سورۃ الزخرف   -  43 : 24-89 / 89ہر نبی نے اُن سے پوچھا ، کیا تم اُسی ڈگر پر چلے جا ؤ گے خواہ میں تمہیں اس راستے سے زیادہ صحیح راستہ بتا ؤں جس پر تم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے ؟ انہوں نے سارے رسولوں کو یہی جواب دیا کہ جس دین کی طرف بلانے کے لیے تم بھیجے گئے ہوہم اُس کے کافر ہیں۔{۲۴} آخر کار ہم نے اُن کی خبر لے ڈالی اور دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ {۲۵} یاد کرو وہ وقت جب ابراہیم ؑ نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا[24] کہ ’’ تم جن کی بندگی کرتے ہو میرا اُن سے کو ئی تعلق نہیں۔{۲۶} میرا تعلق صرف اُس سے ہے جس نے مجھے پیدا کیا ، وہی میری رہنمائی کرے گا ‘‘۔[25]{۲۷} اور ابراہیم ؑ یہی کلمہ [26]اپنے پیچھے اپنی اولاد میں چھوڑ گیا تا کہ وہ اِس کی طرف رجوع کریں[27]{۲۸} ( اس کے باوجود جب یہ لوگ دوسروں کی بندگی کرنے لگے تو میں نے اِن کو مٹا نہیں دیا) بلکہ میں اِنہیں اور ان کے باپ دادا کو متاعِ حیات دیتارہا یہاں تک کہ اِن کے پاس حق اور کھول کھول کربیان کرنے والا رسُول ؐ آگیا۔[28]{۲۹} مگر جب وہ حق اِن کے پاس آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو جادُو ہے[29] اور ہم اس کو ماننے سے انکار کرتے ہیں {۳۰} کہتے ہیں،یہ قرآن دونوں شہروں کے بڑے آدمیوں میں سے کسی پرکیوں نہ نازل کیا گیا ؟ [30]{۳۱} کیا تیرے رَبّ کی رحمت یہ لوگ تقسیم کرتے ہیں ؟ دُنیا کی زندگی میں اِن کی گزر بسر کے ذرائع تو ہم نے اِن کے درمیان تقسیم کئے ہیں، اور ان میں سے کچھ لوگوں کو کچھ دُوسرے لوگوں پر ہم نے بدر جہافوقیت دی ہے تاکہ یہ ایک دوسرے سے خدمت لیں۔[31] اور تیرے رَبّ کی رحمت (یعنی نبوت ) اُس دولت سے زیادہ قیمتی ہے جو ( ان کے رئیس ) سمیٹ رہے ہیں ۔[32]{ ۳۲} اگر یہ اندیشہ نہ ہوتا کہ سارے لوگ ایک ہی طریقہ کے ہوجائیں گے تو ہم (ربّ) رحمن سے کفر کرنے والوں کے گھروں کی چھتیں اور ان کی سیڑھیاں جن سے وہ اپنے بالا خانوں پر چڑھتے ہیں ،چاندی کے بنادیتے {۳۳} اور اُن کے دروازے اور ان کے تخت جن پر وہ تکیے لگاکر بیٹھتے ہیں {۳۴} وہ سب (چاندی) اور سونے کے بنادیتے [33]یہ تو محض حیاتِ دُنیا کی متاع ہے ، اور آخرت تیرے رَبّ کے ہاں صرف متقین کے لیے ہے۔{۳۵} جو شخص رحمن کے ذِکر[34]سے تغافل بر تتا ہے ، ہم اُس پر ایک شیطان مسلّط کردیتے اور وہ اُس کا رفیق بن جاتا ہے۔{۳۶} یہ شیاطین ایسے لوگوں کو راہِ راست پر آنے سے روکتے ہیں ، اور وہ اپنی جگہ یہ سمجھتے ہیں کہ ہم ٹھیک جارہے ہیں۔{۳۷} آخر کار جب یہ شخص ہمارے ہاں پہنچے گا تو( اپنے شیطان سے) کہے گا ، ’’کاش میرے اور تیرے درمیان مشرق و مغرب کابُعد ہوتا ، تُو تو بدترین ساتھی نکلا ‘‘۔{۳۸} اُس وقت اُن لوگوں سے کہاجائے گا کہ جب تم ظلم کرچکے تو آج یہ بات تمہارے لئے کچھ بھی نافع نہیں ہے کہ تم اور تمہارے شیاطین عذاب میں مشترک ہیں۔