سورۃ الصٰٓفّٰت   -  37 : 145-182 / 182آخر کار ہم نے اسے بڑی سقیم حالت میں ایک چٹیل زمین پر پھینک دیا۔[82]{۱۴۵} اور اُس پر ایک بیل دار درخت اُگا دیا۔[83]{۱۴۶} اِس کے بعد ہم نے اسے ایک لاکھ ، یا اس سے زائد لوگوں کی طرف بھیجا [84]{۱۴۷} وہ ایمان لائے اور ہم نے ایک وقتِ خاص تک انہیں باقی رکھا ۔[85]{۱۴۸} پھر ذرا ان لوگوں سے پوچھو،[86]کیا (اِن کے دل کو یہ بات لگتی ہے کہ) تمہارے رَبّ کے لیے تو ہوں بیٹیاں اور اِن کے لیے ہوں بیٹے ؟ [87]{۱۴۹} کیا واقعی ہم نے ملائکہ کو عورتیں ہی بنایا ہے اور یہ آنکھوں دیکھی بات کہہ رہے ہیں{۱۵۰} خُوب سن رکھو ، دراصل یہ لوگ اپنی من گھڑت سے یہ بات کہتے ہیں{۱۵۱} کہ اللہ اولاد رکھتا ہے اور فی الواقع یہ جھوٹے ہیں۔{۱۵۲} کیا اللہ نے بیٹوں کے بجائے بیٹیاں اپنے لئے پسند کرلیں ؟ {۱۵۳} تمہیں کیا ہوگیا ہے ،کیسے حکم لگارہے ہو ؟{۱۵۴} کیا تمہیں ہوش نہیں آتا ؟{۱۵۵} یا پھر تمہارے پاس اپنی ان باتوں کے لیے کوئی صاف سند ہے{۱۵۶} تولا ؤ اپنی و ہ کتا ب اگرتم سچّے ہو۔[88]{۱۵۷} انہو ں نے اللہ اور ملائکہ[89] کے درمیان نسب کا رشتہ بنارکھا ہے، حالاں کہ ملائکہ خوب جانتے ہیں کہ یہ لوگ مجرم کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں{۱۵۸} ( اور وہ کہتے ہیں کہ )’’ اللہ اُن صفات سے پاک ہے جو دُوسرے لوگ اُس کی طرف منسوب کرتے ہیں {۱۵۹} اُس کے خالص بندوں کے سوا ( جو ایسی نادانی کی باتیں ہرگز نہیں کرتے ){۱۶۰} پس تم اور تمہارے یہ معبُود{۱۶۱} اللہ سے کسی کو پھیر نہیں سکتے {۱۶۲} مگر صرف اُس کو جو دوزخ کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جُھلسنے والاہو۔[90]{۱۶۳} اور ہمارا حال تو یہ ہے کہ ہم میں سے ہر ایک کا ایک مقام مقرر ہے[91]{۱۶۴} اور ہم صف بستہ خدمت گار ہیں{۱۶۵} اور بے شک ہم تسبیح کرنے والے ہیں‘‘۔{۱۶۶} یہ لوگ پہلے تو کہا کرتے تھے{۱۶۷} کہ کاش ہمارے پاس وہ ’’ ذِکر ‘‘ ہوتا جو پچھلی قوموں کو ملا تھا {۱۶۸} توہم اللہ کے چیدہ (منتخب) بندے ہوتے۔[92]{۱۶۹} مگر ( جب وہ آگیا ) تو اِنہو ں نے اس کا انکار کردیا۔اب عنقریب اِنہیں ( اِس رَوِش کا نتیجہ ) معلوم ہوجائے گا۔{۱۷۰} اپنے بھیجے ہوئے بندوں سے ہم پہلے ہی وعدہ کرچکے ہیں {۱۷۱} کہ یقیناان کی مدد کی جائے گی{۱۷۲} اور ہمارا لشکر ہی غالب ہوکررہے گا ۔[93]{۱۷۳} پس اے نبی ؐ! ذرا کچھ مدّت تک اِنہیں اِن کے حال پر چھوڑ دو {۱۷۴} اور دیکھتے رہو، عنقریب یہ خود بھی دیکھ لیں گے۔[94] {۱۷۵} کیا یہ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچارہے ہیں ؟{۱۷۶} جب وہ اِن کے صحن میں اُترے گا تو وہ دن اُن لوگوں کے لیے بہت بُرا ہوگا جنہیں متنبہ کیا جاچکا ہے۔{۱۷۷} بس ذرا اِنہیں کچھ مدت کے لیے چھوڑ دو{۱۷۸} اور دیکھتے رہو ،عنقریب یہ خود دیکھ لیں گے۔ {۱۷۹} پاک ہے تیرا رَبّ ، عزّت کا مالک ، اُن تمام باتوں سے جو یہ لوگ بنارہے ہیں۔{۱۸۰} اور سلام ہے رسُولوںپر{۱۸۱} اور ساری تعریف اللہ رَبّ العالمین ہی کے لیے ہے ۔{۱۸۲}
