سورۃاٰل عمران   -  3 : 171-200 / 200 وہ اللہ کے انعام اور اُس کے فضل پرشاداں وفرحاں ہیں اور ان کو معلوم ہوچکا ہے کہ اللہ مومنوں کے اجر کو ضائع نہیں کرتا۔{۱۷۱} (ایسے مومنوں کے اجر کو ) جنہوں نے زخم کھانے کے بعد بھی اللہ اور رسول ؐکی پکار پر لبیک کہا اُن میں[122] جو اشخاص نیکو کار اور پر ہیز گار ہیں اُن کے لیے بڑا اجر ہے۔{ ۱۷۲} جن [123]سے لوگوں نے کہا کہ: ’’تمہارے خلاف بڑی فوجیں جمع ہوئی ہیں اُن سے ڈرو‘‘ تو یہ سُن کر اُن کا ایمان اور بڑھ گیا اور اُنہوں نے جوا ب دیا کہ ’’ ہمارے لئے اللہ کافی ہے اور وہی بہترین کا رساز ہے ‘‘۔{ ۱۷۳} آخر کار وہ اللہ تعالیٰ کی نعمت اور فضل کے ساتھ پلٹ آئے۔ ان کو کسی قسم کا ضرر بھی نہ پہنچا اور اللہ کی رضا پر چلنے کا شرف بھی انہیں حاصل ہوگیا ، اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ {۱۷۴} اب تمہیں معلوم ہوگیا کہ وہ دراصل شیطان تھا جو اپنے دوستوں سے خواہ مخواہ ڈرارہا تھا ۔لہٰذا آئندہ تم انسانوں سے نہ ڈرنا ، مجھ سے ڈرنا اگر تم حقیقت میں صاحب ایمان ہو۔[124]{۱۷۵} (اے پیغمبر ؐ!) جو لوگ آج کفر کی راہ میں بڑی دوڑ دھوپ کررہے ہیں ان کی سرگرمیاں تمہیں آزردہ نہ کریں، یہ اللہ کا کچھ بھی نہ بگاڑ سکیں گے۔ اللہ کاارادہ یہ ہے کہ ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہ رکھے ، اور بالآخر ان کو سخت سزاملنے والی ہے۔ {۱۷۶} جو لوگ ایمان کو چھوڑ کر کفر کے خرید ار بنے ہیں وہ یقینا اللہ کا کوئی نقصان نہیں کررہے ہیں، ان کے لیے دردناک عذاب تیار ہے ۔{۱۷۷} یہ ڈھیل جو ہم انہیں دیے جاتے ہیں اس کو یہ کافر اپنے حق میں بہتری نہ سمجھیں ،ہم تو انہیں اس لیے ڈھیل دے رہے ہیں کہ یہ خوب بارگناہ سمیٹ لیں ، پھر ان کے لیے سخت ذلیل کرنے والی سزا ہے۔ {۱۷۸} اللہ مومنوں کو اس حالت میں ہرگز نہ رہنے دے گا جس میں تم لوگ اس وقت پائے جاتے ہو۔ [125]وہ پاک لوگوں کو ناپاک لوگوں سے الگ کرکے رہے گا۔ مگر اللہ کا یہ طریقہ نہیں ہے کہ تم لوگوں کو غیب پر مطلع کردے۔[126] (غیب کی باتیں بتانے کے لیے تو) اللہ اپنے رسولوں میں سے جس کو چاہتا ہے منتخب کرلیتا ہے۔ لہٰذا (اُمور غیب کے بارے میں )اللہ اور اس کے رسولوں پر ایمان رکھو ۔ اگر تم ایمان اور تقویٰ کی روش پر چلوگے تو تم کو بڑا اجرملے گا۔{۱۷۹} جن لوگوں کو اللہ نے اپنے فضل سے نوازا ہے اور پھر وہ بُخل سے کام لیتے ہیں وہ اس خیال میں نہ رہیں کہ یہ بخیلی ان کے لیے اچھی ہے۔ نہیں ، یہ ان کے حق میں نہایت بُری ہے ۔ جو کچھ وہ اپنی کنجوسی سے جمع کررہے ہیں وہی قیامت کے روز ان کے گلے کا طوق بن جائے گا ۔ زمین اور آسمانوں کی میراث اللہ ہی کے لیے ہے[127] اور تم جو کچھ کرتے ہو اللہ اس سے باخبرہے۔{۱۸۰} اللہ نے اُن لوگوں کا قول سُنا جو کہتے ہیں کہ اللہ فقیر ہے اور ہم غنی [128] ہیں ۔ ان کی یہ باتیں بھی ہم لکھ لیں گے، اور اس سے پہلے جو وہ پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے رہے ہیں وہ بھی ان کے نامۂ اعمال میں ثبت ہے۔ ( جب فیصلے کا وقت آئے گا اس وقت ) ہم ان سے کہیں گے کہ لو ، اب عذاب جہنم کا مزاچکھو {۱۸۱} یہ تمہارے اپنے ہاتھوں کی کمائی ہے ، اللہ اپنے بندوں کے لیے ظالم نہیں ہے۔{۱۸۲} جو لوگ کہتے ہیں ،’’اللہ نے ہم کو ہدایت کردی ہے کہ ہم کسی کو رسول تسلیم نہ کریں جب تک وہ ہمارے سامنے ایسی قربانی نہ کرے جسے ( غیب سے آکر ) آگ کھالے ‘‘،ان سے کہو ’’ تمہارے پاس مجھ سے پہلے بہت سے رسول آچکے ہیں جو بہت سی روشن نشانیاں لائے تھے اور وہ نشانی بھی لائے تھے جس کا تم ذکرکرتے ہو ، پھر اگر ( ایمان لانے کے لیے یہ شرط پیش کرنے میں)تم سچّے ہو تو اُن رسولوں کو تم نے کیوں قتل کیا؟‘‘[129]{۱۸۳} اب اے نبی ؐ ! اگر یہ لوگ تمہیں جھٹلاتے ہیں تو بہت سے رسول تم سے پہلے جھٹلائے جاچکے ہیں۔ جو کھلی کھلی نشانیاں اور صحیفے اور روشنی بخشنے والی کتابیں لائے تھے۔{۱۸۴} آخر کار ہرشخص کو مرنا ہے اور تم سب اپنے اپنے پورے اجر قیامت کے روز پانے والے ہو ،کامیاب دراصل وہ ہے جو وہاں آتش دوزخ سے بچ جائے اور جنّت میں داخل کردیا جائے ۔ رہی یہ دنیا ، تو یہ محض ایک ظاہر فریب چیز ہے۔[130]{۱۸۵} مسلمانو ! تمہیں مال اور جان دونوں کی آزمائشیں پیش آکر رہیں گی، اور تم اہل کتاب اور مشرکین سے بہت سی تکلیف دہ باتیں سنوگے۔ اگر ان سب حالات میں تم صبر اور تقویٰ کی روش پر قائم رہو[131] تو یہ بڑے حوصلے کا کام ہے۔{۱۸۶} ان اہل کتاب کو وہ عہد بھی یاد دلا ؤ جو اللہ نے ان سے لیا تھا کہ تمہیں کتاب کی تعلیمات کو لوگوں میں پھیلانا ہوگا،انہیں پوشیدہ رکھنا نہیں [132]ہوگا ۔ مگر انہوں نے کتاب کوپس پشت ڈال دیا اور تھوڑی قیمت پر اسے بیچ ڈالا، کتنا برا کاروبار ہے جو یہ کررہے ہیں۔ {۱۸۷} تم اُن لوگوں کو عذاب سے محفوظ نہ سمجھو جو اپنے کرتوتوں پر خوش ہیں اور چاہتے ہیں کہ ایسے کاموں کی تعریف انہیں حاصل ہوجوفی الواقع انہوں نے نہیں کئے ہیں۔[133] حقیقت میں ان کے لیے درد ناک سزا تیار ہے۔{۱۸۸} زمین[134] اور آسمانوں کا مالک اللہ ہے اور اس کی قدرت سب پر حاوی ہے۔{۱۸۹} زمین اور آسمانوں کی پیدائش میں اور رات اور دن کے باری باری سے آنے میں ان ہوش مند لوگوں کے لیے بہت نشانیاں ہیں{۱۹۰} جو اٹھتے ،بیٹھتے اور لیٹتے، ہر حال میں اللہ کو یاد کرتے ہیں اور زمین اور آسمانوں کی ساخت میں غور وفکر کرتے ہیں[135] (وہ بے اختیار بول اٹھتے ہیں) ’’پروردگار! یہ سب کچھ تونے فضول اور بے مقصد نہیں بنایا ہے، تو پاک ہے اس سے کہ عبث کام کرے، پس اے رَبّ ! ہمیں دوزخ کے عذاب سے بچالے[136]{۱۹۱} اے ہمارے رَبّ! تونے جسے دوزخ میں ڈالا اسے درحقیقت بڑی ذلت ورسوائی میں ڈال دیا ، اور پھر ایسے ظالموں کا کوئی مددگار نہ ہوگا۔ { ۱۹۲} اے ہمارے مالک! ہم نے ایک پکار نے والے کو سُنا جو ایمان کی طرف بُلاتا تھا اور کہتا تھا کہ اپنے رَبّ کو مانو ،ہم نے اس کی دعوت قبول کرلی،[137] پس اے ہمارے آقا !جو قصور ہم سے ہوئے ہیں ان سے درگزر فرما ، جو بُرائیاں ہم میں ہیں انہیں دورکردے اور ہمارا خاتمہ نیک لوگوں کے ساتھ کر { ۱۹۳} اے ہمارے رَبّ! جو وعدے تونے اپنے رسولوں کے ذریعہ سے کئے ہیں ان کو ہمارے ساتھ پوراکراور قیامت کے دن ہمیں رسوائی میں نہ ڈال ، بے شک تو اپنے وعدے کے خلاف کرنے والا نہیں [138]ہے ۔‘‘ { ۱۹۴} جواب میں اُن کے رَبّ نے فرمایا ’’ میں تم میں سے کسی کا عمل ضائع کرنے والا نہیں ہوں۔ خواہ مرد ہویا عورت ، تم سب ایک دوسرے کے ہم جنس[139] ہو۔ لہٰذا جن لوگوں نے میری خاطر اپنے وطن چھوڑے اور جو میری راہ میں اپنے گھروں سے نکالے گئے اور ستائے گئے اور میرے لئے لڑے اور مارے گئے اُن کے سب قصور میں معاف کردو ں گا اور انہیں ایسے باغوں میں داخل کروں گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ یہ ان کی جزا ہے اللہ کے ہاں اور بہترین جزااللہ ہی کے پاس [140]ہے‘‘ {۱۹۵} (اے نبی ؐ!) دنیا کے ملکوں میں اللہ کے نافرمان لوگوں کی چلت پھرت تمہیں کسی دھوکے میں نہ ڈالے، {۱۹۶} یہ محض چندروزہ زندگی کا تھوڑا سالطف ہے ، پھر یہ سب جہنم میں جائیں گے جو بدترین جائے قرار ہے، {۱۹۷} برعکس اس کے جو لوگ اپنے رَبّ سے ڈرتے ہوئے زندگی بسر کرتے ہیں ان کے لیے ایسے باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہتی ہیں ، اُن باغوں میں وہ ہمیشہ رہیں گے ، اللہ کی طرف سے یہ سامان ِ ضیافت ہے ان کے لیے ، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے نیک لوگوں کے لیے وہی سب سے بہتر ہے ۔{۱۹۸} اہل کتاب میں بھی کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کو مانتے ہیں ، اِس کتاب پر ایمان لاتے ہیں جو تمہاری طرف بھیجی گئی ہے اور اس کتاب پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو اس سے پہلے خود ان کی طرف بھیجی گئی تھی اللہ کے آگے جھکے ہوئے ہیں۔ اور اللہ کی آیات کو تھوڑی سی قیمت پر بیچ نہیں دیتے ۔ ان کا اجران کے رَبّ کے پاس ہے اور اللہ حساب چکانے میں دیر نہیں لگاتا۔{۱۹۹} اے لوگوجو ایمان لائے ہو! صبر سے کام لو ، باطل پرستوں کے مقابلے میں پامردی دکھا ؤ[141] ، حق کی خدمت کے لیے کمر بستہ رہو اور اللہ سے ڈرتے رہو ، امید ہے کہ فلاح پا ؤ گے۔{ ۲۰۰}
