سورۃالنور   -  24 : 21-64 / 64اے لوگوجو ایمان لائے ہو ! شیطان کے نقش ِقدم پر نہ چلو۔ اُس کی پیروی کوئی کرے گا تو وہ تواُسے فحش اور بدی ہی کا حکم دے گا۔ اگر اللہ کا فضل اوراس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا تو تم میں سے کوئی شخص پاک نہ [18]ہوسکتا ۔ مگر اللہ ہی جسے چاہتا ہے پاک کردیتا ہے ، اور اللہ سُننے والا اور جاننے والا ہے۔[19]{۲۱} تم میں سے جو لوگ صاحب ِفضل اور صاحب مقدرت ہیں وہ اس بات کی قَسم نہ کھابیٹھیں کہ اپنے رشتہ دار ، مسکین اور مہاجرفی سبیل اللہ لوگوں کی مدد نہ کریں گے۔ انہیں معاف کردینا چاہیے اور دَرگُزر کرنا چاہیے۔ کیا تم نہیں چاہتے کہ اللہ تمہیں معاف کرے ؟ اور اللہ کی صفت یہ ہے کہ غفور اور رحیم ہے۔[20] {۲۲} جو لوگ پاکدامن ، بے خبر [21]، مومن عورتوں پرُ تہمتیں لگاتے ہیں ان پر دُنیا اور آخرت میں لعنت کی گئی اور اُن کے لیے بڑا عذاب ہے ۔{ ۲۳} وہ اُس دن کو بُھول نہ جائیں جب کہ اُن کی اپنی زبانیں اور ان کے اپنے ہاتھ پا ؤں اُن کے کرتوتوں کی گواہی [21a]دیں گے۔ {۲۴} اُس دن اللہ وہ بدلہ انہیں بھر پوردے دے گا جس کے وہ مستحق ہیں اور انہیں معلوم ہوجائے گا کہ اللہ ہی حق ہے سچ کو سچ کر دکھانے والا۔{۲۵} خبیث عورتیں خبیث مَردوں کے لیے ہیں اور خبیث مرد خبیث عورتوں کے لیے۔ پاکیزہ عورتیں پاکیزہ مردوں کے لیے ہیں اور پاکیزہ مَرد پاکیزہ عورتوں کے لیے۔ اُن کا دامن پاک ہے اُن باتوں سے جو بنانے والے بناتے ہیں ،[22] اُن کے لیے مغفرت ہے اور رزق ِکریم۔{۲۶} اے لوگو[23]جو ایمان لائے ہو! اپنے گھروں کے سوا دوسرے گھروں میں داخل نہ ہوا کرو جب تک کہ گھروالوں کی رضانہ لے [24]لو اور گھروالوں پر سلام نہ بھیج لو، یہ طریقہ تمہارے لئے بہتر ہے ۔ توقع ہے کہ تم اس کا خیال رکھو گے۔[25]{۲۷} پھر اگر وہاں کسی کو نہ پا ؤ تو داخل نہ ہو جب تک کہ تم کو اجازت نہ دیدی جائے[26] اور اگر تم سے کہا جائے کہ واپس چلے جا ؤ تو واپس ہوجاؤ،یہ تمہارے لئے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے [27]، اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ اسے خوب جانتا ہے۔{۲۸} البتہ تمہارے لئے اس میں کوئی مضائقہ نہیں ہے کہ ایسے گھروں میں داخل ہو جا ؤ جو کسی کے رہنے کی جگہ نہ ہوں اور جن میں تمہارے فائدے (یاکام ) کی کوئی چیز[28] ہو تم جو کچھ ظاہر کرتے ہو اور جو کچھ چھپاتے ہو ،سب کی اللہ کو خبر ہے۔{۲۹} اے نبی ؐ !مومن مردوں سے کہو کہ اپنی نظریں بچاکر رکھیں[29] اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں ،[30] یہ اُن کے لیے زیادہ پاکیزہ طریقہ ہے ، جو کچھ وہ کرتے ہیں اللہ اُس سے باخبر رہتا ہے۔