سورۃالمؤمنون   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 23 : 1-118 / 118یقینا فلاح پائی ہے ایمان لانے والوں [1]نے{۱} جو اپنی [2]نماز میں خشوع [3]اختیار کرتے ہیں{ ۲} اور وہ جو لغویات سے دور رہتے ہیں[4]{ ۳} (اور وہ لوگ جو )زکوٰۃ کے طریقے پر عامل ہوتے ہیں[5]{ ۴} اور وہ اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کرتے ہیں[6]{۵} سوائے اپنی بیویوں کے اور اُن عورتوں کے جواِن کی مِلکِ یمیِن میں ہوں کہ اُن پر محفوظ نہ رکھنے میں وہ قابلِ ملامت نہیں ہیں۔{۶} البتہ جو اُس کے علاوہ کچھ اور چاہیں وہی زیادتی کرنے والے ہیں ۔[7]{۷} (اور وہ جو )اپنی امانتوں اور اپنے عہدو پیمان کا پاس رکھتے ہیں۔[8] {۸} اور وہ اپنی نمازوں کی محافظت کرتے ہیں۔[9]{۹} یہی لوگ وہ وارث ہیں{۱۰} جو میراث میں فردوس [10]پائیں گے اور اس میں ہمیشہ رہیں گے۔[11]{۱۱} ہم نے انسان کو مٹی کے ست سے بنایا {۱۲} پھر اسے ایک محفوظ جگہ ٹپکی ہوئی بوندمیں تبدیل کیا۔{۱۳} پھر اس بوند کو لوتھڑے کی شکل دی ، پھر لو تھڑے کو بوٹی بنادیا ، پھر بوٹی کی ہڈیاں بنائیں ، پھرہڈیوں پر گوشت چڑھایا ،[12] پھر اسے ایک دوسری ہی مخلوق بناکھڑا کیا۔[13] پس بڑا ہی بابرکت [14]ہے اللہ، سب کاریگروں سے اچھا کاریگر۔{۱۴} پھر اس کے بعد تم کو ضرور مرنا ہے۔{۱۵} پھر قیامت کے روز یقینا تم اٹھائے جا ؤ گے۔ {۱۶} اور تمہارے اُوپر ہم نے سات راستے بنائے ،[15]تخلیق کے کام سے ہم کچھ نابلدنہ تھے۔[16]{۱۷} اور آسمان سے ہم نے ٹھیک حساب کے مطابق ایک خاص مقدار میں پانی اُتارا اور اس کو زمین میں ٹھہرادیا ،[17] ہم اُسے جس طرح چاہیں غائب کر سکتے ہیں۔ [18]{۱۸} پھر اس پانی کے ذریعے سے ہم نے تمہارے لئے کھجور اور انگو ر کے باغ پیدا کردئے ، تمہار ے لئے اِن باغوں میں بہت سے لذیذ پھل ہیں [19]اور ان سے تم کھاتے ہو روزی حاصل کرتے ہو۔[20] {۱۹} اور وہ درخت بھی ہم نے پیدا کیا جو طورسینا سے نکلتا ہے [21] تیل بھی لئے ہوئے اُگتا ہے اور کھانے والوں کے لیے سالن بھی ۔{۲۰} اور حقیقت یہ ہے کہ تمہارے لئے مویشیوں میں بھی ایک سبق ہے۔ ان کے پیٹوں میں جو کچھ ہے اسی میں سے ایک چیز ( یعنی دودھ ) ہم تمہیں پلاتے ہیں ،[22] اور تمہارے لئے ان میں بہت سے دوسرے فائدے بھی ہیں۔ اُن کو تم کھاتے ہو{۲۱} اور اُن پر اور کشتیوں پر سوار بھی کئے جاتے ہو ۔[23]{ ۲۲} ہم نے نوح ؑ کو اس کی قوم کی طرف بھیجا۔