سورۃ الاحزاب   -  33 : 31-73 / 73اور تم میں سے جو اللہ اور اس کے رسُول اکی اطاعت کرے گی اور نیک عمل کرے گی اس کو ہم دُوہرا اجر دیں گے[45] اور ہم نے اس کے لیے رزق کریم مہیّا کررکھا ہے۔{۳۱} نبی ؐکی بیویو!تم عام عورتوں کی طرح نہیں ہو۔[46] اگر تم اللہ سے ڈرنے والی ہوتو دبی زبان سے بات نہ کیا کرو کہ دل کی خرابی کا مبتلا کوئی شخص لالچ میں پڑجائے ، بلکہ صاف سیدھی بات کرو۔[47]{ ۳۲} اپنے گھروں میں ٹِک کر رہو[48] اور سابق دورِ جاہلیّت کی سی سَج دھج نہ دکھاتی پھرو۔ [49]نماز قائم کرو، زکوٰۃ دو اور اللہ اوراُس کے رسُول ا کی اطاعت کرو۔ اللہ تو یہ چاہتا ہے کہ تم اہلِ بیتِ نبی ؐسے گندگی کو دُور کرے اور تمہیں پُوری طرح پاک کردے۔[50] {۳۳} یادرکھو اللہ کی آیات اور حکمت کی اُن باتوں کو جو تمہارے گھروں میں سُنائی جاتی ہیں [51]بے شک اللہ لطیف[52] اور باخبر ہے۔{۳۴} با لیقین [53]جو مرد اور جو عورتیں مسلم ہیں ،[54] مومن ہیں ، [55]مطیعِ فرمان ہیں ،[56] راست بازہیں ، [57]صابرہیں، [58]اللہ کے آگے جھکنے والے ہیں ،[59] صدقہ دینے والے ہیں ،[60] روزے رکھنے والے ہیں ،[61] اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرنے والے ہیں ، [62]اور اللہ کو کثرت سے یاد کرنے والے ہیں ، [63]اللہ نے ان کے لیے مغفرت اور بڑا اجر مہیّا کررکھا ہے[64]{۳۵} کسی[65] مومن مرد اور کسی مومنہ عورت کو یہ حق نہیں ہے کہ جب اللہ اوراُس کا رسُول ؐ کسی معاملے کا فیصلہ کردے تو پھراُسے اپنے اُس معاملے میں خو د فیصلہ کرنے کا اختیار حاصل رہے۔ اور جو کوئی اللہ اور اُس کے رسُول اکی نافرمانی کرے تو وہ صریح گمراہی میں پڑگیا۔[66]{۳۶} اے [67]نبی ؐ ! یادکرو وہ موقع جب تم اُس شخص سے کہہ رہے تھے جس پر اللہ نے اور تم نے احسان کیا تھا [68]کہ ’’ اپنی بیوی کو نہ چھوڑ اور اللہ سے ڈر‘‘۔[69] اُس وقت تم اپنے دل میں وہ بات چھپائے ہوئے تھے جسے اللہ کھولنا چاہتا تھا ، تم لوگوں سے ڈر رہے تھے۔ حالاں کہ اللہ اس کا زیادہ حقدار ہے کہ تم اُس سے ڈرو[70] پھر جب زیدؓ اُس سے اپنی حاجت پُوری کرچکا [71]تو ہم نے اس ( مطلقہ خاتون ) کا تم سے نکاح کردیا[72] تا کہ مومنوں پر اپنے منھ بولے بیٹوں کی بیویوں کے معاملہ میں کوئی تنگی نہ رہے جبکہ وہ اُن سے اپنی حاجت پُوری کرچکے ہوں ۔[73] اور اللہ کا حکم تو عمل میں آنا ہی چاہیے تھا {۳۷} نبی ؐپر کسی ایسے کام میں کوئی رکاوٹ نہیں ہے جو اللہ نے اُس کے لیے مقرر کردیاہو۔[74] یہی اللہ کی سُنّت اُن سب انبیائؑ کے معاملے میں رہی ہے جو پہلے گزرچکے ہیں اور اللہ کا حکم ایک قطعی طے شدہ فیصلہ ہوتا ہے[75]{۳۸} ( یہ اللہ کی سُنّت ہے اُن لوگوں کے لیے ) جو اللہ کے پیغامات پہنچاتے ہیں اور اُسی سے ڈرتے ہیں اور ایک اللہ کے سوا کسی سے نہیں ڈرتے اور محاسبہ کے لیے بس اللہ ہی کافی ہے۔