سورۃالنمل   -  27 : 56-93 / 93 مگر اس کی قوم کا جواب اِس کے سوا کچھ نہ تھا کہ اُنہوں نے کہا ’’نکال دو لُوط ؑکے گھروالوں کو اپنی بستی سے ، یہ بڑے پاکبازبنتے ہیں‘‘۔ {۵۶} آخر کار ہم نے بچالیا اُس کو اور اس کے گھروالوں کو ، بجز اُس کی بیوی کے جس کا پیچھے رہ جانا ہم نے طَے کردیا تھا[70] {۵۷} اور برسائی اُن لوگوں پر ایک برسات ، بہت ہی بُری برسات تھی وہ اُن لوگوں کے حق میں جو متنبہ کئے جاچکے تھے۔ {۵۸} ( اے نبی ؐ!) [71] کہو ، حمد ہے اللہ کے لیے اور سلام اس کے اُن بندوں پر جنہیں اس نے برگزیدہ کیا۔( اُن سے پوچھو ) اللہ بہترہے یا وہ معبُود جنہیں یہ لوگ اس کا شریک بنا رہے ہیں؟ [72]{۵۹} بھلاوہ کون ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو پیدا کیا اور تمہارے لئے آسمان سے پانی برسایا پھر اُس کے ذریعہ وہ خوشنما باغ اُگائے جن کے درختوں کا اُگاناتمہارے بس میں نہ تھا ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی دُوسرا اِلٰہ بھی ( ان کاموں میں شریک) ہے ؟ [73] ( نہیں ) ، بلکہ یہی لوگ راہ راست سے ہٹ کرچلے جارہے ہیں۔ {۶۰} اور وہ کون ہے جس نے زمین کو جائے قرار[74] بنایا اور اس کے اندر دریا رواں کیے اوراس میں ( پہاڑوں کی) میخیں گاڑدیں اور پانی کے دوذخیروں کے درمیان پردے حائل کردیے[75] ؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور اِلٰہ بھی (ان کاموں میں شریک ) ہے ؟ نہیں ، بلکہ ان میں سے اکثر لوگ نادان ہیں۔{۶۱} کون ہے جو بے قرار کی دعاسنتا ہے جبکہ وہ اسے پکارے اور کون اس کی تکلیف رفع کرتا ہے[76] ؟ اور ( کون ہے جو ) تمہیں زمین کا خلیفہ بناتا ہے [77]؟ کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور ِالٰہ بھی ( یہ کام کرنے والا) ہے ؟ تم لوگ کم ہی سوچتے ہو۔{۶۲} اور کون ہے جو خشکی اور سمندر کی تاریکیوں میں تم کو راستہ دکھاتا ہے[78] اور کون اپنی رحمت کے آگے ہوا ؤں کو خوشنجری لے کر بھیجتا ہے ؟[79] کیا اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا اِلٰہ بھی ( یہ کام کرتا ) ہے ؟ بہت بالاوبرتر ہے اللہ اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں ۔{۶۳} اور وہ کون ہے جو خلق کی ابتدا کرتا اور پھر اس کا اعادہ کرتا ہے ؟[80] اور کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے ؟[81] کیا اللہ کے ساتھ کوئی اور اِلٰہ بھی( ان کاموں میں) حصہ دار ہے ؟ کہو کہ لا ؤ اپنی دلیل اگر تم سچّے ہو۔[82]{ ۶۴} اِن سے کہو ، اللہ کے سوا آسمانوں اور زمین میں کوئی غیب کا علم نہیں رکھتا۔[83] اور وہ (تمہارے معبود تو یہ بھی) نہیں جانتے کہ کب وہ اٹھائے جائیں گے۔