سورۃالحج   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 22 : 1-78 / 78لوگو! اپنے رَبّ کے غضب سے بچو ، حقیقت یہ ہے کہ قیامت کا زلزلہ بڑی ( ہولناک) چیز [1]ہے{۱} جس روز تم اسے دیکھو گے ، حال یہ ہوگا کہ ہر دُودھ پلانے والی اپنے دُودھ پیتے بچّے سے غافل ہوجائے گی،[2] ہر حاملہ کا حمل گرجائے گا اور لوگ تم کو مدہوش نظر آئیں گے ، حالاں کہ وہ نشے میں نہ ہوں گے، بلکہ اللہ کا عذاب ہی کچھ ایسا سخت ہوگا۔[3]{ ۲} بعض لوگ ایسے ہیں جو عِلم کے بغیر اللہ کے بارے میں بحثیں کرتے ہیں[4] اور ہر شیطان سرکش کی پَیروی کرنے لگتے ہیں ۔{ ۳} حالانکہ اُس کے تو نصیب ہی میں یہ لکھا ہے کہ جو اس کو دوست بنائے گا اُسے وہ گمراہ کرکے چھوڑے گا اور عذاب ِجہنم کا راستہ دکھائے گا۔{ ۴} لوگو ! اگر تمہیں زندگی بعد موت کے بارے میں کچھ شک ہے تو تمہیں معلوم ہو کہ ہم نے تم کو مٹی سے پیدا کیا ہے ، پھر نطفے [5]سے ، پھر خون کے لوتھڑے سے ، پھر گوشت کی بوٹی سے جو شکل والی بھی ہوتی ہے اور بے شکل بھی۔[6] ( یہ ہم اس لیے بتارہے ہیں) تا کہ تم پر حقیقت واضح کریں۔ ہم جس (نطفے ) کو چاہتے ہیں ایک وقت ِخاص تک رحموں میں ٹھہرائے رکھتے ہیں ، پھر تم کو ایک بچّے کی صورت میں نکال لاتے ہیں ۔ (پھر تمہیں پرورش کرتے ہیں) تا کہ تم اپنی جوانی کو پہنچو، اور تم میں سے کوئی پہلے ہی واپس بُلالیا جاتا ہے اور کوئی بدترین عمر کی طرف پھیردیا جاتا ہے تا کہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے ۔[7]اور تم دیکھتے ہو کہ زمین سوکھی پڑی ہے ، پھر جہاں ہم نے اُس پر مینہ برسایا کہ یکایک وہ پَھبک اُٹھی اور پُھول گئی اور اس نے ہر قسم کی خوش منظر نباتات اگلنی شروع کردی ۔{۵} یہ سب کچھ اس وجہ سے ہے کہ اللہ ہی حق ہے [8]، اور وہ مُردوں کو زندہ کرتا ہے ، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے {۶} اور یہ ( اس بات کی دلیل ہے) کہ قیامت کی گھڑی آکر رہے گی، اس میں کسی شک کی گنجائش نہیں، اور اللہ ضرور اُن لوگوں کو اٹھائے گا جو قبروں میں جاچکے ہیں۔[9]{۷} بعض اور لوگ ایسے ہیں جو کسی علم [10]اور ہدایت [11]اور روشنی بخشنے والی کتاب [12]کے بغیر ، اللہ کے بارے میں جھگڑتے ہیں{۸} گردن اکڑائے [13]ہوئے تاکہ لوگوں کو اللہ کی راہ سے بھٹکادیں۔[14] ایسے شخص کے لیے دنیا میں رسوائی ہے اور قیامت کے روز اس کو ہم آگ کے عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔{۹} یہ ہے تیرا وہ مستقبل جو تیرے اپنے ہاتھوں نے تیرے لئے تیار کیا ہے ، ورنہ اللہ اپنے بندوں پر ظلم کرنے والا نہیں ہے۔