[35]{۳۹} اب کیا اے نبی ؐ! تم بہروں کو سنا ؤ گے ؟ یا اندھوں اور صریح گمراہی میں پڑے ہوئے لوگوں کو راہ دکھا ؤ گے ؟[36]{۴۰} اب تو ہمیں اِن کو سزادینی ہے خواہ ہم تمہیں دنیا سے اٹھالیں، {۴۱} یا تم کو آنکھوں سے اِن کا وہ انجام دِکھادیں جس کا ہم نے ان سے وعدہ کیا ہے ، ہمیں اِن پر پُوری قدرت حاصل ہے۔[37]{ ۴۲} تم بہرحال اُس کتا ب کو مضبوطی سے تھامے رہو جو وحی کے ذریعہ سے تمہارے پاس بھیجی گئی ہے ، یقینا تم سیدھے راستے پر ہو ۔[38]{ ۴۳} حقیقت یہ ہے کہ یہ کتاب تمہارے لئے اور تمہاری قوم کے لیے ایک بہت بڑا شرف ہے اور عنقریب تم لوگوں کو اِس کی جواب دہی کرنی ہوگی۔[39] { ۴۴} تم سے پہلے ہم نے جتنے رسُول ؑبھیجے تھے اُن سب سے پوچھ دیکھو ، کیا ہم نے (ربّ)رحمن کے سواکچھ دوسرے معبُود بھی مقرر کئے تھے کہ اُن کی بندگی کی جائے۔[40] {۴۵} ہم نے موسیٰ ؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ[42] فرعون اور اُس کے اَعیانِ سلطنت کے پاس بھیجا، اور اُس نے جاکر کہا کہ میں ربّ العالمین کا رسُول ہوں ۔{۴۶} پھر جب اُس نے ہماری نشانیاں اُن کے سامنے پیش کیں تو وہ ٹھٹھے مارنے لگے۔{۴۷} ہم ایک پر ایک ایسی نشانی ان کو دکھاتے چلے گئے جو پہلی سے بڑھ چڑھ کرتھی ، اور ہم نے اُن کو عذاب میں دھر لیا کہ وہ اپنی روش سے باز آئیں ۔[43]{۴۸} (ہر عذاب کے موقع پروہ کہتے) اے ساحر! اپنے رَبّ کی طرف سے جو منصب تجھے حاصل ہے اُس کی بناپر ہمارے لئے اُس سے دُعا کر ، ہم ضرور راہ ِراست پر آجائیں گے ۔{۴۹} مگر جوں ہی کہ ہم اُن پر سے عذاب ہٹادیتے وہ اپنی بات سے پھر جاتے تھے۔[44]{۵۰} ایک روز فرعون نے اپنی قوم کے درمیان پکار کرکہا ،[45] ’’ لوگو کیا مصر کی بادشاہی میری نہیں ہے ، اور یہ نہریں میرے نیچے نہیں بہہ رہی ہیں ؟ کیا تم لوگوں کو نظر نہیں آتا ؟ {۵۱} (اب تم ہی بتاؤ؟)[46]میں بہتر ہوں یا یہ شخص جو ذلیل و حقیر ہے[47] اور اپنی بات بھی کھول کر بیان نہیں کرسکتا ؟{[48]۵۲} کیوں نہ اِس پر سونے کے کنگن اتارے گئے ؟ یا فرشتوں کا ایک دستہ اس کی اردلی میں نہ آیا ؟‘‘[49] {۵۳} اس نے اپنی قوم کو ہلکا سمجھا اور انہوں نے اس کی اطاعت کی ، درحقیقت وہ تھے ہی فاسق لوگ۔ [50]{۵۴} آخر کار جب اِنہوں نے ہمیں غضب ناک کردیا تو ہم نے ان سے انتقام لیا اور ان کو اکٹھا غرق کردیا {۵۵} اوربعد والوں کے لیے پیش رو اور نمونۂ عبرت بناکر رکھ دیا[51]{۵۶} اور جو نہی کہ اِبن مریم کی مثال دی گئی ، تمہاری قوم کے لوگوں نے اس پر غل مچادیا{۵۷} اور لگے کہنے کہ ہمارے معبُود اچھے ہیں یا وہ ؟[52] یہ مثال وہ تمہارے سامنے محض کج بحثیکے لیے لائے ہیں،حقیقت یہ ہے کہ یہ ہیں ہی جھگڑا لو لوگ{۵۸} ابنِ مریم اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ ایک بندہ تھا جس پر ہم نے انعام کیا اور بنی اسرائیل کے لیے اُسے اپنی قدرت کا ایک نمونہ بنادیا[53]{۵۹} ہم چاہیں تو تم سے فرشتے پیدا کردیں [54]جو زمین میں تمہارے جانشین ہوں۔