سورۃ المؤمن   -  40 : 41-85 / 85اے قوم!آخر یہ کیا ماجرا ہے کہ میں تو تم لوگو ں کو نجات کی طرف بُلاتا ہوں اور تم لوگ مجھے آگ کی طرف دعوت دیتے ہو !{۴۱} تم مجھے اس بات کی دعوت دیتے ہو کہ میں اللہ سے کفر کروں اور اس کے ساتھ اُن ہستیوں کو شریک ٹھہرا ؤں جنہیں میں نہیں جانتا،[57] حالاں کہ میں تمہیں اُس زبردست مغفرت کرنے والے رَبّ کی طرف بُلارہا ہوں۔{ ۴۲} نہیں ، حق یہ ہے اور اِس کے خلاف نہیں ہوسکتا کہ جن کی طرف تم مجھے بُلا رہے ہو اُن کے لیے نہ دُنیا میں کوئی دعوت ہے ، نہ آخرت میں ،[58] اور ہم سب کو پلٹنا اللہ ہی کی طرف ہے ، اور حد سے گزر نے والے[59] آگ میں جانے والے ہیں۔{ ۴۳} آج جو کچھ میں کہہ رہا ہوں ، عنقریب وہ وقت آئے گا جب تم اُسے یاد کرو گے ۔ اور اپنا معاملہ میں اللہ کے سپرد کرتا ہوں ، وہ اپنے بندوں کا نگہبان ہے‘‘ ۔[60]{۴۴} آخر کار اُن لوگوں نے جو بُری سے بُری چالیں اُس مومن کے خلاف چلیں ، اللہ نے اُن سب سے اُس کو بچا لیا،[61] اور فرعون کے ساتھی خود بدترین عذاب کے پھیر میں آگئے۔ [62]{۴۵} دوزخ کی آگ ہے جس کے سامنے صبح وشام وہ پیش کئے جاتے ہیں، اور جب قیامت کی گھڑی آجائے گی تو حکم ہوگا کہ آلِ فرعون کو شدید تر عذاب میں داخل کرو۔[63]{۴۶} پھر ذراخیال کرو اُس وقت کا جب یہ لوگ دوزخ میں ایک دُوسرے سے جھگڑرہے ہوں گے۔ دنیا میں جو لوگ کمزور تھے وہ بڑ ے بننے والوں سے کہیں گے کہ ’’ہم تمہارے تابع تھے ، اب کیا یہاں تم نارِ جہنم کی تکلیف کے کچھ حصے سے ہم کو بچالو گے ؟‘‘ [64]{۴۷} وہ بڑے بننے والے جواب دیں گے ’’ ہم سب یہاں ایک حال میں ہیں ، اور اللہ بندوں کے درمیان فیصلہ کرچکا ہے ‘‘[65]{۴۸} پھر یہ دوزخ میں پڑے ہوئے لوگ جہنم کے اہل کاروں سے کہیں گے ’’ اپنے رَبّ سے دُعا کر و کہ ہمارے عذاب میں بس ایک دن کی تخفیف کردے ۔‘‘{۴۹} وہ پوچھیں گے ’’ کیا تمہارے پاس رسو ل بیناّت لے کر نہیں آتے رہے تھے ؟‘‘ وہ کہیں گے ’’ ہاں ‘‘ جہنم کے اہل کاربولیں گے : ’’ پھر تو تم ہی دُعا کرو ، اور کافرں کی دُعااکارت ہی جانے والی ہے۔ ‘‘[66]{۵۰} یقین جانو کہ ہم اپنے رسُولوں اور ایمان لانے والوں کی مدد اِس دنیا کی زندگی میں بھی لازماً کرتے ہیں ،[67] اور اُس روز بھی کریں گے جب گواہ کھڑے ہوں گے ۔[68]{۵۱} جب ظالموں کو ان کی معذرت کچھ بھی فائدہ نہ دے گی اوراُن پر لعنت پڑے گی اور بدترین ٹھکانااُن کے حصّے میں آئے گا۔{ ۵۲} آخر دیکھ لو کہ موسیٰ ؑکی ہم نے رہنمائی کی[69] اور بنی اسرائیل کو اُس کتاب کا وارث بنادیا {۵۳} جو عقل و دانش رکھنے والوں کے لیے ہدایت ونصیحت تھی۔ [70]{ ۵۴} پس اے نبی ؐ! صبرکرو ،[71] اللہ کا وعدہ برحق ہے ،[72] اپنے قصور کی معافی چاہو[73] اور صبح وشام اپنے رَبّ کی حمدکے ساتھ اس کی تسبیح کرتے رہو۔