سورۃاٰل عمران   -  3 : 15-92 / 200کہو : میں تمہیں بتا ؤں کہ اِن سے زیادہ اچھی چیز کیا ہے ؟ جو لوگ تقویٰ کی روش اختیار کریں ، اُن کے لیے ان کے رَبّ کے پاس باغ ہیں ، جن کے نیچے نہر یں بہتی ہوں گی ، وہاں انہیں ہمیشگی کی زندگی حاصل ہوگی ، پاکیزہ بیویاں ان کی رفیق ہوں گی[11] اور اللہ کی رضا سے وہ سرفراز ہوں گے ۔ اللہ اپنے بندوں کے رویے پر گہری نظر رکھتا ہے۔[12] { ۱۵} یہ وہ لوگ ہیں،جوکہتے ہیں کہ ’’ مالک ! ہم ایمان لائے ، ہماری خطا ؤں سے درگزر فرما اور ہمیں آتش دوزخ سے بچالے‘‘۔ {۱۶} یہ لوگ صبر کرنے والے ہیں ،[13] راست باز ہیں ، فرماں بردار اور فیاض ہیں اور رات کی آخری گھڑیوں میں اللہ سے مغفرت کی دُعائیں مانگا کرتے ہیں ۔{۱۷} اللہ نے خود اس بات کی شہادت دی ہے کہ اُس کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں ہے[14] اور فرشتے اور سب اہل علم بھی راستی اور انصاف کے ساتھ اس پرگواہ ہیں[15] کہ اُس زبردست حکیم کے سوا فی الواقع کوئی اِلٰہ نہیں ہے۔{۱۸} اللہ کے نزدیک دین صرف اسلام ہے۔[16] اس دین سے ہٹ کر جو مختلف طریقے ان لوگوں نے اختیار کئے جنہیں کتاب دی گئی تھی ، اُن کے ِاس طرز عمل کی کوئی وجہ اِس کے سوانہ تھی کہ اُ نہوں نے علم آجانے کے بعد آپس میں ایک دوسرے پرزیاد تی کرنے کے لیے ایسا کیا[17] اور جو کوئی اللہ کے احکام وہدایات کی اطاعت سے انکار کردے ، اللہ کو اس سے حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی ۔{۱۹} اب اگر( اے نبی ؐ!) یہ لوگ تم سے جھگڑا کریں ، توان سے کہو : ’’ میں نے اور میرے پیرووں نے تو اللہ کے آگے سر تسلیم خم کردیا ہے ‘‘ پھر اہل کتاب اور غیر اہل کتاب دونوں سے پوچھو ’’ کیا تم نے بھی اُس کی اطاعت وبندگی قبول کی ؟ [18] ‘‘ اگر کی تو وہ راہ راست پاگئے ،اور اگر اس سے منھ موڑا تو تم پر صرف پیغام پہنچادینے کی ذمہّ داری تھی ۔ آگے اللہ خود اپنے بندوں کے معاملات دیکھنے والا ہے ۔{۲۰} جو لوگ اللہ کے احکام وہدایات کو ماننے سے انکار کرتے ہیں اور اس کے پیغمبروں کو ناحق قتل کرتے ہیں اور ایسے لوگوں کی جان کے درپے ہوجاتے ہیں جو انسانوں ہی میں سے عدل وراستی کا حکم دینے کے لیے اُٹھیں، ان کو درد ناک سزا کی خوشنجری سنادو ۔[19]{۲۱} یہ وہ لوگ ہیں جن کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع [20]ہوگئے ،اور ان کا مددگار کوئی نہیں ہے ۔[21]{ ۲۲} تم نے دیکھا نہیں کہ جن لوگوں کو کتاب کے علم میں سے کچھ حصہ ملا ہے ، ان کا حال کیا ہے ؟ اُنہیں جب کتابِ الہٰی کی طرف بُلا یا جاتا ہے تا کہ وہ ان کے درمیان فیصلہ کرے [22]، تو ان میں سے ایک فریق اس سے پہلوتہی کرتا ہے اور اس فیصلے کی طرف آنے سے منھ پھیرجاتا ہے۔{ ۲۳} ان کا یہ طرز عمل اس وجہ سے ہے کہ وہ کہتے ہیں ’’ آتش دوزخ توہمیں مس تک نہ کرے گی اور اگر دوزخ کی سزا ہم کو ملے گی بھی تو بس چند[23]روز ‘‘ ۔ ان کے خود ساختہ عقیدوں نے ان کو اپنے دین کے معاملے میں بڑی غلط فہمیوں میں ڈال رکھا ہے۔ { ۲۴} مگر کیا بنے گی ان پر جب ہم انہیں اس روز جمع کریں گے جس کا آنا یقینی ہے ؟ اس روز ہر شخص کو اس کی کمائی کا بدلہ پورا پورا دے دیا جائے گا اور کسی پر ظلم نہ ہوگا ۔{۲۵} کہو :اے اللہ !ملک کے مالک! تو جسے چاہے حکومت دے اور جس سے چاہے چھین لے۔ اور جسے چاہے عزت بخشے اور جس کو چاہے ذلیل کردے۔بھلائی تیرے اختیار میں ہے۔بے شک تو ہر چیز پر قادر ہے ۔ {۲۶} رات کو دن میں پروتا ہوالے آتا ہے اور دن کو رات میں۔ بے جان میں سے جان دار کو نکا لتا ہے اور جان دار میں سے بے جان کو ۔اور جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔ [24]{۲۷} مومنین اہل ایمان کو چھوڑ کر کافروں کو اپنا رفیق اور یارومددگار ہر گزنہ بنائیں جو ایسا کرے گا اس کا اللہ سے کوئی تعلق نہیں ۔ہاں یہ معاف ہے کہ تم ان کے ظلم سے بچنے کے لیے بظاہر ایسا طرز عمل اختیار کر جا ؤ ۔ [25]مگر اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور تمہیں اُسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے۔[26] {۲۸} اے نبی ؐ! لوگوں کو خبردار کردو کہ تمہارے دلوں میں جو کچھ ہے اسے خواہ تم چھپا ؤ یا ظاہر کرو ، اللہ بہر حال اسے جانتا ہے ، زمین اور آسمانوں کی کوئی چیز اُس کے علم سے باہر نہیں ہے اور اس کا اقتدار ہر چیز پر حاوی ہے ۔ {۲۹} وہ دن آنے والا ہے جب ہر نفس اپنے کئے کا پھل حاضر پائے گا خواہ اس نے بھلائی کی ہوایا برُائی ۔ اُس روز آدمی یہ تمنا کرے گا کہ کاش ابھی یہ دن اس سے بہت دور ہوتا! اللہ تمہیں اپنے آپ سے ڈراتا ہے اور وہ اپنے بندوں کا نہایت خیر خواہ ہے ۔[27]{۳۰} (اے نبی ؐ! ) لوگوں سے کہہ دو کہ ’’ اگر تم حقیقت میں اللہ سے محبت رکھتے ہو تو میری پیروی اختیار کرو ، اللہ تم سے محبت کرے گا اور تمہاری خطاؤں سے در گزر فرمائے گا وہ بڑا معاف فرمانے والا اور رحیم ہے۔‘‘ {۳۱} ’’ ان سے کہو کہ’’ اللہ اور رسول ؐکی اطاعت قبول کرو ‘‘پھر اگر وہ تمہاری یہ دعوت قبول نہ کریں ، تو یقینا یہ ممکن نہیں ہے کہ اللہ ایسے لوگوں سے محبت کرے جو( اس کی اور اس کے رسولؐ کی اطاعت سے ) انکار کرتے ہوں ۔[28]{ ۳۲} اللہ [29]نے آدم ؑ اور نوحؑ اور آل ِابراہیم اور آلِ عمران[30] کو تمام دُنیا والوں پر ترجیح دے کر (اپنی رسالت کے لیے ) منتخب کیا تھا۔