سورۃالانبیآء   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 21 : 1-112 / 112قریب آگیا ہے لوگوں کے حساب کا وقت[1] ، اور وہ ہیں کہ غفلت میں منھ موڑے ہوئے ہیں۔[2]{۱} اوراُن کے پاس جوتازہ نصیحت بھی ان کے رَبّ کی طرف سے آتی [3]ہے اُس کو بہ تکلف سُنتے ہیں اور کھیل میں پڑے رہتے ہیں،[4]{ ۲} دل ان کے ( دُوسری ہی فکروں میں ) منہمک ہیںاور ظالم آپس میں سرگوشیاں کرتے ہیں کہ’’یہ شخص آخر تم جیسا ایک بشر ہی تو ہے، پھر کیا تم آنکھوں دیکھتے جادُو کے پھندے میں پھنس جا ؤ گے؟‘‘[5] {۳} رسول انے کہا میرا رَبّ ہراُس بات کو جانتا ہے جو آسمان اور زمین میں کی جائے ، وہ سمیع اور علیم ہے [6]{۴} وہ کہتے ہیں ’’ بلکہ یہ پراگندہ خواب ہیں ،بلکہ یہ اِس کی من گھڑت ہے ،بلکہ یہ شخص شاعر ہے ۔[7] ورنہ یہ لائے کوئی نشانی جس طرح پُرانے زمانے کے رسُول نشانیوں کے ساتھ بھیجے گئے تھے ‘‘{۵} حالانکہ ان سے پہلے کوئی بستی بھی ، جسے ہم نے ہلاک کیا ، ایمان نہ لائی ۔ اب کیا یہ ایمان لائیں گے ؟[8]{۶} اور( اے نبی ؐ!) تم سے پہلے بھی ہم نے انسانوں ہی کو رسُول بناکر بھیجا تھا جن پر ہم وحی کیا کرتے تھے[9] تم لوگ اگر علم نہیں رکھتے تو اہل کتاب سے پُوچھ لو[10]{۷} اُن رسولوں کو ہم نے کوئی ایسا جسم نہیں دیا تھا کہ وہ کھاتے نہ ہوں، اور نہ وہ سدا جینے والے تھے۔ {۸} پھر دیکھ لو کہ آخر کار ہم نے ان کے ساتھ اپنے وعدے پورے کئے، اور اُنہیں اور جس جس کو ہم نے چاہا بچالیا، اور حد سے گزر جانے والوں کو ہلاک کردیا۔[11]{۹} لوگو! ہم نے تمہاری طرف ایک ایسی کتاب بھیجی ہے جس میں تمہارا ہی ذکر ہے ، کیا تم سمجھتے نہیں ہو؟[12] {۱۰} کتنی ہی ظالم بستیاں ہیں جن کو ہم نے پیس کررکھ دیا اور ان کے بعد دُوسری کسی قوم کو اٹھایا۔{۱۱} جب اُن کو ہمارا عذاب محسوس ہوا [13]تو لگے وہاں سے بھاگنے۔{ ۱۲} ( کہا گیا) ’’ بھاگو نہیں ، جا ؤ اپنے اُنہی گھروں اور عیش کے سامانوں میں جن کے اندر تم چین کررہے تھے ، شاید کہ تم سے پُوچھا جائے‘‘۔[14] {۱۳} کہنے لگے ’’ ہائے ہماری کم بختی ، بے شک ہم خطاوار تھے ‘‘ ۔{۱۴} اور وہ یہی پکارتے رہے، یہاں تک کہ ہم نے ان کو کھلیان کردیا ، زندگی کا ایک شرارہ تک ان میں نہ رہا۔{۱۵} ہم نے اس آسمان اور زمین کو اور جو کچھ ان میں ہے کچھ کھیل کے طور پر نہیں بنایا ہے۔[15]{۱۶} اگر ہم کوئی کھلونا بنانا چاہتے اور بَس یہی کچھ ہمیں کرنا ہوتا تو اپنے ہی پاس سے کرلیتے۔ [16]{۱۷} مگر ہم تو باطل پر حق کی چوٹ لگاتے ہیں جو اس کا سرتوڑ دیتی ہے اور وہ دیکھتے دیکھتے مِٹ جاتا ہے اور تمہارے لئے تباہی ہے اُن باتوں کی وجہ سے جو تم بناتے ہو۔