سورۃ الاحقاف   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 46 : 1-35 / 35 حٰمٓ {۱} اِس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے۔[1]{ ۲} ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جواُن کے درمیان ہیں برحق، اور ایک مدّتِ خاص کے تعین کے ساتھ پیدا کیا ہے۔[2] مگر یہ کافر لوگ اُس حقیقت سے منھ موڑے ہوئے ہیں جس سے ان کو خبردار کیا گیا ہے۔[3]{ ۳} اے نبی ؐ! اِن سے کہو:’’ کبھی تم نے آنکھیں کھول کردیکھا بھی کہ وہ ہستیاں ہیں کیا جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو ؟ ذرا مجھے دکھا ؤ تو سہی کہ زمین میں انہوں نے کیا پیدا کیا ہے ؟ یا آسمانوں کی تخلیق وتدبیر میں ان کا کوئی حصّہ ہے؟ اِس سے پہلے آئی ہوئی کوئی کتاب یا علم کا کوئی بقیہ ( اِن عقائد کے ثبوت میں ) تمہارے پاس ہو تو وہی لے آ ؤ، اگر تم سچے ہو‘‘۔[4]{۴} آخر اس شخص سے زیادہ بہکا ہوا انسان اور کون ہوگا جو اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پُکارے جو قیامت تک اسے جواب نہیں دے سکتے،[5] بلکہ اِس سے بھی بے خبر ہیں کہ پکارنے والے ان کو پُکار رہے ہیں [6]{۵} اور جب تمام انسان جمع کئے جائیں گے اس وقت وہ اپنے پکارنے والوں کے دشمن اور ان کی عبادت کے منکر ہوں گے ۔[7]{۶} اِن لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سُنائی جاتی ہیں اور حق اِن کے سامنے آجاتا ہے تو یہ کافر لوگ اُس کے متعلق کہتے ہیں کہ یہ تو کُھلا جادو ہے۔[8]{۷} کیا اُن کا کہنا یہ ہے کہ رسُول نے اِسے خود گھڑلیا ہے ؟[9] اِن سے کہو:’’ اگر میں نے اِسے خود گھڑلیا ہے تو تم مجھے اللہ کی پکڑسے کچھ بھی نہ بچا سکو گے ، جو باتیں تم بناتے ہو اللہ ان کو خوب جانتا ہے ، میرے اور تمہارے درمیان وہی گواہی دینے کے لیے کافی ہے ،[10] اور وہ بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔‘‘[11]{۸} اِن سے کہو:’’ میں کوئی نِرالا رسُول تو نہیں ہوں، میں نہیں جانتا کہ کل تمہارے ساتھ کیا ہونا ہے اور میرے ساتھ کیا ،میں تو صرف اُس وحی کی پیروی کرتا ہوں جو میرے پاس بھیجی جاتی ہے اور میں ایک صاف صاف خبردار کردینے والے کے سوا اور کچھ نہیں ہوں‘‘[12]{۹} اے نبی ؐ!ان سے کہو: ’’ کبھی تم نے سوچا بھی کہ اگر یہ کلام اللہ ہی کی طرف سے ہو اور تم نے اس کا انکار کردیا ( تو تمہارا کیا انجام ہوگا)؟ [13] اور اس جیسے ایک کلام پر تو بنی اسرائیل کا ایک گواہ شہادت بھی دے چکا ہے۔ وہ ایمان لے آیا اور تم اپنے گھمنڈ میں پڑے رہے [14]ایسے ظالموں کو اللہ ہدایت نہیں دیا کرتا ‘‘۔{۱۰} جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ ایمان لانے والوں کے متعلق کہتے ہیں کہ اگر اس کتاب کو مان لینا کوئی اچھا کام ہوتا تو یہ لوگ اِس معاملے میں ہم سے سبقت نہ لے جاسکتے تھے۔