سورۃسبا   -  34 : 24-54 / 54 (اے نبی ؐ!) اِن سے پُوچھو’’ کون تم کو آسمانوں اور زمین سے رزق دیتا ہے ‘‘؟ کہو :’’ اللہ ۔[42] اب لامحالہ ہم میں اور تم میں سے کوئی ایک ہی ہدایت پر ہے یا کھلی گُمراہی میں پڑا ہوا ہے ‘‘[43]{۲۴} اِن سے کہو: ’’جو قصُور ہم نے کیا ہو اس کی کوئی باز پرس تم سے نہ ہوگی اور جو کچھ تم کررہے ہو اس کی کوئی جواب طلبی ہم سے نہیں کی جائے گی ‘‘۔[44]{۲۵} کہو ،’’ ہمارا رَبّ ہم کو جمع کرے گا ،پھر ہمارے درمیان ٹھیک ٹھیک فیصلہ کردے گا۔ وہ ایسا زبردست حاکم ہے جو سب کچھ جانتا ہے‘‘۔[45]{۲۶} اِن سے کہو ، ’’ ذرا مجھے دکھا ؤتو سہی وہ کون ہستیاں ہیں جنہیں تم نے اس کے ساتھ شریک لگارکھا ہے ‘‘ ۔[46]ہر گز نہیں ، زبردست اور دانا تو بس وہ اللہ ہی ہے۔{۲۷} اور (اے نبی ؐ!) ہم نے تم کو تمام ہی انسانوں کے لیے بشیر ونذیر بناکر بھیجا ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں ۔[47]{۲۸} یہ لوگ تم سے کہتے ہیں کہ’’ وہ ( قیامت کا ) وعدہ کب پورا ہوگا اگر تم سچّے ہو؟ ‘‘[48]{۲۹} کہو :’’تمہارے لئے ایک ایسے دن کی میعاد مقرر ہے جس کے آنے میں نہ ایک گھڑی بھر کی تاخیر تم کرسکتے ہو اور نہ ایک گھڑی بھر پہلے اسے لاسکتے ہو‘‘۔[49]{۳۰} یہ کافر کہتے ہیں کہ ’’ ہم ہر گز اِس قرآن کو نہ مانیں گے اور نہ اِس سے پہلے آئی ہوئی کسی کتاب کو تسلیم کریں گے ‘‘ ۔[50] کاش تم دیکھو اِن کا حال اُس وقت جب یہ ظالم اپنے رَبّ کے حضور کھڑے ہوں گے۔ اُس وقت یہ ایک دُوسرے پر الزام دھریں گے۔ جو لوگ دنیا میں دبا کر رکھے گئے تھے وہ بڑے بننے والوں سے کہیں گے کہ ’’ اگر تم نہ ہوتے تو ہم مومن ہوتے‘‘ ۔[51]{۳۱} وہ بڑے بننے والے اِن دبے ہوئے لوگوں کو جواب دیں گے ’’ کیا ہم نے تمہیں اُس ہدایت سے روکا تھا جو تمہارے پاس آئی تھی؟ نہیں ، بلکہ تم خود مجرم تھے ‘‘ ۔[52]{۳۲} وہ دبے ہوئے لوگ اُن بڑے بننے والوں سے کہیں گے ،’’ نہیں، بلکہ شب وروزکی مکّاری تھی جب تم ہم سے کہتے تھے کہ ہم اللہ سے کفر کریں اور دُوسروں کو اس کا ہمسر ٹھہرائیں ۔‘‘[53] آخر کارجب یہ لوگ عذاب دیکھیں گے تو اپنے دلوں میں پچھتائیں گے اور ہم اِن منکرین کے گلوں میں طَوق ڈال دیں گے۔ کیا لوگوں کو اِس کے سوا اور کوئی بدلہ دیا جاسکتا ہے کہ جیسے اعمال اُن کے تھے ویسا ہی جزا وہ پائیں؟ {۳۳} کبھی ایسا نہیں ہوا کہ ہم نے کسی بستی میں ایک خبردار کرنے والا بھیجا ہو اور اُس بستی کے کھاتے پیتے لوگوں نے یہ نہ کہا ہو کہ ’’ جو پیغام تم لے کر آئے ہو اس کو ہم نہیں مانتے ‘‘[54]{۳۴} انہوں نے ہمیشہ یہی کہا کہ ’’ ہم تم سے زیادہ مال اور اولاد رکھتے ہیں اور ہم ہر گز سزاپانے والے نہیں ہیں ‘‘[55]{۳۵} اے نبی ؐ!