سورۃ یٰسٓ   -  36 : 28-83 / 83اُس کے بعداُس کی قوم پر ہم نے آسمان سے کوئی لشکر نہیں اُتارا ۔ ہمیں لشکر بھیجنے کی کوئی حاجت نہ تھی۔{۲۸} بس ایک دھماکہ ہوا اور یکایک وہ سب بُجھ کررہ گئے۔2[24]{۲۹} افسوس بندوں کے حال پر ، جو رسُول ؑبھی ان کے پاس آیا اس کا وہ مذاق ہی اڑاتے رہے ۔{۳۰} کیا اُنہوں نے دیکھا نہیں اُن سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں اور اس کے بعد وہ پھر کبھی ان کی طرف پلٹ کرنہ آئے؟[25] {۳۱} ان سب کو ایک روزہمارے سامنے حاضر کیا جانا ہے۔ { ۳۲} اِن[26] لوگوں کے لیے بے جان زمین ایک نشانی ہے ۔[27] ہم نے اُس کو زندگی بخشی اور اِس سے غلہّ نکالا جسے یہ کھاتے ہیں۔{۳۳} ہم نے اس میں کھجوروں اور انگوروں کے باغ پیدا کئے اور اس کے اندر سے چشمے پھوڑ نکالے{۳۴} تا کہ یہ اس کے پھل کھائیں، یہ سب کچھ ان کے اپنے ہاتھوں کا پیدا کیا ہوا نہیں ہے۔[28]پھر کیا یہ شکر ادا نہیں کرتے ؟[29] {۳۵} پاک ہے وہ ذات[30] جس نے جملہ اقسام کے جوڑے پیدا کئے خواہ وہ زمین کی نباتات میں سے ہوں یا خود ان کی اپنی جنس ( یعنی نوع انسانی )میں سے یا اُن اشیا ء میں سے جن کو یہ جانتے تک نہیں ہیں۔[31] {۳۶} اِن کے لیے ایک اور نشانی رات ہے ، ہم اس کے اُوپر سے دن ہٹا دیتے ہیں تو ان پر اندھیرا چھا جاتا ہے۔ [32]{۳۷} اور سُورج ،وہ اپنے ٹھکانے کی طرف چلاجارہا ہے۔ [33]یہ زبردست علیم ہستی کا باندھا ہوا حساب ہے۔{۳۸} اور چاند ،اُس کے لیے ہم نے منزلیں مقرر کردی ہیں یہاں تک کہ اُن سے گزر تا ہوا وہ پھر کھجور کی سوکھی شاخ کے مانندرہ جاتا ہے۔[34]{۳۹} نہ سُورج کے بس میں یہ ہے کہ وہ چاند کو جاپکڑے[35] اور نہ رات دن پر سبقت لے جاسکتی ہے۔ [36]سب ایک ایک فلک میں تیررہے ہیں۔[37]{۴۰} اِن کے لیے یہ بھی ایک نشانی ہے کہ ہم نے ان کی نسل کو بھری ہوئی کشتی میں سوار کردیا[38]{۴۱} اور پھر ان کے لیے ویسی ہی کشتیاں اور پیداکیں جن پر یہ سوار ہوتے ہیں۔[39]{۴۲} ہم چاہیں تو اِن کو غرق کردیں ، کوئی اِن کی فریاد سننے والا نہ ہو۔ اور کسی طرح یہ نہ بچائے جاسکیں ۔{۴۳} بس ہماری رحمت ہی ہے جو انہیں پارلگاتی اور ایک وقتِ خاص تک زندگی سے متمتع ہونے کا موقع دیتی ہے۔[40]{۴۴} اور ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ بچو اُس انجام سے جو تمہارے آگے آرہا ہے اور تمہارے پیچھے گزر چکا ہے ، [41]شاید کہ تم پر رحم کیا جائے (تو یہ سُنی اَن سُنی کر جاتے ہیں)۔ {۴۵} اور اِن کے سامنے ان کے رَبّ کی آیات میں سے جو آیت بھی آتی ہے یہ اس کی طرف التفات نہیں کرتے[42] {۴۶} اور جب اِن سے کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو رزق تمہیں عطا کیا ہے اُس میں سے کچھ اللہ کی راہ میں بھی خرچ کرو تو یہ لوگ جنہوں نے کفر کیا ہے ایمان لانے والوں کو جواب دیتے ہیں ’’ کیا ہم اُن کو کھلائیں جنہیں اگر اللہ چاہتا تو خود کھلادیتا ؟ تم تو بالکل ہی بہک گئے ہو ‘‘۔[43]{۴۷} یہ[44] لوگ کہتے ہیں کہ ’’یہ قیامت کی دھمکی آخر کب پوری ہوگی؟ بتا ؤ اگر تم سچّے ہو‘‘ ۔[45]{۴۸} دراصل یہ جس چیز کی راہ تک رہے ہیں وہ بس ایک دھماکہ ہے جو یکایک انہیں اِس حالت میں دھرلے گا جب یہ (اپنے دنیوی معاملات میں) جھگڑرہے ہوں گے۔{۴۹} اور اس وقت یہ وصیت تک نہ کرسکیں گے ، نہ اپنے گھروں کو پلٹ سکیں گے۔[46]{۵۰} پھر ایک صُور پُھو نکاجائے گا اور یکایک یہ اپنے رَبّ کے حضور پیش ہونے کے لیے اپنی اپنی قبروں سے نکل پڑیں گے۔[47]{۵۱} گھبراکر کہیں گے :’’ ارے ، یہ کس نے ہمیں ہماری خواب گاہ سے اٹھا کھڑا کیا‘‘؟[48]یہ وہی چیز ہے جس کا رحمن نے وعدہ کیا تھا اور رسولوں ؑکی بات سچی تھی۔[49]{۵۲} ایک ہی زور کی آواز ہوگی اور سب کے سب ہمارے سامنے حاضر کردیے جائیں گے۔[50]{ ۵۳} آج کسی پرذرّہ برابر ظلم نہ کیا جائے گا اور تمہیں ویسا ہی بدلہ دیا جائے گا جیسے تم عمل کرتے رہے تھے۔{۵۴} (یقینا) آج جنتی لوگ مزے کرنے میں مشغول ہیں۔[51]{۵۵} وہ اور ان کی بیویاں گھنے سایوں میں ہیں مسندوں پر تکیے لگائے ہوئے۔ {۵۶} ہر قسم کی لذیذ چیزیں کھانے پینے کو ان کے لیے وہاں موجود ہیں ، جو کچھ وہ طلب کریں ان کے لیے حاضر ہے{۵۷} ربِّ رحیم کی طرف سے ان کو سلام کہا گیا ہے۔{۵۸} اور اے مُجرمو! آج تم چھٹ کر الگ ہوجا ؤ ۔[52]{۵۹} آدم کے بچّو ! کیا میں نے تم کو ہدایت نہ کی تھی کہ شیطان کی بندگی نہ کرو، وہ تمہارا کھلا دشمن ہے {۶۰} اور میری ہی بندگی کرو ، یہ سیدھا راستہ ہے؟[53]{۶۱} مگر اس کے باوجود اُس نے تم میں سے ایک گروہ کثیر کو گمراہ کردیا ۔ کیا تم عقل نہیں رکھتے تھے ؟ [54]{۶۲} یہ وہی جہنم ہے جس سے تم کو ڈرایا جاتا رہا تھا۔{۶۳} جو کفر تم دنیا میں کرتے رہے ہو اُس کی پاداش میں اب اس کا ایندھن بنو۔{ ۶۴} آج ہم اِن کے منھ بند کئے دیتے ہیں ، اِن کے ہاتھ ہم سے بولیں گے اور ان کے پا ؤں گواہی دیں گے کہ یہ دنیا میں کیا کمائی کرتے رہے ہیں۔