سورۃ القصص   -  28 : 51-88 / 88 اور ( نصیحت کی) بات پے درپے ہم اُنہیں پہنچاچکے ہیں تا کہ وہ غفلت سے بیدار ہوں[71]{۵۱} جن لوگو ں کو اس سے پہلے ہم نے کتاب دی تھی وہ اس ( قرآن ) پر ایمان لاتے ہیں[72]{۵۲} اور جب یہ اُن کو سُنایا جاتا ہے تو وہ کہتے ہیں کہ ’’ہم اِس پر ایمان لائے ، یہ واقعی حق ہے ہمارے رب کی طرف سے ، ہم تو پہلے ہی سے مُسلم ہیں‘‘۔[73] {۵۳} یہ وہ لوگ ہیں جنہیں انکا اجردوبار دیا جائے[74] گا اس ثابت قدمی کے بدلے جو انہوں نے دکھائی۔[75]وہ بُرائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں[76] اور جو کچھ رزق ہم نے انہیں دیا ہے اس میں سے خرچ کرتے ہیں۔[77]{ ۵۴} اور جب انہوں نے بیہودہ بات سُنی [78]تو یہ کہہ کر اس سے کنارہ کش ہوگئے کہ ’’ہمارے اعمال ہمارے لئے اور تمہارے اعمال تمہارے لئے ، تم کو سلام ہے ، ہم جاہلوں کا ساطریقہ اختیار کرنا نہیں چاہتے‘‘{۵۵} اے نبی ؐ !تم جسے چاہواسے ہدایت نہیں دے سکتے ، مگر اللہ جسے چاہتا ہے ہدایت دیتا ہے اور وہ اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو ہدایت قبول کرنے والے ہیں۔[79]{۵۶} وہ کہتے ہیں ’’ اگر ہم تمہارے ساتھ اِس ہدایت کی پیروی اختیار کرلیں تو اپنی زمین سے اُچک لئے جائیں گے ‘‘۔[80] کیا یہ واقعہ نہیں ہے کہ ہم نے ایک پُراَمن حرم کو اِن کے لیے جائے قیام بنادیا جس کی طرف ہر طرح کے ثمرات کھنچے چلے آتے ہیں ، ہماری طرف سے رزق کے طور پر ؟ مگر ان میں سے اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔[81] {۵۷} اور کتنی ہی ایسی بستیاں ہم تباہ کرچکے ہیں جن کے لوگ اپنی معیشت پر اِتراگئے تھے۔ سودیکھ لو ، وہ اُن کے مسکن پڑے ہوئے ہیں جن میں اُنکے بعد کم ہی کوئی بسا ہے ، آخر کار ہم ہی وارث ہوکررہے۔ [82]{۵۸} اور تیرا رب بستیوں کو ہلاک کرنے والا نہ تھا جب تک کہ ان کے مرکز میں ایک رسول نہ بھیج دیتا جو ان کو ہماری آیات سُناتا۔ اور ہم بستیوں کو ہلاک کرنے والے نہ تھے،جب تک کہ ان کے رہنے والے ظالم نہ ہوجاتے۔[83] {۵۹} تم لوگوں کو جو کچھ بھی دیا گیا ہے وہ محض دُنیا کی زندگی کا سامان اور اس کی زینت ہے، اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ اس سے بہتر اورباقی تر ہے ، کیا تم لوگ عقل سے کام نہیں لیتے ؟{۶۰} بھلاوہ شخص جس سے ہم نے اچھا وعدہ کیا ہواور وہ اسے پانے والا ہو کبھی اُس شخص کی طرح ہوسکتا ہے جسے ہم نے صرف حیاتِ دنیا کا سروسامان دے دیا ہو اور پھر وہ قیامت کے روز سزا کے لیے پیش کیا جانے والا ہو؟[84]{۶۱} اور (بُھول نہ جائیں یہ لوگ ) اُس دن کو جب کہ وہ اُن کو پکارے گا اور پُوچھے گا ’’ کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے‘‘؟