[74] {۵۵} حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ کسی سند وحجت کے بغیرجو اُن کے پاس آئی ہو ، اللہ کی آیات میں جھگڑرہے ہیں اُن کے دلو ںمیں کِبر بھر ا ہوا ہے ،[75] مگر وہ اُس بڑائی کو پہنچنے والے نہیں ہیں جس کا وہ گھمنڈ رکھتے ہیں۔[76] بس اللہ کی پناہ مانگ لو،[77] وہ سب کچھ دیکھتا اور سُنتا ہے۔[78]{۵۶} آسمانو ںاور زمین کا پیدا کرنا، انسان کو پیدا کرنے کی بہ نسبت یقینا زیادہ بڑا کام ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔[79]{۵۷} اور یہ نہیں ہوسکتا کہ اندھا اور بینایکساں ہوجائے اور ایمان دارو صالح اور بدکار برابر ٹھہریں مگر تم لوگ کم ہی کچھ سمجھتے ہو۔[80]{۵۸} یقینا قیامت کی گھڑی آنے والی ہے،اس کے آنے میں کوئی شک نہیں، مگر اکثر لوگ نہیں مانتے۔[81] {۵۹} تمہارا[82] رَبّ کہتا ہے ’’ مجھے پُکارو ، میں تمہاری دعائیں قبول کروں گا [83]جو لوگ گھمنڈ میں آکر میری عبادت سے مُنھ موڑتے ہیں ضرور وہ ذلیل و خوار ہو کر جہنم میں داخل ہوں گے‘‘۔[84]{۶۰} وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی تا کہ تم اس میں سکون حاصل کرو ، اوردن کو روشن کیا۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے ۔[85]{۶۱} وہی اللہ (جس نے تمہارے لئے یہ کچھ کیا ہے ) تمہارا رَبّ ہے ۔ ہر چیز کا خالق ۔ اس کے سوا کوئی معبُود نہیں ۔[86] پھر تم کدھر سے بہکائے جارہے ہو ؟ [87]{۶۲} اسی طرح وہ سب لوگ بہکائے جاتے رہے ہیں جو اللہ کی آیات کا انکار کرتے تھے۔[88]{۶۳} وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہارے لئے زمین کو جائے قرار بنایا[89] اوراُوپر آسمان کا گنبد بنادیا۔ [90]جس نے تمہاری صُورت بنائی اور بڑی ہی عمدہ بنائی ،جس نے تمہیں پاکیزہ چیزوں کا رزق دیا۔[91] وہی اللہ ( جس کے یہ کام ہیں) تمہارا رَبّ ہے ۔ بے حساب برکتوں والا ہے وہ کائنات کا رَبّ۔ {۶۴} وہی زندہ ہے۔[92] اس کے سوا کوئی معبُود نہیں ۔ اُسی کو تم پکارو اپنے دین کو اُسی کے لیے خالص [93]کرکے۔ساری تعریف اللہ رَبّ العالمین ہی کے لیے ہے۔[94]{۶۵} اے نبی ؐ!اِن لوگوں سے کہہ دو کہ مجھے تواُن ہستیوں کی عبادت سے منع کردیا گیا ہے جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پُکارتے ہو۔ [95] ( میں یہ کام کیسے کرسکتا ہوں ) جب کہ میرے پاس میرے رَبّ کی طرف سے بینات آچکی ہیں۔ مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں رَبّ العالمین کے آگے سرِ تسلیم خم کردوں۔{۶۶} وہی تو ہے جس نے تم کومٹی سے پیدا کیا ، پھر نطفے سے ،پھر خون کے لوتھڑے سے ، پھر وہ تمہیں بچے کی شکل میں نکالتا ہے ، پھر تمہیں بڑھاتا ہے تا کہ تم اپنی پوری طاقت کو پہنچ جا ؤ ، پھر اور بڑھاتا ہے تا کہ تم بڑھا پے کو پہنچو اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بُلالیا جاتا ہے ۔