{۱۰} اور لوگوں میں کوئی ایسا ہے جو کنارے پررہ کر اللہ کی بندگی کرتا [15]ہے اگر فائدہ ہو ، تو مطمئن ہوگیا اور جو کوئی مصیبت آگئی تو الٹا پھر گیا۔[16] اُس کی دنیا بھی گئی اور آخرت بھی ۔ یہ ہے صریح خسارہ۔ [17]{۱۱} پھر وہ اللہ کو چھوڑ کر اُن کو پُکارتا ہے جو نہ اس کو نقصان پہنچاسکتے ہیں نہ فائدہ، یہ ہے گمراہی کی ا نتہا۔{ ۱۲} وہ اُن کو پُکارتا ہے جن کا نقصان ان کے نفع سے قریب ترہے ،[18] بدترین ہے اُس کا مولیٰ اور بدترین ہے اُس کا رفیق۔[19] {۱۳} (اس کے برعکس) اللہ اُن لوگوں کو جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے ،[20] یقینا ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہر یں بہہ رہی ہوں گی اللہ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے۔[21] {۱۴} جو شخص یہ گمان رکھتا ہو کہ اللہ دنیا اور آخرت میں اُس کی کوئی مدد نہ کرے گا اُسے چاہئے کہ ایک رسّی کے ذریعے آسمان تک پہنچ کر شگاف لگائے پھردیکھ لے کہ آیا اس کی تدبیر کسی ایسی چیز کو رد کرسکتی ہے،جو اس کو ناگوار ہے۔[22]{۱۵} ایسی ہی کُھلی کُھلی باتوں کے ساتھ ہم نے اس قرآن کو نازل کیا ہے۔ اور ہدایت اللہ جسے چاہتا ہے دیتا ہے۔{۱۶} جولوگ ایمان لائے،[23] او رجو یہودی ہوئے،[24]اور صابی [25]اور نصاریٰ [26]اور مجوس [27]اور جن لوگوں نے شرک کیا [28]، ان سب کے درمیان اللہ قیامت کے روز فیصلہ کردے گا،[29]ہر چیز اللہ کی نظر میں ہے۔{۱۷} کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ کے آگے سربسُجود ہیں[30] وہ سب جو آسمانوں میں ہیں [31]اور جو زمین میں ہیں، سُورج اور چاند اور تارے اور پہاڑ اور درخت اور جانور اور بہت سے انسان [32]اور بہت سے وہ لوگ بھی جو عذاب کے مستحق ہوچکے ہیں [33]؟ اور جسے اللہ ذلیل و خوار کردے اُسے پھر کوئی عزت دینے والا نہیں[34] ہے ، اللہ کرتا ہے جو کچھ چاہتا ہے۔[35]{۱۸} یہ دوفریق ہیں جن کے درمیان اپنے رَبّ کے معاملے میں جھگڑا ہے، [36] ان میں سے وہ لوگ جنہوں نے کفر کیا اُن کے لیے آگ کے لباس کاٹے جاچکے ہیں ،[37] اُن کے سروں پر کھولتا ہوا پانی ڈالا جائے گا{۱۹} جس سے اُن کی کھالیں ہی نہیں پیٹ کے اندر کے حصے تک گل جائیں گے{۲۰} اور اُن کی خبر لینے کے لیے لوہے کے گُرزہوں گے۔{۲۱} جب کبھی وہ گھبراکر جہنّم سے نکلنے کی کوشش کریں گے پھراُسی میں دھکیل دیے جائیں گے کہ چکھواب جلنے کی سزا کا مزہ ۔{ ۲۲} ( دوسری طرف ) جو لوگ ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے اُن کو اللہ ایسی جنتوں میں داخل کرے گا جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی۔ وہاں وہ سونے کے کنگنوں اور موتیوں سے آراستہ کئے جائیں گے[38] اور ان کے لباس ریشم کے ہوں گے۔{ ۲۳} ان کو پاکیزہ بات قبول کرنے کی ہدایت بخشی گئی[39] اور انہیں ستودہ صفات اللہ (گ ) کا راستہ دکھایا گیا۔[40]{۲۴} جن لوگوں نے کفر کیا [41]اور جو ( آج ) اللہ کے راستے سے روک رہے ہیں اور اُس مسجد حرام کی زیارت میں مانع ہیں[42] جسے ہم نے سب لوگوں کے لیے بنایا ہے، جس میں مقامی باشندوں اور باہر سے آنے والوں کے حقوق برابرہیں[43] ( اُن کی روش یقینا سزا کی مستحق ہے) اس (مسجد ِحرام ) میں جو بھی راستی سے ہٹ کر ظلم کا طریقہ اختیار کرے[44] گا اسے ہم درد ناک عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔{۲۵} یادکرو وہ وقت جبکہ ہم نے ابراہیم ؑ کے لیے اس گھر (خانہ ٔکعبہ ) کی جگہ تجویز کی تھی ( اس ہدایت کے ساتھ) کہ میرے ساتھ کسی چیز کو شریک نہ کرو ، اور میرے گھر کو طواف کرنے والوں اور قیام ورکوع وسجود کرنے والو ں کے لیے پاک رکھو [45]{۲۶} اور لوگوں کو حج کے لیے اِذن عام دے دو کہ وہ تمہارے پاس ہر دور دراز مقام سے پیدل او راُونٹوں [46]پر سوار آئیں[47]{۲۷} تاکہ وہ فائدے دیکھیں جو یہا ں اُن کے لیے رکھے گئے ہیں ،[48] اور چند مقرر دنوں میں اُن جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اُس نے انہیں بخشے ہیں ،[49] خود بھی کھائیں اور تنگ دست محتاج کو بھی دیں ۔[50]{۲۸} پھر اپنا میل کچیل دور کریں[51] اور اپنی نذریں پوری کریں[52] اور اس قدیم گھر کا طواف کریں[53]{۲۹} یہ تھا ( تعمیر کعبہ کا مقصد ) اور جو کوئی اللہ کی قائم کردہ حرمتوں کا احترام کرے تو یہ اس کے رَبّ کے نزدیک خود اسی کے لیے بہتر ہے۔[54] اور تمہارے لئے مویشی جانور حلال کئے گئے۔[55] ماسوا اُن چیزوں کے جو تمہیں بتائی جاچکی ہیں ۔ [56]پس بُتوں کی گندگی سے بچو ،[57] جھوٹی باتوں سے پرہیز کرو[58]{۳۰} یک سُوہو کر اللہ کے بندے بنو ، اس کے ساتھ کسی کو شریک نہ کرو، اور جو کوئی اللہ کے ساتھ شرک کرے تو گویا وہ آسمان سے گِرگیا ، اب یاتو اسے پرندے اُچک لے جائیں گے یا ہوا اُس کو ایسی جگہ لے جاکر پھینک دے گی جہاں اُس کے چیتھڑے اُڑجائیں گے ۔[59] {۳۱} یہ ہے اصل معاملہ ( اِسے سمجھ لو )، اور جو اللہ کے مقرر کردہ شعائر[60] کا احترام کرے تو یہ دِلوں کے تقویٰ سے ہے۔[61]{ ۳۲} تمہیں ایک وقت ِمقرر تک اُن ( ہَدْی کے جانوروں ) سے فائدہ اٹھانے کا حق ہے،[62] پھراُن ( کے قربان کرنے ) کی جگہ اسی قدیم گھر کے پاس ہے۔