ان سے کہو ’’ میرا رَبّ جسے چاہتا ہے ، کشادہ رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے نَپا تُلا عطا کرتا ہے ، مگر اکثر لوگ اس کی حقیقت نہیں جانتے۔ ‘‘[56]{۳۶} یہ تمہاری دولت اور تمہاری اولاد نہیں ہے جوتمہیں ہم سے قریب کرتی ہو۔ ہاں مگر جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے ۔ [57]یہی لوگ ہیں جن کے لیے اُن کے عمل کی دُوہری جزا ہے ۔اور وہ بلند وبالا عمارتوں میں اطمینان سے رہیں گے۔[58]{۳۷} رہے وہ لوگ جو ہماری آیات کو نیچادکھانے کے لیے دوڑ دھوپ کرتے ہیں تو وہ عذاب میں مبتلا ہوں گے۔{۳۸} اے نبی ؐ! ان سے کہو’’ میرا رَبّ اپنے بندوں میں سے جسے چاہتا ہے کُھلا رزق دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے، نَپا تُلادیتا ہے۔[59] جو کچھ تم خرچ کردیتے ہو اُس کی جگہ وہی تم کو اور دیتا ہے ، وہ سب رازقوں سے بہتر رازق ہے‘‘۔[60]{۳۹} اور جس دن وہ تمام انسانوں کو جمع کرے گا پھر فرشتوں سے پوچھے گا’’ کیا یہ لوگ تمہاری ہی عبادت کیا کرتے تھے‘‘؟[61] {۴۰} تو وہ جواب دیں گے کہ ’’ پاک ہے آپ کی ذات ، ہمارا تعلق تو آپ سے ہے نہ کہ اِن لوگوں سے ۔ [62]دراصل یہ ہماری نہیں بلکہ جِنّوں کی عبادت کرتے تھے ، ان میں سے اکثر اُنہی پر ایمان لائے ہوئے تھے۔‘‘ [63] {۴۱} (اُس وقت ہم کہیں گے کہ )’’ آج تم میں سے کوئی نہ کسی کو فائدہ پہنچا سکتا ہے نہ نقصان اور ظالموں سے ہم کہہ دیں گے کہ اب چکھو اس عذابِ جہنّم کا مزہ جسے تم جھٹلایا کرتے تھے‘‘۔ {۴۲} ان لوگوں کو جب ہماری صاف صاف آیات سُنائی جاتی ہیں تو یہ کہتے ہیں کہ ’’ یہ شخص تو بس یہ چاہتا ہے کہ تم کو ان معبُودوں سے برگشتہ کردے جن کی عبادت تمہارے باپ دادا کرتے آئے ہیں ۔ ‘‘ اور کہتے ہیں کہ ’’ یہ ( قرآن ) محض ایک جُھوٹ ہے گھڑا ہوا ۔‘‘ان کافروں کے سامنے جب حق آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ ’’ یہ تو صریح جادو ہے ‘‘۔ {۴۳} حالانکہ نہ ہم نے اِن لوگوں کو پہلے کوئی کتاب دی تھی کہ یہ اسے پڑھتے ہوں اور نہ تم سے پہلے ان کی طرف کوئی متنبہ کرنے والا بھیجا تھا ۔[64]{۴۴} اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ جُھٹلا چکے ہیں۔ جو کچھ ہم نے اُنہیں دیا تھا اِس کے عُشرِعَشیر کو بھی یہ نہیں پہنچے ہیں ، مگر جب اُنہوں نے میرے رسُولوں کو جھٹلایا تو دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی ۔[65]{۴۵} اے نبی ؐ!ان سے کہو کہ ’’ میں تمہیںبس ایک بات کی نصیحت کرتا ہوں ۔ اللہ کے لیے تم اکیلے اکیلے اور دو، دو مِل کر اپنا دماغ لڑا ؤ اور سوچو ، تمہارے صاحب میں آخر کون سی بات ہے جو جُنون کی ہو ؟[66] وہ تو ایک سخت عذاب کی آمد سے پہلے تم کو متنبہ کرنے والا ہے‘‘۔[67]{۴۶} اِن سے کہو ،’’ اگر میں نے تم سے کوئی اجر مانگا ہے تو وہ تم ہی کو مبارک رہے۔