[96]یہ سب کچھ اس لیے کیا جاتا ہے تا کہ تم اپنے مقررہ وقت تک پہنچ جا ؤ ،[97] اور اس لیے کہ تم حقیقت کو سمجھو ۔[98]{۶۷} وہی ہے زندگی دینے والا ، اور وہی موت دینے والاہے۔ وہ جس بات کا بھی فیصلہ کرتا ہے ، بس ایک حکم دیتا ہے کہ وہ ہوجائے اور وہ ہو جاتی ہے۔{۶۸} تم نے دیکھا اُن لوگوں کو جو اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں ، کہاں سے وہ پھرائے جارہے ہیں ؟[99] {۶۹} یہ لوگ جو اِس کتاب کو اور اُن ساری کتابوں کو جُھٹلاتے ہیں جو ہم نے اپنے رسُولوں کے ساتھ بھیجی تھیں ،[100] عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا {۷۰} جب طوق اِن کی گردنوں میں ہوں گے اور زنجیریں ، جن سے پکڑ کر وہ کھینچے جائیں گے ۔{۷۱} اور پھر کھولتے ہوئے پانی کی طرف دوزخ کی آگ میں جھونک دیئے جائیں گے۔[101] {۷۲} پھر اِن سے پوچھا جائے گا کہ ’’ اب کہا ںہیں وہ دوسرے معبود جن کو تم شریک کرتے تھے ؟‘‘[102]{۷۳} اللہ کے سوا ،وہ جواب دیں گے ’’ کھوئے گئے وہ ہم سے بلکہ ہم اس سے پہلے کسی چیز کو نہ پکارتے تھے ۔‘‘ [103]اس طرح اللہ کافروں کا گمراہ ہونا متحقق کردے گا ۔{ ۷۴} اِن سے کہا جائے گا’’ یہ تمہارا انجام اس لیے ہوا ہے کہ تم زمین میں غیر ِحق پرمگن تھے اور پھر اُس پر اِتراتے تھے[104]{۷۵} اب جا ؤ ، جہنم کے دروازوں میں داخل ہوجا ؤ ، ہمیشہ تم کو وہیں رہنا ہے ، بہت ہی بُرا ٹھکانا ہے متکبرین کا ‘‘۔{۷۶} پس اے نبی ؐ ! صبر کرو ،[105] اللہ کا وعدہ برحق ہے ۔ اب خواہ ہم تمہارے سامنے ہی اِن کو اُن بُرے نتائج کا کوئی حصہ دکھا دیں جن سے ہم اِنہیں ڈرارہے ہیں، یا ( اُس سے پہلے ) تمہیں دنیاسے اُٹھا لیں، پلٹ کر آنا تو انہیں ہماری ہی طرف ہے۔[106]{۷۷} اے[107] نبی ؐ!تم سے پہلے ہم بہت سے رسُول بھیج چکے ہیں جن میں سے بعض کے حالات ہم نے تم کو بتائے ہیں اور بعض کے نہیں بتائے ۔ کسی رسُول کی بھی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اذن کے بغیر خود کوئی نشانی لے آتا ۔ [108]پھر جب اللہ کا حکم آگیا تو حق کے مطابق فیصلہ کردیا گیا اور اُس وقت غلط کارلوگ خسارے میں پڑگئے۔ [109]{۷۸} اللہ ہی نے تمہارے لئے یہ مویشی جانور بنائے ہیں تا کہ ان میں سے کسی پر تم سوار ہو اور کسی کا گوشت کھا ؤ ۔{۷۹} ان کے اندر تمہارے لئے اور بھی بہت سے منافع ہیں۔ وہ اِس کا م بھی آتے ہیں کہ تمہارے دلوں میں جہاں جانے کی حاجت ہو وہاں تم اُن پر پہنچ سکو ۔ اُن پر بھی اور کشتیوں پر بھی تم سوار کئے جاتے ہو{۸۰} اللہ اپنی یہ نشانیاں تمہیں دکھا رہا ہے ، آخر تم اِس کی کِن کِن نشانیوں کا انکار کروگے۔