سورۃاٰل عمران   -  3 : 93-170 / 200کھانے کی یہ ساری چیزیں ( جو شریعت ِمحمدی میں حلال ہیں) بنی اسرائیل کے لیے بھی حلال تھیں،[76] البتہ بعض چیزیں ایسی تھیں جنہیں تو راۃ کے نازل کئے جانے سے پہلے اسرائیل[77] (حضرت یعقوب ؑ) نے خود اپنے اُوپر حرام کرلیا تھا۔ ان سے کہو ، اگر تم ( اپنے اعتراض میں )سچے ہو تو لا ؤ توراۃ اور پیش کرو اس کی کوئی عبارت۔ { ۹۳} اس کے بعد بھی جو لوگ اپنی جھوٹی گھڑی ہوئی باتیں اللہ کی طرف منسوب کرتے رہیں وہی درحقیقت ظالم ہیں ۔{ ۹۴} کہو ، اللہ نے جو کچھ فرمایا ہے سچ فرمایا ہے ، تم کو یکسو ہو کر ابراہیم ؑ کے طریقہ کی پیروی کرنی چاہیے اور ابراہیم ؑ شرک کرنے والوں میں سے نہ [78]تھا ۔{۹۵} بے شک سب سے پہلی عبادت گاہ جو انسانوں کے لیے تعمیر ہوئی وہ وہی ہے جو مکہ میں واقع ہے ۔ اس کو خیروبرکت دی گئی تھی اور تمام جہان والوں کے لیے مرکز ہدایت بنایا گیا تھا[79]{۹۶} اس میں کھلی ہوئی نشانیاں ہیں،[80] ابراہیم ؑ کا مقامِ عبادت ہے ، اور اس کا حال یہ ہے کہ جو اس میں داخل ہوا مامون ہوگیا ۔ [81] لوگوں پر اللہ کا یہ حق ہے کہ جو اس گھر تک پہنچنے کی استطاعت رکھتا ہو وہ اس کا حج کرے ، اور جو کوئی اس حکم کی پیروی سے انکار کرے تو اسے معلوم ہوجانا چاہیے کہ اللہ تمام دنیا والوں سے بے نیاز ہے۔{۹۷} کہو ، اے اہلِ کتاب !تم کیوں اللہ کی باتیں ماننے سے انکار کرتے ہو؟ جو حرکتیں تم کررہے ہو اللہ سب کچھ دیکھ رہا ہے ۔{۹۸} کہو :اے اہلِ کتاب ، یہ تمہاری کیا روش ہے کہ جو اللہ کی بات مانتا ہے اسے بھی تم اللہ کے راستہ سے روکتے ہو اور چاہتے ہو کہ وہ ٹیڑھی راہ چلے ، حالانکہ تم خود ( اس کے راہ راست ہونے پر ) گواہ ہو ۔ تمہاری حرکتوں سے اللہ غافل نہیں ہے {۹۹} اے لوگو جو ایمان لائے ہو !، اگر تم نے ان اہل ِکتاب میں سے ایک گروہ کی بات مانی تو یہ تمہیں ایمان سے پھر کفر کی طرف پھیرلے جائیں گے۔{ ۱۰۰} تمہارے لئے کفر کی طرف جانے کا اب کیا موقع باقی ہے جب کہ تم کو اللہ کی آیات سُنائی جارہی ہیں اور تمہارے درمیان اُس کا رسُول ؐ موجود ہے ؟ جو اللہ کا دامن مضبوطی کے ساتھ تھامے گا وہ ضرور راہ ِراست پالے گا ۔{۱۰۱} اے لوگو جو ایمان لائے ہو!اللہ سے ڈروجیسا کہ اس سے ڈرنے کا حق ہے۔ تم کو موت نہ آئے مگر اس حال میں کہ تم مسلم[82] ہو۔{ ۱۰۲} سب مل کر اللہ کی رسّی[83] کو مضبُوط پکڑ لو اور تفرقہ میں نہ پڑو ۔ اللہ کے اُس احسان کو یاد رکھو جو اس نے تم پر کیا ہے ۔ تم ایک دُوسرے کے دشمن تھے، اُس نے تمہارے دل جوڑدیے اور اُس کے فضل وکرم سے تم بھائی بھائی بن گئے ۔ تم آگ سے بھرے ہوئے ایک گڑھے کے کنارے کھڑے تھے ، اللہ نے تم کو اس سے بچا لیا[84]۔ اس طرح اللہ اپنی نشانیاں تمہارے سامنے روشن کرتا ہے شاید کہ ان علامتوں سے تمہیں اپنی فلاح کا سیدھا راستہ نظر آجائے۔[85]{ ۱۰۳} تم میں کچھ لوگ تو ایسے ضرورہی ہونے چاہییں جو نیکی کی طرف بلائیں ، بھلائی کا حکم دیں، اور برائیوں سے روکتے رہیں۔ جو لوگ یہ کام کریں گے وہی فلاح پائیں گے۔{ ۱۰۴} کہیں تم ان لوگوں کی طرح نہ ہوجانا جو فرقوں میں بٹ گئے اور کھلی کھلی واضح ہدایات پانے کے بعد پھر اختلافات میں مبتلا ہوئے ۔ [86]جنہوں نے یہ روش اختیار کی وہ اُس روز سخت سزاپائیں گے {۱۰۵} جبکہ کچھ لوگ سُرخ رُو ہوں گے اور کچھ لوگوں کا منھ کالا ہوگا۔ جن کا منھ کالاہوگا (ان سے کہا جائے گا کہ ) نعمتِ ایمان پانے کے بعد بھی تم نے کا فرانہ روّیہ اختیار کیا؟ اچھا تو اب اس کفر انِ نعمت کے صلہ میں عذاب کا مزہ چکھو ۔ {۱۰۶} رہے وہ لوگ جن کے چہرے روشن ہوں گے تو ان کو اللہ کے دامنِ رحمت میں جگہ ملے گی اور ہمیشہ وہ اسی حالت میں رہیں گے۔ {۱۰۷} یہ اللہ کے ارشادات ہیں جو ہم تمہیں ٹھیک ٹھیک سنار ہے ہیں ، کیونکہ اللہ دنیا والوں پر ظلم کرنے کا کوئی ارادہ نہیں رکھتا[87] ۔{۱۰۸} زمین اور آسمانوں کی ساری چیزوں کا مالک اللہ ہے اور سارے معاملات اللہ ہی کے حضور پیش ہوتے ہیں۔{۱۰۹} اب دنیا میں وہ بہترین گروہ تم ہو جسے انسانوں کی ہدایت و اصلاح کے لیے میدان میں لایا گیا ہے۔[88] تم نیکی کا حکم دیتے ہو ، بدی سے روکتے ہو اور اللہ پر ایمان رکھتے ہو۔ یہ اہل ِکتاب[89] ایمان لاتے تو انہی کے حق میں بہتر تھا۔ اگر چہ ان میں کچھ لوگ ایماندار بھی پائے جاتے ہیں مگران کے بیشتر افراد نافرمان ہیں۔{ ۱۱۰} یہ تمہارا کچھ بگاڑ نہیں سکتے ، زیادہ سے زیادہ بس کچھ ستاسکتے ہیں۔ اگر یہ تم سے لڑیں تو مقابلہ میں پیٹھ دکھا ئیں گے ، پھر ایسے بے بس ہوں گے کہ کہیں سے ان کو مدد نہ ملے گی۔{۱۱۱} یہ جہاں بھی پائے گئے ان پر ذلت کی مارہی پڑی ، کہیں اللہ کے ذِمّہ یا انسانوں کے ذِمّہ میں پناہ مل گئی تو یہ اور بات ہے ۔ [90]یہ اللہ کے غضب میں گِھرچکے ہیں۔ ان پر محتاجی و مغلوبی مسلط کردی گئی ہے ، اور یہ سب کچھ صرف اس وجہ سے ہوا ہے کہ یہ اللہ کی آیات سے کفر کرتے رہے اور انہوں نے پیغمبروں کو ناحق قتل کیا۔ یہ ان کی نافرمانیوں اور زیادتیوں کا انجام ہے ۔{ ۱۱۲} مگر سارے اہلِ کتاب یکساں نہیں ہیں۔ ان میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جوراہ راست پر قائم ہیں ، راتوں کو اللہ کی آیات پڑھتے ہیں اور اُس کے آگے سجدہ ریز ہوتے ہیں ۔