[68] میرا اجر تو اللہ کے ذمّہ ہے اور وہ ہر چیز پر گواہ ہے‘‘۔[69]{۴۷} اِن سے کہو ’’میرارَبّ ( مجھ پر ) حق کا اِلقاکرتا ہے [70]اور وہ تمام پوشیدہ حقیقتوں کا جاننے والا ہے۔‘‘{۴۸} کہو ’’ حق آگیا اور اب باطل کے لیے کچھ نہیں ہوسکتا{۴۹} ‘‘کہو ’’ اگر میں گمراہ ہوگیا ہوں تو میری گمراہی کا وبال مجھ پر ہے ، اور اگر میں ہدایت پر ہوں تو اُس وحی کی بناپر ہو ں جو میرا رَبّ میرے اوپر نازل کرتا ہے ، وہ سب کچھ سنتا ہے اور قریب ہی ہے‘‘[71]{۵۰} کاش تم دیکھو انہیں اُس و قت جب یہ لوگ گھبرائے پھر رہے ہوں گے اور کہیں بچ کر نہ جاسکیںگے ، بلکہ قریب ہی سے پکڑ لئے جائیں گے [72]{۵۱} اُس وقت یہ کہیں گے کہ ہم اُس پر ایمان لئے آئے۔ [73]حالاں کہ اب دُور نکلی ہوئی چیز کہاں ہاتھ آسکتی ہے[74]{۵۲} اس سے پہلے یہ کفر کرچکے تھے اور بلا تحقیق دُور دُور کی کوڑیاں لایا کرتے تھے[75]{ ۵۳} اُس وقت جس چیز کی یہ تمنّا کررہے ہوں گے۔ اس سے محروم کردیے جائیں گے جس طرح اِن کے پیش روہم مشرب محروم ہوچکے ہوں گے، یہ بڑے گمراہ کن شک میں پڑے ہوئے تھے۔[76]{۵۴}
سورۃفاطر   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 35 : 1-45 / 45تعریف اللہ ہی کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کا بنانے والا اور فرشتوں کو پیغام رساں مقرر کرنے والاہے، [1] (ایسے فرشتے) جن کے دو دو اور تین تین اور چار چار بازو ہیں۔[2] وہ اپنی مخلوق کی ساخت میں جیسا چاہتا ہے اضافہ کرتا ہے ۔[3] یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔{۱} اللہ جس رحمت کا دروازہ بھی لوگوں کے لیے کھول دے اسے کوئی روکنے والا نہیں اور جسے وہ بندکردے اسے اللہ کے بعد پھر کوئی دوسرا کھولنے والا نہیں،[4] وہ زبردست اور حکیم ہے۔[5]{ ۲} لوگو ! تم پر اللہ کے جو احسانات ہیں انہیں یادرکھو۔[6] کیا اللہ کے سوا کوئی اور خالق بھی ہے جو تمہیں آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہو؟ کوئی معبُود اُس کے سوانہیں ، آخر تم کہاں سے دھوکا کھارہے ہو؟[7]{۳} اب اگر ( اے نبی ؐ!) یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں[8] ( تو یہ کوئی نئی بات نہیں) ، تم سے پہلے بھی بہت سے رسُول جھٹلائے جاچکے ہیں اور سارے معاملات آخر کار اللہ ہی کی طرف رُجوع ہونے والے ہیں۔ [9]{۴} لوگو! اللہ کا وعدہ یقینا برحق ہے ،[10] لہٰذا دنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے[11] اور نہ وہ بڑا دھوکے باز تمہیں اللہ کے بارے میں دھوکہ دینے پائے۔[12]{۵} درحقیقت شیطان تمہارا دشمن ہے اس لیے تم بھی اسے اپنا دشمن ہی سمجھو۔ وہ تو اپنے پیرووں کو اپنی راہ پر اس لیے بُلارہا ہے کہ وہ دوزخیوں میں شامل ہوجائیں {۶} جو لوگ کفر کریں گے[13] اُن کے لیے سخت عذاب ہے اور جو ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے اُن کے لیے مغفرت اور بڑا اجر ہے۔