[110]{۸۱} پھر کیا [111]یہ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِن کو اُن لوگوں کا انجام نظر آتا جو اِن سے پہلے گزرچکے ہیں ؟ وہ اِن سے تعداد میں زیادہ تھے ، ان سے بڑھ کر طاقت ورتھے ، اور زمین میں ان سے زیادہ شاندار آثار چھوڑ گئے ہیں۔ جو کچھ کمائی اُنہو ں نے کی تھی ، آخر وہ اُن کے کس کام آئی ؟{۸۲} جب ان کے رسُول ان کے پاس بینات لے کر آئے۔ تو وہ اُسی علم میں مگن رہے جو ان کے اپنے پاس تھا،[112] اور پھراُسی چیز کے پھیر میں آگئے جس کا وہ مذاق اُڑاتے تھے۔{ ۸۳} جب انہوں نے ہمارا عذاب دیکھ لیا تو پکار اُٹھے کہ ہم نے مان لیا اللہ وحدہ لاشریک کو اور ہم انکار کرتے ہیں اُن سب معبُودوں کا جنہیں ہم اُس کا شریک ٹھہراتے تھے۔{ ۸۴} مگر ہمارا عذاب دیکھ لینے کے بعد ان کا ایمان اُن کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہوسکتا تھا ، کیوں کہ یہی اللہ کا مقرر ضابطہ ہے جو ہمیشہ اس کے بندوں میں جاری رہا ہے،[113] اور اس وقت کافر لوگ خسارے میں پڑگئے۔{۸۵}
سورۃ حٰمٓ السجدۃ   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 41 : 1-46 / 54حٰمٓ {۱} یہ (قرآن ) رحمن و رحیم کی طرف سے نازل کردہ چیز ہے{ ۲} ایک ایسی کتاب جس کی آیات خوب کھول کر بیان کی گئی ہیں ، عربی زبان کا قرآن ، اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں { ۳} بشارت دینے والا اور ڈرادینے والا۔ [1]مگر ان لوگوں میں سے اکثر نے اس سے رُوگردانی کی اور وہ سُن کر نہیں دیتے {۴} کہتے ہیں’’ جس چیز کی طرف تو ہمیں بُلا رہا ہے اُس کے لیے ہمارے دلوں پر غلاف چڑھے ہوئے ہیں ،[2] ہمارے کان بہرے ہوگئے ہیں ، اور ہمارے اور تیرے درمیان ایک حجاب حائل ہوگیا ہے ۔[3] تو اپنا کام کر ، ہم اپنا کام کئے جائیں گے‘‘۔[4]{۵} اے نبی ؐ!ان سے کہو ، میں تو ایک بشر ہوں تم جیسا ۔[5] مجھے وحی کے ذریعہ سے بتایا جاتا ہے کہ تمہارا اِلٰہ تو بس ایک ہی اِلٰہ ہے ۔[6]لہٰذا تم سیدھے اُسی کا رُخ اختیار کرو[7] اور اس سے معافی چاہو۔ [8]تباہی ہے اُن مشرکوں کے لیے{۶} جو زکوٰۃ نہیں دیتے[9] اور آخرت کے منکر ہیں۔{۷} رہے وہ لوگ جنہوں نے مان لیا اور نیک اعمال کئے ، اُن کے لیے یقینا ایسا اجر ہے جس کا سلسلہ کبھی ٹوٹنے والا نہیں ہے۔ [10]{۸} اے نبی ؐ ان سے کہو ، کیا تم اُس خالق سے کفر کرتے ہو اور دوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہراتے ہو جس نے زمین کو دو دنوں میں بنادیا ؟ وہی تو سارے جہان والوں کا رَبّ ہے۔{۹} اُس نے ( زمین کو وجود میں لانے کے بعد )اُوپر سے اُس پر پہاڑ جمادیے اور اس میں برکتیں رکھ دیں[11] اور اس کے اندر سب مانگنے والوں کے لیے ہر ایک کی طلب وحاجت کے مطابق ٹھیک اندازسے خوراک کا سامان مہیا کردیا۔