{۳۰} اور اے نبی ؐ! مومن عورتوں سے کہہ دو کہ اپنی نظریں بچا کر رکھیں، [31]اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں،[32] اور[33] اپنا بنا ؤ سنگھار نہ دکھائیں [34]بَجُز اس کے جو خود ظاہر ہوجائے[35] اور اپنے سینوں پر اپنی اوڑ ھنیوں کے آنچل ڈالے رہیں۔[36] وہ اپنا بنا ؤ سنگھار نہ ظاہر کریں مگر اِن لوگوں کے سامنے[37] :شوہر ، باپ ،[38] شوہروں کے باپ ، اپنے بیٹے ، شوہروں کے بیٹے ،[39] بھائی ،[40] بھائیوں کے بیٹے ،[41] بہنوں کے بیٹے ،[42] اپنے میل جول کی عورتیں، [43]اپنے لونڈی، [44]غلام، وہ زیرِ دست مرد جو کسی اور قسم کی غرض نہ رکھتے ہوں،[45]اور وہ بچے جو عورتوں کی پوشیدہ باتوں سے ابھی واقف نہ ہوئے ہوں۔[46] وہ اپنے پا ؤں زمین پر مارتی ہوئی نہ چلا کریں کہ اپنی جو زینت انہوں نے چھپارکھی ہو اس کالوگوں کو علم ہوجائے[47] اے مومنو!تم سب مِل کر اللہ سے تو بہ کرو،[48] توقع ہے کہ فلاح پا ؤگے ۔[49]{۳۱} تم میں سے جو لوگ مجرّد[50] ہوں ، اور تمہارے لونڈی غلاموں میں سے جو صالح [51]ہوں، ان کے نکاح کردو۔[52] اگر وہ غریب ہوں تو اللہ اپنے فضل سے اُن کو غنی کردے[53] گا ، اللہ بڑی وسعت والا اور علیم ہے { ۳۲} اور جو نکاح کا موقع نہ پائیں انہیں چاہئے کہ عفت مآبی اختیار کریں،یہاں تک کہ اللہ اپنے فضل سے اُن کو غنی کردے ۔[54]اور تمہارے مملوکوں میں سے حومُکاتَبت کی درخواست کریں [55]ان سے مُکاتَبت [56]کرلو اگر تمہیں معلوم ہو کہ ان کے اندر بھلائی ہے [57]اور اُن کو اس مال میں سے دو جو اللہ نے تمہیں دیا ہے،[58]اور اپنی لونڈیوں کو اپنے دنیوی فائدوں کی خاطر قحبہ گری پر مجبور نہ کرو جبکہ وہ خود پاکدامن رہنا چاہتی ہوں[59] اور جو کو ئی ان کو مجبور کرے تو اس جبر کے بعد اللہ اُن کے لیے غفور ورحیم ہے۔{ ۳۳} ہم نے صاف صاف ہدایت دینے والی آیات تمہارے پاس بھیج دی ہیں،اور ان قوموں کی عبرتناک مثالیں بھی ہم تمہارے سامنے پیش کرچکے ہیں جو تم سے پہلے ہو گزری ہیں ،اور وہ نصیحتیں ہم نے کردی ہیں جو ڈرنے والوں کے لیے ہوتی ہیں۔[59]{ ۳۴} اللہ[61] آسمانوں اور زمین کا نُور ہے۔[62] ( کائنات میں ) اس کے نور کی مثال ایسی ہے جیسے ایک طاق میں چراغ رکھا ہوا ہو ، چراغ ایک فانوس میں ہو ، فانوس کا حال یہ ہو کہ جیسے موتی کی طرح چمکتا ہواتارا ، اور وہ چراغ زیتون کے ایک ایسے مبارک[63] درخت کے تیل سے روشن کیا جاتا ہو جو نہ شرقی ہو نہ غربی ،[64] جس کا تیل آپ ہی آپ بھڑ کا پڑتا ہو چاہے آگ اس کو نہ لگے، (اِس طرح ) روشنی پر روشنی ( بڑھنے کے تمام اسباب جمع ہوگئے ہوں)۔ [65] اللہ اپنے نور کی طرف جس کی چاہتا ہے رہنمائی فرماتا ہے [66]، وہ لوگوں کو مثالوں سے بات سمجھاتا ہے ، وہ ہر چیزسے خوب واقف ہے۔