[17]{۱۸} زمین اور آسمانوں میں جو مخلوق بھی ہے اللہ کی ہے۔[18] اور جو (فرشتے) اُس کے پاس ہیں[19] وہ نہ اپنے آپ کو بڑا سمجھ کراُس کی بندگی سے سرتابی کرتے ہیں اور نہ مَلُول ہوتے ہیں۔[20] {۱۹} شب وروز اس کی تسبیح کرتے رہتے ہیں ، دَم نہیں لیتے ۔{۲۰} کیا ان لوگوں کے بنائے ہوئے ارضی اِلٰہ ایسے ہیں کہ ( بے جان کو جان بخش کر) اُٹھا کھڑا کرتے ہوں ؟ [21]{۲۱} اگر آسمان و زمین میں ایک اللہ کے سوا دُوسرے اِلٰہ بھی ہوتے تو ( زمین اور آسمان ) دونوں کا نظام بگڑ جاتا ۔[22] پس پاک ہے اللہ رَبّ العرش[23] اُن باتوں سے جو یہ لوگ بنارہے ہیں۔ {۲۲} وہ اپنے کاموں کے لیے (کسی کے آگے ) جواب دِہ نہیں ہے اور سب جواب دِہ ہیں۔{۲۳} کیا اُسے چھوڑ کر اِنہوں نے دُوسرے اِلٰہ بنالئے ہیں؟( اے نبی ؐ!) اِن سے کہو کہ ’’ لا ؤ اپنی دلیل ، یہ کتاب بھی موجود ہے جس میں میرے دَور کے لوگوں کے لیے نصیحت ہے اور وہ کتابیں بھی موجود ہیں جن میں مجھ سے پہلے لوگوں کے لیے نصیحت تھی۔‘‘[24]مگر ان میں سے اکثر لوگ حقیقت سے بے خبر ہیں۔ اس لیے منھ موڑے ہوئے ہیں۔[25]{۲۴} ہم نے تم سے پہلے جو رسول بھی بھیجا ہے اُس کو یہی وحی کی ہے کہ میرے سوا کوئی اِلٰہ نہیں ہے ، پس تم لوگ میری ہی بندگی کرو۔{۲۵} یہ کہتے ہیں ’’ رحمان اولاد رکھتا ہے ۔ ‘‘[26] سبحان اللہ ، وہ ( یعنی فرشتے ) تو بندے ہیں جنہیں عزّت دی گئی ہے۔{۲۶} اُس کے حضور بڑھ کر نہیں بولتے اور بس اُس کے حکم پر عمل کرتے ہیں{۲۷} جو کچھ اُن کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اُن سے اُوجھل ہے اس سے بھی وہ باخبر ہے۔ وہ کسی کی سفارش نہیں کرتے بجز اس کے جس کے حق میں سفارش سننے پر اللہ راضی ہو ، اور وہ اس کے خوف سے ڈرے رہتے ہیں ۔[27]{۲۸} اور جو ان میں سے کوئی کہہ دے کہ اللہ کے سوا میں بھی ایک اِلٰہ ہوں ، تو اُسے ہم جہنم کی سزادیں ،ہمارے ہاں ظالموں کا یہی بدلہ ہے۔ {۲۹} کیا وہ لوگ جنہوں نے ( نبی ؐ کی بات ماننے سے ) انکار کردیا ہے غور نہیں کرتے کہ یہ سب آسمان اور زمین باہم ملے ہوئے تھے ، پھر ہم نے انہیں جُدا کیا ،[28] اور پانی سے ہر زندہ چیز[29] پیدا کی ؟ کیا وہ ( ہماری اس خلاّقی کو ) نہیں مانتے ؟{۳۰} اور ہم نے زمین میں پہاڑ جمادیے تا کہ وہ اِنہیں لے کر ڈُھلک نہ [30]جائے ، اوراُس میں کشادہ راہیں بنادیں ،[31] شاید کہ لوگ اپنا راستہ معلوم کرلیں۔[32]{۳۱} اور ہم نے آسمان کو ایک محفوظ چھت بنادیا [33]، مگر یہ ہیں کہ کائنات کی نشانیوں کی طرف[34] توجہ ہی نہیں کرتے ۔