سورۃ الشعرآء   -  26 : 111-227 / 227 انہوں نے جواب دیا ’’ کیا ہم تجھے مان لیں حالانکہ تیری پیروی رذیل ترین لوگوں نے اختیار کی ہے ؟‘‘[81]{۱۱۱} نوحؑ نے کہا ’’ میں کیا جانوں کہ اُن کے عمل کیسے ہیں { ۱۱۲} ان کا حساب تو میرے رَبّ کے ذمّہ ہے ، کاش تم کچھ شعور سے کام لو۔ [82]{۱۱۳} میرا یہ کام نہیں ہے کہ جوایمان لائیں ان کو میں دُھتکاردوں۔ {۱۱۴} میں تو بس ایک صاف صاف متنبہ کردینے والا آدمی ہوں‘‘[83]{۱۱۵} انہوں نے کہا ’’ اے نوحؑ ! اگر توبازنہ آیا تو پھٹکارے ہوئے لوگوں میں شامل ہوکررہے گا ‘‘۔[84] {۱۱۶} نوح ؑنے دُعا کی ’’ اے میرے رَبّ !میری قوم نے مجھے جُھٹلادیا۔[85]{۱۱۷} اب میرے اور ان کے درمیان دوٹوک فیصلہ کردے اور مجھے اور جو مومن میرے ساتھ ہیں ان کو نجات دے ‘‘۔[86]{۱۱۸} آخرکارہم نے اس کو اور اس کے ساتھیوں کو ایک بھری ہوئی کشتی میں بچالیا۔ [87]{۱۱۹} اور اس کے بعد باقی لوگوں کو غرق کردیا{۱۲۰} یقینا اِس میں ایک نشانی ہے ،مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں{۱۲۱} اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رَبّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔{۱۲۲} عاد نے رسولوں کو جھٹلایا [88]{۱۲۳} یادکرو جب کہ ان کے بھائی ہودؑ نے ان سے کہا [89]تھا ’’کیا تم ڈرتے نہیں ؟{۱۲۴ } میں تمہارے لئے ایک امانت داررسول ؑ ہوں {۱۲۵} لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ {۱۲۶} میں اِس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔ میرا اجر تورَبّ العٰلمین کے ذمّہ ہے۔{۱۲۷} یہ تمہارا کیا حال ہے کہ ہر اُونچے مقام پر لاحاصل ایک یادگار عمارت بناڈالتے ہو [90]{۱۲۸} اور بڑے بڑے قصر تعمیر کرتے ہوگویا تمہیں ہمیشہ رہنا ہے۔[91]{۱۲۹} اور جب کسی پر ہاتھ ڈالتے ہو جبارن کرڈالتے ہو ۔[92]{۱۳۰} پس تم لوگ اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔{۱۳۱} ڈرو اُس سے جس نے وہ کچھ تمہیں دیا ہے جو تم جانتے ہو۔{۱۳۲} تمہیں جانورد یے ،اولادیں دیں {۱۳۳} باغ دیئے اور چشمے دیے ۔ {۱۳۴} مجھے تمہارے حق میں ایک بڑے دن کے عذاب کاڈرہے ‘‘۔{۱۳۵} انہو ں نے جواب دیا’’ تُو وعظ و نصیحت کریانہ کر ، ہمارے لئے سب یکساں ہے۔{۱۳۶} یہ باتیں تویوں ہی ہوتی چلی آئی ہیں[93]{۱۳۷} اور ہم عذاب میں مبتلا ہونے والے نہیں ہیں‘‘۔{۱۳۸} آخر کار اُنہوں نے اُسے جُھٹلادیا اور ہم نے ان کو ہلاک کردیا۔[94]یقینا اِس میں ایک نشانی ہے ، مگر ان میں سے اکثر لوگ ماننے والے نہیں ہیں۔