سورۃ حٰمٓ السجدۃ   -  41 : 47-54 / 54اُس ساعت[60] کا علم اللہ ہی کی طرف راجع ہوتا ہے ، وہی اُن سارے پھلوں کو جانتا ہے جو اپنے شگوفوں میں سے نکلتے ہیں، اُسی کو معلوم ہے کہ کون سی مادہ حاملہ ہوئی ہے اور کس نے بچہ جنا ہے ۔[62] پھر جس روز وہ اِن لوگوں کو پکارے گا کہ کہاں ہیں میرے وہ شریک ؟ یہ کہیں گے ’’ ہم عرض کرچکے ہیں ، آج ہم میں سے کوئی اِس کی گواہی دینے والا نہیں ہے ‘‘ ۔[63]{۴۷ } اُس وقت وہ سارے معبُود اِن سے گم ہوجائیں گے جنہیں یہ اس سے پہلے پکارتے تھے ،[64] اور یہ لوگ سمجھ لیں گے کہ اِن کے لیے اب کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔{۴۸} انسان کبھی بھلائی کی دُعا مانگتے نہیں تھکتا ،[65] اور جب کوئی آفت اِس پر آجاتی ہے تو مایوس و دل شکستہ ہوجاتا ہے {۴۹} مگر جو نہی کہ سخت وقت گزرجانے کے بعد ہم اِسے اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں یہ کہتا ہے کہ ’’میں اِسی کا مستحق ہوں ،[66] اور میں نہیں سمجھتا کہ قیامت کبھی آئے گی ، لیکن اگر واقعی میں اپنے رَبّ کی طرف پلٹایا گیا تو وہاں بھی مزے کرو ں گا‘‘ حالاں کہ کفر کرنے والوں کو لازماً ہم بتا کر رہیں گے کہ وہ کیا کرکے آئے ہیں اور انہیں ہم بڑے گندے عذاب کا مزہ چکھائیں گے{۵۰} انسان کو جب ہم نعمت دیتے ہیں تو وہ منھ پھیرتا ہے اور اکڑ جاتا ہے[67] اور جب اسے کوئی آفت چُھوجاتی ہے تولمبی چوڑی دعائیں کرنے لگتا ہے۔[68]{۵۱} اے نبی ؐ!اِن سے کہو ، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر واقعی یہ قرآن اللہ ہی کی طرف سے ہوا اور تم اس کا انکار کرتے رہے تو اُس شخص سے بڑھ کر بھٹکا ہوا اور کون ہوگا جو اس کی مخالفت میں دُور تک نکل گیا ہو ؟[69]{۵۲} عنقریب ہم اِن کو اپنی نشانیاں آفاق میں بھی دکھائیں گے اور ان کے اپنے نفس میں بھی یہاں تک کہ اِن پر یہ بات کُھل جائے گی کہ یہ قرآن واقعی برحق ہے ۔[70]کیا یہ بات کافی نہیں ہے کہ تیرا رَبّ ہر چیز کا شاہد ہے ؟[71] {۵۳} آگاہ رہو ، یہ لوگ اپنے رَبّ کی ملاقات میں شک رکھتے ہیں۔[72] سُن رکھو،وہ ہر چیز پر محیط ہے۔ [73]{۵۴}
سورۃ الشورٰی   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 42 : 1-53 / 53حٰمٓ {۱} عٓسٓقٓ{ ۲} اِسی طرح اللہ غالب وحکیم تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے (رسُولوں کی ) طرف وحی کرتا رہا ہے۔[1] { ۳} آسمانو ںاور زمین میں جو کچھ بھی ہے اُسی کا ہے ، وہ بر تراور عظیم ہے [2]{ ۴} قریب ہے کہ آسمان اوپر سے پھٹ پڑیں۔ [3] فرشتے اپنے ربّ کی حمد کے ساتھ تسبیح کررہے ہیں۔ اور زمین والوں کے حق میں درگزر کی درخواستیں کئے جاتے ہیں۔[4] آگاہ رہو ، حقیقت میں اللہ غفور ورحیم ہی ہے۔[5]{۵} جن لوگوں نے اُس کو چھوڑ کر اپنے کچھ دوسرے سرپرست(اولیاء) [6] بنار رکھے ہیں ، اللہ ہی اُن پر نگراں ہے ،تم ان کے حوالہ دار نہیں ہو۔{۶} ہاں اِسی طرح اے نبی ؐ! یہ قرآنِ عربی ہم نے تمہاری طرف وحی کیا ہے[8] تاکہ تم بستیوں کے مرکز (شہر مکہ ) اور اُس کے گردوپیش رہنے والوں کو خبردار کردو ،[9] اور جمع ہونے کے دن سے ڈرادو [10]جس کے آنے میں کوئی شک نہیں ۔ ایک گروہ کو جنّت میں جانا ہے اور دُوسرے گروہ کو دوزخ میں۔{۷} اگر اللہ چاہتا تو ان سب کو ایک ہی اُمت بنادیتا ، مگر وہ جسے چاہتا ہے اپنی رحمت میں داخل کرتا ہے ، اور ظالموں کا نہ کوئی ولی ہے نہ مددگار ۔[11]{۸} کیا یہ ( ایسے نادان ہیں کہ ) انہوں نے اُسے چھوڑ کر دوسرے ولی بنار کھے ہیں ؟ ولی تو اللہ ہی ہے ، وہی مُردوں کو زندہ کرتا ہے ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔[12]{۹} تمہارے[13] درمیان جس معاملے میں بھی اختلاف ہو، اُس کا فیصلہ کرنا اللہ کا کام ہے۔ [14]وہی اللہ میرا[15] رَبّ ہے ، اُسی پر میں نے بھروسہ کیا ، اور اُسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔[16] {۱۰} آسمانوں اور زمین کا بنانے والا جس نے تمہاری اپنی جنس سے تمہارے لئے جوڑے پیدا کئے ، اور اِسی طرح جانوروں میں بھی (اُنہی کے ہم جنس ) جوڑے بنائے، اور اس طریقہ سے وہ تمہاری نسلیں پھیلاتا ہے۔ کائنات کی کوئی چیز اُس کے مشابہ نہیں ،[17] وہ سب کچھ سُننے اور دیکھنے والا ہے۔[18]{۱۱} آسمان اور زمین کے خزانوںکی کنجیاں اُسی کے پاس ہیں ، جسے چاہتا ہے کھلارزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نَپاتُلا دیتا ہے ، اُسے ہر چیز کا علم ہے۔[19]{ ۱۲} اُس نے تمہارے لئے دین کا وہی طریقہ مقرر کیا ہے جس کا حکم اُس نے نوحؑ کو دیا تھا اور جسے ( اے نبی ؐ!) اب تمہاری طرف ہم نے وحی کے ذریعہ سے بھیجا ہے ، اور جس کی ہدایت ہم ابراہیم ؑ اور موسیٰؑ اور عیسیٰ ؑ کو دے چکے ہیں ، اس تاکید کے ساتھ کہ قائم کرو اس دین کو اور اس میں متفرق نہ ہوجا ؤ۔[20] یہی بات ان مشرکین کو سخت ناگوار ہوئی ہے جس کی طرف (اے نبی ؐ!) تم انہیں دعوت دے رہے ہو ۔ اللہ جسے چاہتا ہے اپنا کرلیتاہے اور وہ اپنی طرف آنے کا راستہ اُسی کو دکھاتا ہے جو اُس کی طرف رجوع کرے۔ [21]{۱۳} لوگوں میں جو تفرقہ رُو نما ہوا وہ اس کے بعد ہوا کہ اُن کے پاس علم آچکا تھا،[22] اور اس بناپر ہوا کہ وہ آپس میں ایک دُوسرے پر زیادتی کرنا چاہتے تھے۔