سورۃ الفتح   -  48 : 18-29 / 29اللہ مومنوں سے خوش ہوگیا جب وہ درخت کے نیچے تم سے بیعت کررہے تھے۔[32] ان کے دلوں کا حال اُس کو معلوم تھا اس لیے اُس نے ان پرسکینت نازل فرمائی ،[33] ان کو انعام میں قریبی فتح بخشی {۱۸} اور بہت سامالِ غنیمت انہیں عطا کردیا جسے وہ ( عنقریب ) حاصل کریں گے۔[34] اللہ زبردست اور حکیم ہے ۔{۱۹} اللہ تم سے بکثرت اموالِ غنیمت کا وعدہ کرتا ہے جنہیں تم حاصل کروگے۔ [35]فوری طور پر تو یہ فتح اس نے تمہیں عطا کردی[36] اور لوگوں کے ہاتھ تمہارے خلاف اٹھنے سے روک دیے [37]تا کہ یہ مومنوں کے لیے ایک نشانی بن جائے[38] اور اللہ سیدھے راستے کی طرف تمہیں ہدایت بخشے۔[39]{۲۰} اس کے علاوہ دُوسری اور غنیمتوںکا بھی وہ تم سے وعدہ کرتا ہے جن پر تم ابھی قادر نہیں ہوئے ہو اور اللہ نے ان کو گھیر رکھا ہے۔[40] اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔{۲۱} یہ کافر لوگ اگر اِس وقت تم سے لڑگئے ہوتے تو یقینا پیٹھ پھیرجاتے اور کوئی حامی و مددگارنہ پاتے[41]{ ۲۲} یہ اللہ کی سنت ہے جو پہلے سے چلی آرہی ہے[42] اور تم اللہ کی سنت میں کوئی تبدیلی نہ پا ؤ گے۔ { ۲۳} وہی ہے جس نے مکہّ کی وادی میں اُن کے ہاتھ تم سے اور تمہارے ہاتھ ان سے روک دیے ، حالانکہ وہ اُن پر تمہیں غلبہ عطا کر چکا تھا اور جو کچھ تم کررہے تھے اللہ اسے دیکھ رہا تھا۔{۲۴} وہی لوگ تو ہیں جنہوں نے کفر کیا اور تم کو مسجدِ حرام سے روکا اور ہَدی کے اونٹوں کو اُن کی قربانی کی جگہ نہ پہنچنے دیا ۔[43] اگر ( مکّہ میں ) ایسے مومن مردو عورت موجود نہ ہوتے جنہیں تم نہیں جانتے ، اور یہ خطرہ نہ ہوتا کہ نادانستگی میں تم انہیں پامال کردو گے اور اس سے تم پر حرف آئے گا (تو جنگ نہ روکی جاتی ۔ روکی وہ اس لیے گئی ) تا کہ اللہ اپنی رحمت میں جس کو چاہے داخل کرلے ۔وہ مومن الگ ہوگئے ہوتے تو ( اہلِ مکہّ میں سے ) جو کافر تھے ان کو ہم ضرور سخت سزادیتے۔[44]{۲۵} (یہی وجہ ہے کہ )جب ان کافروں نے اپنے دِلوں میں جاہلانہ حمیت بٹھالی[45] تو اللہ نے اپنے رسول ؐاور مومنوں پر سکینت نازل فرمائی[46] اور مومنوں کو تقویٰ کی بات کا پابندرکھا کہ وہی اس کے زیادہ حق دار اوراُس کے اہل تھے۔ اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔{۲۶} فی الواقع اللہ نے اپنے رسُول اکو سچا خواب دکھا یا تھا جو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق تھا[47]۔ان شاء اللہ [48]تم ضرور مسجدِ حرام میں پورے امن کے ساتھ داخل ہوگے[49] اپنے سرمنڈ وا ؤ گے اور بال تر شوا ؤ گے [50]، اور تمہیں کوئی خوف نہ ہوگا۔ وہ اُس بات کو جانتا تھا جسے تم نہ جانتے تھے اس لیے وہ خواب پورا ہونے سے پہلے اُس نے یہ قریبی فتح تم کو عطا فرما دی۔ {۲۷} وہ اللہ ہی ہے جس نے اپنے رسول ؐکو ہدایت اور دین حق کے ساتھ بھیجا ہے تا کہ اُس کو پوری جنس دین پر غالب کردے اور اس حقیقت پر اللہ کی گواہی کافی ہے[51] {۲۸} نبی ؐ اللہ کے رسول ہیں ، اور جو لوگ ان کے ساتھ ہیں وہ کفار پر سخت[52] اور آپس میں رحیم ہیں۔[53] تم جب دیکھو گے اُنہیں رکوع و سجود ، اور اللہ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی طلب میں مشغو ل پا ؤ گے ۔ سجود کے اثرات ان کے چہروں پر موجود ہیں جن سے وہ الگ پہچانے جاتے ہیں۔[54] یہ ہے اُن کی صفت تو راۃ میں[55] اور انجیل میں اُن کی مثال یوں دی گئی ہے [56]کہ گویا ایک کھیتی ہے جس نے پہلے کو نپل نکالی ،پھر اس کو تقویت دی، پھروہ گدرائی، پھر اپنے تنے پر کھڑی ہوگئی۔ کاشت کرنے والوں کو وہ خوش کرتی ہے تا کہ کفار اُن کے پھلنے پھولنے پر جلیں۔ ا س گروہ کے لوگ جو ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں اللہ نے ان سے مغفرت اور بڑے اجر کا وعدہ فرمایا ہے۔ [57]{۲۹}
سورۃ الحجرات   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 49 : 1-18 / 18اے لوگو جو ایمان لائے ہو !اللہ اوراُس کے رسول ؐکے آگے پیش قدمی نہ کرو[1] اور اللہ سے ڈرو ، اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔[2] {۱} اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اپنی آواز نبی ؐکی آواز سے بلند نہ کرو ، اور نہ نبی ؐکے ساتھ اونچی آواز سے بات کرو جس طرح تم آپس میں ایک دوسرے سے کرتے ہو ،[3]کہیں ایسا نہ ہو کہ تمہارا کیا کرایا سب غارت ہوجائے اور تمہیں خبر بھی نہ ہو۔[4] { ۲} جو لوگ رسُول اللہ ؐکے حضور بات کرتے ہوئے اپنی آواز پست رکھتے ہیں وہ درحقیقت وہی لوگ ہیں جن کے دلوں کو اللہ نے تقویٰ کے لیے جانچ لیا ہے،[5] ان کے لیے مغفرت ہے اور اجرِ عظیم ۔{ ۳} اے نبی ؐ!جو لوگ تمہیں حُجروں کے باہر سے پُکارتے ہیں ان میں سے اکثر بے عقل ہیں۔{ ۴} اگر وہ تمہارے برآمد ہونے تک صبر کرتے تو انہی کے لیے بہترتھا،[6] اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔ [7]{۵} اَے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر کوئی فاسق تمہارے پاس کوئی خبر لے کر آئے تو تحقیق کرلیا کرو ، کہیں ایسا نہ ہو کہ تم کسی گروہ کو نادانستہ نقصان پہنچا بیٹھو اور پھر اپنے کئے پر پشیمان ہو۔ [8]{۶} خوب جان رکھو کہ تمہارے درمیان اللہ کا رسُول ؐ موجود ہے ۔ اگر وہ بہت سے معاملات میں تمہاری بات مان لیا کرے تو تم خود ہی مشکلات میں مبتلا ہوجا ؤ ۔ [9]مگر اللہ نے تم کو ایمان کی محبت دی اور اس کو تمہارے لئے دل پسند بنادیا، اور کفر وفسق اور نافرمانی سے تم کو متنفر کردیا۔ ایسے ہی لوگ راست رو ہیں [10]{۷} اللہ کے فضل و احسان سے، اور یقینا اللہ علیم و حکیم ہے۔[11]{۸} اور اگر اہل ایمان میں سے دو گروہ آپس میں لڑجائیں[12] تو ان کے درمیان صلح کرا ؤ۔[13] پھر اگر ان میں سے ایک گروہ دوسرے گروہ پرزیادتی کرے تو زیادتی کرنے والے سے لڑو [14]یہاں تک کہ وہ اللہ کے حکم کی طرف پلٹ آئے ۔