[14]{۷} (بھلا [15]کچھ ٹھکانا ہے اُس شخص کی گمراہی کا ) جس کے لیے اُس کا بُرا عمل خوشنما بنادیا گیا ہو اور وہ اُسے اچھا سمجھ رہاہو ؟ [16]حقیقت یہ ہے کہ اللہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈال دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہ راست دکھادیتا ہے پس ( اے نبی ؐ!) خواہ مخواہ تمہاری جان ان لوگوں کی خاطر غم وافسوس میں نہ گھلے ۔[17]جو کچھ یہ کررہے ہیں اللہ اُس کو خوب جانتا ہے۔[18]{۸} وہ اللہ ہی تو ہے جو ہوا ؤں کو بھیجتا ہے ، پھر وہ بادل اُٹھاتی ہیں۔ پھر ہم اُسے ایک اُجاڑ علاقے کی طرف لے جاتے ہیں اور اُس کے ذریعہ سے اُسی زمین کو جِلا اُٹھاتے ہیں جو مری پڑی تھی۔ مرے ہوئے انسانوں کا جی اُٹھنا بھی اسی طرح ہوگا۔[19]{۹} جو کوئی عزّت چاہتا ہو اُسے معلوم ہونا چاہئے کہ عزّت ساری کی ساری اللہ کی ہے۔ [20]اُس کے ہاں جو چیز اوپر چڑھتی ہے وہ صرف پاکیزہ قول ہے، اور عملِ صالح اُس کو اُوپر چڑھاتا ہے۔[21] رہے وہ لوگ جو بے ہودہ چال بازیاں کرتے ہیں ،[22]اُن کے لیے سخت عذاب ہے اوراُن کا مکر خودہی غارت ہونے والا ہے۔{۱۰} اللہ [23]نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ، پھر نطفہ سے ،[24] پھر تمہارے جوڑے بنادیے ( یعنی مرد اور عورت )۔ کوئی عورت حاملہ نہیں ہوتی اور نہ بچّہ جنتی ہے مگر یہ سب کچھ اللہ کے علم میں ہوتا ہے ۔ کوئی عمر پانے والا عمر نہیں پاتا اور نہ کسی کی عمر میں کچھ کمی ہوتی ہے مگر یہ سب کچھ ایک کتاب میں لکھا ہوتا ہے۔ [25]اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے۔[26]{۱۱} اور پانی کے دونوں ذخیرے یکساں نہیں ہیں۔[27]ایک میٹھا اور پیاس بُجھانے والا ہے ، پینے میں خوشگوار ، اور دُوسرا سخت کھاری کہ حلق چھیل دے ۔ مگر دونوں سے تم تروتازہ گوشت حاصل کرتے ہو، [28]پہننے کے لیے زینت کا سامان نکالتے ہو ،[29] اور اسی پانی میں تم دیکھتے ہوکہ کشتیاں اُس کا سینہ چیرتی چلی جاری ہیں، تا کہ تم اللہ کا فضل تلاش کرو اور اُس کے شکرگزار بنو۔{ ۱۲} وہ دن کے اندر رات اور رات کے اندر دن کو پروتا ہوا لے آتا ہے۔ [30]چاند اور سُورج کو اس نے مسخر کررکھا ہے ۔[31] یہ سب کچھ ایک وقت مقرر تک چلا جارہا ہے ۔ وہی اللہ (جس کے یہ سارے کام ہیں) تمہارا رَبّ ہے۔ بادشاہی اُسی کی ہے۔ اُسے چھوڑ کر جن دُوسروں کو تم پکارتے ہو وہ ایک پر کاہ [32]کے مالک بھی نہیں ہیں۔{۱۳} انہیں پکارو تو وہ تمہاری دعائیں سُن نہیں سکتے اور سُن لیں تو ان کا تمہیں کوئی جواب نہیں دے سکتے ۔ [33]اور قیامت کے روز وہ تمہارے شرک کا انکار کردیں گے۔[34]حقیقت حال کی ایسی صحیح خبر تمہیں ایک خبردار کے سوا کوئی نہیں دے سکتا۔