سورۃ الزمر   -  39 : 32-75 / 75 پھراُس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگا جس نے اللہ پر جھوٹ باندھا اور جب سچائی اس کے سامنے آئی تو اسے جُھٹلادیا ۔ کیا ایسے لوگوں کے لیے جہنّم میں کوئی ٹھکانا نہیں ہے ؟{۳۲} اور جو شخص سچائی لے کر آیا اور جنہوں نے اس کو سچ مانا ، وہی عذاب سے بچنے والے ہیں۔[52] {۳۳} اُنہیں اپنے رَبّ کے ہاں وہ سب کچھ ملے گا جس کی وہ خواہش کریں گے ۔[53]یہ ہے نیکی کرنے والوں کی جزا{۳۴} تا کہ جو بد ترین اعمال انہوں نے کئے تھے انہیں اللہ ان کے حساب سے ساقط کردے اور جو بہترین اعمال وہ کرتے رہے اُن کے لحاظ سے اُن کو اجر عطا فرمائے۔ [54]{۳۵} ( اے نبی ؐ!) کیا اللہ اپنے بندے کے لیے کافی نہیں ہے ؟ یہ لوگ اُس کے سوا دُوسروں سے تم کو ڈراتے ہیں۔[55] حالاں کہ اللہ جسے گمراہی میں ڈال دے اُسے کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہے{۳۶} اور جسے وہ ہدایت دے اُسے بھٹکانے والا بھی کوئی نہیں ۔ کیا اللہ زبردست اور انتقام لینے والا نہیں ہے؟[56] {۳۷} ان لوگوں سے اگر تم پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ خود کہیں گے کہ اللہ نے ۔ اِن سے پوچھو ، جب حقیقت یہ ہے تو تمہارا کیا خیال ہے کہ اگر اللہ مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو کیا تمہاری یہ دیویاں ، جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو ، مجھے اُس کے پہنچائے ہوئے نقصان سے بچالیں گی ؟ یا اللہ! مجھ پر مہربانی کرنا چاہے تو کیا یہ اس کی رحمت کو روک سکیں گی؟بس ان سے کہہ دو کہ میرے لئے اللہ ہی کافی ہے ، بھروسہ کرنے والے اسی پر بھروسہ کرتے ہیں۔[57]{۳۸} ان سے صاف کہو کہ ’’ اے میری قوم کے لوگو!تم اپنی جگہ اپنا کام کئے جا ؤ ،[58] میں اپنا کام کرتا رہوں گا ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گاکہ{۳۹} کس پر رُسواکُن عذاب آتا ہے اور کسے وہ سزاملتی ہے جو کبھی ٹلنے والی نہیں۔ ‘‘{۴۰} ( اے نبی ؐ! ) ہم نے سب انسانوں کے لیے یہ کتابِ برحق تم پر نازل کردی ہے۔ اب جو سیدھا راستہ اختیار کرے گا اپنے لئے کرے گا اور جو بھٹکے گا اُس کے بھٹکنے کا وبال اُسی پر ہوگا ، تم اُن کے ذمّہ دار نہیں ہو۔[59]{۴۱} وہ اللہ ہی ہے جو موت کے وقت رُوحیں قبض کرتا ہے اور جو ابھی نہیں مرا ہے اُس کی رُوح نیند میں قبض کرلیتا ہے ،[60] پھر جس پر وہ موت کا فیصلہ نافذکرتا ہے اُسے روک لیتا ہے اور دوسروں کی رُوحیں ایک وقتِ مقرر کے لیے واپس بھیج دیتا ہے۔ اِس میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غو روفکر کرنے والے ہیں[61]{۴۲} کیا اُس اللہ کو چھوڑ کر اِن لوگوں نے دُوسروں کو شفیع بنارکھا ہے ؟