{۶۰} اور وہ ( یعنی ابنِ مریم) دراصل قیامت کی ایک نشانی ہے ،[55] پس تم اُس میں شک نہ کرو اور میری بات مان لو ، یہی سیدھا راستہ ہے {۶۱} ایسا نہ ہو شیطان تم کو اُس سے روک دے[56] کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے۔{ ۶۲} اور جب عیسیٰ ؑ صریح نشانیاں لئے ہوئے آیا تھا تو اُس نے کہا تھا کہ ’’میں تم لوگوں کے پاس حکمت لے کر آیا ہوں ، اور اس لیے آیا ہوں کہ تم پر بعض اُن باتوں کی حقیقت کھول دوں جن میں تم اختلاف کررہے ہو ، لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔{ ۶۳} حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی میرا رَبّ بھی ہے اور تمہارا رَبّ بھی۔ اُسی کی تم عبادت کرو ، یہی سیدھا راستہ ہے‘‘۔[57] {۶۴} مگر ( اُس کی اس صاف تعلیم کے باوجود ) گروہوں نے آپس میں اختلاف کیا۔ [58]پس تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جنہوں نے ظلم کیا ایک درد ناک دن کے عذاب سے {۶۵} کیا یہ لوگ اب بس اِسی چیز کے منتظر ہیں کہ اچانک اِن پر قیامت آجائے اور انہیں خبر بھی نہ ہو ؟ {۶۶} وہ دن جب آئے گا تو متقین کو چھوڑ کر باقی سب دوست ایک دُوسرے کے دشمن ہوجائیں گے۔ [59]{۶۷} ( کہاجائے گا ) اے میرے بندو !آج تمہارے لیے کوئی خوف نہیں اور نہ تمہیں کوئی غم لاحق ہوگا۔ {۶۸} (اِس روز ) ان لوگوں سے جو ہماری آیات پر ایمان لائے تھے اور مطیع بن کررہے تھے۔{۶۹} (کہا جائے گا) ’’ داخل ہوجا ؤ جنت میں تم اور تمہاری بیویاں،[60] تمہیں خوش کردیا جائے گا ‘‘۔{۷۰} اُن کے آگے سونے کے تھال اور ساغر گردش کرائے جائیں گے اور ہرمَنْ بھاتی اور نگاہوں کو لذت دینے والی چیزوہاںموجود ہوگی ۔ ان سے کہا جائے گا ، ’’ تم اب یہاں ہمیشہ رہوگے۔{۷۱} تم اُس جنّت کے وارث اپنے اُن اعمال کی وجہ سے ہوئے ہو جوتم دنیا میں کرتے رہے۔{ ۷۲} تمہارے لئے یہاں بکثرت فواکہ موجود ہیں جنہیں تم کھا ؤ گے ‘‘۔{۷۳} رہے مجرمین تو وہ ہمیشہ جہنم کے عذاب میں مبتلا رہیں گے {۷۴} کبھی اُن کے عذاب میں کمی نہ ہوگی ، اور وہ اُس میں مایوس پڑے ہوں گے۔{۷۵} ان پر ہم نے ظلم نہیں کیا ، بلکہ وہ خود ہی اپنے اُوپر ظلم کرتے رہے{ ۷۶} وہ پکاریں گے ، ’’اے مالک ! [61] تیرا رَبّ ہمارا کام ہی تمام کر دے تو اچھا ہے‘‘ وہ جواب دے گا ’’تم یوں ہی پڑے رہوگے۔ {۷۷} یقیناہم تمہارے پاس حق لے کر آئے تھے مگر تم میں سے اکثر کو حق ہی ناگوار تھا ‘‘۔[62] {۷۸} کیا اِن لوگوں نے کوئی اقدام کرنے کا فیصلہ کرلیا ہے [63] اچھا تو ہم بھی پھر ایک فیصلہ کیے لیتے ہیں۔{۷۹} کیا اِنہوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ ہم اِن کی راز کی باتیں اور ان کی سرگوشیاں سنتے نہیں ہیں ؟ ہم سب کچھ سُن رہے ہیںاور ہمارے فرشتے ان کے پاس ہی لکھ رہے ہیں{۸۰} اِن سے کہو:’’اگر واقعی رحمن کی کوئی اولاد ہوتی تو سب سے پہلے عبادت کرنے والا میں ہوتا ۔‘‘[64] {۸۱} پاک ہے آسمانوں اور زمین کافرماں رو ا ، عرش کا مالک، اُن ساری باتوں سے جو یہ لوگ اُس کی طرف منسوب کرتے ہیں،{ ۸۲} اچھا ، انہیں اپنے باطل خیالات میں غرق اور اپنے کھیل میں منہمک رہنے دو ، یہاں تک کہ یہ اپنا وہ دن دیکھ لیں جس کا اِنہیں خوف دلایا جارہا ہے۔{ ۸۳} وہی ایک آسمان میں بھی اِلٰہ و معبُود ہے اور زمین میں بھی وہی اِلٰہ ،اور وہی حکیم وعلیم ہے [65]{ ۸۴} بہت بالا و برتر ہے وہ جس کے قبضے میں زمین اور آسمانوں اور ہراُس چیز کی بادشاہی ہے جو زمین و آسمان کے درمیان پائی جاتی ہے [66]اور وہی قیامت کی گھڑی کا علم رکھتا ہے ، اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو[67]{۸۵} اُس کو چھوڑ کر یہ لوگ جنہیں پکارتے ہیں وہ کسی شفاعت کا اختیار نہیں رکھتے اِلاّ یہ کہ کوئی علم کی بنا پر حق کی شہادت دے[68]{۸۶} اور اگر تم اِن سے پوچھو کہ انہیں کس نے پیدا کیا ہے تویہ خود کہیں گے کہ اللہ نے۔[69] پھر کہاں سے یہ دھوکا کھا رہے ہیں {۸۷} قسم ہے رسول ؐکے اِس قول کی کہ اے رَبّ ! یہ وہ لوگ ہیں جو مان کر نہیں دیتے۔ [70]{۸۸} اچھا ، اے نبی ؐ!ان سے درگزر کرو اور کہہ دو کہ سلام ہے تمہیں ،[71] عنقریب اِنہیں معلوم ہوجائے گا۔{۸۹}
سورۃ الدخان   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 44 : 1-59 / 59حٰمٓ {۱} قسم ہے اس کتاب مبین کی { ۲} کہ ہم نے اِسے ایک بڑی خیرو برکت والی رات میں نازل کیا ہے، کیونکہ ہم لوگوں کو متنبہ کرنے کا ارادہ رکھتے تھے۔[1]{ ۳} یہ وہ رات تھی جس میں ہر معاملے کا حکیمانہ فیصلہ [2]صادر کیا جاتا ہے[3]{ ۴} ہمارے ہی حکم سے ، ہم ایک رسُول بھیجنے والے تھے{۵} تیرے رَبّ کی رحمت کے طور پر ، [4]یقینا وہی سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے[5]{۶} آسمانوں اور زمین کا رَبّ اور ہر اُس چیز کا رَبّ جو آسمان و زمین کے درمیان ہے اگر تم لوگ واقعی یقین رکھنے والے ہو۔[6]{۷} کوئی معبُود اُس کے سوا نہیں ہے ،[7] وہی زندگی عطا کرتا ہے اور وہی موت دیتا ہے۔ [8]تمہارا رَبّ اور تمہارے اُن اسلاف کا رَبّ جو پہلے گزرچکے ہیں[9]{۸} (مگر فی الواقع اِن لوگوں کو یقین نہیں ہے ) بلکہ یہ اپنے شک میں پڑے کھیل رہے ہیں۔[10]{۹} اچھا انتظار کرو اُس دن کا جب آسمان صریح دُھواں لئے ہوئے آئے گا {۱۰} اور وہ لوگوں پر چھا جائے گا۔ یہ ہے درد ناک سزا {۱۱} (اب کہتے ہیں کہ ) ’’ پروردگار ! ہم پر سے یہ عذاب ٹال دے ، ہم ایمان لاتے ہیں ‘‘{۱۲} اِن کی غفلت کہاں دُور ہوتی ہے ؟ ان کا حال تو یہ ہے کہ ان کے پاس رسُول مُبین آگیا [11]{۱۳} پھر بھی یہ اُس کی طرف ملتفت نہ ہوئے اور کہا کہ ’’ یہ توسکھا یاپڑھایا با ؤ لا ہے‘‘۔[12]{ ۱۴} ہم ذرا عذاب ہٹائے دیتے ہیں، تم لوگ پھر وہی کچھ کرو گے جو پہلے کررہے تھے۔ {۱۵} جس روز ہم بڑی ضرب لگائیں گے وہ دن ہوگا جب ہم تم سے انتقام لیں گے۔[13]{۱۶} ہم اِن سے پہلے فرعون کی قوم کو اسی آزمائش میں ڈال چکے ہیں اُن کے پاس ایک نہایت شریف رسُول ؑ[14] آیا{۱۷} اور اس نے کہا [15]’’ اللہ کے بندوں کو میرے حوالے کرو ،[16] میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسُول ؑہوں[17] {۱۸} اللہ کے مقابلے میں سرکشی نہ کرو۔ میں تمہارے سامنے ( اپنی ماموریت کی ) صریح سند پیش کرتا ہوں۔[18]{۱۹} اور میں اپنے رَبّ اور تمہارے رَبّ کی پنا ہ لے چکا ہوں اس سے کہ تم مجھ پر حملہ آور ہو{۲۰} اگر تم میری بات نہیں مانتے تو مجھ پر ہاتھ ڈالنے سے باز رہو ‘‘۔[19]{۲۱} آخر کار اس نے اپنے رَبّ کو پکارا کہ یہ لوگ مجرم ہیں[20]{۲۲} (جواب دیا گیا ) ’’ اچھا تو راتوں رات میرے بندوں کو [21]لے کر چل پڑ۔ تم لوگوں کا پیچھا کیا جائے گا[22]{۲۳} سمندر کو اُس کے حال پر کُھلا چھوڑدے یہ سارا لشکر غرق ہونے والا ہے ‘‘ ۔[23]{۲۴} کتنے ہی باغ اور چشمے ہیں جو وہ چھوڑ گئے۔{۲۵} اور کھیت اور شاندار محل {۲۶} اورکتنے ہی عیش کے سروسامان ، جن میں وہ مزے کررہے تھے ، (اُن کے پیچھے دھرے رہ گئے){۲۷} یہ ہوا اُن کا انجام ، اور ہم نے دُوسروں کو اِن چیزوں کا وارث بنادیا[24]{۲۸} پھر نہ آسمان اُن پر رویا نہ زمین ،[25] اور ذراسی مہلت بھی ان کو نہ دی گئی۔ {۲۹} اس طرح بنی اسرائیل کو ہم نے سخت ذِلت کے عذاب ،[26] سے نجات دی{۳۰} فرعون سے جو حد سے گزر جانے والوں میں فی الواقع بڑے اُونچے درجے کا آدمی تھا[27]{۳۱} اور اُن کی حالت جانتے ہوئے اُن کو دنیا کی دوسری قوموں پر ترجیح دی [28]{۳۲} اورا نہیں ایسی نشانیاں دکھائیں جن میں صریح آزمائش تھی۔[29] {۳۳} بے شک یہ لو گ کہتے ہیں {۳۴} ’’ ہماری پہلی موت کے سوا اور کچھ نہیں،اُس کے بعد ہم دوبارہ اُٹھائے جانے والے نہیں ہیں۔[30]{۳۵} اگر تم سچے ہو تو اُٹھا لا ؤ ہمارے باپ دادا کو ‘‘۔[31]{۳۶} یہ بہتر ہیں یاتُبع کی قوم [32] اور اُس سے پہلے کے لوگ ؟ ہم نے اُن کو اسی بناپر تباہ کیا کہ وہ مجرم ہوگئے تھے[33]{۳۷} یہ آسمان و زمین اور ان کے درمیان کی چیزیں ہم نے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنادی ہیں۔ {۳۸} ان کو ہم نے برحق پیدا کیا ہے ، مگر اِن میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔[34]{۳۹} اِن سب کے اٹھائے جانے کے لیے طے شدہ وقت فیصلے کا دن ہے[35]{۴۰} وہ دن جب کوئی عزیز قریب اپنے کسی عزیز قریب [36]کے کچھ بھی کام نہ آئے گا اور نہ کہیں سے انہیں کوئی مددپہنچے گی {۴۱} سوائے اِسکے کہ اللہ ہی کسی پر رحم کرے ، وہ زبردست اور رحیم ہے۔[37] { ۴۲} یقینا زقوم کا درخت [38]{۴۳} گناہ گار کا کھاجاہوگا۔ {۴۴} تیل کی تلچھٹ [39]جیسا ،پیٹ میں وہ اِس طرح جوش کھائے گا {۴۵} جیسے کھولتا ہوا پانی جوش کھاتا ہے{۴۶} ’’پکڑو اِسے اور رگیدتے ہوئے لے جا ؤ اس کو جہنم کے بیچوں بیچ۔