[15] چونکہ اِنہوں نے اُس سے ہدایت نہ پائی اس لیے اب یہ ضرور کہیں گے کہ یہ تو پُرانا جھوٹ ہے [16]{۱۱} حالانکہ اس سے پہلے موسیٰ ؑ کی کتاب رہنما اور رحمت بن کر آچکی ہے اور یہ کتاب اُس کی تصدیق کرنے والی زبانِ عربی میں آئی ہے تا کہ ظالموں کو متنبہ کردے[17] اور نیک روش اختیار کرنے والوں کو بشارت دے دے { ۱۲} یقینا جن لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ ہی ہمارا رَبّ ہے ، پھر اُس پر جم گئے ، اُن کے لیے نہ کوئی خوف ہے اور نہ وہ غمگین ہوں گے[18]{ ۱۳} ایسے لوگ جنّت میں جانے والے ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ، اپنے اُن اعمال کے بدلے جو وہ دنیا میں کرتے رہے ہیں۔{۱۴} ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ وہ اپنے والدین کے ساتھ نیک برتا ؤ کرے۔ اُس کی ماں نے مشقت اُٹھا کر اُسے پیٹ میں رکھا اور مشقت اُٹھا کر ہی اس کو جنا ، اور اس کے حمل اور دُودھ چھڑانے میں تیس(۳۰) مہینے لگ گئے۔ [19]یہاں تک کہ جب وہ اپنی پوری طاقت کو پہنچا اور چالیس (۴۰)سال کا ہوگیا تو اُس نے کہا ’’ اے میرے رَبّ ! مجھے توفیق دے کہ میں تیری اُن نعمتوں کا شکر ادا کروں جو تونے مجھے اور میرے والدین کو عطا فرمائیں، اور ایسا نیک عمل کروں جس سے تو راضی ہو ،[20] اور میری اولاد کو بھی نیک بناکر مجھے سکھ دے ، میں تیرے حضور توبہ کرتا ہوں اور تابع فرمان ( مسلم ) بندوں میں سے ہوں ۔‘‘{۱۵} اِس طرح کے لوگوں سے ہم اُن کے بہترین اعمال کو قبول کرتے ہیں اور اُن کی بُرائیوں سے درگزر کر جاتے ہیں۔[21] یہ جنتی لوگوں میں شامل ہوں گے اُس سچّے وعدے کے مطابق جو ان سے کیا جاتا رہا ہے {۱۶} اور جس شخص نے اپنے والدین سے کہا ’’ اُف ، تنگ کردیا تم نے ، کیا تم مجھے یہ خوف دلاتے ہو کہ میں مرنے کے بعد قبر سے نکالا جا ؤں گا ؟ حالانکہ مجھ سے پہلے بہت سی نسلیں گزر چکی ہیں۔ (اُن میں سے تو کوئی اُٹھ کرنہ آیا)‘‘۔ ماں اور باپ اللہ کی دوہائی دے کرکہتے ہیں ’’ ارے بدنصیب! مان جا ، اللہ کا وعدہ سچا ہے۔ ‘‘ مگر وہ کہتا ہے ’’ یہ سب اگلے وقتوں کی فرسُودہ کہانیاں ہیں ‘‘۔{۱۷} یہ لوگ ہیں جن پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہوچکا ہے ۔ اِن سے پہلے جِنّوں اور انسانوں کے جو ٹولے ( اسی قماش کے ) ہوگزرے ہیں اُنہی میں یہ بھی جا شامل ہوں گے، بے شک یہ گھاٹے میں رہ جانے والے لوگ ہیں۔[22] {۱۸} دونوں گروہوں میں سے ہر ایک کے درجے اُن کے اعمال کے لحاظ سے ہیں تا کہ اللہ ان کے کئے کاپورا پورا بدلہ ان کو دے ۔ ان پر ظلم ہر گزنہ کیا جائے گا[23]{۱۹} پھر جب یہ کافر آگ کے سامنے لاکھڑے کئے جائیں گے تو ان سے کہا جائے گا ۔ ’’تم اپنے حصے کی نعمتیں اپنی دنیا کی زندگی میں ختم کرچکے اور ان کا لطف تم نے اٹھالیا ، اب جو تکبر تم زمین میں کسی حق کے بغیر کرتے رہے اور جو نافرمانیاں تم نے کیں اُن کی پاداش میں آج تم کو ذِلت کا عذاب دیا جائے گا۔