سورۃ لقمٰن   -  31 : 22-34 / 34جو شخص اپنے آپ کو اللہ کے حوالہ کردے[40] اور عملاً وہ نیک ہو[41] ، اس نے فی الواقع ایک بھروسے کے قابل سہارا تھام لیا[42] ،اور سارے معاملات کا آخری فیصلہ اللہ ہی کے ہاتھ ہے۔{۲۲} اب جو کفر کرتا ہے اُس کا کفر تمہیں غم میں مبتلا نہ کرے ،[43] اُنہیں پلٹ کر آنا تو ہماری ہی طرف ہے ، پھر ہم انہیں بتادیں گے کہ وہ کیا کچھ کرکے آئے ہیں۔ یقینا اللہ سینوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔{۲۳} ہم تھوڑی مدّت انہیں دنیا میں مزے کرنے کا موقع دے رہے ہیں ، پھر ان کو بے بس کرکے ایک سخت عذاب کی طرف کھینچ لے جائیں گے۔{۲۴} اگر تم اِن سے پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے تو یہ ضرور کہیں گے کہ اللہ نے ۔ کہو اَلْحَمْدُ لِلّٰہِ ۔[44] مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔[45]{۲۵} آسمانوں اور زمین میں جوکچھ ہے اللہ کا ہے۔ [46]بے شک اللہ بے نیاز اور آپ سے آپ محمود ہے[47]{۲۶} زمین میں جتنے درخت ہیں اگر وہ سب کے سب قلم بن جائیں اور سمندر ( دوات بن جائے ) جسے سات مزید سمندر روشنائی مہیا کریں۔تب بھی اللہ کی باتیں ( لکھنے سے ) ختم نہ ہوں گی۔[48]بے شک اللہ زبردست اور حکیم ہے۔ {۲۷} تم سارے انسانوں کو پیدا کرنا اور پھر دوبارہ جِلااُٹھا نا تو ( اُس کے لیے ) بس ایسا ہے جیسے ایک متنفس کو (پیدا کرنا اور جلااُٹھانا )۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ سب کچھ سُننے اور دیکھنے والا ہے۔[49]{۲۸} کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ رات کو دن میں پروتا ہوا لے آتا ہے اور دن کو رات میں ؟ اس نے سُورج اور چاند کو مسخر کررکھا ہے ، [50]سب ایک وقتِ مقرر تک چلے جارہے ہیں، [51]اور ( کیا تم نہیں جانتے ) کہ جو کچھ بھی تم کرتے ہو اللہ اس سے باخبرہے ؟ {۲۹} یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے [52]اوراُسے چھوڑ کر جن دُوسری چیزوں کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ سب باطل ہیں ،[53] اور ( اِس وجہ سے کہ ) اللہ ہی بزرگ وبرتر ہے۔[54] {۳۰} کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ کشتی سمندر میں اللہ کے فضل سے چلتی ہے تا کہ وہ تمہیں اپنی کچھ نشانیاں دکھائے ؟ [55]درحقیقت اس میں بہت سی نشانیاں ہیں ہر اس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔[56]{۳۱} اور جب (سمندر میں ) ان لوگوں پر ایک موج سائبانوں کی طرح چھاجاتی ہے تو یہ اللہ کو پکارتے ہیں اپنے دین کو بالکل اُسی کے لیے خالص کرکے ۔ پھر جب وہ بچاکر انہیں خشکی تک پہنچادیتا ہے تو ان میں سے کوئی اقتصاد برتتا ہے[57] اور ہماری نشانیوں کا انکار نہیں کرتا مگر ہر وہ شخص جو غدّار اور ناشکراہے۔