[12] یہ سب کام چاردن میں ہوگئے[13]{۱۰} پھر وہ آسمان کی طرف متوجہ ہوا جو اُس وقت محض دُھواں تھا۔[14] اُس نے آسمان اور زمین سے کہا ’’وجود میں آجا ؤ ، خواہ تم چاہو یانہ چاہو ‘‘ ۔دونوں نے کہا ’’ ہم آگئے فرمانبرداروں کی طرح ‘‘۔[15]{۱۱} تب اُس نے دودن کے اندر سات آسمان بنادیے ، اور ہر آسمان میں اُس کا قانون وحی کردیا۔ اور آسمان ِدُنیا کو ہم نے چراغوں سے آراستہ کیا اور اسے خوب محفوظ کردیا ۔[16] یہ سب کچھ ایک زبردست علیم ہستی کا منصوبہ ہے۔{ ۱۲} اب اگر یہ لوگ منھ موڑتے ہیں[17] تو اِن سے کہہ دو کہ میں تم کو اُسی طرح کے ایک اچانک ٹوٹ پڑنے والے عذاب سے ڈراتا ہوں جیسا عاد وثمود پر نازل ہوا تھا۔{۱۳} جب اللہ کے رسُول اُن کے پاس آگے اور پیچھے ، ہر طرف سے آئے[18] اور انہیں سمجھایاکہ اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کرو تو انہوں نے کہا ’’ ہمارا رَبّ چاہتا تو فرشتے بھیجتا ، لہٰذا ہم اُس بات کو نہیں مانتے جس کے لیے تم بھیجے گئے ہو‘‘۔[19]{۱۴} عاد کا حال یہ تھا کہ وہ زمین میں کسی حق کے بغیر بڑے بن بیٹھے اور کہنے لگے ’’ کون ہے ہم سے زیادہ زور آور ۔‘‘ اُن کو یہ نہ سوجھا کہ جس اللہ نے ان کو پیدا کیا ہے وہ ان سے زیادہ زور آور ہے۔ وہ ہماری آیات کا انکار ہی کرتے رہے{۱۵} آخر کار ہم نے چند منحوس دنوں میں سخت طوفانی ہوا ان پر بھیج دی[20] تا کہ انہیں دنیا ہی کی زندگی میں ذلت و رسوائی کے عذاب کا مزہ چکھادیں ،[21] اور آخرت کا عذاب تو اس سے بھی زیادہ رسُواکُن ہے ، وہاں کوئی ان کی مدد کرنے والا نہ ہوگا ۔{۱۶} رہے ثمود ، تو ان کے سامنے ہم نے راہ راست پیش کی مگر انہوں نے راستہ دیکھنے کے بجائے اندھا بنارہنا ہی پسند کیا۔ آخر اُن کے کرتوتوں کی بدولت ذلت کا عذاب اُن پر ٹوٹ پڑا{۱۷} اور ہم نے اُن لوگوں کو بچالیا جو ایمان لائے تھے اور گمراہی و بدعملی سے پرہیز کرتے تھے۔[22]{۱۸} اور ذرا اُس وقت کا خیال کرو جب اللہ کے یہ دشمن دوزخ کی طرف جانے کے لیے گھیر لائے جائیں گے۔[23] اُ ن کے اگلوں کو پچھلوں کے آنے تک روک رکھا جائے گا[24]{۱۹} پھر جب سب وہاں پہنچ جائیں گے تو ان کے کان اور ان کی آنکھیں اور ان کے جسم کی کھالیں ان پر گواہی دیں گی کہ وہ دنیا میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں۔ [25]{۲۰} وہ اپنے جسم کی کھالوں سے کہیں گے ’’ تم نے ہمارے خلاف کیوں گواہی دی؟ ‘‘ وہ جواب دیں گی ’’ہمیں اُسی اللہ نے گویائی دی ہے جس نے ہر چیز کو گویا کردیا ہے۔[26] اُسی نے تم کو پہلی مرتبہ پیدا کیا تھا اور اب اُسی کی طرف تم واپس لائے جارہے ہو۔{۲۱} تم دنیا میں جرائم کرتے وقت جب چھپتے تھے تو تمہیں یہ خیال نہ تھا کہ کبھی تمہارے اپنے کان اور تمہاری آنکھیں اور تمہارے جسم کی کھالیں تم پر گواہی دیں گی ،بلکہ تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ تمہارے بہت سے اعمال کی اللہ کو بھی خبر نہیں ہے۔