سورۃالنساء   -  4 : 148-176 / 176اللہ اس کو پسند نہیں کرتا کہ آدمی بد گوئی پر زبان کھولے ، اِلاّ یہ کہ کسی پر ظلم کیا گیا ہو، اور اللہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے ۔ {۱۴۸} (مظلوم ہونے کی صورت میں اگر چہ تم کو بد گوئی کا حق ہے) لیکن اگر تم ظاہر وباطن میں بھلائی ہی کئے جا ؤ ، یا کم از کم برائی سے درگزر کرو ، تو اللہ (کی صفت بھی یہی ہے کہ وہ ) بڑا معاف کرنے والا ہے ، (حالانکہ سزا دینے پر ) پوری قدرت رکھتا ہے۔[177] {۱۴۹} جو لوگ اللہ اور اس کے رسولوں سے کفر کرتے ہیں ، اور چاہتے ہیں کہ اللہ اور اس کے رسولوں کے درمیان تفریق کریں ، اور کہتے ہیں کہ ہم کسی کو مانیں گے اور کسی کو نہ مانیں گے ، اور کفر و ایمان کے بیچ میں ایک راہ نکالنے کا ارادہ رکھتے ہیں{۱۵۰} وہ سب پکے کافر ہیں[178] اور ایسے کافروں کے لیے ہم نے وہ سزا مہیّا کررکھی ہے جو انہیں ذلیل و خوار کردینے والی ہوگی۔{۱۵۱} بخلاف اس کے جو لوگ اللہ اور اس کے تمام رسولوں کو مانیں ، اور ان کے درمیان تفریق نہ کریں ،اُن کو ہم ضرور اُن کے اجرعطا[179] کریں گے ، اور اللہ بڑا در گزر فرمانے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔[180] { ۱۵۲} ( اے نبی ؐ!) یہ اہل کتاب اگر آج تم سے مطالبہ کررہے ہیں کہ تم آسمان سے کوئی تحریر ان پر نازل کرا ؤ [181] تو اس سے بڑھ چڑھ کر مجرمانہ مطالبے یہ پہلے موسیٰ ؑ سے کرچکے ہیں ۔ اُس سے تو اِنہوں نے کہا تھا کہ ہمیں اللہ کو علانیہ دکھا دو اور اسی سرکشی کی وجہ سے یکا یک ان پر بجلی ٹوٹ پڑی[182] تھی ۔پھر انہوں نے بچھڑے کو اپنا معبود بنا لیا ، حالانکہ یہ کھلی کھلی نشانیاں دیکھ چکے تھے ۔[183] اس پر بھی ہم نے ان سے درگزر کیا۔ ہم نے موسیٰؑ کو صریح فرمان عطا کیا { ۱۵۳} اور ان لوگوں پرطُور کو اٹھا کر اِن سے (اِس فرمان کی اطاعت کا ) عہد[184] لیا ۔ ہم نے ان کو حکم دیا کہ دروازہ میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہو[185] ۔ ہم نے ان سے کہا کہ سبت کا قانون نہ توڑو اور اس پر ان سے پختہ عہد لیا۔{ ۱۵۴} آخر کار ان کی عہد شکنی کی وجہ سے ، اور اِس وجہ سے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا ، اور متعدد پیغمبروں کو ناحق قتل کیا، اور یہاں تک کہا کہ ہمارے دل غلافوں میں محفوظ ہیں۔[186] حالانکہ[187] درحقیقت اِن کی باطل پرستی کے سبب سے اللہ نے ان کے دلوں پر ٹھپہ لگا دیا ہے اور اسی وجہ سے یہ بہت کم ایمان لاتے ہیں۔{۱۵۵} پھر [189] اپنے کفر میں اتنے بڑھے کہ مریم پر سخت بہتان لگایا[190] {۱۵۶} اور خود کہا کہ ہم نے مسیح عیسیٰ ؑابن مریم ، رسول اللہ کو قتل کردیا [191] ہے۔ حالانکہ [192] فی الواقع انہوں نے نہ اُس کو قتل کیا نہ صلیب پر چڑھا یا ، بلکہ معاملہ اُ ن کے لیے مشتبہ کردیا گیا[193] ۔ اور جن لوگوں نے اس کے بارے میں اختلاف کیا ہے وہ بھی دراصل شک میں مبتلا ہیں، ان کے پاس اس معاملہ میں کوئی علم نہیں ہے ، محض گمان ہی کی پیروی [194] ہے ۔ انہوں نے مسیحؑ کو یقینًا قتل نہیں کیا{۱۵۷} بلکہ اللہ نے اُس کو اپنی طرف اٹھالیا،[195] اللہ زبردست طاقت رکھنے والا اور حکیم ہے ۔ {۱۵۸} اور اہل کتاب میں سے کوئی ایسانہ ہوگا جواُس کی موت سے پہلے اس پر ایمان نہ لے آئے گا[196] اور قیامت کے روز وہ ان پر گواہی دے گا۔[197] {۱۵۹} غرض[198] اِن یہودیوں کے اِسی ظالمانہ رویہ کی بنا ء پرہم نے بہت سی وہ پاک چیزیں ان پر حرام کردیں جو پہلے ان کے لیے حلال تھیں،[201] اور اس بنا ء پر کہ یہ بکثرت اللہ کے راستے سے روکتے ہیں [199] {۱۶۰} اور سودلیتے ہیں جس سے انہیں منع کیا گیا تھا [200] ، اور لوگوں کے مال ناجائز طریقوں سے کھاتے ہیں ۔ اور جو لوگ ان میں سے کافر ہیں ان کے لیے ہم نے درد ناک عذاب تیار کررکھا ہے ۔[202] {۱۶۱} مگر ان میں جو لوگ پختہ علم رکھنے والے ہیں اور ایمان دار ہیں وہ سب اُس تعلیم پر ایمان لاتے ہیں جو اے نبی ؐ! تمہاری طرف نازل کی گئی ہے اور جو تم سے پہلے نازل کی گئی تھی ۔ [203] اِس طرح کے ایمان لانے والے اور نماز و زکوٰۃ کی پابندی کرنے والے اور اللہ اور روز آخر پر سچا عقیدہ رکھنے والے لوگوں کو ہم ضرور اجر عظیم عطا کریں گے ۔{ ۱۶۲} اے نبی ؐ ! ہم نے تمہاری طرف اُسی طرح وحی بھیجی ہے جس طرح نوح ؑاور اس کے بعد کے پیغمبروں کی طرف بھیجی[204] تھی ۔ ہم نے ابراہیمؑ ، اسماعیل ؑ، اسحاق ؑ ، یعقوب ؑ اور اولاد ِیعقوب ؑ، عیسیٰ ؑ، ایوبؑ ، یونس ؑ، ہارون ؑ اور سلیمان ؑ کی طرف وحی بھیجی ۔ ہم نے دا ؤد ؑ کو زبور دی۔[205]{ ۱۶۳} ہم نے ان رسُولوں پر بھی وحی نازل کی جن کا ذکر ہم اس سے پہلے تم سے کرچکے ہیں اور اُن رسولوں پر بھی جن کا ذکر تم سے نہیں کیا۔ ہم نے موسیٰ ؑسے اس طرح گفتگو کی جس طرح گفتگوکی جاتی ہے ۔[206]{ ۱۶۴} یہ سارے رسول خوش خبری دینے والے اور ڈرانے والے بناکر بھیجے گئے [207]تھے تاکہ اُن کو مبعوث کردینے کے بعد لوگوں کے پاس اللہ کے مقابلے میں کوئی حجت نہ رہے[208] اور اللہ بہر حال غالب رہنے والا اور حکیم و دانا ہے۔ {۱۶۵} (لوگ نہیں مانتے تو نہ مانیں ) مگر اللہ گواہی دیتا ہے کہ اے نبی ؐ!جو کچھ اس نے تم پر نازل کیا ہے اپنے علم سے نازل کیا ہے اور اس پرملائکہ بھی گواہ ہیں ، اگر چہ اللہ کا گواہ ہونا بالکل کفایت کرتا ہے ۔ {۱۶۶} جو لوگ اس کو ماننے سے خود انکار کرتے ہیں ،اور دوسروں کو اللہ کے راستے سے روکتے ہیں وہ یقینًا گمراہی میں حق سے بہت دور نکل گئے ہیں۔{۱۶۷} اس طرح جن لوگوں نے کفر و بغاوت کا طریقہ اختیار کیا اور ظلم و ستم پر اتر آئے اللہ ان کو ہرگز معاف نہ کرے گا اور انہیں کوئی راستہ نہ دکھائے گا۔