[84]{۶۵} بلکہ آخرت کا تو علم ہی اِن لوگوں سے گم ہوگیا ہے، بلکہ یہ اُس کی طرف سے شک میں ہیں ، بلکہ یہ اُس سے اندھے ہیں ۔[85]{۶۶} یہ منکرین کہتے ہیں ’’ کیا جب ہم اور ہمارے باپ دادا مٹی ہوچکے ہوں گے تو ہمیں واقعی قبروں سے نکالا جائے گا؟{۶۷} یہ خبریں ہم کو بھی بہت دی گئی ہیں اور پہلے ہمارے آباء و اجداد کو بھی دی جاتی رہی ہیں ، مگر یہ بس افسانے ہی افسانے ہیں جو اگلے وقتوں سے سنتے چلے آرہے ہیں‘‘۔ {۶۸} کہو ذرا زمین میں چل پھر کردیکھو کہ مجرموں کا کیا انجام ہوچکا ہے۔[86]{۶۹} اے نبی ؐ! ان کے حال پر رنج نہ کرو اور نہ اِن کی چالوں پر دل تنگ ہو۔[87]{۷۰} وہ کہتے ہیں کہ ’’ یہ دھمکی کب پُوری ہوگی اگر تم سچّے ہو ؟‘‘[88] {۷۱} کہو کیا عجب کہ جس عذاب کے لیے تم جلدی مچار ہے ہواُس کا ایک حصہ تمہارے قریب ہی آلگاہو۔[89]{۷۲} حقیقت یہ ہے کہ تیرا رب تو لوگوں پر بڑا فضل فرمانے والا ہے مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے۔[90] {۷۳} بِلاشبہ تیرا رب خوب جانتا ہے جو کچھ اُن کے سینے اپنے اندر چھپائے ہوئے ہیں اور جو کچھ وہ ظاہر کرتے ہیں۔ [91]{۷۴} آسمان و زمین کی کوئی پوشیدہ چیز ایسی نہیں ہے جو ایک واضح کتاب میں لکھی ہوئی موجودنہ ہو۔ [92]{۷۵} یہ واقعہ ہے کہ یہ قرآن بنی اسرائیل کو اکثر اُن باتوں کی حقیقت بتاتا ہے جن میں وہ اختلاف رکھتے ہیں۔[93] {۷۶} اور یہ ہدایت اور رحمت ہے ایمان لانے والوں کے لیے۔[94]{۷۷} یقینا ( اِسی طرح ) تیرا رب اِن لوگوں کے درمیان[95] بھی اپنے حکم سے فیصلہ کردے گا اور وہ زبردست اور سب کچھ جاننے والا ہے۔[96]{۷۸} پس اے نبی ؐ! اللہ پر بھر وسا رکھو ، یقینا تم صریح حق پر ہو۔{۷۹} تم مُردوں کو نہیں سُناسکتے،[97] نہ اُن بہروں تک اپنی پکار پہنچا سکتے ہو جو پیٹھ پھیر کر بھاگے جارہے ہوں[98]{۸۰} اور نہ اندھوں کو راستہ بتاکر بھٹکنے سے بچاسکتے ہو ،[99] تم تو اپنی بات انہی لوگوں کو سُناسکتے ہو جو ہماری آیات پر ایمان لاتے ہیں اور پھر فرماں بردار بن جاتے ہیں۔{۸۱} اورجب ہماری بات پوری ہونے کا وقت اُن پر آپہنچے گا [100]تو ہم اُن کے لیے ایک جانور زمین سے نکالیں گے جو ان سے کلام کرے گا کہ لوگ ہماری آیا ت پریقین نہیں کرتے تھے۔[101]{ ۸۲} اور ذراتصور کرو اُس دن کا جب ہم ہراُ مّت میں سے ایک فوج کی فوج اُن لوگوں کی گھیر لائیں گے جو ہماری آیات کو جھٹلایا کرتے تھے ، پھر اُن کو ( ان کی اقسام کے لحاظ سے درجہ بدرجہ ) مرتّب کیا جائے گا۔ {۸۳} یہاں تک کہ جب سب آجائیں گے ،تو( ان کا رب ان سے ) پُوچھے گا کہ ’’ تم نے میری آیات کو جھٹلادیا حالانکہ تم نے اِن کا علمی احاطہ نہ کیا [102]تھا ؟ اگر یہ نہیں تو اور تم کیا کررہے تھے ‘‘؟[103] {۸۴} اور ان کے ظلم کی وجہ سے عذاب کا وعدہ ان پر پورا ہوجائے گا، تب وہ کچھ بھی نہ بول سکیں گے۔ {۸۵} کیا اُن کو سجھائی نہ دیتا تھا کہ ہم نے رات ان کے لیے سکون حاصل کرنے کو بنائی تھی اور دن کوروشن کیا تھا ؟[104] اِس میں بہت نشانیاں تھیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے تھے۔[105]{۸۶} اور کیا گزرے گی اس روز جب کہ صُور پُھونکا جائے گا اور ہَول کھا جائیں گے وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں۔[106] سوائے ان لوگوں کے جنہیں اللہ اس ہَول سے بچانا چاہے گا۔ اور سب کان دبائے اس کے حضور حاضر ہوجائیں گے۔{۸۷} آج تُو پہاڑوں کو دیکھتا ہے اور سمجھتا ہے کہ خوب جمے ہوئے ہیں ، مگر اُس وقت یہ بادلوں کی طرح اُڑ رہے ہوں گے ، یہ اللہ کی قدرت کا کرشمہ ہوگا جس نے ہر چیز کو حکمت کے ساتھ استوار کیا ہے ، وہ خوب جانتا ہے کہ تم لوگ کیا کرتے ہو۔[107] {۸۸} جو شخص بھلائی لے کر آئے گا اُسے اُس سے زیادہ بہتر صلہ ملے گا [108]اور ایسے لوگ اُس دن کے ہَول سے محفوظ ہوں گے۔[109]{۸۹} اور جو برائی لئے ہوئے آئے گا ، ایسے سب لوگ اوندھے منھ آگ میں پھینکے جائیں گے۔ کیا تم لوگ اس کے سوا کوئی اور جزا پاسکتے ہو کہ جیسا کرو ویسا بھرو؟{۹۰} ( اے نبی ؐ ! ا ِن سے کہو )’’ مجھے تو یہی حکم دیا گیا ہے کہ ِاس شہر ( مکہ) کے رب کی بندگی کروں جس نے اِسے حرم بنایا ہے اور جو ہر چیز کا مالک ہے ۔[110] مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں مسلم بن کررہوں{۹۱} اور یہ قرآن پڑھ کرسنا ؤں‘‘ ۔ اب جو ہدایت اختیار کرے گا وہ اپنے ہی بھلے کے لیے ہدایت اختیار کرے گا۔ اور جو گمراہ ہو اُس سے کہہ دوکہ: ’’ میں تو بس خبردار کردینے والا ہوں ‘‘۔{۹۲} ان سے کہو ،تعریف اللہ ہی کے لیے ہے ، عنقریب وہ تمہیں اپنی نشانیاں دکھادے گا اور تم انہیں پہچان لوگے ، اور تیرا رب بے خبر نہیں ہے اُن اعمال سے جو تم لوگ کرتے ہو۔{ ۹۳}
سورۃ القصص   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 28 : 1-50 / 88طٰسٓمّٓ ۔{۱} یہ کتابِ مبین کی آیات ہیں { ۲} ہم موسیٰ ؑ اور فرعون کا کچھ حال ٹھیک ٹھیک تمہیں سناتے ہیں[1] ، ایسے لوگوں کے فائدے کے لیے جو ایمان لائیں۔[2]{۳} واقعہ یہ ہے کہ فرعون نے زمین میں سرکشی کی[3] اور اس کے باشندوں کو گروہوں میں تقسیم کردیا۔[4] اُن میں سے ایک گروہ کو وہ ذلیل کرتا تھا اُس کے لڑکوں کوقتل کرتا اور اس کی لڑکیوں کو جیتا رہنے دیتا تھا۔ [5]فی الواقع وہ مفسد لوگوں میں سے تھا{۴} اور ہم یہ ارادہ رکھتے تھے کہ مہربانی کریں اُن لوگوں پر جو زمین میں ذلیل کرکے رکھے گئے تھے اوراُ نہیں پیشوا بنادیں [6]اور اُن ہی کو وارث بنائیں۔[7] {۵} اور زمین میں ان کو اقتدار بخشیں اور ان سے فرعون وہامان[8] اور ان کے لشکروں کو وہی کچھ دکھلادیں جس کا انہیں ڈرتھا۔