[15] پھر اگر وہ پلٹ آئے تو ان کے درمیان عدل کے ساتھ صلح کرادو۔[16] اور انصاف کرو کہ اللہ انصاف کرنے والوں کو پسند کرتا ہے ۔[17]{۹} مومن تو ایک دوسرے کے بھائی ہیں ،لہٰذا اپنے بھائیوں کے درمیان تعلقات کو درست کرو[18] اور اللہ سے ڈرو ، امید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا۔[19]{۱۰} اے لوگو جو ایمان لائے ہو !نہ مَرد، دوسرے مَردوں کا مذاق اُڑائیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں، اور نہ عورتیں دوسری عورتوں کا مذاق اُڑائیں ، ہوسکتا ہے کہ وہ ان سے بہتر ہوں۔[20]آپس میں ایک دوسرے پر طعن نہ کرو [21] اور نہ ایک دوسرے کو بُرے القاب سے یاد کرو۔[22]ایمان لانے کے بعد فسق میں نام پیدا کرنا بہت بُری بات ہے۔ [23]جو لوگ اس روش سے باز نہ آئیںوہ ظالم ہیں۔{۱۱} اے لوگو جو ایمان لائے ہو !بہت گمان کرنے سے پرہیز کرو کہ بعض گمان گناہ ہوتے ہیں۔ تجسس نہ کرو۔[25] ا ور تم میں سے کوئی کسی کی غیبت نہ کرے۔[26] کیا تمہارے اندر کوئی ایسا ہے جو اپنے مرے ہوئے بھائی کا گوشت کھانا پسند کرے گا ؟[27] تم خود اس سے گِھن کھاتے ہو۔ اللہ سے ڈرو ،اللہ بڑا تو بہ قبول کرنے والا اور رحیم ہے ۔{۱۲} لوگو !ہم نے تم کو ایک مرد اور ایک عورت سے پیدا کیا اور پھر تمہاری قومیں اور برادریاں بنادیں تا کہ تم ایک دوسرے کو پہچانو ۔ درحقیقت اللہ کے نزدیک تم میں سب سے زیادہ عزت والا وہ ہے جو تمہارے اندر سب سے زیادہ پرہیز گار ہے ۔ [28]یقینا اللہ سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے ۔[29]{۱۳} یہ بدوی کہتے ہیں کہ ’’ ہم ایمان لائے ‘‘ ۔[30] اِن سے کہو ، تم ایمان نہیں لائے، بلکہ یوں کہو کہ ’’ ہم مطیع ہوگئے ۔‘‘[31] ایمان ابھی تمہارے دلوں میں داخل نہیں ہوا ہے ، اگر تم اللہ اور اس کے رسول ؐکی فرمانبرداری اختیار کرلو تو وہ تمہارے اعمال کے اجر میں کوئی کمی نہ کرے گا ، یقینا اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔ {۱۴} حقیقت میں تو مومن وہ ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ؐپر ایمان لائے پھر انہوں نے کوئی شک نہ کیا اور اپنی جانوں اور مالوں سے اللہ کی راہ میں جہاد کیا ۔ وہی سچے لوگ ہیں۔{۱۵} اے نبی ؐ! اِن (مدعیان ایمان) سے کہو ، کیا تم اللہ کو اپنے دین کی اطلاع دے رہے ہو ؟ حالاں کہ اللہ ز مین اور آسمانوں کی ہرچیز کو جانتا ہے اور ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔{۱۶} یہ لوگ تم پر احسان جتاتے ہیں کہ انہوں نے اسلام قبول کرلیا ان سے کہو اپنے اسلام کا احسان مجھ پر نہ رکھو ، بلکہ اللہ تم پر اپنا احسان رکھتا ہے کہ اس نے تمہیں ایمان کی ہدایت دی اگر تم واقعی اپنے ( دعوائے ایمان میں)سچے ہو۔{۱۷} اللہ زمین اور آسمانوں کی ہر پوشیدہ چیز کا علم رکھتا ہے اور جو کچھ تم کرتے ہو وہ سب اس کی نگاہ میں ہے۔{۱۸}