[23] اگر تیرا رَبّ پہلے ہی یہ نہ فرما چکا ہوتا کہ ایک وقت ِمقرر تک فیصلہ ملتوی رکھا جائے گا تو ان کا قضیہ چُکا دیا گیا ہوتا ۔[24] اور حقیقت یہ ہے کہ اگلوں کے بعد جو لوگ کتاب کے وارث بنائے گئے وہ اُس کی طرف سے بڑے اضطراب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ [25]{۱۴} (چونکہ یہ حالت پیدا ہوچکی ہے) اس لیے اے نبی ؐ! اب تم اُسی دین کی طرف دعوت دو ، اور جس طرح تمہیں حکم دیا گیا ہے اُسی پر مضبوطی کے ساتھ قائم ہوجا ؤ، اور اِن لوگوں کی خواہشات کا اتباع نہ کرو ،[26] اور اِن سے کہہ دو کہ: ’’ اللہ نے جو کتاب بھی نازل کی ہے میں اُس پر ایمان لایا ،[27]مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں تمہارے درمیان انصاف کروں ۔[28] اللہ ہی ہمارا رَبّ بھی ہے اور تمہارا رَبّ بھی ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ۔[29] ہمارے درمیان کوئی جھگڑا نہیں۔ [30] اللہ ایک روز ہم سب کو جمع کرے گا اور اُسی کی طرف سب کو جانا ہے ‘‘۔ {۱۵} اللہ کی دعوت پر لبیک کہے جانے کے بعد جو لوگ ( لبیّک کہنے والوں سے ) اللہ کے معاملہ میں جھگڑے کرتے ہیں ،[31] ان کی حجت بازی اُن کے رَبّ کے نزدیک باطل ہے ، اور اُن پر اُس کا غضب ہے اور اُن کے لیے سخت عذاب ہے ۔{۱۶} وہ اللہ ہی ہے جس نے حق کے ساتھ یہ کتاب اور میزان نازل کی ہے۔[32] اور تمہیں کیا خبر، شاید کہ فیصلے کی گھڑی قریب ہی آلگی ہو۔[33]{۱۷} جو لوگ اُس کے آنے پر ایمان نہیں رکھتے وہ تو اُس کے لیے جلدی مچاتے ہیں، مگر جو اس پر ایمان رکھتے ہیں وہ اس سے ڈرتے ہیں اور جانتے ہیں کہ یقینا وہ آنے والی ہے۔ خوب سُن لو ، جو لوگ اُس گھڑی کے آنے میں شک ڈالنے والی بحثیں کرتے ہیں وہ گمراہی میں بہت دُور نکل گئے ہیں۔{۱۸} اللہ اپنے بندوں پر بہت مہربان ہے۔[34] جسے جو کچھ چاہتا ہے دیتا ہے ،[35] اور وہ بڑی قوت والا اور زبردست ہے۔ [36]{۱۹} جو کوئی آخرت کی کھیتی چاہتا ہے اُس کی کھیتی کو ہم بڑھاتے ہیں ، اور جو دنیا کی کھیتی چاہتا ہے اُسے دنیا ہی میں سے دیتے ہیں مگر آخرت میں اُس کا کوئی حصہ نہیں ہے۔[37] {۲۰} کیا یہ لوگ کچھ ایسے(اللہ کے) شریک رکھتے ہیں جنہو ں نے اِن کے لیے دین کی نوعیت رکھنے والا ایک ایسا طریقہ مقرر کردیا ہے جس کا اللہ نے اِذن نہیں دیا ؟ [38] اگر فیصلے کی بات طے نہ ہوگئی ہوتی تو اِن کا قضیہ چکا دیا گیا ہوتا۔[39] یقینا اِن ظالموں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔{۲۱} تم دیکھو گے کہ یہ ظالم اس وقت اپنے کئے کے انجام سے ڈرر ہے ہوں گے اور وہ ان پر آکر رہے گا۔ بخلاف اِس کے جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں وہ جنت کے گلستانوں میں ہوں گے ، جو کچھ بھی وہ چاہیں گے اپنے رَبّ کے ہاں پائیں گے ، یہی بڑا فضل ہے۔{۲۲} یہ ہے وہ چیز جس کی خوشنجری اللہ اپنے اُن بندوں کو دیتا ہے جنہوں نے مان لیا اور نیک عمل کئے ۔ اے نبی ؐ! اِن لوگوں سے کہہ دو کہ ’’ میں اس کا م پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں،[40] البتہ قرابت کی محبت ضرور چاہتا ہوں‘‘ ۔ [41]جو کوئی بھلائی کمائے گا ہم اس کے لیے اس بھلائی میں خوبی کا اضافہ کردیں گے۔ بیشک اللہ بڑا درگزر کرنے والا اور قدر دان ہے۔ [42]{۲۳} کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اس شخص نے اللہ پر جُھوٹا بہتان گھڑلیا ہے ؟[43] اگر اللہ چاہے تو تمہارے دل پر مُہرکردے۔ [44] وہ باطل کو مٹادیتا ہے اور حق کو اپنے فرمانوں سے حق کردکھاتا ہے ۔ [45]وہ سینوں کے چُھپے ہوئے راز جانتا ہے ۔[46]{ ۲۴} و ہی ہے جو اپنے بندوں سے توبہ قبول کرتاہے اور بُرائیوں سے درگزر فرماتا ہے،حالانکہ تم لوگوں کے سب افعال کا اُسے علم ہے۔[47]{۲۵} وہ ایمان لانے والوں اور نیک عمل کرنے والوں کی دُعا قبول کرتا ہے اور اپنے فضل سے ان کو اور زیادہ دیتا ہے۔ رہے انکار کرنے والے ، تو ان کے لیے سخت سزا ہے۔{۲۶} اگر اللہ اپنے سب بندوں کو کھلا رزق دے دیتا تو وہ زمین میں سرکشی کا طوفان برپا کردیتے ، مگر وہ ایک حساب سے جتنا چاہتا ہے نازل کرتا ہے ، یقینا وہ اپنے بندوں سے باخبر ہے اور اُن پر نگاہ رکھتا ہے۔[48]{۲۷} وہی ہے جو لوگوں کے مایوس ہوجانے کے بعد مینھ برساتا ہے اور اپنی رحمت پھیلادیتا ہے ، اور وہی قابلِ تعریف ولی ہے۔[49]{۲۸} اُس کی نشانیوں میں سے ہے یہ زمین اور آسمانوں کی پیدائش، اور یہ جاندار مخلوقات جو اُس نے دونوں جگہ پھیلا رکھی ہیں ۔[50] وہ جب چاہے انہیں اکٹھا کر سکتا ہے۔[51] {۲۹} تم لوگوں پر جو مصیبت بھی آئی ہے، تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے آئی ہے، اور بہت سے قصوروں سے وہ ویسے ہی درگزر کرجاتا ہے۔[52]{۳۰} تم زمین میں اپنے رَبّ کو عاجز کردینے والے نہیں ہو ، اور اللہ کے مقابلے میں تم کوئی حامی و ناصر نہیں رکھتے ۔{۳۱} اُس کی نشانیوں میں سے ہیں یہ جہاز جو سمندر میں پہاڑوں کی طرح نظر آتے ہیں۔{۳۲} اللہ جب چاہے ہوا کو ساکن کردے اور یہ سمندر کی پیٹھ پر کھڑے کے کھڑے رہ جائیں ۔اس میں بڑی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو کمال درجہ صبرو شکر کرنے والا ہو۔