمین اور آسمانوں کی سلطنت کا مالک ہے ؟ جسے چاہے سزادے اور جسے چاہے معاف کردے ، وہ ہر چیز کا اختیار رکھتا ہے۔ {۴۰} اے پیغمبر ؐ ! تمہارے لئے باعث رنج نہ ہوں وہ لوگ جو کفر کی راہ میں بڑی تیز گامی دکھا رہے ہیں [62]خواہ وہ اُن میں سے ہوں جو منھ سے کہتے ہیں ہم ایمان لائے مگر دل ان کے ایمان نہیں لائے ، یا ان میں سے ہوں جو یہودی ہیں ، جن کا حال یہ ہے کہ جھوٹ کے لیے کان لگاتے ہیں [63]، اور دوسرے لوگوں کی خاطر ، جو تمہارے پاس کبھی نہیں آئے ، سن گن لیتے پھرتے[64] ہیں ، کتاب اللہ کے الفاظ کو ان کا صحیح محل متعین ہونے کے باوجود اصل معنی سے پھیرتے ہیں[65] اور لوگوں سے کہتے ہیں کہ اگر تمہیں یہ حکم دیا جائے تو مانو نہیں تو [66]نہ مانو۔ جسے اللہ ہی نے فتنہ میں ڈالنے کا ارادہ کرلیا ہو اس کو اللہ کی گرفت سے بچانے کے لیے تم کچھ نہیں کرسکتے[67] یہ وہ لوگ ہیں، جن کے دلوں کو اللہ نے پاک کرنا نہ[68] چاہا ، ان کے لیے دنیا میں رسوائی اور آخرت میں سخت سزاہے۔{۴۱} یہ جھوٹ سننے والے اور حرام کے مال کھانے والے[69] ہیں ، لہٰذا اگر یہ تمہارے پاس (اپنے مقدمات لے کر ) آئیں تو تمہیں اختیار دیا جاتا ہے کہ چاہو ان کا فیصلہ کرو ورنہ انکار کردو ۔ انکار کردو تو یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے ، اور فیصلہ کرو تو پھر ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔[70]{۴۲} اور یہ تمہیں کیسے حکم بناتے ہیں جب کہ ان کے پاس تو راۃ موجود ہے جس میں اللہ کا حکم لکھا ہوا ہے اور پھر یہ اس سے منھ موڑ رہے ہیں ؟[71] اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ ایمان ہی نہیں رکھتے۔{ ۴۳} ہم نے تو راۃ نازل کی جس میں ہدایت اور روشنی تھی۔ سارے نبی ، جو مسلم تھے ، اسی کے مطابق ان یہودیوں کے [72] معاملات کا فیصلہ کرتے تھے ، اور اسی طرح رباّنی( علماء) اور احبار[73] بھی ( اسی پر فیصلہ کا مدار رکھتے تھے) کیونکہ انہیں کتاب اللہ کی حفاظت کا ذمہ دار بنایا گیا تھا اور وہ اس پر گواہ تھے ۔پس ( اے گِروہ یہود) تم لوگوں سے نہ ڈرو ، بلکہ مجھ سے ڈرو اور میری آیات کو ذرا ذرا سے معاوضے لے کر بیچنا چھوڑدو۔ جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی کافر ہیں ۔{ ۴۴} تو راۃ میں ہم نے یہودیوں پر یہ حکم لکھ دیا تھا کہ جان کے بدلے جان ، آنکھ کے بدلے آنکھ ، ناک کے بدلے ناک ، کان کے بدلے کان ، دانت کے بدلے دانت ، اور تمام ز خموں کے لیے برابر کا بدلہ ۔ پھر جو قصاص کا صدقہ کردے تو وہ اس کے لیے کفارہ [75]ہے۔ اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی ظالم ہیں۔{۴۵} پھر ہم نے ان پیغمبروں کے بعد مریم کے بیٹے عیسیٰؑ کو بھیجا۔ تو راۃ میں سے جو کچھ اس کے سامنے موجود تھا وہ اس کی تصدیق کرنے والا تھا[76] اور ہم نے اس کو انجیل عطا کی جس میں رہنمائی اور روشنی تھی اور وہ بھی توراۃ میں سے جو کچھ اس وقت موجود تھا اس کی تصدیق کرنے والی تھی اور متقی لوگوں کے لیے سراسر ہدایت اور نصیحت تھی۔{۴۶} ہمارا حکم تھا کہ اہل انجیل اس قانون کے مطابق فیصلہ کریں جو اللہ نے اس میں نازل کیا ہے اور جو لوگ اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق فیصلہ نہ کریں وہی فاسق ہیں۔[77]{۴۷} پھر( اے نبی ا!) ہم نے تمہاری طرف یہ کتاب بھیجی جو حق لے کر آئی ہے اور الکتاب میں سے جو کچھ اس کے آگے موجود ہے اُس کی تصدیق کرنے والی[78] اور اس کی محافظ و نگہبان [79]ہے ۔ لہٰذا تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق لوگوں کے معالات کا فیصلہ کرو اور جو حق تمہارے پاس آیا ہے اس سے منھ موڑ کر ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو۔[80] ہم نے تم ( انسانوں ) میں سے ہر ایک کے لیے ایک شریعت اور ایک راہ ِعمل مقرر کی اگر چہ تمہارا اللہ چاہتا تو تم سب کو ایک اُمت بھی بناسکتا تھا ، لیکن اس نے یہ اس لیے کیا کہ جو کچھ اس نے تم لوگوں کودیا ہے اس میں تمہاری آزمائش کرے ۔ لہٰذا بھلائیوں میں ایک دوسرے سے سبقت لے جانے کی کوشش کرو۔ آخر کا رتم سب کو اللہ کی طرف پلٹ کرجانا ہے ، پھر وہ تمہیں اصل حقیقت بتادے گا جس میں تم اختلاف کرتے [81]رہے ہو۔ {۴۸} پس [82] (اے نبی ؐ!)تم اللہ کے نازل کردہ قانون کے مطابق ان لوگوں کے معاملات کا فیصلہ کرو اور ان کی خواہشات کی پیروی نہ کرو ۔ ہوشیار رہو کہ یہ لوگ تم کو فتنہ میں ڈال کر اس ہدایت سے ذرّہ برابر منحرف نہ کرنے پائیں جو اللہ نے تمہاری طرف نازل کی ہے ، پھر اگر یہ اس سے منھ موڑیں توجان لو کہ اللہ نے ان کے بعض گناہوں کی پاداش میں ان کو مبتلائے مصیبت کرنے کا ارادہ ہی کرلیا ہے ، اور یہ حقیقت ہے کہ ان لوگوں میں سے اکثر فاسق ہیں۔{۴۹} (اگر یہ اللہ کے قانون سے منھ موڑتے ہیں) تو کیا پھر جاہلیت[83] کا فیصلہ چاہتے ہیں ؟ حالانکہ جو لوگ اللہ پر یقین رکھتے ہیں انکے نزدیک اللہ سے بہتر فیصلہ کرنے والااور کون ہوسکتا ہے؟ {۵۰} اے لوگوجو ایمان لائے ہو!یہودیوں اور عیسائیوں کو اپنا رفیق نہ بنا ؤ ، یہ آپس ہی میں ایک دوسرے کے رفیق ہیں اور اگر تم میں سے کوئی ان کو اپنا رفیق بناتا ہے تو اس کا شمار بھی پھر انہی میں ہے ، یقینا اللہ ظالموں کو اپنی رہنمائی سے محروم کردیتا ہے۔ {۵۱} تم دیکھتے ہو کہ جن کے دلوں میں نفاق کی بیماری ہے وہ انہی میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں ۔ کہتے ہیں’’ہمیں ڈرلگتا ہے کہ کہیں ہم کسی مصیبت کے چکر میں نہ پھنس جائیں۔‘‘ [84]مگر بعید نہیں کہ اللہ جب تمہیں فیصلہ کن فتح بخشے گا یا اپنی طرف سے کوئی اور بات ظاہر کرے[85] گا تو یہ لوگ اپنے اس نفاق پر جسے یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں نادِم ہوں گے۔