[55]{۶۵} ہم چاہیں تو ان کی آنکھیں مُونددیں ، پھر یہ راستے کی طرف لپک کر دیکھیں ، کہاں سے انہیں راستہ سجھائی دے گا؟{۶۶} ہم چاہیں تو اِنہیں اِن کی جگہ ہی پر اس طرح مسخ کرکے رکھ[56] دیں کہ یہ نہ آگے چل سکیں نہ پیچھے پلٹ سکیں۔{۶۷} جس شخص کو ہم لمبی عمر دیتے ہیں اس کی ساخت کو ہم الٹ ہی دیتے ہیں ۔[57]کیا( یہ حالات دیکھ کر ) اِنہیں عقل نہیں آتی؟ {۶۸} ہم نے اِس ( نبی ؐ ) کو شعر نہیں سکھایا ہے اور نہ شاعری اس کو زیب ہی دیتی ہے۔[58] یہ تو ایک نصیحت ہے اور صاف پڑھی جانے والی کتاب {۶۹} تا کہ وہ ہر اس شخص کو خبردار کردے جو زندہ ہو[59] اور انکار کرنے والوں پر حجّت قائم ہوجائے۔{۷۰} کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے اپنے ہاتھوں کی بنائی ہوئی چیزوں [60]میں سے ان کے لیے مویشی پیدا کئے ہیں اور اب یہ ان کے مالک ہیں۔{۷۱} ہم نے اُنہیں اِس طرح ان کے بس میں کردیا ہے کہ اُن میں سے کسی پر یہ سوار ہوتے ہیں، کسی کا یہ گوشت کھاتے ہیں{ ۷۲} اور اُن کے اندر اِن کے لیے طرح طرح کے فوائد اور مشروبات ہیں۔ پھر کیا یہ شکر گزار نہیں ہوتے ؟[61]{۷۳} ( یہ سب کچھ ہوتے ہوئے) اِنہوں نے اللہ کے سوا دوسرے اِلٰہ بنالئے ہیں اور یہ اُمید رکھتے ہیں کہ ان کی مدد کی جائے گی۔{۷۴} وہ ان کی کوئی مدد نہیں کرسکتے، بلکہ یہ لوگ اُلٹے اُن کے لیے حاضر باش لشکر بنے ہوئے ہیں[62]{۷۵} اچھا ، جوباتیں یہ بنارہے ہیں وہ تمہیں رنجیدہ نہ کریں ، ان کی چھپی اور کھلی سب باتوں کو ہم جانتے ہیں۔[63]{۷۶} کیا [64]انسان دیکھتا نہیں ہے کہ ہم نے اسے نطفہ سے پیدا کیا اور پھر وہ صریح جھگڑالُو بن کر کھڑا ہوگیا؟ [65]{۷۷} اب وہ ہم پر مثالیں چسپاں کرتا ہے[66] اور اپنی پیدائش کو بُھول جاتا ہے ۔ [67]کہتا ہے ’’ کون اِن ہڈیوں کو زندہ کرے گا جب کہ یہ بوسیدہ ہوچکی ہوں ؟‘‘ {۷۸} اس سے کہو ، انہیں وہی زندہ کرے گا جس نے پہلے انہیں پیدا کیا تھا ، اور وہ تخلیق کا ہر کام جانتا ہے {۷۹} وہی جس نے تمہارے لئے ہرے بھرے درخت سے آگ پیدا کردی اور تم اس سے اپنے چُولہے روشن کرتے ہو۔ [68]{۸۰} کیا وہ جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اِس پر قادر نہیں ہے کہ ان جیسوں کو پیدا کرسکے ؟ کیوں نہیں ، جب کہ وہ ماہر خَلّاق ہے۔ {۸۱} وہ توجب کسی چیز کا ارادہ کرتا ہے تو اس کا کام بس یہ ہے کہ اسے حکم دے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتی ہے۔{ ۸۲} پاک ہے وہ جس کے ہاتھ میں ہر چیز کا مکمل اقتدار ہے ، اور اُسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو۔{ ۸۳}