[67]{۳۵} ( اُس کے نور کی طرف ہدایت پانے والے) اُن گھروں میں پائے جاتے ہیں جنہیں بلند کرنے کا ، اور جن میں اپنے نام کی یاد کا اللہ نے اِذن دیا ہے۔[68] اُن میں ایسے لوگ صبح وشام اُس کی تسبیح کرتے ہیں{۳۶} جنہیں تجارت اور خرید وفروخت اللہ کی یاد سے اور اِقامتِ نماز وادائے زکوٰۃ سے غافل نہیں کردیتی ۔ وہ اُس دن سے ڈرتے رہتے ہیں جس میں دل الٹنے اور دیدے پتھرا جانے کی نوبت آجائے گی{۳۷} (اور وہ یہ سب کچھ اس لیے کرتے ہیں) تا کہ اللہ ان کے بہترین اعمال کی جزا اُن کو دے اور مزید اپنے فضل سے نوازے ،اللہ جسے چاہتا ہے بے حساب رزق دیتا ہے۔[69]{۳۸} ( اس کے برعکس )جنہوں نے کفر کیا [70]ان کے اعمال کی مثال ایسی ہے جیسے دشت ِ بے آب میں سراب کہ پیاسا اُس کو پانی سمجھے ہوئے تھا ، مگر جب وہاں پہنچاتو کچھ نہ پایا ، بلکہ وہاں اس نے اللہ کو موجود پایا ، جس نے اس کا پورا پورا حساب چکادیا، اور اللہ کو حساب لیتے دیر نہیں لگتی ۔[71]{۳۹} یاپھر اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک گہرے سمندر میں اندھیرا، کہ اُوپر ایک موج چھائی ہوئی ہے ، اُس پر ایک اور موج ، اور اُس کے اوپر بادل ، تاریکی پر تاریکی مسلّط ہے ، آدمی اپنا ہاتھ نکالے تو اسے بھی نہ دیکھنے پائے ۔[72]جسے اللہ نور نہ بخشے اُس کے لیے پھر کوئی نور نہیں۔[73]{۴۰} کیا تم [74]دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کی تسبیح کررہے ہیں وہ سب جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور وہ پرندے جو پَر پھیلائے اُڑرہے ہیں ؟ ہر ایک اپنی نماز اور تسبیح کا طریقہ جانتا ہے ، اور یہ سب جو کچھ کرتے ہیں اللہ اس سے باخبر رہتا ہے ۔{۴۱} آسمانوں اور زمین کی بادشاہی اللہ ہی کے لیے ہے اور اسی کی طرف سب کو پلٹنا ہے۔ { ۴۲} کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ بادل کو آہستہ آہستہ چلاتا ہے ، پھر اس کے ٹکڑوں کو باہم جوڑتا ہے ، پھر اسے سمیٹ کر ایک کثیف ابربنادیتا ہے ، پھر تم دیکھتے ہو کہ اس کے خول میں سے بارش کے قطرے ٹپکتے چلے آتے ہیں ۔اور وہ آسمان سے ، ان پہاڑوں کی بدولت جو اُس میں بلند [75]ہیں، اولے برساتا ہے ، پھر جسے چاہتا ہے ان کا نقصان پہنچاتا ہے اور جسے چاہتا ہے ان سے بچالیتا ہے ۔ اس کی بجلی کی چمک نگاہوں کو خیرہ کئے دیتی ہے۔ {۴۳} رات اور دن کا الٹ پھیروہی کررہا ہے ۔ اِس میں ایک سبق ہے آنکھوں والوں کے لیے۔ {۴۴} اور اللہ نے ہر جاندار ایک طرح کے پانی سے پیدا کیا۔ کوئی پیٹ کے بل چل رہا ہے تو کوئی دوٹانگوں پر اور کوئی چارٹانگوں پر ۔ جو کچھ وہ چاہتا ہے پیدا کرتا ہے ، وہ ہرچیز پر قادر ہے۔{۴۵} ہم نے صاف صاف حقیقت بتانے والی آیات نازل کردی ہیں، آگے صراط مستقیم کی طرف ہدایت اللہ ہی جسے چاہتا ہے دیتا ہے {۴۶} یہ لوگ کہتے ہیں کہ ہم ایمان لائے اللہ اور سول ؐ پر اور ہم نے اطاعت قبول کی ، مگر اس کے بعد ان میں سے ایک گروہ (اطاعت سے ) منھ موڑجاتا ہے۔ ایسے لوگ ہر گز مومن نہیں ہیں۔[76]{۴۷} جب اُن کو بُلایا جاتا ہے اللہ اور رسول ؐکی طرف تا کہ رسول اُن کے آ پس کے مقدمے کا فیصلہ کرے[77] تو ان میں سے ایک فریق کترَاجاتا ہے۔[78]{۴۸} البتہ اگر حق ان کی موافقت میں ہو تو رسُول ؐ کے پاس بڑے اطاعت کیش بن کر آجاتے ہیں۔ [79]{۴۹} کیا ان کے دلوں کو ( منافقت کا) روگ لگا ہوا ہے ؟ یایہ شک میں پڑے ہوئے ہیں؟ یا ان کو یہ خوف ہے کہ اللہ اور اس کا رسُول ؐ ان پر ظلم کرے گا ؟ اصل بات یہ ہے کہ ظالم تو یہ لوگ خود ہیں۔[80]{۵۰} ایمان لانے والوں کا کام تویہ ہے کہ جب وہ اللہ اور رسُول ؐ کی طرف بُلائے جائیں تا کہ رسُول ؐ ان کے مقدمے کا فیصلہ کرے تو وہ کہیں کہ ہم نے سُنا اور اطاعت کی۔ ایسے ہی لوگ فلاح پانے والے ہیں{۵۱} اور کامیاب وہی ہیں جو اللہ اور رسول ؐکی فرماں برداری کریں اور اللہ سے ڈریں اور اِس کی نافرمانی سے بچیں۔ {۵۲} یہ ( منافق) ، اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھاکر کہتے ہیں کہ ’’ آپ حکم دیں تو ہم گھروں سے نکل کھڑے ہوں ‘‘ ان سے کہو ’’ قسمیں نہ کھا ؤ ، تمہاری اطاعت کا حال معلوم [81]ہے تمہارے کرتُوتوں سے اللہ بے خبر نہیں[82] ہے ‘‘۔{ ۵۳} کہو’’ اللہ کے مطیع بنو اور رسول ؐکے تابع فرمان بن کررہو۔ لیکن اگر تم منھ پھیرتے ہو تو خوب سمجھ لوکہ رسول ؐپر جس فرض کاباررکھا گیا ہے اس کا ذمّہ دار وہ ہے اور تم پر جس فرض کابارڈالا گیا ہے اُس کے ذمّہ دار تم ۔ اُس کی اطاعت کروگے ۔ تو خودہی ہدایت پا ؤ گے۔ ورنہ رسُول ؐ کی ذمّہ داری اس سے زیادہ کچھ نہیں ہے کہ صاف صاف حکم پہنچا دے۔ ‘‘{۵۴} اللہ نے وعدہ فرمایا ہے تم میں سے ان لوگوں کے ساتھ جو ایمان لائیں اور نیک عمل کریں کہ وہ ان کو اُسی طرح زمین میں خلیفہ بنائے گا جس طرح اُن سے پہلے گزرے ہوئے لوگوں کو بناچکا ہے ، اُن کے لیے اُن کے اُس دین کو مضبوط بنیادوں پر قائم کردے گا جسے اللہ تعالیٰ نے اُن کے حق میں پسند کیا ہے ، اور اُن کی (موجودہ ) حالتِ خوف کو امن سے بدل دے گا ، بس وہ میری بندگی کریں اور میرے ساتھ کسی کو شریک نہ [83]کریں۔اور جو اِس کے بعد کفر کرے[84] تو ایسے ہی لوگ فاسق ہیں۔ {۵۵} نماز قائم کرو ، زکوٰۃ دو ، اور رسول ؐکی اطاعت کرو ، اُمید ہے کہ تم پر رحم کیا جائے گا۔{۵۶} جو لوگ کفر کررہے ہیں ان کے متعلق اس غلط فہمی میں نہ رہوکہ وہ زمین میں اللہ کو عاجز کردیں گے، ان کا ٹھکانا دوزخ ہے اور وہ بڑاہی بُراٹھکانا ہے۔