{ ۱۱۳} اللہ اور روز آخرت پر ایمان رکھتے ہیں ، نیکی کا حکم دیتے ہیں ، برائیوں سے روکتے ہیں اور بھلائی کے کاموں میں سرگرم رہتے ہیں۔ یہ صالح لوگ ہیں۔{ ۱۱۴} اور جونیکی بھی یہ کریں گے اس کی ناقدری نہ کی جائے گی ، اللہ پرہیزگارلوگوں کو خوب جانتا ہے۔ {۱۱۵} رہے وہ لوگ جنہوں نے کفر کا رویہ اختیار کیا تو اللہ کے مقابلہ میں ان کو نہ ان کا مال کچھ کام دے گا نہ اولاد ، وہ تو آگ میں جانے والے لوگ ہیں اور آگ ہی میں ہمیشہ رہیں گے۔{۱۱۶} جو کچھ وہ اپنی اس دنیا کی زندگی میں خرچ کررہے ہیں اُس کی مثال اُس ہوا کی سی ہے جس میں پالا ہو اور وہ ان لوگوں کی کھیتی پر چلے جنہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا ہے اور اسے برباد کرکے رکھ دے۔[91] اللہ نے ان پر ظلم نہیں کیا ، درحقیقت یہ خود اپنے اوپر ظلم کررہے ہیں۔ {۱۱۷} اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! اپنی جماعت کے لوگوں کے سوا دوسروں کو اپنا راز دارنہ بنا ؤ ، وہ تمہاری خرابی کے کسی موقع سے فائدہ اٹھانے میں نہیں چوکتے ۔ [92]تمہیں جس چیز سے نقصان پہنچے وہی اُن کو محبوب ہے۔ ان کے دل کا بغض ان کے منھ سے نکلا پڑتا ہے اور جو کچھ وہ اپنے سینوں میں چھپائے ہوئے ہیں وہ اس سے شدید تر ہے۔ ہم نے تمہیں صاف صاف ہدایات دے دی ہیں ، اگر تم عقل رکھتے ہو ( تو ان سے تعلق رکھنے میں احتیاط برتو گے) {۱۱۸} تم ان سے محبت رکھتے ہو مگر وہ تم سے محبت نہیں رکھتے حالانکہ تم تمام کُتبِ آسمانی کو مانتے ہو۔ [93]جب وہ تم سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم نے بھی ( تمہارے رسول اور تمہاری کتاب کو) مان لیا ہے، مگر جب جُدا ہوتے ہیں تو تمہارے خلاف ان کے غیظ و غضب کا یہ حال ہوتا ہے کہ اپنی انگلیاں چبانے لگتے ہیں۔ ان سے کہہ دو کہ اپنے غصّہ میں آپ جل مرو ، اللہ دلوں کے چھپے ہوئے راز تک جانتا ہے۔{۱۱۹} تمہارا بھلا ہوتا ہے تو ان کو بُرا معلوم ہوتا ہے ، اور تم پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یہ خوش ہوتے ہیں ۔ مگر ان کی کوئی تدبیر تمہارے خلاف کار گرنہیں ہوسکتی بشرطیکہ تم صبر سے کام لو اور اللہ سے ڈر کر کام کرتے رہو ۔ جو کچھ یہ کررہے ہیں اللہ اُس پر حاوی ہے ۔{۱۲۰} (اے پیغمبر [94] ؐ! مسلمانوں کے سامنے اُس موقع کا ذکر کرو) جب تم صبح سویرے اپنے گھر سے نکلے تھے اور (اُحد کے میدان میں) مسلمانوں کو جنگ کے لیے جابجا مامور کررہے تھے۔ اللہ ساری باتیں سُنتا ہے اور وہ نہایت باخبر ہے۔ {۱۲۱} یاد کرو جب تم میں سے دو گروہ بُزدلی دکھانے پر آمادہ ہوگئے تھے ،[95] حالانکہ اللہ ان کی مدد پر موجود تھا۔ اور مومنوں کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔{ ۱۲۲} آخر اس سے پہلے جنگ بدر میں اللہ تمہاری مدد کر چکا تھا حالانکہ اس وقت تم بہت کمزور تھے۔ لہٰذا تم کو چاہئے کہ اللہ کی ناشکری سے بچو۔ اُمید ہے کہ اب تم شکرگزاربنوگے۔{ ۱۲۳} اے نبی ؐ ! یاد کرو جب تم مومنوں سے کہہ رہے تھے ’’ کیا تمہارے لئے یہ بات کافی نہیں کہ اللہ تین ہزار فرشتے اُتار کر تمہاری مدد کرے؟‘‘[96]{۱۲۴} بے شک ، اگر تم صبر کرو اور اللہ سے ڈرتے ہوئے کام کرو تو جس آن دشمن تمہارے اُوپر چڑھ کر آئیں گے اُسی آن تمہارا رَبّ (تین ہزار نہیں ) پانچ ہزار صاحبِ نشان فرشتوں سے تمہاری مدد کرے گا ۔{۱۲۵} یہ بات اللہ نے تمہیں اس لیے بتادی ہے کہ تم خوش ہو جا ؤ اور تمہارے دل مطمئن ہوجائیں۔ فتح و نصرت جو کچھ بھی ہے اللہ کی طرف سے ہے جو بڑی قوت والا اور دانا وبینا ہے۔{۱۲۶} (اور یہ مدد وہ تمہیں اس لیے دے گا ) تاکہ کفر کی راہ چلنے والوں کا ایک بازو کاٹ دے ، یا ان کو ایسی ذلیل شکست دے کہ وہ نامرادی کے ساتھ پسپا ہوجائیں۔ {۱۲۷} (اے پیغمبر ؐ !) فیصلہ کے اختیارات میں تمہارا کوئی حصہ نہیں ، اللہ کو اختیار ہے چاہے انہیں معاف کرے، چاہے سزادے، کیونکہ وہ ظالم ہیں {۱۲۸} زمین اور آسمانوں میں جوکچھ ہے اس کا مالک اللہ ہے، جس کو چاہے بخش دے اور جس کو چاہے عذاب دے ، وہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے [97]{۱۲۹} اے لوگو جوایمان لائے ہو ! یہ بڑھتا اور چڑھتا سود کھانا چھوڑ دو[98] اور اللہ سے ڈرو ، اُمید ہے کہ فلاح پا ؤگے ۔{۱۳۰} اُس آگ سے بچو جو کافروں کے لیے مہیا کی گئی ہے ۔{۱۳۱} اللہ اور رسُول ؐ کی اطاعت کرو ،توقع ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا ۔{ ۱۳۲} دوڑ کر چلو اس راہ پر جو تمہارے رَبّ کی بخشش اور اس جنّت کی طرف جاتی ہے ،جس کی وسعت زمین اور آسمانوں جیسی ہے ، اور وہ اُن متقی لوگوں کے لیے مہیا کی گئی ہے۔{ ۱۳۳} جو ہر حال میں اپنے مال خرچ کرتے ہیں خواہ بد حال ہوں یا خوش حال ، جو غصے کوپی جاتے ہیں اور دوسروں کے قصور معاف کردیتے ہیں۔ ایسے نیک لوگ اللہ کو بہت پسند ہیں۔[99] { ۱۳۴} اور جن کا حال یہ ہے کہ اگر کبھی کوئی فحش کام ان سے سرزد ہوجاتا ہے یاکسی گناہ کا ارتکاب کرکے وہ اپنے اوپر ظلم کر بیٹھتے ہیں تو معاً اللہ انہیں یاد آجاتا ہے اور اُس سے وہ اپنے قصوروں کی معافی چاہتے ہیں۔ کیونکہ اللہ کے سوا اور کون ہے جو گناہ معاف کرسکتا ہو۔ اور وہ کبھی دانستہ اپنے کئے پر اصرار نہیں کرتے۔{۱۳۵} ایسے لوگوں کی جزا ان کے رَبّ کے پاس یہ ہے کہ وہ ان کو معاف کردے گا اور ایسے باغوں میں انہیں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔کیسا اچھا بدلہ ہے نیک اعمال کرنے والوں کے لیے۔ {۱۳۶} تم سے پہلے بہت سے دور گزر چکے ہیں ۔ زمین میں چل پھر کردیکھ لو کہ ان لوگوں کا کیا انجام ہوا جنہوں نے (اللہ کے احکام وہدایات کو ) جھٹلایا۔{۱۳۷} یہ لوگوں کے لیے ایک صاف اور صریح تنبیہ ہے اور جو اللہ سے ڈرتے ہوں ان کے لیے ہدایت اور نصیحت۔ {۱۳۸} دل شکستہ نہ ہو، غم نہ کرو ، تم ہی غالب رہوگے اگر تم مومن ہو۔{۱۳۹} اس وقت اگر تمہیں چوٹ لگی ہے تو اس سے پہلے ایسی ہی چوٹ تمہارے مخالف فریق کو بھی لگ چکی ہے۔[100] یہ تو زمانہ کے نشیب و فراز ہیں جنہیں ہم لوگوں کے درمیان گردش دیتے رہتے ہیں۔ تم پر یہ وقت اس لیے لایا گیا کہ اللہ دیکھنا چاہتا تھا کہ تم میں سچے مومن کون ہیں ، اور ان لوگوں کو چھانٹ لینا چاہتا تھا جو واقعی (راستی کے) گواہ ہوں۔[101] کیونکہ ظالم لوگ اللہ کو پسند نہیں ہیں۔{ ۱۴۰} اور وہ اس آزمائش کے ذریعہ سے مومنوں کو الگ چھانٹ کر کافروں کی سرکوبی کردینا چاہتا تھا۔ {۱۴۱} کیا تم نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یو نہی جنّت میں چلے جا ؤ گے حالانکہ ابھی اللہ نے یہ تو دیکھا (تم کو دکھایا)ہی نہیں کہ تم میں کون وہ لوگ ہیں جو اس کی راہ میں جانیں لڑانے والے اور اس کی خاطر صبر کرنے والے ہیں ۔{ ۱۴۲} تم تو موت کی تمنائیں کررہے تھے !مگر یہ اس وقت کی بات تھی جب موت سامنے نہ آئی تھی ، لو اب وہ تمہارے سامنے آگئی اور تم نے اسے آنکھوں دیکھ لیا ۔[102]{ ۱۴۳} محمد ؐ اس کے سوا کچھ نہیں کہ بس ایک رسُو ل ؐہیں۔ اُن سے پہلے اور رسول بھی گزر چکے ہیں ، پھر کیا اگر وہ مرجائیں یا قتل کردیئے جائیں تو تم لوگ الٹے پا ؤں پھر جا ؤگے [103]؟ یاد رکھو ! جو اُلٹا پھرے گا وہ اللہ کا کچھ نقصان نہ کرے گا ، البتہ جو اللہ کے شکر گزار بندے بن کررہیں گے انہیں وہ اس کی جزادے گا۔ { ۱۴۴} کوئی ذی روح ،اللہ کے اِذن کے بغیر نہیں مرسکتا ، موت کا وقت تو لکھا ہوا ہے ،[104]جو شخص ثوابِ دنیا کے ارادہ سے کام کرے گا اس کو ہم دنیا ہی میں سے دیں گے ، اور جو ثواب ِ آخرت کے ارادہ سے کام کرے گا وہ آخرت[105] کا ثواب پائے گا اور شکر کرنے[106] والوں کو ہم ان کی جزاضرور عطا کریں گے{۱۴۵} اس سے پہلے کتنے ہی نبی ؐیسے گزرچکے ہیں جن کے ساتھ مل کر بہت سے اللہ والوں نے جنگ کی ۔ اللہ کی راہ میں جو مصیبتیں اُن پر پڑیں اُن سے وہ دل شکستہ نہیں ہوئے ، انہوں نے کمزوری نہیں دکھائی ، وہ (باطل کے آگے) سرنگوں نہیں [107]ہوئے ۔ ایسے ہی صابروں کو اللہ پسند کرتا ہے {۱۴۶} ان کی دعا بس یہ تھی کہ ’’ اے ہمارے رَبّ !