{۲۲} تمہارا یہی گمان جو تم نے اپنے رَبّ کے ساتھ کیا تھا ،تمہیں لے ڈوبا اور اسی کی بدولت تم خسارے میں پڑگئے ‘‘۔[27]{۲۳} اِس حالت میں وہ صبر کریں (یانہ کریں) آگ ہی اُن کا ٹھکانا ہوگی، اور اگر رجوع کا موقع چاہیں گے تو کوئی موقع اُنہیں نہ دیا جائے گا۔[28]{۲۴} ہم نے اُن پر ایسے ساتھی مسلط کردیئے تھے جو انہیں آگے اور پیچھے ہر چیز خوشنما بناکر دکھاتے تھے،[29] آخر کاراُن پر بھی وہی فیصلۂ عذاب چسپاں ہو کر رہا جو ان سے پہلے گزرے ہوئے جنّوں اور انسانوں کے گروہوں پر چسپاں ہوچکا تھا ، یقینا وہ خسارے میں رہ جانے والے تھے۔{۲۵} یہ منکرینِ حق کہتے ہیں ’’ اس قرآن کو ہر گزنہ سنو اور جب یہ سنایا جائے تو اس میں خلل ڈالو ، شاید کہ اسی طرح تم غالب آجا ؤ ‘‘۔[30]{۲۶} ان کا فروں کو ہم سخت عذاب کا مزہ چکھا کررہیں گے اور جو بدترین حرکات یہ کرتے رہے ہیں ان کا پورا پورا بدلہ انہیں دیں گے۔ {۲۷} وہ دوزخ ہے جو اللہ کے دشمنوں کو بدلے میں ملے گی۔ اُسی میں ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ان کا گھر ہوگا۔ یہ ہے سزا اِس جُرم کی کہ وہ ہماری آیات کا انکارکرتے رہے۔{۲۸} وہاں یہ کافر کہیں گے کہ ’’ اے ہمارے رَبّ ! ذرا ہمیں دکھا دے اُن جنوں اور انسانوں کو جنہوں نے ہمیں گمراہ کیا تھا ، ہم انہیں پا ؤں تلے روندڈالیں گے تا کہ وہ خوب ذلیل و خوار ہوں‘‘۔[31]{۲۹} جن[32] لوگوں نے کہا کہ اللہ ہمارا رَبّ ہے اور پھر وہ اس پر ثابت قدم رہے،[33] یقینا اُن پر فرشتے نازل ہوتے ہیں[34]اور ان سے کہتے ہیں کہ ’’ نہ ڈرو ، نہ غم کرو ،[35] اور خوش ہوجا ؤ اُس جنت کی بشارت سے جس کا تم سے وعدہ کیا گیا ہے۔{۳۰} ہم اِس دنیا کی زندگی میں بھی تمہارے ساتھی ہیں اور آخرت میں بھی۔ وہاں جو کچھ تم چاہو گے تمہیں ملے گا اور ہر چیز جس کی تم تمنا کروگے وہ تمہاری ہوگی{۳۱} یہ ہے سامان ِ ضیافت اُس ہستی کی طرف سے جو غفور اور رحیم ہے۔‘‘{۳۲} اور اُس شخص کی بات سے اچھی بات اور کس کی ہوگی جس نے اللہ کی طرف بُلایا اور نیک عمل کیا اور کہا کہ میں مسلمان ہوں[36] {۳۳} اور اے نبی ؐ! نیکی اور بدی یکساں نہیں ہیں۔ تم بدی کو اُس نیکی سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ تم دیکھو گے کہ تمہارے ساتھ جس کی عداوت پڑی ہوئی تھی وہ جگری دوست بن گیا ہے۔[37] {۳۴} یہ صفت نصیب نہیں ہوتی مگر اُن لوگوں کو جو صبر کرتے ہیں ، [38]اور یہ مقام حاصل نہیں ہوتا مگر اُن لوگوں کو جو بڑے نصیبے والے ہیں۔[39] {۳۵} اور اگر تم شیطان کی طرف سے کوئی اُکساہٹ محسوس کرو تو اللہ کی پناہ مانگ لو ،[40] وہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے۔