سورۃ قٓ   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 50 : 1-45 / 45قٓ ۔ قسم ہے قرآن مجید کی۔ [1]{۱} بلکہ اِن لوگوں کو تعجب اِس بات پر ہوا کہ ایک خبردار کرنے والا خود اِنہی میں سے اِن کے پاس آگیا۔[2] پھر منکرین کہنے لگے ’’ یہ تو عجیب بات ہے {۲} کیا جب ہم مرجائیں گے اور خاک ہوجائیں گے ( تو دوبارہ اٹھائے جائیں گے) یہ واپسی تو عقل سے بعید ہے‘‘[3] {۳} (حالانکہ ) زمین اِن کے جسم میں سے جو کچھ کھاتی ہے وہ سب ہمارے علم میں ہے اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے جس میں سب کچھ محفوظ ہے۔[4]{۴} بلکہ اِن لوگوں نے تو جس وقت حق اِن کے پاس آیا اُسی وقت اسے صاف جھٹلادیا۔ اسی وجہ سے اب یہ الجھن میں پڑے ہوئے ہیں۔[5] {۵} اچھا[6] ، تو کیا اِنہوں نے کبھی اپنے اوپر آسمان کی طرف نہیں دیکھا ؟ کس طرح ہم نے اسے بنایا اور آراستہ کیا ،[7] اور اس میں کہیں کوئی رخنہ نہیں ہے۔[8]{۶} اور زمین کو ہم نے بچھایا اور اس میں پہاڑ جمائے اور اُس کے اندر ہر طرح کی خوش منظر نباتات اُگادیں[9] {۷} یہ ساری چیزیں آنکھیں کھولنے والی اور سبق دینے والی ہیں ہر اُس بندے کے لیے جو(حق کی طرف) رجوع کرنے والا ہو۔{۸} اور آسمان سے ہم نے برکت والا پانی نازل کیا ، پھر اس سے باغ اور (کٹنے والی ) فصل کے غلے (اُگائے) {۹} اور بلند و بالا کھجور کے درخت پیدا کردیے جن پر پھلوں سے لدے ہوئے خوشے تہ برتہ لگتے ہیں۔{۱۰} یہ انتظام ہے بندوں کو رزق دینے کا ۔ اس پانی سے ہم ایک مُردہ زمین کو زندگی بخش دیتے ہیں[10] (مرے ہوئے انسانوں کا زمین سے ) نکلنا بھی اِسی طرح ہوگا۔[11]{۱۱} ان سے پہلے نوحؑ کی قوم ، اور اصحاب اَلرّس [12]اور ثمودجھٹلا چکے ہیں{۱۲} اور عاد اور فرعون[13] اور لُوط ؑکے بھائی {۱۳} اور ایکہ والے اور تُبّع کی قوم [14]کے لوگ بھی جھٹلا چکے ہیں ۔[15] ہر ایک نے رسولوں کو جھٹلایا [16]اور آخر کار میری وعید اُن پر چسپاں ہوگئی۔[17] {۱۴} کیا پہلی بار کی تخلیق سے ہم عاجز تھے؟ مگر ایک نئی تخلیق کی طرف سے یہ لوگ شک میں پڑے ہوئے ہیں۔[18]{۱۵} ہم [19]نے انسان کو پیدا کیا ہے اور اُس کے دل میں اُبھرنے والے وسوسوں تک کو ہم جانتے ہیں۔ ہم اس کی رگِ گردن سے بھی زیادہ اُس سے قریب ہیں۔ [20]{۱۶} ( اور ہمارے اِس براہِ راست علم کے علاوہ ) دوکاتب اِس کے دائیں اور بائیں بیٹھے ہرچیز ثبت کررہے ہیں۔{۱۷} کوئی لفظ اس کی زبان سے نہیں نکلتا جسے محفوظ کرنے کے لیے ایک حاضر باش نگراں موجود نہ ہو۔[21]{۱۸} پھر دیکھو ، وہ موت کی جاں کنی حق لے کر آپہنچی ،[22] یہ وہی چیز ہے جس سے تُو بھاگتا تھا۔[23]{۱۹} اور پھر صور پھونکا گیا ، [24]یہ ہے وہ دن جس کا تجھے خوف دلا یا جاتا تھا۔{۲۰} ہر شخص اِس حال میں آگیا کہ اُسکے ساتھ ایک ہانک کر لانے والا ہے اور ایک گواہی دینے والا۔[25]{۲۱} اِس چیز کی طرف سے تو غفلت میں تھا ، ہم نے وہ پردہ ہٹا دیا جو تیرے آگے پڑا ہوا تھا اور آج تیری نگاہ خوب تیز ہے ۔