[85] {۶۲} یہ قول جن پرچسپاں[86] ہوگا وہ کہیں گے ’’ اے ہمارے رب ! بے شک یہی لوگ ہیں جن کو ہم نے گمراہ کیا تھا، انہیں ہم نے اُسی طرح گمراہ کیا جیسے ہم خود گمراہ ہوئےہم آپ کے سامنے براء ت کا اظہارکرتے ہیں ۔[87]یہ ہماری تو بندگی نہیں کرتے تھے‘‘۔[88] {۶۳} پھر ان سے کہا جائے گا کہ پکارو اب اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو ۔[89] یہ اُنہیں پکاریں گے مگر وہ اِن کو کوئی جواب نہ دیں گے۔ اور یہ لوگ عذاب دیکھ لیں گے۔ کاش یہ ہدایت اختیار کرنے والے ہوتے۔ {۶۴} اور (فراموش نہ کریں یہ لوگ) وہ دن جب کہ وہ ان کو پکارے گا اور پُوچھے گا کہ ’’ جو رسُول بھیجے گئے تھے اُنہیں تم نے کیا جواب دیا تھا ‘‘؟ {۶۵} اُس وقت کوئی جواب اِن کو نہ سُوجھے گا اور نہ یہ آپس میں ایک دُوسرے سے پوچھ ہی سکیں گے ۔{۶۶} البتہ جس نے آج توبہ کرلی اور ایمان لے آیا اور نیک عمل کئے وہی یہ توقع کرسکتا ہے کہ وہاں فلاح پانے والوں میں سے ہوگا۔{۶۷} تیرا رب پیدا کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے اور ( وہ خود ہی اپنے کام کے لیے جسے چاہتا ہے) منتخب کرلیتا ہے ، یہ انتخاب اِن لوگوں کے کرنے کا کام نہیں [90]ہے۔ اللہ پاک ہے اور بہت بالاترہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں۔ {۶۸} تیرا رب جانتا ہے جو کچھ یہ دلوں میں چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ یہ ظاہر کرتے ہیں۔[91]{۶۹} وہی ایک اللہ ہے جس کے سوا کوئی عبادت کا مستحق نہیں۔ اسی کے لیے حمد ہے دنیا میں بھی اور آخرت میں بھی، فرماں روائی اس کی ہے اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو۔{۷۰} اے نبی ؐ! ان سے کہو کبھی تم لوگوں نے غور کیا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پر ہمیشہ کے لیے رات طاری کردے تو اللہ کے سوا وہ کون سامعبود ہے جو تمہیں روشنی لادے ؟ کیا تم سُنتے نہیں ہو ؟{۷۱} ان سے پُوچھو ، کبھی تم نے سوچا کہ اگر اللہ قیامت تک تم پرہمیشہ کے لیے دن طاری کردے تو اللہ کے سوا وہ کو ن سا معبُو د ہے جو تمہیں رات لادے تا کہ تم اس میں سکون حاصل کرسکو ؟ کیا تم کو سُوجھتا نہیں ؟{۷۲} یہ اُسی کی رحمت ہے کہ اس نے تمہارے لئے رات اور دن بنائے تا کہ تم (رات میں) سکون حاصل کرو اور (دن کو ) اپنے رب کا فضل تلاش کرو ، شاید کہ تم شکرگزار بنو۔{ ۷۳} (یادرکھیں یہ لوگ ) وہ دن جب کہ وہ انہیں پکارے گا پھر پُوچھے گا ’’کہا ں ہیں میرے وہ شریک جن کا تم گمان رکھتے تھے ؟