[63] {۳۳} ہراُمّت کے لیے ہم نے قربانی کا ایک قاعدہ مقرر کردیا ہے تا کہ ( اُس اُ مّت کے ) لوگ اُن جانوروں پر اللہ کا نام لیں جو اُس نے ان کو بخشے ہیں۔[64] ( اِن مختلف طریقوں کے اندر مقصد ایک ہی ہے ) پس تمہارا اِلٰہ ایک ہی اِلٰہ (معبود)ہے اور اُسی کے تم مطیع فرمان بنو۔ اور( اے نبی ؐ ) !بشارت دے دیجیے۔ عاجزانہ رَوِش اختیار کرنے والوں کو [65]{ ۳۴} جن کا حال یہ ہے کہ اللہ کا ذِکر سنتے ہیں تو اِن کے دل کانپ اٹھتے ہیں ، جو مصیبت بھی اُن پر آتی ہے اُس پر صبر کرتے ہیں، نماز قائم کرتے ہیں، اور جو کچھ رزق ہم نے اُن کو دیا ہے اُس میں سے خرچ کرتے ہیں۔ [66]{۳۵} اور( قربانی کے) اُونٹوں[67] کو ہم نے تمہارے لئے شعائر اللہ میں شامل کیا ہے ، تمہارے لئے اُن میں بھلائی [67]ہے، پس انہیں کھڑا کرکے[68] ان پر اللہ کا نام لو،[70] اور جب (قربانی کے بعد) اُن کی پیٹھیں زمین پرٹِک جائیں [71]تو اُن میں سے خود بھی کھا ؤ اور اُن کو بھی کھلا ؤ جو قناعت کئے بیٹھے ہیں ، اور اُن کو بھی جو اپنی حاجت پیش کریں۔ اِن جانوروں کو ہم نے اِس طرح تمہارے لئے مسخر کیا ہے تا کہ تم شکریہ ادا کرو۔[72]{۳۶} نہ اُن کے گوشت اللہ کو پہنچتے ہیں نہ خون ، مگر اُسے تمہارا تقویٰ پہنچتا ہے ۔ [73]اُس نے ان کو تمہارے لئے اِس طرح مسخر کیا ہے تا کہ اُس کی بخشی ہوئی ہدایت پر تم اُس کی تکبیر کرو۔[74] اور (اے نبی ؐ !)بشارت دے دیجیے نیکوکارلوگوں کو {۳۷} یقینا [75]اللہ مدافعت کرتا ہے اُن لوگوں کی طرف سے جو ایمان لائے [76]ہیں۔ یقینا اللہ کسی خائن، کا فر نعمت کو پسند نہیں کرتا ۔[77]{۳۸} اجازت دے دی گئی اُن لوگوں کو جن کے خلاف جنگ کی جارہی ہے ۔ کیونکہ وہ مظلوم ہیں،[78] اور اللہ یقینا ان کی مدد پر قادر ہے۔ [79]{۳۹} یہ وہ لوگ ہیں جو اپنے گھروں سے ناحق نکال دیے گئے[80] صرف اس قصور پر کہ وہ کہتے تھے ’’ ہمارا رَبّ اللہ ہے۔ ‘‘[81] اگر اللہ لوگوں کو ایک دوسرے کے ذریعہ دفع نہ کرتا رہے تو خانقا ہیں اور گرجا اور معبد [82]اور مسجدیں ، جن میں اللہ کا کثرت سے نام لیا جاتا ہے ، سب مسمار کر ڈالی جائیں۔[83] اللہ ضروراُن لوگوں کی مدد کرے گا جو اس کی مدد کریں گے[84] ۱للہ بڑا طاقتور اور زبردست ہے ۔{۴۰} یہ وہ لوگ ہیں جنہیں اگر ہم زمین میں اقتدار بخشیں تو وہ نماز قائم کریں گے ، زکوٰۃ دیں گے، نیکی کا حکم دیں گے اور برائی سے منع کریں [85]گے اور تمام معاملات کا انجام کار اللہ کے ہاتھ میں ہے۔