‘‘[24]{۲۰} ذرا انہیں عاد کے بھائی( ہودؑ) کا قصہ سُنا ؤ جب کہ اُس نے احقاف میں اپنی قوم کو خبردار کیا تھا۔ اور [25]ایسے خبردار کرنے والے اُس سے پہلے بھی گزرچکے تھے اور اس کے بعد بھی آتے رہے کہ ’’ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو ، مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب کا اندیشہ ہے ‘‘۔ {۲۱} انہوں نے کہا ’’ کیا تو اِس لئے آیا کہ ہمیں بہکاکر ہمارے معبُودوں سے برگشتہ کردے ؟ اچھا تو لے آ اپنا وہ عذاب جس سے تو ہمیں ڈراتا ہے اگر واقعی تو سچا ہے۔‘‘{۲۲} اُس نے کہا’’ اِس کا علم تو اللہ کو ہے، [26]میں صرف وہ پیغام تمہیں پہنچا رہا ہوں جسے دے کر مجھے بھیجا گیا ہے مگر میں دیکھ رہا ہوں کہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو۔ ‘‘[27]{۲۳} پھر جب انہوں نے اُس عذاب کو اپنی وادیوں کی طرف آتے دیکھا تو کہنے لگے ’’ یہ بادل ہے جو ہم کو سیراب کردے گا‘‘، ’’ نہیں،[28] بلکہ یہ وہی چیز ہے جس کے لیے تم جلدی مچارہے تھے۔ یہ ہوا کا طوفان ہے جس میں درد ناک عذاب چلا آرہا ہے {۲۴} اپنے رَبّ کے حکم سے ہر چیز کو تباہ کر ڈالے گا ۔‘‘ آخر کار اُن کا حال یہ ہوا کہ اُن کے رہنے کی جگہوں کے سواوہاں کچھ نظر نہ آتا تھا ۔ اِس طرح ہم مجرموں کو بدلہ دیا کرتے ہیں ۔[29]{۲۵} اُن کو ہم نے وہ کچھ دیا تھا جو تم لوگوں کو نہیں دیا ہے۔[30] اُن کو ہم نے کان ، آنکھیں اور دل ، سب کچھ دے رکھے تھے ، مگر نہ وہ کان اُن کے کسی کام آئے ، نہ آنکھیں ، نہ دل ، کیونکہ وہ اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے ،[31] اور اُسی چیز کے پھیر میں وہ آگئے جس کا وہ مذاق اُڑاتے تھے۔{۲۶} تمہارے گردو پیش کے علاقوں میں بہت سی بستیوں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں۔ ہم نے اپنی آیات بھیج کر بار بار طرح طرح سے اُن کو سمجھایا ، شاید کہ وہ باز آجائیں۔ {۲۷} پھر کیوں نہ اُن ہستیوں نے اُن کی مدد کی جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے تقرب اِلی اللہ کا ذریعہ سمجھتے ہوئے معبُود بنالیا تھا؟[32] بلکہ وہ تو ان سے کھوئے گئے ، اور یہ تھا اُن کے جھوٹ اور ان بناوٹی عقیدوں کا ا نجام جو انہو ں نے گھڑرکھے تھے۔{۲۸} ( اور وہ واقعہ بھی قابلِ ذکر ہے ) جب ہم جنوں کے ایک گروہ کو تمہاری طرف لے آئے تھے تا کہ قرآن سنیں۔[33] جب وہ اُس جگہ پہنچے ( جہاں تم قرآن پڑھ رہے تھے) تو اُنہوں نے آپس میں کہا خاموش ہوجا ؤ ۔ پھر جب وہ پڑھا جاچکا تو وہ خبردار کرنے والے بن کر اپنی قوم کی طرف پلٹے۔ {۲۹} انہوں نے جا کر کہا: ’’ اے ہماری قوم کے لوگو !ہم نے ایک کتاب سُنی ہے جو موسیٰ ؑ کے بعد نازل کی گئی ہے ، تصدیق کرنے والی ہے اپنے سے پہلے آئی ہوئی کتابوں کی ، رہنمائی کرتی ہے حق اور راہِ راست کی طرف ۔ [34]{۳۰} اے ہماری قوم کے لوگو ! اللہ کی طرف بُلانے والے کی دعوت قبول کرلو اور اُس پر ایمان لے آ ؤ ، اللہ تمہارے گناہوں سے درگزر فرمائے گا اور تمہیں عذاب الیم سے بچادے گا ‘‘ ۔