سورۃ طٰہٰ   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 20 : 1-135 / 135 طٰہٰ {۱} ہم نے یہ قرآن تم پر اس لیے نازل نہیں کیا ہے کہ تم مصیبت میں پڑجا ؤ۔{۲} یہ تو ایک یاددہانی ہے ہر اُس شخص کے لیے جوڈرے۔[1] {۳} نازل کیا گیا ہے اُس ذات کی طرف سے جس نے پیدا کیا ہے زمین کو اور بلند آسمانوں کو ۔{ ۴} وہ رحمان ( کائنات کے ) تختِ سلطنت پر جلوہ فرماہے۔[2]{۵} مالک ہے ان سب چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین میں ہیں اور جو زمین و آسمان کے درمیان ہیں اور جو مٹی کے نیچے ہیں۔{۶} تم چاہے اپنی بات پکار کر کہو ، وہ توچپکے سے کہی ہوئی بات بلکہ اُس سے مخفی تربات بھی جانتا ہے۔[3]{۷} وہ اللہ ہے اس کے سوا کوئی اللہ نہیں ، اس کے لیے بہترین نام ہیں۔[4]{۸} اور تمہیں کچھ موسیٰ ؑکی خبر بھی پہنچی ہے ؟ {۹} جب کہ اس نے ایک آگ دیکھی[5] اور اپنے گھروالوں سے کہا کہ ’’ ذرا ٹھہرو، میں نے ایک آگ دیکھی ہے ۔ شاید کہ تمہارے لئے ایک آدھ انگارالے آ ؤں ، یا اس آگ پر مجھے (راستے کے متعلق ) کوئی رہنمائی مل جائے۔‘‘[6] {۱۰} وہاں پہنچا تو پکاراگیا:’’ اے موسیٰ ؑ! {۱۱} میں ہی تیرا رَبّ ہوں ، جوتیاں اُتاردے،[7] تو وادیٔ مقدس طُویٰ [8]میں ہے {۱۲} اور میں نے تجھ کو چُن لیا ہے ، سُن جوکچھ وحی کیا جاتا ہے۔{ ۱۳} میں ہی اللہ ہوں ، میرے سوا کوئی اِلٰہ نہیں ہے ،پس تو میری بندگی کر اور میری یاد کے لیے نماز قائم کر۔[9]{ ۱۴} قیامت کی گھڑی ضرور آنے والی ہے میں اُس کاوقت مخفی رکھنا چاہتا ہوں ، تا کہ ہر متنفس اپنی سعی کے مطابق بدلہ پائے۔[10]{۱۵} پس کوئی ایسا شخص جو اس پر ایمان نہیں لاتا اور اپنی خواہش ِ نفس کا بندہ بن گیا ہے تجھ کو اُس گھڑی کی فکر سے نہ روک دے ، ورنہ تو ہلاکت میں پڑجائے گا۔{۱۶} اور اے موسیٰؑ! یہ تیرے ہاتھ میں کیا ہے ‘‘ ؟[11]{۱۷} موسیٰ ؑنے جواب دیا’’ یہ میری لاٹھی ہے، اس پر ٹیک لگاکر چلتاہوں ، اس سے اپنی بکریوں کے لیے پتے جھاڑتا ہوں ، اور بھی بہت سے کام ہیں جو اس سے لیتا ہوں ‘‘۔[12]{۱۸} فرمایا’’ پھینک دے اس کو اے موسیٰ ؑ !‘‘{۱۹} اس نے پھینک دیا اور یکایک وہ ایک سانپ تھی جو دوڑرہاتھا۔ {۲۰} فرمایا ’’پکڑلے اس کو اور ڈرنہیں، ہم اسے پھر ویسا ہی کردیں گے جیسی یہ تھی۔{۲۱} اور ذرا اپنا ہاتھ اپنی بغل میں دبا، چمکتا ہوا نکلے گا بغیر کسی تکلیف[13] کے۔ یہ دُوسری نشانی ہے۔ {۲۲} اس لیے کہ ہم تجھے اپنی بڑی نشانیاںدکھانے والے ہیں۔