{۱۳۹} اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رَبّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔{۱۴۰} ثمود نے رسُولوں کو جُھٹلایا۔[95] {۱۴۱} یاد کروجب کہ ان کے بھائی صالح ؑ نے اُن سے کہا ’’کیا تم ڈرتے نہیں؟ {۱۴۲} میں تمہارے لئے ایک امانت داررسُول ہوں۔[96]{۱۴۳} لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو ۔{۱۴۴} میں اِس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں، میرا اجر توربُّ لعٰلمین کے ذمّہ ہے۔{۱۴۵} کیا تم اُن سب چیزوں کے درمیان ، جو یہاں ہیں ، بس یونہی اطمینان سے رہنے دیے جا ؤ گے ؟[97]{۱۴۶} اِن باغوں اور چشموںمیں ؟{۱۴۷} ان کھیتوں اور نخلستانوں میں جن کے خوشے رس بھرے ہیں ؟ [98]{۱۴۸} تم پہاڑ کھود کھود کرفخر یہ اُن میں عمارتیں بناتے ہو۔[99]{۱۴۹} اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔{۱۵۰} اُن بے لگام لوگوں کی اطاعت نہ کرو{۱۵۱} جو زمین میں فسادبرپا کرتے ہیں اور کوئی اصلاح نہیں کرتے‘‘۔[100]{۱۵۲} انہوں نے جواب دیا ’’ تُو محض ایک سحر زدہ آدمی ہے[101]{۱۵۳} تو ہم جیسے ایک انسان کے سوا ا ور کیا ہے ؟ لاکوئی نشانی اگر تو سچّا ہے ‘‘۔[102]{۱۵۴} صالح ؑ نے کہا ’’ یہ اونٹنی [103]ہے ۔ ایک دن اس کے پینے کا ہے اور ایک دن تم سب کے پانی لینے کا۔[104]{۱۵۵} اِس کو ہر گز نہ چھیڑنا ورنہ ایک بڑے دن کا عذاب تم کو آلے گا‘‘۔{۱۵۶} مگر انہوں نے اس کی کوچیں کاٹ دیں[105] اور آخر کا رپچھتاتے رہ گئے۔ {۱۵۷} عذاب نے اُنہیں آلیا۔ [106]یقینا اس میں ایک نشانی ہے ، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔{۱۵۸} اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رَبّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔{۱۵۹} لوطؑ کی قوم نے رسُولوں کو جُھٹلایا۔[107]{۱۶۰} یاد کرو جب کہ ان کے بھائی لوطؑ نے ان سے کہا تھا،’’ کیا تم ڈرتے نہیں ؟ {۱۶۱} میں تمہارے لئے ایک امانت داررُ سول ہوں۔ {۱۶۲} لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔{۱۶۳} میں اِس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ، میرا اجر تو ربُّ العٰلمین کے ذمّہ ہے ۔{۱۶۴} کیا تم دنیا کی مخلوق میں سے مَردو ں کے پاس جاتے ہو[108] {۱۶۵} اور تمہاری بیویوں میں تمہارے رَبّ نے تمہارے لئے جو کچھ پیدا کیا ہے اسے چھوڑ دیتے ہو ؟[109] بلکہ تم لوگ تو حد سے ہی گزرگئے ہو ‘‘ ۔[110]{۱۶۶} اُنہوں نے کہا ’’ اے لوط ؑ! اگر تو ان باتوں سے بازنہ آیا تو جو لوگ ہماری بستیوں سے نکالے گئے ہیں اُن میں تو بھی شامل ہو کررہے گا ‘‘۔