[62] ان سے کہو: کیا وہ شفاعت کریں گے خواہ اُن کے اختیار میں کچھ ہونہ ہو اور وہ سمجھتے بھی نہ ہوں ؟{۴۳} کہو: شفاعت ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے۔[63] آسمانوں اور زمین کی بادشاہی کا وہی مالک ہے ،پھر اُسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو۔ {۴۴} جب اکیلے اللہ کا ذکر کیا جاتا ہے تو آخرت پر ایمان نہ رکھنے والوں کے دل کُڑھنے لگتے ہیں، اور جب اُس کے سوا دُوسروں کا ذکر ہوتا ہے تو یکایک وہ خوشی سے کِھل اٹھتے ہیں[64]{۴۵} کہو اے اللہ !آسمانوں اور زمین کے پیدا کرنے والے ، حاضرو غائب کے جاننے والے ، تو ہی اپنے بندوں کے درمیان اُس چیز کا فیصلہ کرے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔{۴۶} اگر اِن ظالموں کے پاس زمین کی ساری دولت بھی ہو ، اور اِتنی ہی اور بھی ، تو یہ روزِ قیامت کے بُرے عذاب سے بچنے کے لیے سب کچھ فدیے میں دینے کے لیے تیار ہوجائیں گے۔ وہاں اللہ کی طرف سے اِن کے سامنے وہ کچھ آئے گا جس کا اِنہوں نے کبھی اندازہ ہی نہیں کیا ہے۔ {۴۷} وہاں اپنی کمائی کے سارے بُرے نتائج ان پر کھل جائیں گے اور وہی چیزان پر مسلّط ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں۔{۴۸} یہی انسان [65]جب ذراسی مصیبت اسے چُھوجاتی ہے تو ہمیں پُکارتا ہے ، اور جب ہم اسے اپنی طرف سے نعمت دے کراَپھار دیتے ہیں تو کہتا ہے کہ یہ تو مجھے علم کی بنا پر دیا گیا ہے ! [66] نہیں، بلکہ یہ آزمائش ہے ، مگر اِن میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔[67]{۴۹} یہی بات ان سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی کہہ چکے ہیں، مگر جو کچھ وہ کماتے تھے وہ اُن کے کسی کام نہ آیا۔[68]{۵۰} پھر اپنی کمائی کے بُرے نتائج انہوں نے بھگتے ، اوراِن لوگوں میں سے بھی جو ظالم ہیں وہ عنقریب اپنی کمائی کے بُرے نتائج بھگتیں گے ، یہ ہمیں عاجز کر دینے والے نہیں ہیں۔{۵۱} اور کیا اِنہیں معلوم نہیں ہے کہ اللہ جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کردیتا ہے۔ اور جس کا چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے ؟[69] اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں لیے جو ایمان لاتے ہیں۔{ ۵۲} ( اے نبی ؐ!میری جانب سے )کہہ دو ، ا ے میرے بندو! [70] جنہوں نے اپنی جانوں پر زیادتی کی ہے ، اللہ کی رحمت سے مایُوس نہ ہوجا ؤ، یقینا اللہ سارے گناہ معاف کردیتا ہے، وہ تو غفورو رحیم ہے،[71]{۵۳} پلٹ آ ؤ اپنے رَبّ کی طرف اور مطیع بن جا ؤ اُس کے ،قبل اس کے کہ تم پر عذاب آجائے اور پھر کہیں سے تمہیں مدد نہ مل سکے۔ {۵۴} اور پیروی اختیار کرلو اپنے رَبّ کی بھیجی ہوئی کتاب کے بہترین پہلو کی [72]قبل اس کے کہ تم پر اچانک عذاب آجائے اور تم کو خبربھی نہ ہو {۵۵} کہیں ایسا نہ ہو کہ بعد میں کوئی شخص کہے ’’ افسوس میری اُس تقصیر پر جو میں اللہ کی جناب میں کرتا رہا ، بلکہ میں تواُلٹا مذاق اُڑانے والوں میں شامل تھا۔‘‘{۵۶} یا کہے ’’ کاش اللہ نے مجھے ہدایت بخشی ہوتی تو میں بھی متقیوں میں سے ہوتا ۔‘‘{۵۷} یا عذاب دیکھ کر کہے ’’ کاش مجھے ایک موقع اور مِل جائے اور میں بھی نیک عمل کرنے والوں میں شامل ہوجا ؤں ‘‘ ۔{۵۸} (اور اُس وقت اسے یہ جواب ملے کہ ) ’’ کیوں نہیں ، میری آیات تیرے پاس آچکی تھیں، پھر تُونے انہیں جُھٹلایا اور تکبر کیا اور تُو کافروں میں سے تھا‘‘ ۔{۵۹} آج جن لوگوں نے اللہ پر جُھوٹ باندھے ہیں قیامت کے روز تم دیکھو گے کہ ان کے منھ کالے ہوں گے۔ کیا جہنم میں متکبروں کے لیے کافی جگہ نہیں ہے ؟{۶۰} اس کے برعکس جن لوگوں نے یہاں تقویٰ کیا ہے اُن کے اسبابِ کامیابی کی وجہ سے اللہ ان کو نجات دے گا ، ان کو نہ کوئی گزند پہنچے گا اور نہ وہ غمگین ہوں گے۔{۶۱} اللہ ہر چیز کا خالق ہے اور وہی ہر چیز پر نگہبان ہے۔[73]{۶۲} زمین اور آسمانوں کے خزانوں کی کُنجیاں اُسی کے پاس ہیں اور جو لوگ اللہ کی آیات سے کفر کرتے ہیں وہی گھاٹے میں رہنے والے ہیں۔{۶۳} ( اے نبی ؐ! ) اِن سے کہو ’’ پھر کیا اے جاہلو ، تم اللہ کے سوا کسی اور کی بندگی کرنیکے لیے مجھ سے کہتے ہو‘‘؟ {۶۴} ( یہ بات تمہیں ان سے صاف کہہ دینی چاہئے کیوں کہ ) تمہاری طرف اور تم سے پہلے گزرے ہوئے تمام انبیاء کی طرف یہ وحی بھیجی جاچکی ہے کہ اگر تم نے شرک کیا تو تمہارا عمل ضائع ہوجائے گا[74] اور تم خسارے میں رہو گے۔ {۶۵} لہٰذا ( اے نبی ؐ!) تم بس اللہ ہی کی بندگی کرو اور شکر گزار بندوں میں سے ہوجا ؤ {۶۶} اِن لوگوں نے اللہ کی قدر ہی نہ کی جیسا کہ اس کی قدر کرنے کا حق ہے[75] ( اُس کی قدرت کاملہ کا حال تو یہ ہے کہ) قیامت کے روز پُوری زمین اُس کی مٹھی میں ہوگی اور آسمان اس کے دستِ راست میں لپٹے ہوئے ہوں گے[76] پاک اور بالاتر ہے وہ اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ [77]{۶۷} اور اُس روز صُور پھونکا جائے گا[78] اور وہ سب مرکر گرجائیں گے جو آسمانوں اور زمین میں ہیں سوائے اُن کے جنہیں اللہ زندہ رکھنا چاہے۔ پھر ایک دُوسراصور پھونکا جائے گا اور یکایک سب کے سب اُٹھ کردیکھنے لگیں گے[79]{۶۸} زمین اپنے رَبّ کے نُور سے چمک اٹھے گی، کتاب ِاعمال لاکر رکھ دی جائے گی ، انبیاء اور تمام گواہ [80]حاضر کردیے جائیں گے، لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کردیا جائے گا ، اُن پر کوئی ظلم نہ ہوگا{۶۹} اور ہر متنفس کو جو کچھ بھی اُس نے عمل کیا تھا اُس کا پُورا پُورا بدلہ دے دیا جائے گا ۔ لوگ جو کچھ بھی کرتے ہیں اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔{۷۰} (اس فیصلہ کے بعد ) وہ لوگ جنہو ں نے کفر کیا تھا جہنم کی طرف گروہ درگروہ ہانکے جائیں گے ، یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے تو اس کے دروازے کھولے جائیں گے [81]اور اس کے کارندے ان سے کہیں گے ’’کیا تمہارے پاس تمہارے اپنے لوگوں میں سے ایسے رسُول نہیں آئے تھے جنہوں نے تم کو تمہارے رَبّ کی آیات سُنائی ہوں اور تمہیں اس بات سے ڈرایا ہو کہ ایک وقت تمہیں یہ دن بھی دیکھنا ہوگا ؟‘‘ وہ جواب دیں گے ’’ ہاں ، آئے تھے ، مگر عذاب کا فیصلہ کافروں پر چپک گیا ۔‘‘ {۷۱} کہا جائے گا داخل ہوجا ؤ جہنم کے دروازوں میں ، یہاں اب تمہیں ہمیشہ رہنا ہے ،بڑا ہی بُر اٹھکانا ہے یہ متکبّروں کے لیے۔{۷۲} اور جو لوگ اپنے رَبّ کی نافرمانی سے پر ہیز کرتے تھے انہیں گروہ درگروہ جنّت کی طرف لے جایا جائے گا۔یہاں تک کہ جب وہ وہاں پہنچیں گے ، اور اس کے دروازے پہلے ہی کھولے جاچکے ہوں گے ، تو اُس کے منتظمین اُن سے کہیں گے کہ ’’سلام ہو تم پر ، بہت اچھے رہے ، داخل ہوجا ؤ اِس میں ہمیشہ کے لیے ‘‘ {۷۳} اور وہ کہیں گے ’’شکر ہے اُس اللہ کا جس نے ہمارے ساتھ اپنا وعدہ سچ کردکھایا اور ہم کو زمین کا وارث بنادیا،[82] ہم جنّت میں جہاں چاہیں اپنی جگہ بناسکتے ہیں۔‘‘[83] پس بہترین اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے۔[84] { ۷۴} اور تم دیکھو گے کہ فرشتے عرش کے گرد حلقہ بنائے ہوئے اپنے رَبّ کی حمد و تسبیح کررہے ہوں گے اور لوگوں کے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ چکا دیا جائے گا ، اور پُکار دیا جائے گا کہ حمد ہے اللہ رَبّ العالمین کے لیے ۔[85] {۷۵}
سورۃ المؤمن   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 40 : 1-40 / 85حٰمٓ{۱} اس کتاب کا نزول اللہ کی طرف سے ہے جو زبردست ہے سب کچھ جاننے والا ہے۔[1] { ۲} گناہ معاف کرنے والا اور تو بہ قبول کرنے والا ہے ، سخت سزادینے والا اور بڑا صاحبِ فضل ہے ، کوئی معبُود اس کے سوا نہیں ، اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔{ ۳} اللہ کی آیات میں جھگڑے [2]نہیں کرتے مگر صرف وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے۔[3] اس کے بعد دنیا کے ملکوں میں اُن کی چَلَت پِھرَت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے۔[4]{۴} اِن سے پہلے نوحؑ کی قوم بھی جُھٹلاچکی ہے، اور اُس کے بعد بہت سے دوسرے جتّھوں نے بھی یہ کام کیا ہے۔ ہر قوم اپنے رسُول ؑ پر جھپٹی تا کہ اُسے گرفتار کرے ۔ اُن سب نے باطل کے ہتھیاروں سے حق کو نیچادکھانے کی کوشش کی ، مگر آخر کار میں نے ان کو پکڑلیا ، پھر دیکھ لو کہ میری سز اکیسی سخت تھی۔