{ ۵۲} اور اس وقت اہل ایمان کہیں گے ’’ کیا یہ وہی لوگ ہیں جو اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھاکر یقین دلاتے تھے کہ ہم تمہارے ساتھ ہیں ‘‘؟ ان کے سب اعمال ضائع ہوگئے اور آخر کار یہ ناکام و نامراد ہوکررہے ۔[86]{ ۵۳} اے لوگو جو ایمان لائے ہو!اگر تم میں سے کوئی اپنے دین سے پھرتا ہے (تو پھر جائے) اللہ اور بہت سے لوگ ایسے پیدا کردے گا جو اللہ کو محبوب ہوں گے اور اللہ ان کو محبوب ہوگا، جو مومنوں پر نرم اور کفار پر سخت ہوں گے،[87] جو اللہ کی راہ میں جدوجہد کریں گے اور کسی ملامت کرنیوالے کی ملامت سے نہ ڈریں [88]گے۔یہ اللہ کا فضل ہے ، جسے چاہتا ہے عطا کرتا ہے۔ اللہ وسیع ذرائع کا مالک ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔ {۵۴} تمہارے رفیق تو حقیقت میں صرف اللہ اور اللہ کے رسُول ؐ اور وہ اہل ایمان ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں۔ زکوٰۃ دیتے ہیں اور اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں ۔{۵۵} اور جو اللہ اور اس کے رسُول ؐ اور اہل ایمان کو اپنا رفیق بنالے اُسے معلوم ہوکہ اللہ کی جماعت ہی غالب رہنے والی ہے۔{۵۶} اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تمہارے پیش رواہل کتاب میں سے جن لوگوں نے تمہارے دین کو مذاق اور تفریح کا سامان بنالیا ہے، انہیں اوردوسرے کافروں کو اپنا دوست اور رفیق نہ بنا ؤ۔ اللہ سے ڈرو، اگر تم مومن ہو ۔{۵۷} جب تم نماز کے لیے منادی کرتے ہو تو وہ اس کا مذاق اڑاتے اور اس سے کھیلتے ہیں ۔[89] اس کی وجہ یہ ہے کہ وہ عقل نہیں رکھتے۔[90]{۵۸} ان سے کہو: ’’ اے اہل کتاب ! تم جس بات پر ہم سے بگڑے ہو وہ اس کے سوا اور کیا ہے کہ ہم اللہ پر اور دین کی اس تعلیم پر ایمان لے آئے ہیں جو ہماری طرف نازل ہوئی ہے اور ہم سے پہلے بھی نازل ہوئی تھی، اور تم میں سے اکثر لوگ فاسق ہیں‘‘ {۵۹} پھر کہو: ’’ کیا میں اُن لوگوں کی نشان دہی کروں جن کا انجام اللہ کے ہاں فاسقوں کے انجام سے بھی بدتر ہے؟ وہ جن پر اللہ نے لعنت کی ، جن پر اس کا غضب ٹوٹا،جن میں سے بندر اور سوَّر بنائے گئے ، جنہوں نے طاغوت کی بندگی کی ۔ اُن کا درجہ اور بھی زیادہ برا ہے اور وہ سَوَاء ُ السّبیل سے بہت زیادہ بھٹکے ہوئے ہیں‘‘۔[91] {۶۰} جب یہ تم لوگوں کے پاس آتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ، حالانکہ کفر لئے ہوئے آئے تھے اور کفر ہی لئے ہوئے واپس گئے اور اللہ خوب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں۔ {۶۱} تم دیکھتے ہو کہ ان میں سے بکثرت لوگ گناہ اور ظلم و زیادتی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے پھرتے ہیں اور حرام کے مال کھاتے ہیں ۔ بہت بری حرکات ہیں جو یہ کررہے ہیں ۔{ ۶۲} کیوں اُن کے علما ء اور مشائخ انہیں گناہ پر زبان کھولنے اور حرام کھانے سے نہیں روکتے ؟