سورۃالنساء   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 4 : 1-23 / 176لوگو! اپنے رَبّ سے ڈرو جس نے تم کو ایک جان سے پیدا کیا اور اُسی جان سے اس کا جوڑا بنایا اور ان دونوں سے بہت مرد وعورت دنیا میں پھیلادیے۔[1] اُس اللہ سے ڈرو جس کا واسطہ دے کر تم ایک دوسرے سے اپنے حق مانگتے ہو ، اور رشتہ و قرابت کے تعلقات کو بگاڑ نے سے پرہیزکرو۔یقین جانو کہ اللہ تم پر نگرانی کررہا ہے ۔{۱} یتیموں کے مال ان کو واپس دو [2]، اچھے مال کو بُرے مال سے نہ بدل لو[3] ، اور اُن کے مال اپنے مال کے ساتھ ملا کر نہ کھا جا ؤ ، یہ بہت بڑا گناہ ہے۔{ ۲} اور اگر تم کو اندیشہ ہو کہ یتیموں کے ساتھ انصاف نہ کرسکوگے توجوعورتیں تم کو پسندآئیں ان میں سے دو دو ، تین تین، چار چار سے نکاح کرلو۔[4] لیکن اگر تمہیں اندیشہ ہو کہ ان کے ساتھ عدل نہ کر سکوگے تو پھر ایک ہی بیوی کرو[5] یا اُن عورتوں کو زوجیت میں لا ؤ جو تمہارے قبضے میں آئی [6]ہیں، بے انصافی سے بچنے کے لیے یہ زیادہ قر ین ِصواب ہے۔ {۳} اور عورتوں کے مہرخوش دلی کے ساتھ ( فرض جانتے ہوئے) ادا کرو ،البتہ اگر وہ خود اپنی خوشی سے مہرکاکوئی حصہ تمہیں معاف کردیں تو اُسے تم مزے سے کھا سکتے ہو۔[7]{ ۴} اور اپنے وہ مال جنہیں اللہ نے تمہارے لئے قیام زندگی کا ذریعہ بنایا ہے ، نادان لوگوں کے حوالے نہ کرو، البتہ انہیں کھانے اور پہننے کے لیے دو ، اور انہیں نیک ہدایت کرو ۔[8]{۵} اور یتیموں کی آزمائش کرتے رہو یہاں تک کہ وہ نکاح کے قابل عمر کو پہنچ جائیں۔[9] پھر اگر تم ان کے اندر اہلیت پا ؤ تو ان کے مال اُن کے حوالے کردو ۔[10] ایسا کبھی نہ کرنا کہ حدِّانصاف سے تجاوز کرکے اس خوف سے اُن کے مال جلدی جلدی کھاجا ؤ کہ وہ بڑے ہوکر اپنے حق کا مطالبہ کریں گے۔ یتیم کا جو سرپرست مالدار ہو وہ پرہیزگاری سے کام لے اور جو غریب ہو وہ معروف طریقہ سے کھائے ۔ [11]پھر جب اُن کے مال ان کے حوالے کرنے لگو تو لوگوں کو اس پر گواہ بنالو ، اور حساب لینے کے لیے اللہ کافی ہے ۔{۶} مردوں کے لیے اُس مال میں حصّہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو ، اور عورتوں کے لیے بھی اس مال میں حصّہ ہے جو ماں باپ اور قریبی رشتہ داروں نے چھوڑا ہو ، خواہ تھوڑا ہو یا بہت [12] اور یہ حصہ ( اللہ کی طرف سے ) مقرر ہے ۔{۷} اور جب تقسیم کے موقع پر کنبہ کے لوگ اور یتیم اور مسکین آئیں تو اس مال میں سے ان کو بھی کچھ دو اور اُن کے ساتھ بھلے مانسوں کی سی بات کرو۔[13]{۸} لوگوں کو اس بات کا خیال کرکے ڈرنا چاہئے کہ اگر وہ خود اپنے پیچھے بے بس اولاد چھوڑتے تو مرتے وقت انہیں اپنے بچوں کے حق میں کیسے کچھ اندیشے لاحق ہوتے ۔پس چاہیے کہ وہ اللہ کا خوف کریں اور راستی کی بات کریں ۔ {۹} جو لوگ ظلم کے ساتھ یتیموں کے مال کھاتے ہیں درحقیقت وہ اپنے پیٹ آگ سے بھرتے ہیں اور وہ ضرور جہنم کی بھڑکتی ہوئی آگ میں جھونکے جائیں [14]گے۔{۱۰} تمہاری اولاد کے بارے میں اللہ تمہیں ہدایت کرتا ہے کہ : مرد کا حصّہ دو عورتوں کے برابر [15]ہے۔اگر (میت کی وارث ) دو سے زائد لڑکیاں ہوں تو انہیں ترکے کا دوتہائی دیا جائے۔