{ ۲۳} اب تو فرعون کے پاس جا،وہ سرکش ہوگیاہے۔ ‘‘ {۲۴} موسیٰ ؑنے عرض کیا’’ پروردگار !میرا سینہ کھول دے[14] {۲۵} اور میرے کام کو میرے لئے آسان کردے {۲۶} اور میری زبان کی گرہ سلجھادے {۲۷} تا کہ لوگ میری بات سمجھ سکیں[15]{۲۸} اور میرے لئے میرے اپنے کُنبے سے ایک وزِیر مقرر کردے۔{۲۹} ہارونؑ ، جو میرا بھائی ہے ۔[16] {۳۰} اُس کے ذریعے سے میرا ہاتھ مضبوط کر{۳۱} اور اس کو میرے کام میں شریک کردے { ۳۲} تا کہ ہم خوب تیری پاکی بیان کریں {۳۳} اور خوب تیرا چرچا کریں ۔{۳۴} تو ہمیشہ ہمارے حال پر نگراں رہا ہے‘‘ ۔{۳۵} فرمایا: ’’دیا گیا جو تونے مانگا اے موسیٰ ؑ! {۳۶} ہم نے پھر ایک مرتبہ تجھ پر احسان کیا۔[17]{۳۷} یاد کروہ وقت جبکہ ہم نے تیری ماں کو اشارہ کیا، ایسا اشارہ جو وحی کے ذریعے سے ہی کیا جاتا ہے۔ {۳۸} کہ اس بچے کو صندوق میں رکھ دے اور صندوق کو دریا میں چھوڑ دے ۔ دریا اُسے ساحل پر پھینک دے گا اور اسے میرا دشمن اور اس بچے کا دشمن اُٹھالیگا۔ میں نے اپنی طرف سے تجھ پر محبت طارِی کردی اور ایسا انتظام کیا کہ تو میری نگرانی میں پالا جائے۔{۳۹} یاد کر جبکہ تیری بہن چل رہی تھی ، پھر جاکر کہتی ہے ۔ ’’میں تمہیں اُس کا پتہ دُوں جو اس بچّے کی پرورش اچھی طرح کرے‘‘ ؟ اِس طرح ہم نے تجھے پھر تیری ماں کے پاس پہنچا دیا تا کہ اُس کی آنکھ ٹھنڈی رہے اور وہ رنجیدہ نہ ہو۔ اور ( یہ بھی یاد کر کہ ) تونے ایک شخص کو قتل کردیا تھا ، ہم نے تجھے اس پھندے سے نکالا اور تجھے مختلف آزمائشوں سے گزار ا اور تومَدْین کے لوگوں میں کئی سال ٹھہرارہا۔ پھر اب ٹھیک اپنے وقت پر تو آگیاہے اے موسیٰ ؑ!{۴۰} میں نے تجھ کو اپنے کام کا بنالیا ہے۔{۴۱} جا، تو اور تیرا بھائی میری نشانیوں کے ساتھ۔ اور دیکھو ، تم میری یاد میں تقصیر نہ کرنا۔{۴۲} جا ؤ تم دونوں فرعون کے پاس کہ وہ سرکش ہوگیا ہے۔{ ۴۳} اس سے نرمی کے ساتھ بات کرنا ، شاید کہ وہ نصیحت قبول کرے یاڈرجائے‘‘۔[18]{۴۴} دونوں نے عرض کیا ’’پروردگار !ہمیں اندیشہ ہے کہ وہ ہم پر زیادتی کرے گا یا پِل پڑے گا ‘‘{۴۵} فرمایا ’’ ڈرومت ، میں تمہارے ساتھ ہوں ، سب کچھ سُن رہاہوں اور دیکھ رہا ہوں۔ {۴۶} جا ؤ اس کے پاس اور کہو کہ ہم تیرے رَبّ کے فرستادے ہیں، بنی اسرائیل کو ہمارے ساتھ جانے کے لیے چھوڑدے اور ان کو تکلیف نہ دے ہم تیرے پاس تیرے رَبّ کی نشانی لے کرآئے ہیں اور سلامتی ہے اُس کے لیے جو راہ ِراست کی پیروی کرے۔ {۴۷} ہم کووحی سے بتایا گیا ہے کہ عذاب ہے اُس کے لیے جو جُھٹلائے اورمنھ موڑے ‘‘[19]{۴۸} فرعون [20]نے کہا ’’اچھا ، تو پھر تم دونوں کا رَبّ کون ہے اے موسیٰ ؑ؟‘‘[21]{۴۹} موسیٰؑ نے جواب دیا ،’’ ہمارا رَبّ وہ [22]ہے جس نے ہر چیز کو اس کی ساخت بخشی ، پھر اس کو راستہ بتایا‘‘۔[23] {۵۰} فرعون بولااور پہلے جو نسلیں گزر چکی ہیں ان کی پھر کیا حالت تھی ؟‘‘[24]{۵۱} موسیٰ ؑ نے کہا’’ اُس کا علم میرے رَبّ کے پاس ایک نوشتے میں محفوظ ہے میرا رَبّ نہ چوکتا ہے نہ بھولتا ہے‘‘[25] {۵۲} وہی [26]جس نے تمہارے لئے زمین کا فرش بچھایا، اوراُس میں تمہاے چلنے کو راستے بنائے، اور اوپر سے پانی برسایا، پھر اس کے ذریعے سے مختلف اقسام کی پیداوار نکالی، {۵۳} کھا ؤ اور اپنے جانوروں کو بھی چرا ؤ ۔ یقینا اِس میں بہت سی نشانیاں ہیں عقل رکھنے والوں کے لیے۔[27] {۵۴} اِسی زمین سے ہم نے تم کو پیدا کیا ہے ، اسی میں ہم تمہیں واپس لے جائیں گے اور اسی سے تم کو دوبار ہ نکالیں گے۔[28]{۵۵} ہم نے فرعون کو اپنی سب ہی نشانیاں دکھائیں [29]مگر وہ جھٹلائے چلاگیا اور نہ مانا {۵۶} کہنے لگا ’’ اے موسیٰؑ !کیا تو ہمارے پاس اس لیے آیا ہے کہ اپنے جادو کے زور سے ہم کو ہمارے ملک سے نکال باہر کرے ؟ [30]{۵۷} اچھا ، ہم بھی تیرے مقابلے میں ویسا ہی جادو لاتے ہیں۔ طے کرلے کب اور کہاں مقابلہ کرنا ہے۔ نہ ہم اس قرار داد سے پھریں گیااور نہ تو پھریو۔ ( وعدہ خلافی نہ کرنا )اور مقابلہ کے لیے کھلے میدان میں سامنے آجا‘‘۔ {۵۸} موسیٰ ؑنے کہا ’’جشن کا دن طے ہوا، اور دن چڑھے لوگ جمع ہوں‘‘۔[31] {۵۹} فرعون نے پلٹ کر اپنے سارے ہتھکنڈے جمع کئے اور مقابلے میں آگیا۔[32]{۶۰} موسیٰ ؑنے ( عین موقع پر گِروہ مقابل کو مخاطب کرکے) کہا[33] ’’شامت کے مارو، نہ جھوٹی تہمتیں باندھو [34]اللہ پر، ورنہ وہ ایک سخت عذاب سے تمہارا ستیاناس کردے گا۔ جھوٹ جس نے بھی گھڑا وہ نامراد ہوا ‘‘۔{۶۱} یہ سُن کراُن کے درمیان اختلاف رائے ہوگیا اور وہ چپکے چپکے باہم مشورہ کرنے لگے۔[35] {۶۲} آخر کار کچھ لوگوں نے کہا کہ[36] ’’ یہ دونوں تو محض جادوگر ہیں۔ ان کا مقصد یہ ہے کہ اپنے جادو کے زور سے تم کو تمہاری زمین سے بے دخل کردیں اور تمہارے مثالی طریق زندگی کا خاتمہ کردیں۔[37]{۶۳} اپنی ساری تدبیریںآج اکٹھی کر لو اور متحد ہوکر میدان میں[38] آ ؤ۔ بس یہ سمجھ لو کہ آج جو غالب رہا وہی جیت گیا‘‘۔{۶۴} جادوگر[39] بولے ’’موسیٰ ؑ! تم پھینکتے ہو یا پہلے ہم پھینکیں ؟