سورۃ الصٰٓفّٰت   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 37 : 1-144 / 182 قطاردرقطار صف باندھنے والوں کی قسم {۱} پھراُن کی قسم جو ڈانٹنے پھٹکارنے والے ہیں{ ۲} پھر اُن کی قسم جو کلام نصیحت سنانے والے ہیں۔[1] {۳} تمہارا معبُودِ حقیقی بس ایک ہی ہے۔[2]{ ۴} وہ جو زمین اور آسمانوں کا اور تمام اُن چیزوں کا مالک ہے جو زمین و آسمان میں ہیں ، اور سارے مشرقوں [3]کا مالک۔ [4] {۵} ہم نے آسمانِ دُنیا [5]کو تاروں کی زینت سے آراستہ کیا ہے {۶} اور ہر شیطان سرکش سے اس کو محفوظ کردیا ہے۔[6]{۷} یہ شیاطین ملاء اعلیٰ کی باتیں نہیں سُن سکتے، ہر طرف سے مارے اور ہانکے جاتے ہیں {۸} اور ان کے لیے پیہم عذاب ہے۔{۹} تاہم اگر کوئی ان میں سے کچھ لے اُڑے تو ایک تیز شعلہ اس کا پیچھا کرتا ہے۔[7]{۱۰} اب اِن سے پوچھو ، ان کی پیدائش زیادہ مشکل ہے یا اُن چیزوں کو جو ہم نے پیدا کر رکھی ہیں ؟[8] اِن کو تو ہم نے لیس دار گارے سے پیدا کیا ہے۔[9]{۱۱} تم (اللہ کی قدرت کے کرشموں پر ) حیران ہو اور یہ اس کا مذاق اڑارہے ہیں۔{ ۱۲} سمجھایا جاتا ہے تو سمجھ کر نہیں دیتے۔{۱۳} کوئی نشانی دیکھتے ہیں تو اسے ٹھٹھوں میں اُڑاتے ہیں۔{ ۱۴} اور کہتے ہیں ’’یہ تو صریح جادُو ہے[10]{۱۵} بھلاکہیں ایسا ہوسکتا ہے کہ جب ہم مرچکے ہوں اور مٹی بن جائیں اور ہڈیوں کا پنجر رہ جائیں اُس وقت ہم پھر زندہ کرکے اٹھاکھڑے کئے جائیں؟ {۱۶} اور کیا ہمارے اگلے وقتوں کے آباؤ اجداد بھی اٹھائے جائیں گے ؟‘‘ {۱۷} اِن سے کہو ہاں ،اور تم (اللہ کے مقابلے میں ) بے بس ہو۔[11]{۱۸} ’’بس ایک ہی جھڑکی ہوگی اور یکایک یہ اپنی آنکھوں سے ( وہ سب کچھ جس کی خبردی جارہی ہے) دیکھ رہے ہوں گے۔[12]{۱۹} اس وقت یہ کہیں گے ’’ہائے ہماری کم بختی، یہ تو یوم الجزاء ہے ‘‘۔{۲۰} یہ وہی فیصلے کا دن ہے جسے تم جُھٹلایا کرتے تھے۔ [13] {۲۱} (حکم ہوگا )’’ گھیرلا ؤ سب ظالموں[14] اور ان کے ساتھیوں[15] اور اُن معبُودوں کو جن کی وہ بندگی کیا کرتے تھے [16]{۲۲} اللہ کو چھوڑ کر۔پھر ان سب کو جہنم کا راستہ دکھا ؤ۔{۲۳} اور ذرا اِنہیں ٹھہرا ؤ ، ان سے کچھ پُوچھنا ہے ۔{۲۴} کیا ہوگیا تمہیں ، ا ب کیوں ایک دُوسرے کی مدد نہیں کرتے ؟