[24] اس نے کہا ’’ اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی بندگی کر و ، اس کے سوا تمہارے لئے کوئی معبود نہیں ہے ، کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟‘‘[25]{۲۳} اُس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا وہ کہنے لگے کہ ’’ یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر ایک بشر تم ہی جیسا ۔[26] اس کی غرض یہ ہے کہ تم پر برتری حاصل کرے۔[27] اللہ کو اگر بھیجنا ہوتاتو فرشتے بھیجتا ۔ یہ بات تو ہم نے کبھی اپنے باپ دادا کے وقتوں میں سُنی ہی نہیں ( کہ بشر رسُول بن کرآئے )۔‘‘ {۲۴} کچھ نہیں بس اِس آدمی کو ذراجنون لاحق ہوگیا ہے۔ کچھ مدت اور دیکھ لو (شاید افاقہ ہوجائے ){۲۵} نوحؑ نے کہا ’’ پروردگار !اِن لوگوں نے جو میری تکذیب کی ہے اس پر اب تُو ہی میری نصرت فرما ‘‘[28]{۲۶} ہم نے اس پر وحی کی کہ ’’ ہماری نگرانی میں اور ہماری وحی کے مطابق کشتی تیار کر ۔ پھر جب ہمارا حکم آجائے اور وہ تنوراُبل پڑے [29]تو ہرقسم کے جانوروں میں سے ایک ایک جوڑا لے کر اس میں سوار ہوجا، اور اپنے اہل وعیال کو بھی ساتھ لے سوائے اُن کے جن کے خلاف پہلے فیصلہ ہوچکا ہے ، اور ظالموں کے بارے میں مجھ سے کچھ نہ کہنا ، یہ اب غرق ہونے والے ہیں۔{۲۷} پھر جب تو اپنے ساتھیوں سمیت کشتی پرسوار ہوجائے تو کہہ ، شکر ہے اُس اللہ کا جس نے ہمیں ظالم لوگوں سے نجات دی۔ [30]{۲۸} اور کہہ ، پروردگار ! مجھ کو برکت والی جگہ اُتار اور تو بہترین جگہ دینے والا ہے‘‘[31]{۲۹} اس قصّے میں بڑی نشانیاں ہیں ،[32] اور آزمائش تو ہم کرکے ہی رہتے ہیں۔[33]{۳۰} اُن کے بعد ہم نے ایک دوسرے دور کی قوم اٹھائی [34]{۳۱} پھر اُن میں خود انہی کی قوم کا ایک رسُول بھیجا( جس نے انہیں دعوت دی) کہ اللہ کی بندگی کرو ، تمہارے لئے اُس کے سوا کوئی اور معبود نہیں ہے ، کیا تم ڈرتے نہیں ہو ؟{۳۲} اُس کی قوم کے جن سرداروں نے ماننے سے انکار کیا اور آخر ت کی پیشی کو جُھٹلایا جن کو ہم نے دنیا کی زندگی میں آسُودہ کررکھا تھا ،[35] وہ کہنے لگے ’’ یہ شخص کچھ نہیں ہے مگر ایک بشر تم ہی جیسا جو کچھ تم کھاتے ہو وہی یہ کھاتا ہے اور جو کچھ تم پیتے ہووہی یہ پیتا ہے۔{۳۳} اب اگر تم نے اپنے ہی جیسے ایک بشر کی اطاعت قبول کرلی تو تم گھاٹے ہی میں رہے[36]{۳۴} یہ تمہیں اطلاع دیتا ہے کہ جب تم مرکرمٹی ہوجا ؤ گے اور ہڈیوں کا پنجربن کررہ جا ؤ گے اُس وقت تم ( قبروں سے ) نکالے جا ؤگے ؟ {۳۵} بعید ، بالکل بعید ہے یہ وعدہ جو تم سے کیا جارہا ہے {۳۶} زندگی کچھ نہیں ہے مگر بس یہی دنیا کی زندگی یہیں ہم کو مرنا اور جینا ہے اور ہم ہرگز اُٹھائے جانے والے نہیں ہیں{۳۷} یہ شخص اللہ کے نام پر محض جھوٹ گھڑرہا ہے اور ہم کبھی اس کی ماننے والے نہیں ہیں‘‘{۳۸} رسُول نے کہا ’’ پروردگار !اِن لوگوں نے جو میری تکذیب کی ہے اس پر اب توہی میری نصرت فرما‘‘۔ {۳۹} جواب میں ارشاد ہوا ’’قریب ہے وہ وقت جب یہ اپنے کئے پر پچھتا ئیں گے‘‘ ۔{۴۰} آخر کار ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق ایک ہنگامۂٔ عظیم نے ان کو آلیا اور ہم نے ان کو کچرا[37] بناکر پھینک دیا۔دُور ہوظالم قوم!{۴۱} پھر ہم نے ان کے بعد دُوسری قو میں اُٹھائیں۔{۴۲} کوئی قوم نہ اپنے وقت سے پہلے ختم ہوئی اور نہ اس کے بعد ٹھہرسکی۔ {۴۳} پھر ہم نے پے درپے اپنے رسُول بھیجے ۔ جس قوم کے پاس بھی اُس کا رسُول آیا، اُس نے اُسے جُھٹلایا، اور ہم ایک کے بعد ایک قوم کو ہلاک کرتے چلے گئے، حتیٰ کہ ان کو بس افسانہ ہی بناکر چھوڑا۔ پھٹکار اُن لوگوں پر جو ایمان نہیں [38]لاتے ! {۴۴} پھرہم نے موسیٰ ؑ اور اس کے بھائی ہارونؑ کو اپنی نشانیوں اور کھلی سنَد [39]کے ساتھ بھیجا{۴۵} فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت کی طرف ، مگر انہوں نے تکبّر کیا او ر بڑی دوں کی لی [40] ( یعنی وہ تھے ہی بڑے شیخی باز اور سرکش لوگ ) {۴۶} کہنے لگے ’’ کیا ہم اپنے ہی جیسے دو آدمیوں پر ایمان لے آئیں؟ اور آدمی بھی وہ جن کی قوم ہماری بندی[41] ہے‘‘۔{۴۷} پس، اُنہوں نے دونوں کو جُھٹلادیا اور ہلاک ہونے والوں میں جاملے۔[42] {۴۸} اور موسیٰ ؑکو ہم نے کتاب عطا فرمائی تا کہ لوگ اس سے رہنمائی حاصل کریں۔{۴۹} اور ابن مریمؑ اور اس کی ماں کو ہم نے ایک نشانی بنایا [43]اور ان کو ایک سطح مُرتفَع پر رکھا جو اطمینان کی جگہ تھی اور چشمے اس میں جاری تھے۔ [44]{۵۰} اے پیغمبر و[45] ! کھا ؤ پاک چیزیں اور عمل کر وصالح [46]، تم جو کچھ بھی کرتے ہو ،میںاُس کو خوب جانتا ہوں {۵۱} اور یہ تمہاری اُمّت ایک ہی اُمّت ہے اور میں تمہارا رَبّ ہوں ، پس مجھ ہی سے تم ڈرو[47]{ ۵۲} مگر بعد میں لوگوں نے اپنے دین کو آپس میں ٹکڑے ٹکڑے کرلیا۔ ہر گروہ کے پاس جو کچھ ہے اُسی میں وہ مگن[48]ہے۔{ ۵۳} اچھا تو چھوڑو انہیں ، ڈوبے رہیں اپنی غفلت میں ایک وقت خاص تک [49]{۵۴} کیا یہ سمجھتے ہیں کہ ہم جو انہیں مال اولاد سے مدد دیئے جارہے ہیں{۵۵} تو گویا انہیں بھلائیاں دینے میں سرگرم ہیں ؟ نہیں اصل معاملے کا انہیں شعُور نہیں ہے۔[50]{۵۶} حقیقت میں تو جو لوگ اپنے رَبّ کے خوف سے ڈرنے والے ہوتے ہیں[51]{۵۷} جو اپنے رَبّ کی آیات پر ایمان لاتے ہیں [52]{۵۸} جو اپنے رَبّ کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتے[53]{۵۹} اور جن کا حال یہ ہے کہ دیتے ہیں جو کچھ بھی دیتے ہیں اور دل اُن کے اِس خیال سے کانپتے رہتے ہیں کہ ہمیں اپنے رَبّ کی طرف پلٹنا ہے[54]{۶۰} وہی بَھلائیوں کی طرف دوڑنے والے اور سبقت کرکے انہیں [55]پالینے والے ہیں۔{۶۱} ہم کسی شخص کو اسکی مقدرت سے زیادہ تکلیف نہیں دیتے ، اور ہمارے پاس ایک کتاب ہے۔ جو ( ہر ایک کاحال ) ٹھیک ٹھیک بتادینے والی ہے[56] اور لوگوں پر ظلم بہرحال نہیں کیا جائے گا[57]{۶۲} مگر یہ لوگ اس معاملے سے بے خبرہیں۔[58] اور ان کے اعمال بھی اُس طریقے سے (جس کا اوپر ذکر کیا گیا ہے) مختلف ہیں ۔ ( وہ اپنے یہ کرتُوت کئے چلے جائیں گے) {۶۳} یہاں تک کہ جب ہم اُن کے عیّاشوں کو عذاب میں پکڑلیں گے[59] تو پھر وہ ڈَکر انا شروع کردیں گے ۔[60]{۶۴} اب [61]بند کرو اپنی فریاد وفغاں، ہماری طرف سے اب کوئی مدد تمہیں نہیں ملنی۔{۶۵} میری آیات سنائی جاتی تھیں، تو تم ( رسُول کی آواز سُنتے ہی) الٹے پا ؤں بھاگ نکلتے تھے [62]{۶۶} اپنے گھمنڈمیں اُس کو خاطر ہی میں نہ لاتے تھے ،اپنی چوپالوں میں اُس پر با تیں چھانٹتے [63]اور بکو اس کیا کرتے تھے۔{۶۷} توکیا اِن لوگوں نے کبھی اس کلام پر غور نہیں کیا؟[64]یاوہ کوئی ایسی بات لایا ہے جو کبھی ان کے اسلاف کے پاس نہ آئی تھی ؟[65]{۶۸} یایہ اپنے رسُول سے کبھی کے واقف نہ تھے،کہ ( اَن جانا آدمی ہونے کے باعث ) اُس سے بِدَکتے ہیں؟[66]{۶۹} یایہ اس بات کے قائل ہیں کہ وہ مجنون ہے ؟[67] نہیں ، بلکہ وہ حق لایا ہے اور حق ہی ان کی اکثریت کو ناگوار ہے۔{۷۰} اور حق اگر کہیں ان کی خواہشات کے پیچھے چلتا تو زمین اور آسمان اور ان کی ساری آبادی کا نظام درہم برہم ہوجاتا[68] نہیں ، بلکہ ہم ان کا اپنا ہی ذِکر اُن کے پاس لائے ہیں اور وہ اپنے ذکر سے منھ موڑرہے ہیں۔[69]{۷۱} کیا تُو ان سے کچھ مانگ رہا ہے ؟ تیرے لئے تو تیرے رَبّ کا دیا ہی بہتر ہے اور وہ بہترین رازق ہے[70]{۷۲} تُو ، تو اُن کو سیدھے راستے کی طرف بلارہا ہے ۔{ ۷۳} مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے وہ راہِ راست سے ہٹ کر چلنا چاہتے ہیں۔