{۳۳} یہ ایک سلسلے کے لوگ تھے جو ایک دوسرے کی نسل سے پیدا ہوئے تھے ، اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔[31]{ ۳۴} ( وہ اس وقت سن رہا تھا ) جب عمران کی عورت [32] کہہ رہی تھی کہ: ’’میرے پروردگار! میں اس بچے کو جو میرے پیٹ میں ہے تیری نذر کرتی ہوں ، وہ تیرے ہی کام کے لیے وقف ہوگا۔میری اس پیش کش کو قبول فرما تو سننے اور جاننے والا ہے۔‘‘[33] {۳۵} پھر جب وہ بچی اس کے ہاں پیدا ہوئی تو اس نے کہا ’’ مالک! میرے ہاں تو لڑکی پیدا ہوگئی ہے ۔ حالانکہ جو کچھ اس نے جنا تھا، اللہ کواس کی خبر تھی اور لڑکا ، لڑکی کی طرح نہیں[34] ہوتا ۔ خیر ،میں نے اس کا نام مریم رکھ دیا ہے اور میں اسے اور اس کی آئندہ نسل کو شیطان مردود کے فتنے سے تیری پناہ میں دیتی ہوں ‘‘ {۳۶} آخرکار اس کے رَبّ نے اس لڑکی کو بخوشی قبول فرمالیا، اُسے بڑی اچھی لڑکی بنا کراٹھایا،اور زکریّا ؑکو ا س کا سرپرست بنادیا۔زکریّا ؑ[35] جب کبھی اس کے پاس محراب [36]میں جاتا تو اُس کے پاس کچھ نہ کچھ کھانے پینے کا سامان پاتا۔ پوچھتا مریم !یہ تیرے پاس کہاں سے آیا ؟ وہ جواب دیتی اللہ کے پاس سے آیا ہے ، اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے ۔{۳۷} یہ حال دیکھ کر زکریّاؑنے اپنے رَبّ کو پکارا ’’ پروردگار!اپنی قدرت سے مجھے نیک اولاد عطا کر۔ توہی دُعا سُننے والا ہے ‘‘[37]{۳۸} جواب میں فرشتوں نے آوازدی جب کہ وہ محراب میں کھڑا نماز پڑھ رہا تھا کہ: ’’اللہ تجھے یحییٰ [38]کی خوش خبری دیتا ہے ۔ وہ اللہ کی طرف سے ایک فرمان [39]کی تصدیق کرنے والا بن کر آئے گا۔ اس میں سرداری وبزرگی کی شان ہوگی۔ کمال درجہ کا ضابط ہوگا۔ نبوت سے سرفراز ہوگا اور صالحین میں شمار کیا جائے گا‘‘۔ {۳۹} زکریّا ؑنے کہا ’’پروردگار!بھلا میرے ہاں لڑکا کہاں سے ہوگا ؟ میں تو بہت بوڑھا ہوچکاہوں اور میری بیوی بانجھ ہے‘‘ جواب ملا ’’ایسا ہی [40]ہوگا اللہ جو چاہتا ہے کرتا ہے‘‘ {۴۰} عرض کیا ’’مالک! پھر کوئی نشانی میرے لئے مقرر فرمادے،[41]کہا :’’نشانی یہ ہے کہ تم تین دن تک لوگوں سے اشارہ کے سوا کوئی بات چیت نہ کروگے ( یانہ کرسکوگے) اس دوران میں اپنے رَبّ کو بہت یاد کرنا اور صبح وشام اس کی تسبیح کرتے رہنا ‘‘۔[42]{۴۱} پھر وہ وقت آیا جب مریم سے فرشتوں نے آکر کہا’’ اے مریم! اللہ نے تجھے برگزیدہ کیا اور پاکیزگی عطا کی اور تمام دنیا کی عورتوں پر تجھ کو ترجیح دے کر اپنی خدمت کے لیے چُن لیا۔