[76]{۳۹} (لوگو) محمد ؐ تمہارے مَردوں میں سے کسی کے باپ نہیں ہیں، مگر وہ اللہ کے رسول ؐاور خاتم النبیین ؐ ہیں، اور اللہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔[77] {۴۰} اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! اللہ کو کثرت سے یاد کرو{۴۱} اور صبح وشام اُس کی تسبیح کرتے رہو[78]{۴۲} وہی ہے جو تم پر رحمت فرماتا ہے اور اُس کے ملائکہ تمہارے لئے دعائے رحمت کرتے ہیں تا کہ وہ تمہیں تاریکیوں سے روشنی میں نکال لائے ، وہ مومنوں پر بہت مہربان ہے۔[79]{ ۴۳} جس روز وہ اس سے ملیں گے ، اُن کا استقبال سلام سے ہوگا[80] اور اُن کے لیے اللہ نے بڑا باعزت اجر فراہم کررکھا ہے۔{۴۴} اے نبی ؐ ! [81]ہم نے تمہیں بھیجا ہے گواہ بناکر ،[82] بشارت دینے والا اور ڈرانے والا بناکر،[83] {۴۵} اللہ کی اجازت سے اُس کی طرف دعوت دینے [84]والا بناکر اور روشن چراغ بناکر۔ {۴۶} بشارت دے دو اُن لوگوں کو جو ( تم پر ) ایمان لائے ہیں کہ اُن کے لیے اللہ کی طرف سے بڑا فضل ہے۔{۴۷} اور ہرگزنہ دبوکفّار ومنافقین سے، کوئی پرواہ نہ کرو اُن کی اذیّت رسانی کی اور بھروسہ کرلو اللہ پر ، اللہ ہی اِس کے لیے کافی ہے کہ آدمی اپنے معاملات اُس کے سپُرد کردے۔ {۴۸} اے لوگو جو ایمان لائے ہو! جب تم مومن عورتوں سے نکاح کرو اور پھر انہیں ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دے دو[85] تو تمہاری طرف سے اُن پر کوئی عدت لازم نہیں ہے جس کے پُورے ہونے کا تم مطالبہ کر سکو۔ لہٰذا انہیں کچھ مال دو اور بھلے طریقے سے رخصت کردو۔[86]{۴۹} اے نبی ؐ!ہم نے تمہار ے لئے حلال کردیں تمہاری وہ بیویاں جن کے مہرتم نے ادا کئے ہیں،[87] اور وہ عورتیں جو اللہ کی عطا کردہ لونڈیوں میں سے تمہاری ملکیت میں آئیں ، اور تمہاری وہ چچازاد اور پھوپھی زاد اور ماموں زاد اور خالہ زاد بہنیں جنہوں نے تمہارے ساتھ ہجرت کی ہے ، اور وہ مومن عورت جس نے اپنے آپ کو نبی ؐکے لیے ہبہ کیا ہو، اگر نبی ؐ اسے نکاح میں لینا چاہے۔ [88]یہ رعایت خالصۃً تمہارے لئے ہے ، دُوسرے مومنوں کے لیے نہیں ہے۔[89] ہم کو معلوم ہے کہ عام مومنوں پر ان کی بیویوں اور لونڈیوں کے بارے میں ہم نے کیا حدود عائد کئے ہیں ( تمہیں ان حدود سے ہم نے اِس لئے مستثنیٰ کیا ہے ) تا کہ تمہارے اوپر کوئی تنگی نہ رہے ، [90]اور اللہ غفور ورحیم ہے۔{۵۰} تم کو اختیار دیا جاتا ہے کہ اپنی بیویوں میں سے جس کو چاہو اپنے سے الگ رکھو ، جسے چاہو اپنے ساتھ رکھو اور جسے چاہو الگ رکھنے کے بعد اپنے پاس بُلالو۔ اِس معاملہ میں تم پر کوئی مضائقہ نہیں ہے۔ اس طرح زیادہ متوقع ہے کہ اُن کی آنکھیں ٹھنڈی رہیں گی اور وہ رنجیدہ نہ ہوں گی ، اور جو کچھ بھی تم ان کو دوگے اس پروہ سب راضی رہیں گی۔[91] اللہ جانتا ہے جو کچھ تم لوگوں کے دلوں میں ہے ، اور اللہ علیم وحلیم ہے۔[92]{۵۱} اِس کے بعد تمہارے لیے دوسری عورتیں حلال نہیں ہیں، اور نہ اِس کی اجازت ہے کہ اِن کی جگہ اور بیویاں لے آ ؤ، خواہ اُن کا حسن تمہیں کتنا ہی پسندہو ، [93]البتّہ لونڈیوں کی تمہیں اجازت ہے[94] اللہ ہر چیز پر نگراں ہے۔{ ۵۲} ا ے لوگو جو ایمان لائے ہو! نبی ؐ کے گھروں میں بلااجازت نہ چلے آیا کرو ۔[95] نہ کھانے کا وقت تاکتے رہو۔ ہاں اگر تمہیں کھانے پر بلایا جائے تو ضرور آ ؤ۔[96]مگر جب کھانا کھالو تو منتشر ہو جا ؤ۔ باتیں کرنے میں نہ لگے رہو۔ [97]تمہاری یہ حرکتیں نبی ؐ کو تکلیف دیتی ہیں، مگر وہ شرم کی وجہ سے کچھ نہیں کہتے۔ اور اللہ حق بات کہنے میں نہیں شرماتا ۔ نبی ؐ کی بیویوں سے اگر تمہیں کچھ مانگنا ہوتو پردے کے پیچھے سے مانگا کرو ، یہ تمہارے اور اُن کے دلوں کی پاکیزگی کے لیے زیادہ مناسب طریقہ ہے۔ [98]تمہارے لئے یہ ہرگز جائز نہیں کہ اللہ کے رسُول اکو تکلیف دو ، [99]اور نہ یہ جائز ہے کہ ان کے بعد ان کی بیویوں سے نکاح کرو،[100]یہ اللہ کے نزدیک بہت بڑاگناہ ہے۔[101]{۵۳} تم خواہ کوئی بات ظاہر کرو یاچھپا ؤ، اللہ کو ہر بات کا علم ہے۔{۵۴} ازواج نبی ؐکے لیے اِس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ ا ن کے باپ، ان کے بیٹے ، ان کے بھائی، ان کے بھتیجے،[102] ان کے بھانجے، ان کے میل جول کی عورتیں[103] اور ان کے مملوک[104] گھروں میں آئیں۔ ( اے عورتو!) تمہیں اللہ کی نافرمانی سے پرہیز کرنا چاہئے۔ اللہ ہر چیز پر نگاہ رکھتا ہے۔[105]{۵۵} اللہ اور اس کے ملائکہ نبی ؐپر درود بھیجتے ہیں، [106]اے لوگو جو ایمان لائے ہو ، تم بھی ان پردرود وسلام بھیجو۔[107] {۵۶} جولوگ اللہ اور اس کے رسُول ا کو اذیت دیتے ہیں ان پر دنیا اور آخرت میں اللہ نے لعنت فرمائی ہے اور اُن کے لیے رُسواکُن عذاب مہیّا کردیا ہے۔[108]{۵۷} اور جو لوگ مومن مردوں اور عورتوں کو بے قصُور اذیت دیتے ہیں انہوں نے ایک بڑے بہتان[109] اور صریح گناہ کا وبال اپنے سرلے لیا ہے۔{۵۸} اے نبی ؐ! اپنی بیویوں اور بیٹیوں اور اہلِ ایمان کی عورتوں سے کہہ دو کہ اپنے اُوپر ا پنی چادروں کے پلو لٹکالیا کریں۔[110] یہ زیادہ مناسب طریقہ ہے تا کہ وہ پہچان لی جائیں اور نہ ستائی جائیں۔[111] اللہ تعالیٰ غفور ورحیم ہے۔[112]{۵۹} اگر منافقین ، اور وہ لوگ جن کے دلوں میں خرابی ہے ،[113] اور وہ جو مدینہ میں ہیجان انگیز افواہیں پھیلانے والے ہیں،[114] اپنی حرکتوں سے باز نہ آ ئے تو ہم ان کے خلاف کارروائی کرنے کے لیے تمہیں اُٹھاکھڑا کریں گے، پھر وہ اِس شہر میں مشکل ہی سے تمہارے ساتھ رہ سکیں گے۔