{ ۳۲} اور وہ اللہ ہی ہے جس نے رات اور دن بنائے اور سُورج اور چاند کو پیدا کیا، سب ایک ایک فَلک میں تیررہے ہیں۔[35] {۳۳} اور[36] ( اے نبی ؐ !) ہمیشگی تو ہم نے تم سے پہلے بھی کسی انسان کے لیے نہیں رکھی ہے۔ اگر تم مرگئے تو کیا یہ لوگ ہمیشہ جیتے رہیں گے ؟{۳۴} ہر جاندار کو موت کا مزہ چکھنا ہے[37] ، اور ہم اچھے اور بُرے حالات میں ڈال کر تم سب کی آزمائش کررہے ہیں ۔[38] آخر کار تمہیں ہماری ہی طرف پلٹنا ہے۔{۳۵} منکرین حق جب تمہیں دیکھتے ہیں تو تمہارا مذاق بنالیتے ہیں ۔کہتے ہیں ’’ کیا یہ ہے وہ شخص جو تمہارے معبودوں کاذکر کیا کرتا ہے ؟‘‘ [39]اور اِن کا اپنا حال یہ ہے کہ رحمان کے ذکر سے منکر ہیں۔[40]{۳۶} انسان جلد باز مخلوق [41]ہے۔ ابھی میں تم کو اپنی نشانیاں دکھائے دیتا ہوں، مجھ سے جلدی نہ مچا ؤ [42]{۳۷} یہ لوگ کہتے ہیں’’ آخر یہ دھمکی پُوری کب ہوگی اگر تُم سچّے ہو؟‘‘ {۳۸} کاش ان کافروں کو اُس وقت کا کچھ علم ہوتا جب کہ یہ نہ اپنے منھ آگ سے بچاسکیں گے نہ اپنی پیٹھیں ، اور نہ اِن کو کہیں سے مدد پہنچے گی۔ {۳۹} وہ بَلا اچانک آئے گی اور انہیں اس طرح یک لخت دبوچ لے گی کہ یہ نہ اس کو دفع کرسکیں گے اور نہ ان کو لمحہ بھر مہلت ہی مل سکے گی۔{۴۰} مذاق تُم سے پہلے بھی رسُولوں کا اُڑایا جاچکا ہے ، مگر اُن کا مذاق اُڑانے والے اُسی چیز کے پھیر میں آکر رہے جس کا وہ مذاق اُڑاتے تھے۔{۴۱} (اے نبی ؐ! )اِن سے کہو :’’ کون ہے جو رات کو یا دن کو تمہیں رحمان سے بچا سکتا [43]ہو؟‘‘ مگر یہ اپنے رَبّ کی نصیحت سے منھ موڑرہے ہیں ۔{ ۴۲} کیا یہ کچھ ایسے اِلٰہ رکھتے ہیں جو ہمارے مقابلے میں ان کی حمایت کریں ؟ وہ تو نہ خود اپنی مدد کرسکتے ہیں اور نہ ہماری ہی تائید اُن کو حاصل ہے۔{ ۴۳} اصل بات یہ ہے کہ اِن لوگوں کو اور اِن کے آباؤ اجداد کو ہم زندگی کا سروسامان دیے چلے گئے یہاں تک کہ ان کو دن لگ گئے۔[44] مگر کیااِنہیں نظر نہیں آتا کہ ہم زمین کو مختلف سمتوں سے گھٹاتے چلے آرہے ہیں؟ [45] پھر کیا یہ غالب آجائیں گے؟ [46]{۴۴} ان سے کہہ دو کہ ’’ میں تو وحی کی بناپر تمہیں متنبہ کررہا ہوں‘‘ مگر بہرے پُکار کو نہیں سُنا کرتے جب کہ انہیں خبردار کیا جائے ۔{۴۵} اور اگر تیرے رَبّ کا عذاب ذراسا انہیں چُھو [47]جائے تو ابھی چیخ اٹھیں کہ ہائے ہماری کم بختی بے شک ہم خطا وار تھے۔{۴۶} قیامت کے روز ہم ٹھیک ٹھیک تولنے والے ترازو ر کھ دیں گے ، پھر کسی شخص پر ذرّہ برابر ظلم نہ ہوگا۔ جس کا رائی کے دانے برابر بھی کچھ کیا دھرا ہوگا وہ ہم سامنے لے آئیں گے اور حساب لگانے کے لیے ہم کافی ہیں۔ [48]{۴۷} پہلے [49]ہم موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو فرقان اور روشنی اور ’’ ذِکر ‘‘[50] عطا کرچکے ہیں اُن متقی لوگوں کی بھلائی کے لیے[51] {۴۸} جو بے دیکھے اپنے رَبّ سے ڈریں اور جن کو ( حساب کی) اُس گھڑی[52] کا کھٹکا لگا ہوا ہو،{۴۹} اور اب یہ بابرکت ’’ ذِکر ‘‘ ہم نے (تمہارے لیے ) نازل کیا ہے ۔ پھر کیا تم اس کو قبول کرنے سے انکاری ہو ؟{۵۰} اُس سے بھی پہلے ہم نے ابراہیم ؑ کو اُس کی ہوشمندی بخشی تھی اور ہم اُس کو خوب [53]جانتے تھے۔{۵۱} یاد کرو وہ موقع [54]جبکہ ٰاُس نے اپنے باپ اور اپنی قوم سے کہا تھا کہ ’’یہ مُورتیں کیسی ہیں جن کے تم لوگ گرویدہ ہورہے ہو ‘‘؟{۵۲} انہوں نے جواب دیا ’’ ہم نے اپنے باپ دادا کو اُن کی عبادت کرتے پایا ہے ‘‘{۵۳} اس نے کہا ’’ تم بھی گمراہ ہو اور تمہارے باپ دادا بھی صریح گمراہی میں پڑے ہوئے تھے۔‘‘ {۵۴} انہوں نے کہا ’’کیا تو ہمارے سامنے اپنے اصلی خیالات پیش کررہا ہے یا مذاق کرتا ہے ‘‘؟[55] {۵۵} اُس نے جواب دیا ’’نہیں ، بلکہ فی الواقع تمہارا رَبّ وہی ہے جو زمین اور آسمانوں کا رَبّ اور اُن کا پیدا کرنے والا ہے ۔ اس پر میں تمہارے سامنے گواہی دیتا ہوں۔{۵۶} اور اللہ کی قسم میں تمہاری غیر موجودگی میں ضرور تمہارے بتوں کی خبرلوں گا۔‘‘[56]{۵۷} چنانچہ اُس نے اُن کو ٹکڑے ٹکڑے کردیا [57]اور صرف اُن کے بڑے کو چھوڑدیا تا کہ شاید وہ اُس کی طرف رجوع کریں۔[58]{۵۸} ( اُنہوں نے آکر بتُوں کا یہ حال دیکھا تو ) کہنے لگے ’’ ہمارے اِلہٰوں (معبودوں)کا یہ حال کس نے کردیا ؟ بڑا ہی کوئی ظالم تھا وہ ‘‘۔{۵۹} ( بعض لوگ ) بولے ’’ ہم نے ایک نوجوان کو ان کا ذکر کرتے سُنا تھا جس کا نام ابراہیم ؑ ہے ‘‘{۶۰} اُنہوں نے کہا ’’تو پکڑلا ؤ اسے سب کے سامنے تا کہ لوگ دیکھ لیں (اُس کی کیسی خبرلی جاتی ہے) ‘‘۔[59]{۶۱} (ابرا ہیمؑ کے آنے پر ) اُنہوں نے پوچھا ’’ کیوں ابراہیمؑ! تو نے ہمارے معبووں( یعنی مورتیوں) کے ساتھ یہ حرکت کی ہے ؟‘‘{۶۲} اُس نے جواب دیا ’’ بلکہ یہ سب کچھ اِن کے اس سردار نے کیا ہے ، اِن ہی سے پُوچھ لو ، اگر یہ بولتے ہوں‘‘[60] {۶۳} یہ سُن کر وہ اپنے ضمیر کی طرف پلٹے اور ( اپنے دِلوں میں ) کہنے لگے ’’ واقعی تم خود ہی ظالم ہو ‘‘۔{۶۴} مگر پھر ان کی مَت پلٹ گئی[61] اور بولے ’’ تو جانتا ہے کہ یہ بولتے نہیں ہیں ‘‘۔{۶۵} ابراہیم ؑ نے کہا ’’ پھر کیا تم اللہ کو چھوڑ کر ان چیزوں کو پُوج(معبود بنا) رہے ہو جو نہ تمہیں نفع پہنچانے پرقادر ہیں نہ نقصان ۔