سورۃالنساء   -  4 : 24-87 / 176اور وہ عورتیں (محصنات ) بھی تم پر حرام ہیں جو کسی دوسرے کے نکاح میں ہوں ،البتہ ایسی عورتیں اس سے مستثنیٰ ہیں جو (جنگ میں) تمہارے ہاتھ آئیں ۔[44] یہ اللہ کا قانون ہے جس کی پابندی تم پر لازم کردی گئی ہے۔ ان کے ماسوا جتنی عورتیں ہیں انہیں اپنے اموال کے ذریعہ سے حاصل کرنا تمہارے لئے حلال کردیا گیا ہے ، بشر طیکہ حصارِ نکاح میں ان کو محفوظ کرو، نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو ۔پھر جو ازدو اجی زندگی کا لطف تم ان سے اٹھا ؤ اس کے بدلے ان کے مہربطور فرض کے ادا کرو، البتہ مہر کی قرار داد ہوجانے کے بعد آپس کی رضا مندی سے تمہارے درمیان اگر کوئی سمجھوتہ ہوجائے تو اس میں کوئی حرج نہیں ، اللہ علیم اور دانا ہے۔ { ۲۴} اور جو شخص تم میں سے اتنی مقدرت نہ رکھتا ہو کہ خاندانی مسلمان عورتوں (محصنات ) سے نکاح کرسکے اسے چاہیے کہ تمہاری ان لونڈیوں میں سے کسی کے ساتھ نکاح کرلے جو تمہارے قبضے میں ہوں اور مومنہ ہوں۔ اللہ تمہارے ایمانوں کا حال خوب جانتا ہے ، تم سب ایک ہی گروہ کے لوگ ہو ،[45] لہٰذا اُن کے سرپرستوں کی اجازت سے ان کے ساتھ نکاح کرلو اور معروف طریقہ سے اُن کے مہر ادا کردو ،تا کہ وہ حصار نکاح میں محفوظ (محصنات) ہو کر رہیں ، آزاد شہوت رانی نہ کرتی پھریں اور نہ چوری چھپے آشنائیاں کریں، پھر جب وہ حصار نکاح میں محفوظ ہوجائیں اور اس کے بعد کسی بدچلنی کی مرتکب ہوں تو ان پر اس سزا کی بہ نسبت آدھی سزا ہے جو خاندانی عورتوں (محصنات ) کے لیے مقرر ہے،[46] یہ سہولت[47] تم میں سے ان لوگوں کے لیے پیدا کی گئی ہے جن کو شادی نہ کرنے سے بندِ تقویٰ کے ٹوٹ جانے کا اندیشہ ہو، لیکن اگر تم صبر کرو تو یہ تمہارے لئے بہتر ہے اور اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے { ۲۵} اللہ چاہتا ہے کہ تم پراُن طریقوں کو واضح کرے اور اُنہی طریقوں پر تمہیں چلائے جن کی پیروی تم سے پہلے گزرے ہوئے صُلحاء کرتے تھے ، وہ اپنی رحمت کے ساتھ تمہاری طرف متوجہ ہونے کا ارادہ رکھتا ہے، اور وہ علیم بھی ہے اور دانا بھی ۔[48]{۲۶} ہاں ، اللہ تو تم پر رحمت کے ساتھ توجہ کرنا چاہتا ہے مگر جو لوگ خود اپنی خواہشات نفس کی پیروی کررہے ہیں وہ چاہتے ہیں کہ تم راہ راست سے ہٹ کر دُور نکل جا ؤ۔[49] {۲۷} اللہ تم پر سے پابندیوں کو ہلکا کرنا چاہتا ہے کیونکہ انسان کمزور پیدا کیا گیا ہے ۔{۲۸} اے لوگوجو ایمان لائے ہو! آپس میں ایک دوسرے کے مال باطل طریقوں سے نہ کھا ؤ ، لین دین ہونا چاہیے آپس کی رضا مندی سے[50] اور اپنے آپ کو قتل نہ کرو۔ [51] یقین مانو کہ اللہ تمہارے اُوپر مہربان ہے ۔[52]{۲۹} جوشخص ظلم وزیادتی کے ساتھ ایسا کرے گا اُس کو ہم ضرور آگ میں جھونکیں گے اور یہ اللہ کے لیے کوئی مشکل کام نہیں ہے ۔