{۱۶۸} بجز جہنم کے راستہ کے ، جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ اللہ کے لیے یہ کوئی مشکل کام نہیں ہے۔ {۱۶۹} لوگو! یہ رسُول ؐ تمہارے پاس تمہارے رَبّ کی طرف سے حق لے کر آگیا ہے ، ایمان لے آ ؤ، تمہارے ہی لئے بہتر ہے ، اور اگر انکار کرتے ہو تو جان لو کہ آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ[209] کا ہے اور اللہ علیم بھی ہے اور حکیم بھی[210]۔ {۱۷۰} اے اہل کتاب ! اپنے دین میں غلونہ[211] کرو۔ اور اللہ کی طرف حق کے سوا کوئی بات منسوب نہ کرو۔ مسیح عیسیٰؑ ابن مریم اس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اللہ کا ایک رسول تھا اور ایک فرمان [212]تھا جو اللہ نے مریم کی طرف بھیجا اور ایک روح تھی اللہ کی طرف[213] سے ( جس نے مریم کے رحم میں بچہ کی شکل اختیار کی ) پس تم اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان لا ؤ [214]اور نہ کہو کہ ’’ تین‘‘ ہیں[215]۔ باز آجا ؤ ، یہ تمہارے ہی لئے بہتر ہے ۔ اللہ تو بس ایک ہی اِلٰہ ہے ۔ وہ پاک ہے اس سے کہ کوئی اس کا بیٹا ہو۔[216] زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں اس کی مِلک [217]ہیں ، اور ان کی کفالت و خبر گیری کے لیے بس وہی کافی ہے ۔[218]{۱۷۱} مسیحؑ نے کبھی اس بات کو عارنہیں سمجھا کہ وہ اللہ کا بندہ ہو ، اور نہ مقرب ترین فرشتے اِس کو اپنے لئے عار سمجھتے ہیں۔ اگر کوئی اللہ کی بندگی کو اپنے لئے عارسمجھتا ہے اور تکبّر کرتا ہے تو ایک وقت آئے گا جب اللہ سب کو گھیر کر اپنے سامنے حاضر کرے گا ۔ { ۱۷۲} اُس وقت وہ لوگ جنہوں نے ایمان لاکر نیک طرز عمل اختیار کیا ہے اپنے اجر پورے پورے پائیں گے اور اللہ اپنے فضل سے ان کو مزید اجر عطا فرمائے گا، اور جن لوگوں نے بندگی کو عار سمجھا اور تکبّر کیا ان کو اللہ درد ناک سزادے گا اور اللہ کے سوا جن جن کی سرپرستی و مددگاری پر وہ بھروسہ رکھتے ہیں ان میں سے کسی کو بھی وہاں نہ پائیں گے ۔{ ۱۷۳} لوگو! تمہارے رَبّ کی طرف سے تمہارے پاس دلیل روشن آگئی ہے ۔ اور ہم نے تمہاری طرف ایسی روشنی بھیج دی ہے جو تمہیں صاف صاف راستہ دکھانے والی ہے۔ { ۱۷۴} اب جو لوگ اللہ کی بات مان لیں گے اور اس کی پناہ ڈھونڈیں گے ان کو اللہ اپنی رحمت اور اپنے فضل وکرم کے دامن میں لے لے گا اور اپنی طرف آنے کا سیدھا راستہ ان کو دکھادے گا۔{۱۷۵} اے نبی ؐ ! لوگ[219] تم سے کلالہ[220] کے معاملہ میں فتویٰ پوچھتے ہیں ۔ کہو اللہ تمہیں فتویٰ دیتا ہے۔اگر کوئی شخص بے اولاد مرجائے اور اس کی ایک بہن [221]ہو تو وہ اس کے ترکہ میں سے نصف پائے گی۔ اور اگربہن بے اولاد مرے تو بھائی اس کا وارث ہوگا۔ اگر میت کی وارث[222] دو بہنیں ہوں تو ترکے میں سے دو تہائی کی حقدار [223]ہوں گی، اور اگر کئی بھائی بہنیں ہوں تو عورتوں کا اِکہرا اور مردوں کا دو ہراحصہ ہوگا۔ اللہ تمہارے لئے احکام کی توضیح کرتا ہے تاکہ تم بھٹکتے نہ پھرو اور اللہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے ۔ {۱۷۶}