سورۃ صٓ   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 38 : 1-88 / 88صٓ۔[1]قسم ہے نصیحت بھرے [2]قرآن کی{۱} بلکہ یہی لوگ، جنہوں نے ماننے سے انکار کیا ہے ، سخت تکبُّر اور ضِد میں مبتلا ہیں۔ [3]{ ۲} اِن سے پہلے ہم ایسی کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں ( اور جب ان کی شامت آئی ہے) تووہ چیخ اُٹھے ہیں ، مگر وہ وقت بچنے کا نہیں ہوتا۔{ ۳} اِن لوگوں کو اس بات پر بڑا تعجب ہوا کہ ایک ڈرانے والا خود اِنہی میں سے آگیا ۔ [4]منکرین کہنے لگے کہ ’’یہ ساحر ہے ،[5] سخت جُھوٹا ہے { ۴} کیا اس نے سارے معبودوں کی جگہ بس ایک ہی اِلٰہ بناڈالا ؟ یہ تو بڑی عجیب بات ہے‘‘۔ {۵} اور سردارانِ قوم یہ کہتے ہوئے نکل گئے[6] کہ ’’ چلو اور ڈٹے رہو اپنے معبُودوں کی عبادت پر ۔ یہ بات [7]تو کسی اور ہی غرض سے کہی جارہی ہے۔ [8]{۶} یہ بات ہم نے زمانۂ قریب کی مِلّت میں کسی سے نہیں سُنی۔[9]یہ کچھ نہیں ہے مگر ایک من گھڑت بات ۔{۷} کیا ہمارے درمیان بس یہی ایک شخص رہ گیا تھا جس پر اللہ کا ذکر نازل کردیا گیا؟‘‘ اصل بات یہ ہے کہ یہ میرے ’’ ذِکر ‘‘ پر شک کررہے ہیں [10]اور یہ ساری باتیں اس لیے کررہے ہیں کہ انہوں نے میرے عذاب کا مزہ چکھا نہیں ہے۔{۸} کیا تیرے داتا اور غالب پر وردگار کی رحمت کے خزانے اِن کے قبضے میں ہیں ؟{۹} کیا یہ آسمان و زمین اور اُن کے درمیان کی چیزوں کے مالک ہیں ؟ اچھا تو یہ عالمِ اسباب کی بلندیوں پر چڑھ کردیکھیں ! [11]{۱۰} یہ تو جتھوں میں سے ایک چھوٹا سا جتّھ ہے جو اِسی جگہ شکست کھانے والا ہے[12] {۱۱} اِن سے پہلے نوح ؑ کی قوم ، اور عاد اور میخوں والا فرعون [13]جھٹلاچکے ہیں { ۱۲} اور ثمُود ، اور قومِ لُوط اور اَیکہ والے جتھے وہ تھے {۱۳} ان میں سے ہرایک نے رسولوں کو جھٹلایا اور میری عقوبت کا فیصلہ اس پر چسپاں ہوکر رہا۔{۱۴} یہ لوگ بھی بس ایک دھما کے کے منتظر ہیں جس کے بعد کوئی دوسرا دھماکہ نہ ہوگا[14]{۱۵} اور یہ کہتے ہیں کہ اے ہمارے رَبّ! یوم الحساب سے پہلے ہی ہمارا حصّہ ہمیں جلدی سے دے دے۔[15]{۱۶} اے نبی ؐ ! صبر کرو اُن باتوں پر جو یہ لوگ بناتے ہیں ،[16] اور اِن کے سامنے ہمارے بندے دا ؤد ؑ کا قصہ بیان کرو[17] جو بڑی قوتوں کامالک تھا۔ [18]ہر معاملہ میں اللہ کی طرف رُجوع کرنے والا تھا۔{۱۷} ہم نے پہاڑوں کو اس کے ساتھ مسخر کررکھا تھا کہ صبح و شام وہ اُس کے ساتھ تسبیح کرتے تھے۔{۱۸} پرندے سمٹ آتے ، سب کے سب اُس کی تسبیح کی طرف متوجّہ ہوجاتے تھے۔