{۳۰} اگر تم اُن بڑے بڑے گناہوں سے پرہیز کرتے رہو جن سے تمہیں منع کیا جارہا ہے تو تمہاری چھوٹی موٹی برائیوں کو ہم تمہارے حساب سے ساقط کردیں [53]گے اور تم کو عزت کی جگہ داخل کریں گے۔{۳۱} اور جوکچھ اللہ نے تم میں سے کسی کو دوسروں کے مقابلہ میں زیادہ دیا ہے اس کی تمنا نہ کرو۔ جو کچھ مردوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ہے اور جو کچھ عورتوں نے کمایا ہے اس کے مطابق ان کا حصہ ۔ ہاں اللہ سے اس کے فضل کی دعا مانگتے رہو ، یقینا اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔[54]{ ۳۲} اور ہم نے ہر اُس ترکے کے حق دار مقرر کردیے ہیں جو والدین اور قریبی رشتہ دار چھوڑیں ۔اب رہے وہ لوگ جن سے تمہارے عہدوپیمان ہوں تو ان کا حصہ انہیں دو ، یقینا اللہ ہر چیز پر نگراں ہے۔ [55]{ ۳۳} مرد عورتوں پر قوّام ہیں۔[56] اس بنا پر کہ اللہ نے ان میں سے ایک کو دوسرے پر فضیلت[57] دی ہے ، اور اس بنا پر کہ مرد اپنے مال خرچ کرتے ہیں۔ پس جو صالح عورتیں ہیں وہ اطاعت شعار ہوتی ہیں اور مردوں کے پیچھے اللہ کی حفاظت و نگرانی میں ان کے حقوق کی حفاظت کرتی ہیں۔[58] اور جن عورتوں سے تمہیں سرکشی کا اندیشہ ہوا نہیں سمجھا ؤ ، خواب گاہوں میں ان سے علیٰحدہ رہو اور مارو،[59]پھر اگر وہ تمہاری مطیع ہوجائیں تو خواہ مخواہ ان پردست درازی کے لیے بہانے تلاش نہ کرو ، یقین رکھو کہ اوپر اللہ موجود ہے جو بڑا اور بالاتر ہے ۔{ ۳۴} اور اگر تم لوگوں کو کہیں میاں اور بیوی کے تعلقات بگڑ جانے کا اندیشہ ہو تو ایک حکم مرد کے رشتہ داروں میں سے اور ایک عورت کے رشتہ داروں میں سے مقرر کرو ، وہ دونوں اصلاح [60]کرنا چاہیں گے تو اللہ اُن کے درمیان موافقت کی صورت نکال دے گا، اللہ سب کچھ جانتا ہے اور باخبر ہے۔[61] {۳۵} اور تم سب اللہ کی بندگی کرو ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ بنا ؤ، ماں باپ کے ساتھ نیک برتا ؤ کرو ، قرابت داروں اور یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ حُسن سلوک سے پیش آ ؤ ، اور پڑوسی رشتہ دار سے ، اجنبی ہمسایہ سے ، پہلو کے [62]ساتھی اور مسافر سے ، اور اُن لونڈی غلاموں سے جو تمہارے قبضہ میں ہوں، احسان کا معاملہ رکھو ، یقین جانو اللہ کسی ایسے شخص کو پسند نہیں کرتا جو اپنے پندار میں مغرور ہو اور اپنی بڑائی پر فخر کرے{۳۶} اور ایسے لوگ بھی اللہ کو پسند نہیں ہیں جو کنجوسی کرتے ہیں اور دُوسروں کو بھی کنجوسی کی ہدایت کرتے ہیں اور جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے انہیں دیا ہے اُسے چھپاتے ہیں ۔[63] ایسے کافرِ نعمت لوگوں کے لیے ہم نے رسُواکُن عذاب مہیا کررکھا ہے۔ {۳۷} اور وہ لوگ بھی اللہ کو ناپسند ہیں جو اپنے مال محض لوگوں کو دکھانے کے لیے خرچ کرتے ہیں اور درحقیقت نہ اللہ پر ایمان رکھتے ہیں نہ روز آخر پر ۔ سچ یہ ہے کہ شیطان جس کا رفیق ہو اُسے بہت ہی بُری رفاقت میسر آئی ۔{۳۸} آخر ان لوگوں پر کیا آفت آجاتی اگر یہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے اور جو کچھ اللہ نے دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے۔ اگر یہ ایسا کرتے تو اللہ سے ان کی نیکی کا حال چھپا نہ رہ جاتا۔{۳۹} اللہ کسی پر ذرہ برابر بھی ظلم نہیں کرتا۔ اگر کوئی ایک نیکی کرے تو اللہ اسے دو چند کرتا ہے اور پھر اپنی طرف سے بڑا اجر عطا فرماتا ہے۔ {۴۰} پھر سو چو کہ اس وقت یہ کیا کریں گے جب ہم ہر امت میں سے ایک گواہ لائیں گے اور ان لوگوں پر تمہیں ( یعنی محمد صلے اللہ علیہ وسلم کو ) گواہ کی حیثیت سے کھڑا کریں [64]گے۔{۴۱} اُس وقت وہ سب لوگ جنہوں نے رسول کی بات نہ مانی اور اس کی نافرمانی کرتے رہے ، تمنا کریں گے کہ کاش زمین پھٹ جائے اور وہ اس میں سماجائیں ۔ وہاں یہ اپنی کوئی بات اللہ سے نہ چھپا سکیں گے۔{ ۴۲} اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! جب تم نشے کی حالت میں ہو تو نماز کے قریب[65] نہ جا ؤ۔ نماز اس وقت پڑھنی چاہیے جب تم جانو کہ کیا کہہ رہے ہو،[66] اور اسی طرح جنابت [67]کی حالت میں بھی نماز کے قریب نہ جا ؤ جب تک غسل نہ کرلو ، اِلاّیہ کہ راستہ سے گزرتے ہو۔[68] اور اگر کبھی ایسا ہو کہ تم بیمار ہو ، یا سفر میں ہو ، یاتم میں سے کوئی شخص رفع حاجت کرکے آئے ، یاتم نے عورتوں سے لمس کیاہو،[69]اور پھر پانی نہ ملے تو پاک مٹی سے کام لو اور اس سے اپنے چہروں اور ہاتھوں پر مسح کرلو،[70] بے شک اللہ نرمی سے کام لینے والا اور بخشش فرمانے والا ہے۔{ ۴۳} تم نے ان لوگوں کو بھی دیکھا جنہیں کتاب کے علم کا کچھ حصہ دیا گیا [71]ہے ؟ وہ خود ضلالت کے خریدار بنے ہوئے ہیں اور چاہتے ہیں کہ تم بھی راہ گم کردو۔ {۴۴} اللہ تمہارے دشمنوں کو خوب جانتا ہے اور تمہاری حمایت ومددگاری کے لیے اللہ ہی کافی ہے ۔ {۴۵} جن لوگوں نے یہودیت کا طریقہ اختیار کیا ہے[72] اُن میں کچھ لوگ ہیں جو الفاظ کو ان کے محل سے پھیر دیتے ہیں،[73]اور دین حق کے خلاف نیش زنی کرنے کے لیے اپنی زبانوں کو توڑ موڑ کر کہتے ہیں سَمِعْنَا وَعَصَیْنَا [74]اور اِسْمَعْ غَیْرَ مُسْمَعٍ [75]اور رَاعِنَا [76]حالانکہ اگروہ کہتے سَمِعْنَا وَاَطَعْنَا اور اِسْمَعْ اور اُنْظُرْنَا، تو یہ انہی کے لیے بہتر تھا اور زیادہ راست بازی کا طریقہ تھا ۔ مگر اُن پر تواُن کی باطل پرستی کی بدو لت اللہ کی پھٹکارپڑی ہوئی ہے ، اس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔{۴۶} اے وہ لوگو جنہیں کتاب دی گئی تھی ! مان لو اس کتاب کو جو ہم نے اب نازل کی ہے اور جو اُس کتاب کی تصدیق و تائید کرتی ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود [77]تھی ۔ اس پر ایمان لے آ ؤ قبل اس کے کہ ہم چہرے بگاڑ کر پیچھے پھیردیں یا اُن کو اسی طرح لعنت زدہ کردیں جس طرح سَبْت والوں کے ساتھ ہم نے کیا تھا ،[78] اور یاد رکھو کہ اللہ کا حکم نافذ ہو کر رہتا ہے۔{۴۷} اللہ بس شرک ہی کو معاف نہیں[79] کرتا ، اس کے ماسوا دوسرے جس قدر گناہ ہیں، وہ جس کے لیے چاہتا ہے معاف کردیتا [80] ہے ۔ اللہ کے ساتھ جس نے کسی اور کو شریک ٹھہرایا اس نے تو بہت ہی بڑا جھوٹ تصنیف کیا اور بڑے سخت گناہ کی بات کی ۔{۴۸} تم نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا جو اپنی پاکیزگیٔ نفس کا بہت دم بھرتے ہیں ؟ حالانکہ پاکیزگی تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے عطاکرتا ہے اور ( انہیں جو پاکیزگی نہیں ملتی تودرحقیقت ) ان پرذرہ برابر ظلم نہیں کیا جاتا {۴۹} دیکھو تو سہی ، یہ اللہ پر بھی جھوٹے افتر اگھڑنے سے نہیں چوکتے اور ان کے صریحًاگناہ گار ہونے کے لیے یہی ایک گناہ کافی ہے۔{۵۰} کیا تم نے ان لوگوں کو نہیں دیکھا جنہیں کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ دیا گیا ہے اوراُ ن کا حال یہ ہے کہ جِبت[81] اور طاغوت[82] کو مانتے ہیں اور کافروں کے متعلق کہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں سے تویہی زیادہ صحیح راستے پر ہیں۔[83] {۵۱} ایسے ہی لوگ ہیں جن پر اللہ نے لعنت کی ہے اور جس پر اللہ لعنت کردے پھر تم اس کا کوئی مددگار نہیں پا ؤ گے۔{ ۵۲} کیا حکومت میں اُن کا کوئی حصّہ ہے ؟ اگر ایسا ہوتا تو یہ دوسروں کو ایک پھوٹی کوڑی تک نہ دیتے۔[84]{ ۵۳} پھر کیا یہ دُوسروں سے اس لیے حسد کرتے ہیں کہ اللہ نے انہیں اپنے فضل سے نوازدیا ؟[85] اگر یہ بات ہے تو انہیں معلوم ہو کہ ہم نے تو ابراہیم ؑ کی اولاد کوکتاب اور حکمت عطا کی اور ملکِ عظیم بخش دیا [86]{۵۴} مگر ان میں سے کوئی اس پر ایما ن لایا اور کوئی اس سے منھ موڑگیا [87]، اور منھ موڑنے والوں کے لیے تو بس جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ ہی کافی ہے۔{۵۵} جن لوگوں نے ہماری آیات کو ماننے سے انکار کردیا ہے انہیں بالیقین ہم آگ میں جھونکھیں گے اور جب ان کے بدن کی کھال گل جائے گی تو اس کی جگہ دُوسری کھال پیدا کردیں گے تا کہ وہ خوب عذاب کا مزا چکھیں ، اللہ بڑی قدرت رکھتا ہے اور اپنے فیصلوں کو عمل میں لانے کی حکمت خوب جانتا ہے ۔{۵۶} اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو مان لیا اور نیک عمل کئے اُن کو ہم ایسے باغوں میں داخل کریں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ، جہاں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے اور ان کو پاکیزہ بیویاں ملیں گی اور انہیں ہم گھنی چھا ؤں میں رکھیں گے۔ {۵۷} مسلمانو !اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کرو ، اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو،[88] اللہ تم کو نہایت عمدہ نصیحت کرتا ہے اوریقینًااللہ سب کچھ سنتا اور دیکھتا ہے۔{۵۸} اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! اطاعت کرو اللہ کی، اطاعت کرو رسو ل ؐکی اور اُن لوگوں کی جوتم میں سے صاحب امرہوں ، پھر اگر تمہارے درمیان کسی معاملہ میں نزاع ہوجائے تو اسے اللہ اور رسُول ؐکی طرف پھیردو [89]اگر تم واقعی اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتے ہو ۔ یہی ایک صحیح طریقِ کارہے اور انجام کے اعتبار سے بھی بہتر ہے ۔[90]{۵۹} اے نبی ؐ! تم نے دیکھا نہیں اُن لوگوں کو جو دعویٰ تو کرتے ہیں کہ ہم ایمان لائے ہیں اس کتاب پر جو تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور اُن کتابوں پر جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ، مگر چاہتے یہ ہیں کہ اپنے معاملات کا فیصلہ کرنے کے لیے طاغوت کی طرف رجوع کریں، حالانکہ انہیں طاغوت سے کفر کرنے کا حکم دیا گیا تھا[91]۔ شیطان انہیں بھٹکاکرراہ راست سے بہت دور لے جانا چاہتا ہے ۔{۶۰} اور جب ان سے کہا جاتا ہے کہ آ ؤ اس چیز کی طرف جو اللہ نے نازل کی ہے اور آ ؤ رسُول ؐ کی طرف تو ان منافقوں کو تم دیکھتے ہو کہ یہ تمہاری طرف آنے سے کتراتے ہیں ۔[92]{۶۱} پھر اُس وقت کیا ہوتا ہے جب ان کے اپنے ہاتھوں کی لائی ہوئی مصیبت ان پر آپڑتی ہے ؟ اُس وقت یہ تمہارے پاس قسمیں کھاتے ہوئے آتے ہیں[93] اور کہتے ہیں کہ اللہ کی قسم ہم تو صرف بھلائی چاہتے تھے اور ہماری نیت تو یہ تھی کہ فریقین میں کسی طرح موافقت ہوجائے۔ { ۶۲} اللہ جانتا ہے جو کچھ ان کے دلوں میں ہے ، ان سے تعرض مت کرو ، انہیں ، سمجھا ؤ اور ایسی نصیحت کرو جو ان کے دلوں میں اُتر جائے۔{ ۶۳} ( انہیں بتا ؤ کہ ) ہم نے جو رسول بھی بھیجا ہے اسی لئے بھیجا ہے کہ اذنِ الہٰی کی بنا پر اس کی اطاعت کی جائے۔[94] اگر انہوں نے یہ طریقہ اختیار کیاہوتا کہ جب یہ اپنے نفس پر ظلم کر بیٹھے تھے تو تمہارے پاس آجاتے اور اللہ سے معافی مانگتے اور رسولؐ بھی ان کے لیے معافی کی درخواست کرتا ،تو یقینًا اللہ کو بخشنے والا اور رحم کرنے والا پاتے۔ {۶۴} نہیں ،( اے محمد ؐ!) تمہارے رَبّ کی قسم یہ کبھی مومن نہیں ہوسکتے جب تک کہ اپنے باہمی اختلافات میں یہ تم کو فیصلہ کرنے والا نہ مان لیں ، پھر جو کچھ تم فیصلہ کرو اس پر اپنے دلوں میں بھی کوئی تنگی نہ محسوس کریں ، بلکہ سربسر تسلیم کرلیں[95]۔ {۶۵} اگر ہم نے انہیں حکم دیا ہوتا کہ اپنے آپ کو ہلاک کردو یا اپنے گھروں سے نکل جا ؤ تو ان میں سے کم ہی آدمی اس پر عمل کرتے۔ [96]حالانکہ جو نصیحت انہیں کی جاتی ہے اگر یہ اس پر عمل کرتے تو یہ ان کے لیے زیادہ بہتری اور زیادہ ثابت قدمی کاموجب [97]ہوتا{۶۶} اور جب یہ ایسا کرتے تو ہم انہیں اپنی طرف سے بہت بڑا اجردیتے {۶۷} اور انہیں سیدھا راستہ دکھادیتے ۔[98]{۶۸} جو لوگ اللہ اور رسُول ؐ کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء ؑاور صدیقینؒ اور شہداءؒ ، اور صالحینؒ۔[99] کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں ۔[100]{۶۹} یہ حقیقی فضل ہے جو اللہ کی طرف سے ملتا ہے اور حقیقت جاننے کے لیے بس اللہ ہی کا علم کافی ہے ۔{ ۷۰} اے لوگو جو ایمان لائے ہو !مقابلے کے لیے ہر وقت تیار رہو ،[101] پھر جیسا موقع ہو الگ الگ دستوں کی شکل میں نکلویا اکٹھے ہوکر۷ {۷۱} ہاں ، تم میں کوئی آدمی ایسا بھی ہے جو لڑائی سے جی چراتا ہے ،[102] اگر تم پر کوئی مصیبت آئے تو کہتا ہے اللہ نے مجھ پر بڑافضل کیا کہ میں ان لوگوں کے ساتھ نہ گیا {۷۲} اور اگر اللہ کی طرف سے تم پر فضل ہو تو کہتا ہے اور اس طرح کہتا ہے کہ گویا تمہارے اور اس کے درمیان محبت کاتو کوئی تعلق تھاہی نہیں کہ کاش میں بھی ان کے ساتھ ہوتا تو بڑا کام بن جاتا ۔{ ۷۳} (ایسے لوگوں کو معلو م ہو کہ ) اللہ کی راہ میں لڑنا چاہیے ان لوگوں کو جو آخرت کے بدلے دنیا کی زندگی کو فروخت کردیں ،[103] پھر جو اللہ کی راہ میں لڑے گا اور ماراجائے گا یا غالب رہے گا اسے ضرور ہم اجر عظیم عطا کریں گے۔{ ۷۴} آخر کیا وجہ ہے کہ تم اللہ کی راہ میں ان بے بس مردوں ، عورتوں اور بچوں کی خاطر نہ لڑو جو کمزور پاکر دبالئے گئے ہیں اور فریاد کررہے ہیں کہ اے ہمارے رَبّ !ہم کو اس بستی سے نکال جس کے باشندے ظالم ہیں ، اور اپنی طرف سے ہمارا کوئی حامی و مددگار پیدا کردے۔ [104]{۷۵} جن لوگوں نے ایمان کا راستہ اختیار کیا ہے ، وہ اللہ کی راہ میں لڑتے ہیں اور جنہوں نے کفر کاراستہ اختیار کیا ہے ، وہ طاغوت کی راہ میں لڑتے ہیں ،[105] پس شیطان کے ساتھیوں سے لڑو اور یقین جانو کہ شیطان کی چالیں حقیقت میں نہایت کمزور ہیں۔{۷۶} تم نے اُن لوگوں کو بھی دیکھا جن سے کہا گیا تھا کہ اپنے ہاتھ روکے رکھواور نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو؟ اب جو انہیں لڑائی کا حکم دیا گیا تو ان میں سے ایک فریق کا حال یہ ہے کہ لوگوں سے ایسا ڈر رہے ہیں جیسا اللہ سے ڈرنا چاہئے یا کچھ اس سے بھی بڑھ [107]کر۔ کہتے ہیں اے رَبّ ! یہ ہم پر لڑائی کا حکم کیوں لکھ دیا ؟ کیوں نہ ہمیں ابھی کچھ اور مہلت دی ؟ ان سے کہو ،دنیا کا سرمایۂ زندگی تھوڑا ہے ، اور آخرت، متقی و پرہیز گار انسان کے لیے زیادہ بہتر ہے، اور تم پر ظلم ایک شمہّ برابر بھی نہ کیا[108] جائے گا ۔ {۷۷} رہی موت ، تو جہاں بھی تم ہو وہ بہرحال تمہیں آکر رہے گی خواہ تم کیسی ہی مضبوط عمارتوں میں ہو۔