[35]{ ۱۴} لوگو! تم ہی اللہ کے محتاج ہو [36]اور اللہ تو غنی وحمید ہے[37] {۱۵} وہ چاہے تو تمہیں ہٹاکر کوئی نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے {۱۶} ایسا کرنا اللہکے لیے کچھ بھی دشوار نہیں۔[38]{۱۷} کوئی بوجھ اُٹھانے والا کسی دُوسرے کا بوجھ نہ اُٹھائے گا ۔[39] اور اگر کوئی لداہوا نفس اپنا بوجھ اُٹھانے کے لیے پُکارے گا تو اس کے بار کا ایک ادنیٰ حصّہ بھی بٹانیکے لیے کوئی نہ آئے گا چاہے وہ قریب ترین رشتہ دار ہی کیوں نہ ہو۔[40] ( اے نبی ؐ!) تم صرف اُنہی لوگوں کو متنبہ کرسکتے ہو جوبے دیکھے اپنے رَبّ سے ڈرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں۔[41] جو شخص بھی پاکیزگی اختیار کرتا ہے اپنی ہی بھلائی کے لیے کرتا ہے۔ اور پلٹنا سب کو اللہ ہی کی طرف ہے۔{۱۸} اندھا اور آنکھوں والا برابر نہیں ہے۔ {۱۹} نہ تاریکیاں اور روشنی یکساں ہیں۔{۲۰} نہ ٹھنڈی چھا ؤں اور دُھوپ کی تپش ایک جیسی ہے {۲۱} اور نہ زندے اور مُردے مساوی ہیں۔[42] اللہ جسے چاہتا ہے سنو اتا ہے، مگر ( اے نبی ؐ! ) تم ان لوگوں کو نہیں سُنا سکتے جو قبروں میں مدفون ہیں ۔[43] {۲۲} تم تو بس ایک خبردار کرنے والے ہو۔[44]{ ۲۳} ہم نے تم کو حق کے ساتھ بھیجا ہے بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بناکر ۔اور کوئی اُمّت ایسی نہیں گزری ہے جس میں کوئی متنبہ کرنے والا نہ آیا ہو۔[45]{ ۲۴} اب اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ بھی جھٹلاچکے ہیں۔ اُن کے پاس ان کے رسُول کُھلے دلائل [46]اور صحیفے اور روشن ہدایات دینے والی کتاب [47]لے کر آئے تھے۔{۲۵} پھر جن لوگوں نے نہ مانا اُن کو میں نے پکڑلیا اور دیکھ لو کہ میری سزاکیسی سخت تھی۔{۲۶} کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے اور پھر اس کے ذریعہ سے ہم طرح طرح کے پھل نکال لاتے ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔پہاڑوں میں بھی سفید، سُرخ اور گہری سیاہ دھاریاں پائی جاتی ہیں جن کے رنگ مختلف ہوتے ہیں۔{۲۷} اور اِسی طرح انسانوں اور جانوروں اور مویشیوں کے رنگ بھی مختلف ہیں۔[48] حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے بندوں میں سے صرف علم رکھنے والے لوگ ہی اُس سے ڈرتے ہیں۔[49] بے شک اللہ زبردست اور درگزر فرمانے والا ہے[50]{۲۸} جو لوگ کتاب اللہ کی تلاوت کرتے ہیں اور نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ ہم نے اُنہیں رزق دیا ہے اس میں سے کُھلے اور چُھپے خرچ کرتے ہیں ، یقینا وہ ایک ایسی تجارت کے متوقع ہیں جس میں ہرگز خسارہ نہ ہوگا۔{۲۹} ( اِس تجارت میں انہوں نے اپنا سب کچھ اس لیے کھپایا ہے) تا کہ اللہ اُن کے اجر پُورے کے پُورے اُن کو دے اور مزید اپنے فضل سے ان کو عطا فرمائے۔ [51]بے شک اللہ بخشنے والا اور قدر دان ہے۔[52]{۳۰} (اے نبی ؐ! ) جو کتاب ہم نے تمہاری طرف وحی کے ذریعہ سے بھیجی ہے وہی حق ہے ، تصدیق کرتی ہوئی آئی ہے اُن کتابوں کی جو اِس سے پہلے آئی تھیں۔[53] بیشک اللہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور ہر چیز پر نگاہ رکھنے والا ہے۔[54]{۳۱} پھر ہم نے اِس کتاب کا وارث بنادیا اُن لوگوں کو جنہیں ہم نے ( اِس وراثت کے لیے) اپنے بندوں میں سے چُن لیا۔[55] اب کوئی تو ان میں سے اپنے نفس پر ظلم کرنے والا ہے ، اور کوئی بیچ کی راس (میانہ رو)ہے، اور کوئی اللہ کے اِذن سے نیکیوں میں سبقت کرنے والا ہے ، یہی بہت بڑا فضل ہے۔ [56]{۳۲} ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن میں یہ لوگ داخل ہوں گے۔[57] وہاں انہیں سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کیا جائے گا ، وہاں ان کا لباس ریشم ہوگا{۳۳} اور وہ کہیں گے کہ ’’ شکر ہے اُس اللہ کا جس نے ہم سے غم دُور کردیا، [58]یقینا ہمارا رَبّ معاف کرنے والا اور قدر فرمانے والا ہے [59]{۳۴} جس نے ہمیں اپنے فضل سے ابدی قیام کی جگہ ٹھہرادیا ،[60]اب یہاں نہ ہمیں کوئی مشقت پیش آتی ہے اور نہ تکان لاحق ہوتی ہے ‘‘۔[61]{۳۵} اور جن لوگوں نے کفر کیا ہے [62]اُن کے لیے جہنّم کی آگ ہے ۔ نہ اُن کا قصہ پاک کردیا جائے گا کہ مرجائیں اور نہ اُن کے لیے جہنّم کے عذاب میں کوئی کمی کی جائے گی ۔ اس طرح ہم بدلہ دیتے ہیں ہر اُس شخص کو جو کفر کرنے والا ہو۔{۳۶} وہ وہاں چیخ چیخ کر کہیں گے کہ ’’ اے ہمارے رَبّ !ہمیں یہاں سے نکال لے تا کہ ہم نیک عمل کریں اُن اعمال سے مختلف جو پہلے کرتے رہے تھے۔ ‘‘( انہیں جو اب دیا جائے گا) ’’کیا ہم نے تم کو اِتنی عمر نہ دی تھی جس میں کوئی سبق لینا چاہتا تو سبق لے سکتا تھا؟ [63]اور تمہارے پاس متنبّہ کرنے و الا بھی آچکا تھا ۔ اب مزہ چکھو ۔ ظالموں کا یہاں کوئی مددگار نہیں ہے‘‘۔{۳۷} بے شک اللہ آسمانوں اور زمین کی ہر پوشیدہ چیز سے واقف ہے ، وہ توسینوں کے چُھپے ہوئے راز تک جانتا ہے{۳۸} وہی تو ہے جس نے تم کو زمین میں خلیفہ بنایا ہے۔[64] اب جو کوئی کفر کرتا ہے اس کے کفر کا وبال اُسی پر ہے ،[65] اور کافروں کو اُن کا کفر اِس کے سوا کوئی ترقی نہیں دیتا کہ ان کے رَبّ کا غضب اُن پر زیادہ سے زیادہ بھڑ کتا چلا جاتا ہے۔ کافروں کے لیے خسارے میں اضافے کے سوا کوئی ترقی نہیں{۳۹} ( اے نبی ؐ!) ان سے کہو ، ’’ کبھی تم نے دیکھا بھی ہے اپنے اُن شریکوں[66] کو جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہو ؟ مجھے بتا ؤ ، اُنہوں نے زمین میں کیا پیدا کیا ہے ؟ یا آسمانوں میں ان کی کیا شرکت ہے ؟ ‘‘ ( اگر یہ نہیں بتاسکتے تو ان سے پُوچھو ) کیا ہم نے انہیں کوئی تحریر لکھ کردی ہے جس کی بناپر یہ ( اپنے اِس شرک کے لیے ) کوئی صاف سند رکھتے ہوں ؟[67] نہیں، بلکہ یہ ظالم ایک دُوسرے کو محض فریب کے جھانسے دیے جارہے ہیں[68] {۴۰} حقیقت یہ ہے کہ اللہ ہی ہے جو آسمانوں اور زمین کو ٹل جانے سے روکے ہوئے ہے ، اور اگر وہ ٹل جائیں تو اللہ کے بعد کوئی دُوسرا اُنہیں تھامنے والا نہیں ہے [69]بے شک اللہ بڑا حلیم اور درگزر فرمانے والا ہے۔[70]{۴۱} یہ لوگ کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہا کرتے تھے کہ اگر کوئی خبردار کرنے والا ان کے ہاں آگیا ہوتا تو یہ دنیا کی ہر دُوسری قوم سے بڑھ کرراست روہوتے ۔ [71]مگر جب خبردار کرنے والا اِن کے ہاں آگیا تو اُس کی آمد نے ان کے اندر حق سے فرار کے سوا کسی چیز میں اضافہ نہ کیا۔{ ۴۲} یہ زمین میں اور زیادہ سرکشی کرنے لگے اور برُی برُی چالیں چلنے لگے ، حالاں کہ بُری چالیں اپنے چلنے والوں ہی کو لے بیٹھتی ہیں۔ اب کیا یہ لوگ اِس کا انتظار کررہے ہیں کہ پچھلی قوموں کے ساتھ اللہ کا جو طریقہ رہا ہے وہی ان کے ساتھ بھی برتا جائے ؟[72] یہی بات ہے تو تم اللہ کے طریقے میں ہرگز کوئی تبدیلی نہ پا ؤ گے اور تم کبھی نہ دیکھو گے کہ اللہ کی سُنّت کو اُس کے مقرر راستے سے کوئی طاقت پھیرسکتی ہے ۔{۴۳} کیا یہ لوگ زمین میں کبھی چلے پھرے نہیں ہیں کہ ِانہیں اُن لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے پہلے گزرچکے ہیں اور اِن سے بہت زیادہ طاقت ورتھے ؟ اللہ کو کوئی چیز عاجز کرنے والی نہیں ہے۔ نہ آسمانوں میں اور نہ زمین میں۔ وہ سب کچھ جانتا ہے اور ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔{ ۴۴} اگر کہیں وہ لوگوں کو اُن کے کئے کرتُوتوں پر پکڑتا تو زمین پر کسی متنفس کو جیتا نہ چھوڑتا ، مگر وہ انہیں ایک مقرر وقت تک کے لیے مُہلت دے رہا ہے، پھر جب ان کا وقت آن پُورا ہوگا تو اللہ اپنے بندوں کو دیکھ لے گا۔{۴۵}
سورۃ یٰسٓ   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 36 : 1-27 / 83 یسٰںٓ[1]{۱} قسم ہے قرآن ِحکیم کی{ ۲} کہ(اے نبی ؐ!) تم یقینا رسُولوں میں سے ہو۔ [2]{۳} سیدھے راستے پر ہو۔{۴} ( اور یہ قرآن ) غالب اور رحیم ہستی کا نازل کردہ ہے۔[3]{۵} تا کہ تم خبردار کرو ایک ایسی قوم کو جس کے باپ دادا خبردار نہ کئے گئے تھے اور اس وجہ سے وہ غفلت میں پڑے ہوئے ہیں۔[4]{۶} ان میں سے اکثر لوگ فیصلۂ عذاب کےمستحق ہوچکے ہیں ، اِسی لئے وہ ایمان نہیں لاتے۔ [5]{۷} ہم نے ان کی گردنوں میں طوق ڈال دیے ہیں جن سے وہ ٹھوڑیوں تک جکڑے گئے ہیں ، اس لیے وہ سراُٹھائے کھڑے ہیں۔[6]{۸} ہم نے ایک دیوار اُن کے آگے کھڑی کردی ہے اور ایک دیوار اُن کے پیچھے ۔ ہم نے انہیں ڈھانک دیا ہے ، انہیں اب کچھ نہیں سوجھتا۔