‘‘{۷۴} اور ہم ہر اُمت میں سے ایک گواہ نکال لائیں [92]گے پھر کہیں گے کہ’’ لا ؤ اب اپنی دلیل‘‘ ۔[93] اس وقت انہیں معلوم ہوجائے گا کہ حق اللہ کی طرف ہے ،اور گم ہوجائیں گے اِن کے وہ سارے جُھوٹ جو اِنہوں نے گھڑرکھے تھے۔{۷۵} یہ ایک واقعہ[94] ہے کہ قارون ، موسیٰ ؑ کی قوم کا ایک شخص تھا ، پھر وہ اپنی قوم کے خلاف سرکش ہوگیا[95]۔ اور ہم نے اس کو اتنے خزانے دے رکھے تھے کہ ان کی کنجیاں طاقت ور آدمیوں کی ایک جماعت مشکل سے اُٹھاسکتی تھی۔[96] ایک دفعہ جب اس کی قوم کے لوگوں نے اس سے کہا ’’پُھول نہ جا، اللہ پھولنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔{۷۶} جو مال اللہ نے تجھے دیا ہے۔ اس سے آخرت کا گھربنانے کی فکر کر اور دنیا میں سے بھی اپنا حصہ فراموش نہ کر۔ احسان کر جس طرح اللہ نے تیرے ساتھ احسان کیا ہے ، اور زمین میں فساد بر پا کرنے کی کوشش نہ کر ۔ اللہ مفسدوں کو پسند نہیں کرتا۔ ‘‘{۷۷} اُس نے کہا ’’ یہ سب کچھ تو مجھے اُس علم کی بناپر دیا گیا ہے جو مجھ کو حاصل ہے۔ ‘‘[97] کیا اس کو یہ علم نہ تھا کہ اللہ اس سے پہلے بہت سے ایسے لوگوں کو ہلاک کرچکا ہے جو اس سے زیادہ قوت اور جمعیت رکھتے تھے ؟[98] مجرموں سے تو ان کے گناہ نہیں پُوچھے جاتے [99] {۷۸} ایک روز وہ اپنی قوم کے سامنے اپنے پُورے ٹھاٹھ میں نکلا۔ جو لوگ حیات دنیا کے طالب تھے وہ اسے دیکھ کرکہنے لگے ’’ کاش ہمیں بھی وہی کچھ ملتا جو قارون کو دیا گیا ہے ، یہ تو بڑا نصیبے والا ہے ‘‘{۷۹} مگر جو لوگ علم رکھنے والے تھے وہ کہنے لگے ’’ افسوس تمہارے حال پر اللہ کا ثواب بہتر ہے اُس شخص کے لیے جو ایمان لائے اور نیک عمل کرے ، اور یہ دولت نہیں ملتی مگر صبر کرنے والوں کو‘‘[100]{۸۰} آخر کار ہم نے اسے اور اس کے گھر کو زمین میں دھنسادیا۔ پھر کوئی اُس کے حامیو ں کا گروہ نہ تھا جو اللہ کے مقابلے میں اس کی مدد کو آتا اور نہ وہ خود اپنی مدد آپ کرسکا {۸۱} اب وہی لوگ جو کل اُس کی منزلت کی تمنا کررہے تھے کہنے لگے ’’ افسوس ، ہم بُھول گئے تھے کہ اللہ اپنے بندوں میں سے جس کا رزق چاہتا ہے کشادہ کرتا ہے اور جسے چاہتا ہے نَپا تُلادیتا ہے۔[101] اگر اللہ نے ہم پر احسان نہ کیا ہوتا تو ہمیں بھی زمین میں دھنسا دیتا ۔ افسوس ہم کویاد نہ رہا کہ کافر فلاح نہیں [102]پایا کرتے ‘‘{۸۲} وہ آخرت [103]کا گھر تو ہم اُن لوگوں کے لیے مخصوص کردیں گے جو زمین میں اپنی بڑائی نہیں چاہتے [104]اور نہ فساد کرنا چاہتے ہیں۔[105] اور انجام کی بھلائی متقین ہی کے لیے ہے[106]{ ۸۳} جو کوئی بَھلائی لے کر آئے گا اس کے لیے اس سے بہتر بھلائی ہے اور جو برائی لے کر آئے تو برائیاں کرنے والوں کو ویسا ہی بدلہ ملے گا جیسے عمل وہ کرتے تھے۔