[19]{۱۹} ہم نے اس کی سلطنت مضبوط کردی تھی، اس کو حکمت عطا کی تھی اور فیصلہ کُن بات کہنے کی صلاحیّت بخشی تھی۔[20] {۲۰} پھر تمہیں کچھ خبر پہنچی ہے اُن مقدمے والوں کی جودیوار چڑھ کراُس کے بالا خانے میں گھس آئے تھے ؟[21]{۲۱} جب وہ دا ؤدؑ کے پاس پہنچے تو وہ انہیں دیکھ کر گھبراگیا ۔[22] اُنہوں نے کہا ’’ ڈریئے نہیں ، ہم دو فریق مقدمہ ہیں جن میں سے ایک نے دوسرے پر زیادتی کی ہے۔ آپ ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک حق کے ساتھ فیصلہ کر دیجئے ، بے انصافی نہ کیجئے اور ہمیں راہِ راست بتائیے۔{۲۲} یہ میرا بھائی ہے ، [23]اس کے پاس ننانوے دنبیاں ہیں اور میرے پاس صرف ایک ہی دُنبی ہے۔ اِس نے مجھ سے کہا کہ یہ ایک دُنبی بھی میرے حوالے کردے اور اس نے گفتگو میں مجھے دبالیا ‘‘۔[24]{۲۳} دوا ؤد ؑ نے جواب دیا’’اِس شخص نے اپنی دُنبیوں کے ساتھ تیری دُنبی ملالینے کا مطالبہ کرکے یقینا تجھ پر ظلم کیا، [25]اور واقعہ یہ ہے کہ ِمل جل کر ساتھ رہنے والے لوگ اکثر ایک دوسرے پر زیادتیاں کرتے رہتے ہیں بس وہی لوگ اس سے بچے ہوئے ہیں جو ایمان رکھتے اور عملِ صالح کرتے ہیں، اور ایسے لوگ کم ہی ہیں‘‘ ۔( یہ بات کہتے کہتے ) دا ؤد ؑ سمجھ گیا کہ یہ تو ہم نے دراصل اس کی آزمائش کی ہے ، چنانچہ اُس نے اپنے رَبّ سے معافی مانگی اور سجدے میں گرگیا اور رجوع کرلیا۔[26]{۲۴} تب ہم نے اس کا وہ قصُور معاف کیا اور یقینا ہمارے ہاں اس کے لیے تقرّب کا مقام اور بہتر انجام ہے۔[27]{۲۵} ( ہم نے اُس سے کہا ) ’’ اے دا ؤد ؑ! ہم نے تجھے زمین میں خلیفہ بنایا ہے، لہٰذا تو لوگوں کے درمیان حق کے ساتھ حکومت کر اور خواہشِ نفس کی پیروی نہ کر کہ وہ تجھے اللہ کی راہ سے بھٹکادے گی۔ جو لوگ اللہ کی راہ سے بھٹکتے ہیں یقینا اُن کے لیے سخت سزا ہے کہ وہ یوم الحساب کو بُھول گئے ‘‘۔[28]{۲۶} ہم نے اس آسمان اور زمین کو اور اس دنیا کو جواُن کے درمیان ہے ، فضول پیدا نہیں کردیا ہے [29]یہ تو اُن لوگوں کا گمان ہے جنہوں نے کفر کیا ہے ، اور ایسے کافروں کے لیے بربادی ہے جہنّم کی آگ سے۔{۲۷} کیا ہم اُن لوگوں کو جو ایمان لاتے اور نیک اعمال کرتے ہیں اور اُن کو جو زمین میں فساد کرنے والے ہیں یکساں کردیں ؟ کیا متقیوں کو ہم فاجروں جیسا کردیں ؟[30]{۲۸} یہ ایک بڑی برکت والی کتا ب [31]ہے جو (اے نبی ؐ!) ہم نے تمہاری طرف نازل کی ہے تا کہ یہ لوگ اس کی آیات پر غور کریں اور عقل و فکر رکھنے والے اس سے سبق لیں۔{۲۹} اور دا ؤ د ؑکو ہم نے سلیمان ؑ ( جیسا بیٹا) عطا کیا ،[32] بہترین بندہ ،کثرت سے اپنے رَبّ کی طرف رُجوع کرنے والا{۳۰} قابلِ ذکر ہے وہ موقع جب شام کے وقت اُس کے سامنے خوب سَدھے ہوئے گھوڑے پیش کئے گئے[33]{۳۱} تو اُس نے کہا ’’ میں نے اس مال [34]کی محبت اپنے رَبّ کی یاد کی وجہ سے اختیار کی ہے ۔