ہماری غلطیوں اور کوتا ہیوں سے درگزر فرما، ہمارے کام میں تیرے حدود سے جو کچھ تجاوز ہوگیا ہو اسے معاف کردے ، ہمارے قدم جمادے اور کافروں کے مقابلہ میں ہماری مددکر ‘‘ {۱۴۷} آخر کار اللہ نے اُن کو دنیا کا ثواب بھی دیا اور اِس سے بہتر ثوابِ آخرت بھی عطا کیا۔ اللہ کو ایسے ہی نیک عمل لوگ پسند ہیں ۔{۱۴۸} اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! اگر تم ان لوگوں کے اشاروں پر چلو گے جنہوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے تو وہ تم کو اُلٹا پھیرلے جائیں [108]گے اور تم نا مراد ہوجا ؤ گے۔{۱۴۹} ( اُن کی باتیں غلط ہیں) حقیقت یہ ہے کہ اللہ تمہارا حامی و مددگارہے اور وہ بہترین مدد کرنے والا ہے ۔{۱۵۰} عنقریب وہ وقت آنے والا ہے جب ہم منکرین حق کے دلوں میں رُعب بٹھادیں گے ، اس لیے کہ انہوں نے اللہ کے ساتھ ان کو اُلوہیت میں شریک ٹھہرایا ہے جن کے شریک ہونے پر اللہ نے کوئی سَندنازل نہیں کی۔ اُن کا آخری ٹھکانا جہنم ہے اور بہت ہی بُری ہے وہ قیام گاہ جو اُن ظالموں کو نصیب ہوگی۔{۱۵۱} اللہ نے (تائیدو نصرت کا) جو وعدہ تم سے کیا تھا وہ تو اُس نے پورا کردیا۔ ابتداء میں اس کے حکم سے تم ہی اُن کو قتل کررہے تھے ۔ مگر جب تم نے کمزوری دکھائی اور اپنے کام میں باہم اختلاف کیا، اور جو نہی کہ وہ چیز اللہ نے تمہیں دکھائی جس کی محبت میں تم گرفتار تھے۔ (یعنی مال غنیمت) تم (اپنے سردار کے)حکم کی خلاف ورزی کر بیٹھے، اس لیے کہ تم میں سے کچھ لوگ دنیا کے طالب تھے اور کچھ آخرت کی خواہش رکھتے تھے،تب اللہ نے تمہیں کافروں کے مقابلہ میں پسپا کردیا تا کہ تمہاری آزمائش کرے۔ اور حق یہ ہے کہ اللہ نے پھر بھی تمہیں معاف ہی کردیا، [109]کیونکہ مومنوں پر اللہ بڑی نظر عنایت رکھتا ہے۔ { ۱۵۲} یاد کرو جب تم بھاگے چلے جارہے تھے ، کسی کی طرف پلٹ کردیکھنے تک کا ہوش تمہیں نہ تھا اور رسول اتمہارے پیچھے تم کو پکار [110]رہاتھا۔اس وقت تمہاری اس رَوِش کا بدلہ اللہ نے تمہیں یہ دیا کہ تم کو رنج پررنج [111]دیے ، تا کہ آئندہ کے لیے تمہیں یہ سبق ملے کہ جو کچھ تمہارے ہاتھ سے جائے یا جو مصیبت تم پر نازل ہو اُس پر ملول نہ ہو۔ اللہ تمہارے سب اعمال سے باخبر ہے۔{ ۱۵۳} اِس غم کے بعد پھر اللہ نے تم میں سے کچھ لوگوں پر ایسی اطمینان کی سی حالت طاری کردی کہ وہ اُونگھنے[112] لگے۔ مگر ایک دوسرا گروہ ، جس کے لیے ساری اہمیت بس اپنی ذات ہی کی تھی ، اللہ کے متعلق طرح طرح کے جاہلانہ گمان کرنے لگا جو سراسر خلاف ِحق تھے ۔ یہ لوگ اب کہتے ہیں کہ ’’ اس کام کے چلانے میں ہمارا بھی کوئی حصہ ہے؟