[86]{۴۱} (اے نبی ؐ!) اگروہ ( یعنی کفار) تمہیں [87]جُھٹلاتے ہیں تو اُن سے پہلے قومِ نوحؑ اور عاد، اور ثمود جُھٹلاچکے ہیں {۴۲} اورقوم ابراہیم ؑ اور قوم لوطؑ {۴۳} اور اہلِ مدین بھی جُھٹلاچکے ہیں اور موسیٰ ؑ بھی جھٹلائے جاچکے ہیں۔ اِن سب منکرِین حق کو میں نے پہلے مہلت دی پھر پکڑلیا۔ [88]اب دیکھ لو کہ میری عقوبت کیسی[89] تھی۔ {۴۴} کتنی ہی خطا کاربستیاں ہیں جن کو ہم نے تباہ کیا ہے اور آج وہ اپنی چھتوں پر اُلٹی پڑی ہیں ، کتنے ہی کنوئیں[90] بیکار اور کتنے ہی قصر کھنڈربنے ہوئے ہیں۔ {۴۵} کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ ان کے دل سمجھنے والے یا اِن کے کان سُننے والے ہوتے ؟ حقیقت یہ ہے کہ آنکھیں اندھی نہیں ہوتیں مگر وہ دل اندھے ہوجاتے ہیں جو سینوں میں ہیں۔[91]{۴۶} یہ لوگ عذاب کے لیے جلدی مچار ہے ہیں۔[92] اللہ ہرگز اپنے وعدے کے خلاف نہ کرے گا،مگر تیرے رَبّ کے ہاں کا ایک دن تمہارے شمار کے ہزار برس کے برابر ہوا کرتا [93]ہے۔ {۴۷} کتنی ہی بستیاں ہیں جو ظالم تھیں ، میں نے ان کو پہلے مہلت دی ، پھر پکڑلیا، اور سب کو واپس تو میرے ہی پاس آنا ہے۔ {۴۸} اے نبی ؐ ! کہہ دو کہ ’’لوگو! میں تو تمہارے لے صرف وہ شخص ہوں جو (بُرا وقت آنے سے پہلے) صاف صاف خبردار کر دینے والا ہوں‘‘۔[94]{۴۹} پھر جو ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے ان کے لیے مغفرت ہے۔اورعزت کی روزی۔[95] {۵۰} اور جو ہماری آیات کو نیچا دکھانے کی کوشش کرے گا وہ دوزخ کے یار ہیں۔{۵۱} اور( اے نبی ؐ!) تم سے پہلے نہ کوئی رسُول ایسا بھیجا ہے نہ نبی[96] (جس کے ساتھ یہ معاملہ نہ پیش آیا ہو کہ)جب اُس نے تمنّا کی ، شیطان اس کی تمنّا[97] میں خلل انداز ہوگیا۔ اس طرح جو کچھ بھی شیطان خلل اندازیاں[98] کرتا ہے، اللہ ان کو مٹا دیتا ہے او راپنی آیات کو پختہ کر دیتا ہے[99] اور اللہ علیم ہے اور حکیم ۔[100]{ ۵۲} (وہ اس لیے ایسا ہونے دیتا ہے) تاکہ شیطان کی ڈالی ہوئی خرابی کو فتنہ بنادے اُن لوگو ں کے لیے جن کے دلوں کو (نفاق کا روگ ) لگا ہوا ہے اور جن کے دل کھوٹے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کے یہ ظالم لوگ عناد میں بہت دُور نکل گئے ہیں۔ {۵۳} اور علم سے بہرہ مند لوگ جان لیں کہ یہ حق ہے تیرے رَبّ کی طر ف سے اور وہ اس پر ایمان لے آئیں اور ان کے دل اس کے آگے جُھک جائیں، یقینا اللہ ایمان لانے والوں کو ہمیشہ سیدھا راستہ دکھادیتا ہے۔[101] {۵۴} انکار کرنے والے تو اس کی طرف سے شک ہی میں پڑے رہیں گے یہاں تک کہ یا تو اُن پر قیامت کی گھڑی اچانک آجائے، یا ایک منحوس [102]دن کا عذاب نازل ہو جائے۔ {۵۵} اُس روز بادشاہی اللہ کی ہوگی، اور وہ ان کے درمیان فیصلہ کردے گا۔ جو ایمان رکھنے والے اورعمل صالح کرنے والے ہوں گے وہ نعمت بھری جنتوں میں جائیں گے۔{۵۶} اور جنہوں نے کفر کیا ہوگا اور ہماری آیات کو جُھٹلایاہوگا اُن کے لیے رسواکن عذاب ہوگا۔{۵۷} اور جن لوگوں نے اللہ کی راہ میں ہجرت کی ، پھر قتل کردیئے گئے یا مر گئے، اللہ ان کو اچّھارزق دیگا۔ اور یقینا صرف اللہ ہی بہترین رازق ہے۔{۵۸} وہ انہیں ا یسی جگہ پہنچائے گا جس سے وہ خوش ہوجائیں گے۔ بیشک اللہ علیم اور حلیم ہے۔[103]{۵۹} یہ تو ہے اُن کاحال اور انجام ، اور جو کوئی بدلہ لے، ویساہی جیسا اُس کے ساتھ کیا گیا ، اور پھر اس پر زیادتی بھی کی گئی ہو، تو اللہ اس کی مدد ضرور کرے گا۔[104] اللہ معاف کرنے والا اور در گزر کرنے والا ہے۔ [105]{۶۰} یہ [106]اس لیے کہ رات سے دن اور دن سے رات نکالنے والا اللہ ہی [107]ہے اور وہ سمیع و بصیر [108]ہے۔{۶۱} یہ اس لیے کہ اللہ ہی حق ہے اور وہ سب باطل ہیں جنھیں اللہ کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں[109] اور اللہ ہی بالادست اور بزرگ ہے۔{ ۶۲} کیا تم دیکھتے نہیں ہوکہ اللہ آسمان سے پانی برساتا ہے اور اس کی بدولت زمین سر سبز ہوجاتی ہے؟[110] حقیقت یہ ہے کہ وہ لطیف و خبیر ہے ۔[111] {۶۳} اُسی کا ہے جو کچھ آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے، بے شک وہی غنی و حمید ہے۔[112]{۶۴} کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اُس نے وہ سب کچھ تمہارے لیے مسخرکر رکھا ہے،جو زمین میں ہے ،اور اُسی نے کشتی کو قاعدے کا پابند بنایا ہے کہ وہ اس کے حکم سے سمندر میں چلتی ہے،اور وہی آسمان کو اِس طرح تھامے ہوئے ہے کہ اس کے اِذن کے بغیر وہ زمین پر نہیں گرسکتا ؟[113] واقعہ یہ ہے کہ اللہ لوگوں کے حق میں بڑا شفیق اور رحیم ہے۔ {۶۵} وہی ہے جس نے تمہیں زندگی بخشی ہے ، وہی تم کو موت دیتا ہے اور وہی پھر تم کو زندہ کرے گا۔ سچ یہ ہے کہ انسان بڑا ہی منکر حق ہے۔[114]{۶۶} ہراُ مّت[115] کے لیے ہم نے ایک طریقِ عبادت [116]مقرر کیا ہے جس کی وہ پَیروی کرتی ہے ، پس (اے نبی ؐ) وہ اس معاملہ میں تم سے جھگڑانہ کریں [117]تم اپنے رَبّ کی طرف دعوت دو یقینا تم سیدھے راستے پر ہو۔[118] {۶۷} اور اگروہ تم سے جھگڑیں تو کہہ دو کہ ’’ جو کچھ تم کررہے ہو اللہ کو خوب معلوم ہے{۶۸} اللہ قیامت کے روز تمہارے درمیان ان سب باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں تُم اختلاف کرتے رہے ہو۔‘‘{۶۹} کیا تم نہیں جانتے کہ آسمان و زمین کی ہر چیز اللہ کے علم میں ہے ؟ سب کچھ ایک کتاب میں درج ہے ۔ اللہ کے لیے یہ کچھ بھی مشکل نہیں ہے۔[119]{۷۰} یہ لوگ اللہ کو چھوڑ کر اُن کی عبادت کررہے ہیں جن کے لیے نہ تو اُس نے کوئی سندنازل کی اور نہ یہ خود اُن کے بارے میں کوئی علم رکھتے ہیں ۔[120] اِن ظالموں کے لیے کوئی مددگار نہیں ہے۔[121]{۷۱} اور جب اِن کو ہماری صاف صاف آیات سُنائی جاتی ہیں تو تم دیکھتے ہو کہ منکرِین حق کے چہرے بگڑنے لگتے ہیں اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ابھی وہ اُن لوگوں پر ٹوٹ پڑیں گے جو انہیں ہماری آیات سُناتے ہیں ۔ان سے کہو ’’میں بتا ؤں تمہیں کہ اس سے بدتر چیز کیا ہے ؟[122] آگ، اللہ نے اُسی کا وعدہ اُن لوگوں کے حق میں کررکھا ہے جو قبولِ حق سے انکار کریں ، اور وہ بہت ہی بُراٹھکانا ہے ۔‘‘{۷۲} لوگو! ایک مثال دی جاتی ہے ، غور سے سنو ۔ جن معبُودوں کو تم اللہ کو چھوڑ کر پکارتے ہو وہ سب مل کر ایک مکھی بھی پیدا کرنا چاہیں تو نہیں کرسکتے ، بلکہ اگر مکھی اُن سے کوئی چیز چھین لے جائے تو وہ اُسے چھڑا بھی نہیں سکتے۔ مدد چاہنے والے بھی کمزور اور جن سے مدد چاہی جاتی ہے وہ بھی کمزور[123]۔ { ۷۳} ان لوگوں نے اللہ کی قدرہی نہ پہچانی جیسا کہ اس کے پہنچاننے کا حق ہے ۔ واقعہ یہ ہے کہ قوت اور عزّت والا تو اللہ ہی ہے۔{۷۴} حقیقت یہ ہے کہ اللہ ( اپنے فرامین کی ترسیل کے لیے ) ملائکہ میں سے بھی پیغام رساں منتخب کرتا ہے اور انسانوں میں سے بھی ۔ [124]وہ سمیع اور بصیر ہے {۷۵} جو کچھ لوگوں کے سامنے ہے اُسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُن سے اُوجھل ہے اس سے بھی وہ واقف [125]ہے ، اور سارے معاملات ، اُسی کی طرف رجوع ہوتے ہیں۔[126]{۷۶} اے لوگو جو ایمان لائے ہو! رکوع اور سجدہ کرو، اپنے رَبّ کی بندگی کرو ، اور نیک کام کرو ، اِسی سے توقع کی جاسکتی ہے کہ تم کو فلاح نصیب ہو۔[127]{۷۷} اللہ کی راہ میں جہاد کرو جیسا کہ جہاد کرنے کا حق [128]ہے ۔ اُس نے تمہیں اپنے کام کے لیے چُن لیا ہے[129] اور دین میں تم پر کوئی تنگی نہیں رکھی۔[130] قائم ہوجا ؤ اپنے باپ ابراہیم ؑ کی مِلّت،[131] پر اللہ نے پہلے بھی تمہارا نام ’’مسلم‘‘ رکھا تھا اور اس ( قرآن ) میں بھی (تمہارا یہی نام [132]ہے) تاکہ رسُول ؐ تم پر گواہ ہو اور تُم لوگوں پر گواہ۔[133] پس نماز قائم کرو ، زکوٰۃ دو ، اور اللہ سے وابستہ ہوجا ؤ۔[134] وہ ہے تمہارا مولیٰ ، بہت ہی اچھا ہے وہ مولیٰ اور بہت ہی اچھا ہے وہ مددگار۔ {۷۸}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)