[111] {۱۶۷} اُس نے کہا ’’ تمہارے کرتُوتوں پر جولوگ کُڑھ رہے ہیں میں اُن میں شامل ہوں ۔{۱۶۸} اے پروردگار ! مجھے اور میرے اہل وعیال کو ان کی بدکرداریوں سے نجات دے‘‘ ۔[112] {۱۶۹} آخر کارہم نے اسے اور اس کے سب اہل وعیال کوبچالیا{۱۷۰} بجز ایک بڑھیا کے جو پیچھے رہ جانے والوں میں تھی۔[113]{۱۷۱} پھر باقی ماندہ لوگوں کو ہم نے تباہ کردیا {۱۷۲} اور اُن پر برسائی ایک برسات، بڑی ہی بُری بارش تھی جو اُن ڈرائے جانے والوں پر نازل [114]ہوئی ۔{۱۷۳} یقینااس میں ایک نشانی ہے ، مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔{۱۷۴} اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رَبّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ {۱۷۵} اصحابُ الایکہ نے رسُولوں کو جھٹلایا۔[115]{۱۷۶} یاد کرو جب کہ شعیب ؑ نے ان سے کہا تھا ’’ کیا تم ڈرتے نہیں ؟ {۱۷۷} میں تمہارے لئے ایک امانت داررُسول ہوں{۱۷۸} لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو{۱۷۹} میں اِس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں۔میرا اجر تو ربُّ العٰلمین کے ذمّہ ہے۔ {۱۸۰} پیمانے ٹھیک بھرواور کسی کوگھاٹا نہ دو۔{۱۸۱} صحیح ترازو سے تو لو {۱۸۲} اور لوگوں کو اُن کی چیزیں کم نہ دو، زمین میں فسادنہ پھیلاتے پھرو {۱۸۳} اور اُس ذات کا خوف کرو جس نے تمہیں اور گزشتہ نسلوں کو پیدا کیا ہے ‘‘۔{۱۸۴} انہوں نے کہا ’’ تو محض ایک سحر زدہ آدمی ہے{۱۸۵} اور تو کچھ نہیں ہے مگر ایک انسان ہم ہی جیسا ، اور ہم تو تجھے بالکل جھوٹا سمجھتے ہیں۔{۱۸۶} اگر تو سچّا ہے تو ہم پر آسمان کا کوئی ٹکڑا گرا دے ‘‘۔ {۱۸۷} شعیب ؑ نے کہا ’’ میرا رَبّ جانتا ہے جو کچھ تم کررہے ہو ‘‘۔[116]{۱۸۸} انہوں نے اسے جھٹلادیا۔ آخر کارچھتری والے دن کا عذاب اُن پر آگیا[117] اور وہ بڑے ہی خوفناک دن کا عذاب تھا۔{۱۸۹} یقینا اس میں ایک نشانی ہے ، مگر اِن میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔{۱۹۰} اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رَبّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔{۱۹۱} یہ [118]ربُّ العٰلمین کی نازل کردہ چیز ہے۔ [119]{۱۹۲} اسے لے کر امانت دار روح [120] اتری ہے { ۱۹۳} تیرے دل پرتا کہ تو اُن لوگوں میں شامل ہوجو (اللہ کی طرف سے خلق اللہ کو ) متنبہ کرنے والے ہیں {۱۹۴} صاف صاف عربی زبان میں۔[121] {۱۹۵} اور اگلے لوگوں کی کتابوں میں بھی یہ موجود ہے۔[122]{۱۹۶} کیا ان (اہل مکہ ) کے لیے یہ کوئی نشانی نہیں ہے کہ اسے علما ء بنی اسرائیل جانتے ہیں ؟ [123] {۱۹۷} ( لیکن اِن کی ہٹ دھرمی کا حال تو یہ ہے کہ ) اگر ہم اسے کسی عجمی پر بھی نازل کردیتے {۱۹۸} اور یہ (فصیح عربی کلام ) وہ اِن کو پڑھ کر سُناتا تب بھی یہ مان کر نہ دیتے ۔ [124]{۱۹۹} اِسی طرح ہم نے اس ( ذکر ) کو مجرموں کے دلوں میں گزارا ہے۔[125]{۲۰۰} وہ اس پر ایمان نہیں لاتے جب تک کہ عذاب الیم نہ دیکھ لیں۔[126]{۲۰۱} پھر جب وہ بے خبری میں ان پر آپڑتا ہے{ ۲۰۲} اُس وقت وہ کہتے ہیں کہ ’’ کیا اب ہمیں کچھ مُہلت مل سکتی ہے؟‘‘[127]{۲۰۳} تو کیا یہ لوگ ہمارے عذاب کے لیے جلدی مچا رہے ہیں ؟{۲۰۴} تم نے کچھ غور کیا،اگر ہم اِنہیں برسوں تک عیش کرنے کی مہلت بھی دے دیں{۲۰۵} اور پھروہی چیزان پر آجائے جس سے انہیں ڈرایا جارہا ہے {۲۰۶} تو وہ سامانِ زیست جو اِن کو ملاہوا ہے اِن کے کس کام آئے گا ؟[128]{۲۰۷} ( دیکھو) ہم نے کبھی کسی بستی کو اس کے بغیر ہلاک نہیں کیا کہ اُس کے لیے خبردار کرنے والے موجود تھے۔{۲۰۸} حقِ نصیحت ادا کرنے کو،اور ہم ظالم نہ تھے[129]{۲۰۹} اِس( کتاب ِمبین ) کو شیاطین لے کر نہیں اترے ہیں[130]{۲۱۰} نہ یہ کام اُن کو سجتا [131] (زیب دیتا) ہے ، اور نہ وہ ایسا کرہی سکتے ہیں[132]{۲۱۱} وہ تو اِس کی سماعت تک سے دُور رکھے گئے ہیں۔[133] {۲۱۲} پس (اے نبی ؐ!) اللہ کے ساتھ کسی دُوسرے معبُود کو نہ پکارو ، ورنہ تم بھی سزاپانے والوں میں شامل ہوجا ؤ گے۔[134]{ ۲۱۳} اپنے قریب ترین رشتہ داروں کو ڈرا ؤ[135]{۲۱۴} اور ایمان لانے والوں میں سے جو لوگ تمہاری پیروی اختیار کریں ان کے ساتھ تواضع سے پیش آ ؤ ۔ {۲۱۵} لیکن اگر وہ تمہاری نافرمانی کریں تو اُن سے کہہ دو کہ جو کچھ تم کرتے ہو اُس سے میں بری ا لذّمہ ہوں [136]{۲۱۶} اور اُس زبردست اور رحیم پر توکل کرو[137]{۲۱۷} جو تمہیں اُس وقت دیکھ رہا ہوتا ہے جب تم اُٹھتے ہو [138]{۲۱۸} اور سجدہ گزار لوگوں میں تمہاری نقل و حرکت پر نگاہ رکھتا ہے۔[139]{۲۱۹} وہ سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے۔{۲۲۰} لوگو!کیا میں تمہیں بتا ؤں کہ شیاطین کس پراُتراکرتے ہیں ؟{۲۲۱} وہ ہر جعل ساز بدکار پر اُترا کرتے ہیں۔[140]{۲۲۲} سُنی سنائی باتیں کانوں میں پُھونکتے ہیں اور ان میں سے اکثر جُھوٹے ہوتے ہیں۔ [141]{۲۲۳} رہے شعراء، تو ان کے پیچھے بہکے ہوئے لوگ چلاکرتے ہیں۔[142] {۲۲۴} کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ وہ ہر وادی میں بھٹکتے ہیں[143]{۲۲۵} اور ایسی باتیں کہتے ہیں جو کرتے نہیں ہیں[144]{۲۲۶} بجز اُن لوگوں کے جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے اور اللہ کو کثرت سے یاد کیا اور جب ان پر ظلم کیا گیا تو صرف بدلہ لے لیا۔[145]اور ظلم کرنے والوں کو عنقریب معلوم ہوجائے گا کہ وہ کس انجام سے دوچار ہوتے ہیں۔[146]{۲۲۷}