‘‘ ان سے کہو: ’’(کسی کا کوئی حصہ نہیں) اس کام کے سار ے اختیارات اللہ کے ہاتھ میں ہیں ۔‘‘ دراصل یہ لوگ اپنے دلوں میں جوبات چھپائے ہوئے ہیں اسے تم پر ظاہر نہیں کرتے۔ ان کا اصل مطلب یہ ہے کہ ’’ اگر (قیادت کے ) اختیارات میں ہمارا کچھ حصہ ہوتا تو یہاں ہم نہ مارے جاتے ان سے کہہ دو کہ ’’ اگر تم اپنے گھروں میں بھی ہوتے تو جن لوگوں کی موت لکھی ہوئی تھی وہ خود اپنی قتل گاہوں کی طرف نکل آتے ‘‘ اور یہ معاملہ جو پیش آیا ، یہ تو اس لیے تھا کہ جو کچھ تمہارے سینوں میں پوشیدہ ہے اللہ اسے آزمالے اور جو کھوٹ تمہارے دلوں میں ہے اسے چھانٹ دے ، اللہ دلوں کا حال خوب جانتا ہے ۔{ ۱۵۴} تم میں سے جو لوگ مقابلہ کے دن پیٹھ پھیر گئے تھے ان کی اس لغزش کا سبب یہ تھا کہ ان کی بعض کمزوریوں کی وجہ سے شیطان نے اُن کے قدم ڈگمگا دیے تھے۔ اللہ نے انہیں معاف کردیا۔ اللہ بہت درگزر کرنے والا اور بُردبار ہے ۔{ ۱۵۵} اے لوگو جو ایمان لائے ہو! کافروں کی سی باتیں نہ کروجن کے عزیز واقارب اگر کبھی سفر پر جاتے ہیں یا جنگ میں شریک ہوتے ہیں ( اور وہاں کسی حادثہ سے دوچار ہوجاتے ہیں) تو وہ کہتے ہیں کہ اگر وہ ہمارے پاس ہوتے تو نہ مارے جاتے، اور نہ قتل ہوتے ،اللہ اس قسم کی باتوں کو ان کے دلوں میں حسرت واندوہ کا سبب بنادیتا [113]ہے، ورنہ دراصل مارنے اور جلانے والا تو اللہ ہی ہے اور تمہاری تمام حرکات پر وہی نگراں ہے۔{۱۵۶} اگر تم اللہ کی راہ میں مارے جا ؤ یا مرجا ؤ تو اللہ کی جو رحمت اور بخشش تمہارے حصہ میں آئے گی وہ ان ساری چیزوں سے زیادہ بہتر ہے جنہیں یہ لوگ جمع کرتے ہیں ۔{۱۵۷} اور خواہ تم مرویا مارے جا ؤ بہرحال تم سب کو سمٹ کر جانا اللہ ہی کی طرف ہے۔ {۱۵۸} (اے پیغمبر ؐ!) یہ اللہ کی بڑی رحمت ہے کہ تم ان لوگوں کے لیے بہت نرم مزاج واقع ہوئے ہو، ورنہ اگر کہیں تم تُند خواورسنگ دل ہوتے تو یہ سب تمہارے گردو پیش سے چھٹ جاتے۔ ان کے قصور معاف کردو، ان کے حق میں دعائے مغفرت کرو، اور دین کے کام میں ان کو بھی شریک مشورہ رکھو ، پھر جب تمہارا عزم کسی رائے پر مستحکم ہوجائے تو اللہ پر بھروسہ کرو ، اللہ کو وہ لوگ پسند ہیں جو اُسی کے بھروسے پر کام کرتے ہیں ۔ {۱۵۹} اللہ تمہاری مدد پر ہو تو کوئی طاقت تم پر غالب آنے والی نہیں ، اور وہ تمہیں چھوڑدے تو اس کے بعد کون ہے جو تمہاری مدد کرسکتا ہو؟ پس جو سچے مومن ہیں ان کو اللہ ہی پر بھروسہ رکھنا چاہئے۔ {۱۶۰} کسی نبی کا یہ کام نہیں ہوسکتا کہ وہ خیانت کر[114]جائے۔ اور جو کوئی خیانت کرے تو وہ اپنی خیانت سمیت قیامت کے روز حاضر ہوجائے گا، پھر ہر متنفس کو اس کی کمائی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر کچھ ظلم نہ ہوگا۔