سورۃ العنکبوت   -  29 : 46-69 / 69اور اہل کتاب [80]سے بحث نہ کرو مگر عمدہ طریقہ سے۔ [81]سوائے اُن لوگوں کے جواُ ن میں سے ظالم ہوں [82]اور اُن سے کہو کہ ’’ ہم ایمان لائے ہیں اُس چیز پر بھی جو ہماری طرف بھیجی گئی ہے اور اُس چیز پر بھی جو تمہاری طرف بھیجی گئی تھی ، ہمارا اِلٰہ اور تمہارا اِلٰہ ایک ہی ہے اور ہم اُسی کے مسلم (فرمانبردار ) ہیں ‘‘۔[83]{۴۶} (اے نبی ؐ!) ہم نے اسی طرح تمہاری طرف کتاب نازل کی ہے، [84] اس لیے وہ لوگ جن کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ اِس پر ایمان لاتے ہیں،[85] اور اِن لوگوں میں سے بھی بہت سے اس پر ایمان لارہے ہیں،[86]اور ہماری آیات کا انکار صرف کا فرہی کرتے ہیں [87]{۴۷} (اے نبی ؐ!) تم اس سے پہلے کوئی کتاب نہیں پڑھتے تھے اور نہ اپنے ہاتھ سے لکھتے تھے ، اگر ایسا ہوتا توباطل پرست لوگ شک میں پڑسکتے تھے۔[88]{۴۸} دراصل یہ روشن نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے دلوں میں جنہیں علم بخشا گیا ہے،[89] اور ہماری آیات کا انکار نہیں کرتے مگر وہ جو ظالم ہیں۔{۴۹} یہ لوگ کہتے ہیں کہ ’’کیو ں نہ اُتاری گئیں اِس شخص پر نشانیاں[90] اس کے رَبّ کی طرف سے ‘‘؟ کہو ،’’ نشانیاں تو اللہ کے پاس ہیں اور میں صرف خبردار کرنے والا ہوں کھول کھول کر ‘‘۔{۵۰} اور کیا ان لوگوں کے لیے یہ ( نشانی ) کافی نہیں ہے کہ ہم نے تم پر کتاب نازل کی جو اِنہیں پڑھ کرسُنائی جاتی ہے [91]؟ درحقیقت اِس میں رحمت ہے اور نصیحت اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔[92]{۵۱} ( اے نبی ؐ! ) کہو کہ ’’ میرے اور تمہارے درمیان اللہ گواہی کے لیے کافی ہے ۔ وہ آسمانوں اور زمین میں سب کچھ جانتا ہے ۔ جو لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ سے کفر کرتے ہیں وہی خسارے میں رہنے والے ہیں ‘‘۔{ ۵۲} یہ لوگ تم سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔[93] اگر ایک وقت مقرر نہ کردیا گیا ہو تا تو ان پر عذاب آچکا ہوتا ۔اور یقینا ( اپنے وقت پر ) وہ آکر رہے گا اچانک ، اِس حال میں کہ ا نہیں خبر بھی نہ ہوگی۔ {۵۳} یہ تم سے عذاب جلدی لانے کا مطالبہ کرتے ہیں۔ حالانکہ جہنم اِن کافروں کو گھیرے میں لے چکی ہے۔{۵۴} (اور انہیں پتہ چلے گا) اُس روز جب کہ عذاب انہیں اُوپر سے بھی ڈھانک لے گا اور پا ؤں کے نیچے سے بھی اور (اللہ) کہے گا کہ اب چکھو مزہ ان کرتُوتوں کا جو تم کرتے تھے۔{۵۵} اے میرے بندو !جو ایمان لائے ہو ، میری زمین وسیع ہے ، پس تم میری ہی بندگی بجالا ؤ۔[94] {۵۶} ہر متنفس کو موت کا مزہ چکھنا ہے ، پھر تم سب ہماری طرف ہی پلٹا کر لائے جا ؤ گے[95]{۵۷} جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں۔ اُن کو ہم جنّت کی بلند وبالا عمارتوں میں رکھیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی، وہاں وہ ہمیشہ رہیں گے ، کیا ہی عمدہ اجر ہے عمل کرنے والوں کے لیے۔ [96]{۵۸} اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے صبر کیا ہے[97] اور جو اپنے رَبّ پر بھروسہ کرتے ہیں۔ [98]{۵۹} کتنے ہی جانور ہیں جو اپنا رزق اٹھائے نہیں پھرتے ، اللہ اُن کو رزق دیتا ہے اور تمہارا رازق بھی وہی ہے ، وہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے۔ [99]{۶۰} اگر تم [100] اِن لوگوں سے پوچھو کہ زمین اور آسمانوں کو کس نے پیدا کیا ہے اور چاند اور سُورج کو کس نے مسخر کررکھا ہے تو ضرور کہیں گے کہ اللہ نے ، پھر یہ کدھر سے دھوکا کھارہے ہیں ؟{۶۱} اللہ ہی ہے جو اپنے بندوں میں سے جس کا چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کا چاہتا ہے تنگ کرتا ہے ، یقینا اللہ ہر چیز کا جاننے والا ہے ۔{۶۲} اور اگر تم اِن سے پوچھو کس نے آسمان سے پانی برسایا اور اس کے ذریعہ سے مُردہ پڑی ہوئی زمین کو جلا اُٹھایا تو وہ ضرور کہیں گے اللہ نے ۔کہو ، الحمد للہ[101] ، مگر اِن میں سے اکثر لوگ سمجھتے نہیں ہیں۔{۶۳} اور یہ دنیا کی زندگی کچھ نہیں ہے مگر ایک کھیل اور دل کا بہلاوا[102]۔ اصل زندگی کا گھر تودارِ آخرت ہے۔ کاش یہ لوگ جانتے۔[103]{۶۴} جب یہ لوگ کشتی پر سوار ہوتے ہیں تو اپنے دین کو اللہ کے لیے خالص کرکے اُس سے دُعا مانگتے ہیں ، پھر جب وہ انہیں بچاکر خشکی پر لے آتا ہے تو یکایک یہ شرک کرنے لگتے ہیں{۶۵} تاکہ اللہ کی دی ہوئی نجات پر اُس کا کفر انِ نعمت کریں اور ( حیات دنیا کے ) مزے لوٹیں ۔[104] اچھا عنقریب اِنہیں معلوم ہوجائے گا۔ {۶۶} کیا یہ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم نے ایک پُرامن حرم بنادیا ہے حالاں کہ ان کے گردوپیش لوگ اُچک لئے جاتے ہیں؟[105] کیا پھر بھی یہ لوگ باطل کو مانتے ہیں اور اللہ کی نعمت کا کفران کرتے ہیں ؟{۶۷} اُس شخص سے بڑا ظالم کون ہوگاجو اللہ پر جھوٹ باندھے یا حق کو جھٹلائے جب کہ وہ اس کے سامنے آچکا ہو ،[106] کیا ایسے کافروں کا ٹھکانا جہنم ہی نہیں ہے ؟ {۶۸} جو لوگ ہماری خاطر مجاہدہ کریں گے انہیں ہم اپنے راستے دکھائیں گے،[107] اور یقینا اللہ نیکو کاروں ہی کے ساتھ ہے۔{۶۹}
سورۃالروم   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 30 : 1-60 / 60ا لٓ مّٓ۔{۱} رومی مغلوب ہوگئے ہیں{ ۲} قریب کی سرزمین میں اور اپنی اِس مغلوبیت کے بعد (عنقریب )وہ غالب ہوجائیں گے۔ [1]{۳} چند سال کے اندر۔اللہ ہی کا اختیار ہے پہلے بھی اور بعد میں بھی۔[2]اور وہ دن وہ ہوگا جب کہ مسلمان خوشیاں منائیں گے۔ [3]{۴} اللہ کی بخشی ہوئی فتح پر۔ اللہ نُصرت عطا فرماتا ہے جسے چاہتا ہے ، اور وہ زبردست اور رحیم ہے۔{۵} یہ وعدہ اللہ نے کیا ہے ، اللہ کبھی اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ،مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔{۶} لوگ دنیا کی زندگی کا بس ظاہری پہلو جانتے ہیں اور آخرت سے وہ خودہی غافل ہیں۔[4]{۷} کیا انہوں نے کبھی اپنے آپ میں غورو فکر نہیں کیا ؟ [5]اللہ نے زمین اور آسمانوں کو اور اُن ساری چیزوں کو جو اُن کے درمیان ہیں برحق اور ایک مدتِ مقرر ہی کے لیے پیدا کیا ہے ۔