[71]{ ۷۴} اگر ہم اِن پر رحم کریں اور وہ تکلیف جس میں آج کل یہ مبتلا ہیں ، دُور کردیں تو یہ اپنی سرکشی میں بالکل ہی بہک جائیں گے۔[72] {۷۵} ان کا حال تو یہ ہے کہ ہم نے انہیں تکلیف میں مبتلاکیا ، پھر بھی یہ اپنے رَبّ کے آگے نہ جھکے اور نہ عاجزی اختیار کرتے ہیں۔ {۷۶} ا لبتہ جب نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ ہم ان پر سخت عذاب کا دروازہ کھول دیں تویکایک تم دیکھو گے کہ اس حالت میں یہ ہر خیر سے مایوس ہیں۔[73] {۷۷} وہ اللہ ہی تو ہے جس نے تمہیں سُننے اور دیکھنے کی قوتیں دیں اور سوچنے کو دل دیے مگر تم لوگ کم ہی شکر گزار ہوتے ہو[74]{۷۸} وہی ہے جس نے تمہیں زمین میں پھیلایا، اور اُسی کی طرف تم سمیٹے جا ؤ گے۔ {۷۹} وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے ۔ گردِش لیل ونہار اُسی کے قبضۂ قدرت میں ہے ۔ [75]کیا تمہاری سمجھ میں یہ بات نہیں آتی ؟[76]{۸۰} مگر یہ لوگ وہی کچھ کہتے ہیں جو اِن کے پیش روکہہ چکے ہیں۔ {۸۱} یہ کہتے ہیں ’’ کیا جب ہم مرکرمٹی ہوجائیں گے اور ہڈیوں کا پنجربن کررہ جائیں گے تو ہم کو پھرزندہ کرکے اٹھایا جائے گا ؟{۸۲} ہم نے بھی یہ وعدے بہت سُنے ہیں اور ہم سے پہلے ہمارے باپ دادا بھی سُنتے رہے ہیں۔ یہ محض افسانہ ہائے پارینہ ہیں‘‘۔[77]{ ۸۳} ان سے کہو ، بتا ؤ ، اگر تم جانتے ہو کہ یہ زمین اور اس کی ساری آبادی کس کی ہے ؟{۸۴} یہ ضرور کہیں گے اللہ کی۔ کہو ،پھر تم ہوش میں کیوں نہیں آتے ؟ [78]{۸۵} اُن سے پُوچھو، ساتوں آسمانوں اور عرش عظیم کا مالک کون ہے ؟ {۸۶} یہ ضرور کہیں گے[79] اللہ ۔کہو ، پھر تم ڈرتے کیوں نہیں؟[80]{۸۷} ان سے کہو ، بتا ؤ اگر تم جانتے ہوکہ ہر چیز پر اقتدار [81]کس کا ہے ؟ اور کون ہے وہ جو پناہ دیتا ہے اور اس کے مقابلے میں کوئی پناہ نہیں دےسکتا ؟{۸۸} یہ ضرور کہیں گے کہ یہ بات تو اللہ ہی کے لیے ہے ۔ کہو ، پھر کہاں سے تم کو دھوکہ لگتا ہے ؟[82]{۸۹} جو امرحق ہے وہ ہم ان کے سامنے لے آئے ہیں، اور کوئی شک نہیں کہ یہ لوگ جھوٹے ہیں [83]{۹۰} اللہ نے کسی کو اپنی اولاد نہیں بنایا ہے،[84] اور کوئی دُوسرا اِلٰہ اُس کے ساتھ نہیں ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو ہر اِلٰہ اپنی خلق کو لے کر الگ ہوجاتا اور پھر وہ ایک دُوسرے پر چڑھ دوڑتے ۔[85] پاک ہے اللہ اُن باتوں سے جو یہ لوگ بناتے ہیں۔