سورۃ الفرقان   -  25 : 22-77 / 77 جس روزیہ فرشتوں کو دیکھیں گے وہ مجرموں کے لیے کسی بشارت کا دن [36]نہ ہوگا اور وہ چیخ اٹھیں گے، اللہ کی پناہ، یہ تو محروم ہی محروم کیے گئے۔{۲۲} اور جو کچھ بھی ان کا کیا دھرا ہے، (بظاہر نیک عمل بھی )اُسے ہم غبار کی طرح اُڑادیں گے۔ [37]{۲۳} بس وہی لوگ جو جنّت کے مستحق ہوں گے، اُس دن اچھی جگہ ٹھہریں گے، اور دوپہر گزارنے کو عمدہ مقام پائیں گے۔[38]{۲۴} آسمان کو چیرتا ہوا ایک بادل اُس روز نمودار ہوگا اور فرشتوں کے پرے کے پرے اتاردیے جائیں گے۔ {۲۵} اُس روز حقیقی بادشاہی صرف رحمان [39]کی ہوگی۔ اور وہ منکرین کے لیے بڑا سخت دن ہوگا۔{۲۶} ظالم انسان اپنے ہاتھ چبائے گا اور کہے گا:’’ کاش میں نے رسُول ؐ کا ساتھ دیا ہوتا۔ {۲۷} ہائے میری کم بختی ، کاش میں نے فلاں شخص کو دوست نہ بنایا ہوتا۔{۲۸} اُس کے بہکائے میں آکر میں نے وہ نصیحت نہ مانی جو میرے پاس آئی تھی ، شیطان انسان کے حق میں بڑاہی بے وفا [40] (دھوکا باز، اور ذلیل کرنے والا)نکلا۔‘‘ {۲۹} اور رسُول ؐ کہیں گے گا کہ ’’ اے میرے رَبّ! میری قوم کے لوگوں نے اس قرآن کو نشانۂ تضحیک بنالیا [41]تھا۔ ‘‘ {۳۰} اے نبی ؐ!ہم نے تو اِسی طرح مجرموں کو ہرنبی ؑکا دشمن بنایا [42]ہے اور تمہارے لئے تمہارا رَبّ ہی رہنمائی اور مدد کو کافی ہے۔[43]{۳۱} منکرین کہتے ہیں’’ اِس شخص پر سارا قرآن ایک ہی وقت میں کیوں نہ اُتار دیا گیا؟‘‘[44] ہاں ایسا اِس لیے کیا گیا ہے کہ اِس کو اچھی طرح ہم تمہارے ذہن نشین کرتے رہیں۔[45] اور ( اِسی غرض کے لیے ) ہم نے اس کو ایک خاص ترتیب کے ساتھ الگ الگ اجزاء کی شکل دی ہے۔ { ۳۲} اور( اس میں یہ مصلحت بھی ہے) کہ جب کبھی وہ تمہارے سامنے کوئی نرالی بات ( یاعجیب سوال ) لے کر آئے ، اُس کا ٹھیک جو اب بروقت ہم نے تمہیں دے دیا اور بہترین طریقے سے بات کھول دی ۔[46]{۳۳} جو لوگ اَوندھے منھ جہنم کی طرف دھکیلے جانے والے ہیں ان کاموقف بہت بُراہے اور ان کی راہ حددرجہ غلط۔[47] {۳۴} ہم نے موسیٰ ؑ کو کتاب[48] دی اور اس کے ساتھ اس کے بھائی ہارون ؑ کو مددگارکے طور پر لگایا{۳۵} اور اُن سے کہا کہ جا ؤ اُس قوم کی طرف جس نے ہماری آیات کو جُھٹلادیا [49]ہے ۔ آخر کار اُن لوگوں کو ہم نے تباہ کرکے رکھ دیا۔{۳۶} یہی حال قوم نوحؑ کا ہوا جب انہوں نے رسولوں کی تکذیب[50] کی۔ ہم نے اُن کو غرق کردیا اور دنیا بھر کے لوگوں کے لیے ایک نشانِ عبرت بنادیا اور اُن ظاموں کے لیے ایک دردناک عذاب ہم نے مہیا کر رکھا ہے ۔