سورۃالنمل   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 27 : 1-55 / 93 طٰسٓ۔ یہ آیات ہیں قرآن اور کتابِ مبین [1]کی {۱} ہدایت اور بشارت [2]اُن ایمان لانے والوں کے لیے {۲} جو نماز قائم کرتے اور زکوٰۃ دیتے ہیں ،[3] اور پھر وہ ایسے لوگ ہیں جو آخرت پر پورا یقین رکھتے ہیں۔[4] {۳} حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے اُن کے لیے ہم نے اُن کے کرتوتوں کو خوشنما بنادیا ہے، اس لیے وہ بھٹکتے پھرتے ہیں۔[5] { ۴} یہ وہ لوگ ہیں جن کے لیے بری سزا ہے [6]اور آخرت میں یہی سب سے زیادہ خسارے میں رہنے والے ہیں۔{۵} اور( اے نبی ؐ !) بلاشبہ تم یہ قرآن ایک حکیم وعلیم ہستی کی طرف سے پار ہے ہو۔[7]{۶} (انہیں اُس وقت کا قصہ سُنا ؤ ) جب موسیٰ ؑنے اپنے گھروالوں سے کہا[8] کہ ’’ مجھے ایک آگ سی نظرآئی ہے ، میں ابھی یاتو وہاں سے کوئی خبرلے کر آتا ہو ںیا کوئی انگارا چُن لاتا ہوں تا کہ تم لوگ گرم ہو سکو‘‘[9]{۷} وہاں جو پہنچا تو ندا آئی [10]کہ’’ مبارک ہے وہ جو اس آگ میں ہے اور جو اِس کے ماحول میں ہے ۔ پاک ہے اللہ، سب جہان والوں کا پروردگار[11] {۸} اے موسیٰ ؑ !یہ میں ہوں اللہ زبردست اور دانا۔ {۹} اور پھینک تو ذرا اپنی لاٹھی، ‘‘ جونہی کہ موسیٰ ؑ نے دیکھا لاٹھی سانپ کی طرح بل کھارہی ہے[12] تو پیٹھ پھیر کر بھاگا اور پیچھے مُڑکر بھی نہ دیکھا۔ ’’اے موسیٰ !، ڈرو نہیں میرے حضور رسُو ل ڈرا نہیں کرتے [13]{۱۰} اِ لاّ یہ کہ کسی نے قصور کیا ہو۔ [14]پھر اگر بُرائی کے بعد اُس نے بَھلائی سے ( اپنے فعل کو ) بدل لیا تو میں معاف کرنے والا مہربان ہوں۔[15]{۱۱} اور ذرا اپنا ہاتھ اپنے گریبان میں تو ڈالو ، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف کے۔ یہ ( دو۲ نشانیاں ) نو۹ نشانیوں میں سے ہیں فرعون اور اس کی قو م کی طرف ( لے جانے کے لیے [16]) وہ بڑے بدکردار لوگ ہیں ‘‘۔{۱۲} مگر جب ہماری کھلی کھلی نشانیاں اُن لوگوں کے سامنے آئیں تواُنہو ں نے کہا کہ یہ تو کھلا جادُو ہے{۱۳} اُنہوں نے سراسر ظلم اور غرور کی راہ سے ان نشانیوں کا انکار کیا حالانکہ دل اُن کے قائل ہوچکے تھے۔[17] اب دیکھ لو کہ اُن مفسدوں کا انجام کیسا ہوا۔