[41]{۳۶} اللہ[42] کی نشانیوں میں سے ہیں یہ رات اور دن اور سُورج اور چاند ۔[43] سُورج اور چاند کو سجدہ نہ کرو، بلکہ اُس (اللہ )کو سجدہ کرو جس نے انہیں پیدا کیا ہے اگر فی الواقع تم اُسی کی عبادت کرنے والے ہو[44]{۳۷} لیکن اگر یہ لوگ غرور میں آکر اپنی ہی بات پر اَڑے رہیں[45] تو پروانہیں ، جو فرشتے تیرے رَبّ کے مقرب ہیں وہ شب وروز اس کی تسبیح کررہے ہیں اور کبھی نہیں تھکتے۔[46] {۳۸} اور اللہ کی نشانیوں میں سے ایک یہ ہے کہ تم دیکھتے ہو زمین سُونی پڑی ہوئی ہے ، پھر جونہی کہ ہم نے اس پر پانی برسایا ، یکایک وہ پھَبک اُٹھتی ہے اور پُھول جاتی ہے۔ یقینا جو اللہ اِس مری ہوئی زمین کو جلا اٹھاتا ہے وہ مُردوں کو بھی زندگی بخشنے والا ہے ۔[47] یقینا وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔{۳۹} جو[48] لوگ ہماری آیات کو اُلٹے معنی پہناتے ہیں[49] وہ ہم سے کچھ چھپے ہوئے نہیں ہیں ۔ [50]خود ہی سوچ لو کہ آیاوہ شخص بہتر ہے جو آگ میں جھونکا جانے والا ہے یاوہ جو قیامت کے روز امن کی حالت میں حاضر ہوگا؟ کرتے رہو جو کچھ تم چاہو ،تمہاری ساری حرکتوں کو اللہ دیکھ رہا ہے۔ {۴۰} یہ وہ لوگ ہیں جن کے سامنے کلام ِنصیحت آیاتو اِنہوں نے اُسے ماننے سے انکار کردیا ۔ مگر حقیقت یہ ہے کہ یہ ایک زبردست کتاب ہے۔ [51]{۴۱} باطل نہ سامنے سے اِس پر آسکتا ہے نہ پیچھے سے ،[52] یہ ایک حکیم وحمید کی نازل کردہ چیزہے۔{۴۲} اے نبی ؐ! تم کو جو کچھ کہا جارہا ہے اس میں کوئی چیز بھی ایسی نہیں ہے جو تم سے پہلے گزرے ہوئے رسُولوں کو نہ کہی جاچکی ہو ۔ بے شک تمہارا رَبّ بڑا درگزر کرنے والا ہے[53] اور اِس کے ساتھ بڑی درد ناک سزادینے والا بھی ہے۔{۴۳} اگر ہم اِس کو عجمی قرآن بناکر بھیجتے تو یہ لوگ کہتے ’’ کیوں نہ اِس کی آیا ت کھول کر بیان کی گئیں؟ کیا ہی عجیب بات ہے کہ کلام عجمی ہے اور مخاطب عربی۔‘‘ [54]ان سے کہو یہ قرآن ایمان لانے والوں کے لیے تو ہدایت اور شفا ہے ، مگر جو لوگ ایمان نہیں لاتے ان کے لیے یہ کانوں کی ڈاٹ اور آنکھوں کی پٹی ہے۔ اُن کا حال تو ایسا ہے جیسے اُن کو دُور سے پُکارا جارہا ہو۔[55]{ ۴۴} اِس سے پہلے ہم نے موسیٰ ؑکو کتاب دی تھی اور اس کے معاملے میں بھی یہی اختلاف ہوا تھا ۔ [56]اگر تیرے رَبّ نے پہلے ہی ایک بات طے نہ کردی ہوتی تو ان اختلاف کرنے والوں کے درمیان فیصلہ چکا دیا جاتا۔ [57]اور حقیقت یہ ہے کہ یہ لوگ اُس کی طرف سے سخت اضطر اب انگیز شک میں پڑے ہوئے ہیں۔ [58]{۴۵} جو کوئی نیک عمل کرے گا اپنے ہی لئے اچھا کرے گا ، جو بدی کرے گا اس کا وبال اُسی پر ہوگا ۔ اور تیرا رَبّ اپنے بندوں کے حق میں ظالم نہیں ہے۔ [59]{۴۶}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)