‘‘ یہاں تک کہ جب وہ گھوڑے نگاہ سے اوجھل ہوگئے{۳۲} تو( اس نے حکم دیا کہ ) انہیں میرے پاس واپس لا ؤ ، پھر لگاان کی پنڈلیوں اور گردنوں پر ہاتھ پھیرنے۔[35]{۳۳} اور ( دیکھو کہ ) سلیمان ؑ کو بھی ہم نے آزمائش میں ڈالا اور اس کی کرسی پر ایک جسدلاکر ڈال دیا ، پھر اس نے رجوع کیا {۳۴} اور کہا کہ ’’اے میرے رَبّ ! مجھے معاف کردے اور مجھے وہ بادشاہی دے جو میرے بعد کسی کے لیے سزاوارنہ ہو ، بے شک تُو ہی اصل داتا ہے‘‘ ۔[36]{۳۵} تب ہم نے اس کے لیے ہوا کو مسخر کردیا ، جو اس کے حکم سے نرمی کے ساتھ چلتی تھی جدھر وہ چاہتا تھا [37]{۳۶} اور شیاطین کو مسخر کردیا، ہر طرح کے معمار اور غوطہ خور{۳۷} اور دوسرے جو پابندِ سلاسل تھے۔[38]{۳۸} ( ہم نے اُس سے کہا)’’یہ ہماری بخشش ہے ، تجھے اختیار ہے جسے چاہے دے اور جس سے چاہے روک لیے کوئی حساب نہیں‘‘۔[39]{۳۹} یقینا اس کے لیے ہمارے ہاں تقرب کا مقام اور بہتر انجام ہے۔ [40]{۴۰} اور ہمارے بندے ایوبؑ کا ذکر کرو ،[41] جب اس نے اپنے رَبّ کو پکارا کہ شیطان نے مجھے تکلیف اور عذاب میں ڈال دیاہے۔ [42]{۴۱} ( ہم نے اُسے حکم دیا) اپنا پا ؤں زمین پر مار ، یہ ہے ٹھنڈا پانی نہانے کے لیے اور پینے کے لیے[43]{۴۲} ہم نے اُسے اس کے اہل وعیال واپس دیے اور اُن کے ساتھ اُتنے ہی اور ،[44] اپنی طرف سے رحمت کے طور پر ، اور عقل وفکر رکھنے والوں کے لیے درس کے طور پر[45]{ ۴۳} ( اور ہم نے اس سے کہا ) تنکوں کا ایک مُٹّھالے اور اُس سے ماردے ، اپنی قسم نہ توڑ ۔[46] ہم نے اسے صابر پایا ، بہترین بندہ ، اپنے رَبّ کی طرف بہت رُجوع کرنے والا۔[47] {۴۴} اور ہمارے بندوں ، ابراہیم ؑ اور اسحاق ؑ اور یعقوبؑ کا ذکر کرو ۔ بڑی قوت عمل رکھنے والے اور دیدہ ور لوگ تھے۔[48]{۴۵} ہم نے اُن کو ایک خالص صفت کی بناپر برگزیدہ کیا تھا ، اور وہ دارِ آخرت کی یاد تھی۔[49]{۴۶} یقینا ہمارے ہاں ان کا شمارچُنے ہوئے نیک اشخاص میں ہے ۔{۴۷} اور اسمٰعیل ؑ اور الیسع ؑ[50]اور ذوالکفل ؑ [51]کا ذکر کرو ، یہ سب نیک لوگوں میں سے تھے{۴۸} یہ ایک ذکر تھا۔ ( اب سنو کہ ) متّقی لوگوں کے لیے یقینا بہترین ٹھکانا ہے{۴۹} ہمیشہ رہنے والی جنتیں جن کے دروازے اُن کے لیے کُھلے ہوں گے[52]{۵۰} ان میں وہ تکیے لگائے بیٹھے ہوں گے ، خوب خوب فواکہ اور مشروبات طلب کررہے ہوں گے{۵۱} اور ان کے پاس شرمیلی ہم سنِ بیویاں[53] ہوں گی۔{ ۵۲} یہ وہ چیزیں ہیں جنہیں حساب کے دن عطا کرنے کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے۔{ ۵۳} یہ ہمارا رزق ہے جو کبھی ختم ہونے والا نہیں۔{۵۴} یہ تو ہے( متقیوں کا انجام ) اور سرکشوں کے لیے بدترین ٹھکانا ہے{۵۵} جہنّم جس میں وہ جُھلسے جائیں گے ، بہت ہی بُر ی قیام گاہ۔ {۵۶} یہ ہے اُن کے لیے ، پس وہ مزہ چکھیں کھولتے ہوئے پانی اور پیپ اور لَہُو[54]{۵۷} اور اسی قسم کی دُوسری تلخیوں کا {۵۸} ( وہ جہنّم کی طرف اپنے پیَرووں کو آتے دیکھ کر آپس میں کہیں گے)’’ یہ ایک لشکر تمہارے پاس گُھساچلا آرہا ہے ،کوئی خوش آمدید اِن کے لیے نہیں ہے ، یہ آگ میں جُھلسنے والے ہیں‘‘۔{۵۹} وہ اُ ن کو جواب دیں گے ’’ (نہیں بلکہ تم ہی جھلسے جارہے ہو )کوئی خیر مقدم تمہارے لئے نہیں ۔ تم ہی تو یہ انجام ہمارے آگے لائے ہو ، کیسی بُری ہے یہ جائے قرار۔‘‘{۶۰} پھر وہ کہیں گے ’’اے ہمارے رَبّ !جس نے ہمیں اس انجام کو پہنچانے کا بندوبست کیا اُس کو دوزخ کا دوہرا عذاب دے ‘‘ {۶۱} اور وہ آپس میں کہیں گے ’’ کیا بات ہے ، ہم ان لوگوں کو کہیں نہیں دیکھتے جنہیں ہم دنیا میں بُرا سمجھتے تھے ؟‘‘[55]{۶۲} ہم نے یوں ہی اُن کا مذاق بنالیا تھا ، یاوہ کہیں نظروں سے اوجھل ہیں ؟ {۶۳} بے شک یہ بات سچّی ہے ، اہل دوزخ میں یہی کچھ جھگڑے ہونے والے ہیں۔[56]{ ۶۴} (اے نبی ؐ!) ان سے کہو ، ’’ میں تو بس خبردار کردینے والا ہوں ۔[57] کوئی حقیقی معبُود نہیں مگر اللہ جو یکتا ہے۔ سب پر غالب {۶۵} آسمانوں اور زمین کا مالک اور اُن ساری چیزوں کا مالک جو اُن کے درمیان ہیں ، زبردست اور درگزر کرنے والا ‘‘ ۔{۶۶} اِن سے کہو ’’ یہ ایک بڑی خبر ہے {۶۷} جس کو سُن کر تم منھ پھیرتے ہو‘‘۔[58]{۶۸} (اِن سے کہو)’’ مجھے اُس وقت کی کوئی خبر نہ تھی جب ملاء اعلیٰ میں جھگڑا ہورہا تھا {۶۹} مجھ کو تو وحی کے ذریعہ سے یہ باتیں صرف اس لیے بتائی جاتی ہیں کہ میں کُھلاکُھلا خبردار کرنے والا ہوں ‘‘ ۔{۷۰} جب تیرے رَبّ نے فرشتوں سے کہا [59]’’ میں مٹی سے ایک بشر بنانے والا ہوں [60]{۷۱} جب میں اسے پوری طرح بنادوں اور اس میں اپنی رُوح پھونک دوں[61] تو تم اسکے آگے سجدے میں گرجا ؤ‘‘[62]{۷۲} اس حکم کے مطابق فرشتے سب کے سب سجدے میں گرگئے {۷۳} مگر ابلیس نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ کیا اور وہ کافروں میں سے ہوگیا۔ [63]{۷۴} رَبّ نے فرمایا ’’ اے ابلیس !تجھے کیا چیز اُس کو سجدہ کرنے سے مانع ہوئی جسے میں نے اپنے دونوں ہاتھوں سے بنایا ہے ؟[64] تو بڑا بن رہا ہے یا تو ہے ہی کچھ اُونچے درجے کی ہستیوں میں سے ‘‘؟ {۷۵} اُس نے جواب دیا ’’ میں اُس سے بہتر ہوں ، آپ نے مجھ کو آگ سے پیدا کیا ہے اور اِس کو مٹی سے ‘‘۔ {۷۶} فرمایا ’’ اچھاتو یہاں سے نکل جا،[65] تو مردُودہے[66]{۷۷} اور تیرے اوپر یوم الجزا ء تک میری لعنت ہے‘‘۔[67]{۷۸} وہ بولا’’ اے میرے رَبّ !یہ بات ہے تو پھر اُس وقت تک کے لیے مجھے مہلت دے دے جب یہ لوگ دوبارہ اُٹھائے جائیں گے‘‘۔{۷۹} فرمایا:’’ اچھا ، تجھے مہلت ہے {۸۰} اُس روزتک کی۔جس کا وقت مجھے معلوم ہے ‘‘ ۔{۸۱} اس نے کہا ’’ تیری عزت کی قسم ، میں ان سب لوگوں کو بہکا کر رہوں گا{۸۲} بجز تیرے اُن بندوں کے جنہیں تو نے خالص کرلیا ہے ‘‘۔