{۴۷} اور اُنڈیل دواس کے سر پر کُھولتے پانی کا عذاب۔{۴۸} چکھ اس کا مزہ ، بڑا زبردست عزت دار آدمی ہے تو۔ {۴۹} یہ وہی چیز ہے جس کے آنے میں تم لوگ شک رکھتے تھے‘‘۔ {۵۰} یقینامتقی لوگ امن کی جگہ میں ہوں گے ۔[40]{۵۱} باغوں اور چشموں میں{ ۵۲} حریر و دیبا [41]کے لباس پہنے ، آمنے سامنے بیٹھے ہوں گے ۔{ ۵۳} یہ ہوگی اُن کی شان ۔ اور ہم گوری گوری آہو چشم عورتیں[42] ان سے بیاہ دیں گے۔{ ۵۴} وہاں وہ اطمینان سے ہر طرح کی لذیذ چیزیں طلب کریں گے۔ [43]{۵۵} وہاں موت کا مزہ وہ کبھی نہ چکھیں گے۔بس دنیا میں جو موت آچکی سو آچکی۔ اور اللہ اپنے فضل سے اُن کو جہنم کے عذاب سے بچادے گا۔[44]{۵۶} یہ دراصل آپ کے رَبّ کا فضل ہوگا، اوردراصل یہی بڑی کامیابی ہے{۵۷} اے نبی ؐ !ہم نے اس کتاب کو تمہاری زبان میں سہل بنادیا ہے تا کہ یہ لوگ نصیحت حاصل کریں۔ {۵۸} اب تم بھی انتظار کرو ، یہ بھی منتظر ہیں۔[45]{۵۹}
اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 45 : 1-37 / 37 ا س کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست اور حکیم ہے[1]{ ۲} حقیقت یہ ہے کہ آسمانوں اور زمین میں بے شمار نشانیاں ہیں ایمان لانے والوں کے لیے[2]{۳} اورتمہاری اپنی پیدائش میں اوراُن حیوانات میں جن کو اللہ ( زمین میں ) پھیلارہا ہے ، بڑی نشانیاںہیں اُن لوگوں کے لیے جو یقین لانے والے ہیں۔[3] {۴} اور شب وروز کے فرق و اختلاف میں ،[4] اور اُس رزق میں[5] جسے اللہ آسمان سے نازل فرماتا ہے پھر اُس کے ذریعہ سے مُردہ زمین کو جِلا اُٹھاتا ہے[6] اور ہوا ؤں کی گردش میں [7]بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔{۵} یہ اللہ کی نشانیاں ہیں جنہیں ہم تمہارے سامنے ٹھیک ٹھیک بیان کر رہے ہیں ۔ اب آخر اللہ اور اس کی آیات کے بعد اور کون سی بات ہے جس پر یہ لوگ ایمان لائیں گے۔[8]{۶} تباہی ہے ہر اُس جُھوٹے بداعمال شخص کے لیے {۷} جس کے سامنے اللہ کی آیات پڑھی جاتی ہیں ، اور وہ اُن کوسُنتا ہے ، پھر پورے غرور کے ساتھ اپنے کفر پر اِس طرح اَڑارہتا ہے کہ گویا اُس نے اُن کو سُناہی نہیں۔[9] ایسے شخص کو درد ناک عذاب کا مُژدہ سُنادو ۔{۸} ہماری آیات میں سے کوئی بات جب اس کے عِلم میں آتی ہے تو وہ اُن کا مذاق بنالیتا ہے۔[10] ایسے سب لوگوں کے لیے ذِلت کا عذاب ہے۔{۹} اُن کے آگے جہنم ہے۔ [11]جو کچھ بھی انہوں نے دنیا میں کمایا ہے اُس میں سے کوئی چیز اُن کے کسی کام نہ آئے گی، نہ اُن کے وہ سرپرست ہی اُن کے لیے کچھ کرسکیں گے جنہیں اللہ کو چھوڑ کر انہوں نے اپنا ولی بنارکھا ہے۔[12] اُن کے لیے بڑا عذاب ہے۔