{۲۵} ’ ارے، آج تو یہ اپنے آپ کو (اور ایک دُوسرے کو ) حوالے کئے دے رہے ہیں ‘‘![17]{۲۶} اس کے بعد یہ ایک دُوسرے کی طرف مڑیں گے اور باہم تکرار شروع کردیں گے۔{۲۷} (پیروی کرنے والے اپنے پیشوا ؤں سے ) کہیں گے ، ’’تم ہمارے پاس سیدھے رُخ سے آتے تھے‘‘[18]{۲۸} وہ جواب دیں گے ، ’’نہیں، بلکہ تم خود ایمان لانے والے نہ تھے ۔{۲۹} ہمارا تم پر کوئی زور نہ تھا ، تم خود ہی سرکش لوگ تھے{۳۰} آخر کار ہم اپنے رَبّ کے اِس فرمان کے مستحق ہوگئے کہ ہم عذاب کا مزہ چکھنے والے ہیں۔ {۳۱} سو ہم نے تم کو بہکایا ، درحقیقت ہم خود بہکے ہوئے تھے ‘‘۔[19]{۳۲} اس طرح وہ سب اُس روز عذا ب میں مشترک ہوں گے۔ [20]{ ۳۳} ہم مجرموں کے ساتھ یہی کچھ کیا کرتے ہیں۔{ ۳۴} یہ وہ لوگ تھے کہ جب ان سے کہا جاتا ’’ اللہ کے سوا کوئی معبُودِ برحق نہیں ہے ‘‘ تو یہ گھمنڈ میں آجاتے تھے{۳۵} اور کہتے تھے ’’ کیا ہم ایک شاعرِ مجنون کی خاطر اپنے معبُودوں کو چھوڑدیں ؟ ‘‘ {۳۶} حالانکہ وہ حق لے کر آیا تھا اور اس نے رسُولوں کی تصدیق کی تھی۔[21]{۳۷} ( اب ان سے کہا جائے گا کہ ) تم لازماً درد ناک سزا کا مزہ چکھنے والے ہو۔{۳۸} اور تمہیں جو بدلہ بھی دیا جارہا ہے اُنہی اعمال کا دیا جارہا ہے جو تم کرتے رہے ہو۔{۳۹} مگر اللہ کے چیدہ بندے ( اِس انجام بدسے ) محفوظ ہوں گے ۔{۴۰} اُن کے لیے جانا بُوجھارزق ہے[22]{۴۱} ہر طرح کی لذیذ چیزیں[23] اور وہ عزت کے ساتھ رکھے جائیں گے{۴۲} نعمت بھری جنتوں میں {۴۳} تختوں پر آمنے سامنے بیٹھیں گے ۔[24]{۴۴} شراب کے چشموں سے [26]ساغر بھر بھر کران کے درمیان پھرائے جائیں گے ۔{۴۵} چمکتی ہوئی شراب ، جو پینے والوں کے لیے لذّت ہوگی۔{۴۶} نہ اُن کے جسم کو اُس سے کوئی ضرر ہوگا اور نہ ان کی عقل اس سے خراب ہوگی۔[27]{۴۷} اور ان کے پاس نگاہیں بچانے والی ،[28] خوبصورت آنکھوں والی عورتیں ہوں گی [29]{۴۸} ایسی نازک جیسے انڈے کے چھلکے کے نیچے چھپی ہوئی جِھلی۔ [30]{۴۹} پھر وہ ایک دوسرے کی طرف متوجہ ہو کر حالات پُوچھیں گے {۵۰} اُن میں سے ایک کہے گا، ’’دنیا میں میرا ایک ہم نشین تھا {۵۱} جو مجھ سے کہا کرتا تھا ، کیا تم بھی تصدیق کرنے والوں میں سے ہو؟[31]{۵۲} کیا واقعی جب ہم مرچکے ہوں گے اور مٹی ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجر بن کررہ جائیں گے تو ہمیں جزا وسزادی جائیگی؟{۵۳} وہ کہے گااب کیا آپ لوگ دیکھنا چاہتے ہیں(کہ وہ صاحب اب کہاں ہیں)؟