[68]{۸۳} فرمایا ’’تو حق یہ ہے ، اور میں حَق ہی کہا کرتا ہوں{ ۸۴} کہ میں جہنّم کو تجھ سے[69] اوراُن سب لوگوں سے بھردوں گا جو اِن انسانوں میں سے تیری پیروی کریں گے ۔‘‘[70]{۸۵} (اے نبی ؐ!) اِن سے کہہ دو کہ میں اس تبلیغ پر تم سے کوئی اجر نہیں مانگتا ،[71] اور نہ میں بناوٹی لوگوں میں سے ہوں۔[72]{۸۶} یہ تو ایک نصیحت ہے تمام جہان والوں کے لیے {۸۷} اور تھوڑی مدّت ہی گزرے گی کہ تمہیں اس کا حال خود معلوم ہوجائے گا۔[73]{۸۸}
سورۃ الزمر   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 39 : 1-31 / 75اس کتاب کا نزول اللہ زبردست اور دانا کی طرف سے ہے۔[1]{۱} (اے نبی ؐ!) یہ کتاب ہم نے تمہاری طرف بر حق نازل کی ہے ،[2] لہٰذا تم اللہ ہی کی بندگی کرو دین کو اُسی کے لیے خالص کرتے ہوئے ! [3]{ ۲} خبردار !دین خالص اللہ کا حق ہے۔ [4]رہے وہ لوگ جنہوں نے اُس کے سوا دُوسرے سرپرست بنارکھے ہیں (اور اپنے اِس فعل کی توجیہ یہ کرتے ہیں کہ ) ہم تو اُن کی عبادت صرف اس لیے کرتے ہیں کہ وہ اللہ تک ہماری رسائی کرادیں ،[5] اللہ یقینا اُن کے درمیان اُن تمام باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کررہے ہیں۔[6] اللہ کسی ایسے شخص کو ہدایت نہیں دیتا جو جُھوٹا اور مُنکر حق ہو۔[7]{ ۳} اگر اللہ کسی کو بیٹا بنانا چاہتا تو اپنی مخلوق میں سے جس کو چاہتا برگزیدہ کرلیتا ،[8] پاک ہے وہ اِس سے (کہ کوئی اُس کا بیٹا ہو )وہ اللہ ہے اکیلا اور سب پر غالب ۔[9]{ ۴} اس نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے۔ [10]وہی دن پر رات اور رات پردن کولپیٹتا ہے ۔ اُسی نے سُورج اور چاند کو اس طرح مُسخّر کررکھا ہے کہ ہر ایک ایک وقتِ مقرر تک چلے جارہا ہے ۔جان رکھو ، وہ زبردست ہے اور درگزر کرنے والا ہے۔[11]{۵} اُسی نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا ، پھروہی ہے جس نے اُس جان سے اس کا جوڑا بنایا۔ [12]اور اسی نے تمہارے لئے مویشیوں میں سے آٹھ نرو مادہ پیدا کئے۔[13] وہ تمہاری ما ؤں کے پیٹوں میں تین تین تاریک پردوں کے اندر تمہیں ایک کے بعد ایک شکل دیتا چلاجاتا ہے۔[14] یہی اللہ ( جس کے یہ کام ہیں ) تمہارا رَبّ ہے ،[15] بادشاہی اسی کی ہے۔ [16]کوئی معبُود اس کے سوا نہیں ہے ،[17] پھر تم کدھر سے پھر ائے جارہے ہو ؟[18]{۶} اگر تم کفر کرو تو اللہ تم سے بے نیاز ہے ،[19] لیکن وہ اپنے بندوں کے لیے کفر کو پسند نہیں کرتا ،[20] اور اگر تم شکر کر وتو اسے وہ تمہارے لئے پسند کرتا ہے۔ [21]کوئی بوجھ اُٹھانے والا کسی دُوسرے کا بوجھ نہ اُٹھائے گا۔[22] آخر کارتم سب کو اپنے رَبّ کی طرف پلٹنا ہے ، پھر وہ تمہیں بتادے گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو ، وہ تو دلوں کا حال تک جانتا ہے۔