‘‘ {۶۵} موسیٰ ؑ نے کہا ’’ نہیں تم ہی پھینکو‘‘۔یکایک اُن کی رسیّاں اور اُن کی لاٹھیاں اُن کے جادُو کے زور سے موسیٰ ؑ کو دوڑتی ہوئی محسوس ہونے لگیں،[40]{ ۶۶} اور موسیٰ ؑ اپنے دل میں ڈرگیا۔ [41]{۶۷} ہم نے کہا ’’مت ڈر ، تُو ہی غالب رہے گا۔ {۶۸} پھینک جو کچھ تیرے ہاتھ میں ہے ، ابھی اِن کی ساری بناوٹی چیزوں کو نگلے جاتا ہے۔ [42]یہ جو کچھ بناکر لائے ہیں یہ تو جادُو گر کا فریب ہے ، اور جادُو گر کبھی کامیاب نہیں ہوسکتا ، خواہ کسی شان سے وہ آئے ‘‘۔ {۶۹} آخر کو یہی ہُوا کہ سارے جادُو گر سجدے میں گِرادیے گئے ، اور پُکار اُٹھے[43] ’’مان لیا ہم نے ہارون ؑ اور موسیٰ ؑ کے رَبّ[44] کو ‘‘۔ {۷۰} فرعون نے کہا ’’ تم اِس پر ایمان لے آئے قبل اِس کے کہ میں تمہیں اِس کی اجازت دیتا ؟ معلوم ہوگیا کہ یہ تمہارا گُرو ہے جس نے تمہیں جادُوگری سکھائی [45]تھی۔ اچھا، اب میں تمہارے ہاتھ پا ؤں مخالف سمتوں سے کٹواتا [46]ہوں اور کھجور کے تنوں پر تم کو سُولی دیتا ہوں [47]پھر تمہیں پتہ چل جائے گا کہ ہم دونوں میں سے کس کا عذاب زیادہ سخت اور دیرپا ہے ‘‘۔[48] (یعنی میں تمہیں زیادہ سخت سزادے سکتا ہوں یا موسیٰ ؑ ) {۷۱} جادوگروں نے جواب دیا ’’قسم ہے اُس ذات کی جس نے ہمیں پیدا کیا ہے ، یہ ہرگز نہیں ہوسکتا کہ ہم روشن نشانیاں سامنے آجانے کے بعد بھی ( صداقت پر ) تجھے ترجیح دیں[49] ۔ تو جو کچھ کرنا چاہے کرلے۔ تُو زیادہ سے زیادہ بس اِسی دنیا کی زندگی کا فیصلہ کرسکتا ہے۔{ ۷۲} ہم تُو اپنے رَبّ پر ایمان لے آئے تا کہ وہ ہماری خطائیں معاف کردے اور اُس جادُوگری سے ، جس پر تُونے ہمیں مجبور کیا تھا درگزر فرمائے ۔ اللہ ہی اچھا ہے اور وہی باقی رہنے والا ہے ‘‘۔{۷۳} حقیقت[50] یہ ہے کہ جو مُجرم بن کر اپنے رَبّ کے حضور حاضِر ہوگا، اُس کے لیے جہنم ہے جس میں وہ نہ جیے گانہ مرے[51] گا۔{۷۴} جو اُس کے حضور مومن کی حیثیت سے حاضر ہوگا جس نے نیک عمل کئے ہوں گے ، ایسے سب لوگوں کے لیے بلند درجے ہیں{۷۵} سدابہار باغ ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی ، ان میں وہ ہمیشہ رہیں گے ۔یہ جزا ہے اُس شخص کی جو پاکیزگی اختیار کرے۔ {۷۶} ہم [52]نے موسیٰ ؑپر وحی کی کہ اب راتوں رات میرے بندوں کو لے کر چل پڑ، اور ان کے لیے سمندر میں سے سوکھی سڑک بنالے [53]، تجھے کسی کے تعاقب کا ذرا خوف نہ ہو اور نہ (سمندر کے بیچ سے گزرتے ہوئے) ڈرلگے۔{۷۷} پیچھے سے فرعون اپنے لشکر لے کر پہنچا ، اور پھر سمندر اُن پرچھا گیا جیسا کہ چھاجانے کا حق تھا۔