[51]{۳۷} اسی طرح عاد اور ثمود اور اصحاب الرس[52] اور بیچ کی صدیوں کے بہت سے لوگ تباہ کئے گئے۔{۳۸} ان میں سے ہر ایک کو ہم نے (پہلے تباہ ہونے والوں کی ) مثالیں دے دے کر سمجھایا اور آخر کار ہر ایک کو غارت کردیا۔{۳۹} اور اُس بستی پر تو اِن کا گزر ہوچکا ہے جس پر بدترین بارش برسائی گئی تھی۔[53] کیا انہوں نے اس کا حال دیکھانہ ہوگا؟ مگر یہ موت کے بعد دوسری زندگی کی توقع ہی نہیں رکھتے۔[54]{۴۰} یہ لوگ جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنالیتے ہیں ۔ (کہتے ہیں )’’ کیا یہ شخص ہے جسے اللہ نے رسول ؐ بنا کر بھیجا ہے ؟{۴۱} اِس نے تو ہمیں گمراہ کرکے اپنے معبودوں سے برگشتہ ہی کردیا ہوتا اگر ہم اُن کی عقیدت پر جم نہ گئے ہوتے‘‘۔[55] اچھا، وہ وقت دور نہیں ہے جب عذاب دیکھ کر انہیں خود معلوم ہوجائے گا کہ کون گمراہی میں دورنکل گیا تھا۔{۴۲} کبھی تم نے اُس شخص کے حال پر غور کیا ہے جس نے اپنی خواہش نفس کو اپنا اِلٰہ بنالیا ہو ؟ [56]کیا تم ایسے شخص کو راہ راست پر لانے کا ذمہ لے سکتے ہو ؟ {۴۳} کیا تم سمجھتے ہو کہ ان میں سے اکثر لوگ سنتے اور سمجھتے ہیں ، یہ تو جانوروں کی طرح ہیں ، بلکہ اُن سے بھی گئے گزرے۔[57]{۴۴} تم نے دیکھا نہیں کہ تمہارا رَبّ کس طرح سایہ پھیلا دیتا ہے ؟ اگر وہ چاہتا تو اُسے دائمی سایہ بنادیتا ۔ ہم نے سُورج کو اُس پر دلیل [58]بنایا {۴۵} پھر ( جیسے جیسے سُورج اٹھتا جاتا ہے ) ہم اس سائے کو رفتہ رفتہ اپنی طرف سمیٹتے چلے جاتے ہیں۔ [59]{۴۶} اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات کو تمہارے لئے لباس ،[60] اور نیند کو سکونِ موت ، اور دن کو جی اُٹھنے کا وقت بنایا[61]{۴۷} اور وہی ہے جو اپنی رحمت کے آگے آگے ہوا ؤں کو بشارت بناکر بھیجتا ہے۔ پھر آسمان سے پاک [62]پانی نازل کرتا ہے{۴۸} تا کہ ایک مُردہ علاقے کو اس کے ذریعے زندگی بخشے اور اپنی مخلوق میںسے بہت سے جانوروں اور انسانوں کو سیراب کرے۔[63]{۴۹} اِس کرشمے کو ہم باربار ان کے سامنے لاتے ہیں[64] تا کہ وہ کچھ سبق لیں ، مگر اکثر لوگ کفر اور ناشکری کے سوا کوئی دُوسرا رویہّ اختیار کرنے سے انکا ر کردیتے ہیں۔[65]{۵۰} اگر ہم چاہتے تو ایک ایک بستی میں ایک ایک خبردار کرنے والا اٹھا کھڑاکر تے۔[66] {۵۱} پس اے نبی ؐ! کافروں کی بات ہرگز نہ مانو اور اس قرآن کولے کر ان کے ساتھ زبردست جہاد کرو۔ [67]{ ۵۲} اور وہی ہے جس نے دو سمندروں کو ملا کر رکھا ہے۔ ایک لذیذوشیریں ، دُوسراتلخ وشور ۔ اور دونوں کے درمیان ایک پردہ حائل ہے۔ایک رکاوٹ ہے جو انہیں گڈمڈ ہونے سے روکے ہوئے ہے۔[68] {۵۳} اور وہی ہے جس نے پانی سے ایک بشر پیدا کیا، پھر اس سے نسب اور سُسرال کے دو الگ سلسلے چلائے ۔[69] تیرا رَبّ بڑا ہی قدرت والا ہے۔ {۵۴} اُس اللہ کو چھوڑ کر لوگ اُن کو پُوج رہے ہیں جو نہ ان کو نفع پہنچاسکتے ہیں نہ نقصان ، اور اوپر سے مزید یہ کہ کافر اپنے رَبّ کے مقابلے میںہر باغی کامدد گار بناہوا ہے۔[70]{۵۵} اے نبی ؐ! تم کو تو ہم نے بس ایک بشارت دینے والا اور خبردار کرنے والا بناکر بھیجا ہے۔[71] {۵۶} اِن سے کہہ دو کہ ’’ میں اس کام پر تم سے کوئی اُجرت نہیں مانگتا ، میری اُجرت بس یہی ہے کہ جس کاجی چاہے وہ اپنے رَبّ کا راستہ اختیار کرلے‘‘۔[71a]{۵۷} اے نبی ؐ! اُس اللہ پر بھروسہ رکھو جو زندہ ہے اور کبھی مرنے والا نہیں۔ اس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو۔ اپنے بندوں کے گناہو ںسے بس اُسی کا باخبر ہونا کافی ہے۔{۵۸} وہ جس نے چھ دنوں میں زمین اور آسمانوں کو اور اُن سار ی چیزوں کو بناکر رکھ دیا جو آسمانوں اور زمین کے درمیان ہیں ، پھر آپ ہی ’’ عرش ‘‘ پر جلوہ فرماہوا، [72]رحمن اس کی شان بس کسی جاننے والے سے پوچھو۔{۵۹} ان لوگوں سے جب کہا جاتا ہے کہ اس رحمان کو سجدہ کرو تو کہتے ہیں ’’رحمان کیا ہوتا ہے ؟ کیا بس جسے تو کہہ دے اسی کو ہم سجدہ کرتے پھریں؟‘‘[73]یہ دعوت ان کی نفرت میں اُلٹا اور اضافہ کردیتی ہے۔[74]{۶۰} بڑا متبرک ہے وہ جس نے آسمان میں بُرج بنائے [75]اور اُس میں ایک چراغ[76] اور ایک چمکتا چاند روشن کیا۔{۶۱} وہی ہے جس نے رات اور دن کو ایک دوسرے کا جانشین بنایا، ہر اس شخص کے لیے جو سبق لینا چاہے، یاشکر گزار ہونا چاہے۔[77]{ ۶۲} اوررحمان کے ( اصلی) بندے [78]وہ ہیں جو زمین پر نرم چال چلتے [79]ہیں ۱ور جاہل اُن کے منھ آئیں تو کہہ دیتے ہیں کہ تم کو سلام [80]۔{۶۳} جو اپنے رَبّ کے حضور سجدے اور قیام میں راتیں گزارتے ہیں۔[81]{۶۴} جو دعائیں کرتے ہیں کہ ’’ اے ہمارے رَبّ! جہنم کے عذاب سے ہم کو بچالے ، اس کا عذاب تو جان کا لاگو ہے۔{۶۵} وہ تو بڑا ہی بُرا مُستقر اور مقام ہے ‘‘۔[82]{۶۶} جو خرچ کرتے ہیں تو نہ فضول خرچی کرتے ہیں نہ بُخل ،بلکہ اُن کا خرچ دونوں انتہا ؤں کے درمیان اعتدال پر قائم رہتا ہے۔