{۵۷} اے لوگو[85] جو ایمان لائے ہو!لازم ہے کہ تمہارے لونڈی،[86] غلام اور تمہارے وہ بچے جو ابھی عقل کی حد کو نہیں پہنچے ہیں ،[87] تین اوقات میں اجازت لے کر تمہارے پاس آیا کریں : صبح کی نماز سے پہلے ، اور دوپہر کو جبکہ تم کپڑے اُ تارکر رکھ دیتے ہو ،اور عشاء کی نماز کے بعد۔ یہ تین وقت تمہارے لئے پردے کے وقت ہیں[88]۔ ان کے بعد وہ بلااجازت آئیں تو نہ تم پر کوئی گناہ ہے نہ اُن پر،[89] تمہیں ایک دوسرے کے پاس بار بار آنا ہی ہوتا ہے ۔[90] اِس طرح اللہ تمہارے لئے اپنے ارشادات کی توضیح کرتا ہے، اور وہ علیم وحکیم ہے۔{۵۸} اور جب تمہارے بچے عقل کی حد کو پہنچ جائیں[91] تو چاہیے کہ اُسی طرح اجازت لے کر آیا کریں جس طرح اُن کے بڑے اجازت لیتے رہے ہیں ، اس طرح اللہ اپنی آیات تمہارے سامنے کھولتا ہے اور وہ علیم و حکیم ہے۔{۵۹} اور جو عورتیں جو انی سے گزری بیٹھی [92]ہوں ،نکاح کی امیدوارنہ ہوں ، وہ اگر اپنی چادریں اتار کررکھ [93]دیں تو ان پر کوئی گناہ نہیں،بشر طیکہ زینت کی نمائش کرنے والی نہ ہوں۔[94] تاہم وہ بھی حیاداری ہی برتیں تو ان کے حق میں اچھا ہے ،اور اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔{۶۰} کوئی حرج نہیں اگر کوئی اندھا ،یا لنگڑا ، یا مریض (کسی کے گھر سے کھالے) اور نہ تمہارے اوپر اِس میں کوئی مضائقہ ہے کہ اپنے گھروں سے کھا ؤ یا اپنے باپ دادا کے گھروں سے ، یا اپنی ماں نانی کے گھروں سے ، یا اپنے بھائیوں کے گھروں سے ، یا اپنی بہنوں کے گھروں سے ، یا اپنے چچا ؤں کے گھروں سے ، یا اپنی پُھوپھیوں کے گھروں سے ، یا اپنے مامووں کے گھروں سے، یا اپنی خالا ؤں کے گھروں سے، یا اُن گھروں سے جن کی کنجیاں تمہاری سپردگی میں ہوں یا اپنے دوستوں کے گھروں سے ۔[95] اس میں بھی کوئی حرج نہیں کہ تم لوگ مل کر کھا ؤ یا الگ الگ ۔ [96]البتہ جب گھروں میں داخل ہوا کر و تو اپنے لوگوں کو سلام کیا کر و ، دعائے خیر ، اللہ کی طرف سے مقرر فرمائی ہوئی ، بڑی بابرکت اور پاکیزہ ۔ اس طرح اللہ تعالیٰ تمہارے سامنے آیات بیان کرتا ہے ، توقع ہے کہ تُم سمجھ بُوجھ سے کام لوگے۔{۶۱} مومن[97] تواصل میں وہی ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ؐکو دل سے مانیں اور جب کسی اجتماعی کام کے موقع پر رسُول ؐ کے ساتھ ہوں تو اُس سے اجازت لئے بغیر نہ جائیں ۔ [97]اے نبی ؐ !جو لوگ تم سے اجازت مانگتے ہیں وہی اللہ اور رسول ؐکے ماننے والے ہیں ، پس جب وہ اپنے کسی کام سے اجازت مانگیں[98] تو جسے تم چاہو اجازت دے دیا کرو [100]اور ایسے لوگوں کے حق میں اللہ سے دعائے مغفرت کیا کرو،[101] اللہ یقینا غفور ورحیم ہے۔ { ۶۲} مسلمانو! اپنے درمیان رسُو ل اکے بُلانے کو آپس میں ایک دوسرے کا سا بُلانانہ سمجھ بیٹھو ۔[102] اللہ اُن لوگوں کو خوب جانتا ہے جو تم میں ایسے ہیں کہ ایک دوسرے کی آڑلیتے ہوئے چپکے سے سٹک جاتے ہیں۔ [103]رسول ؐکے حکم کی خلاف ورزی کرنے والوں کو ڈرنا چاہئے کہ وہ کسی فتنے میں گرفتار نہ ہوجائیں یا ان پردردناک عذاب نہ آجائے۔{۶۳} خبردار رہو ، آسمان و زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے ۔ تم جس روش پر بھی ہو اللہ اس کو جانتا ہے۔جس روز لوگ اس کی طرف پلٹائے جائیں گے وہ انہیں بتادے گا کہ وہ کیا کچھ کرکے آئے ہیں۔ وہ ہر چیز کا علم رکھتا ہے۔{ ۶۴}
سورۃ الفرقان   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 25 : 1-21 / 77نہایت متبرّک [1]ہے وہ جس نے یہ فرقان[2] اپنے بندہ پر نازل[3] کیا تا کہ سارے جہان والوں کے لیے خبردار کردینے والا[4] ہو ۔{۱} وہ جو زمین اور آسمانوں کی بادشاہی کا مالک[5] ہے ۔جس نے کسی کو بیٹا نہیں بنایا ہے ،[6] جس کے ساتھ بادشاہی میں کوئی شریک نہیں [7]ہے۔ جس نے ہر چیز کو پیدا کیا پھر اس کی ایک تقدیر مقرر کی۔[8]{ ۲} لوگوں نے اُسے چھوڑ کر ایسے معبُود بنالئے جو کسی چیز کو پیدا نہیں کرتے ، بلکہ خود پیدا کئے جاتے ہیں ،[9] جو خود اپنے لئے بھی کسی نفع یا نقصان کا اختیار نہیں رکھتے ، جو نہ مارسکتے ہیں نہ جِلاسکتے ہیں ،نہ مرے ہوئے کو پھر اٹھا سکتے ہیں۔[10]{ ۳} جن لوگوں نے نبی ؐ کی بات ماننے سے انکار کردیا ہے وہ کہتے ہیں کہ ’’ یہ فرقان ایک من گھڑت چیز ہے جسے اِس شخص نے آپ ہی گھڑلیا ہے اور کچھ دُوسرے لوگوں نے اس کام میں اس کی مدد کی ہے۔‘‘ بڑا ظلم[11] اور سخت جھوٹ ہے جس پر یہ لوگ اُترآئے ہیں ۔{ ۴} کہتے ہیں ’’ یہ پُرانے لوگوں کی لکھی ہوئی چیزیں ہیں جنہیں یہ شخص نقل کراتا ہے اور وہ اسے صبح و شام سنائی جاتی ہیں ‘‘ {۵} اے نبی ؐ ! ان سے کہو ’’کہ اسے نازل کیا ہے اُس نے جو زمین اور آسمانوں کا بھیدجانتا ہے ‘‘[12] حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا غفور و رحیم ہے۔[13]{۶} کہتے ہیں :’’یہ کیسا رسول ہے جو کھانا کھاتا ہے اور بازاروں میں چلتا پھرتا ہے ؟[14] کیوں نہ اس کے پاس کو ئی فرشتہ بھیجاگیا جواس کے ساتھ رہتا اور ( نہ ماننے والوں کو ) [15]دھمکاتا ؟ {۷} یا اور کچھ نہیں تو اس کے لیے کوئی خزانہ ہی اتار دیا جاتا ، یا اس کے پاس کو ئی باغ ہی ہوتا جس سے یہ (اطمینان کی) روزی حاصل کرتا ‘‘[16]۔ اور یہ ظالم کہتے ہیں ’’ تم لوگ تو ایک سحر زدہ آدمی [17]کے پیچھے لگ گئے ہو ‘‘۔{۸} دیکھو ، کیسی کیسی حجتیں یہ لوگ تمہارے آگے پیش کررہے ہیں ، ایسے بہکے ہیں کہ کوئی ٹھکانے کی بات ان کو نہیں سوجھتی۔