{۶۰} اُن پر ہر طرف سے لعنت کی بوچھاڑ ہوگی، جہاں کہیں پائے جائیں گے پکڑے جائیں گے اور بُری طرح مارے جائیں گے۔{۶۱} یہ اللہ کی سنّت ہے جو ایسے لوگوں کے معاملے میں پہلے سے چلی آرہی ہے ، اور تم اللہ کی سنّت میں کوئی تبدیلی نہ پا ؤ گے۔[115]{۶۲} لوگ تم سے پوچھتے ہیں کہ قیامت کی گھڑی کب آئے گی ۔کہو[116] اس کا علم تو اللہ ہی کو ہے ۔ تمہیں کیا خبر ، شاید کہ وہ قریب ہی آلگی ہو۔{۶۳} بہرحال یہ امریقینی ہے کہ اللہ نے کافروں پر لعنت کی ہے اور ان کے لیے بھڑکتی ہوئی آگ مہیّا کردی ہے{۶۴} جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، کوئی حامی ومددگارنہ پاسکیں گے۔{۶۵} جس روز ان کے چہرے آگ پر اُلٹ پُلٹ کئے جائیں گے اُس وقت وہ کہیں گے کہ ’’کاش ہم نے اللہ اور رسُول اکی اطاعت کی ہوتی۔‘‘{۶۶} اور کہیں گے’’ اے رَبّ ہمارے ! ہم نے اپنے سرداروں اور اپنے بڑوں کی اطاعت کی اور انہوں نے ہمیں راہ راست سے بے راہ کردیا {۶۷} اے رَبّ ان کو دوہرا عذاب دے اور ان پر سخت لعنت کر‘‘۔[117]{۶۸} اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! [118]اُن لوگوں کی طرح نہ بن جا ؤ جنہوں نے موسیٰ ؑ کو اذیتیں دی تھیں، پھر اللہ نے ان کی بنائی ہوئی باتوں سے اُس کی برأت فرمائی اور وہ اللہ کے نزدیک باعزّت تھا۔ [119]{۶۹} اے ایمان لانے والو! اللہ سے ڈرو اور ٹھیک بات کیا کرو۔{۷۰} اللہ تمہارے اعمال درست کردے گا اور تمہارے قصُوروں سے درگزر فرمائے گا۔ جو شخص اللہ اور اس کے رسُول اکی اطاعت کرے اُس نے بڑی کامیابی حاصل کی ۔ {۷۱} ہم نے اِس امانت کو آسمانوں اور زمین اور پہاڑوں کے سامنے پیش کیا تو وہ اُسے اٹھانے کے لیے تیار نہ ہوئے اور اس سے ڈرگئے ،مگر انسان نے اسے اُٹھالیا ، بے شک وہ بڑا ظالم اور جاہل ہے [120]{۷۲} (اس بار ِامانت کو اُٹھانے کا لازمی نتیجہ ہے ) تا کہ اللہ منافق مردوں اور عورتوں، اور مُشرک مردوں اور عورتوں کو سزادے اور مومن مردوں اور عورتوں کی توبہ قبول کرے ، اللہ درگزر فرمانے والا اور رحیم ہے{ ۷۳}
سورۃسبا   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 34 : 1-23 / 54حمد اُس اللہ کے لیے ہے جو آسمانوں اور زمین کی ہر چیز کا مالک ہے[1] اور آخرت میں بھی اُسی کے لیے حمد ہے۔ [2]وہ دانا اور باخبر ہے۔[3] {۱} جو کچھ زمین میں جاتا ہے اور جو کچھ اُس سے نکلتا ہے اور جو کچھ آسمان سے اُترتا ہے اور جو کچھ اُس میں چڑھتا ہے۔ ہر چیز کو وہ جانتا ہے ، وہ رحیم اور غفور ہے۔