[83] {۶۷} جو اللہ کے سواکسی اور معبود کو نہیںپُکارتے، اللہ کی حرام کی ہوئی کسی جان کو ناحق ہلاک نہیں کرتے ، اور نہ زنا کے مرتکب ہوتے ہیں۔ [84]یہ کام جو کوئی کرے وہ اپنے گناہ کا بدلہ پائے گا{۶۸} قیامت کے روز اُس کو مکرر عذاب دیا جائے گا[85] اور اُسی میں ہمیشہ ذلت کے ساتھ پڑا رہے گا۔{۶۹} اِلّا یہ کہ کوئی (اِن گناہوں کے بعد) توبہ کرچکا ہو اورایمان لاکر عمل صالح کرنے لگاہو۔[86] ایسے لوگوں کی برائیوں کو اللہ بھلائیوں سے بدل [87]دے گا اور وہ بڑا غفور ٌ رحیم ہے۔{۷۰} جو شخص توبہ کرکے نیک عملی اختیار کرتا ہے وہ تو اللہ کی طرف پلٹ آتا ہے جیسا کہ پلٹنے کا حق ہے۔[88]{۷۱ } ( اور رحمن کے بندے وہ ہیں) جو جُھوٹ کے گواہ نہیں بنتے [89]اور کسی لغوچیز پر اُن کا گزر ہوجائے تو شریف آدمیوں کی طرح گزر جاتے ہیں۔[90] {۷۲} جنہیں اگر اُن کے رَبّ کی آیات سناکر نصیحت کی جاتی ہے تو وہ اُس پراندھے اور بہرے بن کر نہیں رہ جاتے۔[91] {۷۳} جو دُعائیں مانگا کرتے ہیں کہ ’’ اے ہمارے رَبّ ! ہمیں اپنی بیویوں اور اپنی اولاد سے آنکھوں کی ٹھنڈک[92] دے اور ہم کو پرہیز گاروں کا اِمام بنا‘‘۔[93]{۷۴} یہ ہیں وہ لوگ جو اپنے صبر[94] کا پھل منزل بلند کی شکل میں[95] پائیں گے۔ آداب و تسلیمات سے اُن کا استقبال ہوگا۔{۷۵} وہ ہمیشہ ہمیشہ وہاں رہیں گے۔ کیا ہی اچھا ہے وہ مستقر اور وہ مقام۔ {۷۶} اے نبی ؐ! لوگوں سے کہو’’میرے رَبّ کو تمہاری کیا حاجت پڑی ہے اگر تم اس کو نہ پکارو۔[96] اب کہ تم نے جھٹلادیا ہے، عن قریب وہ سزاپا ؤ گے کہ جان چھڑانی مُحال ہوگی۔‘‘{۷۷}
سورۃ الشعرآء   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 26 : 1-110 / 227 طٰٰسٓـمّٓ۔{۱} یہ کتابِ مبین کی آیات ہیں۔ [1]{۲} اے نبی ؐ!شاید تم اِس غم میں اپنی جان کھودو گے کہ یہ لوگ ایمان نہیں لاتے ۔[2]{ ۳} ہم چاہیں تو آسمان سے ایسی نشانی نازل کرسکتے ہیں کہ اِن کی گردنیں اُس کے آگے جُھک جائیں۔[3] {۴} اِن لوگوں کے پاس رحمان کی طرف سے جو نئی نصیحت بھی آتی ہے یہ اس سے منھ موڑلیتے ہیں۔ {۵} اب کہ یہ جُھٹلاچکے ہیں ، عنقریب ان کو اس چیز کی حقیقت ( مختلف طریقوں سے ) معلوم ہوجائے گی جس کا یہ مذاق اڑاتے رہے ہیں۔[4]{۶} اور کیا اِنہوں نے کبھی زمین پر نگاہ نہیں ڈالی کہ ہم نے کتنی کثیر مقدار میں ہر طرح کی عمدہ نباتات اس میں پیدا کی ہیں ؟{۷} یقینا اُس میں ایک نشانی ہے،[5] مگر ان میں سے اکثر ماننے والے نہیں۔ {۸} اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رَبّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔ [6]{۹} اِنہیں اُس وقت کا قصہ سنا ؤ جب کہ تمہارے رَبّ نے موسیٰ ؑ کو پکارا [7]’’ ظالم قوم کے پاس جا {۱۰} فرعون کی قوم کے پاس[8]۔ کیا وہ نہیں ڈرتے ؟‘‘ [9]{۱۱} اُس نے عرض کیا :’’ اے میرے رَبّ !مجھے خوف ہے کہ وہ مجھ کو جُھٹلادیں گے۔{ ۱۲} میرا سینہ گُھٹتاہے اور میری زبان نہیں چلتی۔آپ ہارون ؑ کی طرف رسالت بھیجیں۔[10]{۱۳} اور مجھ پر اُن کے ہاں ایک جُرم کا الزام بھی ہے ، اس لیے میں ڈرتا ہوں کہ وہ مجھے قتل کردیں گے‘‘[11] {۱۴} فرمایا’’ہر گز نہیں ، تم دونوں جا ؤ ہماری نشانیاں [12]لے کر، ہم تمہارے ساتھ سب کچھ سُنتے رہیں گے۔{۱۵} فرعون کے پاس جا ؤ اور اس سے کہو ، ہم کو ربُّ العٰلمین نے بھیجا ہے {۱۶} اس لیے کہ تو بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے دے ‘‘۔[13]{۱۷} فرعون نے کہا’’ کیا ہم نے تجھ کو اپنے ہاں بچّہ سا نہیں پالا[14] تھا؟ تو نے اپنی عمر کے کئی سال ہمارے ہاں گزارے{۱۸} اور اس کے بعد کرگیا جو کچھ کرگیا[15]تو بڑا ا حسان فراموش آدمی ہے ‘‘ {۱۹} موسیٰ ؑ نے جواب دیا ’’اُس وقت وہ کام میں نے نادانستگی میں کردیا تھا۔[16]{۲۰} پھر میں تمہارے خوف سے بھاگ گیا۔اس کے بعد میرے رَبّ نے مجھ کو حکم عطا کیا[17] اور مجھے رسُولوں میں شامل فرمالیا{۲۱} رہا تیراا حسان جو تونے مجھ پر جتایا ہے تو اس کی حقیقت یہ ہے کہ تونے بنی اسرائیل کو غلام بنالیا تھا۔[18]{ ۲۲} فرعون نے کہا[19] ’’ اور یہ ربُّ العٰلمین کیا ہوتا ہے ‘‘؟[20]{۲۳} موسیٰ ؑنے جواب دیا ’’ آسمانوں اورز مین کا رَبّ ، اور اُن سب چیزوں کا رَبّ جو آسمان وزمین کے درمیان ہیں ، اگر تم یقین لانے والے ہو ‘‘۔[21] {۲۴} فرعون نے اپنے گردو پیش کے لوگوں سے کہا ’’ سُنتے ہو ‘‘ ؟ {۲۵} موسیٰ ؑنے کہا ’’تمہارا رَبّ بھی اور تمہارے اُن آباء واجداد کا رَبّ بھی جو گزر چکے ہیں‘‘۔[22]{۲۶} فرعون نے (حاضرین سے ) کہا ’’تمہارے یہ رسُول صاحب جو تمہاری طرف بھیجے گئے ہیں،بالکل ہی پاگل معلوم ہوتے ہیں۔{۲۷} موسیٰؑ نے کہا ’’ مشرق و مغرب اور جو کچھ ان کے درمیان ہے سب کا رَبّ ، اگر آپ لوگ کچھ عقل رکھتے ہیں ‘‘۔[23] {۲۸} فرعون نے کہا ’’ اگر تونے میرے سواکسی اور کو معبود مانا تو تجھے بھی اُن لوگوں میں شامل کردوں گا جو قید خانوں میں پڑے سڑرہے ہیں ‘‘۔