سورۃالمائدۃ   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 5 : 1-26 / 120اے لوگو جو ایمان لائے ہو!بندشوں کی پوری پابندی کر و[1]۔ تمہارے لئے مویشی کی قسم کے سب جانورحلال کئے گئے [2]، سوائے ان کے جو آگے چل کر تم کو بتائے جائیں گے۔ لیکن اِحرام کی حالت میں شکار کو اپنے لئے حلال نہ کرلو ،[3] بیشک اللہ جو چاہتا ہے حکم دیتا ہے۔[4]{۱} اے لوگوجو ایمان لائے ہو!اللہ کی نشانیوں کو بے حرمت نہ کرو ۔[5] حرام مہینوں میں سے کسی کو حلال نہ کرلو، قربانی کے جانوروں پر دست درازی نہ کرو، ان جانوروں پر ہاتھ نہ ڈالو جن کی گردنوں میں اللہ کی علامت کے طور پر پٹے پڑے ہوئے ہوں نہ ان لوگوں کو چھیڑو جو اپنے رَبّ کے فضل اور اس کی خوشنودی کی تلاش میں مکان محترم(کعبہ)کی طرف جارہے ہوں ۔ [6]ہاں جب احرام کی حالت ختم ہوجائے تو شکار تم کرسکتے ہو۔[7] اور دیکھو ، ایک گروہ نے جو تمہارے لئے مسجد حرام کا راستہ بند کردیا ہے تو اس پر تمہارا غصہ تمہیں اتنا مشتعل نہ کردے کہ تم بھی ان کے مقابلہ میں ناروا زیادتیاں کرنے[8] لگو۔ نہیں، جو کام نیکی اور تقویٰ کے ہیں ان میں سب سے تعاون کرو اور جو گناہ اور زیادتی کے کام ہیں ان میں کسی سے تعاون نہ کرو۔ اللہ سے ڈرو ، اس کی سزابہت سخت ہے۔{ ۲} تم پر حرام کیا گیا مُردار [9]، خون ، سورکا گوشت ، وہ جانور جواللہ کے سواکسی اور کے نام پر ذبح کیا گیا ہو [10]، وہ جو گلاگھٹ کر، یا چوٹ کھا کر ، یابلندی سے گرکر ، یا ٹکر کھا کر مرا ہو ، یاجسے کسی درندے نے پھاڑاہو۔ سوائے اس کے جسے تم نے زندہ پاکر ذبح کرلیا[11]۔ اور وہ جو کسی آستانے [12]پر ذبح کیا گیا ہو۔[13] نیزیہ بھی تمہارے لئے ناجائزہے کہ پانسوں کے ذریعہ سے اپنی قسمت معلوم کرو ۔ [14]یہ سب افعال فسق ہیں ۔ آج کافروں کو تمہارے دین کی طرف سے پوری مایوسی ہوچکی ہے لہٰذا تم ان سے نہ ڈرو ، بلکہ مجھ سے ڈرو۔ [15]آج میں نے تمہارے دین کو تمہارے لئے مکمل کردیا ہے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردی ہے اور تمہارے لئے اسلام کو تمہارے دین کی حیثیت سے قبول کرلیا ہے۔ (لہٰذا حرام وحلال کی جو قیود تم پر عائد کردی گئی ہیں ان کی پابندی کرو [16]) البتہ جو شخص بھوک سے مجبور ہو کر ان میں سے کوئی چیز کھالے ، بغیر اس کے کہ گناہ کی طرف اس کا میلا ن ہو تو بیشک اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔[17] { ۳} ( اے نبی ؐ!) آپ سے لوگ پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے کیا حلال کیا گیا ہے ، کہو تمہارے لئے ساری پاک چیزیں حلال کردی گئی ہیں ۔