[4]{ ۲} منکرین کہتے ہیں کیا بات ہے کہ قیامت ہم پر نہیں آرہی ہے[5] ! کہو ، ’’ قسم ہے میرے عالم ِالغیب پروردگار کی ، وہ تم پر آکررہے گی۔[6] اُس سے ذرّہ برابر کوئی چیز نہ آسمانوں میں چھپی ہوئی ہے نہ زمین میں ۔ نہ ذرّے سے بڑی اور نہ اُس سے چھوٹی۔ سب کچھ ایک نمایاں دفتر میں درج ہے ‘‘۔[7]{۳} اور یہ قیامت اس لیے آئے گی کہ جزادے اللہ اُن لوگوں کو جو ایمان لائے ہیں اور نیک عمل کرتے رہے ہیں۔ اُن کے لیے مغفرت ہے اور رزقِ کریم۔ {۴} اور جن لوگوں نے ہماری آیات کو نیچادکھانے کے لیے زور لگایا ہے،ان کے لیے بدترین قسم کا دردناک عذاب ہے۔[8]{۵} اے نبی ؐ! علم رکھنے والے خوب جانتے ہیں کہ جو کچھ تمہارے رَبّ کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ سراسر حق ہے اوروہ رَبِّ عزیز وحمید کا راستہ دکھاتا ہے۔[9]{۶} منکرین، لوگوں سے کہتے ہیں ’’ہم بتائیں تمہیں ایسا شخص جو خبردیتا ہے کہ جب تمہارے جسم کا ذرّہ ذرّہ منتشر ہوچکا ہوگا، اس وقت تم نئے سرے سے پیدا کردیے جا ؤ گے ؟{۷} نہ معلوم یہ شخص اللہ کے نام سے جُھوٹ گھڑتا ہے یا اِسے جنون لاحق ہے۔ ‘‘[10]نہیں،بلکہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ عذاب میں مبتلا ہونے والے ہیں اور وہی بُری طرح بہکے ہوئے ہیں۔[11]{۸} کیا اِنہوں نے کبھی اُس آسمان و زمین کو نہیں دیکھا جو انہیں آگے اور پیچھے سے گھیرے ہوئے ہے ؟ ہم چاہیں تو انہیں زمین میں دھنسادیں ، یا آسمان کے کچھ ٹکڑے ان پر گرادیں ۔[12]درحقیقت اس میں ایک نشانی ہے ہر اُس بندے کے لیے جو اللہ کی طرف رُجوع کرنے والا ہو۔[13]{۹} ہم نے دا ؤد ؑ کو اپنے ہاں سے بڑا فضل عطا کیا تھا۔[14] (ہم نے حکم دیا کہ ) اے پہاڑو ! اس کے ساتھ ہم آہنگی کرو ( اور یہی حکم ہم نے ) پرندوں کو دیا۔[15] ہم نے لوہے کو اس کے لیے نرم کردیا۔{۱۰} اِس ہدایت کے ساتھ کہ زِر ہیں بنا اور ان کے حلقے ٹھیک اندازے پر رکھ۔ [16] (اے آل دا ؤ د) نیک عمل کرو ، جو کچھ تم کرتے ہو اُس کو میں دیکھ رہا ہوں۔{۱۱} اور سلیمان ؑ کے لیے ہم نے ہوا کو مُسخّر کردیا ، صبح کے وقت اُس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک اور شام کے وقت اس کا چلنا ایک مہینے کی راہ تک۔[17] ہم نے اُس کے لیے پگھلے ہوئے تانبے کا چشمہ بہادیا[18] اور ایسے جِن اُس کے تابع کردیے جو اپنے رَبّ کے حکم سے اُس کے آگے کام کرتے تھے۔[19] اُن میں سے جو ہمارے حکم سے سرتابی کرتا اس کو ہم بھڑکتی ہوئی آگ کا مزہ چکھاتے۔ {۱۲} وہ اُس کے لیے بناتے تھے جو کچھ وہ چاہتا، اُونچی عمارتیں ، تصویریں ،[20]بڑے بڑے حوض جیسے لگن اور اپنی جگہ سے نہ ہٹنے والی بھاری دیگیں ۔[21] اے آل ِدا ؤد ! عمل کر وشکر کے طریقے پر ، [22] میرے بندوں میں کم ہی شکر گزارہیں۔