[58]{ ۳۲} لوگو! بچو اپنے رَبّ کے غضب سے اور ڈرو اُس دن سے جب کہ کوئی باپ اپنے بیٹے کی طرف سے بدلہ نہ دے گا اور نہ کوئی بیٹا ہی اپنے باپ کی طرف سے کچھ بدلہ دینے والا ہوگا۔ [59]فی الواقع اللہ کا وعدہ سچّاہے۔ [60]پس یہ دُنیا کی زندگی تمہیں دھوکے میں نہ ڈالے [61]اور نہ دھوکہ باز تم کو اللہ کے معاملے میں دھوکا دینے پائے ۔[62] {۳۳} اُس گھڑی کا علم اللہ ہی کے پاس ہے ، وہی بارش برساتا ہے ، وہی جانتا ہے کہ ما ؤں کے پیٹوں میں کیا پرورش پارہا ہے ، کوئی متنفس نہیں جانتا کہ کل وہ کیا کمائی کرنے والاہے ، اور نہ کسی شخص کو یہ خبر ہے کہ کِس سرزمین میں اس کو موت آنی ہے ، اللہ ہی سب کچھ جاننے والا اور باخبر ہے۔[63]{۳۴}
سورۃ السجدۃ   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 32 : 1-30 / 30الٓمّٓ۔{۱} اس کتاب کی تنزیل بلاشبہ ربُّ العالمین کی طرف سے ہے۔[1]{ ۲} کیا[2] یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے اِسے خود گھڑلیا ہے ؟ [3]نہیں، بلکہ یہ حق ہے تیرے رَبّ کی طرف سے [4]تا کہ تو متنبہ کرے ایک ایسی قوم کو جس کے پاس تجھ سے پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا ، شاید کہ وہ ہدایت پا جائیں ۔[5]{ ۳} وہ [6]اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو اوراُن ساری چیزوں کو جوان کے درمیان ہیں چھ(۶) دنوں میں پیدا کیا اور اس کے بعد عرش پر جلوہ فرماہوا،[7] اس کے سوانہ تمہارا کوئی حامی ومددگارہے اور نہ کوئی اُس کے آگے سفارش کرنے والا، پھر کیا تم ہوش میں نہ آ ؤ گے ؟[8]{۴} وہ آسمان سے زمین تک دنیا کے معاملات کی تدبیر کرتا ہے اور اس تدبیر کی روداداُوپر اُس کے حضور جاتی ہے ایک ایسے دن میں جس کی مقدار تمہارے شمار سے ایک ہزار سال ہے۔ [9]{۵} وہی ہے ہر پوشیدہ اور ظاہر کا جاننے والا ،[10] زبردست [11]اوررحیم ۔ [12]{۶} جو چیز بھی اُس نے بنائی خوب ہی بنائی۔[13] اُس نے انسان کی تخلیق کی ابتدا گار ے سے کی {۷} پھر اُس کی نسل ایک ایسے سَت سے چلائی جو حقیر پانی کی طرح کا ہے [14]{۸} پھر اُس کو نِک سُک سے درست کیا[15] اور اس کے اندر اپنی رُوح پُھونک دی ،[16] اور تم کو کان دیے ،[17] آنکھیں دیں اور دل دیے۔ تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو۔[18]{۹} اور [19]یہ لوگ کہتے ہیں:’’جب ہم مٹی میں رَل مِل چکے ہوں گے تو کیا ہم پھرنئے سرے سے پیدا کئے جائیں گے ‘‘؟ اصل بات یہ ہے کہ یہ اپنے رَبّ کی ملاقات کے منکر ہیں۔{۱۰} اِن[20] سے کہو ’’ موت کا وہ فرشتہ جو تم پر مقرر کیا گیا ہے تم کو پُورا کا پُورا اپنے قبضے میں لے لے گا اور پھر تم اپنے رَبّ کی طرف پلٹالائے جا ؤ گے۔ ‘‘[21] {۱۱} کاش [22]!تم دیکھو وہ وقت جب یہ مجرم سرجھکائے اپنے رَبّ کے حضور کھڑے ہوں گے۔ ( اُس وقت کہہ رہے ہوں گے )’’ ا ے ہمارے رَبّ ! ہم نے خوب دیکھ لیا اور سُن لیا ، اب ہمیں واپس بھیج دے تا کہ ہم نیک عمل کریں ، ہمیں اب یقین آگیا ہے ‘‘۔{۱۲} ( جواب میں ارشاد ہوگا)’’اگر ہم چاہتے تو پہلے ہی ہر نفس کو اس کی ہدایت دے دیتے ۔ [23]مگر میری وہ بات پُوری ہوگئی جو میں نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جِنوں اور انسانوں، سب سے بھردوں گا۔[24]{۱۳} پس اب چکھو مزہ اپنی اِس حرکت کا کہ تم نے اِس دن کی ملاقات کو فراموش کردیا ،[25] ہم نے بھی اب تمہیں فراموش کردیا ہے ۔ چکھو ہمیشگی کے عذاب کا مزہ اپنے کرتُوتوں کی پاداش میں ‘‘ ۔{۱۴} ہماری آیات پر تو وہ لوگ ایمان لاتے ہیں جنہیں یہ آیات سُناکر جب نصیحت کی جاتی ہے تو سجدے میں گر پڑتے ہیں اور اپنے رَبّ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرتے ہیں اور تکبّر نہیں کرتے[26]۔ {۱۵} اُن کی پیٹھیں بستروں سے الگ رہتی ہیں، اپنے رَبّ کو خوف اور طمع کے ساتھ پکارتے ہیں،[27] اور جو کچھ رزق ہم نے اُنہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔[28]{۱۶} پھر جیسا کچھ آنکھوں کی ٹھنڈک کا سامان اُن کے اعمال کی جزا میں اُن کے لیے چُھپار کھا گیا ہے اس کی کسی متنفس کو خبر نہیں ہے۔[29]{۱۷} بھلاکہیں یہ ہوسکتا ہے کہ جو شخص مومن ہو وہ اس شخص کی طرح ہوجائے جو فاسق ہو ؟[30] یہ دونوں برابر نہیں ہوسکتے۔[31] {۱۸} جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں اُن کے لیے تو جنتوں کی قیام گا ہیں ہیں ،[32] ضیافت کے طور پر اُن کے اعمال کے بدلے میں ۔{۱۹} اور جنہوں نے فسق ِاختیار کیا ہے ان کا ٹھکانا دوزخ ہے۔ جب کبھی وہ اس سے نکلنا چاہیں گے اُسی میں دھکیل دیئے جائیں گے اور ان سے کہا جائے گا کہ چکھو اب اُسی آگ کے عذاب کا مزہ جس کو تم جھٹلایا کرتے تھے۔{ ۲۰} اُس بڑے عذاب سے پہلے ہم اِسی دنیامیں ( کسی نہ کسی چھوٹے ) عذاب کا مزہ اِنہیں چکھاتے رہیں گے ، شاید کہ یہ ( اپنی باغیانہ روش سے )باز آجائیں۔ [33]{۲۱} اور اُس سے بڑا ظالم کون ہوگا جسے اس کے رَبّ کی آیات کے ذریعہ سے نصیحت کی جائے اور پھر وہ ان سے منھ پھیرلے ۔ [34]ایسے مجرموں سے تو ہم انتقام لے کر رہیں گے۔{ ۲۲} اس سے پہلے ہم موسیٰ ؑ کو کتاب دے چکے ہیں ، لہٰذااُسی چیز کے ملنے پر تمہیں کوئی شک نہ ہونا چاہئے ۔[35] اُس کتاب کوہم نے بنی اسرائیل کے لیے ہدایت بنایا تھا[36] {۲۳} اور جب انہوں نے صبر کیا اور ہماری آیات پر یقین لاتے رہے تو ان کے اندر ہم نے ایسے پیشوا پیدا کئے جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے۔[37]{ ۲۴} یقینا تیرا رَبّ ہی قیامت کے روز اُن باتوں کا فیصلہ کرے گا جن میں ( بنی اسرائیل ؑ) باہم اختلاف کرتے رہے ہیں۔