{۶۶} تُف ہے تم پر اور تمہارے اِن معبودوں پر جن کی تم اللہ کو چھوڑ کرپوجا کررہے ہو۔ کیا تم کچھ بھی عقل نہیں رکھتے ؟‘‘ {۶۷} اُنہو ں نے کہا ’’ جلاڈالو اس کو اور حمایت کرو اپنے معبودوں (بتوں اور مورتیوں)کی ،اگر تمہیں کچھ کرنا ہے۔ ‘‘{۶۸} ہم نے کہا ’’اے آگ ! ٹھنڈی ہوجا اور سلامتی بن جا ابراہیم ؑ پر ‘‘۔[62]{۶۹} وہ چاہتے تھے کہ ابراہیم ؑ کے ساتھ بُرائی کریں۔ مگر ہم نے ان کو بُری طرح ناکام کردیا۔{۷۰} اور ہم اُسے اور لوط ؑ [63]کو بچا کر اُس سرزمین کی طرف نکال لے گئے جس میں ہم نے دنیا والوں کے لیے برکتیں رکھی ہیں۔[64]{۷۱} اور ہم نے اُسے اسحاق ؑعطا کیا اور یعقوبؑ اس پر مز ید، [65]اورہم نے ہر ایک کو صالح بنایا۔{ ۷۲} اور ہم نے اُن کو امام بنادیا جو ہمارے حکم سے رہنمائی کرتے تھے ۔ اور ہم نے انہیں وحی کے ذریعے نیک کاموں کی اور نماز قائم کرنے اور زکوٰۃ دینے کی ہدایت کی اور وہ ہمارے عبادت گزار تھے[66]{۷۳} اور لوط ؑکو ہم نے حُکم اور علم بخشا[67] اور اُسے اُس بستی سے بچاکر نکال دیا جو بدکاریاں کرتی تھی۔ درحقیقت وہ بڑی ہی بُری فاسق قوم تھی۔{ ۷۴} اور لُوط ؑ کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا ، وہ صالح لوگوں میں سے تھا۔{۷۵} اور یہی نعمت ہم نے نوح ؑ کو دی۔ یاد کر وجبکہ اِن سب سے پہلے اُس نے ہمیں پُکارا[68] تھا ۔ ہم نے اس کی دُعاقبول کی اور اسے اور اس کے گھروالوں کو کربِ عظیم [69]سے نجات دی،{۷۶} اور اُس قوم کے مقابلے میں اُس کی مدد کی جس نے ہماری آیات کو جُھٹلادیا تھا۔ وہ بڑے بُرے لوگ تھے، پس ہم نے اُن سب کو غرق کردیا۔{۷۷} اور اِسی نعمت سے ہم نے دا ؤ د ؑ و سلیمانؑ کو سرفراز کیا۔ یادکرو وہ موقع جبکہ وہ دونوں ایک کھیت کے مقدمے میں فیصلہ کررہے تھے جس میں رات کے وقت دُوسرے لوگوں کی بکریاں پھیل گئی تھیں ،اور ہم اُن کی عدالت خود دیکھ رہے تھے۔{۷۸} اُس وقت ہم نے صحیح فیصلہ سلیمانؑ کو سمجھادیا، حالانکہ حکم اورعلم ہم نے دونوں ہی کو عطا کیا تھا۔[70] دا ؤد ؑ کے ساتھ ہم نے پہاڑوں اور پرندوں کو مسخرکر دیا تھا جو تسبیح کرتے تھے، [71]اِس فعل کے کرنے والے ہم ہی تھے۔ {۷۹} او رہم نے اُس کو تمہارے فائدے کے لیے زِرہ بنانے کی صنعت سکھادی تھی ، تاکہ تم کو ایک دُوسرے کی مارسے بچائے[72] ، پھر کیا تم شکر گزار ہو ؟[73]{۸۰} اور سلیمانؑ کے لیے ہم نے تیز ہوا کو مسخر کردیا تھاجو اُس کے حکم سے اُس سرزمین کی طرف چلتی تھی جس میں ہم نے برکتیں رکھی ہیں ،[74] ہم ہر چیز کا علم رکھنے والے تھے۔