{۷} انسان پر جب کوئی آفت آتی ہے[23] تو وہ اپنے رَبّ کی طرف رُجوع کرکے اُسے پکارتا ہے ۔[24] پھر جب اس کا رَبّ اسے اپنی نعمت سے نواز دیتا ہے تو وہ اُس مصیبت کو بُھول جاتا ہے جس پر وہ پہلے پُکاررہا تھا [25]اور دُوسروں کو اللہ کا ہمسر ٹھہراتا ہے [26]تا کہ اِس کی راہ سے گمراہ کرے۔ [27] (اے نبی ؐ!) اُس سے کہو کہ تھوڑے دن اپنے کفر سے لُطف اُٹھالے ، یقینا تو دوزخ میں جانے والا ہے۔{۸} ( کیا اِس شخص کی روش بہتر ہے یا اُس شخص کی) جو مطیع فرمان ہے ، رات کی گھڑیوں میں کھڑارہتا اور سجدے کرتا ہے ، آخرت سے ڈرتا اور اپنے رَبّ کی رحمت سے اُمید لگاتا ہے ؟ ان سے پُوچھو کیا جاننے والے اور نہ جاننے والے دونوں کبھی یکساں ہوسکتے ہیں؟[28]نصیحت تو عقل رکھنے والے ہی قبول کرتے ہیں۔{۹} (اے نبی ؐ!) کہو کہ اے میرے بندو جو ایمان لائے ہو ،اپنے رَبّ سے ڈرو ۔[29] جن لوگوں نے اس دنیا میں نیک رویہّ اختیار کیا ہے ان کے لیے بھلائی ہے۔ [30]اور اللہ کی ز مین وسیع ہے ،[31] صبر کرنے والوں کو تو ان کا اجر بے حساب دیا جائے گا۔[32]{۱۰} ( اے نبی ؐ!) اِن سے کہو ، مجھے حکم دیا گیا ہے کہ دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اُس کی بندگی کرو ں۔{۱۱} اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ سب سے پہلے میں خود مسلم بنوں۔[33]{ ۱۲} کہو ، اگر میں اپنے رَبّ کی نافرمانی کروں تو مجھے ایک بڑے دن کے عذاب کا خوف ہے۔{ ۱۳} کہہ دو کہ میں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اُسی کی بندگی کروں گا {۱۴} تم اُس کے سوا جس جس کی بندگی کرنا چاہو کرتے رہو۔ کہو ، اصل دیوالیے تو وہی ہیں جنہوں نے قیامت کے روز اپنے آپ کو اور اپنے اہل وعیال کو گھاٹے میں ڈال دیا۔ خوب سُن رکھو ، یہی کُھلادیوالیہ ہے۔[34]{۱۵} اُن پر آگ کی چھتریاں اُوپر سے بھی چھائی ہوں گی اور نیچے سے بھی ۔ یہ وہ انجام ہے جس سے اللہ اپنے بندوں کو ڈراتا ہے ، پس اے میرے بندو!میرے غضب سے بچو {۱۶} بخلاف اِس کے جن لوگوں نے طاغوت [35]کی بندگی سے اجتناب کیا اور اللہ کی طرف رُجوع کرلیا اُن کے لیے خوش خبری ہے۔ پس ( اے نبی ؐ!) بشارت دے دو میرے ان بندوں کو{۱۷} جو بات کو غور سے سنتے ہیں اور اس کے بہترین پہلو کی پیروی کرتے ہیں۔ [36]یہ وہ لوگ ہیں جن کو اللہ نے ہدایت بخشی ہے اور یہی دانشمند ہیں{۱۸} (اے نبی ؐ!) اُس شخص کو کون بچاسکتا ہے جس پر عذاب کا فیصلہ چسپاں ہوچکا ہو ؟[37] کیا تم اُسے بچاسکتے ہو جو آگ میں گرچکا ہو ؟ {۱۹} البتہ جو لوگ اپنے رَبّ سے ڈرکررہے اُن کے لیے بلند عمارتیں ہیں منزل پر منزل بنی ہوئی ، جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ یہ اللہ کا وعدہ ہے ، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا۔