‘‘{۵۴} یہ کہہ کر جو نہی وہ جُھکے گا تو جہنّم کی گہرائی میں اُس کو دیکھ لے گا {۵۵} اور اس سے خطاب کرکے کہے گا ’’ اللہ کی قسم ، تُو تو مجھے تباہ ہی کر دینے والا تھا۔ {۵۶} میرے رَبّ کا فضل شامل حال نہ ہوتا تو آج میں بھی اُن لوگوں میں سے ہوتا جو پکڑے ہوئے آئے ہیں۔ [32]{۵۷} اچھا تو کیا اب ہم مرنے والے نہیں ہیں ؟{۵۸} موت جو ہمیں آنی تھی وہ بس پہلے آچکی ؟ اب ہمیں کوئی عذاب نہیں ہونا ؟‘‘[33]{۵۹} یقینا یہی عظیم الشّان کامیابی ہے۔{۶۰} ایسی ہی کامیابی کے لیے عمل کرنے والوں کو عمل کرنا چاہیے۔ {۶۱} بولو ، یہ ضیافت اچھی ہے یا زَقّوم[34] کا درخت ؟ {۶۲} ہم نے اُس درخت کو ظالموں کے لیے فتنہ بنادیا ہے۔ [35]{۶۳} وہ ایک درخت ہے جو جہنّم کی تہہ سے نکلتا ہے۔{۶۴} اُس کے شگوفے ایسے ہیں جیسے شیطانوں کے سر۔[36]{۶۵} جہنّم کے لوگ اسے کھائیں گے اور اُسی سے پیٹ بھریں گے {۶۶} پھر اس پر پینے کے لیے ان کو کھولتا ہوا پانی ملے گا۔{۶۷} اور اس کے بعد ان کی واپسی اُسی آتش ِدوزخ کی طرف ہوگی۔[37]{۶۸} یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے باپ دادا کو گمراہ پایا {۶۹} اور اُنہی کے نقشِ قدم پر دوڑ چلے[38] {۷۰} حالاں کہ اُن سے پہلے بہت سے لوگ گمراہ ہوچکے تھے {۷۱} اور اُن میں ہم نے تنبیہہ کرنے والے رسُول بھیجے تھے۔{۷۲} اب دیکھ لوکہ اُن تنبیہ کئے جانے والوں کا کیا انجام ہوا۔ {۷۳} اِس بد انجامی سے بس اللہ کے وہی بندے بچے ہیں جنہیں اس نے اپنے لئے خالص کرلیا ہے۔ {۷۴} ہم کو [39] ( اِس سے پہلے ) نوحؑ نے پکارا تھا ،[40] تو دیکھو کہ ہم کیسے اچھے جواب دینے والے تھے۔{۷۵} ہم نے اُس کو اور اس کے گھروالوں کو کربِ عظیم سے بچالیا [41]{۷۶} اوراُسی کی نسل کو باقی رکھا [42]{۷۷} اور بعد کی نسلوں میں اُس کی تعریف وتوصیف چھوڑدی۔ {۷۸} سلام ہے نوحؑ پر تمام دنیا والوں میں۔[43] {۷۹} بے شک ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزادیا کرتے ہیں۔{۸۰} درحقیقت وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔ {۸۱} پھر دُوسرے گروہ کو ہم نے غرق کردیا۔{۸۲} اور نوحؑ ہی کے طریقے پر چلنے والا ابراہیم ؑ تھا۔{۸۳} جب وہ اپنے رَبّ کے حضور قلبِ سلیم لے کر آیا۔[44] {۸۴} جب اُس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا [45]’’ یہ کیا چیزیں ہیں جن کی تم عبادت کر رہے ہو ؟ {۸۵} کیا اللہ کو چھوڑ کر جُھوٹ گھڑے ہوئے معبُود چاہتے ہو؟