{۱۴} ( دُوسری طرف ) ہم نے دا ؤد ؑ و سلیمان ؑ کو علم عطا کیا[18] اور انہوں نے کہا کہ ’’ شکر ہے اس اللہ کا جس نے ہم کو اپنے بہت سے مومن بندوں پر فضیلت عطاکی ‘‘۔[19]{۱۵} اور دا ؤد ؑ کا وارث سلیمانؑ [20]ہوا ۔ اور اس نے کہا ’’ لوگو ! ہمیں پرندوں کی بولیاں سکھائی گئی[21] ہیں اور ہمیں ہر طرح کی چیزیں دی گئی [22]ہیں بے شک یہ (اللہ کا) نمایاںفضل ہے۔‘‘ {۱۶} سلیمان ؑ کے لیے جِن اور انسانوں اور پر ندوں کے لشکر جمع کئے گئے تھے[23] اور وہ پُورے ضبط میں رکھے جاتے تھے۔{۱۷} (ایک مرتبہ وہ اُن کے ساتھ کوچ کررہاتھا) یہاں تک کہ جب یہ سب چیونٹیوں کی وادی میں پہنچے تو ایک چیونٹی ، نے کہا ’’ اے چیونٹیو! اپنے بلِوںمیں گھس جا ؤ، کہیں ایسا نہ ہو کہ سلیمانؑ اور اس کے لشکر تمہیں کچل ڈالیں اور انہیں خبر بھی نہ ہو ‘‘۔[24]{۱۸} سلیمان ؑ اس کی بات پر مسکراتے ہوئے ہنس پڑا اور بولا:’’ اے میرے رَبّ! مجھے قابومیں[25] رکھ کہ میں تیرے اُس احسان کا شکر ادا کرتا رہوں جو تو نے مجھ پر اور میرے والدین پر کیا ہے اور ایسا عملِ صالح کروں جو تجھے پسند آئے اور اپنی رحمت سے مجھ کو اپنے صالح بندوں میں داخل کر ‘‘۔[26]{۱۹} (ایک اور مَوقع پر ) سلیمان ؑ نے پرندوں کا جائزہ لیا[27] اور کہا ’’ کیا بات ہے کہ میں فلاں ہُدہُد کو نہیں دیکھ رہاہوں ؟ کیا وہ کہیں غائب ہوگیا ہے ؟ {۲۰} میں اُسے سخت سزادوں گا، یا اُسے ذبح کردوں گا ، ورنہ اسے میرے سامنے معقول وجہ پیش کرنی [28]ہوگی‘‘۔ {۲۱} کچھ زیادہ دیرنہ گزری تھی کہ اُس نے آکر کہا ’’میں نے وہ معلومات حاصل کی ہیں جو آپ کے ِعلم میں نہیں ہیں۔ میں سبا کے متعلق یقینی اطلاع لے کر آیا ہوں۔ [29]{۲۲} میں نے وہاں ایک عورت دیکھی جو اُس قوم کی حکمراں ہے۔ اُس کو ہر طرح کا سروسامان بخشا گیا ہے اور اُس کا تخت بڑا عظیم الشان ہے ۔{۲۳} میں نے دیکھا کہ وہ اور اس کی قوم اللہ کے بجائے سُورج کے آگے سجدہ [30]کرتی ہے ‘‘۔ شیطان[31] نے اُن کے اعمال اُن کے لیے خوشنما بنادیے[32] اور انہیں شاہراہ سے روک دیا، اِس وجہ سے وہ یہ سیدھاراستہ نہیں پاتے{۲۴} کہ اُس اللہ کو سجدہ کریں جو آسمانوں اور زمین کی پوشیدہ چیزیں نکالتا ہے[33] اور وہ سب کچھ جانتا ہے جسے تم لوگ چُھپاتے اور ظاہر کرتے ہو۔[34]{۲۵} اللہ کہ جس کے سوا کوئی مستحق ِ عبادت نہیں ، جو عرشِ عظیم کا مالک ہے۔[35]{۲۶ } سلیمانؑ نے کہا ’’ ابھی ہم دیکھے لیتے ہیں کہ تو نے سچ کہا ہے یا تو جُھوٹ بولنے والوںمیں سے ہے۔{۲۷} میرا یہ خط لے جااور اسے ان لوگوں کی طرف ڈال دے ، پھر الگ ہٹ کر دیکھ کہ وہ کیا ردِّعمل ظاہر کرتے ہیں‘‘۔