[6] مگر بہت سے لوگ اپنے رَبّ کی ملاقات کے منکر ہیں[7] {۸} اور کیا یہ لوگ کبھی زمین میں چلے پھر ے نہیں ہیں کہ انہیں اُن لوگوں کا انجام نظر آتا جو ان سے پہلے گزرچکے ہیں ؟[8] وہ ان سے زیادہ طاقت رکھتے تھے، اُنہوں نے زمین کو خوب اُدھیڑا تھا[9] اور اُسے اتنا آباد کیا تھا جتنا اِنہوں نے نہیں کیا ہے۔[10] اُن کے پاس اُن کے رسُو ل روشن نشانیاں لے کر آئے۔[11] پھر اللہ ان پر ظلم کرنے والا نہ تھا ،مگر وہ خود ہی اپنے اوپر ظلم کررہے تھے۔[12]{۹} آخر کار جن لوگوں نے بُرائیاں کی تھیں ان کا انجام بہت بُرا ہوا،اس لیے کہ انہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا تھا اور وہ اُن کا مذاق اُڑاتے تھے۔ {۱۰} اللہ ہی خلق کی ابتدا کرتا ہے پھر وہی اس کا اعادہ کرے[13] گا ، پھر اُسی کی طرف تم پلٹائے جا ؤ گے۔ {۱۱} اور جب وہ ساعت[14] برپاہوگی اُس دن مُجرم ہَک دَک رہ جائیں گے۔[15] { ۱۲} ان کے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں سے کوئی ان کا سفارشی نہ ہوگا [16]اور وہ اپنے شریکوں کے منکرہوجائیں[17] گے۔ { ۱۳} جس روز وہ ساعت برپا ہوگی ، اس دن (سب انسان) الگ گروہوں میں بٹ جائیں [18]گے۔{ ۱۴} جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں وہ ایک باغ میں[19] شاداں وفرحاں رکھے جائیں گے ۔[20]{۱۵} اور جنہوں نے کفر کیا ہے اور ہماری آیات کو اور آخرت کی ملاقات کو جھٹلایا ہے[21] وہ عذاب میں حاضر رکھے جائیں گے۔{۱۶} پس[22] تسبیح کرو اللہ کی جب کہ[23] تم شام کرتے ہو اور جب صبح کرتے ہو۔{۱۷} آسمانوں اور زمین میں اُسی کے لیے حمد ہے۔ اور (تسبیح کرو اس کی) تیسرے پہر اور جبکہ تم پرظہر کا وقت آتا ہے۔ [24]{۱۸} وہ زندہ کو مُردے میں سے نکالتاہے اور مُردے کو زندہ میں سے نکال لاتا ہے اور زمین کو اُس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔ [25]اسی طرح تم لوگ بھی (حالت موت سے ) نکال لئے جا ؤ گے۔{۱۹} اُس[26] کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اُس نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ۔ پھر یکایک تم بشرہو کہ ( زمین میں) پھیلتے چلے جارہے ہو۔[27]{۲۰} اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ اُس نے تمہارے لئے تمہاری ہی جنس سے بیویاں بنائیں[28] تا کہ تم اُن کے پاس سکون حاصل کرو[29] اور تمہارے درمیان محبت اور رحمت پیدا کردی۔[30] یقینا اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں۔{۲۱} اور اُس کی نشانیوں میں سے آسمانوں اور زمین کی پیدائش [31]، اور تمہاری زبانوں اور تمہارے رنگوں کا اختلاف ہے ۔ [32]یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں دانش مند لوگوں کے لیے{۲۲} اور اُس کی نشانیوں میں سے تمہارا رات اور دن کو سونا اور تمہارا اُس کے فضل کو تلاش کرنا ہے۔[33] یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو(غور سے) سُنتے ہیں۔ {۲۳} اور اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ تمہیں بجلی کی چمک دکھاتا ہے خوف کے ساتھ بھی اور طمع کے ساتھ بھی۔ [34]اور آسمان سے پانی برساتا ہے ، پھر اس کے ذریعہ سے زمین کواُس کی موت کے بعد زندگی بخشتا ہے۔[35] یقینا اس میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔{۲۴} اور اس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ آسمان اور زمین اس کے حکم سے قائم ہیں۔[36] پھر جوں ہی کہ اُس نے تمہیں زمین سے پکارا ، بس ایک ہی پکار میں اچانک تم نکل آ ؤ گے۔[37]{۲۵} آسمانوں اور زمین میں جو بھی ہیں اُس کے بندے ہیں ۔سب کے سب اسی کے تابع فرمان ہیں۔{۲۶} وہی ہے جو تخلیق کی ابتدا کرتا ہے، پھر وہی اس کا اعادہ کرے گا اور یہ اُس کے لیے آسان تر [38]ہے۔ آسمانوں اور زمین میں اس کی صفت سب سے برترہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے۔{۲۷} وہ تمہیں [39]خود تمہاری اپنی ہی ذات سے ایک مثال دیتا ہے ۔ کیا تمہارے اُن غلاموں میںسے جو تمہاری ملکیت میں ہیں کچھ غلام ایسے بھی ہیں جو ہمارے دیے ہوئے مال و دولت میں تمہارے ساتھ برابر کے شریک ہوں اور تم ان سے اُس طرح ڈرتے ہو جس طرح آپس میں اپنے ہمسروں سے ڈرتے ہو۔[40] اس طرح ہم آیات کھول کرپیش کرتے ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔{۲۸} مگر یہ ظالم بے سمجھے بُوجھے اپنے تخیلات کے پیچھے چل پڑے ہیں۔ اب کون اُس شخص کو راستہ دکھا سکتا ہے جسے اللہ نے بھٹکا دیا ہو ؟[41] ایسے لوگوں کا تو کوئی مددرگار نہیں ہوسکتا ۔{۲۹} پس[42] ( اے نبی ؐ ااور نبی ؐ کے پیروؤ!) یک سُوہو کر اپنا رُخ اِس[43] دین کی سمت میں جمادو،[44]قائم ہوجا ؤ اُس فطرت پر جس پر اللہ تعالیٰ نے انسانوں کو پیدا کیا ہے[45] ،اللہ کی بنائی ہوئی ساخت بدلی نہیں جاسکتی، [46] یہی بالکل راست اور درست دین ہے ، [47]مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔ {۳۰} ( قائم ہوجا ؤ اس بات پر ) اللہ کی طرف رُجوع کرتے [48]ہوئے اور ڈرو[49] اس سے ، اور نماز قائم کرو ،[50] اور نہ ہوجا ؤ اُن مشرکین میں سے{۳۱} جنہوں نے اپنا اپنا دین الگ بنالیا ہے اور گروہوں میں بٹ گئے ہیں ، ہر ایک گروہ کے پاس جو کچھ ہے اُسی میں وہ مگن ہے۔[51]{۳۲} لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب انہیں کوئی تکلیف پہنچتی ہے تو اپنے رَبّ کی طرف رجوع کرکے اسے پکارتے ہیں،[52] پھر جب وہ کچھ اپنی رحمت کا ذائقہ انہیں چکھا دیتا ہے تو یکایک ان میں سے کچھ لوگ شرک کرنے لگتے ہیں[53]{۳۳} تا کہ ہمارے کئے ہوئے احسان کی نا شکری کریں۔ اچھا ، مزے کرلو ، عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا۔{۳۴} کیا ہم نے کوئی سند اور دلیل ان پر نازل کی ہے جو شہادت دیتی ہو اُس شرک کی صداقت پر جو یہ کررہے ہیں ؟[54]{۳۵} جب ہم لوگوں کو رحمت کا ذائقہ چکھاتے ہیں تو وہ اس پر پُھول جاتے ہیں اور جب ان کے اپنے کئے کرتُوتوں سے ان پر کوئی مصیبت آتی ہے تو یکا یک وہ مایوس ہونے لگتے ہیں۔[55]{۳۶} کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ اللہ ہی رزق کشادہ کرتا ہے جس کا چاہتا ہے اور تنگ کرتا ہے (جس کا چاہتا ہے ) ؟ یقینا اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔ [56]{۳۷} پس (اے مومن ) رشتہ دار کو اس کا حق دے اور مسکین ومسافر کو ( اُس کا حق )۔ [57] یہ طریقہ بہتر ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ کی خوشنودی چاہتے ہوں، اور وہی فلاح پانے والے ہیں[58]{۳۸} جو سُود تم دیتے ہو تاکہ لوگوں کے اموال میں شامل ہوکر وہ بڑھ جائے ، اللہ کے نزدیک وہ نہیں بڑھتا [59] اور جو زکوٰۃ تم اللہ کی خوشنودی حاصل کرنے کے ارادے سے دیتے ہو ، اسی کے دینے والے درحقیقت اپنے مال بڑھاتے ہیں۔[60]{۳۹} اللہ ہی [61]ہے جس نے تم کو پیدا کیا، پھر تمہیں رزق دیا ،[62] پھر وہ تمہیں موت دیتا ہے ، وہ پھرتمہیں زندہ کرے گا۔ کیا تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ایسا ہے جو اِن میں سے کوئی کام بھی کرتا ہو؟[63] پاک ہے وہ اور بہت بالاوبرتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ {۴۰} خشکی اور تری میں فساد برپاہوگیا ہے لوگوں کے اپنے ہاتھوں کی کمائی سے تاکہ مزاچکھائے اُن کو اُن کے بعض اعمال کا ، شاید کہ وہ باز آئیں۔ [64]{۴۱} ( اے نبی ؐ!) ان سے کہو کہ زمین میں چل پھر کر دیکھو پہلے گزرے ہوئے لوگوں کا کیا انجام ہوچکا ہے، ان میں سے اکثر مشرک ہی تھے۔[65]{ ۴۲} پس ( اے نبی ؐ!) اپنا رُخ مضبوطی کے ساتھ جمادو اِس دین راست کی سمت میں قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس کے ٹل جانے کی کوئی صورت اللہ کی طرف سے نہیں ہے۔ ا[66]ُس دن لوگ پَھٹ کر ایک دُوسرے سے الگ ہوجائیں گے۔{ ۴۳} جس نے کفر کیا ہے اس کے کفر کا وبال اسی پر ہے ،[67] اور جن لوگوں نے نیک عمل کیا ہے۔وہ اپنے ہی لئے ( فلاح کا راستہ ) صاف کررہے ہیں {۴۴} تاکہ اللہ ایمان لانے والوں اور عمل صالح کرنے والوں کو اپنے فضل سے جزادے۔ یقیناوہ کافروں کو پسند نہیں کرتا۔ {۴۵} اُس کی نشانیوں میں سے یہ ہے کہ وہ ہوائیں بھیجتا ہے بشارت دینے کے لیے[68] اور تمہیں اپنی رحمت سے بہرہ مند کرنیکے لیے اور اس غرض کے لیے کہ کشتیاں اس کے حکم سے چلیں[69] اور تم اس کا فضل تلاش کرو [70]اور اس کے شکر گزار بنو۔{۴۶} اور ہم نے تم سے پہلے رسُولوں کو ان کی قوم کی طرف بھیجا اور وہ ان کے پاس روشن نشانیاں لے کر آئے۔[71] پھر جنہوں نے جرم کیا[72] اُن سے ہم نے انتقام لیا اور ہم پر یہ حق تھا کہ ہم مومنوں کی مدد کریں۔{۴۷} اللہ ہی ہے جو ہوا ؤں کو بھیجتا ہے اور وہ بادل اُٹھاتی ہیں ، پھر وہ ان بادلوں کو آسمان میں پھیلاتا ہے جس طرح چاہتا ہے اور انہیں ٹکڑیوں میں تقسیم کرتا ہے ، پھر تُو دیکھتا ہے کہ بارش کے قطرے بادل میں سے ٹپکے چلے آتے ہیں ۔ یہ بارش جب وہ اپنے بندوں میں سے جن پر چاہتا ہے برساتا ہے تویکایک وہ خوش و خرم ہوجاتے ہیں۔ {۴۸} حالانکہ اس کے نزول سے پہلے وہ مایوس ہورہے تھے۔{۴۹} دیکھو اللہ کی رحمت کے اثرات کہ مُردہ پڑی ہوئی زمین کو وہ کس طرح جِلااُٹھاتا ہے،[73] یقینا وہ مُردوں کو زندگی بخشنے والا ہے اور وہ ہر چیزپر قادر ہے۔{۵۰} اور اگر ہم ایک ایسی ہوا بھیج دیں جس کے اثر سے وہ اپنی کھیتی کو زردپائیں[74] تو وہ کفر کرتے رہ جاتے ہیں ۔