[53]{۳۳} یا ( اُن پر سوار ہونے والوں کے ) بہت سے گناہوں سے درگزر کرتے ہوئے ان کے چند ہی کرتُوتوں کی پاداش میں انہیں ڈبودے{ ۳۴} اور اُس وقت ہماری آیات میں جھگڑے کرنے والوں کو پتہ چل جائے کہ ان کے لیے کوئی جائے پناہ نہیں ہے۔ [54]{۳۵} جو کچھ بھی تم لوگوں کو دیا گیا ہے وہ محض دنیا کی چند روزہ زندگی کا سرو سامان ہے ،[55] اور جو کچھ اللہ کے ہاں ہے وہ بہتر بھی ہے اور پائیدار بھی ۔[56] وہ اُن لوگوں کے لیے ہے جو ایمان لائے ہیں اور اپنے رَبّ پر بھروسہ کرتے ہیں[57]{۳۶} جو بڑے بڑے گناہوں اور بے حیائی کے کاموں سے پرہیز کرتے ہیں [58]اور اگر غصہ آجائے تو درگزر کرجاتے ہیں[59] {۳۷} جو اپنے رَبّ کا حکم مانتے ہیں ،[60] نماز قائم کرتے ہیں ، اپنے معاملات آپس کے مشورے سے چلاتے ہیں ،[61] ہم نے جو کچھ بھی رزق انہیں دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں[62]{۳۸} اور جب ان پرزیادتی کی جاتی ہے تو اس کا مقابلہ کرتے ہیں۔[63]{۳۹} [64]--بُرائی کا بدلہ ویسی ہی بُرائی ہے ،[65] پھر جوکوئی معاف کردے اور اصلاح کرے اُس کا اجر اللہ کے ذمہ ہے ،[66] اللہ ظالموں کو پسند نہیں کرتا۔{۴۰} اور جو لوگ ظلم ہونے کے بعد بدلہ لیں اُن کو ملامت نہیں کی جاسکتی{۴۱} ملامت کے مستحق تو وہ ہیں جو دُوسروں پر ظلم کرتے ہیں اور زمین میں ناحق زیادتیاں کرتے ہیں ۔ ایسے لوگوں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔{۴۲} البتہ جو شخص صبر سے کام لے اور درگزر کرے ، تو یہ بڑی اولُوالعزمی کے کاموں میں سے ہے۔ [68]{۴۳} جس کو اللہ ہی گمراہی میں پھینک دے اُس کا کوئی سنبھالنے والا اللہ کے بعد نہیں ہے۔ [69]تم دیکھو گے کہ یہ ظالم جب عذاب دیکھیں گے تو کہیں گے اب پلٹنے کی بھی کوئی سبیل ہے ؟[70] {۴۴} اور تم دیکھو گے کہ یہ جہنم کے سامنے جب لائے جائیں گے تو ذلت کے مارے جُھکے جارہے ہوں گے اور اُس کو نظر بچا بچا کرکن آنکھیوں سے دیکھیں گے۔[71] اُس وقت وہ لوگ جو ایمان لائے تھے کہیں گے کہ واقعی اصل زیاں کا روہی ہیں جنہوں نے آج قیامت کے دن اپنے آپ کو اور اپنے متعلقین کو خسارے میں ڈال دیا ۔ خبردار رہو ، ظالم لوگ مستقل عذاب میں ہوں گے {۴۵} اور ان کے کوئی حامی و سرپرست نہ ہوں گے جو اللہ کے مقابلے میں ان کی مدد کو آئیں۔ جسے اللہ گمراہی میں پھینک دے اس کے لیے بچا ؤ کی کوئی سبیل نہیں۔{۴۶} مان لو اپنے رَبّ کی بات قبل اِس کے کہ و ہ دن آئے جس کے ٹلنے کی کوئی صُورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔[72] اُس دن تمہارے لئے کوئی جائے پناہ نہ ہوگی اور نہ کوئی تمہارے حال کو بدلنے کی کوشش کرنے والا ہوگا ۔