[35]{۳۱} اور [36]جو کوئی اللہ کے داعی کی بات نہ مانے وہ نہ زمین میں خود کوئی بل بوتا رکھتا ہے کہ اللہ کوعاجز( زِچ) کردے اور نہ اس کے کوئی ایسے حامی و سرپرست ہیں کہ اللہ سے اس کو بچالیں ۔ ایسے لوگ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔ {۳۲} اور کیا اِن لوگوں کو یہ سُجھائی نہیں دیتا کہ جس اللہ نے یہ زمین اور آسمان پیدا کئے اور اُن کو بناتے ہوئے وہ نہ تھکا، وہ ضرور اِس پر قادر ہے کہ مُردوں کو جِلا اُٹھائے ؟ کیوں نہیں یقینا وہ ہر چیز کی قدرت رکھتا ہے ۔{ ۳۳} جس روزیہ کافر آگ کے سامنے لائے جائیں گے ،اُس وقت اِن سے پوچھا جائے گا ’’ کیا یہ حق نہیں ہے ؟‘‘ یہ کہیں گے ’’ ہاں ، ہمارے رَبّ کی قسم ( یہ واقعی حق ہے ) ‘‘ اللہ فرمائے گا ’’ اچھا تو اب عذاب کا مزہ چکھو اپنے اُس انکار کی پاداش میں جو تم کرتے رہے تھے‘‘۔{۳۴} پس اے نبی ؐ صبر کرو جس طرح اُولوالعزم رسُولوں ؑنے صبر کیا ہے ، اور اِن کے معاملہ میں جلدی نہ کرو ۔ [37]جس روز یہ لوگ اُس چیز کو دیکھ لیں گے جس کا اِنہیں خوف دلا یا جارہا ہے تو اِنہیں یوں معلوم ہوگا کہ جیسے دنیا میں دن کی ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں رہے تھے۔ بات پہنچادی گئی ، اب کیا نافرمان لوگوں کے سوا اور کوئی ہلاک ہوگا؟{۳۵}
سورۃ محمَّد   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 47 : 1-38 / 38جن لوگوں نے کفر کیا[1] اور اللہ کے راستے سے روکا ،[2] اللہ نے ان کے اعمال کو رائیگاں کردیا۔[3]{ ۱ } اور جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے اوراُس چیز کو مان لیا جو محمد ؐ پر نازل ہوئی ہے۔ اور [4]ہے وہ سراسر حق اُن کے رَبّ کی طرف سے۔ اللہ نے اُن کی بُرائیاں اُن سے دور کردیں[5] اور ان کا حال درست کردیا۔[6]{۲} یہ اس لیے کہ کفر کرنے والوں نے باطل کی پیروی کی اور ایمان لانے والوں نے اُس حق کی پیروی کی جو ان کے رَبّ کی طرف سے آیا ہے۔ اس طرح اللہ لوگوں کو اُن کی ٹھیک ٹھیک حیثیت بتائے دیتا ہے[7]{ ۳} پس جب ان کافروں سے تمہاری مڈبھیڑ ہو تو پہلا کام گردنیں مارنا ہے ، یہاں تک کہ جب تم اُن کو اچھی طرح کچل دو تب قیدیوں کو مضبوط باندھو ، اس کے بعد ( تمہیں اختیار ہے) احسان کرویا فدیے کا معاملہ کرلو تا آنکہ لڑائی اپنے ہتھیار ڈال دے۔[8] ( یہ ہے تمہارے کرنے کا کام )۔ اللہ چاہتا تو خود ہی ان سے نمٹ لیتا ، مگر (یہ طریقہ اُس نے اس لیے اختیار کیا ہے) تا کہ تم لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ سے آزمائے [9]اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں گے اللہ ان کے اعمال کو ہر گز ضائع نہ کرے گا ۔