[26]{۲۲} اس کے ساتھی نے عرض کیا یہ جومیری سپردگی میں تھا حاضر ہے۔[27]{ ۲۳} حکم دیا گیا پھینک دو جہنم میں [28]ہر کٹّے کافر [29]کو جو حق سے عنادرکھتا تھا {۲۴} خیر کو روکنے والا[30] اور حد سے تجاوز کرنے والا تھا۔ [31]شک میں پڑا ہوا تھا[32]{۲۵} اور اللہ کے ساتھ کسی دوسرے کومعبُود بنائے بیٹھا تھا ۔ ڈال دو اُسے سخت عذاب میں۔[33]{۲۶} اُس کے ساتھی نے عرض کیا ’’اے ہمارے رَبّ! میں نے اِس کو سرکش نہیں بنایا ، بلکہ یہ خود ہی پرلے درجہ کی گمراہی میں پڑا تھا‘‘۔[34]{۲۷} جواب میں ارشاد ہوا ’’ میرے حضور جھگڑا نہ کرو میں تم کو پہلے ہی انجام ِ بد سے خبر دار کرچکا تھا۔[35]{۲۸} میرے ہاں بات پلٹی نہیں جاتی [36]اور میں اپنے بندوں پر ظلم توڑنے والا نہیں ہوں ‘‘۔[37]{۲۹} وہ دن جب کہ ہم جہنم سے پوچھیں گے کیا تو بھر گئی ؟ اور وہ کہے گی کیا اور کچھ ہے؟[38] {۳۰} اور جنت متقین کے قریب لے آئی جائے گی، کچھ بھی دور نہ ہوگی۔[39]{۳۱} ارشادہوگا :’’ یہ ہے وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا ، ہراُس شخص کے لیے جو بہت رجوع کرنیوالا[40] اور بڑی نگہداشت کرنے والا تھا [41]{۳۲} جو بے دیکھے رحمن سے ڈرتا تھا[42] اور جو دِلِ گرویدہ لئے ہوئے آیا ہے۔[43]{۳۳} ’’داخل ہوجا ؤ جنّت میں سلامتی کے ساتھ ‘‘۔[44] وہ دن حیات ِابدی کا دن ہوگا۔{۳۴} وہاں ان کے لیے وہ سب کچھ ہوگا جووہ چاہیں گے ، اور ہمارے پاس اس سے زیادہ بھی بہت کچھ اُن کے لیے ہے ۔[45]{۳۵} ہم اِن سے پہلے بہت سی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جو اِن سے بہت زیادہ طاقت ور تھیں اور دنیا کے ملکوں کو اُنہوں نے چھان مارا تھا۔ [46]پھر کیا وہ کوئی جائے پناہ پاسکے ؟ [47]{۳۶} اس تاریخ میں عبرت کا سبق ہے ہر اُس شخص کے لیے جو دل رکھتا ہو یا جو توجہ سے بات کو[48] سُنے۔{۳۷} ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن کے درمیان کی ساری چیزوں کو چھ دنوں میں پیدا کردیا [49]اور ہمیں کوئی تکان لاحق نہ ہوئی۔ {۳۸} پس اے نبی ؐ! جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں ان پر صبر کرو ،[50] اور اپنے رَبّ کی حمد کے ساتھ اُ س کی تسبیح کرتے رہو طلوع ِآفتاب اور غروب ِآفتاب سے پہلے۔ {۳۹} اور رات کے وقت پھر اُس کی تسبیح کرو اور سجدہ ریز یوں سے فارغ ہونے کے بعد بھی۔ [51]{۴۰} اور سُنو :جس دن منادی کرنے والا ( ہر شخص کے ) قریب ہی سے پکارے گا [52]{۴۱} جس دن سب لوگ آوازۂ حشر کو ٹھیک ٹھیک سُن رہے ہوں گے ،[53] وہ زمین سے مُردوں کے نکلنے کا دن ہوگا ۔{۴۲} ہم ہی زندگی بخشتے ہیں اور ہم ہی موت دیتے ہیں ،اور ہماری طرف ہی اُس دن سب کو پلٹنا ہے{۴۳} جب زمین پھٹے گی اور لوگ اس کے اندر سے نکل کرتیز تیز بھاگے جارہے ہوں گے۔یہ حشر ہمارے لئے بہت آسان ہے ۔ [54]{۴۴} اے نبی ؐ!جو باتیں یہ لوگ بنارہے ہیں انہیں ہم خوب جانتے ہیں [55]، اور تمہارا کام ان سے جبراً بات منوانا نہیں ہے، بس تم اس قرآن کے ذریعہ سے ہر اُس شخص کو نصیحت کردو جو میری تنبیہ سے ڈرے۔[56] {۴۵}