{۲۰} کیا تم نہیں دیکھتے کہ اللہ نے آسمان سے پانی برسایا ، پھر اس کو سوتوں اور چشموں اور دریا ؤں [38]کی شکل میں زمین کے اندر جاری کیا ، پھر اس پانی کے ذریعہ سے وہ طرح طرح کی کھیتیاں نکالتا ہے جن کی قسمیں مختلف ہیں ، پھر وہ کھیتیاں پک کر سُوکھ جاتی ہیں ، پھر تم دیکھتے ہو کہ وہ زرد پڑگئیں ، پھر آخر کار اللہ اُن کو بُھس بنادیتا ہے۔ درحقیقت اس میں ایک سبق ہے عقل رکھنے والوں کے لیے ۔[39] {۲۱} اب کیا وہ شخص جس کا سینہ اللہ نے اسلام کے لیے کھول دیا [40]اور وہ اپنے رَبّ کی طرف سے ایک روشنی پرچل رہا ہے[41] ( اُس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جس نے اِن باتوں سے کوئی سبق نہ لیا ؟) تباہی ہے ان لوگوں کے لیے جن کے دل اللہ کی نصیحت سے اور زیادہ سخت ہوگئے ۔ [42]وہ کھلی گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔{ ۲۲} اللہ نے بہترین کلام اُتارا ہے ، ایک ایسی کتاب جس کے تمام اجزاء ہم رنگ ہیں [43]اور جس میں بار بار مضامین دُہرائے گئے ہیں۔ اُسے سُن کر اُن لوگوں کے رونگٹے کھڑے ہوجاتے ہیں جو اپنے رَبّ سے ڈرنے والے ہیں ، اور پھر ان کے جسم اور ان کے دل نرم ہوکر اللہ کے ذکر کی طرف راغب ہوجاتے ہیں۔ یہ اللہ کی ہدایت ہے جس سے وہ راہِ راست پرلے آتا ہے جسے چاہتا ہے۔ اور جسے اللہ ہی ہدایت نہ دے اس کے لیے پھر کوئی ہادی نہیں ہے ۔{۲۳} اب اس شخص کی بدحالی کا تم کیا اندازہ کرسکتے ہو جو قیامت کے روز عذاب کی سخت مار اپنے منھ پر لے گا ؟[44] ایسے ظالموں سے تو کہہ دیا جائے گا کہ اب چکھو مزہ اُس کمائی کا جو تم کرتے رہے تھے۔[45]{ ۲۴} اِن سے پہلے بھی بہت سے لوگ اسی طرح جھٹلاچکے ہیں۔ آخر اُن پر عذاب ایسے رُخ سے آیا جدھر ان کا خیال بھی نہ جاسکتا تھا۔{۲۵} پھر اللہ نے ان کو دنیا ہی کی زندگی میں رسوائی کا مزہ چکھایا، اور آخرت کا عذاب تو اس سے شدید تر ہے ، کاش یہ لوگ جانتے ۔{۲۶} ہم نے اِس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح کی مثالیں دی ہیں کہ یہ ہوش میں آئیں۔{۲۷} ایسا قرآن جو عربی زبان میں ہے،[46] جس میں کوئی ٹیڑھ نہیں ہے ،[47] تا کہ یہ بُرے انجام سے بچیں۔{۲۸} اللہ ایک مثال دیتا ہے ۔ ایک شخص تو وہ ہے جس کے مالک ہونے میں بہت سے کج خلق آقا شریک ہیں جو اُسے اپنی اپنی طرف کھینچتے ہیں اوردُوسرا شخص پُورا کا پورا ایک ہی آقا کا غلام ہے ۔ کیا اِن دونوں کا حال یکساں ہوسکتا ہے ؟[48] الحمدللہ، [49]مگر اکثر لوگ نادانی میں پڑےہوئے ہیں[50]{۲۹} (اے نبی ؐ!) تمہیں بھی مرنا ہے اور اِن لوگوں کو بھی مرنا ہے۔[51]{۳۰} آخر کار قیامت کے روز تم سب اپنے رب کے حضور اپنا اپنا مقدمہ پیش کرو گے ۔{۳۱}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)