سورۃالنساء   -  4 : 88-147 / 176پھر یہ تمہیں کیا ہوگیا ہے کہ منافقین کے بارے میں تمہارے درمیان دور ائیں پائی جاتی ہیں ،[116] حالانکہ جو بُرائیاں انہوں نے کمائی ہیں ان کی بدولت اللہ انہیں اُلٹا پھیر چکا ہے ۔[117]کیا تم چاہتے ہو کہ جسے اللہ نے ہدایت نہیں بخشی اسے تم ہدایت بخش دو ؟ حالانکہ جس کو اللہ نے راستے سے بھٹکا دیا اس کے لیے تم کوئی راستہ نہیں پاسکتے ۔ {۸۸} وہ تو یہ چاہتے ہیں کہ جس طرح وہ خود کافر ہیں اسی طرح تم بھی کافر ہو جا ؤ تا کہ تم اور وہ سب یکساں ہوجائیں۔ لہٰذا ان میں سے کسی کو اپنا دوست نہ بنا ؤ جب تک کہ وہ اللہ کی راہ میں ہجرت کرکے نہ آجائیں ، اور اگر وہ ہجرت سے بازرہیں تو جہاں پا ؤ انہیں پکڑو اور قتل کرو[118] اور ان میں سے کسی کو اپنا دوست اور مددگار نہ بنا ؤ ۔{۸۹} البتہ وہ منافق اس حکم سے مستثنیٰ ہیں جو کسی ایسی قوم سے جا ملیں جس کے ساتھ تمہارا معاہدہ [119]ہے۔ اسی طرح وہ منافق بھی مستثنیٰ ہے جو تمہار ے پاس آتے ہیں اور لڑائی سے دل برداشتہ ہیں،نہ تم سے لڑنا چاہتے ہیں نہ اپنی قوم سے ۔ اللہ چاہتاتو ان کو تم پر مسلط کردیتا اور وہ بھی تم سے لڑتے۔لہٰذا اگر وہ تم سے کنارہ کش ہوجائیں اور لڑنے سے باز رہیں اور تمہاری طرف صلح اور آشتی کا ہاتھ بڑھائیں تو اللہ نے تمہارے لیے ان پر دست درازی کی کوئی سبیل نہیں رکھی ہے ۔ {۹۰} ایک اور قسم کے منافق تمہیں ایسے ملیں گے جو چاہتے ہیں کہ تم سے بھی امن میں رہیں اور اپنی قوم سے بھی،مگر جب کبھی فتنہ کاموقع پائیں گے اس میں کود پڑیں گے ۔ ایسے لوگ اگر تمہارے مقابلہ سے باز نہ رہیں اور صلح و سلامتی تمہارے آگے پیش نہ کریں اوراپنے ہاتھ نہ روکیں تو جہاں وہ ملیں انہیں پکڑو اور مارو ، ان پر ہاتھ اٹھانے کے لیے ہم نے تمہیں کھلی حجت دے دی ہے۔{۹۱} کسی مومن کا یہ کام نہیں ہے کہ دوسرے مومن کو قتل کرے ، اِلاّیہ کہ اُس سے چُوک ہوجائے[120]۔ اور جو شخص کسی مومن کو غلطی سے قتل کردے تو اس کاکفارہ یہ ہے کہ ایک مومن کو غلامی سے آزاد کر ے [121]اور مقتول کے وارثوں کو خوں بہادے،[122] اِ لاّیہ کہ وہ خوں بہا معاف کردیں۔ لیکن اگر وہ مسلمان مقتول کسی ایسی قوم سے تھا جس سے تمہاری دشمنی ہو تو اس کا کَفّارہ ایک مومن غلام آزاد کرنا ہے اور اگر وہ کسی ایسی غیر مسلم قوم کا فرد تھا جس سے تمہارا معاہدہ ہو تو اس کے وارثوں کو خُوں بہاد یا جائے گا اور ایک مومن غلام کو آزاد کرنا ہوگا۔[123]پھر جو غلام نہ پائے وہ پے درپے دو مہینے کے روزے رکھے۔[124] یہ اِس گناہ پر اللہ سے توبہ کرنے کا طریقہ ہے[125] اور اللہ علیم ودانا ہے۔ { ۹۲} رہا وہ شخص جو کسی مومن کو جان بوجھ کر قتل کرے تو اُس کی جزا جہنم ہے جس میں وہ ہمیشہ رہے گا ۔ اُس پر اللہ کا غضب اور اس کی لعنت ہے اور اللہ نے اس کے لیے سخت عذاب مہیّا کررکھا ہے۔{ ۹۳} اے لوگوجو ایمان لائے ہو !جب تم اللہ کی راہ میں جہاد کے لیے نکلو تو دوست اوردشمن میں تمیز کرو اور جو تمہاری طرف سلام سے تقدیم کرے اُسے فورًا نہ کہدو کہ تو مومن نہیں ہے۔