[38]{۲۵} اور کیا اِن لوگوں کو ( ان تاریخی واقعات میں ) کوئی ہدایت نہیں ملی کہ ِان سے پہلے کتنی قوموںکو ہم ہلاک کرچکے ہیں جن کے رہنے کی جگہوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں ؟[39] اس میں بڑی نشانیاں ہیں ، کیا یہ سُنتے نہیں ہیں ؟ {۲۶} اور کیا اِن لوگوں نے یہ منظر کبھی نہیں دیکھا کہ ہم ایک بے آب وگیاہ زمین کی طرف پانی بہالاتے ہیں، اور پھر اُسی زمین سے وہ فصل اُگاتے ہیں جس سے اُن کے جانوروں کو بھی چارہ ملتا ہے اور یہ خود بھی کھاتے ہیں ؟ تو کیا اِنہیں کچھ نہیں سُوجھتا ؟[40]{۲۷} یہ لوگ کہتے ہیں کہ ’’ یہ فیصلہ کب ہوگا اگر تم سچّے ہو ؟‘‘[41] {۲۸} اِن سے کہو ’’ فیصلے کے دن ایمان لانا اُن لوگوں کے لیے کچھ بھی نافع نہ ہوگا جنہوں نے کفر کیا ہے اور پھر ان کو کوئی مہلت نہ ملے گی ‘‘۔[42]{۲۹} اچھا انہیں ان کے حال پر چھوڑدو اور انتظار کرو ، یہ بھی منتظر ہیں۔{۳۰}
سورۃ الاحزاب   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 33 : 1-30 / 73 اے[1] نبی ؐ!اللہ سے ڈرو اور کفّارو منافقین کی اطاعت نہ کرو ، حقیقت میں علیم اور حکیم تو اللہ ہی ہے ۔ [2]{۱} پیروی کرو اس بات کی جس کا اشارہ تمہارے رَبّ کی طرف سے تمہیں کیا جارہا ہے، اللہ ہر اس بات سے باخبر ہے جو تم لوگ کرتے ہو۔[3]{ ۲} اللہ پر توکل کرو ، اللہ ہی وکیل ہونے کے لیے کافی ہے۔[4] { ۳} اللہ نے کسی شخص کے دھڑ میں دو دل نہیں رکھے،[5] نہ اس نے تم لوگوں کی اُن بیویوں کو جن سے تم ظِہار کرتے ہو تمہاری ماں بنادیا ہے،[6] اور نہ اس نے تمہارے منھ بولے بیٹوں کو تمہارا حقیقی بیٹا بنایا ہے۔[7] یہ تو وہ باتیں ہیں جو تم لوگ اپنے منھ سے نکال دیتے ہو ، مگر اللہ وہ بات کہتا ہے جو مبنی برحق ہے ، اور وہی صحیح طریقے کی طرف رہنمائی کرتا ہے ۔{ ۴} منھ بولے بیٹوں کو اُن کے باپوں کی نسبت سے پکارو، یہ اللہ کے نزدیک زیادہ منصفانہ بات ہے،[8] اور اگر تمہیں معلوم نہ ہو کہ ان کے باپ کون ہیں تو وہ تمہارے دینی بھائی اور رفیق ہیں۔[9] نادانستہ جو بات تم کہو اس کے لیے تم پر کوئی گرفت نہیں ہے ، لیکن اُس بات پر ضرور گرفت ہے جس کا تم دل سے ارادہ کرو۔[10] اللہ درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔ [11]{۵} بلاشبہ نبی ؐ تو اہلِ ایمان کے لیے اُن کی اپنی ذات پر مقّدم ہے ،[12] اور نبی ؐکی بیویاں ان کی مائیں ہیں۔[13] مگر کتاب اللہ کی روسے عام مومنین ومہاجرین کی بہ نسبت رشتہ دار ایک دُوسرے کے زیادہ حقدار ہیں ، البتہ اپنے رفیقوں کے ساتھ تم کوئی بھلائی ( کرنا چاہو تو ) کرسکتے ہو ۔[14] یہ حکم کتاب ِالٰہی میں لکھا ہوا ہے۔{۶} اور ( اے نبی ؐ !) یاد رکھو اُس عہد و پیمان کو جو ہم نے سب پیغمبرں سے لیا ہے ، تم سے بھی اور نوح ؑ اور ابراہیمؑ اور موسیٰ ؑ اور عیسیٰ ؑ ابن مریم سے بھی ۔ سب سے ہم پختہ عہد لے چکے ہیں۔[15]{۷} تا کہ سچّے لوگوں سے ( ان کا رَبّ ) ان کی سچّائی کے بارے میں سوال کرے ،[16] اور کافروں کے لیے تو اس نے درد ناک عذاب مہیّا کرہی رکھا ہے۔[17]{۸} اے لوگو[18] جو ایمان لائے ہو ! یاد کرو اللہ کے احسان کو جو ( ابھی ابھی ) اُس نے تم پر کیا ہے ۔ جب لشکر تم پر چڑھ آئے تو ہم نے اُن پر ایک سخت آندھی بھیج دی اور ایسی فوجیں روانہ کیں جو تم کو نظر نہ آتی تھیں۔[19] اللہ وہ سب کچھ دیکھ رہا تھا جو تم لوگ اُس وقت کررہے تھے۔{۹} جب دشمن اُوپر سے اورنیچے سے تم پر چڑھ آئے ،[20] جب خوف کے مارے آنکھیں پتھراگئیں ، کلیجے منھ کو آگئے ، اور تم لوگ اللہ کے بارے میں طرح طرح کے گمان کرنے لگے{۱۰} اُس وقت ایمان لانے والے خوب آزمائے گئے اور بُری طرح ہِلا مارے گئے۔ [21]{۱۱} یاد کرو وہ وقت جب منافقین اور وہ سب لوگ جن کے دلوں میں روگ تھا صاف صاف کہہ رہے تھے کہ اللہ اور اُس کے رسول ؐنے جو وعدے ہم سے کئے تھے [22]وہ فریب کے سوا کچھ نہ تھے۔{ ۱۲} جب اُن میں سے ایک گروہ نے کہا کہ ’’ اے یثرب کے لوگو ! تمہارے لئے اب ٹھہرنے کا کوئی موقع نہیں ہے ، پلٹ چلو ۔‘‘ جب ان کا ایک فریق یہ کہہ کرنبی ؐ سے رخصت طلب کررہا تھا کہ’’ ہمارے گھر خطرے میں ہیں ‘‘[24]، حالاں کہ وہ خطرے میں نہ تھے ،[25] دراصل وہ (محاذِ جنگ سے ) بھاگنا چاہتے تھے۔{ ۱۳} اگر شہر کے اطراف سے دشمن گُھس آئے ہوتے اور اُس وقت انہیں فتنے کی طرف دعوت دی جاتی [26]تو یہ اُس میں جاپڑتے اور مشکل ہی سے اِنہیں شریک فتنہ ہونے میں کوئی تامّل ہوتا۔{۱۴} اِن لوگوں نے اس سے پہلے اللہ سے عہد کیا تھا کہ یہ پیٹھ نہ پھیریں گے ، اور اللہ سے کئے ہوئے عہد کی باز پرس تو ہونی ہی تھی۔[27]{۱۵} اے نبی ؐ! ان سے کہو ، اگر تم موت یا قتل سے بھاگو تو یہ بھاگنا تمہارے لئے کچھ بھی نفع بخش نہ ہوگا۔ اس کے بعد زندگی کے مزے لُوٹنے کا تھوڑاہی موقع تمہیں مل سکے گا۔[28]{۱۶} ان سے کہو ، کون ہے جو تمہیں اللہ سے بچا سکتا ہو ، اگر وہ تمہیں نقصان پہنچانا چاہے ؟ اور کون اس کی رحمت کو روک سکتا ہے اگر وہ تم پر مہربانی کرنا چاہے؟اللہ کے مقابلے میں تویہ لوگ کوئی حامی ومددگار نہیں پاسکتے ہیں۔{۱۷} اللہ تم میں سے اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو (جنگ کے کام میں ) رکاوٹیں ڈالنے والے ہیں ، جو اپنے بھائیوں سے کہتے ہیں کہ’’ آ ؤ ہماری طرف۔‘‘ [29]جو لڑائی میں حصہ لیتے بھی ہیں تو بس نام گنانے کو{۱۸} جو تمہارا ساتھ دینے میں سخت بخیل ہیں ۔[30] خطرے کاوقت آجائے تو اس طرح دِیدے پھرا پھراکر تمہاری طرف دیکھتے ہیں جیسے کسی مرنے والے پر غشی طاری ہورہی ہو ، مگر جب خطرہ گزرجاتا ہے تو یہی لوگ فائدوں کے حریص بن کر قینچی کی طرح چلتی ہوئی زبانیں لئے تمہارے استقبال کو آجاتے ہیں۔