{ ۸۴} اے نبی ؐ! یقین جانو کہ جس نے یہ قرآن تم پر فرض کیا ہے[107] وہ تمہیں ایک بہترین انجام کو پہنچانے والا [108]ہے ۔ اِن لوگوں سے کہہ دو کہ ’’ میرا رَبّ خوب جانتا ہے کہ ہدایت لے کر کون آیا ہے اور کھلی گمراہی میں کون مبتلاہے ‘‘۔{۸۵} تم اس بات کے ہرگز اُمیدوارنہ تھے کہ تم پر کتاب نازل کی جائے گی ، یہ تو محض تمہارے رَبّ کی مہربانی سے (تم پر نازل ہوئی ہے[109])۔ پس تم کافروں کے مددگارنہ بنو۔[110]{۸۶} اور ایسا کبھی نہ ہونے پائے کہ اللہ کی آیات جب تم پر نازل ہوں تو کفارتمہیں اُن سے باز رکھیں۔ [111]اپنے ربّ کی طرف دعوت دو اور ہرگز مشرکوں میں شامل نہ ہو۔ {۸۷} اور اللہ کے ساتھ کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکارو ۔ اُس کے سوا کوئی معبُود نہیں ہے۔ ہر چیز ہلاک ہونے والی ہے سوائے اُس کی ذات کے ۔ فرماں روائی اسی کی[112] ہے اور اسی کی طرف تم سب پلٹائے جانے والے ہو۔{۸۸}
سورۃ العنکبوت   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 29 : 1-45 / 69الٓمّٓ {۱} کیا لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ وہ بس اتنا کہنے پر چھوڑ دیے جائیں گے کہ ’’ ہم ایمان لائے ‘‘اور ان کو آزمایا نہ جائے گا ؟[1]{۲} حالاں کہ ہم اُن سب لوگوں کی آزمائش کرچکے ہیں جو اِن سے پہلے گزرے ہیں۔[2] اللہ کو تو ضروریہ دیکھنا[3] (اورتم لوگوںکو یہ دکھانا اور معلوم کروادینا)ہے کہ سچّے کون ہیں اور جُھوٹے کون؟{۳} اور کیا وہ لوگ جو بری حرکتیں کررہے ہیں [4] یہ سمجھے بیٹھے ہیں کہ وہ ہم سے بازی لے جائیں [5]گے؟ بڑا غلط حکم ہے جو وہ لگارہے ہیں۔{۴} جو کوئی اللہ سے ملنے کی توقع رکھتا ہو (اسے معلوم ہونا چاہئے کہ ) اللہ کا مقرر کیا ہوا وقت آنے ہی والا ہے ،[6] اور اللہ سب کچھ سُنتا اور جانتا ہے۔[7] {۵} جو شخص بھی مجاہدہ کرے گا، اپنے ہی بھلے کے لیے کرے گا [8] اللہ یقینا دنیا جہاں والوں سے بے نیاز ہے۔ [9] {۶} اور جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک اعمال کریں گے اُن کی بُرائیاں ہم ان سے دور کردیں گے اور انہیں ان کے بہترین اعمال کی جزادیں [10]گے۔{۷} اور ہم نے انسان کو ہدایت کی کہ اپنے والدین کے ساتھ نیک سلوک کرے۔ لیکن اگر وہ تجھ پر زور ڈالیں کہ تو میرے ساتھ کسی ایسے( معبُود ) کوشریک ٹھہرائے جسے تو ( میرے شریک کی حیثیت سے ) نہیں جانتا تو ان کی اطاعت نہ کر [11]۔ میری ہی طرف تم سب کو پلٹ کر آنا ہے ، پھر میں تم کو بتادوں گا کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔[12] {۸} اور جو لوگ ایمان لائے ہوں گے اور جنہوں نے نیک اعمال کئے ہوں گے اُن کو ہم ضرور صالحین میں داخل کریں گے۔