[75]{۵۱} (اے نبی ؐ!) تم مُردوں کو نہیں سُناسکتے۔[76]نہ اُن بہروں کو اپنی پکار سُناسکتے ہوجو پیٹھ پھیرے چلے جارہے ہوں،[77]{ ۵۲} اور نہ تم اندھوں کو اُن کی گمراہی سے نکال کررا ہِ راست دکھاسکتے ہو ۔[78]تم تو صرف اُنہی کو سُنا سکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے اور سر تسلیم خم کردیتے ہیں۔{۵۳} اللہ ہی تو ہے جس نے ضعف کی حالت سے تمہاری پیدائش کی ابتدا کی ، پھر اس ضعف کے بعد تمہیں قوت بخشی ، پھر اس قوت کے بعد تمہیں ضعیف اور بوڑھا کردیا ۔ وہ جو کچھ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے۔[79] اور وہ سب کچھ جاننے والا ،ہر چیز پر قدرت رکھنے والا ہے۔{ ۵۴} اور جب وہ ساعت برپا [80]ہوگی تو مجرم قسمیں کھا کھا کرکہیں گے کہ ہم ایک گھڑی بھر سے زیادہ نہیں ٹھہرے ہیں ،[81] اِسی طرح وہ دنیا کی زندگی میں دھوکا کھایا کرتے تھے۔ [82]{۵۵} مگر جو علم اور ایمان سے بہرہ مند کئے گئے تھے وہ کہیں گے کہ اللہ کے نوشتے میں تو تم روز ِحشر تک پڑے رہے ہو ، سو یہ وہی روزِ حشر ہے ، لیکن تم جانتے نہ تھے۔{۵۶} پس وہ دن ہوگا جس میں ظالموں کو ان کی معذرت کوئی نفع نہ دے گی اور نہ ان سے معافی مانگنے کے لیے کہا جائے گا۔ [83]{۵۷} ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا ہے۔ تم خواہ کوئی نشانی لے آؤ جن لوگوں نے ماننے سے انکار کردیا ہے وہ یہی کہیں گے کہ تم باطل پرہو۔{۵۸} اس طرح ٹھپّہ لگادیتا ہے اللہ اُن لوگوں کے دلوں پر جوبے علم ہیں۔{۵۹} پس (اے نبی ؐ!) صبر کرو ، یقینا اللہ کا وعدہ سچا ہے [84]اور ہرگز ہلکانہ پائیں تم کو وہ لوگ جو یقین نہیں لاتے ۔[85] {۶۰}
سورۃ لقمٰن   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 31 : 1-21 / 34الٓمّٓ ۔ {۱} یہ کتابِ حکیم کی آیات ہیں[1]{ ۲} ہدایت اور رحمت نیکوکارلوگوں کے لیے[2] {۳} جو نماز قائم کرتے ہیں ، زکوٰۃ دیتے ہیں اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔[3] { ۴} یہی لوگ اپنے رَبّ کی طرف سے راہِ راست پر ہیں اوریہی فلاح پانے والے ہیں۔[4]{۵} اور انسانوں ہی میں سے کوئی ایسا بھی ہے[5] جو کلام دل فریب[6] خرید کرلاتا ہے تا کہ لوگوں کو اللہ کے راستہ سے علم کے بغیر[7] بھٹکادے اور اس راستے کی دعوت کو مذاق میں اڑادے ۔ [8]ایسے لوگوں کے لیے سخت ذلیل کرنے والا عذاب ہے۔[9]{۶} اسے جب ہماری آیات سنائی جاتی ہیں تو وہ بڑے گھمنڈ کے ساتھ اِس طرح رُخ پھیر لیتا ہے گویا کہ اس نے انہیں سناہی نہیں ، گویا کہ اس کے کان بہرے ہیں۔ اچھا مژدہ سُنادو اسے ایک درد ناک عذاب کا۔{۷} البتہ جو لوگ ایمان لے آئیں اورنیک عمل کریں ، اُن کے لیے نعمت بھری جنتیں ہیں۔ [10]{۸} جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔ یہ اللہ کا پختہ وعدہ ہے اور وہ زبردست اور حکیم ہے۔ [11]{۹} اس [12]نے آسمانوں کو پیدا کیا بغیر ستونوں کے جو تم کو نظر آئیں ۔ [13]اس نے زمین میں پہاڑ جمادیے تاکہ وہ تمہیں لے کر ڈھلک نہ جائے۔