{۱۰} یہ( قرآن) سراسر ہدایت ہے ، اور اُن لوگوں کے لیے بلا کا درد ناک عذاب ہے جنہوں نے اپنے رَبّ کی آیات کو ماننے سے انکار کیا{۱۱} وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے سمندر کو مُسخّر کیا تا کہ اس کے حکم سے کشتیاں اُس میں چلیں [13]اور تم اُس کا فضل تلاش کرو [14]اور شکر گزار بنو{ ۱۲} اُس نے زمین اور آسمانوں کی ساری چیزوں کو تمہارے لئے مسخر کر دیا،[15]سب کچھ اپنے پاس سے۔[16] اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور وفکر کرنے والے ہیں[17] {۱۳} اے نبی ؐ!ایمان لانے والوں سے کہہ دو کہ جو لوگ اللہ کی طرف سے بُرے دن آنے کا کوئی اندیشہ نہیں رکھتے،[18] اُن کی حرکتوں پر درگزر سے کام لیں تا کہ اللہ خود ایک گروہ کو اُس کی کمائی کا بدلہ دے[19] { ۱۴} جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لئے کرے گا ، اور جو بُرائی کرے گا وہ آپ ہی اُس کا خمیازہ بھگتے گا۔ پھر جانا تو سب کو اپنے رَبّ ہی کی طرف ہے۔{۱۵} اِس سے پہلے بنی اسرائیل کو ہم نے کتاب اور حُکم[20] اور نبوت عطا کی تھی ۔ اُن کو ہم نے عمدہ سامان زِیست سے نوازا ، دنیا بھر کے لوگوں پر انہیں فضیلت عطا کی[21]{۱۶} اور دین کے معاملے میں اُنہیں واضح ہدایات دے دیں ۔ پھر جو اختلاف اُن کے درمیان رُونما ہوا وہ (ناواقفیت کی وجہ سے نہیں بلکہ ) علم آجانے کے بعد ہوا اور اِس بناپر ہُوا کہ وہ آپس میں ایک دوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے۔[22] اللہ قیامت کے روز اُن معاملات کا فیصلہ فرمادے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔{۱۷} اس کے بعد اب اے نبی ؐ! ہم نے تم کو دین کے معاملہ میں ایک صاف شاہراہ( شریعت) پر قائم کیا ہے۔[23] لہٰذا تم اسی پر چلو اور اُن لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو جو علم نہیں رکھتے {۱۸} اللہ کے مقابلے میں وہ تمہارے کچھ بھی کام نہیں آسکتے[24] ظالم لوگ ایک دُوسرے کے ساتھی ہیں اور متقیوں کا ساتھی اللہ ہے {۱۹} یہ بصیرت کی روشنیاں ہیں سب لوگوں کے لیے اور ہدایت اور رحمت اُن لوگوں کے لیے جو یقین لائیں۔[25] {۲۰} کیا [26]وہ لوگ جنہوں نے برائیوں کا ارتکاب کیا ہے یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ ہم اُنہیں اور ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کو ایک جیسا کردیں گے کہ ان کا جینا اور مرنا یکساں ہوجائے ؟ بہت بُرے حکم ہیں جو یہ لوگ لگاتے ہیں۔[27]{۲۱} اللہ نے تو آسمانوں اور زمین کوبر حق پیدا کیا ہے[28] اور اِس لئے کیا کہ ہر متنفس کو اُس کی کمائی کا بدلہ دیا جائے ، لوگوں پر ظلم ہر گزنہ کیا جائے گا[29]{۲۲} پھر کیا تم نے کبھی اُ س شخص کے حال پر بھی غور کیا جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا اِلٰہ بنالیا[30] اور اللہ نے علم کے باوجود[31] اُسے گمراہی میں پھینک دیا اور اُس کے دل اور کانوں پر مہرلگادی اور اُس کی آنکھوں پر پردہ ڈال دیا ؟[32] اللہ کے بعد اور کو ن ہے جو اُسے ہدایت دے ؟ کیا تم لوگ کوئی سبق نہیں لیتے ؟ [33]{۲۳} یہ لوگ کہتے ہیں کہ ’’ زندگی بس یہی ہماری دنیا کی زندگی ہے ، یہیں ہمارا مرنا اور جینا ہے اور گردشِ ایام کے سوا کوئی چیز نہیں جو ہمیں ہلاک کرتی ہو ۔‘‘ درحقیقت اِس معاملہ میں اِن کے پاس کوئی علم نہیں ہے۔ یہ محض گمان کی بناپر یہ باتیں کرتے ہیں۔[34]{۲۴} اور جب ہماری واضح آیات اِنہیں سُنائی جاتی ہے[35] تو ان کے پاس کوئی حجت اس کے سوا نہیں ہوتی کہ اُٹھالا ؤ ہمارے باپ دادا کو اگر تم سچے ہو۔ [36]{۲۵} اے نبی ؐ ! اِن سے کہو اللہ ہی تمہیں زندگی بخشتا ہے ، پھر وہی تمہیں موت دیتا ہے ،[37] پھر وہی تم کو اُس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ،[38] مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ [39]{۲۶} زمین اور آسمانوں کی بادشاہی اللہ ہی کی ہے ،[40] اور جس روز قیامت کی گھڑی آکھڑی ہوگی اُس دن باطل پرست خسارے میں پڑجائیں گے{۲۷} اُس وقت تم ہر گروہ کو گھٹنوں کے بل گرادیکھو گے۔[41] ہر گروہ کوپکارا جائے گا کہ آئے اور اپنا نامۂ اعمال دیکھے۔اُن سے کہا جائے گا : ’’ آج تم لوگوں کو اُن اعمال کابدلہ دیا جائے گا جو تم کرتے رہے تھے۔{۲۸} یہ ہمارا تیار کرایا ہوا اعمال نامہ ہے جو تمہارے اوپر ٹھیک ٹھیک شہادت دے رہا ہے ، جو کچھ بھی تم کرتے تھے اُسے ہم لکھو اتے جارہے تھے‘‘ ۔[42]{۲۹} پھر جو لوگ ایمان لائے تھے اور نیک عمل کرتے رہے تھے انہیں ان کا رَبّ اپنی رحمت میں داخل کرے گا اور یہی صریح کامیابی ہے۔{۳۰} اور جن لوگوں نے کفر کیا تھا ( اِن سے کہا جائے گا)’’ کیا میری آیات تم کو نہیں سُنائی جاتی تھیں ؟[43] مگر تم نے تکبر کیا اور مجرم بن کررہے{۳۱} اور جب کہا جاتا تھا کہ اللہ کا وعدہ برحق ہے اور قیامت کے آنے میں کوئی شک نہیں ، تو تم کہتے تھے کہ ہم نہیں جانتے قیامت کیا ہوتی ہے ، ہم تو بس ایک گمان سا رکھتے ہیں ، یقین ہم کو نہیں ہے ‘‘۔[44]{۳۲} اُس وقت اُن پر اُن کے اعمال کی برائیاں کھل جائیں گی [45]اور وہ اُسی چیز کے پھیر میں آجائیں گے جس کا وہ مذاق اُڑایا کرتے تھے۔{۳۳} اور ان سے کہہ دیا جائیگا کہ ’’ آج ہم بھی اُسی طرح تمہیں بھُلائے دیتے ہیں جس طرح تم اِس دن کی ملاقات کو بھُول گئے تھے۔ تمہارا ٹھکانا اب دوزخ ہے اور کوئی تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے۔{۳۴} یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ تم نے اللہ کی آیات کا مذاق بنالیا تھا اور تمہیں دنیا کی زندگی نے دھوکے میں ڈال دیا تھا۔ لہٰذا آج نہ یہ لوگ دوزخ سے نکالے جائیں گے اور نہ اِن سے کہا جائے گا کہ معافی مانگ کر اپنے رَبّ کو راضی کرو ‘‘۔[46]{۳۵} پس تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو زمین اور آسمانوں کا مالک اور سارے جہان والوں کا پروردگارہے {۳۶} زمین اور آسمانوں میں بڑائی اُسی کے لیے ہے اور وہی زبردست اور دانا ہے۔{۳۷}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)