{۵} اسی طرح تیرے رَبّ کا یہ فیصلہ بھی اُن سب لوگوں پرچسپاں ہوچکا ہے جو کفر کے مرتکب ہوئے ہیں کہ وہ واصل بجہنّم ہونے والے ہیں۔[5]{۶} عرش ِالہٰی کے حامل فرشتے ، اور وہ جو عرش کے گردو پیش حاضر رہتے ہیں ، سب اپنے رَبّ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کررہے ہیں ۔ وہ اُس پر ایمان رکھتے ہیں اور ایمان لانے والوں کے حق میں دعائے مغفرت کرتے ہیں۔[6] وہ کہتے ہیں : ’’ اے ہمارے رَبّ ! تو اپنی رحمت اور اپنے علم کے ساتھ ہر چیز پر چھایا ہوا ہے ،[7] پس معاف کردے ا ور عذاب ِدوزخ سے بچالے[8] اُن لوگوں کو جنہوں نے توبہ کی ہے اور تیرا راستہ اختیار کرلیا ہے۔[9]{۷} اے ہمارے رَبّ! اور داخل کراُن کو ہمیشہ رہنے والی ان جنتّوں میں جن کا تونے اُن سے وعدہ کیا ہے ،[10]اور ان کے والدین اور بیویوں اور اولاد میں سے جو صالح ہوں ( اُن کو بھی وہاں اُن کے ساتھ ہی پہنچادے[11]) تو بِلاشُبہ قادرِ مطلق اور حکیم ہے۔{۸} اور بچادے اُن کو برائیوں سے[12]۔ جس کو تُونے قیامت کے دن برائیوں (کی سزا)سے [13]بچادیا اُس پر تُونے بڑا رحم کیا،یہی بڑی کامیابی ہے‘‘ {۹} جن لوگوں نے کُفر کیا ہے قیامت کے روز اُن کو پکار کر کہاجاے گا ’’ آج تمہیں جتنا شدید غصّہ اپنے اوپر آرہا ہے ، اللہ تم پر اُس سے زیادہ غضب ناک اُس وقت ہوتاتھا جب تمہیں ایمان کی طرف بلایا جاتا تھااور تم کفر کرتے تھے‘‘[14]{۱۰} وہ کہیں گے ’’ اے ہمارے رَبّ! تُو نے واقعی ہمیں دو دفعہ موت اور دو دفعہ زندگی دے دی،[15] اب ہم اپنے قصوروں کااعتراف کرتے ہیں ،[16]کیا اب یہاں سے نکلنے کی بھی کوئی سبیل ہے ؟‘‘ [17]{۱۱} (جواب ملے گا ) ’’ یہ حالت جس میں تم مبتلا ہو اس وجہ سے ہے کہ جب اکیلے للہ کی طرف بُلایا جاتا تھا تو تم ماننے سے انکار کردیتے تھے اور جب اُس کے ساتھ دوسروں کو ملایاجاتا تو تم مان لیتے تھے۔ اب فیصلہ اللہ بزرگ وبرتر کے ہاتھ ہے ‘‘۔[18]{ ۱۲} وہی ہے جو تم کو اپنی نشانیاں دکھاتا ہے [19]اور آسمان سے تمہارے لئے رزق نازل کرتا ہے،[20] مگر ( اِن نشانیوں کے مشاہدے سے ) سبق صرف وہی شخص لیتا ہے جو اللہ کی طرف رجوع کرنے والا ہو۔[21]{ ۱۳} ( پس اے رجوع کرنے والو) اللہ ہی کو پکارو اپنے دین کو اُس کے لیے خالص کرکے ،[22] خواہ تمہارا یہ فعل کافروں کو کتنا ہی ناگوار ہو۔{۱۴} وہ بلند درجوں والا ،[23] مالکِ عرش ہے ۔[24] اپنے بندوں میں سے جس پر چاہتا ہے اپنے حکم سے رُوح نازل کردیتا ہے[25] تا کہ وہ ملاقات کے دن [26]سے خبردارکردے۔{۱۵} وہ دن جب کہ سب لوگ بے پردہ ہوں گے، اللہ سے اُن کی کوئی بات چُھپی ہوئی نہ ہوگی۔ (اُس روز پکار کرپُوچھا جائے گا ) آج بادشاہی کس کی ہے ؟[27] (سارا عالم پُکاراُ ٹھے گا) اللہ واحد قہّار کی۔