[24] {۲۹} موسیٰ ؑنے کہا ’’اگرچہ میں لے آ ؤں تیرے سامنے ایک صریح چیز بھی ‘‘؟[25]{۳۰} فرعون نے کہا ’’ اچھا تو لے آ اگر توسچا ہے ‘‘[26]{۳۱} ( اُس کی زبان سے یہ بات نکلتے ہی) موسیٰ ؑنے اپنا عصا پھینکا اور یکایک وہ ایک صریح اژدہا تھا ۔[27]{۳۲} پھراُس نے اپنا ہاتھ (بغل سے ) کھینچا اور وہ سب دیکھنے والوں کے سامنے چمک رہا تھا۔ [28]{۳۳} فرعون اپنے گردو پیش کے سرداروں سے بولا ’’ یہ شخص یقینا ایک ماہر جادو گر ہے{۳۴} چاہتا ہے کہ اپنے جادُو کے زور سے تم کو تمہارے ملک سے نکال دے۔[29] اب بتا ؤ تم کیا حکم دیتے ہو‘‘ ؟[30]{۳۵} انہوں نے کہا ’’ اسے اور اس کے بھائی کو روک لیجئے اور شہروں میں ہر کارے بھیج دیجئے {۳۶} کہ ہر سیانے جادوگر کو آپ کے پاس لے آئیں‘‘۔{۳۷} چنانچہ ایک روز مقرر وقت[31] پر جادوگر اکٹھے کرلئے گئے{۳۸} اور لوگوں سے کہا گیا ’’ تم اجتماع میں چلوگے ؟[32]{۳۹} شاید کہ ہم جادوگروں کے دِین ہی پررہ جائیں اگر وہ غالب رہے‘‘ ۔[33] {۴۰} جب جادو گر میدان میں آئے تو انہوں نے فرعون سے کہا ’’ ہمیں انعام تو ملے گا اگر ہم غالب رہے ؟‘‘[34]{۴۱} اس نے کہا:’’ ’ہاں ، اور تم تو اُس وقت مقرّبین میں شامل ہوجا ؤ گے ‘‘۔[35]{۴۲} موسیٰ ؑ نے کہا ’’پھینکو جو تمہیں پھینکنا ہے ۔‘‘{۴۳} انہوں نے فوراً اپنی رسیّاں اور لاٹھیاں پھینک دیں اور بولے ’’ فرعون کے اقبال سے ہم ہی غالب رہیں گے ‘‘ ۔[36]{۴۴} پھر موسیٰ ؑنے اپنا عصا پھینکا تو یکایک وہ ان کے جُھوٹے کرشموں کو ہڑپ کرتا چلاجارہا تھا ۔{۴۵} اس پر سارے جادو گربے اختیار سجدے میں گرپڑے{۴۶} اور بول اُٹھے کہ ’’ مان گئے ہم ربُّ العٰلمین کو {۴۷} موسیٰ ؑ اور ہارونؑ کے رَبّ [37]کو ‘‘۔{۴۸} فرعون نے کہا ’’ تم موسیٰ ؑ کی بات مان گئے قبل اس کے کہ میں تمہیں اجازت دیتا ! ضرور یہ تمہارا بڑا ہے جس نے تمہیں جادو سکھایا ہے [38]اچھا ، ابھی تمہیں معلوم ہواجاتا ہے ، میں تمہارے ہاتھ پا ؤں مخالف سمتوں سے کٹوا ؤں گا اور تم سب کو سُولی پر چڑھادوں گا ‘‘ ۔[39]{۴۹} انہوں نے جواب دیا ’’کچھ پروا نہیں ، ہم اپنے رَبّ کے حضور پہنچ جائیں گے{۵۰} اور ہمیں توقع ہے کہ ہمارا رَبّ ہمارے گناہ معاف کردے گا کیونکہ سب سے پہلے ہم ایمان لائے ہیں۔ ‘‘[40]{۵۱} ہم [41]نے موسیٰ ؑ کو وحی بھیجی کہ ’’راتوں رات میرے بندوں کو لے کر نکل جا ؤ ، تمہارا پیچھا کیا جائے گا ‘‘ ۔