[10]{۴} وہ ان کی رہنمائی فرمائے گا ان کا حال دُرست کردے گا {۵} اوراُن کو اُس جنّت میں داخل کرے گا جس سے وہ اُن کو واقف کراچکا ہے[11]{۶} اے لوگو جو ایمان لائے ہو! اگر تم اللہ کی مدد کرو گے تو وہ تمہاری مدد کرے گا [12]اور تمہارے قدم مضبوط جمادے گا {۷} رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے ، تو اُن کے لیے ہلاکت ہے[13] اور اللہ نے ان کے اعمال کو بھٹکا دیا ہے{۸} کیونکہ انہوں نے اس چیز کو ناپسند کیا جسے اللہ نے نازل کیا ہے ،[14] لہٰذا اللہ نے اُن کے اعمال ضائع کردیے۔{۹} کیا وہ زمین میں چلے پھرے نہ تھے کہ اُن لوگوں کا انجام دیکھتے جو ان سے پہلے گزر چکے ہیں ؟ اللہ نے اُن کا سب کچھ اُن پراُلٹ دیا اور ایسے ہی نتائج اِن کافروں کے لیے مقدر ہیں۔[15] {۱۰} یہ اس لیے کہ ایمان لانے والوں کا حامی وناصر اللہ ہے اور کافروں کا حامی وناصر کوئی نہیں۔[16]{۱۱} ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو اللہ اُن جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، اور کفر کرنے والے بس دنیا کی چندروزہ زندگی کے مزے لوٹ رہے ہیں ، جانوروں کی طرح کھاپی رہے ہیں،[17] اور اُن کا آخری ٹھکا نا جہنم ہے۔{۱۲} اے نبی ؐ!کتنی ہی بستیاں ایسی گزرچکی ہیں جو تمہاری اُس بستی سے بہت زیادہ زور آور تھیں جس نے تمہیں نکال دیا ہے ۔ اُنہیں ہم نے اِس طرح ہلاک کردیا کہ کوئی اُن کا بچانے والا نہ تھا [18]{۱۳} بھلا کہیں ایسا ہوسکتا ہے کہ جو اپنے رَبّ کی طرف سے ایک صاف وصریح ہدایت پر ہو ، وہ اُن لوگوں کی طرح ہوجائے جن کے لیے اُن کا بُرا عمل خوشنما بنادیا گیا ہے اور وہ اپنی خواہشات کے پیرو بن گئے ہیں۔[19]{۱۴} پرہیز گار لوگوں کے لیے جس جنّت کا وعدہ کیا گیا ہے اس کی شان تو یہ ہے کہ اس میں نہریں بہہ رہی ہوں گی نتھرے ہوئے پانی کی ،[20] نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسے دُودھ کی جس کے مزے میں ذرا فرق نہ آیاہوگا [21]، نہریں بہہ رہی ہوں گی ایسی شراب کی جو پینے والوں کے لیے لذیذ ہوگی ،[22] نہریں بہہ رہی ہوں گی صاف شفاف شہد کی[23] اُس میں اُن کے لیے ہر طرح کے پھل ہوں گے اور اُن کے رَبّ کی طرف سے بخشش[24] (کیا وہ شخص جس کے حصہ میں یہ جنّت آنے والی ہے) اُن لوگوں کی طرح ہوسکتا ہے جو جہنم میں ہمیشہ رہیں گے اور جنہیں ایسا گرم پانی پلایا جائے گا جو ان کی آنتیں تک کاٹ دے گا؟{۱۵} ان میں سے کچھ لوگ ایسے ہیں جو کان لگا کر تمہاری بات سنتے ہیں اور پھر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو اُن لوگوں سے جنہیں علم کی نعمت بخشی گئی ہے پوچھتے ہیں کہ ابھی ابھی انہوں نے کیا کہا تھا ؟[25] یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں پر اللہ نے ٹھپا لگادیا ہے اور یہ اپنی خواہشات کے پیرو بنے ہوئے ہیں۔[26]{۱۶} رہے وہ لوگ جنہوں نے ہدایت پائی ہے ، اللہ ان کو اور زیادہ ہدایت دیتا ہے [27]اور انہیں اُن کے حصے کا تقویٰ عطا فرماتا ہے[28]{۱۷} اب کیا یہ لوگ بس قیامت ہی کے منتظر ہیں کہ وہ اچانک ان پر آجائے ؟