{۶} ہم [9]نے موسیٰ ؑکی ماں کو اشارہ کیا کہ ’’ اِس کو دُودھ پلا ، پھر جب تجھے اس کی جان کا خطرہ ہوتو اسے دریا میں ڈال دے اور کچھ خوف اور غم نہ کر ، ہم اسے تیرے ہی پاس لے آئیں گے اور اس کو پیغمبروں میں شامل کریں گے‘‘۔[10]{۷} آخرکارفرعون کے گھروالوں نے اسے ( دریا سے ) نکال لیا تا کہ وہ ان کا دشمن اور ان کے لیے سببِ رنج بنے ،[11] واقعی فرعون اور ہامان اور ان کے لشکر ( اپنی تدبیر میں ) بڑے غلط کارتھے۔ {۸} فرعون کی بیوی نے ( اُس سے ) کہا ’’ یہ میرے اور تیرے لئے آنکھوں کی ٹھنڈک ہے ، اِسے قتل نہ کرو ، کیا عجب کہ یہ ہمارے لئے مفید ثابت ہو،یا ہم اِسے بیٹا ہی بنالیں ۔‘‘ [12]اور وہ (انجام سے ) بے خبر تھے ۔{۹} اُدھر موسیٰ ؑکی ماں کا دل اُڑا جارہا تھا۔ وہ اُس کا راز فاش کربیٹھتی اگر ہم اس کی ڈھارس نہ بندھادیتے تا کہ وہ (ہمارے وعدے پر ) ایمان لانے والوں میں سے ہو۔{ ۱۰} اُس نے بچّے کی بہن سے کہا اس کے پیچھے پیچھے جا،چنانچہ وہ الگ سے اُس کو اس طرح دیکھتی رہی کہ (دشمنوں کو ) اُس کا پتا نہ چلا۔ [13]{۱۱} اور ہم نے بچّے پر پہلے ہی دودھ پلانے والیوں کی چھاتیاں حرام کررکھی تھیں ۔[14] ( یہ حالت دیکھ کر ) اس لڑکی نے اُن سے کہا ’’ میں تمہیں ایسے گھر کا پتا بتا ؤں جس کے لوگ اس کی پرورش کا ذمّہ لیں اور خیر خواہی کے ساتھ اسے رکھیں ؟‘‘ [15]{۱۲} اِس طرح ہم موسیٰ ؑ[16]کو اس کی ماں کے پاس پلٹا لائے تا کہ اس کی آنکھیں ٹھنڈی ہوں اور وہ غمگین نہ ہو اور جان لے کہ اللہ کا وعدہ سچا تھا،[17] مگر اکثر لوگ اس بات کو نہیں جانتے۔ {۱۳} جب موسیٰ ؑ اپنی پوری جوانی کو پہنچ گیا اور اس کا نشوونما مکمل [18]ہوگیا تو ہم نے اسے حُکم اور علم عطا کیا [19]، ہم نیک لوگوں کو ایسی ہی جزادیتے ہیں۔{۱۴} ( ایک روز) وہ شہر میں ایسے وقت داخل ہوا جبکہ اہلِ شہر غفلت میں تھے۔[20] وہاں اس نے دیکھا کہ دو آدمی لڑرہے ہیں۔ ایک اس کی اپنی قوم کا تھا اور دوسرا اُس کی دُشمن قوم سے تعلق رکھتا تھا۔ اس کی قوم کے آدمی نے دشمن قوم والے کے خلاف اُسے مددکے لیے پکارا ۔ موسیٰ ؑ نے اس کو ایک گھونسا مارا [21]اور اس کا کام تمام کردیا۔( یہ حرکت سرز دہوتے ہی) موسیٰ ؑنے کہا ! ’’ یہ شیطان کی کارفرمائی ہے ، وہ سخت دشمن اور کھلا گمراہ کُن ہے ‘‘۔[22]{۱۵} پھر وہ کہنے لگا۔ ’’ اے میرے رب ! میں نے اپنے نفس پر ظلم کر ڈالا، میری مغفرت فرمادے ‘‘ ۔[23]چنانچہ اللہ نے اس کی مغفرت فرمادی[24] وہ غفور ، رحیم ہے{ ۱۶} موسیٰ ؑنے عہد کیا کہ ’’ اے میرے رب !یہ احسان جو تونے مجھ پر کیا ہے ۔[25] اس کے بعد اب میں کبھی مجرموں کا مددگارنہ بنوں گا ‘‘۔