{۹۱} کھلے اور چُھپے کا جاننے والا ،[86]وہ بالاتر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ تجویز کررہے ہیں۔{ ۹۲} اے نبی ؐ! دُعا کرو کہ ’’ پروردگار !جس عذاب کی ان کو دھمکی دی جارہی ہے وہ اگر میری موجودگی میں تو لائے {۹۳} تو اے میرے رَبّ !مجھے ان ظالم لوگوں میں شامل نہ کیجیؤ ۔ ‘‘[87]{۹۴} اور حقیقت یہ ہے کہ ہم تمہاری آنکھوں کے سامنے ہی وہ چیز لے آنے کی پوری قدرت رکھتے ہیں جس کی دھمکی ہم انہیں دے رہے ہیں۔{۹۵} اے نبی ؐ!برائی کو اُس طریقہ سے دفع کرو جو بہترین ہو۔ جو کچھ باتیں وہ تم پر بناتے ہیں وہ ہمیں خوب معلوم ہیں۔{۹۶} اور دُعا کرو کہ ’’ پروردگار!میں شیاطین کی اُکساہٹوں سے تیری پنا ہ مانگتا ہوں {۹۷} بلکہ اے میرے رب! میں تو اِس سے بھی تیری پناہ مانگتاہوں کہ وہ میرے پاس آئیں‘‘ ۔[88]{۹۸} (یہ لوگ اپنی کرنی سے بازنہ آئیں گے ) یہاں تک کہ جب ان میں سے کسی کو موت آجائے گی تو کہنا شروع کریگا کہ ’’اے میرے رَبّ !مجھے اُسی دنیا میں واپس بھیج [89]دیجئے جسے میں چھوڑ آیاہوں{۹۹} اُمید ہے کہ اب میں نیک عمل[90] کروں گا۔ ‘‘ ہرگز نہیں[91] ، یہ تو بس ایک بات ہے جو وہ بَکْ رہا[92] ہے۔ اب ان سب ( مرنے والوں ) کے پیچھے ایک بَرزخ حائل ہے دوسری زندگی کے دن تک۔[93]{۱۰۰} پھر جو نہی کہ صور پُھونک دیا گیا ، ان کے درمیان پھر کوئی رشتہ نہ رہے گا اور نہ وہ ایک دوسرے کو پوچھیں گے۔[94]{۱۰۱} اُس وقت جن کے پلڑے بھاری ہوں[95] گے وہی فلاح پائیں گے۔{۱۰۲} اور جن کے پلڑے ہلکے ہوں گے وہی لوگ ہوں گے جنہوں نے اپنے آپ کو گھاٹے میں ڈال لیا۔[96] وہ جہنّم میں ہمیشہ رہیں گے۔ {۱۰۳} آگ اُن کے چہروں کی کھال چاٹ جائے گی اور اُن کے جبڑے باہر نکل آئیں گے۔[97]{ ۱۰۴} ’’ کیا تم وہی لوگ نہیں ہو کہ میری آیات تمہیں سنائی جاتی تھیں تو تم انہیں جھٹلاتے تھے ‘‘ ؟{۱۰۵} وہ کہیں گے ’’اے ہمارے َربّ! ہماری بدبختی ہم پر چھا گئی تھی۔ ہم واقعی گمراہ لوگ تھے {۱۰۶} اے پروردگار !اب ہمیں یہاں سے نکال دے پھر ہم ایسا قصُور کریں تو ظالم ہوں گے۔‘‘ {۱۰۷} اللہ تعالیٰ جواب دے گا ’’دُور ہو میرے سامنے سے ، پڑے رہو اسی میں اور مجھ سے بات نہ کرو۔[98]{۱۰۸} تم وہی لوگ تو ہو کہ میرے کچھ بندے جب کہتے تھے کہ اے ہمارے پروردگار !ہم ایمان لائے ، ہمیں معاف کردے ، ہم پر رحم کر ، تُو سب رحیموں سے اچھارحیم ہے {۱۰۹} تو تم نے ان کا مذاق بنالیا۔ یہاں تک کہ اُن کی ضدنے تمہیں یہ بھی بُھلادیا کہ میں بھی کوئی ہوں ،اور تم اُن پر ہنستے رہے{۱۱۰} آج اُن کے اس صبر کا میں نے یہ پھل دیا ہے کہ وہی کامیاب ہیں‘‘۔