[29] اُس کی علامات تو آچکی ہیں۔ [30]جب وہ خود آجائے گی تو اُن کے لیے نصیحت قبول کرنے کا کون ساموقع باقی رہ جائے گا؟{۱۸} پس اے نبی ؐ! خوب جان لو کہ اللہ کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں ہے ، اور معافی مانگو اپنے قصور کے لیے بھی اور مومن مردوں اور عورتوں کے لیے بھی۔ [31]ا للہ تمہاری سرگرمیوں کو بھی جانتا ہے اور تمہارے ٹھکانے سے بھی واقف ہے۔{۱۹} جو لوگ ایمان لائے ہیں وہ کہہ رہے تھے کہ کوئی سورۃ کیوں نہیں نازل کی جاتی ( جس میں جنگ کا حکم دیا جائے) مگر جب ایک پختہ سورت نازل کردی گئی جس میں جنگ کا ذکر تھا تو تم نے دیکھا کہ جن کے دلوں میں بیماری تھی وہ تمہاری طرف اس طرح دیکھ رہے ہیں جیسے کسی پر موت چھاگئی ہو۔[32] افسوس اُن کے حال پر {۲۰} ( اُن کی زبان پر ہے ) اطاعت کا اقرار اور اچھی اچھی باتیں ۔ مگر جب قطعی حکم دے دیا گیا اُس وقت وہ اللہ سے اپنے عہد میں سچے نکلتے تو اُنہی کے لیے اچھا تھا۔ {۲۱} اب کیا تم لوگوں سے اِس کے سوا کچھ اور توقع کی جاسکتی ہے کہ اگر تم اُلٹے منھ پھر گئے [33]تو زمین میں پھر فساد برپا کروگے اور آپس میں ایک دُوسرے کے گلے کاٹو گے ؟[34]{۲۲} یہ لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی اور ان کو اندھا اور بہرا بنا دیا۔{۲۳} کیا ان لوگوں نے قرآن پر غور نہیں کیا، یا دلوں پر اُن کے قفل چڑھے ہوئے ہیں ؟[35] {۲۴} حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ ہدایت واضح ہوجانے کے بعد اُس سے پھر گئے اُن کے لیے شیطان نے اس روش کو سہل بنادیا ہے اور جھوٹی توقعات کا سلسلہ اُن کے لیے دراز کررکھا ہے۔{۲۵} اِسی لئے انہوں نے اللہ کے نازل کردہ دین کو ناپسند کرنے والوں سے کہہ دیا کہ بعض معاملات میں ہم تمہاری مانیں گے۔[36] اللہ اُن کی یہ خفیہ باتیں خوب جانتا ہے {۲۶} پھراُس وقت کیا حال ہوگا جب فرشتے اِن کی روحیں قبض کریں گے اور ان کے منھ اور پیٹھوں پر مارتے ہوئے انہیں لے جائیں گے ؟[37] {۲۷} یہ اسی لئے تو ہوگا کہ انہوں نے اس طریقے کی پیروی کی جو اللہ کو ناراض کرنے والا ہے اوراُس کی رضا کا راستہ اختیار کرنا پسند نہ کیا، اسی بناپر اس نے اِن کے سب اعمال ضائع کردیے۔[38] {۲۸} کیا وہ لوگ جن کے دلوں میں بیماری ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ اللہ ان کے دلوں کے کھوٹ ظاہر نہیں کرے گا ؟{۲۹} اور ہم چاہیں تو اِنہیں تم کو آنکھوں سے دکھا دیں اور اُن کے چہروں سے تم اُن کو پہچان لو۔ مگر ان کے اندازِ کلام سے تو تم اُن کو جان ہی لوگے ۔ اللہ تم سب کے اعمال سے خوب واقف ہے۔{۳۰} ہم ضرور تم لوگوں کو آزمائش میں ڈالیں گے تا کہ تمہارے حالات کی جانچ کریں اور دیکھ لیں (ظاہر کردیں)کہ تم میں مجاہد اور ثابت قدم کو ن ہیں۔{۳۱} جن لوگوں نے کفر کیا اور اللہ کی راہ سے روکا اور رسُول ؐ سے جھگڑا کیا جب کہ اُن پر راہ ِراست واضح ہوچکی تھی، درحقیقت وہ اللہ کا کوئی نقصان بھی نہیں کرسکتے ، بلکہ اللہ ہی اُن کا سب کیا کرایاغارت کردے گا۔