[36]{۲۸} ملکہ بولی ’’اے اہل ِدربار ! میری طرف ایک بڑا اہم خط پھینکا گیا ہے۔{۲۹} وہ سلیمانؑ کی جانب سے ہے اور اللہ رحمن و رحیم کے نام سے شروع کیا گیا ہے۔{۳۰} مضمون یہ ہے کہ ’’میرے مقابلے میں سرکشی نہ کرو اور مسلم ہو کر میرے پاس حاضر ہوجا ؤ ‘‘[37]{۳۱} (خط سناکر ) ملکہ نے کہا ’’ اے سرداران قوم !میرے اس معاملے میں مجھے مشورہ دو میں کسی معاملہ کا فیصلہ تمہارے بغیر نہیں کرتی ہوں‘‘۔[38]{۳۲} اُنہوں نے جواب دیا ’’ ہم طاقت ور اور لڑنے والے لوگ ہیں۔ آگے فیصلہ آپ کے ہاتھ میں ہے۔ آپ خود دیکھ لیں کہ آپ کو کیا حکم دینا ہے‘‘۔{۳۳} ملکہ نے کہا کہ ’’بادشاہ جب کسی مُلک میں گھس آتے ہیں تو اُسے خراب اور اس کے عزّت والوں کو ذلیل کردیتے ہیں۔ [39]یہی کچھ وہ کیا کرتے ہیں[40]{۳۴} میں اُن لوگوں کی طرف ایک ہدیہ بھیجتی ہوں ، پھر دیکھتی ہوں کہ میرے ایلچی کیا جواب لے کر پلٹتے ہیں‘‘۔{۳۵} جب وہ ( ملکہ کا سفیر ) سلیمانؑ کے ہاں پہنچا تو اُس نے کہا ’’کیا تم لوگ مال سے میری مدد کرنا چاہتے ہو ؟ جو کچھ اللہ نے مجھے دے رکھا ہے وہ اُس سے بہت زیادہ ہے جو تمہیں دیاہے۔[41] تمہارا ہدیہ تم ہی کو مبارک رہے۔{۳۶} (اے سفیر ) واپس جا اپنے بھیجنے والوں کی طرف ۔ ہم ان پر ایسے لشکر لے کرآئیں [42]گے جن کا مقابلہ وہ نہ کرسکیں گے اور ہم انہیں ایسی ذلّت کے ساتھ وہاں سے نکالیں گے کہ وہ خوار ہو کررہ جائیں گے‘‘۔{۳۷} سلیمان ؑ [43]نے کہا ’’ اے اہلِ دربار !تم میں سے کون اُس کا تخت میرے پاس لاتا ہے قبل اِس کے کہ وہ لوگ مطیع ہوکر میرے پاس حاضرہوں ؟[44]{۳۸} جِنّوں میں سے ایک قوی ہیکل نے عرض کیامیں اسے حاضر کردوں گا قبل اس کے کہ آپ اپنی جگہ سے اٹھیں۔[45] میں اِس کی طاقت رکھتا ہوں اور امانت دارہوں۔ ‘‘[46]{۳۹} جس شخص کے پاس کتاب کا ایک علم تھا وہ بولا’’ میں آپ کی پلک جھپکنے سے پہلے اسے لائے دیتا ہوں۔ ‘‘[47]جونہی کہ سلیمان ؑ نے وہ تخت اپنے پاس رکھاہوا دیکھا ، و ہ پُکاراُٹھا’’ یہ میرے رَبّ کا فضل ہے تا کہ وہ مجھے آزمائے کہ میں شکر کرتا ہو ں یا کافرِ نعمت بن جاتا ہوں۔[48] اور جو کوئی شکر کرتا ہے اس کا شکر اس کے اپنے ہی لیے مفید ہے ، ورنہ کوئی ناشکری کرے تو میرا رَبّ بے نیاز اور اپنی ذات میں آپ بزرگ ہے‘‘۔[49] {۴۰} سلیمانؑ [50]نے کہا ’’ اَنجان طریقے سے اس کا تخت اس کے سامنے رکھ دو، دیکھیں وہ صحیح بات تک پہنچتی ہے یا اُن لوگوں میں سے ہے جو راہِ راست نہیں پاتے ‘‘۔[51]{۴۱} ملکہ جب حاضر ہوئی تواس سے کہا گیا کیا تیرا تخت ایسا ہی ہے ؟ وہ کہنے لگی ’’ یہ تو گویاوہی [52]ہے ۔ ہم تو پہلے ہی جان گئے تھے اور ہم نے سراطاعت جُھکا دیا تھا۔ (یا ہم مسلم ہوچکے تھے)۔ [53] {۴۲} اُس کو (ایمان لانے سے) جس چیز نے روک رکھا تھا وہ اُن معبُودوں کی عبادت تھی جنہیں وہ اللہ کے سوا پوجتی تھی ،کیوں کہ وہ ایک کافر قوم سے تھی۔ [54]{۴۳} اس سے کہا گیا کہ محل میں داخل ہو۔ اس نے جو دیکھا تو سمجھی کہ پانی کا حوض ہے اور اترنے کے لیے اس نے اپنے پائینچے اٹھالئے۔ سلیمانؑ نے کہا ’’ یہ شیشے کا چکنا فرش ہے ۔‘‘[55] اس پر وہ پُکاراُٹھی ’’ اے میرے رَبّ ! (آج تک ) میں اپنے نفس پر بڑاظلم کرتی رہی،اور اب میں نے سلیمانؑ کے ساتھ اللہ رَبّ العٰلمین کی اطاعت قبول کرلی‘‘ ۔[56]{۴۴} اور [57]ثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صا لح ؑکو ( یہ پیغام دے کر ) بھیجا کہ اللہ کی بندگی کرو، تویکایک وہ دو متخاصِم فریق بن گئے۔[58] {۴۵} صالح ؑنے کہا ’’ اے میری قوم کے لوگو ! بھلائی سے پہلے بُرائی کے لیے کیوں جلدی مچاتے ہو ؟[59] کیوں نہیں اللہ سے مغفرت طلب کرتے ؟ شاید کہ تم پر رحم فرمایا جائے ؟‘‘ {۴۶} انہوں نے کہا ’’ ہم نے تو تم کو اور تمہارے ساتھیوں کوبدشگونی کانشان پایا [60]ہے۔ ‘‘ صالح ؑنے جواب دیا ’’تمہارے نیک وبد شگون کا سررشتہ تو اللہ کے پاس ہے۔ اصل بات یہ ہے کہ تم لوگوں کی آزمائش ہورہی ہے‘‘۔[61]{۴۷} اُس شہر میں نو۹ جھتے دارتھے [62]جو ملک میں فساد پھیلاتے اور کوئی اصلاح کاکام نہ کرتے تھے۔ {۴۸} انہوں نے آپس میں کہا ’’ اللہ کی قسم کھاکر عہد کر لو کہ ہم صالح ؑ اور اس کے گھروالوں پرشب خون ماریں گے اور پھر اس کے ولی [63]سے کہہ دیں گے کہ ہم اس کے خاندان کی ہلاکت کے موقع پر موجود نہ تھے ، ہم بالکل سچ کہتے ہیں۔[64]{۴۹} یہ چال تو وہ چلے اور پھر ایک چال ہم نے چلی جس کی اُنہیں خبر نہ تھی۔[65] {۵۰} اب دیکھ لو کہ ان کی چال کا انجام کیا ہوا۔ ہم نے تباہ کرکے رکھ دیا ان کو اور ان کی پوری قوم کو {۵۱} وہ اُن کے گھر خالی پڑے ہیں اُس ظلم کی پاداش میں جووہ کرتے تھے۔ اِس میں ایک نشانِ عبرت ہے اُن لوگوں کے لیے جو علم رکھتے ہیں۔ [66]{۵۲} اور بچالیا ہم نے اُن لوگوں کو جو ایمان لائے تھے۔ اور نافرنی سے پرہیز کرتے تھے۔ {۵۳} اورلوطؑ [67]کو ہم نے بھیجا ، یاد کرو وہ وقت جب اس نے اپنی قوم سے کہا ’’ کیا تم آنکھوں دیکھتے بدکاری کرتے ہو؟ [68]{۵۴} کیا تمہارا یہی چلن ہے کہ عورتوں کو چھوڑ کر مَردوں کے پاس شہوت رانی کے لیے جاتے ہو؟ حقیقت یہ ہے کہ تم لوگ سخت جہالت کا کام کرتے ہو۔[69]{۵۵}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)