[26]{۱۷} دوسرے روز وہ صبح سویرے ڈرتا اور ہر طرف سے خطرہ بھانپتا ہوا شہر میں جارہا تھا کہ یکایک کیا دیکھتا ہے کہ وہی شخص جس نے کل اسے مدد کے لیے پکارا تھا آج پھر اسے پکارر ہا ہے۔ موسیٰ ؑنے کہا ’’ تُو توبڑاہی بہکا ہوا آدمی ہے ‘‘۔[27]{۱۸} پھر جب موسیٰ ؑنے ارادہ کیا کہ دشمن قوم کے آدمی پر حملہ کرے [28]تو وہ پکاراٹھا[29] ’’اے موسیٰ ؑ !کیا آج تو مجھے اسی طرح قتل کرنے لگاہے جس طرح کل ایک شخص کو قتل کرچکا ہے ؟ تو اس ملک میں جبّار بن کررہنا چاہتا ہے ،اصلاح کرنا نہیں چاہتا ‘‘۔ {۱۹} اس کے بعد ایک آدمی شہر کے پرلے سرے سے دوڑتا ہوا آیا [30]اور بولا ’’ موسیٰ ؑ! سرداروں میں تیرے قتل کے مشورے ہورہے ہیں ، یہاں سے نکل جا، میں تیرا خیرخواہ ہوں۔‘‘{۲۰} یہ خبر سنتے ہی موسیٰ ؑ ڈرتا اور سہمتا نکل کھڑا ہوا اور اس نے دُعا کی کہ ’’ اے میرے رب! مجھے ظالموں سے بچا۔‘‘{۲۱} (مصر سے نکل کر ) جب موسیٰ ؑنے مدَین کا رخ کیا [31]تو اس نے کہا ’’ اُمید ہے کہ میرا رب مجھے ٹھیک راستے پر ڈال دے گا‘‘[32] {۲۲} اور جب وہ مدَین کے کنویں پر پہنچا[33] تو اُس نے دیکھا کہ بہت سے لوگ اپنے جانوروں کو پانی پلا رہے ہیں اور ان سے الگ ایک طرف دو عورتیں اپنے جانوروں کو روک رہی ہیں۔موسیٰ ؑنے ان عورتوں سے پوچھا :’’تمہیں کیاپریشانی ہے‘‘انہوں نے کہا ’’ ہم اپنے جانوروں کو پانی نہیں پلاسکتیں جب تک یہ چرواہے اپنے جانورنہ نکال لے جائیں،اور ہمارے والد ایک بہت بوڑھے آدمی ہیں ‘‘ ۔ [34]{۲۳} یہ سُن کر موسیٰ ؑ نے ان کے جانوروں کو پانی پلا دیا ، پھر ایک سائے کی جگہ جا بیٹھا اور بولا: ’’پروردگار !جو خیر بھی تو مجھ پر نازل کردے میں اس کا محتاج ہوں‘‘{۲۴} ( کچھ دیرنہ گزری تھی کہ) اُن دونوں عورتوں میں سے ایک شرم وحیا کے ساتھ چلتی ہوئی اس کے پاس آئی[35] اور کہنے لگی ’’میرے والد آپ کو بُلارہے ہیں، تا کہ آپ نے ہمارے لئے جانوروں کو پانی جو پلایا ہے اس کا اجر آپ کو دیں۔‘‘[36] موسیٰ ؑ جب اسکے پاس پہنچا اور اپنا سارا قصّہ اسے سُنایا تو اس نے کہا ’’ کچھ خوف نہ کرو، اب تم ظالم لوگوں سے بچ نکلے ہو‘‘۔{۲۵} ان دونوں عورتوں میں سے ایک نے اپنے باپ سے کہا ’’ ا بّاجان ! اس شخص کو نو کر رکھ لیجئے ، بہترین آدمی جسے آپ ملازم رکھیں وہی ہوسکتا ہے جو مضبوط اور امانت دار ہو‘‘۔[37]{۲۶} اسکے باپ نے (موسیٰ ؑ سے ) کہا [38]’’ میں چاہتا ہوں کہ اپنی ان دو بیٹیوں میں سے ایک کا نکاح تمہارے ساتھ کردوںبشرطیکہ تم آٹھ سال تک میرے ہاں ملازمت کرو، اور اگر دس سال پُورے کردو تو یہ تمہاری مرضی ہے۔ میں تم پر سختی نہیں کرنا چاہتا۔تم ان شاء اللہ مجھے نیک آدمی پا ؤ گے ‘‘۔{۲۷} موسیٰ ؑنے جواب دیا ’’ یہ بات میرے اور آپ کے درمیان طے ہوگئی ، ان دونوں مدتوں میں سے جو بھی میں پوری کردوں اسکے بعد پھر کوئی زیادتی مجھ پر نہ ہو، اور جو کچھ قول قرار ہم کررہے ہیں اللہ اس پر نگہبان ہے ‘‘۔