{۱۳} پھر جب سلیمانؑ پر ہم نے موت کا فیصلہ نافذ کیا تو جِنّوں کو اُس کی موت کا پتہ دینے والی کوئی چیز اُس گُھن کے سوا نہ تھی جو اُس کے عصَا کو کھا رہا تھا۔ اِس طرح جب سلیمان ؑ گرپڑا توجِنّوں پر یہ بات کھل گئی [23]کہ اگر وہ غیب کے جاننے والے ہوتے تو اِس ذلّت کے عذاب میں مبتلانہ رہتے۔[24]{۱۴} یقیناسبا[25] کے لیے اُن کے اپنے مسکن ہی میں ایک نشانی موجود تھی ،[26] دو باغ دائیں اور بائیں ،[27] کھا ؤ اپنے رَبّ کا رزق اور شکر بجالا ؤاُس کا ، ملک ہے عمدہ و پاکیزہ اور پروردگارہے بخشش فرمانے والا ۔{۱۵} مگروہ منھ موڑگئے۔[28] آخر کار ہم نے اُن پر بند توڑ سیلاب بھیج دیا[29] اور ان کے پچھلے دو باغوں کی جگہ دو اور باغ انہیں دیے جن میں کڑوے کسیلے پھل اور جھا ؤ کے درخت تھے اور کچھ تھوڑی سی بیریاں۔[30]{۱۶} یہ تھا ان کے کفر کا بدلہ جو ہم نے ان کو دیا ، اور ناشکرے انسان کے سوا ایسا بدلہ ہم اور کسی کو نہیں دیتے۔{۱۷} اور ہم نے اُن کے اور اُن بستیوں کے درمیان ، جن کو ہم نے برکت عطا کی تھی ، نمایاں بستیاں بسادی تھیں اور اُن میں سفر کی مسافتیں ایک اندازے پر رکھ دی تھیں۔[31]چلو پھر و اِن راستوں میں رات دِن پورے امن کے ساتھ۔{۱۸} مگر انہوں نے کہا ’’ اے ہمارے رَبّ !ہمارے سفر کی مسافتیں لمبی کردے۔‘‘ [32]انہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا۔ آخر کار ہم نے انہیں افسانہ بناکر رکھ دیا اور انہیں بالکل تِتّر بِّتر کر ڈالا۔[33] یقینا اس میں نشانیاں ہیں ہراُس شخص کے لیے جو بڑا صابر وشاکر ہو۔[34]{۱۹} اُن کے معاملے میں ابلیس نے اپنا گمان صحیح پایا اور انہوں نے اُسی کی پیروی کی ، بجز ایک تھوڑے سے گروہ کے جو مومن تھا۔[35]{۲۰} ابلیس کو اُن پر کوئی اقتدار حاصل نہ تھا، مگر جو کچھ ہوا وہ اس لیے ہوا کہ ہم یہ دیکھنا چاہتے تھے کہ کون آخرت کا ماننے والا ہے اور کون اس کی طرف سے شک میں پڑا ہوا ہے۔ [36]تیرارَبّ ہر چیز پر نگراں ہے۔[37]{۲۱} ( اے نبی[38] ؐ !اِن مشرکین سے ) کہو کہ ’’ پکار دیکھو اپنے اُن معبُودوں کو جنہیں تم اللہ کے سوا اپنا معبُود سمجھے بیٹھے ہو ۔[39]وہ نہ آسمانوں میں کسی ذرّہ برابر چیز کے مالک ہیں نہ زمین میں ۔وہ آسمان و زمین کی ملکیت میں شریک بھی نہیں ہیں۔ اُن میں سے کوئی اللہ کا مددگار بھی نہیں ہے۔{ ۲۲} اور اللہ کے حضور کوئی شفاعت بھی کسی کے لیے نافع نہیں ہوسکتی بجزاُس شخص کے جس کے لیے اللہ نے سفارش کی اجازت دی ہو،[40] حتیٰ کہ جب لوگوں کے دلوں سے گھبراہٹ دُور ہوگی تو وہ ( سفارش کرنے والوں سے ) پوچھیں گے کہ تمہارے رَبّ نے کیا جواب دیا ؟ وہ کہیں گے کہ ٹھیک جواب ملا ہے اور وہ بزرگ و برتر ہے‘‘ ۔[41]{۲۳}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)