{ ۴۲} اے مریم! اپنے رَبّ کی تابع فرمان بن کررہ ، اس کے آگے سربسجود ہو ، اور جو بندے اس کے حضور جھکنے والے ہیں ان کے ساتھ تو بھی جھک جا‘‘{۴۳} اے نبی ؐ!یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تم کو وحی کے ذریعے سے بتارہے ہیں ، ورنہ تم اُس وقت وہاں موجود نہ تھے ،جب ہیکل کے خادم یہ فیصلہ کرنے کے لیے کہ مریم کا سرپرست کون ہو؟ ا پنے اپنے قلم پھینک [43]رہے تھے، اور نہ تم اُس وقت حاضر تھے جب ان کے درمیان جھگڑا برپا تھا۔ { ۴۴} اور جب فرشتوں نے کہا ’’اے مریم ! اللہ تجھے اپنے ایک فرمان کی خوشنجری دیتا ہے۔ اس کا نام مسیح عیسیٰ ابن مریم ہوگا ،دنیا اور آخرت میں معزز ہوگا، اللہ کے مقرب بندوں میں شمار کیا جائے گا {۴۵} لوگوں سے گہوارے میں بھی کلام کرے گا اور بڑی عمرکو پہنچ کر بھی، اور وہ ایک مرد صالح ہوگا‘‘۔{۴۶} یہ سُن کر مریم بولی: ’’پروردگار! میرے ہاں بچہ کہاں سے ہوگا مجھے تو کسی مرد نے ہاتھ تک نہیں لگایا ‘‘جواب ملا : ’’ایسا ہی [44]ہوگا، اللہ جو چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ۔وہ جب کسی کام کے کرنے کا فیصلہ فرماتا ہے تو بس کہتا ہے کہ ہوجا اور وہ ہوجاتا ہے ‘‘۔ {۴۷} (فرشتوں نے پھر اپنے سلسلۂ کلام میں کہا )’’ اور اللہ اُسے کتاب اور حکمت کی تعلیم دے گا تو رات اور انجیل کا علم سکھائے گا{۴۸} اور بنی اسرائیل کی طرف اپنا رسول مقرر کرے گا‘‘۔(اور جب وہ بحیثیت رسول بنی اسرائیل کے پاس آیا تو اُس نے کہا)’’ میں تمہارے رَبّ کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں، میں تمہارے سامنے مٹی سے پرندے کی صورت کا ایک مجسمہ بناتا ہوں اور اس میں پھونک مارتا ہوں وہ اللہ کے حکم سے پرندہ بن جاتا ہے ۔ میں اللہ کے حکم سے مادر زاداندھے اور کوڑھی (برص کے مریض )کو اچھا کرتا ہوں اور اس کے اِذن سے مُردے کو زندہ کرتا ہوں۔ میں تمہیں بتاتاہوں کہ تم کیا کھاتے ہو اور کیا اپنے گھروں میں ذخیرہ کرکے رکھتے ہو۔ اس میں تمہارے لیے کافی نشانی ہے اگر تم ایمان لانے والے ہو۔[45] {۴۹} اور میں اس تعلیم وہدایت کی تصدیق کرنے والا بن کرآیاہوں جو تو رات میں سے اس وقت میرے زمانہ میں موجود ہے۔[46] اور اس لیے آیا ہوں کہ تمہارے لئے بعض اُن چیزوں کو حلال کردوں جو تم پر حرام کردی گئی ہیں[47] دیکھو۔ میں تمہارے رَبّ کی طرف سے تمہارے پاس نشانی لے کر آیا ہوں ، لہٰذا اللہ سے ڈرواور میری اطاعت کرو۔ {۵۰} اللہ میرا رَبّ بھی ،ہے اور تمہارا رَبّ بھی لہٰذا تم اُسی کی بندگی اختیار کرو ، یہی سیدھا راستہ ہے‘‘[48]{۵۱} جب عیسی ؑ نے محسوس کیا کہ بنی اسرائیل کفر وانکار پر آمادہ ہیں تو اس نے کہا ’’کون اللہ کی راہ میں میرا مددگار ہوتا ہے ‘‘؟ حوار یوں [49]نے جواب دیا :’ ’ہم اللہ کے مددگار ہیں[50] ہم اللہ پر ایمان لائے ، آپ گواہ رہیں کہ ہم مسلم ( اللہ کے آگے سراطاعت جھکا دینے والے) ہیں۔{ ۵۲} مالک! جو فرمان تو نے نازل کیا ہے ہم نے اسے مان لیا ،اور رسول کی پیروی قبول کی، ہمارا نام گواہی دینے والوں میں لکھ لے۔‘‘{۵۳} پھر بنی اسرئیل (مسیح ؑکے خلاف) خفیہ تدبیریں کرنے لگے ۔ جواب میں اللہ نے بھی اپنی خفیہ تدبیر کی اور ایسی تدبیروں میں اللہ سب سے بڑھ کرہے ۔ { ۵۴} ( وہ اللہ کی خفیہ تدبیر ہی تھی) جب اُس نے کہا کہ ’’ اے عیسیٰ ؑ!اب میں تجھے واپس لے لوں گا[51] اور تجھ کو اپنی طرف اُٹھالوں گا اور جنھوں نے تیرا انکار کیا ہے ان سے (یعنی ان کی معّیت سے اور اُن کے گندے ماحول میں اُن کے ساتھ رہنے سے) تجھے پاک کردوں گا اور تیری پیروی کرنے والوں کو قیامت تک ان لوگوں پر بالادست رکھوں گا ،جنہوں نے تیرا(توحید اور تیری رسالت کا) انکار کیا ہے ۔[52]پھر تم سب کو آخر کار میرے پاس آنا ہے ، اُس وقت میں اُن باتوں کا فیصلہ کردوں گا جن میں تمہارے درمیان اختلاف ہوا ہے ۔{۵۵} جن لوگوں نے کفر وانکار کی روش اختیار کی ہے، انہیں دنیا اور آخرت دونوں میں سخت سزادوں گا اور وہ کوئی مددگار نہ پائیں گے۔{۵۶} اور جنہوں نے ایمان اور نیک عملی کا رویہ اختیار کیا ہے اُنہیں اُن کے اجر پورے پورے دے دیے جائیں گے۔ اور (خوب جان لے کہ ) ظالموں سے اللہ ہرگز محبت نہیں کرتا ‘‘{۵۷} اے نبی ؐ! یہ آیات اور حکمت سے لبریز تذکرے ہیں جو ہم تمہیں سنارہے ہیں ۔{۵۸} اللہ کے نزدیک عیسی ؑکی مثال آدم ؑ کی سی ہے کہ اللہ نے اُسے مٹی سے پیدا کیا اور حکم دیا کہ ہوجا اور وہ ہوگیا [53]{۵۹} یہ اصل حقیقت ہے جو تمہارے رَبّ کی طرف سے بتائی جارہی ہے اور تم ان لوگوں میں شامل نہ ہوجو اس میں شک کرتے ہیں[54]{۶۰} یہ علم آجانے کے بعد اب جو کوئی اس معاملہ میں تم سے جھگڑا کرے تو اے نبی ؐ! اس سے کہو کہ ’’ آ ؤ ہم اور تم خود بھی آجائیں اور اپنے اپنے بال بچوں کو بھی لے آئیں اور اللہ سے دعا کریں کہ جو جھوٹا ہواس پراللہ کی لعنت ہو‘‘[55]{۶۱} یہ بالکل صحیح واقعات ہیں ، اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں ہے اور وہ اللہ ہی کی ہستی ہے جس کی طاقت سب سے بالا اور جس کی حکمت نظام ِعالم میں کارفرماہے { ۶۲} پس اگر یہ لوگ (اس شرط پر مقابلہ میں آنے سے ) منھ موڑیں تو ( اُن کا مفسد ہونا صاف کھل جائے گا) اور اللہ تو مفسدوں کے حال سے واقف ہی ہے۔{ ۶۳} اے نبی ؐ ! کہو[56] :’’ اے اہل کتاب !آ ؤ ایک ایسی بات کی طرف جو ہمارے اور تمہارے درمیان یکساں [57]ہے۔ یہ کہ ہم اللہ کے سوا کسی کی بندگی نہ کریں ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرائیں ، اور ہم میں سے کوئی اللہ کے سوا کسی کو اپنا رَبّ نہ بنالے ‘‘۔ اس دعوت کو قبول کرنے سے اگر وہ منھ موڑیں تو صاف کہہ دو کہ گواہ رہو ، ہم تو مسلم ( صرف اِلٰہ واحد کی بندگی واطاعت کرنے والے) ہیں۔ { ۶۴} اے اہل کتاب ، تم ابراہیم ؑ کے (دین کے ) بارے میں کیوں جھگڑا کرتے ہو؟ تو رات اور انجیل تو ابراہیم ؑ کے بعد ہی نازل ہوئی ہیں۔ پھر کیا تم اتنی بات بھی نہیں سمجھتے۔[58] { ۶۵} تم لوگ جن چیزوں کا علم رکھتے ہو ان میں تو خوب بحثیں کرچکے، اب اُن معاملات میں کیوںبحث کرنے چلے ہو جن کا تمہارے پاس کچھ بھی علم نہیں ۔ اللہ جانتا ہے ، تم نہیں جانتے۔{۶۶} ابراہیم ؑ نہ یہودی تھا نہ عیسائی ، بلکہ وہ تو ایک مسلم یکسو تھا [59]۔ اور وہ ہرگز مشرکوں میں سے نہ تھا {۶۷} ابراہیم ؑ سے نسبت رکھنے کا سب سے زیادہ حق اگر کسی کو پہنچتا ہے تو اُن لوگوں کو پہنچتا ہے جنہوں نے اس کی پیروی کی اور اب یہ نبی ؐاور اس کے ماننے والے اِس نسبت کے زیادہ حق دار ہیں۔ اللہ صرف انہی کا حامی و مددگار ہے جو ایمان رکھتے ہوں۔{۶۸} (اے ایما ن لانے والو!) اہل کتاب میں سے ایک گروہ چاہتا ہے کہ کسی طرح تمہیں راہ راست سے ہٹادے ، حالانکہ درحقیقت وہ اپنے سواکسی کو گمراہی میں نہیں ڈال رہے ہیں مگر انہیں اس کا شعور نہیں ہے؟ {۶۹} اے اہل ِکتاب! کیوں اللہ کی آیات کا انکار کرتے ہو حالانکہ تم خود ان کا مشاہدہ کررہے ہو ۔[60]{ ۷۰} اے اہلِ کتاب !کیوں حق کو باطل کا رنگ چڑھا کر مشتبہ بناتے ہو؟ کیوں جانتے بوجھتے حق کو چھپاتے ہو؟{۷۱} اہل ِکتا ب میں سے ایک گروہ کہتا ہے کہ اس نبی(محمد ؐ) کے ماننے والوں پر جو کچھ نازل ہوا ہے اس پر صبح ایمان لا ؤ ، اور شام کو اس سے انکار کردو ، شاید اس ترکیب سے یہ لوگ اپنے ایمان سے پھر جائیں۔[61] {۷۲} نیز یہ لوگ آپس میں کہتے ہیں کہ اپنے مذہب والے کے سوا کسی کی بات نہ مانو۔ اے نبی ؐ! ان سے کہہ دو کہ ’’ اصل میں ہدایت تو اللہ کی ہدایت ہے اوریہ اُسی کی دین ہے کہ کسی کو وہی کچھ دے دیا جائے جو کبھی تم کو دیا گیا تھا ۔ یا یہ کہ دوسروں کو تمہارے رَبّ کے حضور پیش کرنے کے لیے تمہارے خلاف قوی حجت مل جائے‘‘۔ اے نبی ؐ! اُ ن سے کہو کہ:’’ فضل و شرف اللہ کے اختیار میں ہے، جسے چاہے عطا فرمائے، وہ وسیع النظر [62]ہے ، اور سب کچھ جانتا ہے۔