{۱۶} ( کہا جائے گا) آج ہرمتنفس کو اُس کمائی کا بدلہ دیا جائے گا جو اُس نے کی تھی۔ آج کسی پر کوئی ظلم نہ ہوگا۔ [28]اور اللہ حساب لینے میں بہت تیز ہے۔[29]{۱۷} اے نبی ؐ! ڈرادواِن لوگوں کو اُس دن سے جو قریب آلگا ہے۔[30] جب کلیجے مُنھ کو آرہے ہوں گے اور لوگ چُپ چاپ غم کے گھونٹ پیے کھڑے ہوں گے۔ ظالموں کا نہ کوئی مشفق دوست ہوگا [31]اور نہ کوئی شفیع جس کی بات مانی جائے۔[32]{۱۸} اللہ نگاہوں کی چوری تک سے واقف ہے اور وہ راز تک جانتا ہے جو سینوں نے چُھپارکھے ہیں ۔{۱۹} اور اللہ ٹھیک ٹھیک بے لاگ فیصلہ کرے گا ۔ رہے وہ جن کو ( یہ مشرکین ) اللہ کو چُھوڑ کر پکارتے ہیں، وہ کسی چیز کا بھی فیصلہ کرنے والے نہیں ہیں،بلاشبہ اللہ ہی سب کچھ سننے اور دیکھنے والا[33] ہے۔ {۲۰} کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اِنہیں اُن لوگوں کا انجام نظر آتا جو اِن سے پہلے گزرچکے ہیں ؟ وہ ان سے زیادہ طاقت ورتھے اور ان سے زیادہ زبردست آثار زمین میں چھوڑ گئے ہیں۔ مگر اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا اور ان کو اللہ سے بچانے والا کوئی نہ تھا۔{۲۱} یہ ان کا انجام اس لیے ہوا کہ ان کے پاس اُن کے رسُولؑ بیّنات [34]لے کر آئے اور انہوں نے ماننے سے انکار کردیا۔ آخر کار اللہ نے ان کو پکڑلیا ، یقینا وہ بڑی قوت والا اور سزادینے میں بہت سخت ہے۔{ ۲۲} اور یقیناہم نے موسیٰ ؑ[35]کو اپنی نشانیوں اور نمایاں سند ماموریت[37] کے ساتھ بھیجا {۲۳} فرعون اور ہامان[36] اور قارون کی طرف ،مگر انہوں نے کہا ’’ ساحر ہے ، کذّاب ہے۔‘‘{۲۴} پھر جب وہ ہماری طرف سے حق ان کے سامنے لے آیا [38]تو انہوں نے کہا ’’ جو لوگ ایمان لاکر اس کے ساتھ شامل ہوئے ہیں اُن سب کے لڑکوں کو قتل کرو اور لڑکیوں کو جیتا چھوڑ دو ۔‘‘[39] مگر کافروں کی چال اکارت ہی گئی۔[40]{۲۵} اورایک[41] روز فرعون نے اپنے درباریوں سے کہا ’’ چھوڑو مجھے ، میں اِس موسیٰ ؑکو قتل کئے دیتا ہوں ،[42] اور پکار دیکھے یہ اپنے رَبّ کو۔ مجھے اندیشہ ہے کہ یہ تمہارا دین بدل ڈالے گا ، یا ملک میں فساد بر پاکرے گا‘‘[43]{۲۶} موسیٰؑ نے کہا ’’ میں نے تو ہر اُس مُتکبّر کے مقابلے میں جو یَومُ الحِسَاب پر ایمان نہیں رکھتا اپنے رَبّ اور تمہارے رَبّ کی پناہ لے لی ہے ‘‘۔[44]{۲۷} اوراس موقع پر آلِ فرعون میں سے ایک مومن شخص ، جو اپنا ایمان چھپائے ہوئے تھا ، بول اٹھا : ’’ کیا تم ایک شخص کو صرف اس بناپر قتل کردوگے کہ وہ کہتا ہے میرا رَبّ اللہ ہے ؟ حالانکہ وہ تمہارے رَبّ کی طرف سے تمہارے پاس بیّنات لے[45] آیا۔ اگر وہ جُھوٹا ہے تو اُس کا جُھوٹ خود اسی پر پلٹ پڑے گا، [46]لیکن اگر وہ سچّا ہے تو جن ہولناک نتائج کا وہ تم کو خوف دلاتاہے اُن میں سے کچھ تو تم پر ضرورہی آجائیں گے۔ اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو حد سے گزر جانے والا اور کذّاب ہو۔[47]{۲۸} اے میری قوم کے لوگو! آج تمہیں بادشاہی حاصل ہے اور زمین میں تم غالب ہو ، لیکن اگر اللہ کا عذاب ہم پر آگیا تو پھر کون ہے جو ہماری مدد کرسکے گا۔ ‘‘[48]فرعون نے کہا ’’ میں تو تم لوگوں کو وہی رائے دے رہا ہوں جو مجھے مناسب نظر آتی ہے اور میں اُسی راستے کی طرف تمہاری رہنمائی کرتا ہوں جو ٹھیک ہے‘‘۔[49]{۲۹} وہ شخص جو ایمان لایا تھا اُس نے کہا ’’ اے میری قوم کے لوگو !مجھے خوف ہے کہ کہیں تم پر بھی وہ دن نہ آجائے جو اس سے پہلے بہت سے جَتّھَوں پر آچکا ہے {۳۰} جیسا دِن قومِ نوحؑ اور عاد اور ثمود اور اُن کے بعد والی قوموں پر آیاتھا۔ اور یہ حقیقت ہے کہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا[50] {۳۱} اے قوم!مجھے ڈر ہے کہ کہیں تم پر فریاد وفغاں کا دن نہ آجائے۔{۳۲} جب تم ایک دوسرے کو پکارو گے اور بھاگے بھاگے پھروگے ، مگر اُس وقت اللہ سے بچانے والا کوئی نہ ہوگا۔سچ یہ ہے کہ جسے اللہ بھٹکادے اسے پھر کوئی راستہ دکھانے والا نہیں ہوتا ۔{۳۳} اس سے پہلے یوسف ؑ تمہارے پاس بینّات لے کر آئے تھے مگر تم اُن کی لائی ہوئی تعلیم کی طرف سے شک ہی میں پڑ ے رہے ۔ پھر جب ان کا انتقال ہوگیا تو تم نے کہا اب اُن کے بعد اللہ کوئی رسُولؑ ہر گز نہ بھیجے گا۔[51] ۔۔۔۔ [52]اِسی طرح اللہ ان سب لوگوں کو گمراہی میں ڈال دیتا ہے جو حد سے گزر نے والے اور شکی ہوتے ہیں {۳۴} اور اللہ کی آیات میں جھگڑے کرتے ہیں بغیر اس کے کہ اُن کے پاس کوئی سند یادلیل آئی ہو ۔[53] یہ رویہّ اللہ اور ایمان لانے والوں کے نزدیک سخت مبغوض ہے۔ اِسی طرح اللہ ہر متکبر وجبّار کے دل پر ٹھپّہ لگادیتا ہے۔[54]{۳۵} فرعون نے کہا ’’ اے ہامان! میرے لئے ایک بلند عمارت بنا، تاکہ میں راستوں تک پہنچ سکوں {۳۶} آسمانوں کے راستوں تک ، اور موسیٰ کے اِلٰہ کو جھانک کر دیکھوں۔ مجھے تو یہ موسیٰ جُھوٹا ہی معلوم ہوتا ہے ‘‘[55] اس طرح فرعون کے لیے اس کی بد عملی خوشنمابنادی گئی اور وہ راہِ راست سے روک دیا گیا۔ فرعون کی ساری چال بازی ( اُس کی اپنی ) تباہی کے راستہ ہی میں صرف ہوئی۔{۳۷} وہ شخص جو ایمان لایا تھا بولا:’’ اے میری قوم کے لوگو! میری بات مانو ، میں تمہیں صحیح راستہ بتاتا ہوں {۳۸} اے قوم !یہ دُنیا کی زندگی توچندروزہ ہے،[56] ہمیشہ کے قیام کی جگہ آخرت ہی ہے۔{۳۹} جو بُرائی کرے گا اُس کو اتنا ہی بدلہ ملے گا جتنی اُس نے بُرائی کی ہوگی۔ اور جو نیک عمل کرے گا ، خواہ وہ مردہو یا عورت ، بشرطیکہ ہو وہ مومن، ایسے سب لوگ جنت میں داخل ہوں گے جہاں ان کو بے حساب رزق دیا جائے گا ۔{۴۰}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)