[126] اگر تم دُنیوی فائدہ چاہتے ہو تو اللہ کے پاس تمہارے لئے بہت سے اموال ِغنیمت ہیں ۔ آخر اسی حالت میں تم خود بھی تو اس سے پہلے مبتلا رہ چکے ہو ، پھر اللہ نے تم پر احسان کیا ،[127] لہٰذا تحقیق سے کام لو ، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اُس سے باخبر ہے۔{ ۹۴} مسلمانوں میں سے وہ لوگ جو کسی معذوری کے بغیر گھر بیٹھے رہتے ہیں اور وہ جو اللہ کی راہ میں جان ومال سے جہاد کرتے ہیں ، دونوں کی حیثیت یکساں نہیں ہے۔اللہ نے بیٹھنے والوں کی بہ نسبت جان و مال سے جہاد کرنے والوں کا درجہ بڑا رکھا ہے ۔ اگر چہ ہر ایک کے لیے اللہ نے بھلائی ہی کا وعدہ فرمایا ہے ، مگر اس کے ہاں مجاہدوں کی خدمات کا معاوضہ بیٹھنے والوں سے بہت زیادہ ہے[128]{۹۵} اُن کے لیے اللہ کی طرف سے بڑے درجے ہیں اور مغفرت اور رحمت ہے ، اور اللہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔{۹۶} جو لوگ اپنے نفس پر ظلم کررہے [129] تھے اُن کی رُوحیں جب فرشتوں نے قبض کیں تو اُن سے پوچھا کہ یہ تم کس حال میں مبتلا تھے ؟ انہوں نے جواب دیا کہ ہم زمین میں کمزور و مجبور تھے ۔ فرشتوں نے کہا ، کیا اللہ کی زمین وسیع نہ تھی کہ تم اس میں ہجرت کرتے ؟ [130]یہ وہ لوگ ہیں جن کا ٹھکانا جہنم ہے ،اور وہ بڑا ہی برُاٹھکانا ہے ۔ {۹۷} ہاں جو مرد ، عورتیں اور بچے واقعی بے بس ہیں اور نکلنے کا کوئی راستہ اور ذریعہ نہیں پاتے{۹۸} بعید نہیں کہ اللہ انہیں معاف کردے ۔ اللہ بڑا معاف کرنے والا اور درگزر فرمانے والا ہے۔ {۹۹} جو کوئی اللہ کی راہ میں ہجرت کرے گا وہ زمین میں پناہ لینے کے لیے بہت جگہ اور بسراوقات کے لیے بڑی گنجائش پائے گا ،اور جو اپنے گھر سے اللہ اور رسُول ؐ کی طرف ہجرت کے لیے نکلے ، پھر راستے ہی میں اسے موت آجائے اس کا اجر اللہ کے ذمے واجب ہوگیا ، اللہ بہت بخشش فرمانے والا اور رحیم ہے۔[131]{۱۰۰} اور جب تم لوگ سفر کے لیے نکلو تو کوئی مضائقہ نہیں اگر نماز میں اختصار کردو [132] (خصوصًا) جبکہ تمہیں اندیشہ ہوکہ کافر تمہیں ستائیں گے[133] کیونکہ وہ کھلم کھلا تمہاری دُشمنی پر تُلے ہوئے ہیں۔{۱۰۱} اور اے نبی ؐ! جب تم مسلمانوں کے درمیان ہو اور (حالت جنگ میں ) انہیں نماز پڑھانے کھڑے [134]ہو تو چاہیے کہ ان میں[135] سے ایک گروہ تمہارے ساتھ کھڑا ہو اور اپنے اسلحہ لئے رہے ، پھر جب وہ سجدہ کرلے تو پیچھے چلا جائے اور دوسرا گروہ جس نے ابھی نماز نہیں پڑھی ہے آکر تمہارے ساتھ پڑھے اور وہ بھی چوکنار ہے اور اپنے اسلحہ لئے [136]رہے ، کیونکہ کفار اس تاک میں ہیں کہ تم اپنے ہتھیاروں اور اپنے سامان کی طرف سے ذرا غافل ہو تو وہ تم پر یک بار گی ٹوٹ پڑیں۔ البتہ اگر تم بارش کی وجہ سے تکلیف محسوس کرویا بیمار ہو تو اسلحہ رکھ دینے میں مضائقہ نہیں ، مگر پھر بھی چوکنے رہو۔ یقین رکھو کہ اللہ نے کافروں کے لیے رسُواکُن عذاب مہیا کر رکھا ہے ۔[137]{ ۱۰۲} پھر جب نماز سے فارغ ہو جا ؤ تو کھڑے اور بیٹھے اور لیٹے ، ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے رہو ۔ اور جب اطمینان نصیب ہوجائے تو پوری نماز پڑھو ۔نماز درحقیقت ایسا فرض ہے جو پابندیٔ وقت کے ساتھ اہل ایمان پر لازم کیا گیا ہے۔ { ۱۰۳} اس گروہ [138]کے تعاقب میں کمزوری نہ دکھا ؤ۔ اگر تم تکلیف اٹھارہے ہو تو تمہاری طرح وہ بھی تکلیف اٹھارہے ہیں ۔ اور تم اللہ سے اُس چیز کے امید وار ہو جس کے وہ اُمیدوار نہیں ہیں۔[139]اللہ سب کچھ جانتا ہے اور وہ حکیم و دانا ہے ۔{ ۱۰۴} (اے نبی ؐ !) [140]ہم نے یہ کتاب حق کے ساتھ تمہاری طرف نازل کی ہے تاکہ جو راہ راست اللہ نے تمہیں دکھائی ہے اس کے مطابق لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو ۔تم بددیانت لوگوں کی طرف سے جھگڑنے والے نہ بنو۔{۱۰۵} اور اللہ سے درگزر کی درخواست کرو، وہ بڑا در گزر فرمانے والا اور رحیم ہے ۔ {۱۰۶} جو لوگ اپنے نفس سے خیانت کرتے ہیں [141]تم اُن کی حمایت نہ کرو۔ اللہ کو ایسا شخص پسند نہیں ہے جو خیانت کار اور معصیت پیشہ ہو۔{۱۰۷} یہ لوگ انسانوں سے اپنی حرکات چھپا سکتے ہیں مگراللہ سے نہیں چھپاسکتے۔ وہ تو اُس وقت بھی ان کے ساتھ ہوتا ہے جب یہ راتوں کو چھپ کر اُس کی مرضی کے خلاف مشورے کرتے ہیں ۔ ان کے سارے اعمال پر اللہ محیط ہے ۔{۱۰۸} ہاں تم لوگوں نے ان مجرموں کی طرف سے دنیا کی زندگی میں تو جھگڑا کرلیا ، مگر قیامت کے روز ان کے لیے اللہ سے کون جھگڑا کرے گا ؟ آخر وہاں کو ن ان کا وکیل ہوگا ؟{۱۰۹} اگر کوئی شخص برا فعل کر گزرے یا اپنے نفس پر ظلم کر جائے اور اس کے بعد اللہ سے در گزر کی درخواست کرے تواللہ کو در گزر کرنے والا اور رحیم پائے گا ۔{ ۱۱۰} مگر جو برائی کمالے تو اس کی یہ کمائی اُسی کے لیے وبال ہوگی ، اللہ کو سب باتوں کی خبر ہے اور وہ حکیم و دانا ہے۔{۱۱۱} پھر جس نے کوئی خطایا گناہ کرکے اس کا الزام کسی بے گناہ پر تھوپ دیا اس نے تو بڑے بہتان اور صریح گناہ کا بارسمیٹ لیا۔ { ۱۱۲} (اے نبی ؐ! ) اگر اللہ کا فضل تم پر نہ ہوتا اور اس کی رحمت تمہارے شامل حال نہ ہوتی تو ان میں سے ایک گروہ نے تو تمہیں غلط فہمی میں مبتلا کرنے کا فیصلہ کرہی لیاتھا ، حالانکہ درحقیقت وہ خود اپنے سواکسی کو غلط فہمی میں مبتلا نہیں کررہے تھے اور تمہارا کوئی نقصان نہ کرسکتے تھے۔[142] اللہ نے تم پر کتاب اور حکمت نازل کی ہے اور تم کو وہ کچھ بتایا ہے جو تمہیں معلوم نہ تھا ، اور اس کا فضل تم پر بہت ہے ۔{ ۱۱۳} لوگوں کی خفیہ سرگوشیوں میں اکثر وبیشتر کوئی بھلائی نہیں ہوتی۔ہاں اگر کوئی پوشیدہ طور پر صدقہ و خیرات کی تلقین کرے یا کسی نیک کام کے لیے یا لوگوں کے معاملات میں اصلاح کرنے کے لیے کسی سے کچھ کہے تو یہ البتہ بھلی بات ہے ، اور جو کوئی اللہ کی رضا جوئی کے لیے ایسا کرے گا، اسے ہم بڑا اجر عطاکریں گے۔ {۱۱۴} مگر جو شخص رسول ؐکی مخالفت پر کمربستہ ہو اور اہل ایمان کی روش کے سوا کسی اور روش پر چلے ، درآں حالیکہ اس پرراہ راست واضح ہوچکی ہو ، تو اُس کو ہم اُسی طرف چلائیں گے جدھر وہ خود پھر گیا [143]اور اسے جہنم میں جھونکیں گے جوبدترین جائے قرار ہے۔