[39] {۳۲} اے لوگو جو ایمان لائے ہو! تم اللہ کی اطاعت کرو اور رسُول ؐ کی اطاعت کرو اور اپنے اعمال کو برباد نہ کرلو ۔[40]{۳۳} کفر کرنے والوں اور اللہ کی راہ سے روکنے والوں اور مرتے دم تک کفر پر جمے رہنے والوں کو تو اللہ ہر گز معاف نہ کرے گا۔{۳۴} پس تم بودے نہ بنو اور صلح کی درخواست نہ کرو، [41] تم ہی غالب رہنے والے ہو۔ اللہ تمہارے ساتھ ہے اور تمہارے اعمال کو وہ ہرگز ضائع نہ کرے گا۔ {۳۵} یہ دنیاکی زندگی تو ایک کھیل اور تماشا ہے۔[42] اگر تم ایمان رکھو اور تقویٰ کی روش پر چلتے رہو تو اللہ تمہارے اجر تم کو دے گا اور وہ تمہارے مال تم سے نہ مانگے گا۔ [43]{۳۶} اگر کہیں وہ تمہارے مال تم سے مانگ لے اور سب کے سب تم سے طلب کرلے تو تم بُخل کرو گے اور وہ تمہارے کھوٹ اُبھار لائے گا ۔[44]{۳۷} دیکھو ، تم لوگوں کو دعوت دی جارہی ہے کہ اللہ کی راہ میں مال خرچ کرو ۔ اس پر تم میں سے کچھ لوگ ہیں جو بُخل کررہے ہیں ، حالانکہ جو بخل کرتا ہے وہ درحقیقت اپنے آپ ہی سے بُخل کررہا ہے ۔ اللہ تو غنی ہے ، تم ہی اُس کے محتاج ہو۔اگر تم منھ موڑو گے تو اللہ تمہاری جگہ کسی اور قوم کو لے آئے گا اور وہ تم جیسے نہ ہوں گے۔ {۳۸}
سورۃ الفتح   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 48 : 1-17 / 29اے نبی ؐ !ہم نے تم کو کھلی فتح عطا کردی[1] {۱} تا کہ اللہ تمہاری اگلی پچھلی ہر کوتاہی سے درگزر فرمائے [2] ا ور تم پر اپنی نعمت کی تکمیل کردے[3] اور تمہیں سیدھا راستہ دکھائے[4] {۲} اور تم کو زبردست نصرت بخشے[5] {۳} وہی ہے جس نے مومنوں کے دلوں میں سکینت نازل فرمائی [6]تا کہ اپنے ایمان کے ساتھ وہ ایک ایمان اور بڑھالیں ۔ [7]زمین اور آسمانوں کے سب لشکر اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہیں اور وہ علیم و حکیم ہے۔[8]{۴} (اُس نے یہ کام اس لیے کیا ہے) تا کہ مومن مردوں اور عورتوں [9]کو ہمیشہ رہنیکے لیے ایسی جنتوں میں داخل فرمائے جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور اُن کی بُرائیاں اُن سے دُور کردے ۔[10] اللہ کے نزدیک یہ بڑی کامیابی ہے۔{۵} اوراُن منافق مردوں اور عورتوں اور مشرک مردوں اور عورتوں کو سزادے جو اللہ کے متعلق بُرے گمان رکھتے ہیں ۔[11] بُرائی کے پھیر میں وہ خودہی آگئے ،[12] اللہ کا غضب اُن پر ہوا ا ور اُس نے اُن پر لعنت کی اور ان کے لیے جہنم مہیا کردی جو بہت ہی بُراٹھکانا ہے ۔{۶} زمین اور آسمان کے لشکر اللہ ہی کے قبضۂ قدرت میں ہیں اور وہ زبردست اور حکیم ہے[13]{۷} اے نبی ؐ!ہم نے تم کو شہادت دینے والا[14] بشارت دینے والا اور خبردار کردینے والا [15]بناکر بھیجا ہے۔{۸} تا کہ اے لوگو !تم اللہ اور اس کے رسول ؐپر ایمان لا ؤ اور اُس کا ( یعنی رسُول ؐ کا) ساتھ دو ، اس کی تعظیم و توقیر کرو اور صبح وشام اللہ کی تسبیح کرتے رہو۔