{۹} لوگوں میں سے کوئی ایسا ہے جو کہتا ہے کہ ہم ایمان لائے اللہ پر۔[13] مگر جب وہ اللہ کے معاملے میں ستایا گیا تو اس نے لوگوں کی ڈالی ہوئی آزمائش کو اللہ کے عذاب کی طرح سمجھ لیا۔[14] اب اگر تیرے رب کی طرف سے فتح ونصرت آگئی تو یہی شخص کہے گا کہ ’’ہم تو تمہارے ساتھ [15]تھے‘‘۔ کیا دنیا والوں کے دلوں کا حال اللہ کو بخوبی معلوم نہیں ہے ؟{۱۰} اور اللہ کو تو ضرور یہ دیکھنا ہی ہے کہ ایمان لانے والے کون ہیں اور منافق کون۔[16]{۱۱} یہ کافر لوگ ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں کہ تم ہمارے طریقے کی پیروی کرو اور تمہاری خطاؤں کو ہم اپنے اُوپر لے لیں گے ۔[17]حالاں کہ اُن کی خطاؤں میں سے کچھ بھی وہ اپنے اوپر لینے والے نہیں ہیں ،[18] وہ قطعاً جھوٹ کہتے ہیں۔{ ۱۲} ہاں ضرور وہ اپنے بوجھ بھی اٹھائیں گے اور اپنے بوجھوں کے ساتھ دوسرے بہت سے بوجھ بھی ۔[19] ا ور قیامت کے روز یقینا اُن سے ان افتراپر دازیوں کی بازپرس ہوگی جو وہ کرتے رہے ہیں۔[20]{ ۱۳} ہم نے نوح ؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا [21]اور وہ پچاس کم ایک ہزار برس اُن کے درمیان رہا[22]۔ آخر کار اُن لوگوں کو طوفان نے آگھیرا اس حال میں کہ وہ ظالم تھے۔ [23]{ ۱۴} پھر نوح ؑ کو اور کشتی والوں[24] کو ہم نے بچالیا اور اُسے دنیا والوں کے لیے ایک نشانِ عبرت بناکر رکھ دیا ۔[25] {۱۵} اور ابراہیم ؑ کو بھیجا [26]جب کہ اُس نے اپنی قوم سے کہا : ’’ اللہ کی بندگی کرو اور اُس سے ڈرو ۔[27] یہ تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم جانو۔ {۱۶} تم اللہ کو چھوڑکر جنہیں پُوج رہے ہو وہ تو محض بُت ہیں اور تم ایک جھوٹ گھڑرہے ہو۔ [28]درحقیقت اللہ کے سوا جن کی تم پر ستش کرتے ہو وہ تمہیں کوئی رزق بھی دینے کا اختیار نہیں رکھتے ۔ اللہ سے رزق مانگو اور اُسی کی بندگی کرو اور اس کاشکرادا کرو ، اسی کی طرف تم پلٹائے جانے والے ہو ۔[29]{۱۷} اور اگر تم جھٹلاتے ہو تو تم سے پہلے بہت سی قومیں جھٹلا چکی ہیں،[30]اور رسُول ؐ پر صاف صاف پیغام پہنچادینے کے سوا کوئی ذمّہ داری نہیں ہے‘‘۔{۱۸} کیا اِن [31]لوگوں نے کبھی دیکھا ہی نہیں ہے کہ کس طرح اللہ خلق کی ابتدا کرتا ہے ، پھراُس کا اعادہ کرتا ہے ؟ یقینا یہ (اعادہ تو ) اللہ کے لیے آسان تر ہے۔[32]{۱۹} ان سے کہو کہ زمین میں چلو پھرو اور دیکھو کہ اُس نے کس طرح خلق کی ابتدا کی ہے ، پھر اللہ بارِ دیگر بھی زندگی بخشے گا۔ یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔[33]{۲۰} جسے چاہے سزادے اور جس پر چاہے رحم فرمائے ، اُسی کی طرف تم پھیرے جانے والے ہو۔