{۱۱۵} اللہ کے ہاں[144] بس شرک ہی کی بخشش نہیں ہے ، اسکے سوا اور سب کچھ معاف ہوسکتا ہے جسے وہ معاف کرنا چاہے ۔ جس نے اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھیرایا وہ تو گمراہی میں بہت دور نکل گیا۔{۱۱۶} وہ اللہ کو چھوڑ کر دیویوں کو معبُود بناتے ہیں۔ وہ اس باغی شیطان کو معبود بناتے ہیں [145]{۱۱۷} جس کو اللہ نے لعنت زدہ کیا ہے۔ ( وہ اُس شیطان کی اطاعت کررہے ہیں) جس نے اللہ سے کہا تھا کہ: ’’ میں تیرے بندوں سے ایک مقرر حصّہ لے کر رہوں گا [146]{۱۱۸} میں انہیں بہکا ؤں گا ، میں انہیں آرزو ؤں میں الجھا ؤں گا میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے جانوروں کے کان پھاڑیں گے[147] اور میں انہیں حکم دوں گا اور وہ میرے حکم سے اللہ کی بنائی ہوئی ساخت میں ردّو بدل کریں گے‘‘[148] اس شیطان کو جس نے اللہ کے بجائے اپنا ولی و سرپرست بنالیا وہ صریح نقصان میں پڑگیا۔ {۱۱۹} وہ ان لوگوں سے وعدے کرتا ہے اور انہیں امیدیں دلاتا ہے ،[149] مگر شیطان کے سارے وعدے بجز فریب کے اور کچھ نہیں ہیں۔{۱۲۰} اِن لوگوں کا ٹھکانا جہنم ہے جس سے خلاصی کی کوئی صورت یہ نہ پائیں گے ۔{۱۲۱} رہے وہ لوگ جو ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں ، تو انہیں ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہ وہاں ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے۔ یہ اللہ کا سچّاوعدہ ہے اور اللہ سے بڑھ کر کون اپنی بات میں سچا ہوگا۔ { ۱۲۲} انجام کا رنہ تمہاری آرزو ؤں پر موقوف ہے نہ اہلِ کتاب کی آرزو ؤں پر ۔جو بھی برائی کرے گا اس کا پھل پائے گا اور اللہ کے مقابلے میں اپنے لئے کوئی حامی و مددگار نہ پاسکے گا۔{ ۱۲۳} اور جو نیک عمل کرے گا ، خواہ مرد ہو یا عورت ، بشرطیکہ ہووہ مومن ، تو ایسے ہی لوگ جنّت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرہ برابر حق تلفی نہ ہونے پائے گی ۔{ ۱۲۴} اُس شخص سے بہتر اور کس کا طریقِ زندگی ہوسکتا ہے جس نے اللہ کے آگے سر تسلیم خم کردیا اور اپنا رویہ نیک رکھا اور یکسو ہو کر ابراہیم ؑ کے طریقہ کی پیروی کی ، اُس ابراہیمؑ کے طریقے کی جسے اللہ نے اپنا دوست بنالیا تھا۔ {۱۲۵} آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا [150]ہے اور اللہ ہر چیز پر محیط ہے۔[151]{۱۲۶} لوگ تم سے عورتوں کے معاملے میں فتویٰ پوچھتے ہیں۔[152] کہو، اللہ تمہیں ان کے معاملے میں فتویٰ دیتا ہے ، اور ساتھ ہی وہ احکام بھی یاد دلاتا ہے جو پہلے سے تم کو اس کتاب میں سُنائے جارہے ہیں[153]۔ یعنی وہ احکام جو اُن یتیم لڑکیوں کے متعلق ہیں جن کے حق تم ادا نہیں کرتے اور جن کے نکاح کرنے سے تم باز رہتے ہو [154] (یالالچ کی بنا پر تم خود ان سے نکاح کرلینا چاہتے ہو) [155] اور وہ احکام جو اُن بچوں کے متعلق ہیں جو بیچارے کوئی زور نہیں رکھتے[156] ۔ اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ یتیموں کے ساتھ انصاف پر قائم رہو ، اور جو بھلائی تم کرو گے وہ اللہ کے علم سے چھپی نہ رہ جائے گی۔ {۱۲۷} اگر [157]کسی عورت کو اپنے شوہر سے بد سلو کی یا بے رُخی کا خطرہ ہو تو کوئی مضائقہ نہیں کہ میاں اور بیوی(کچھ حقوق کی کمی بیشی پر) آپس میں صلح کرلیں۔ صلح بہر حال بہتر ہے ۔[158] نفس تنگ دِلی کی طرف جلدی مائل ہوجاتے ہیں ،[159] لیکن اگرتم لوگ احسان سے پیش آؤ اورتقویٰـ سے کام لو، تو یقین رکھو کہ اللہ تمہارے اس طرز ِعمل سے بے خبر [160]نہ ہوگا ۔{۱۲۸} بیویوں کے درمیان پورا پورا عدل کرنا تمہارے بس میں نہیں ہے ۔تم چاہو بھی تو اِس پر قادر نہیں ہوسکتے ۔ لہٰذا (قانون الہٰی کا منشا پورا کرنے کے لیے یہ کافی ہے کہ) ایک بیوی کی طرف اِس طرح نہ جھک جا ؤ کہ دوسری کو ادھر لٹکتا چھوڑ دو۔[161] اگر تم اپنا طرز عمل درست رکھو اور اللہ سے ڈرتے رہو تو اللہ چشم پوشی کرنے اور رحم فرمانے والا ہے ۔[162]{۱۲۹} لیکن اگر زوجین ایک دوسرے سے الگ ہی ہوجائیں، تو اللہ اپنی وسیع قدرت سے ہر ایک کو دوسرے کی محتاجی سے بے نیاز کردے گا۔ اللہ کا دامن بہت کشادہ ہے اور وہ دانا و بینا ہے۔{۱۳۰} آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ ہی کا ہے ۔تم سے پہلے جن کو ہم نے کتاب دی تھی اُنہیں بھی یہی ہدایت کی تھی اور اب تم کو بھی یہی ہدایت کرتے ہیں کہ اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرو ۔ لیکن اگر تم نہیں مانتے تونہ مانو ، آسمان وزمین کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہی ہے اور وہ بے نیاز ہے ، ہر تعریف کا مستحق ۔{۱۳۱} ہاں اللہ ہی مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں میں ہیں اور جو زمین میں ہیں ، اور کارسازی کے لیے بس وہی کافی ہے ۔{ ۱۳۲} اگر وہ چاہے تو تم لوگوں کو ہٹا کر تمہاری جگہ دُوسروں کو لے آئے ، اور وہ اس کی پوری قدرت رکھتا ہے ۔{ ۱۳۳} جو شخص محض ثوابِ دُنیا کا طالب ہو اُسے معلوم ہونا چاہئے کہ اللہ کے پاس ثواب دنیا بھی ہے اور ثواب آخرت بھی ، اور اللہ سمیع وبصیر ہے۔[163]{ ۱۳۴} اے لو گو جو ایمان لائے ہو! انصاف کے علمبردار [164]اور اللہ کے لیے سچی گواہی [165]دینے والے بنوا گرچہ تمہارے انصاف اور تمہاری گواہی کی زد خود تمہاری اپنی ذات پر یا تمہارے والدین اور رشتہ داروں پر ہی کیوں نہ پڑتی ہو ۔ فریق معاملہ خواہ مالدار ہو یا غریب ، اللہ تم سے زیادہ اُن کا خیر خواہ ہے ۔ لہٰذا اپنی خواہش نفس کی پیروی میں عدل سے باز نہ رہو ۔ اور اگر تم نے لگی لپٹی بات کہی یا سچائی سے پہلو بچایا تو جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو اس کی خبر ہے۔ {۱۳۵} اے لوگو جو ایمان لائے ہو !ایمان[166] لا ؤ اللہ پر اوراُس کے رسُول ؐ پر اور اُس کتاب پر جو اللہ نے اپنے رسول ؐپر نازل کی ہے اور ہراُس کتاب پر جو اس سے پہلے وہ نازل کرچکا ہے ۔جس نے اللہ اور اس کے ملائکہ اور اس کی کتابوں اور اس کے رسُولوں اور روزِ آخرت سے کفر کیا [167] وہ گمراہی میں بھٹک کر بہت دور نکل گیا ۔