یقینا بہت ہی بُرا کارنامۂ زندگی ہے جو وہ تیار کررہے ہیں۔{ ۶۳} یہودی کہتے ہیں اللہ کے ہاتھ بندھے ہو ئے ہیں [92] باندھے گئے ان کے ہاتھ [93]اور لعنت پڑی ان پر اُس بکو اس کی بدولت جو یہ کرتے ہیں۔[94] اللہ کے ہاتھ توکشادہ ہیں ، جس طرح چاہتا ہے خرچ کرتاہے۔ حقیقت یہ ہے کہ جو کلام تمہارے رَبّ کی طرف سے تم پرنازل ہوا ہے ، وہ ان میں سے اکثر لوگوں کی سرکشی و باطل پرستی میں الٹے اضافہ کا موجب بن گیا[95] ہے ، اور (اس کی پاداش میں) ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے عداوت اور دشمنی ڈال دی ہے ۔ جب کبھی یہ جنگ کی آگ بھڑ کاتے ہیں اللہ اس کو ٹھنڈا کردیتا ہے۔ یہ زمین میں فساد پھیلانے کی سعی کررہے ہیں مگر اللہ فساد برپا کرنے والوں کو ہر گزپسند نہیں کرتا۔ {۶۴} اگر ( اس سرکشی کے بجائے ) یہ اہل ِکتاب ایمان لے آتے اور تقویٰ کی روش اختیار کرتے تو ہم اُن کی برائیاں ان سے دورکردیتے اور اِن کو نعمت بھری جنتوں میں پہنچاتے {۶۵} کاش انہوں نے توراۃ اور انجیل اور ان دوسری کتابوں کو قائم کیا ہوتا جو ان کے رَبّ کی طرف سے ان کے پاس بھیجی گئی تھیں، ایسا کرتے تو ان کے لیے اوپر سے رزق برستا اور نیچے سے اُبلتا ۔[96] اگرچہ اِن میں کچھ لوگ راست روبھی ہیں ، لیکن ان کی اکثریت سخت بدعمل ہے۔ {۶۶} اے پیغمبر ؐ ! جو کچھ تمہارے رَبّ کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ لوگوں تک پہنچا دو۔ اگر تم نے ایسا نہ کیا تو اس کی پیغمبری کا حق ادا نہ کیا۔ اللہ تم کو لوگوں کے شرسے بچانے والا ہے۔ یقین رکھو کہ وہ کافروں کو (تمہارے مقابلے میں) کامیابی کی راہ ہر گزنہ دکھائے گا۔{۶۷} صاف کہہ دو کہ ’’ اے اہل کتاب ! تم ہر گز کسی اصل پر نہیں ہو جب تک کہ توراۃ اور انجیل اور اُن دوسری کتابوں کو قائم نہ کرو جوتمہاری طرف تمہارے رَبّ کی طرف سے نازل کی گئی ہیں۔ ‘‘[97] ضرور ہے کہ یہ فرمان جو تم پر نازل کیا گیا ہے ان میں اکثر کی سرکشی اور انکار کو اور زیادہ بڑھادے گا۔[98] مگر انکار کرنے والوں کے حال پر کچھ افسوس نہ کرو۔{۶۸} (یقین جانو کہ یہاں اجارہ کسی کا بھی نہیں ہے) مسلمان ہوں یا یہُودی ، صابی ہوں یاعیسائی ، جو بھی اللہ اور روز آخر پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا بے شک اس کے لیے نہ کسی خوف کا مقام ہے نہ رنج کا۔[99] {۶۹} ہم نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیا اور ان کی طرف بہت سے رسول بھیجے ۔ مگر جب کبھی ان کے پاس کوئی رسول ان کی خواہشات نفس کے خلاف کچھ لے کر آیاتو کسی کو اُنہوں نے جھٹلایا اور کسی کو قتل کردیا۔{ ۷۰} اور اپنے نزدیک یہ سمجھے کہ کوئی فتنہ رونما نہ ہوگا، اس لیے اندھے اور بہرے بن گئے۔ پھر اللہ نے انہیں معاف کیا تو اُن میں سے اکثر لوگ اور زیادہ اندھے اور بہرے بنتے چلے گئے۔ اللہ ان کی یہ سب حرکات دیکھتا رہا ہے۔ {۷۱} یقینا کفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ مسیح ابن مریم ہی ہے ۔ حالانکہ مسیح ؑ نے کہا تھا کہ ’’ اے بنی اسرائیل ، اللہ کی بندگی کرو جو میرا رَبّ بھی ہے اور تمہارا رَبّ بھی ‘‘۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرایا اس پر اللہ نے جنّت حرام کردی اور اس کا ٹھکانا جہنم ہے اور ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔{۷۲} یقینا کفر کیا ان لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ اللہ تین میں کا ایک ہے ، حالانکہ اُس ایک الٰہ کے سوا کوئی الٰہ نہیں ہے ۔ اگر یہ لوگ اپنی ان باتوں سے بازنہ آئے تو ان میں سے جس جس نے کفر کیا ہے اس کو دردناک سزادی جائے گی۔{۷۳} پھر کیا یہ اللہ سے توبہ نہ کریں گے اور اس سے معافی نہ مانگیں گے؟ اللہ بہت درگزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے۔{ ۷۴} مسیح ابن ؑ مریم اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسول تھا، اس سے پہلے اور بھی بہت سے رسول گزر چکے تھے ، اس کی ماں ایک راست باز عورت تھی ، اور وہ دونوں کھانا کھاتے تھے۔ دیکھو ہم کس طرح ان کے سامنے حقیقت کی نشانیاں واضح کرتے ہیں ، پھر دیکھو یہ کدھر الٹے پھرے جاتے ہیں ۔[100]{۷۵} ان سے کہو ، کیا تم اللہ کو چھوڑ کر اُس کی پرستش کرتے ہو جو نہ تمہارے لئے نقصان کا اختیار رکھتا ہے نہ نفع کا ؟ حالانکہ سب کی سُننے والا اور سب کچھ جاننے والا تو اللہ ہی ہے ۔ {۷۶} کہو :’’اے اہل کتاب ! اپنے دین میں ناحق غُلونہ کرو اور ان لوگوں کے تخیلات کی پیروی نہ کرو جو تم سے پہلے خود گمراہ ہوئے اور بہتوں کو گمراہ کیا اور ’’سواء السبیل ‘‘سے بھٹک گئے۔‘‘[101]{۷۷} بنی اسرائیل میں سے جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی اُن پر دا ؤد ؑ اور عیسیٰ ؑابن مریمؑ کی زبان سے لعنت کی گئی کیونکہ وہ سرکش ہوگئے تھے اور زیادتیاں کرنے لگے تھے{۷۸} اُنہوں نے ایک دُوسرے کو بُرے افعال کے ارتکاب سے روکنا چھوڑ [102]دیا تھا، برُا طرز عمل تھا جو انہوں نے اختیار کیا۔{۷۹} آج تم اُن میں بکثرت ایسے لوگ دیکھتے ہو جو (اہل ایمان کے مقابلے میں ) کفار کی حمایت ورفاقت کرتے ہیں۔یقینا بہت بُرا انجام ہے جس کی تیاری ان کے نفسوں نے اُن کے لیے کی ہے، اللہ ان پر غضب ناک ہوگیا ہے اور وہ دائمی عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں۔{۸۰} اگر فی الواقع یہ لوگ اللہ اور پیغمبر ؐ ! اور اس چیز کے ماننے والے ہوتے جو پیغمبر پر نازل ہوئی تھی تو کبھی (اہل ایمان کے مقابلے میں ) کافروں کو اپنا رفیق نہ بناتے ۔[103] مگر ان میں سے تو بیشتر لوگ اللہ کی اطاعت سے نکل چکے ہیں۔{۸۱}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)