[42]{۵۲} اس پر فرعون نے (فوجیں جمع کرنے کے لیے ) شہروں میں نقیب بھیج دیے{۵۳} ( اور کہلا بھیجا) کہ ’’ یہ کچھ مُٹھی بھر لوگ ہیں {۵۴} اور اِنہوں نے ہم کو بہت ناراض کیا ہے {۵۵} اور ہم ایک ایسی جماعت ہیں جس کا شیوہ ہر وقت چوکناّ رہنا ہے‘‘۔[43] {۵۶} اِس طرح ہم اُنہیں اُن کے باغوں اور چشموں سے نکال لائے {۵۷} اور خزانوں اور ان کی بہترین قیام گاہوں سے[44] {۵۸} یہ تو ہو ا اُن کے ساتھ، اور ( دوسری طرف ) بنی اسرائیل کو ہم نے ان سب چیزوں کا وارث کردیا۔[45]{۵۹} صبح ہوتے یہ لو گ اُن کے تعاقب میں چل پڑے۔ {۶۰} جب دونوں گروہوں کا آمنا سامنا ہوا تو موسیٰ ؑ کے ساتھی چیخ اٹھے کہ ’’ ہم تو پکڑے گئے ‘‘ {۶۱} موسیٰ ؑنے کہا ’’ ہرگز نہیں ۔ میرے ساتھ میرا رَبّ ہے ۔ وہ ضرور میری رہنمائی فرمائے گا ‘‘[46]{۶۲} ہم نے موسیٰ ؑ کو وحی کے ذریعہ سے حکم دیا کہ ’’ مار اپنا عصا سمندر پر ‘‘۔ یکایک سمندر پھٹ گیا اور اس کا ہرٹکڑا ایک عظیم الشان پہاڑ کی طرح ہوگیا ۔ [47]{۶۳} اُسی جگہ ہم دُوسرے گروہ کو بھی قریب لے آئے۔[48]{۶۴} موسیٰ ؑ اور اُن سب لوگوں کو جو اس کے ساتھ تھے۔ ہم نے بچالیا۔{۶۵} اور دُوسروں کو غرق کردیا۔{۶۶} اس واقعہ میں ایک نشانی ہے ،[49]مگر اِن لوگوں میں سے اکثر ماننے والے نہیں ہیں۔{۶۷} اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رَبّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔{۶۸} اور انہیں ابراہیم ؑکا قصہ سنا ؤ [50]{۶۹} جبکہ اس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے پُوچھا تھا کہ ’’ یہ کیا چیزیں ہیں جن کو تم پوجتے ہو ؟‘‘ [51]{۷۰} انہوں نے جواب دیا ’’ کچھ بُت ہیں جن کی ہم پوُجاکرتے ہیں اور انہی کی سیوا میں ہم لگے رہتے ہیں ‘‘ ۔[52]{۷۱} اس نے پوچھا ’’ کیا یہ تمہاری سُنتے ہیں جب تم انہیں پکارتے ہو {۷۲} یایہ تمہیں کچھ نفع یانقصان پہنچاتے ہیں ‘‘؟ {۷۳} انہوں نے جواب دیا ’’ نہیں، بلکہ ہم نے اپنے باپ دادا کو ایسا ہی کرتے پایا ہے‘‘۔[53]{۷۴} اس پر ابراہیم ؑ نے کہا ’’ کبھی تم نے ( آنکھیں کھول کر ) اُن چیزوں کو دیکھا بھی جن کی بندگی تم کرتے رہے ہو؟{۷۵} تم اور تمہارے پچھلے باپ دادا (بجالاتے رہے ) ۔ [54]{۷۶} میرے تو یہ سب دشمن ہیں ،[55] بجز ایک رَبُّ العٰلمین [56]کے{۷۷} جس نے مجھے پیدا کیا ،[57] پھر وہی میری رہنمائی فرماتا ہے۔{۷۸} جو مجھے کھلاتا اور پلاتا ہے {۷۹} اور جب بیمار ہو جاتا ہوں تو وہی مجھے شفادیتا ہے۔[58]{۸۰} جو مجھے موت دے گا اور پھر دوبارہ مجھ کو زندگی بخشے گا۔