{۱۳۶} رہے وہ لوگ جو ایمان لائے ، پھر کفر کیا ، پھر ایمان لائے ، پھر کفر کیا ، پھر اپنے کفر میں بڑھتے چلے گئے،[168] تو اللہ ہر گز ان کو معاف نہ کرے گا اور نہ کبھی اُن کو راہِ راست دکھائے گا۔ {۱۳۷} منافقین کو یہ مژدہ سنادو کہ ان کے لیے دردناک سزا تیار ہے۔ {۱۳۸} جو منافق اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق بناتے ہیں کیا یہ لوگ عزت کی طلب میں اُن کے پاس جاتے ہیں [169]؟ حالانکہ عزت تو ساری کی ساری اللہ ہی کے لیے ہے۔{۱۳۹} اللہ اس کتاب میں تم کو پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ جہاں تم سنو کہ اللہ کی آیات کے خلاف کفر بکا جارہا ہے اوراُن کا مذاق اُڑا یا جارہا ہے وہاں نہ بیٹھو جب تک کہ لوگ کسی دوسری بات میں نہ لگ جائیں۔ اب اگر تم ایسا (ایسی مجالس میں بیٹھا )کرتے ہو تو تم بھی انہی کی طرح ہو۔[170] یقین جانو کہ اللہ منافقوں اور کافروں کو جہنم میں ایک جگہ جمع کرنے والا ہے ۔{۱۴۰} یہ منافق تمہارے معاملے میں انتظار کررہے ہیں ( کہ اُونٹ کس کروٹ بیٹھتا ہے) اگر اللہ کی طرف سے فتح تمہاری ہوئی تو آکر کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے ساتھ نہ تھے ؟ اگر کافروں کا پلّہ بھاری رہا تو اُن سے کہیں گے کہ کیا ہم تمہارے خلاف لڑنے پر قادر نہ تھے اور پھر بھی ہم نے تم کو مسلمانوں سے بچایا ؟[171] بس اللہ ہی تمہارے اور ان کے معاملے کا فیصلہ قیامت کے روز کرے گا اور ( اِس فیصلے میں ) اللہ نے کافروں کے لیے مسلمانوں پر غالب آنے کی ہرگز کوئی سبیل نہیں رکھی ہے۔{۱۴۱} یہ منافق اللہ کے ساتھ دھوکہ بازی کررہے ہیں حالانکہ درحقیقت اللہ ہی نے اِنہیں دھوکہ میں ڈال رکھا ہے۔ جب یہ نماز کے لیے اٹھتے ہیں تو کَسْمَسَاتے ہوئے محض لوگوں کودکھانے کی خاطر اٹھتے ہیں اور اللہ کو کم ہی یاد کرتے ہیں [172]{ ۱۴۲} کفر و ایمان کے درمیان ڈانواڈول ہیں۔ نہ پورے اِس طرف ہیں، نہ پورے اُس طرف۔ جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو اُس کے لیے تم کوئی راستہ نہیں پاسکتے [173]{ ۱۴۳} اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! مومنوں کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق نہ بنا ؤ ۔ کیا تم چاہتے ہو کہ اللہ کو اپنے خلاف صریح حجت دے دو ؟ {۱۴۴} جانو کہ منافق جہنم کے سب سے نیچے طبقے میں جائیں گے اور تم کسی کو اُن کا مددگار نہ پا ؤ گے۔{ ۱۴۵} البتہ جو ان میں سے تائب ہوجائیں اور اپنے طرِز عمل کی اصلاح کرلیں اور اللہ کا دامن تھام لیں اور اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کردیں ،[174] ایسے لوگ مومنوں کے ساتھ ہیں اور اللہ مومنوں کو ضرور اجرِ عظیم عطا فرمائے گا۔ {۱۴۶} آخر اللہ کو کیا پڑی ہے کہ تمہیں خواہ مخواہ سزادے اگر تم شکر گزار بندے بنے رہو[175] اور ایمان کی روش پر چلو۔ اللہ بڑا قدر دان ہے[176] اور سب کے حال سے واقف ہے۔{۱۴۷}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)