[18] اور جن شکاری جانوروں کو تم نے سَدھا یا ہو۔ جن کو اللہ کے دیے ہوئے علم کی بنا پر تم شکار کی تعلیم دیا کرتے ہو، وہ جس جانور کو تمہارے لئے پکڑ رکھیں اس کو بھی تم کھاسکتے ہو [19]، البتہ اس پر اللہ کا نام لے لو [20]اور اللہ کا قانون توڑنے سے ڈرو ، اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی۔{ ۴} آج تمہارے لئے ساری پاک چیزیں حلال کردی گئی ہیں ۔ اہلِ کتاب کا کھانا تمہارے لئے حلال ہے اور تمہارا کھانا ان کے لیے[21] اور محفوظ عورتیں بھی تمہارے لئے حلال ہیں خواہ وہ اہل ایمان کے گروہ سے ہوں یا اُن قوموں میں سے جن کو تم سے پہلے کتاب دی گئی تھی ،[22] بشرطیکہ تم ان کے مہرادا کرکے نکاح میں ان کے محافظ بنو،نہ یہ کہ آزاد شہوت رانی کرنے لگو یا چوری چھپے آشنائیاں کرو ۔ اور جو کسی نے ایمان کی روش پر چلنے سے انکار کیا تو اس کا سارا کارنامۂزندگی ضائع ہوجائے گا اور وہ آخرت میں دیوالیہ ہوگا۔[23]{ ۵} اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! جب تم نماز کے لیے اٹھو تو چاہیے کہ اپنے منھ اور ہاتھ کہنیوں تک دھولو ، سروں پر ہاتھ پھیرلو اور پا ؤں ٹخنوں تک دھولیا کرو۔[24] اگر جنابت کی حالت میں ہو تو نہاکر پاک ہوجا ؤ ۔[25]اگر بیمار ہویا سفر کی حالت میں ہو یا تم میں سے کوئی رفع حاجت کرکے آئے یا تم نے عورتوںکو ہاتھ لگایا (ہم بستری کی)ہو،اور پانی نہ ملے ، تو پاک مٹی سے کام لو ، بس اس پر ہاتھ مار کراپنے منھ اور ہاتھوں پر پھیرلیا کرو۔[26] اللہ تم پر زندگی کو تنگ نہیں کرنا چاہتا، مگر وہ چاہتا ہے کہ تمہیں پاک کرے اور اپنی نعمت تم پر تمام کردے [27]،شاید کہ تم شکر گزار بنو۔{۶} اللہ نے تم کو جو نعمت عطا کی [28]ہے اُس کا خیال رکھو اور اس پختہ عہدو پیمان کو نہ بھولو جو اس نے تم سے لیا ہے ، یعنی تمہارا یہ قول کہ’’ ہم نے سنا اور اطاعت قبول کی‘‘۔ اللہ سے ڈرو ، اللہ دلوں کے راز تک جانتا ہے ۔{۷} اے لوگو جو ایمان لائے ہو!اللہ کی خاطر راستی پر قائم رہنے والے اور انصاف کی گواہی دینے والے[29] بنو۔ کسی گروہ کی دشمنی تم کو اتنا مشتعل نہ کردے کہ انصاف سے پھر جا ؤ۔ عدل کرو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتاہے۔ اللہ سے ڈرکر کام کرتے رہو، جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اس سے پوری طرح باخبر ہے ۔ {۸} جو لوگ ایمان لائیں اور نیک عمل کریں اللہ نے ان سے وعدہ کیاہے کہ ان کی خطاؤں سے در گزر کیاجائے گا اور انہیں بڑا اجر ملے گا ۔ {۹} رہے وہ لوگ جو کفر کریں اور اللہ کی آیات کو جھٹلائیں تو وہ دوزخ میں جانے والے ہیں ۔{۱۰} اے لوگوجوایمان لائے ہو !اللہ کے اُس احسان کو یاد کرو جو اُس نے( ابھی حال میں )تم پر کیاہے ۔ جب کہ ایک گروہ نے تم پر دست درازی کا ارادہ کرلیاتھا مگر اللہ نے ان کے ہاتھ تم پر اٹھنے سے روک دیئے [30]اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو ،ایمان رکھنے والوں کو اللہ ہی پر بھروسہ کرناچاہیے ۔{۱۱} اور تحقیق اللہ نے بنی اسرائیل سے پختہ عہد لیاتھا اور ا ن میں بارہ نقیب[31] مقرر کئے تھے ۔ اور ان سے اللہ نے کہاتھا کہ ’’میں تمہارے ساتھ ہوں،اگر تم نے نماز قائم رکھی اور زکوٰۃدی اور میرے رسولوں کو مانا اور ان کی مددکی[32] اور اپنے اللہ کو اچھا قرض دیتے رہے [33]تو یقین رکھو میں تمہاری برائیاں تم سے زائل کردو ں[34] گا اور تم کو ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی ،مگر اس کے بعد جس نے تم میں سے کفر کی روش اختیار کی تو درحقیقت اس نے سواء السبیل[35] گم کردی‘‘ ۔{۱۲} پھر یہ اُن کا اپنے عہد کو توڑڈالنا تھا جس کی وجہ سے ہم نے ان کو اپنی رحمت سے دور پھینک دیا اور ان کے دل سخت کردیے ۔اب ان کایہ حال ہے کہ الفاظ کا اُلٹ پھیر کرکے بات کو کہیں سے کہیں لے جاتے ہیں ، جو تعلیم انہیں دی گئی تھی اس کا بڑاحصہ بھول چکے ہیں،اور آئے دن تمہیں ا ن کی کسی نہ کسی خیانت کا پتہ چلتا رہتا ہے۔ ان میں سے بہت کم لوگ اس عیب سے بچے ہوئے ہیں۔ ( پس جب یہ اس حال کو پہنچ چکے ہیں توجو شرارتیں بھی یہ کریں وہ اِن سے عین متوقع ہیں)لہٰذا انہیں معاف کرو اور ان کی حرکات سے چشم پوشی کرتے رہو، اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے جو احسان کی روش رکھتے ہیں۔{ ۱۳} اوراسی طرح ہم نے اُن لوگوں سے بھی پختہ عہد لیا تھا جنہوں نے کہا تھا کہ ہم ’’ نصاریٰ ‘‘[36]ہیں ، مگر ان کو بھی جو سبق یاد کرایا گیا تھا اس کا ایک بڑا حصّہ اُنہوں نے فراموش کردیا ، آخر کار ہم نے ان کے درمیان قیامت تک کے لیے دشمنی اور آپس کے بُغض وعناد کا بیج بودیا، اور ضرور ایک وقت آئے گا جب اللہ انہیں بتائے گا کہ وہ دنیا میں کیا بناتے رہے ہیں۔ { ۱۴} اے اہل کتاب! ہمارا رسُول ؐ تمہارے پاس آگیا ہے جو کتاب الٰہی کی بہت سی ان باتوں کو تمہارے سامنے کھول رہا ہے جن پر تم پرد ہ ڈالا کرتے تھے، اور بہت سی باتوں سے درگزر بھی کرجاتا [37]ہے۔ تمہارے پاس اللہ کی طرف سے روشنی اور ایک ایسی حق نما کتاب آگئی ہے{۱۵} جس کے ذریعہ سے اللہ تعالیٰ ان لوگوں کو جو ا س کی رضا کے طالب ہیں سلامتی کے طریقے بتاتا [38]ہے اور اپنے اذن سے اُن کو اندھیروں سے نکال کراُجالے کی طرف لاتا ہے اور راہ راست کی طرف اُن کی رہنمائی کرتا ہے۔ {۱۶} یقینًاکفر کیا اُن لوگوں نے جنہوں نے کہا کہ مسیح ؑ ابن مریم ہی اللہ ہے ۔[39] اے نبی ؐ! ان سے کہو کہ اگر اللہ مسیح ؑ ابن مریم کو اور اس کی ماں اور تمام زمین والوں کو ہلاک کردینا چاہے تو کس کی مجال ہے کہ اس کو اس ارادے سے باز رکھ سکے ؟ اللہ تو زمین اور آسمانوں کا اور اُن سب چیزوں کا مالک ہے جو زمین اور آسمانوں کے درمیان پائی جاتی ہیں ، جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے[40] اور اس کی قدرت ہر چیز پر حاوی ہے۔{۱۷} یہود اور نصاریٰ کہتے ہیں کہ ہم اللہ کے بیٹے اور اس کے چہیتے ہیں ۔ ان سے پوچھو ، پھر وہ تمہارے گناہوں پر تمہیں سزا کیوں دیتا ہے؟ درحقیقت تم بھی ویسے ہی انسان ہو جیسے اور انسان اللہ نے پیدا کئے ہیں، وہ جسے چاہتا ہے معاف کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے سزا دیتا ہے ، زمین اور آسمان اور ان کی ساری موجودات اس کی مِلک ہیں ، اور اسی کی طرف سب کو جانا ہے۔{۱۸} اے اہل کتا ب! ہمارا یہ رسُول ؐ ایسے وقت تمہارے پاس آیا ہے اور دین کی واضح تعلیم تمہیں دے رہاہے جب کہ رسولوں کی آمد کا سلسلہ ایک مدّت سے بند تھا،تاکہ تم یہ نہ کہہ سکو ہمارے پاس کوئی بشارت دینے والا اور ڈرانے والا نہیں آیا۔ سودیکھو، اب وہ بشارت دینے اور ڈرانے والا آگیا ۔ اور اللہ ہر چیز پر قادر[41]ہے۔ {۱۹} یاد کرو جب موسیٰ ؑنے اپنی قوم سے کہا تھا ’’ اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی اُس نعمت کا خیال کرو جو اس نے تمہیں عطا کی تھی ۔ اس نے تم میں نبی پیدا کئے ، تم کو فرماں روابنایا ، اور تم کو وہ کچھ دیا جو دنیا میں کسی کو نہ[42] دیا تھا۔{۲۰} اے برادران قوم!اس مقدس سرزمین میں داخل ہوجا ؤ جو اللہ نے تمہارے لئے لکھ دی [43]ہے ۔ پیچھے نہ ہٹو ورنہ ناکام ونامراد پلٹو گے۔ ‘‘[44]{۲۱} اُنہوں نے جواب دیا ’’ اے موسیٰ ؑ!وہاں تو بڑے زبردست لوگ رہتے ہیں، ہم وہاں ہرگز نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں سے نکل نہ جائیں۔ ہاں اگر وہ نکل گئے تو ہم داخل ہونے کے لیے تیار ہیں ۔‘‘ {۲۲} ان ڈرنے والوں میں دو شخص ایسے بھی تھے[45] جن کو اللہ نے اپنی نعمت سے نوازا تھا۔ ا نہوں نے کہا کہ ’’ ان جباروں کے مقابلے میں دروازے کے اندر گھس جا ؤ ،جب تم اندر پہنچ جا ؤ گے تو تم ہی غالب رہوگے۔ اللہ پر بھروسہ رکھو اگر تم مومن ہو۔‘‘ {۲۳} لیکن انہوں نے پھر یہی کہا کہ ’’ اے موسیٰ ؑ !ہم تو وہاں کبھی نہ جائیں گے جب تک وہ وہاں موجود ہیں۔ بس تم اور تمہارا رَبّ ، دونوں جا ؤ اور لڑو ، ہم یہاں بیٹھے ہیں‘‘۔{ ۲۴} اس پر موسیٰ ؑنے کہا: ’’اے میرے رَبّ !میرے اختیار میں کوئی نہیں مگریا میری اپنی ذات یا میرا بھائی ،پس تو ہمیں ان نافرمان لوگوں سے الگ کردے ۔‘‘{۲۵} اللہ نے جواب دیا ’’اچھا تو وہ ملک چالیس سال تک ان پر حرام ہے یہ زمین میں مارے مارے پھریں گے۔[46]ان نافرمانوں کی حالت پر ہر گز ترس نہ کھا ؤ‘‘ ۔[47] {۲۶}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)