[39]{۲۸} جب موسیٰ ؑ نے مدت پُوری کردی [40]اور وہ اپنے اہل وعیال کو لے کر چلاتو طُور کی جانب اس کو ایک آگ نظر آئی۔[41] اُس نے اپنے گھروالوں سے کہا ’’ٹھہرو ، میں نے ایک آگ دیکھی ہے ، شاید میں وہاں سے کوئی خبر لے آ ؤں یا اس آگ سے کوئی انگارہ ہی اُٹھالا ؤں جس سے تم تاپ سکو‘‘۔{۲۹} وہاں پہنچا تو وادی کے داہنے کنارے[42] پر مبارک خطّے میں[43] ایک درخت سے پکارا گیا کہ ’’ اے موسیٰ ؑ ! میں ہی اللہ ہوں ، سارے جہان والوں کا مالک ‘‘ ۔{۳۰} اور (حکم دیا گیا کہ ) پھینک دے اپنی لاٹھی ۔ جوں ہی کہ موسیٰ ؑنے دیکھا کہ وہ لاٹھی سانپ کی طرح بل کھارہی ہے تو وہ پیٹھ پھیر کر بھاگا اور اس نے مڑ کر بھی نہ دیکھا۔ (ارشاد ہوا) ’’ موسیٰ ؑ پلٹ آ اور خوف نہ کر ، تو بالکل محفوظ ہے ۔{۳۱} اپنا ہاتھ گریبان میں ڈال، چمکتا ہوانکلے گا بغیر کسی تکلیف کے[44]۔ اور خوف سے بچنے کے لیے اپنا بازو بھینچ لے۔ [45]یہ دو روشن نشانیاں ہیں تیرے رب کی طرف سے فرعون اور اس کے درباریوں کے سامنے پیش کرنے کے لیے ، وہ بڑے نافرمان لوگ ہیں‘‘۔[46]{۳۲} موسیٰ ؑنے عرض کیا ’’میرے آقا ! میں تو ان کا ایک آدمی قتل کرچکا ہوں ، ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے مارڈالیں گے ۔[47]{ ۳۳} اور میرا بھائی ہارونؑ مجھ سے زیادہ زبان آورہے ، اسے میرے ساتھ مددگار کے طور پر بھیج تا کہ وہ میری تائید کرے ، مجھے اندیشہ ہے کہ وہ لوگ مجھے جھٹلائیں گے ‘‘۔{۳۴} فرمایا’’ ہم تیرے بھائی کے ذریعہ سے تیرا ہاتھ مضبوط کریں گے اور تم دونوں کو ایسی سطوت بخشیں گے کہ وہ تمہارا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے ۔ ہماری نشانیوں کے زور سے غلبہ تمہارا اور تمہارے پیرووں کا ہی ہوگا ۔‘‘[48]{۳۵} پھر جب موسیٰ ؑ اُن لوگوں کے پاس ہماری کھلی کھلی نشانیاں لے کر پہنچا تو انہوں نے کہا کہ ’’ یہ کچھ نہیں ہے مگر بنا ؤٹی جادو ،[49] اور یہ باتیں تو ہم نے اپنے باپ دادا کے زمانے میں کبھی سنیں ہی نہیں‘‘[50]{۳۶} موسیٰ ؑ ؑنے جواب دیا’’میرا رب اُس شخص کے حال سے خوب واقف ہے جو اس کی طرف سے ہدایت لے کر آیا ہے اور وہی بہتر جانتا ہے کہ آخری انجام کس کا اچھا ہونا ہے ، حق یہ ہے کہ ظالم کبھی فلاح نہیں پاتے‘‘ ۔[51]{۳۷} اور فرعون نے کہا’’ اے اہلِ دربار ! میں تو اپنے سوا تمہارے کسی اِلٰہ کو نہیں جانتا[52]۔ اے ہامان ! ذرا اینٹیں پکواکر میرے لئے ایک اُونچی عمارت تو بنوا ، شاید کہ اس پر چڑھ کر میں موسیٰ ؑ کے اِلٰہ کو دیکھ سکوں ، میں تو اسے جُھوٹ سمجھتا ہوں‘‘۔