[31] یہ لوگ ہر گز ایمان نہیں لائے ، اسی لئے اللہ نے ان کے سارے اعمال ضائع کردیے۔ [32]اور ایسا کرنا اللہ کے لیے بہت آسان ہے۔ [33]{۱۹} یہ سمجھ رہے ہیں کہ حملہ آور گروہ ابھی گئے نہیں ہیں۔ اور اگر وہ پھر حملہ آور ہوجائیں تو ان کاجی چاہتا ہے کہ اُس موقع پر کہیں صحرا میں بدّووں کے درمیان جابیٹھیں اور وہیں سے تمہارے حالات پوچھتے رہیں۔ تاہم اگر یہ تمہارے درمیان رہے بھی تو لڑائی میں کم ہی حصہ لیں گے۔{۲۰} درحقیقت تم لوگوں کے لیے اللہ کے رسُول امیں ایک بہترین نمونہ تھا،[34] ہراُس شخص کے لیے جو اللہ اور یومِ آخر کا اُمیدوار ہو اور کثرت سے اللہ کو یاد کرے ۔[35]{۲۱} اور سچّے مومنوں( کا حال اُس وقت یہ تھا کہ[36]) جب انہوں نے حملہ آور لشکر وں کو دیکھاتو پکاراٹھے کہ ’’ یہ وہی چیز ہے جس کا اللہ اور اس کے رسُول انے ہم سے وعدہ کیا تھا ، اللہ اور اس کے رسُول ؐ کی بات بالکل سچّی تھی۔ ‘‘[37]اِس واقعہ نے اُن کے ایمان اور ان کی سپُردگی کو اور زیادہ بڑھا دیا۔[38]{ ۲۲} ایمان لانے والوں میں ایسے لوگ موجودہیں جنہوں نے اللہ سے کئے ہوئے عہد کو سچا کردکھایا ہے۔ ان میں سے کوئی اپنی نذر پوری کر چکا اور کوئی وقت آنے کا منتظر ہے ۔[39] انہوں نے اپنے رویّے میں کوئی تبدیلی نہیں کی۔{۲۳} ( یہ سب کچھ اس لیے ہوا ) تا کہ اللہ سچّوں کو ان کی سچّائی کی جزادے اور منافقوں کو چاہے تو سزادے اور چاہے تو اُن کی توبہ قبول کرلے ، بے شک اللہ غفور ورحیم ہے{۲۴} اللہ نے کفّار کا منھ پھیردیا۔ وہ کوئی فائدہ حاصل کئے بغیر اپنے دل کی جلن لئے یُونہی پلٹ گئے ، اور مومنین کی طرف سے اللہ ہی لڑنے کے لیے کافی ہوگیا، اللہ بڑی قوّت والا اور زبردست ہے۔{۲۵} پھر اہلِ کتاب میں سے جن لوگوں نے اِن حملہ آوروں کا ساتھ دیاتھا ۔[40] اللہ اُن کی گڑھیوں سے انہیں اُتار لایا اور اُن کے دلوں میں اُس نے ایسا رعب ڈال دیا کہ آج ان میں سے ایک گروہ کو تم قتل کررہے ہو اور دوسرے گروہ کو قید کررہے ہو۔ {۲۶} اس نے تم کو ان کی زمین اور ان کے گھروں اور ان کے اموال کا وارث بنادیا اور وہ علاقہ تمہیں دیا جسے تم نے کبھی پامال نہ کیا تھا۔ اللہ ہر چیز پر قادر ہے۔{۲۷} اے[41] نبی ؐ !اپنی بیویوں سے کہو ،اگر تم دنیا اور اس کی زینت چاہتی ہو تو آ ؤ ، میں تمہیں کچھ دے دلاکر بھلے طریقے سے رخصت کردوں۔ {۲۸} اور اگر تم اللہ اور اس کے رسُول ؐ اور دار آخرت کی طالب ہوتو جان لو کہ تم میں سے جو نیکو کارہیں اللہ نے ان کے لیے بڑا اجر مہیّا کررکھا ہے۔[42]{۲۹} نبی ؐکی بیویو!تم میں سے جو کسی صریح فحش حرکت کا ارتکاب کرے گی اسے دُوہرا عذاب دیا جائے گا ،[43] اللہ کے لیے یہ بہت آسان کام ہے۔ [44]{۳۰}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)