سورۃ الذٰریٰت   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 51 : 1-30 / 60قسم ہے اُن ہوا ؤں کی جو گر داُڑانے والی ہیں{۱} پھر پانی سے لدے ہوئے بادل اٹھانے والی ہیں[1] {۲} پھر سُبک رفتاری کیساتھ چلنے والی ہیں{۳} پھر ایک بڑے کام (بارش ) کی تقسیم کرنے والی ہیں[2] {۴} حق یہ ہے کہ جس چیز کا تمہیں خوف دلا یا جارہا ہے[3] وہ سچی ہے{۵} اور جزائے اعمال ضرور پیش آنی ہے۔[4] {۶} قسم ہے متفرق شکلوں والے آسمان کی [5]{۷} (آخرت کے بارے میں ) تمہاری بات ایک دوسرے سے مختلف ہے ۔[6]{۸} اُس سے وہی برگشتہ ہوتا ہے جو حق سے پھر اہوا ہے۔[7] {۹} مارے گئے قیاس وگمان سے حکم لگانے والے[8] {۱۰} جو جہالت میں غرق اور غفلت میں مدہوش ہیں۔ [9]{۱۱} پوچھتے ہیں: آخر وہ روزِ جزا کب آئے گا ؟{۱۲} وہ اُس روز آئے گا جب یہ لوگ آگ پر تپائے جائیں گے۔[10]{۱۳} ( اِن سے کہا جائے گا) اب چکھو مزہ اپنے فتنے کا ،[11] یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچار ہے تھے ۔ [12]{۱۴} البتہ متقی لوگ [13]اُس روز باغوں اور چشموں میں ہوں گے۔{۱۵} جو کچھ اُن کا رَبّ انہیں دے گا اسے خوشی خوشی لے رہے ہوں گے ۔[14] وہ اس دن کے آنے سے پہلے نیکو کار تھے {۱۶} راتوں کو کم ہی سوتے تھے [15]{۱۷} پھر وہی رات کے پچھلے پہروں میں معافی مانگتے تھے[16]{۱۸} اور اُن کے مالوں میں حق تھا سائل اور محروم کے لیے [17]{۱۹} زمین میں بہت سی نشانیاں ہیں یقین لانے والوں کے لیے[18]{۲۰} اور خود تمہارے اپنے وجود میں ہیں۔[19]کیا تم کو سُوجھتا نہیں؟ {۲۱} آسمان ہی میں ہے تمہارا رزق بھی اور وہ چیز بھی جس کاتم سے وعدہ کیا جارہا ہے۔[20] {۲۲} پس قسم ہے آسمان اور زمین کے مالک کی ، یہ بات حق ہے ، ایسی ہی یقینی جیسے تم بول رہے ہو[21]{۲۳} ( اے نبی ؐ!)کیا ابراہیم ؑ کے معزز مہمانوں کی حکایت بھی تمہیں پہنچی ہے ؟[22] {۲۴} جب وہ اُس کے ہاں آئے تو کہا آپ کو سلام ہے۔ اُس نے کہا ’’ آپ لوگوں کو بھی سلام ہے ،[23]کچھ نا آشنا سے لوگ ہیں‘‘{۲۵} پھر وہ چپکے سے اپنے گھروالوں کے پاس گیا،[24] اور ایک (بھنا ہوا ) موٹا تازہ بچھڑا[25] لایا{۲۶} (بچھڑے کا گوشت) لا کر مہمانوں کے آگے پیش کیا ۔ اُس نے کہا آپ حضرات کھاتے نہیں ؟{۲۷} پھر وہ اپنے دل میں اُن سے ڈرا ۔[26] انہوں نے کہا ڈریے نہیں ، اور اسے ایک علیم (ذی علم) لڑکے کی پیدائش کا مژدہ سنایا ۔[27] {۲۸} یہ سُن کر اس کی بیوی چیختی ہوئی آگے بڑھی اور اس نے اپنا منہ پیٹ لیا اور کہنے لگی ، بوڑھی ، بانجھ ! [28]{۲۹} انہوں نے کہا ’’ یہی کچھ فرمایا ہے تیرے رَبّ نے ، وہ حکیم ہے اور سب کچھ جانتا ہے‘‘۔[29]{۳۰}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)