[16] اور اگر ایک ہی لڑکی وارث ہو تو آدھا تر کہ اس کا ہے ۔ اگر میت صاحب اولاد ہوتو اس کے والدین میں سے ہر ایک کوتر کے کا چھٹا حصّہ ملنا چاہیے۔[17] اور اگر وہ صاحب اولاد نہ ہو اور والدین ہی اس کے وارث ہوں تو ماں کو تیسرا حصّہ دیا جائے۔[18] اور اگر میت کے بھائی بہن بھی ہوں تو ماں چھٹے حصہ کی حق دار ہوگی۔[19] (یہ سب حصّے اس وقت نکالے جائیں گے) جب کہ وصیت جو میت نے کی ہو پوری کردی جائے اور قرض جو اس پر ہو ادا کر دیا جائے۔[20] تم نہیں جانتے کہ تمہارے ماں باپ اور تمہاری اولاد میں سے کون بلحاظِ نفع تم سے قریب تر ہے۔ یہ حصّے اللہ نے مقرر کردیے ہیں ، اور اللہ یقینا سب حقیقتوں سے واقف اور ساری مصلحتوں کا جاننے والا ہے۔[21] {۱۱} اور تمہاری بیویوں نے جو کچھ چھوڑا ہو اس کا آدھا حصہ تمہیں ملے گا اگر وہ بے اولاد ہوں ، ورنہ اولاد ہونے کی صورت میں ترکہ کا ایک چوتھائی حصہ تمہارا ہے جبکہ وصیت جو انہوں نے کی ہو پوری کردی جائے، اور قرض جو اُنہو ں نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے ۔ اور وہ تمہارے ترکہ میں سے چوتھائی کی حقدار ہوں گی اگر تم بے اولادہو ، ورنہ صاحب اولاد ہونے کی صورت میں ان کا حصہ آٹھواں ہوگا ،[22] بعد اس کے کہ جو وصیت تم نے کی ہو وہ پوری کردی جائے، اور جو قرض تم نے چھوڑا ہو وہ ادا کردیا جائے ۔ اور اگر وہ مرد یا عورت ( جس کی میراث تقسیم طلب ہے ) بے اولاد بھی ہو اور اس کے ماں باپ بھی زندہ نہ ہوں ، مگر اس کا ایک بھائی یا ایک بہن موجود ہو تو بھائی اور بہن ہر ایک کو چھٹا حصّہ ملے گا ، اور بھائی بہن ایک سے زیادہ ہوں تو کُل ترکہ کے ایک تہائی میں وہ سب شریک ہوں گے ،[23] جبکہ وصیت جو کی گئی ہو پوری کردی جائے ، اور قرض جو میّت نے چھوڑا ہو ادا کردیا جائے ، بشر طیکہ وہ ضرر رساں [24]نہ ہو ۔ یہ حکم ہے اللہ کی طرف سے اور اللہ دانا و بینا اور نرم خو ہے۔[25]{ ۱۲} یہ اللہ کی مقرر کی ہوئی حدیں ہیں۔جو اللہ اور اس کے رسول کی اطاعت کرے گا اُسے اللہ ایسے باغوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی اور ان باغوں میں وہ ہمیشہ رہے گا اور یہی بڑی کامیابی ہے۔{ ۱۳} اور جو اللہ اور اس کے رسُول ؐ کی نافرمانی کرے گا اور اس کی مقرر کی ہوئی حدوں سے تجاوز کرجائے گا اُسے اللہ آگ میں ڈالے گا جس میں وہ ہمیشہ رہے گا اور اس کے لیے رسوا کُن سزا ہے۔[25a] { ۱۴} تمہاری عورتوں میں سے جو بد کاری کی مرتکب ہوں اُن پر اپنے میں سے چار آدمیوں کی گواہی لو، اور اگر چار آدمی گواہی دے دیں تو ان کو گھروں میں بندر کھو یہاں تک کہ انہیں موت آجائے یا اللہ ان کے لیے کوئی راستہ نکال دے۔ {۱۵} اور تم میں سے جو اس فعل کا ارتکاب کریں ان دونوں کو تکلیف دو ، پھر اگر وہ توبہ کریں اور اپنی اصلاح کرلیں تو انہیں چھوڑدو کہ اللہ بہت توبہ قبول کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔[26] {۱۶} ہاں یہ جان لو کہ اللہ پر توبہ کی قبولیت کا حق انہی لوگوں کے لیے ہے جونادانی کی وجہ سے کوئی بُرافعل کرگزرتے ہیں اور اس کے بعد جلدی ہی توبہ کرلیتے ہیں۔ ایسے لوگوں پر اللہ اپنی نظر عنایت سے پھر متوجہ ہوجاتا ہے اور اللہ ساری باتوں کی خبر رکھنے والا اور حکیم و دانا ہے ۔ {۱۷} مگر توبہ ان لوگوں کے لیے نہیں ہے جو برُے کام کئے چلے جاتے ہیں یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کی موت کا وقت آجاتا ہے اس وقت وہ کہتا ہے کہ اب میں نے توبہ کی۔ اور اسی طرح توبہ ان لوگوں کے لیے بھی نہیں ہے جو مرتے دم تک کافررہیں ۔ ایسے لوگوں کے لیے توہم نے دردناک سزاتیار کررکھی ہے۔[27] {۱۸} اے لوگو جو ایمان لائے ہو ! تمہارے لئے یہ حلال نہیں ہے کہ زبردستی عورتوں کے وارث بن بیٹھو۔[28] اور نہ یہ حلال ہے کہ انہیں تنگ کرکے اُس مہر کا کچھ حصہ اُڑالینے کی کوشش کرو جو تم انہیں دے چکے ہو ۔ ہاں اگر وہ کسی صریح بد چلنی کی مرتکب ہوں (توضرور تمہیں تنگ کرنے کا حق [29]ہے ) ۔ ان کے ساتھ بھلے طریقہ سے زندگی بسر کرو ۔اگر وہ تمہیں ناپسندہوں تو ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسندنہ ہو مگر اللہ نے اسی میں بہت کچھ بھلائی رکھ دی ہو۔[30]{۱۹} اور اگر تم ایک بیوی کی جگہ دُوسری بیوی لے آنے کا ارادہ ہی کرلو تو خواہ تم نے اُسے ڈھیر سا مال ہی کیوں نہ دیا ہو ، اس میں سے کچھ واپس نہ لینا ۔ کیا تم اُسے بہتان لگاکر اور صریح ظلم کرکے واپس لوگے ؟{۲۰} اور آخر تم اُسے کس طرح لے لوگے جب کہ تم ایک دوسرے سے لطف اندوز ہوچکے ہو اور وہ تم سے پختہ عہدلے چکی[31] ہیں ؟{۲۱} اور جن عورتوں سے تمہارے باپ نکاح کرچکے ہوں اُن سے ہر گز نکاح نہ کرو ، مگر جو پہلے ہوچکا سو[32] ہوچکا۔ درحقیقت یہ ایک بے حیائی کا فعل ہے،ناپسندیدہ ہے اوربراچلن ہے۔[33] { ۲۲} تم پر حرام کی گئیں تمہاری مائیں،[34] بیٹیاں،[35] بہنیں،[36]پھوپھیاں ، خالائیں ، بھتیجیاں، بھانجیاں،[37] اور تمہاری وہ مائیں جنہوں نے تم کو دُودھ پلایا ہو ، اور تمہاری دُودھ شریک بہنیں،[38] اور تمہاری بیویوں کی مائیں،[39] اور تمہاری بیویوں کی لڑکیاں جنہوں نے تمہاری گودوں میں پرورش پائی ہے۔[40] اُن بیویوں کی لڑکیاں جن سے تمہارا تعلق زن وشو ہوچکا ہو۔ ورنہ اگر (صرف نکاح ہوا ہو اور ) تعلق زن وشونہ ہوا ہو تو (انہیں چھوڑ کر ان کی لڑکیوں سے نکاح کرلینے میں ) تم پر کوئی مواخذہ نہیں ہے۔ اور تمہارے ان بیٹوں کی بیویاں جو تمہاری صُلب سے ہوں[41]۔ اور یہ بھی تم پر حرام کیا گیا ہے کہ ایک نکاح میں دوبہنوں کو جمع کرو،[42] مگر جو پہلے ہوگیا سو ہوگیا، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔[43]{ ۲۳}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)