{۲۱} تم نہ زمین میں عاجز کرنے والے ہو نہ آسمان میں [34]، اور اللہ سے بچانے والا کوئی سرپرست اور مددگار تمہارے لئے نہیں[35] ہے۔ { ۲۲} جن لوگوں نے اللہ کی آیات کا اور اس سے ملاقات کا انکار کیا ہے وہ میری رحمت سے مایوس ہوچکے ہیں [36]اور ان کے لیے درد ناک سزا ہے۔{۲۳} پھر[37] ابراہیم ؑ کی قوم کا جواب اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ انہوں نے کہا ’’ قتل کردو اِسے یا جلاڈالو [38]اِس کو۔‘‘ آخر کار اللہ نے اسے آگ سے بچالیا ،[39] یقینا اس میں نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لانے والے ہیں۔[40]{ ۲۴} اور اُس نے کہا[41]’’تم نے دنیا کی زندگی میں تو اللہ کو چھوڑ کربتوں کو اپنے درمیان محبت کا ذریعہ بنالیا ہے [42] مگر قیامت کے روز تم ایک دوسرے کا انکار اور ایک دوسرے پر لعنت کروگے[43] اور آگ تمہارا ٹھکا نا ہوگی اور کوئی تمہارا مددگار نہ ہوگا ‘‘ ۔{۲۵} اُس وقت لوطؑ نے اُس کو مانا[44]۔ اور ابراہیمؑ نے کہا میں اپنے رب کی طرف ہجرت کرتا ہوں[45] وہ زبردست ہے اور حکیم[46] ہے {۲۶} اور ہم نے اسے اسحاق ؑ اور یعقوب ؑ (جیسی اولاد) عنایت فرمائی [47]اور اِس کی نسل میں نبوت اور کتاب رکھ دی،[48] اور اسے دنیا میں اُس کا اجر عطا کیا اور آخرت میں وہ یقینا صالحین میں سے ہوگا۔[49]{۲۷} اور ہم نے لوطؑ کو بھیجا [50]جب کہ اس نے اپنی قوم سے کہا : ’’ تم تو وہ فحش کام کرتے ہو جو تم سے پہلے دنیا والوں میں سے کسی نے نہیں کیا ہے۔{۲۸} کیا تمہارا حال یہ ہے کہ مَردوں کے پاس جاتے ہو ،[51] اور رہزنی کرتے ہو اور اپنی مجلسوں میں برُے کام کرتے[52] ہو ؟‘‘ پھر کوئی جواب اُس کی قوم کے پاس اِس کے سوانہ تھا کہ انہوں نے کہا ’’لے آ اللہ کا عذاب اگر تو سچّا ہے ‘‘۔{۲۹} لوطؑ نے کہا ’’ اے میرے رب! ان مفسدوں کے مقابلے میں میری مدد فرما۔‘‘{۳۰} اور جب ہمارے فرستادے ابراہیمؑ کے پاس بشارت لے کر پہنچے[53] تو انہوں نے اُس سے کہا ’’ ہم اس بستی کے لوگوں کو ہلاک کرنے والے ہیں‘‘۔[54] اس کے لوگ سخت ظالم ہوچکے ہیں ‘‘ ۔{۳۱} ابراہیم ؑ نے کہا ’’ وہاں تو لُوط ؑ موجود ہے ‘‘۔[55] انہوں نے کہا’’ ہم خوب جانتے ہیں کہ وہاں کو ن کون ہے ۔ ہم اسے، اور اس کے باقی سب گھر والوں کو بچالیں گے،اس کی بیوی کے سوا‘‘۔ اس کی بیوی پیچھے رہ جانے والوں میں سے تھی۔[56]{۳۲} پھر جب ہمارے فرستادے لُوط ؑ کے پاس پہنچے تو اُن کی آمد پر وہ سخت پریشان اور دل تنگ[57] ہوا ۔ اُنہوں نے کہا ’’ نہ ڈرو اور نہ رنج کرو۔