[53]{۳۸} اُس نے اور اس کے لشکروں نے زمین میں بغیر کسی حق کے اپنی بڑائی کا گھمنڈ[54]کیا اور سمجھے کہ انہیں کبھی ہماری طرف پلٹنا نہیں [55]ہے۔{۳۹} آخر کار ہم نے اسے اور اس کے لشکروں کو پکڑا اور سمندر میں پھینک[56] دیا۔ اب دیکھ لو کہ ان ظالموں کا کیسا انجام ہوا۔{۴۰} ہم نے انہیں جہنم کی طرف دعوت دینے والے پیش روبنا دیا[57] اور قیامت کے روز وہ کہیں سے کوئی مدد نہ پاسکیں گے۔{۴۱} ہم نے اس دنیا میں ان کے پیچھے لعنت لگادی اور قیامت کے روز وہ بڑی قباحت میں مبتلا ہوں گے۔[58]{ ۴۲} پچھلی نسلو ں کو ہلاک کرنے کے بعد ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب عطا کی ، لوگوں کے لیے بصیرتوں کا سامان بناکر ، ہدایت اور رحمت بناکر ، تاکہ شاید لوگ سبق حاصل کریں۔[59]{ ۴۳} (اے نبی ؐ) تم اُس وقت مغربی گوشے میں موجود نہ [60]تھے، جب ہم نے موسیٰ ؑ کو یہ فرمان شریعت عطا کیا اور نہ تم شاہدین میں شامل [61]تھے{۴۴} بلکہ اس کے بعد ( تمہارے زمانے تک) ہم بہت سی نسلیں اٹھا چکے ہیں اور ان پر بہت زمانہ گزرچکا ہے ۔[62] تم اہلِ مدین کے درمیان بھی موجود نہ تھے کہ اُن کو ہماری آیات سُنارہے ہوتے ،[63] مگر (اُس وقت کی یہ خبریں ) بھیجنے والے ہم ہیں۔{۴۵} اور تم طُور کے دامن میں بھی اُس وقت موجود نہ تھے جب ہم نے (موسیٰ ؑ کو پہلی مرتبہ ) پکارا تھا، مگر یہ تمہارے رب کی رحمت ہے( کہ تم کو یہ معلومات دی جارہی ہیں) [64]تا کہ تم ان لوگوں کو متنبہ کروجن کے پاس تم سے پہلے کوئی متنبہ کرنے والا نہیں آیا ، [65]شاید کہ وہ ہوش میں آئیں۔{۴۶} ( اور یہ ہم نے اس لیے کیا کہ ) کہیں ایسا نہ ہو کہ اُن کے اپنے کئے کرتُوتوں کی بدولت کوئی مصیبت جب اُن پر آئے تووہ کہیں ’’ اے پروردگار! تُونے کیوں نہ ہماری طرف کوئی رسول بھیجا کہ ہم تیری آیات کی پیروی کرتے اور اہل ایمان میں سے ہوتے‘‘۔[66]{۴۷} مگر جب ہمارے ہاں سے حق اُن کے پاس آگیا تو وہ کہنے لگے ’’ کیوں نہ دیا گیا اِس کو وہی کچھ جو موسیٰ ؑ کو دیا گیا تھا‘‘؟[67] کیا یہ لوگ اُس کا انکار نہیں کرچکے ہیں جو اس سے پہلے موسیٰ ؑکو دیا گیا تھا؟ [68] اِنہوں نے کہا ’’دونوں جادوہیں[69] جو ایک دوسرے کی مدد کرتے ہیں ‘‘۔ اور کہا ’’ ہم کسی کونہیں مانتے ‘‘۔{۴۸} ( اے نبی ؐ) اِن سے کہو ،’’ اچھا تو لا ؤ اللہ کی طرف سے کوئی کتاب جو اِن دونوں سے زیادہ ہدایت بخشنے والی ہوا گر تم سچّے ہو ، میں اسی کی پیروی اختیار کروں گا۔ ‘‘[70]{۴۹} اب اگر وہ تمہارا یہ مطالبہ پور انہیں کرتے تو سمجھ لو کہ دراصل یہ اپنی خواہشات کے پیروہیں۔ اوراُس شخص سے بڑھ کر کون گمراہ ہوگا جو اللہ کی ہدایت کے بغیر بس اپنی خواہشات کی پیروی کرے ؟ اللہ ایسے ظالموں کو ہر گز ہدایت نہیں بخشتا۔{۵۰}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)