{۸۱} اور جس سے میں اُمید ر کھتاہوں کہ روزِ جزا میں وہ میری خطا معاف فرمادے [59]گا ‘‘{۸۲} ( اس کے بعد ابراہیم ؑنے دعا کی ) ’’ اے میرے رَبّ ! مجھے حکم عطا[60] کر اور مجھ کو صالحوں کے ساتھ ملا۔[61]{۸۳} اور بعد کے آنے والوں میں مجھ کو سچّی ناموری عطا کر۔ [62]{۸۴} اور مجھے جنّتِ نعیم کے وارثوں میں شامل فرما۔{۸۵} اور میرے باپ کو معاف کردے کہ بے شک وہ گمراہ لوگوں میں سے ہے[63]{۸۶} اور مجھے اُس دن رسوانہ کر جبکہ سب لوگ زندہ کرکے اٹھائے جائیں گے۔[64] {۸۷} جبکہ نہ مال کوئی فائدہ دے گا نہ اولاد {۸۸} بجز اس کے کہ کوئی شخص قلبِ سلیم لئے ہوئے اللہ کے حضور حاضر ہو‘‘[65]{۸۹} (اُس روز[66] ) جنّت پرہیزگاروں کے قریب لے آئی جائے گی۔{۹۰} اور دوزخ بہکے ہوئے ( گمراہ )لوگوں کے سامنے کھول دی جائے گی[67]{۹۱} اور ان سے پوچھا جائے گا کہ ’’اب کہاں ہیں وہ جن کی تم عبادت کرتے تھے ؟ {۹۲} اللہ کو چھوڑ کرکیا وہ تمہاری کچھ مدد کررہے ہیں یا خود اپنا بچا ؤ کرسکتے ہیں‘‘ ؟{۹۳} پھر وہ معبُود اور یہ بہکے ہوئے لوگ اُس میں اُوپر تلے (اوندھے منہ) دھکیل دیے جائیں گے ۔[68]{ ۹۴} اور ابلیس کے لشکر سب کے سب{۹۵} وہاں یہ سب آپس میں جھگڑیں گے اور یہ بہکے ہوئے لوگ (اپنے معبُودو ں سے ) کہیں گے{۹۶} کہ ’’ اللہ کی قسم !ہم تو صریح گمراہی میں مبتلا تھے ۔{۹۷} جب کہ تم کو ربُّ العٰلمین کی برابری کا درجہ دے رہے تھے۔{۹۸} اور وہ مجرم لوگ ہی تھے جنہوں نے ہم کو اس گمراہی میں ڈالا۔[69]{۹۹} اب نہ ہمارا کوئی سفارشی ہے[70]{۱۰۰} اور نہ کوئی جگری دوست ۔[71]{۱۰۱} کاش ہمیں ایک دفعہ پھر پلٹنے کا موقع مل جائے تو ہم مومن ہوں ‘‘ ۔[72]{۱۰۲} یقینا اِس میں ایک بڑی نشانی ہے ۔[73] مگر اِن میں سے اکثر لوگ ایمان لانے والے نہیں۔{۱۰۳} اور حقیقت یہ ہے کہ تیرا رَبّ زبردست بھی ہے اور رحیم بھی۔{ ۱۰۴} قومِ نوحؑ [74]نے رسُولوں کو جھٹلایا۔[75]{۱۰۵} یاد کرو جب کہ اُن کے بھائی نوحؑ نے ان سے کہا تھا ’’ کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟[76]{۱۰۶} میں تمہارے لئے ایک امانت دار رسول ؑہوں[77]{۱۰۷} لہٰذا تم اللہ سے ڈرو اور میری اطاعت کرو۔ [78]{۱۰۸} میں اِس کام پر تم سے کسی اجر کا طالب نہیں ہوں ۔ میرا اجر تو ربُّ العٰلمین کے ذمّہ ہے۔[79]{۱۰۹} پس تم اللہ سے ڈرو اور (بے کھٹکے ) میری اطاعت کرو‘‘۔[80]{۱۱۰}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)