[99]{۱۱۱} پھر اللہ تعالیٰ اُن سے پوچھے گا،’’بتا ؤ ، زمین میں تم کتنے سال رہے ؟‘‘ {۱۱۲} وہ کہیں گے: ’’ایک دن یا دن کا بھی کچھ حصّہ ہم وہاں ٹھہرے ہیں،[100] شمار کرنے والوں سے پوچھ لیجئے ‘‘۔ {۱۱۳} ارشاد ہوگا’’ تھوڑی ہی دیر ٹھہرے ہونا[101] ، کاش تم نے یہ اُس وقت جانا ہوتا {۱۱۴} کے ا تم نے یہ سمجھ رکھا تھا کہ ہم نے تمہیں فضول ہی پیدا کیا ہے[102] اور تمہیں ہماری طرف کبھی پلٹنا ہی نہیں ہے‘‘؟ {۱۱۵} پس بالا وبر تر ہے [103]اللہ ،پادشاہِ حقیقی کو ئی اِلٰہ اُس کے سوا نہیں ، مالک ہے عرش ِبزرگ کا {۱۱۶} اور جو کوئی اللہ کے ساتھ کسی اور معبُود کو پُکارے جس کے لیے اُس کے پاس کوئی دلیل نہیں تو اس کا حساب اس کے رَبّ کے پاس ہے[105] ایسے کافر کبھی فلاح نہیں پاسکتے۔ [106]{۱۱۷} اے نبی ؐ!کہو ، میرے رَبّ درگزر فرمااور رحم کر ، توسب رحیموں سے اچھا رحیم ہے۔[107]{۱۱۸}
سورۃالنور   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 24 : 1-20 / 64یہ ایک سورۃ ہے جس کو ہم نے نازل کیا ہے ، اور اسے ہم نے فرض کیا ہے اور اس میں ہم نے صاف صاف ہدایات نازل کی ہیں[1] شاید کہ تم سبق لو۔{۱} زانیہ عورت اور زانی مرد، دونوں میں سے ہر ایک کو سو کوڑے مارو[2]۔ اور ان پر ترس کھانے کا جذبہ اللہ کے دین کے معاملے میں تم کو دامن گیرنہ ہوا گر تم اللہ تعالیٰ اور روزِ آخر پر ایمان رکھتے ہو۔[3] اور اُن کو سزادیتے وقت اہل ِایمان کا ایک گروہ موجود رہے۔[4] {۲} زانی نکاح نہ کرے مگر زانیہ کے ساتھ یامشرکہ کے ساتھ۔اور زانیہ کے ساتھ نکاح نہ کرے مگر زَانی یا مشرک۔ اور یہ حرام کردیا گیا ہے اہل ِایمان پر[5] {۳} اور جو لوگ پاک دامن عورتوں پرتہمت لگائیں، پھر چارگواہ لے کر نہ آئیں ، ان کو اَسّی کوڑے مارو اور اُن کی شہادت کبھی قبول نہ کرو ، اور وہ خود ہی فاسق ہیں۔ { ۴} سوائے اُن لوگوں کے جو اس حرکت کے بعد تائب ہوجائیں اور اصلاح کرلیں کہ اللہ ضرور ( اُن کے حق میں) غفور ورحیم ہے۔ [6]{۵} اور جو لوگ اپنی بیویوں پر الزام لگائیں اور ان کے پاس خود اُن کے اپنے سوا دُوسرے کوئی گواہ نہ ہوں تو اُن میں سے ایک شخص کی شہادت (یہ ہے کہ وہ ) چار مرتبہ اللہ کی قسم کھاکر گواہی دے کہ وہ ( اپنے الزام میں ) سچا ہے۔[7]{۶} اور پانچویں بارکہے کہ اُس پر اللہ کی لعنت ہو اگر وہ ( اپنے الزام میں ) جھوٹا ہو۔