[73]{۴۷} اب اگر یہ لوگ منھ موڑتے ہیں تو اے نبی ؐ! ہم نے تم کو اِن پر نگہبان بناکر تو نہیں بھیجا ہے۔[74] تم پر توصرف بات پہنچادینے کی ذمہ داری ہے۔ انسان کا حال یہ ہے کہ جب ہم اسے اپنی رحمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو اُس پر پُھول جاتا ہے ، اور اگر اس کے اپنے ہاتھوں کا کیا دھرا کسی مصیبت کی شکل میں اس پر الٹ پڑتا ہے تو سخت ناشکرابن جاتا ہے۔[75]{۴۸} اللہ زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک ہے ،[76] جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ، جسے چاہتا ہے لڑکیاں دیتا ہے جسے چاہتا ہے لڑکے دیتا ہے {۴۹} جسے چاہتا ہے لڑکے اور لڑکیاں مِلا جُلا کردیتا ہے ، اور جسے چاہتا ہے بانجھ کردیتا ہے ۔ وہ سب کچھ جانتا اور ہر چیز پر قادر ہے۔ [77]{۵۰} کسی [78]بشر کا یہ مقام نہیں ہے کہ اللہ اُس سے رُوبرو بات کرے۔ اُس کی بات یا تو وحی ( اشارے ) کے طور پر ہوتی ہے [79]، یاپر دے کے پیچھے سے،[80] یا پھر وہ کوئی پیغام بر( فرشتہ ) بھیجتا ہے اور وہ اُس کے حکم سے جو کچھ وہ چاہتاہے وحی کرتا ہے ، [81]وہ برتر اور حکیم ہے ۔[82]{۵۱} اور اِسی طرح ( اے نبی ؐ!) ہم نے اپنے حکم سے ایک رُوح تمہاری طرف وحی کی ہے[83]تمہیں کچھ پتہ نہ تھا کہ کتاب کیا ہوتی ہے اور ایمان کیا ہوتا ہے ،[84] مگراُس رُوح کو ہم نے ایک روشنی بنا دیا جس سے ہم راہ دکھاتے ہیں اپنے بندوں میں سے جسے چاہتے ہیں۔ یقینا تم سیدھے راستے کی طرف رہنمائی کر رہے ہو {۵۲} اُس اللہ کے راستے کی طرف جو زمین اور آسمانوں کی ہر چیز کا مالک ہے ۔ خبردار رہو! سارے معاملات اللہ ہی کی طرف رُجوع کرتے ہیں۔[85]{۵۳}
سورۃ الزخرف   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 43 : 1-23 / 89حٰمٓ {۱} قسم ہے اس واضح کتاب کی { ۲} کہ ہم نے اسے عربی زبان کا قرآن بنایا ہے تا کہ تم لوگ اسے سمجھو۔[1]{۳} اور درحقیقت یہ اُ مُّ الکتاب میں ثبت ہے ،[2] ہمارے ہاں بڑی بلند مرتبہ اور حکمت سے لبریز کتاب ہے۔[3]{ ۴} اب کیا ہم تم سے بیزار ہو کر یہ درسِ نصیحت تمہارے ہاں بھیجنا چھوڑدیں صرف اس لیے کہ تم حد سے گزرے ہوئے ہو ؟[4] {۵} پہلے گزری ہوئی قوموں میں بھی بارہا ہم نے نبی بھیجے ہیں۔{۶} کبھی ایسا نہیں ہوا کہ کوئی نبی ﷺُن کے ہاں آیا ہو اور انہوں نے اُس کا مذاق نہ اُڑایا ہو ۔[5]{۷} پھر جو لوگ اِن سے بدرجہا زیادہ طاقتور تھے اُنہیں ہم نے ہلاک کردیا ،پچھلی قوموں کی مثالیں گزرچکی ہیں۔[6]{۸} اگر تم اِن لوگوں سے پُوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا تو یہ خود کہیں گے کہ ’’ انہیں اُسی زبردست علیم ہستی نے پیدا کیا ہے۔ ‘‘{۹} وہی ناجس نے تمہارے لئے اُس زمین کو گہوارہ بنایا [7]اور اس میں تمہاری خاطر راستے بنادیئے[8] تا کہ تم اپنی منزل ِمقصود کی راہ پاسکو۔[9]{۱۰} جس نے ایک خاص مقدار میں آسمان سے پانی اُتارا [10]اور اس کے ذریعے سے مُردہ زمین کو جِلا اُٹھایا ، اِسی طرح ایک روز تم زمین سے بر آمد کئے جا ؤ گے۔[11]{۱۱} وہی جس نے یہ تمام جوڑے پیدا کئے [12]اور جس نے تمہارے لئے کشتیوں اور جانوروں کو سواری بنایا {۱۲} تاکہ تم اُن کی پشت پر چڑھو اور جب اُن پر بیٹھو تواپنے رَبّ کا احسان یاد کرو اور کہوکہ ’’ پاک ہے وہ جس نے ہمارے لئے ان چیزوں کو مسخر کردیا ورنہ ہم اِنہیں قابو میں لانے کی طاقت نہ رکھتے تھے [13]{۱۳} اور ایک روز یقینا ہمیں اپنے رَبّ کی طرف پلٹنا ہے۔‘‘[14]{۱۴} ( یہ سب کچھ جانتے اور مانتے ہوئے بھی ) اِن لوگوں نے اُسکے بندوں میں سے بعض کو اُس کا جُزو بناڈالا،[15] حقیقت یہ ہے کہ انسان کُھلا احسان فراموش ہے۔ {۱۵} کیا اللہ نے اپنی مخلوق میں سے اپنے لئے بیٹیاں انتخاب کیں اور تمہیں بیٹوں سے نوازا ؟ {۱۶} اور حال یہ ہے کہ جس اولاد کو یہ لوگ اُس ربّ ِرحمن کی طرف منسوب کرتے ہیں اُس کی ولادت کا مژدہ جب خود اِن میں سے کسی کو دیا جاتا ہے تو اُس کے منھ پرسیاہی چھاجاتی ہے اور وہ غم سے بھر جاتا ہے۔[16]{۱۷} کیا اللہ کے حصے میں وہ اولاد آئی جو زیوروں میں پالی جاتی ہے اور بحث وحجت میں اپنا مدعا پوری طرح واضح بھی نہیں کرسکتی ؟[17]{۱۸} اِنہوں نے فرشتوں کو ، جو (ربّ) رحمن کے خاص بندے ہیں ،[18] عورتیں قرار دے لیا۔ کیا اُن کے جسم کی ساخت انہو ں نے دیکھی ہے ؟[19] ان کی گواہی لکھ لی جائے گی اور اِنہیں اِس کی جواب دہی کرنی ہوگی۔ {۱۹} یہ کہتے ہیں :’’اگر(ربّ)رحمن چاہتا ( کہ ہم ان کی عبادت نہ کریں ) تو ہم کبھی اُن کو نہ پُوجتے‘‘[20] یہ اس معاملے کی حقیقت کو قطعی نہیں جانتے ، محض تیرتُکے لڑاتے ہیں۔ {۲۰} کیا ہم نے اس سے پہلے کوئی کتاب اِن کو دی تھی جس کی سند ( اپنی اس ملائکہ پرستی کے لیے )یہ اپنے پاس رکھتے ہوں ؟[21]{۲۱} نہیں،بلکہ یہ کہتے ہیں کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پرپایا ہے اور ہم اُنہی کے نقشِ قدم پر چل رہے ہیں ۔[22]{ ۲۲} اِسی طرح تم سے پہلے جس بستی میں بھی ہم نے کوئی نذیر بھیجا، اُس کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہی کہا کہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایک طریقے پرپایا ہے اور ہم اُنہی کے نقشِ قدم کی پیروی کررہے ہیں۔[23]{ ۲۳}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)