[16]{۹} اے نبی ؐ! جو لوگ تم سے بیعت کررہے تھے [17]وہ دراصل اللہ سے بیعت کررہے تھے ۔ [18]اُن کے ہاتھ پر اللہ کا ہاتھ تھا ۔ اب جو اس عہد کو توڑے گا اس کی عہد شکنی کا وبال اُس کی اپنی ہی ذات پر ہوگا ، اور جو اُس عہد کو وفا کرے گا جو اُس نے اللہ سے کیاہے،[19] اللہ عنقریب اس کو بڑا اجر عطا فرمائے گا۔{۱۰} اے نبی ؐ! بدوی عربوں[20] میں سے جو لوگ پیچھے چھوڑدیے گئے تھے اب وہ آکر ضرور تم سے کہیں گے کہ ’’ ہمیں اپنے اموال اور بال بچوں کی فکر نے مشغول کررکھا تھا ، آپ ؐ ہمارے لئے مغفرت کی دعا فرمائیں ۔ ‘‘ یہ لوگ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو اِن کے دلوں میں نہیں ہوتیں۔ [21]ان سے کہنا ’’ اچھا ، یہی بات ہے تو کون (ہے جو )تمہارے معاملہ میں اللہ کے فیصلے کو روک دینے کا کچھ بھی اختیار رکھتا ہے اگر وہ تمہیں کوئی نقصان پہنچانا چاہے یا نفع بخشنا چاہے ؟ تمہارے اعمال سے تو اللہ ہی باخبر ہے۔[22] {۱۱} ( مگر اصل بات وہ نہیں ہے جو تم کہہ رہے ہو ) بلکہ تم نے یوں سمجھا کہ رسُول ؐ اور مومنین اپنے گھروالوں میں ہرگز پلٹ کرنہ آسکیں گے اور یہ خیال تمہارے دلوں کو بہت بھلا لگا [23]اور تم نے بہت برے گمان کئے اور تم سخت بدباطن لوگ ہو‘‘ ۔[24]{۱۲} اللہ اور اس کے رسُول ؐ پر جو لوگ ایمان نہ رکھتے ہوں ایسے کافروں کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے۔[25]{ ۱۳} آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا مالک اللہ ہی ہے ، جسے چاہے معاف کرے اور جسے چاہے سزادے ، اور وہ غفور و رحیم ہے[26]{ ۱۴} جب تم مال غنیمت حاصل کرنے کے لیے جانے لگو گے تو یہ پیچھے چھوڑے جانے والے لوگ تم سے ضرور کہیں گے کہ ہمیں بھی اپنے ساتھ چلنے دو ۔[27] یہ چاہتے ہیں کہ اللہ کے فرمان کو بدل دیں۔ [28]ان سے صاف کہہ دینا کہ ’’ تم ہرگز ہمارے ساتھ نہیں چل سکتے ، اللہ پہلے ہی یہ فرما چکا ہے۔ ‘‘[29] یہ کہیں گے کہ ’’ نہیں ، بلکہ تم لوگ ہم سے حَسد کررہے ہو ۔‘‘ (حالانکہ بات حسد کی نہیں ہے)بلکہ یہ لوگ صحیح بات کو کم ہی سمجھتے ہیں۔{۱۵} اِن پیچھے چھوڑے جانے والے بدوی عربوں سے کہنا کہ ’’ عنقریب تمہیں ایسے لوگوں سے لڑنے کے لیے بلایا جائیگا جو بڑے زور آور ہیں۔ تم کو ان سے جنگ کرنی ہوگی یا وہ مطیع ہوجائیں گے۔[30] اُس وقت اگر تم نے حکم ِجہاد کی اطاعت کی تو اللہ تمہیں اچھا اجر دے گا، اور اگر تم پھر اُسی طرح منہ موڑگئے جس طرح پہلے موڑچکے ہو تو اللہ تم کو درد ناک سزادے گا۔{۱۶} ہاں اگر اندھا اور لنگڑا اور مریض جہاد کے لیے نہ آئے تو کوئی حرج نہیں ۔[31] جو کوئی اللہ اور اس کے رسول ؐکی اطاعت کرے گا اللہ اُسے اُن جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، اور جو منہ پھیرے گا اسے وہ درد ناک عذاب دے گا‘‘۔{۱۷}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)