اگر انہیں کو ئی فائدہ پہنچتا ہے تو کہتے ہیں ۔یہ اللہ کی طرف سے ہے ،اور اگر کوئی نقصان پہنچتا ہے تو کہتے ہیں کہ اے نبی ؐ!یہ آپ ؐکی بدولت [109]ہے ۔ کہو،سب کچھ اللہ کی طرف سے ہے ۔آخر ان لوگوں کو کیا ہوگیاہے کہ کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی۔ {۷۸} اے انسان! تجھے جو بھلائی بھی حاصل ہوتی ہے اللہ کی عنایت سے ہوتی ہے، اور جومصیبت تجھ پرآتی ہے وہ تیرے اپنے کسب و عمل کی بدولت ہے ۔ اے نبی ؐ! ہم نے تم کو لوگوں کے لیے رسول بناکر بھیجا ہے اور اس پر اللہ کی گواہی کافی ہے۔{۷۹} جس نے رسول ؐکی اطاعت کی اس نے دراصل اللہ کی اطاعت کی۔ اور جو منھ ، موڑگیا ، تو بہرحال ہم نے تمہیں ان لوگوں پر پاسبان بناکر تونہیں بھیجا ہے۔[110]{۸۰} وہ منھ پرکہتے ہیں کہ ہم مطیعِ فرمان ہیں۔ مگر جب تمہارے پاس سے نکلتے ہیں تو ان میں سے ایک گروہ راتوں کو جمع ہوکر تمہاری باتوں کے خلاف مشورے کرتا ہے ۔ اللہ ان کی یہ ساری سرگوشیاں لکھ رہا ہے ۔ تم ان کی پروانہ کرو اور اللہ پر بھروسہ رکھو ، وہی بھروسہ کے لیے کافی ہے ۔{۸۱} کیا یہ لوگ قرآن پر غور نہیں کرتے ؟ اگر یہ اللہ کے سواکسی اور کی طرف سے ہوتا تو اس میں بہت کچھ اختلاف بیانی پائی جاتی۔[111] {۸۲} یہ لوگ جہاں کوئی اطمینان بخش یا خوفناک خبر سن پاتے ہیں اُسے لے کر پھیلادیتے ہیں ،حالانکہ اگر یہ اُسے رسُول ؐاور اپنی جماعت کے ذمہّ دار اصحاب تک پہنچائیں تو وہ ایسے لوگوں کے علم میں آجائے جو اِن کے درمیان اس بات کی صلاحیت رکھتے ہیں کہ اُس سے صحیح نتیجہ اخذکر سکیں[112] تم لوگوں پر اللہ کی مہربانی اور رحمت نہ ہوتی تو( تمہاری کمزوریاں ایسی تھیں کہ) معدودے چند کے سوا تم سب شیطان کے پیچھے لگ گئے ہوتے۔ {۸۳} پس (اے نبی ؐ!) تم اللہ کی راہ میں لڑو ، تم اپنی ذات کے سواکسی اور کے لیے ذمہ دار نہیں ہو ۔ البتہ اہل ایمان کو لڑنے کے لیے اُکسا ؤ ، بعید نہیں کہ اللہ کافروں کا زور توڑ دے ، اللہ کا زور سب سے زیادہ زبردست اور اس کی سزا سب سے زیادہ سخت ہے ۔{۸۴} جو بھلائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا[113] اور جو برائی کی سفارش کرے گا وہ اس میں سے حصہ پائے گا ،اور اللہ ہر چیز پر نظر رکھنے والا ہے۔{۸۵} اور جب کوئی احترام کے ساتھ تمہیں سلام کرے تو اس کو اس سے بہتر طریقے کے ساتھ جواب دو یا کم از کم اسی طرح [114]، اللہ ہر چیز کا حساب لینے والا ہے۔ {۸۶} اللہ وہ ہے جس کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں ہے ، وہ تم سب کو اس قیامت کے دن جمع کرے گا جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ، اور اللہ کی بات سے بڑھ کر سچی بات اور کس کی ہوسکتی ہے۔ [115]
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)