{۸۶} آخر رَبّ العالمین کے بارے میں تمہارا کیا گمان ہے ؟‘‘[46]{۸۷} پھر[47] اُس نے تاروں پر ایک نگاہ ڈالی [48]{۸۸} اور کہا میری طبیعت خراب ہے[49]{۸۹} چنانچہ وہ لوگ اُسے چھوڑ کر چلے گئے ۔[50]{۹۰} اُن کے پیچھے وہ چپکے سے اُن کے معبُودوں کے مندر میں گھس گیا اور بولا ’’ آپ لوگ کھاتے کیوں نہیں ہیں ؟[51]{۹۱} کیا ہوگیا ، آپ لوگ بولتے بھی نہیں ؟‘‘ {۹۲} اسکے بعد وہ اُن پرپل پڑا اور سیدھے ہاتھ سے خوب ضربیں لگائیں۔ {۹۳} (واپس آکر ) وہ لوگ بھاگے بھاگے اُسکے پاس آئے۔[52]{ ۹۴} اُس نے کہا ’’ کیا تم اپنی ہی تراشی ہو ی چیزوں کو پُوجتے ہو ؟ {۹۵} حالاں کہ اللہ ہی نے تم کو بھی پیدا کیا ہے اور اُن چیزوں کو بھی جنہیں تم بناتے ہو۔‘‘{۹۶} اُنہوں نے آپس میں کہا کہ ’’ اس کے لیے ایک الا ؤ تیار کرو اور اسے دہکتی ہوئی آگ کے ڈھیر میں پھینک دو ‘‘۔{۹۷} انہوں نے اسکے خلاف ایک کارروائی کرنی چاہی تھی ، مگر ہم نے اُنہی کو نیچا دکھادیا ۔[53] {۹۸} ابرہیم ؑ نے کہا [54]’’ میں اپنے رَبّ کی طرف جاتا ہوں [55] وہی میری رہنمائی کرے گا{۹۹} اے پروردگار ! مجھے ایک بیٹا عطا کر جو صالحوں میں سے ہو‘‘ ۔[56]{۱۰۰} ( اِس دُعا کے جواب میں ) ہم نے اس کو ایک حلیم ( بُردبار) لڑکے کی بشار ت دی۔[57]{۱۰۱} وہ لڑکا جب اس کے ساتھ دوڑ دھوپ کرنے کی عمر کو پہنچ گیا تو ( ایک روز ) ابراہیم ؑ نے اُس سے کہا : ’’ بیٹا ! میں خواب میں دیکھتا ہوں کہ میں تجھے ذبح کررہا ہوں ،[58] اب توبتا ، تیرا کیا خیال ہے ؟‘‘ [59]اُس نے کہا ، ’’ ابّاجان ، جو کچھ آپ کو حکم دیا جارہا ہے[60] اسے کر ڈالئے ، آپ ان شاء اللہ مجھے صابروں میں سے پائیں گے ‘‘۔ {۱۰۲} آخر کو جب اُن دونوں نے سرِ تسلیم خم کردیا اور ابراہیم ؑنے بیٹے کو ماتھے کے بَل گرادیا [61]{۱۰۳} اور ہم نے ندا دی [62]کہ ’’اے ابراہیم ؑ!{۱۰۴} تو نے خواب سچ کردکھا یا [63] ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزادیتے ہیں[64]{۱۰۵} یقینا یہ ایک کُھلیآزمائش تھی‘‘۔[65]{۱۰۶} اور ہم نے ایک بڑی قربانی فدیے میں دیکر اُس بچّے کو چھڑالیا۔ [66]{۱۰۷} اور اُس کی تعریف و توصیف ہمیشہ کے لیے بعد کی نسلوں میں چھوڑدی۔ {۱۰۸ } سلام ہے ابراہیم ؑ پر۔ {۱۰۹} ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزادیتے ہیں۔{۱۱۰} یقینا وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔ {۱۱۱} اور ہم نے اُسے اسحاقؑ کی بشارت دی، ایک نبی صالحین میں سے{ ۱۱۲} اور اسے اور اسحاق ؑ کو برکت دی ۔