[18]{۹} بڑا بابرکت ہے [19]وہ جو اگر چاہے تو ان کی تجویز کردہ چیزوں سے بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر تم کودے سکتا ہے، (ایک نہیں ) بہت سے باغ جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں اور بڑے بڑے محل ۔{۱۰} اصل بات یہ ہے کہ یہ لوگ’’اُس گھڑی ‘‘[20]کو جُھٹلا چکے ہیں ۔[21] اور جو اُس گھڑی کو جھٹلائے اس کے لیے ہم نے بھڑکتی ہوئی آگ مہیا کر رکھی ہے۔{۱۱} وہ جب دور سے اِن کو دیکھے[22] گی تو یہ اُس کے غضب اور جو ش کی آوازیں سُن لیں گے۔{ ۱۲} اور جب یہ دست وپابستہ اُس میں ایک تنگ جگہ ٹھونسے جائیں گے تو اپنی موت کو پکارنے لگیں گے۔{۱۳} ( اُس وقت اُن سے کہا جائے گا) آج ایک موت کو نہیں بہت سی مَوتوں کو پکارو۔{۱۴} اِن سے پوچھو یہ انجام اچھا ہے یا وہ ابدی جنّت جس کا وعدہ متقی وپرہیزگاروں سے کیا گیا ہے؟ جو اُن کے عمل کی جزا اور اُن کے سفر کی آخری منزل ہوگی {۱۵} جس میں اُن کی ہر خواہش پوری ہوگی جس میں وہ ہمیشہ ہمیشہ رہیں گے، جس کا عطا کرنا تمہارے رَبّ کے ذمّے ایک واجب الاداوعدہ ہے۔[23]{۱۶} اور وہی دن ہوگا جب کہ (تمہارا رَبّ ) اِن لوگوں کو بھی گھیرلائے گا اور ان کے اُن معبودوں[24] کو بھی بُلالے گا جنہیں آج یہ اللہ کو چھوڑ کر پُوج رہے ہیں، پھر وہ اُن سے پوچھے گا ’’ کیا تم نے میرے ان بندوں کو گمراہ کیا تھا ، یا یہ خود راہ ِراست سے بھٹک [25]گئے تھے؟‘‘ {۱۷} وہ عرض کریں گے ’’ پاک ہے آپ کی ذات ، ہماری تو یہ بھی مجال نہ تھی کہ آپ کے سوا کسی کو اپنا مولیٰ بنائیں ۔ مگر آپ نے ان کو اور ان کے باپ دادا کو خوب سامان زندگی دیا حتیٰ کہ یہ سبق بُھول گئے اور شامت زدہ ہو کر[26]رہے ‘‘۔{۱۸} یُوں جھٹلادیں گے وہ (تمہارے معبُود ) اُن باتوں کو جو آج تم کہہ رہے ہو۔[27] پھر تم نہ اپنی شامت کو ٹال سکوگے نہ کہیں سے مدد پاسکوگے اور جو بھی تم میں سے ظلم [28]کرے اُسے ہم سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔{۱۹} اے نبی ؐ! تم سے پہلے جو رسُول بھی ہم نے بھیجے تھے وہ سب بھی کھانا کھانے والے اور بازاروں میں چلنے پھرنے والے لوگ ہی تھے۔[29] دراصل ہم نے تم لوگوں کو ایک دوسرے کے لیے آزمائش کا ذریعہ بنادیاہے ۔[30] کیا تم صبر کرتے ہو ؟ [31]تمہارا رَبّ سب کچھ دیکھتا ہے۔{۲۰} جو لوگ ہمارے حضور پیش ہونے کا اندیشہ نہیں رکھتے وہ کہتے ہیں ’’ کیوں نہ فرشتے ہمارے پاس بھیجے جائیں ؟[33] یاپھر ہم اپنے رَبّ کو دیکھیں ۔‘‘[34]بڑا گھمنڈ لے بیٹھے یہ اپنے نفس میں[35] اور حد سے گزرگئے یہ اپنی (بدترین) سرکشی میں ۔{۲۱}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)