{ ۷۳} اپنی رحمت کے لیے جس کو چاہتا ہے مخصوص کرلیتا ہے اور اس کا فضل بہت بڑا ہے‘‘{ ۷۴} اہل کتاب میں کوئی تو ایسا ہے کہ اگر تم اُس کے اعتماد پر مال و دولت کا ایک ڈھیر بھی دے دو تو وہ تمہارا مال تمہیں ادا کردے گا، اور کسی کا حال یہ ہے کہ اگر تم ایک دینا رکے معاملہ میں بھی اس پر بھروسہ کرو تو وہ ادا نہ کرے گا اِلا ّ یہ کہ تم اس کے سرپرسوار ہو جا ؤ۔ ان کی اس اخلاقی حالت کا سبب یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں ’’ اُمیوں (غیر یہودی لوگوں ) کے معاملہ میں ہم پر کوئی مواخذہ نہیں [64]ہے ۔‘‘ اور یہ بات وہ محض جھوٹ گھڑ کر اللہ کی طرف منسوب کرتے ہیں،حالانکہ انہیں معلوم ہے (کہ اللہ نے ایسی کوئی بات نہیں فرمائی ہے) {۷۵} آخر کیوں اُن سے باز پر س نہ ہوگی؟ جو بھی اپنے عہد کو پورا کرے گا اور برائی سے بچ کررہے گا وہ اللہ کا محبوب بنے گا ، کیونکہ پرہیزگار لوگ اللہ کو پسند ہیں {۷۶} رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد اور اپنی قسموں کو تھوڑی قیمت پر بیچ ڈالتے ہیں ، تو ان کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ، اللہ قیامت کے روز نہ ان سے بات کرے گا نہ اُن کی طرف دیکھے گا اور نہ انہیں پاک کرے[65] گا ، بلکہ ان کے لیے تو سخت درد ناک سزا ہے ۔{۷۷} اُن میں کچھ لوگ ایسے ہیں جو کتاب پڑھتے ہوئے اس طرح زبان کا الٹ پھیر کرتے ہیں کہ تم سمجھو جو کچھ وہ پڑھ رہے ہوں وہ کتاب ہی کی عبارت ہے ، حالانکہ وہ کتاب کی عبارت نہیں [66]ہوتی۔ وہ کہتے ہیں کہ یہ جو کچھ ہم پڑھ رہے ہیں یہ اللہ تعالی کی طرف سے ہے ، حالانکہ وہ اللہ تعالی کی طرف سے نہیں ہوتا ،وہ جان بوجھ کر جھوٹ بات اللہ کی طرف منسوب کردیتے ہیں{۷۸} کسی انسان کا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ تو اُس کو کتاب اور حکم اور نبوت عطا فرمائے اور وہ لوگوں سے کہے کہ اللہ کے بجائے تم میرے بندے بن جا ؤ۔ وہ تو یہی کہے گا کہ سچّے ربّانی [67]بنو جیسا کہ اُس کتاب کی تعلیم کا تقاضا ہے جسے تم پڑھتے اور پڑھاتے ہو ۔{۷۹} وہ تم سے ہر گزیہ نہ کہے گا کہ فرشتوں کو یا پیغمبروں کو اپنا رَبّ بنالو۔ کیا یہ ممکن ہے کہ ایک نبی تمہیں کفر کا حکم دے جب کہ تم مسلم ہو؟[68]{۸۰} یاد کرو ، اللہ نے پیغمبروں سے عہد لیا تھا کہ’ ’ آج میں نے تمہیں کتاب اور حکمت ودانش سے نواز اہے ، کل اگر کوئی دوسرا رسول تمہارے پاس اُسی تعلیم کی تصدیق کرتا ہوا آئے جو پہلے سے تمہارے پاس موجود ہے ، تو تم کو اس پر ایمان لانا ہوگا اور اس کی مدد کرنی ہوگی‘‘[69] یہ ارشاد فرماکر اللہ نے پوچھا ’’ کیا تم اس کا اقرار کرتے ہو اور اِس پر میری طرف سے عہد کی بھاری ذمہّ داری اُٹھاتے ہو‘‘ ؟ انہوں نے کہا ’’ ہاں ہم اقرار کرتے ہیں ‘‘ اللہ نے فرمایا ’’اچھا تو گواہ رہو اور میں بھی تمہارے ساتھ گواہ ہوں‘‘ {۸۱} اس کے بعد جو اپنے عہد سے پھر جائے وہی فاسق ہے ‘‘[70]{۸۲} اب کیا یہ لوگ اللہ کی اطاعت کا طریقہ ( دین ُاللہ) چھوڑ کر کوئی اور طریقہ چاہتے ہیں؟ حالانکہ آسمان و زمین کی ساری چیزیں چارونا چار اللہ ہی کی تابع فرمان ( مسلم ) [71] ہیں اور اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے ۔ {۸۳} اے نبی ؐ! کہو کہ ’’ ہم اللہ کو مانتے ہیں ، اُس تعلیم کو مانتے ہیں جو ہم پر نازل کی گئی ہے ، اُن تعلیمات کو بھی مانتے ہیں جو ابراہیم ؑ ‘ اسماعیل ؑ ، اسحاق ؑ یعقوب ؑ اور اولادیعقوب ؑ پر نازل ہوئی تھیں، اور اُن ہدایات پر بھی ایمان رکھتے ہیں جو موسیٰ ؑاور عیسیٰ ؑ اور دوسرے پیغمبروں کو ان کے رَبّ کی طرف سے دی گئیں ۔ ہم ان کے درمیان فرق نہیں[72] کرتے اور ہم اللہ کے تابعِ فرمان ( مسلم ) ہیں‘‘ {۸۴} اس فرماں برداری (اسلام ) کے سوا جو شخص کوئی اور طریقہ اختیار کرنا چاہے اس کا وہ طریقہ ہر گز قبول نہ کیا جائے گا اور آخرت میں وہ ناکام ونامراد رہے گا۔{۸۵} کیسے ہوسکتا ہے کہ اللہ اُن لوگوں کو ہدایت بخشے جنہوں نے نعمت ایمان پالینے کے بعد پھر کفر اختیار کیا حالانکہ و ہ خود اس بات پر گواہی دے چکے ہیں کہ یہ رسول حق پر ہے اور اِن کے پاس روشن نشانیاں بھی آچکی ہیں۔[73] اللہ ظالموں کو توہدایت نہیں دیا کرتا ۔{۸۶} ان کے ظلم کا صحیح بدلہ یہی ہے کہ ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی پھٹکار ہے ۔{۸۷} اسی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے، نہ ان کی سزا میں تخفیف ہوگی اور نہ انہیں مہلت دی جائے گی ۔ {۸۸} البتہ وہ لوگ بچ جائیں گے جو اس کے بعد تو بہ کر کے اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں ، اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے ۔{۸۹} مگر جن لوگوں نے ایمان لانے کے بعد کفر اختیار کیا، پھر اپنے کفر میں بڑھتے [74]چلے گئے ان کی توبہ ہر گز قبول نہ ہوگی ، ایسے لوگ تو پکے گمراہ ہیں۔{۹۰} یقین رکھو ، جن لوگوں نے کفر اختیار کیا اور کفر ہی کی حالت میں جان دی ان میں سے کوئی اگر اپنے آپ کو سزا سے بچانے کے لیے روئے زمین بھر کر بھی سونا فدیہ میں دے تو اسے قبول نہ کیا جائے گا ۔ ایسے لوگوں کے لیے درد ناک سزاتیار ہے اور وہ اپنا کوئی مدد گا رنہ پائیں گے ۔{۹۱} تم نیکی کو نہیں پہنچ سکتے جب تک کہ اپنی وہ چیزیں ( اللہ کی راہ میں ) خرچ نہ کرو جنہیں تم عزیز رکھتے ہو[75]، اور جو کچھ تم خرچ کرو گے ، اللہ اس سے بے خبر نہ ہوگا {۹۲}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)