{۸۱} اور شیاطین میں سے ہم نے ایسے بہت سوں کو اُس کا تابع بنا دیا تھا جو اس کے لیے غوطے لگاتے اور اس کے سوا دوسرے کام کرتے تھے۔ ان سب کے نگراں ہم ہی[75] تھے۔ { ۸۲} اور یہی ( ہو شمندی اور حُکم و علم کی نعمت) ہم نے ایوب ؑ [76]کو دی تھی، یا دکرو جب اُس نے اپنے رَبّ کو پُکارا کہ ’’ مجھے بیماری لگ گئی ہے اور تو ارحم الراحمین ہے‘‘[77] {۸۳} ہم نے اُس کی دُعاقبول کی اور جو تکلیف اُسے تھی اس کودُور کردیا،[78] اور صرف اُس کے اہل وعیال ہی اس کو نہیں دیے ، بلکہ ان کے ساتھ اتنے ہی اور بھی دیے، اپنی خاص رحمت کے طور پر ، اور اس لیے کہ یہ ایک سبق ہو عبادت گزاروں کے لیے[79]{۸۴} اور یہی نعمت اسماعیل ؑ اور ادریس ؑ [80]اور ذوالکفل ؑ [81]کو دی کہ یہ سب صابر لوگ تھے۔{۸۵} اور ان کو ہم نے اپنی رحمت میں داخل کیا کہ وہ صالحوں میں سے تھے۔{۸۶} اور مچھلی والے کو بھی ہم نے نوازا [82]۔ یاد کرو جب کہ وہ بگڑ کر چلاگیا تھا[83]۔ اور سمجھاتھا کہ ہم اس پر گرفت نہ کریں گے۔[84] آخر کو اُس نے تاریکیوں میں سے پُکارا[85] ’’ نہیں ہے کوئی اِلٰہ (مشکل کشا)مگر تو ، پاک ہے تیری ذات ، بے شک میں نے قصور کیا‘‘۔{۸۷} تب ہم نے اُس کی دُعاقبول کی اور غم سے اُس کو نجات بخشی ، اور اِسی طرح ہم مومنوں کو بچالیا کرتے ہیں۔{۸۸} اور زکریاؑ کو ،جب کہ اس نے اپنے رَبّ کو پُکارا کہ ’’ اے پروردگار! مجھے اکیلانہ چھوڑ ، اور بہترین وارث تو، تُوہی ہے۔ ‘‘{۸۹} پس ہم نے اُس کی دُعا قبول کی اور اسے یحییٰ ؑ عطا کیا اور اس کی بیوی کو اس کے لیے درست[86] کردیا۔ یہ لوگ نیکی کے کاموں میں دوڑ دھوپ کرتے تھے اور ہمیں رغبت اور خوف کے ساتھ پکارتے تھے ، او رہمارے آگے جھکے ہوئے تھے۔[87]{ ۹۰} اور وہ خاتون جس نے اپنی عصمت کی حفاظت کی تھی۔[88] ہم نے اُس کے اندر اپنی رُوح سے پُھونکا[89] اوراُسے اور اُس کے بیٹے کو دنیا بھر کے لیے نشانی بنادیا[90]{۹۱} یہ تمہاری اُمّت حقیقت میں ایک ہی اُ مّت ہے اور میں تمہارا رَبّ ہوں، پس تم میری عبادت کرو۔{۹۲} مگر ( یہ لوگوں کی کارستانی ہے کہ ) انہوں نے آپس میں اپنے دین کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا۔[91]سب کو ہماری طرف پلٹنا ہے۔ { ۹۳} پھر جو نیک عمل کرے گا، اس حال میں کہ وہ مومن ہو ، تو اس کے کام کی ناقدری نہ ہوگی، اوراُسے ہم لکھ رہے ہیں۔{۹۴} اور ممکن نہیں ہے کہ جس بستی کو ہم نے ہلاک کردیا ہو وہ پھر پلٹ سکے۔ [92]{۹۵} یہاں تک کہ جب یا جُوج وماجُوج کھول دیے جائیں گے اور ہر بلندی سے وہ نکل پڑیں گے{۹۶} اور وعدۂ برحق کے پورا ہونے کا وقت قریب آلگے گا[93] تو یکایک اُن لوگوں کے دیدے پھٹے کے پھٹے رہ جائیں گے جنہو ں نے کفر کیا تھا۔ کہیں گے ’’ہائے ہماری کم بختی ، ہم اِس چیز کی طرف سے غفلت میں پڑے ہوئے تھے،بلکہ ہم خطا کار تھے‘‘۔[94]{۹۷} بے شک تم اور تمہارے وہ معبود جنہیں تم اللہ کو چھوڑ کر پوجتے ہو، جہنّم کا ایندھن ہیں ، وہیں تم کو جانا ہے ۔[95] {۹۸} اگریہ واقعی اِلٰہ ہوتے تو وہاں نہ جاتے ۔ اب سب کو ہمیشہ اسی میں رہنا ہے۔{۹۹} وہاں وہ پھُنکارے ماریں [96]گے اور حال یہ ہوگا کہ اس میں کا ن پڑی آوازنہ سنائی دے گی۔{۱۰۰} رہے وہ لوگ جن کے لیے ہماری طرف سے بَھلائی کا پہلے ہی فیصلہ ہوچکا ہوگا، تو وہ یقینا اس سے دُور رکھے جائیں گے۔[97]{۱۰۱} اُس کی سرسر اہٹ تک نہ سنیں گے اور وہ ہمیشہ ہمیشہ اپنی من بھاتی چیزو ں کے درمیان رہیں گے۔ { ۱۰۲} وہ انتہائی گھبراہٹ کا وقت اُن کو ذراپریشان نہ کرے[98] گا اور ملائکہ بڑھ کر ان کو ہاتھوں ہاتھ لیں گے کہ ’’یہ تمہارا وہی دن ہے جس کا تم سے وعدہ کیا جاتا تھا‘‘۔{۱۰۳} وہ دن جب کہ آسمان کو ہم یو ں لپیٹ کررکھ دیں گے جیسے طُومار میں اَوراق لپیٹ دیے جاتے ہیں ۔ جس طرح پہلے ہم نے تخلیق کی ابتدا کی تھی اُسی طرح ہم پھر اُس کا اعادہ کریں گے۔ یہ ایک وعدہ ہے ہمارے ذمّے، اور یہ کام ہمیں بہرحال کرنا ہے{۱۰۴} اور زَبُور میں ہم نصیحت کے بعد یہ لکھ چکے ہیں کہ زمین کے وارث ہمارے نیک بندے ہوں گے۔ {۱۰۵} اس میں ایک بڑی خبر ہے عبادت گزار لوگوں کے لیے۔ [99]{۱۰۶} (اے نبی ؐ!)ہم نے تو تم کو دنیا والوں کے لیے رحمت[100]بناکر بھیجا ہے{۱۰۷} ان سے کہو ’’ میرے پاس جو وحی آتی ہے وہ یہ ہے کہ تمہارا اِلٰہ (معبود ِ حقیقی )تو بس صرف ایک اللہ ہے ، پھر کیا تم سراطاعت جُھکا تے ہو؟‘‘ {۱۰۸} اگر وہ منھ پھیریں تو کہہ دو کہ ’’ میں نے علی الاعلان تم کو خبردار کردیا ہے۔ اب یہ میں نہیں جانتا کہ وہ چیز جس کا تم سے وعدہ کیا جارہا ہے [101]قریب ہے یادُور۔{۱۰۹} اللہ وہ باتیں بھی جانتا ہے جو بآواز بلند کہی جاتی ہیں اور وہ بھی جو تُم چُھپا کرکرتے ہو ۔[102]{۱۱۰} میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ شایدیہ (دیر ) تمہارے لئے ایک فتنہ ہے[103] اور تمہیں ایک وقتِ خاص تک کے لیے مزے کرنے کا موقع دیا جارہا ہے ‘‘۔{۱۱۱} ( آخر کار) رسول ؐنے کہا کہ ’’ اے میرے رَبّ!حق کے ساتھ فیصلہ کردے، اور لوگو، تم جو باتیں بناتے ہواُن کے مقابلے میں ہمارا ربّ ِ رحمان ہی ہمارے لئے مدد کا سہارا ہے‘‘۔{۱۱۲}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)