[58] ہم تمہیں اور تمہارے گھروالوں کو بچالیں گے، سوائے تمہاری بیوی کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں سے ہے۔ {۳۳} ہم اِس بستی کے لوگوں پر آسمان سے عذاب نازل کرنے والے ہیں اُس فسق کی بدولت جو یہ کرتے رہے ہیں ‘‘۔{۳۴} اور ہم نے اُس بستی کی ایک کھلی نشانی چھوڑ دی ہے۔[59] اُ ن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔[60]{۳۵} اور مَدین کی طرف ہم نے اُن کے بھائی شعیب ؑ کو بھیجا۔[61] اُس نے کہا ’’ ا ے میری قوم کے لوگو !اللہ کی بندگی کرو اور روز ِآخر کے امیدوار رہو[62] اور زمین میں مفسد بن کر زیادتیاں نہ کرتے پھرو۔ ‘‘ {۳۶} مگر انہوں نے اسے جھٹلا دیا۔[63] آخر کار ایک سخت زلزلے نے انہیں آلیا اور وہ اپنے گھروں میں [64]پڑے کے پڑے رہ گئے۔{۳۷} اور عاد و ثمود کو ہم نے ہلاک کیا ، تم وہ مقامات دیکھ چکے ہو جہاں وہ رہتے تھے۔[65] اُن کے اعمال کو شیطان نے اُن کے لیے خوشنما بنادیا اور انہیں راہِ راست سے برگشتہ کردیا حالانکہ وہ ہوش گوش رکھتے تھے۔[66]{۳۸} اور قارون و فرعون و ہامان کو ہم نے ہلاک کیا۔ موسیٰ ؑ اُن کے پاس بیّنات لے کر آیا ، مگر انہوں نے زمین میں اپنی بڑائی کا زعم کیا ، حالانکہ وہ سبقت لے جانے والے نہ تھے ۔[67]{۳۹} آخر کار ہر ایک کو ہم نے اس کے گناہ میں پکڑا ۔ پھر ان میں سے کسی پر ہم نے پتھرا ؤ کرنے والی ہوا بھیجی ،[68]اور کسی کو ایک زبردست دھماکے نے آلیا ، [69]اور کسی کو ہم نے زمین میں دھنسا دیا ،[70] اور کسی کو غرق کردیا ۔[71] اللہ اُن پر ظلم کرنے والا نہ تھا ، مگر وہ خودہی اپنے اوپر ظلم کررہے تھے۔[72]{۴۰} جن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کردُوسرے سرپرست (اولیاء) بنالئے ہیں ان کی مثال مکڑی جیسی ہے جو اپنا ایک گھر بناتی ہے اور سب گھروں سے زیادہ کمزور گھر مکڑی کا گھر ہی ہوتا ہے۔ کاش! یہ لوگ علم رکھتے۔[73] {۴۱} یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر جس چیز کو بھی پُکارتے ہیں اللہ اسے خوب جانتا ہے اور وہی زبردست اور حکیم ہے۔[74] {۴۲} یہ مثالیں ہم لوگوں کی فہمائش کے لیے دیتے ہیں ، مگر اِن کو وہی لوگ سمجھتے ہیں جو علم رکھنے والے ہیں۔ {۴۳} اللہ نے آسمانوں اور زمین کو برحق پیدا کیا ہے ،[75] درحقیقت اِس میں ایک نشانی ہے اہل ایمان کے لیے۔[76] {۴۴} ( اے نبی ؐ! ) تلاوت کرو اس کتاب کی جو تمہاری طرف وحی کے ذریعہ سے بھیجی گئی ہے اور نماز قائم کرو ،[77] یقینا نماز فحش اور بُرے کاموں سے روکتی [78]ہے اور اللہ کا ذکر اِس سے بھی زیادہ بڑی چیز ہے۔[79] اللہ جانتا ہے جو کچھ تم کرتے ہو۔{۴۵}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)