[14] اس نے ہر طرح کے جانور زمین میں پھیلادیے اور آسمان سے پانی برسایا اور زمین میں قسم قسم کی عمدہ چیزیں اُگادیں۔{۱۰} یہ تو ہے اللہ کی تخلیق ، اب ذرا مجھے دکھا ؤ، ان دُوسروں نے کیا پیدا کیا ہے؟[15] اصل بات یہ ہے کہ یہ ظالم لوگ صریح گمراہی میں پڑے ہوئے ہیں۔[16]{۱۱} ہم [17]نے لقمان کو حکمت عطا کی تھی کہ اللہ کا شکر گزار ہو۔ [18]جو کوئی شکر کرے اُس کا شکر اُس کے اپنے ہی لئے مفید ہے۔ اور جو کفر کرے تو حقیقت میں اللہ بے نیاز اور آپ سے آپ محمود ہے[19]{ ۱۲} یادکرو جب لقمان اپنے بیٹے کو نصیحت کررہاتھا تو اس نے کہا ’’ بیٹا ! اللہ کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرنا،[20] حق یہ ہے کہ شرک بہت بڑا ظلم ہے‘‘ ۔ [21]{۱۳} اور[22] یہ حقیقت ہے کہ ہم نے انسان کو اپنے والدین کا حق پہچاننے کی خود تاکید کی ہے۔ اُس کی ماں نے ضعف پر ضعف اُٹھاکر اُسے اپنے پیٹ میں رکھا اور دوسال اُس کا دُودھ چُھوٹنے میں لگے۔ [23] (اسی لئے ہم نے اُس کو نصیحت کی کہ) میرا شکر کر اور اپنے والدین کا شکر بجالا، میری ہی طرف تجھے پلٹنا ہے ۔{ ۱۴} لیکن اگر وہ تجھ پر دباؤ ڈالیں کہ میرے ساتھ توکسی ایسے کو شریک کرے جسے تُونہیں جانتا [24]تو اُن کی بات ہر گز نہ مان ۔ دنیا میں ان کے ساتھ نیک برتا ؤ کرتا رہ مگر پیروی اُس شخص کے راستے کی کر جس نے میری طرف رجوع کیا ہے۔ پھر تم سب کو پلٹنا میری ہی طرف ہے ،[25] اُس وقت میں تمہیں بتادوں گا کہ تم کیسے عمل کرتے رہے ہو۔[26] {۱۵} ( اور لقما ن[27] نے کہا تھا کہ ) ’’ بیٹا !کوئی چیزرائی کے دانہ برابر بھی ہو اور کسی چٹان میں یا آسمانوں یا زمین میں کہیں چھپی ہوئی ہو، اللہ اُسے نکال لائے گا۔[28] وہ باریک بیں اور باخبر ہے۔ {۱۶} بیٹا ! نماز قائم کر ،نیکی کا حکم دے ، بدی سے منع کر اور جو مصیبت بھی پڑے اس پر صبرکر[29] یہ وہ باتیں ہیں جن کی بڑی تاکیدکی گئی ہے۔[30] {۱۷} اور لوگوں سے منھ پھیر کر بات نہ کر [31]، نہ زمین میں اکڑ کر چل ، اللہ کسی خود پسند اور فخر جتانے والے شخص کو پسند نہیں کرتا۔[32] {۱۸} اپنی چال میں اعتدال اختیارکر [33]، اور اپنی آواز ذراپست رکھ ، سب آوازوں سے زیادہ بُری آواز گدھوں کی آواز ہوتی ہے ‘‘۔[34]{۱۹} کیا تم لوگ نہیں دیکھتے کہ اللہ نے زمین اور آسمانوں کی ساری چیزیں تمہارے لئے مسخر کر رکھی ہیں [35]اور اپنی کھلی اور چھپی نعمتیں [36]تم پر تمام کردی ہیں ؟ اِس پر حال یہ ہے کہ انسانوں میں سے کچھ لوگ ہیں جو اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں[37] بغیر اس کے کہ ان کے پاس کوئی عِلم ہو یاہدایت ، یا کوئی روشنی دکھانے والی کتاب ۔[38]{۲۰} اور جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ پیروی کرو اُس چیز کی جو اللہ نے نازل کی ہے تو کہتے ہیں کہ ہم تو اُس چیز کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کوپایا ہے۔ کیا یہ اُنہی کی پیروی کریں گے خواہ شیطان اُن کو بھڑکتی ہوئی آگ ہی کی طرف کیوں نہ بلاتا رہا ہو؟[39]{۲۱}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)