{۷} اور عورت سے سزا اِس طرح ٹل سکتی ہے کہ وہ چار مرتبہ اللہ کی قسم کھاکر شہادت دے کہ یہ شخص ( اپنے الزام میں) جُھوٹا ہے{۸} اور پانچویں مرتبہ کہے کہ اُس بندی پر اللہ کا غضب ٹوٹے اگر وہ (اپنے الزام میں) سچا ہو۔ {۹} تم لوگوں پر اللہ کا فضل اور اس کا رحم نہ ہوتااور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا التفات فرمانے والا اور حکیم ہے تو ( بیویوں پر الزام کا معاملہ تمہیں بڑی پیچیدگی میں ڈال دیتا )۔ {۱۰} جولوگ یہ بہتان گھڑلائے[8] ہیں وہ تمہارے ہی اندر کا ایک ٹولہ [9]ہیں۔ اس واقعے کو اپنے حق میں شر نہ سمجھو ، بلکہ یہ بھی تمہارے لئے خیر [10]ہی ہے ۔جس نے اُس میں جتنا حصّہ لیا اس نے اتناہی گناہ سمیٹا، اور جس شخص نے اس کی ذمہ داری کا بڑا حصّہ اپنے سرلیا[11] اس کے لیے تو عذاب عظیم ہے۔{۱۱} جس وقت تم لوگوں نے اسے سُنا تھا اُسی وقت کیوں نہ مومن مردوں اور مومن عورتوں نے اپنے آپ سے نیک گمان کیا [12]اور کیوں نہ کہہ دیا کہ یہ صریح بہتان ہے [13]{۱۲} وہ لوگ ( اپنے الزام کے ثبوت میں) چارگواہ کیوں نہ لائے؟ اب کہ وہ گواہ نہیں لائے ہیں ، اللہ کے نزدیک وہی جھوٹے ہیں۔ [14] {۱۳} اگر تم لوگوں پر دنیا اور آخرت میں اللہ کا فضل اور رحم و کرم نہ ہوتا تو جن باتوں میں تم پڑگئے تھے ان کی پاداش میں بڑا عذاب تمہیں آلیتا ۔{۱۴} (ذراغور تو کرو اس وقت تم کیسی سخت غلطی کررہے تھے) جبکہ تمہاری ایک زبان سے دُوسری زبان اس جھوٹ کو لیتی چلی جارہی تھی اور تم اپنے منھ سے وہ کچھ کہے جارہے تھے جس کے متعلق تمہیں کوئی علم نہ تھا۔ تم اسے ایک معمولی بات سمجھ رہے تھے حالانکہ اللہ کے نزدیک یہ بڑی بات تھی۔{۱۵} کیوں نہ اِسے سُنتے ہی تم نے کہہ دیا کہ ’’ ہمیں ایسی بات زبان سے نکالنا زیب نہیں دیتا ، سُبحان اللہ ، یہ تو ایک بہتان عظیم ہے ‘‘ ۔{۱۶} اللہ تم کو نصیحت کرتا ہے کہ آیندہ کبھی ایسی حرکت نہ کرنا اگر تم مومن ہو۔ {۱۷} اللہ تمہیں صاف صاف ہدایات دیتا ہے اور وہ علیم وحکیم ہے۔[15]{۱۸} جو لوگ چاہتے ہیں کہ ایمان لانے والوں کے گروہ میں فحش پھیلے وہ دنیا اور آخرت میں دردناک سزاکے مستحق ہیں ،[16] اللہ جانتا ہے اور تم نہیں جانتے ۔[17]{۱۹} اگر اللہ کا فضل اور اُس کا رحم و کرم تم پر نہ ہوتا اور یہ بات نہ ہوتی کہ اللہ بڑا شفیق و رحیم ہے،( تو یہ چیز جو ابھی تمہارے اندر پھیلائی گئی تھی بدترین نتائج دکھادیتی)۔ {۲۰}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)