[7]{۹} ان کے لیے یکساں ہے ، تم انہیں خبردار کرویا نہ کرو ، یہ نہ مانیں گے۔[8]{ ۱۰} تم تو اُسی شخص کو خبردار کرسکتے ہو جو نصیحت کی پیروی کرے اور بے دیکھے رَبِّ رحمن سے ڈرے۔ اُسے مغفرت اور اجر کریم کی بشارت دے دو۔{۱۱} ہم یقینا ایک روز مُردوں کو زندہ کرنے والے ہیں۔ جو کچھ افعال اُنہوں نے کئے ہیں وہ سب ہم لکھتے جارہے ہیں اور جو کچھ آثار انہو ں نے پیچھے چھوڑے ہیں وہ بھی ہم ثبت کررہے ہیں ۔[9] ہر چیز کو ہم نے ایک کھلی کتاب میں درج کررکھا ہے۔{ ۱۲} اِنہیں مثال کے طور پر اُس بستی والوں کا قصہ سنا ؤ جب کہ اس میں رسول ؑ آئے تھے۔[10]{ ۱۳} ہم نے ان کی طرف دو رسول بھیجے اور انہوں نے دونوں کو جھٹلادیا ۔ پھر ہم نے تیسرا مدد کے لیے بھیجا اور ان سب نے کہاکہ ’’ہم تمہاری طر ف رسول ؑکی حیثیت سے بھیجے گئے ہیں‘‘۔{ ۱۴} بستی والوں نے کہا ’’ تم کچھ نہیں ہو مگر ہم جیسے چند انسان ،[11] اور رحمن نے ہر گز کوئی چیز نازل نہیں کی ہے[12] تم محض جُھوٹ بولتے ہو‘‘{۱۵} رسُولوں ؑنے کہا ’’ ہمارا رَبّ جانتا ہے کہ ہم ضرور تمہاری طرف رسُول ؑ بناکر بھیجے گئے ہیں،{۱۶} اور ہم پر صاف صاف پیغام پہنچادینے کے سوا کوئی ذمّہ داری نہیں ہے‘‘۔[13]{۱۷} بستی والے کہنے لگے ’’ ہم تو تمہیں اپنے لئے فالِ بد سمجھتے ہیں ۔[14] اگر تم باز نہ آئے تو ہم تم کو سنگسار کردیں گے اور ہم سے تم بڑی درد ناک سزاپا ؤگے‘‘۔{۱۸} رسُولوں نے جواب دیا ’’ تمہاری فالِ بد تو تمہارے اپنے ساتھ لگی ہوئی ہے۔ [15]کیا یہ باتیں تم اس لیے کرتے ہو کہ تمہیں نصیحت کی گئی؟ اصل بات یہ ہے کہ تم حد سے گزرے ہوئے لوگ ہو‘‘۔[16]{۱۹} اتنے میں شہر کے دُور دراز گوشے سے ایک شخص دوڑ تا ہوا آیا اور بولا’’ اے میری قوم کے لوگو!رسُولوں ؑ کی پیروی اختیار کرلو۔{۲۰} پیروی کرو اُن لوگوں کی جو تم سے کوئی اجر نہیں چاہتے اور ٹھیک راستے پر ہیں۔[17]{۲۱} آخر کیوں نہ میں اس ہستی کی بندگی کروں جس نے مجھے پیدا کیا ہے اور جس کی طرف تم سب کو پلٹ کرجانا ہے ؟[18]{۲۲} کیا میں اسے چھوڑ کر دوسرے معبُود بنالوں ؟ حالاں کہ اگر رحمن مجھے کوئی نقصان پہنچانا چاہے تو نہ ان کی شفاعت میرے کسی کام آسکتی ہے اور نہ وہ مجھے چُھڑاہی سکتے ہیں۔[19]{۲۳} اگر میں ایسا کروں [20]تو میں صریح گمراہی میں مبتلا ہوجا ؤں گا {۲۴} میں تو تمہارے رَبّ پر ایمان لے آیا [21]تم بھی میری بات مان لو‘‘{۲۵} (آخر کار اُن لوگوں نے اسے قتل کردیااور) اُس شخص سے کہہ دیا گیا۔ ’’ داخل ہوجاجنت میں ‘‘ ۔[22] اُس نے کہا ’’کاش میری قوم کو یہ معلوم ہوتا{۲۶} کہ میرے رَبّ نے کس چیز کی بدولت میری مغفرت فرمادی اور مجھے باعزّت لوگوں میں داخل فرمایا۔‘‘[23]{۲۷}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)