{۱۶۱} بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ جو شخص ہمیشہ اللہ کی رضا پر چلنے والا ہو وہ اُس شخص کے سے کام کرے جو اللہ کے غضب میں گِھرگیا ہو اور جس کا آخری ٹھکا نا جہنم ہوجو بدترین ٹھکانا ہے ؟ {۱۶۲} اللہ کے نزدک دونوں قسم کے آدمیوں میں بدرجہا فرق ہے اور اللہ سب کے اعمال پر نظر رکھتا ہے۔ { ۱۶۳} درحقیقت اہلِ ایمان پر تو اللہ نے یہ بہت بڑا احسان کیا ہے کہ ان کے درمیان خود انہی میں سے ایک ایسا پیغمبر اٹھا یا جو اس کی آیا ت انہیں سُناتا ہے، اُن کی زندگیوں کو سنوارتا ہے اور ان کو کتاب اور دانائی کی تعلیم دیتا ہے ، حالانکہ اس سے پہلے یہی لوگ صریح گمراہیوں میں پڑے ہوئے تھے۔{ ۱۶۴} اور یہ تمہارا کیا حال ہے کہ جب(جنگ اُحد میں) تم پر مصیبت آپڑی تو تم کہنے لگے یہ کہاں سے آئی ؟[115] حالانکہ ( جنگ بدر میں) اس سے دوگنی مصیبت تمہارے ہاتھوں (فریق ِمخالف پر ) پڑچکی ہے ۔[116] اے نبی ؐ! ان سے کہو یہ مصیبت تمہاری اپنی لائی ہوئی [117]ہے ، اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔[118]{۱۶۵} اور جو نقصان(جنگ اُحد کی) لڑائی کے دن تمہیں پہنچا وہ اللہ کے ِاذن سے تھا اور اِس لیے تھا تاکہ یہ ظاہر ہوجائے کہ تم میں سے مومن کون ہیں{۱۶۶} اور منافق کون ؟وہ منافق کہ جب ان سے کہا گیا: ’’آ ؤ اللہ کی راہ میں جنگ کرویا کم از کم ( اپنے شہر کی) مدافعت ہی کرو‘‘۔ تو کہنے لگے ’’ اگر ہمیں علم ہوتا کہ آج جنگ ہوگی تو ہم ضرور تمہارے ساتھ چلتے [119] ‘‘۔ یہ بات جب وہ کہہ رہے تھے اُس وقت وہ ایمان کی بہ نسبت کفر سے زیادہ قریب تھے۔ وہ اپنی زبانوں سے وہ باتیں کہتے ہیں جو ۔ اُن کے دلوں میں نہیں ہوتیں،اور جو کچھ وہ دلوں میں چھپاتے ہیں اللہ اُسے خوب جانتا ہے ۔{۱۶۷} یہ وہی لوگ ہیں جو خود تو بیٹھے رہے اور اُن کے جوبھائی بند لڑنے گئے اور مارے گئے اُن کے متعلق اُنہوں نے کہہ دیا کہ اگر وہ ہماری بات مان لیتے تو نہ مارے جاتے ۔ اُن سے کہو اگر تم اپنے اس قول میں سچے ہوتو خود تمہاری موت جب آئے اُسے ٹال کردکھا دینا۔{۱۶۸} جو لوگ اللہ کی راہ میں قتل ہوئے ہیں اُنہیں مُردہ نہ سمجھو ، وہ تو حقیقت میں زندہ ہیں ،[120] اپنے رَبّ کے پاس رزق پارہے ہیں {۱۶۹} جو کچھ اللہ نے اپنے فضل سے اُنہیں دیا ہے اُس پر خوش وخرّم ہیں ،[121] اور مطمئن ہیں کہ جو اہلِ ایمان اُن کے پیچھے دنیا میں رہ گئے ہیں اور ابھی وہاں نہیں پہنچے ہیں ان کے لیے بھی کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے۔{۱۷۰}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)