[67] اب اُن دونوں کی ذرّیت میں سے کوئی مُحسن ہے اور کوئی اپنے نفس پر صریح ظلم کرنے والا ہے۔ [68]{ ۱۱۳} اور ہم نے موسیٰ ؑ و ہارونؑ پر احسان کیا {۱۱۴} اُن کو اور ان کی قوم کو کربِ عظیم سے نجات دی [69]{۱۱۵} اور اُنہیں نصرت بخشی جس کی وجہ سے وہی غالب رہے{۱۱۶} پھر اُن کو نہایت واضح کتاب عطا کی۔{۱۱۷} انہیں راہ ِراست دکھائی{۱۱۸} اور بعد کی نسلوں میں ان کا ذِکر خیر باقی رکھا{۱۱۹} سلام ہے موسیٰ ؑاور ہارون ؑ پر۔{۱۲۰} یقینا ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزادیتے ہیں {۱۲۱} درحقیقت وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھے۔{۱۲۲} اور الیاس ؑ بھی یقینا مُرسَلین میں سے تھا۔[70]{۱۲۳} یاد کرو جب اس نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ’’تم لوگ ڈرتے نہیں ہو ؟{۱۲۴} کیا تم بعل[71] کو پکارتے ہو اور احسن الخالقین کو چھوڑ دیتے ہو {۱۲۵} اُس اللہ کو جو تمہارا اور تمہارے اگلے پچھلے آباؤ اجداد کا رَبّ ہے ‘‘ ؟ {۱۲۶} مگر اُنہوں نے اُسے جھٹلادیا، سو اب یقینا وہ سزا کے لیے پیش کئے جانے والے ہیں۔{۱۲۷} بجزاُن اللہ کے بندوں کے جن کو خالص کرلیا گیا تھا[72] {۱۲۸} اور الیاس ؑ کا ذِکرخیر ہم نے بعد کی نسلوں میں باقی رکھا۔[73]{۱۲۹} سلام ہے الیاسؑ پر۔ [74]{۱۳۰} (ہاں ہاں)ہم نیکی کرنے والوں کو ایسی ہی جزادیتے ہیں۔{۱۳۱} واقعی وہ ہمارے مومن بندوں میں سے تھا۔{۱۳۲} اور لوط ؑ بھی انہی لوگوں میں سے تھا جو رسُول ؑ بناکر بھیجے گئے ہیں ۔{۱۳۳} یاد کرو جب ہم نے اس کو اور اس کے سب گھروالوں کو نجات دی{۱۳۴} سوائے ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔[75]{۱۳۵} پھر باقی سب کو تَہس نَہس کردیا۔{۱۳۶} آج تم بلا شبہ صبح کواُن کے اُجڑے دیار پر سے گزرتے ہو[76]{۱۳۷} اور رات کو بھی ، پھر بھی کیا تم کو عقل نہیں آتی؟{۱۳۸} اور یقینا یونسؑ بھی رسُولوں میں سے تھا۔[77]{۱۳۹} یادکرو جب وہ ایک بھری کشتی کی طرف بھاگ نکلا [78]{۱۴۰} پھر قرعہ اندازی میں شریک ہوا اور اس میں مات کھائی ۔{۱۴۱} آخر کار مچھلی نے اسے نگل لیا اور وہ ملامت زدہ تھا۔ [79]{۱۴۲} اب اگر وہ تسبیح کرنے والوں میں سے نہ ہوتا[80]{۱۴۳} تو روز ِقیامت تک اُسی مچھلی کے پیٹ میں رہتا۔[81] {۱۴۴}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)