[54] {۷۸} فرعون نے اپنی قوم کو گمراہ ہی کیا تھا، کوئی صحیح رہنمائی نہیں کی تھی۔[55]{۷۹} اے بنی اسرائیل[56] ، ہم نے تم کو تمہارے دشمن سے نجات دی ، اور طُور کے دائیں جانب [57]تمہاری حاضری کے لیے وقت مقرر [58]کیا اور تم پر منّ وسلویٰ اتارا۔[60]{۸۰} کھا ؤ ہمارا دیا ہوا پاک رزق اور اسے کھا کر سرکشی نہ کر و، ورنہ تم پر میرا غضب ٹوٹ پڑے گا۔ اور جس پر میرا غضب ٹوٹا وہ پھرگر کرہی رہا۔{۸۱} البتہ جو توبہ کرلے اور ایمان لائے اور نیک عمل کرے ، پھر سیدھاچلتا رہے اُس کے لیے میں بہت درگزر کرنے والا ہوں۔[60]{ ۸۲} اور [61]کیا چیز تمہیں اپنی قوم سے پہلے لے آئی موسیٰ ؟ ؑ [62]{۸۳} اُس نے عرض کیا’’ وہ بس میرے پیچھے آہی رہے ہیں۔ میں جلدی کرکے تیرے حضور آگیا ہوں ، اے میرے رَبّ ! تا کہ تو مجھ سے خوش ہوجائے‘‘۔ {۸۴} فرمایا’’ اچھا ، تو سنو ہم نے تمہارے پیچھے تمہاری قوم کو آزمائش میں ڈال دیا اور سامری [63]نے انہیں گمراہ کرڈالا‘‘۔ {۸۵} موسیٰ ؑسخت غصے اور رنج کی حالت میں اپنی قوم کی طرف پلٹا۔ جاکر اُس نے کہا ’’اے میری قوم کے لوگو!کیا تمہارے رَبّ نے تم سے اچھے وعدے نہیں کئے [64]تھے؟ کیا تمہیں دن لگ گئے ہیں ؟ یا تم اپنے رَبّ کا غضب ہی اپنے اوپر لانا چاہتے تھے کہ تم نے مجھ سے وعدہ خلافی کی ؟‘‘ [65]{۸۶} انہو ں نے جواب دیا ’’ ہم نے آپ سے وعدہ خلافی کچھ اپنے اختیار سے نہیں کی ، معاملہ یہ ہوا کہ لوگوں کے زیورات کے بوجھ سے ہم لدگئے تھے اور ہم نے بس اُن کو پھینک [67]دیا تھا‘‘ ۔پھر [68] اِسی طرح سامری نے بھی کچھ ڈالا {۸۷} اور ان کے لیے ایک بچھڑے کی مُورت بناکر نکال لایا جس میں سے بیل کی سی آواز نکلتی تھی۔ لوگ پکاراٹھے ، ’’یہی ہے تمہارا اِلٰہ اور موسیٰ ؑ کا اِلٰہ ،موسیٰؑ اُسے بُھول گیا‘‘۔{۸۸} کیا وہ دیکھتے نہ تھے کہ نہ وہ اُن کی بات کا جواب دیتا ہے اور نہ ان کے نفع ونقصان کا کچھ اختیار رکھتا ہے ؟{۸۹} ہارون ؑ ( موسیٰ ؑ کے آنے سے) پہلے ہی اُن سے کہہ چکا تھا کہ ’’لوگو! تم اس کی وجہ سے فتنے میں پڑگئے ہو، تمہارا رَبّ تو رحمن ہے ، پس تم میری پیروی کرو اور میری بات مانو ‘‘۔ {۹۰} مگر اُنہوں نے اس سے کہہ دیا کہ ’’ہم تو اِسی کی پرستش کرتے رہیں گے جب تک کہ موسیٰ ؑ ہمارے پاس واپس نہ آجائے ‘‘۔[69]{۹۱} موسیٰ ؑ(قوم کو ڈانٹنے کے بعد ہارون ؑ کی طرف پلٹا اور) بولا ’’ ہارونؑ! تم نے جب دیکھا تھا کہ یہ گمراہ ہورہے ہیں تو کس چیز نے تمہارا ہاتھ پکڑا تھا {۹۲} کہ میرے طریقے پر عمل نہ کرو ؟ کیا تم نے میرے حکم کی خلاف ورزی کی ‘‘؟[70]{۹۳} ہارون ؑ نے جواب دیا ’’ اے میری ماں کے بیٹے ! میری داڑھی نہ پکڑ، نہ میرے سرکے بال کھینچ [71]، مجھے اس بات کا ڈرتھا کہ تو آکر کہے گا تم نے بنی اسرائیل میں پُھوٹ ڈال دی اور میری بات کا پاس نہ کیا‘‘۔[72] {۹۴} موسیٰ ؑنے کہا ’’ اور سامری ! تیرا کیا معاملہ ہے ‘‘؟ {۹۵} اس نے جواب دیا ’’ میں نے وہ چیز دیکھی جو اِن لوگوں کو نظر نہ آئی ، پس میں نے رسول کے نقش قدم سے ایک مٹھی اُٹھالی اور اُس کو ڈال دیا ۔میرے نفس نے مجھے کچھ ایسا ہی سُجھایا‘‘۔ [73]{۹۶} موسیٰ ؑ نے کہا’’ اچھاتُو جا، اب زندگی بھر تجھے یہی پکارتے رہنا ہے کہ مجھے نہ چُھونا[74]۔ اور تیرے لئے باز پُرس کا ایک وقت مقرر ہے جو تجھ سے ہر گز نہ ٹلے گا ۔اور دیکھ اپنے اِس اِلٰہ کو جس پر تور یجھا ہوا تھا ، اب ہم اِسے جلاڈالیں گے اور ریزہ ریزہ کرکے دریا میں بہادیں گے۔{۹۷} لوگو!تمہارا اِلٰہ توبس ایک ہی اللہ ہے جس کے سوا کوئی اور اِلٰہ نہیں ہے،ہر چیز پر اُسی کا علم حاوی ہے ‘‘ ۔{۹۸} ( اے نبی ؐ! [75]) اس طرح ہم پچھلے گزرے ہوئے حالات کی خبریں تم کو سناتے ہیں ، اور ہم نے خاص اپنے ہاں سے تم کو ایک ’’ ذِکر ‘‘ (درس نصیحت ) عطا کیا ہے۔[76]{۹۹} جو کوئی اس سے منھ موڑے گاوہ قیامت کے روز سخت بارِگناہ اُٹھائے گا{۱۰۰} اور ایسے سب لوگ ہمیشہ اس کے وبال میں گرفتاررہیں گے اور قیامت کے دن اُن کے لیے ( اس جرم کی ذمہ داری کا بوجھ )بڑا تکلیف دہ بوجھ ہوگا[77]{۱۰۱} اُس دن جبکہ صورپھونکا جائے گا [78]اور ہم مجرموں کو اس حال میں گھیرلائیں گے کہ ان کی آنکھیں (دہشت کے مارے ) پتھرائی ہوئی ہوں گی[79] {۱۰۲} آپس میں چُپکے چُپکے کہیں گے کہ ’’ دنیا میں مشکل ہی سے تم نے کوئی دس دن گزارے ہوں گے‘‘۔[80]{۱۰۳} ہمیں [81]خوب معلوم ہے کہ وہ کیا باتیں کررہے ہوں گے(ہم یہ بھی جانتے ہیں کہ ) اُس وقت ان میں سے جو زیادہ سے زیادہ محتاط اندازہ لگانے والا ہوگا وہ کہے گا کہ نہیں ، تمہاری دنیا کی زندگی بس ایک دن کی زندگی تھی۔{ ۱۰۴} یہ لوگ [82]تم سے پوچھتے ہیں کہ آخر اُس دن یہ پہاڑ کہا ں چلے جائیں گے؟ کہو کہ میرا رَبّ اُن کو دھول بناکر اُڑادے گا{۱۰۵} اور زمین کو ایسا ہموار چٹیل میدان بنادے گا {۱۰۶} کہ اِس میں تم کوئی بَلْ اور َسلْوٹ نہ دیکھو گے۔[83]{۱۰۷} اُس روز سب لوگ منادی کی پکار پرسیدھے چلے آئیں گے، کوئی ذرا اکڑ نہ دکھاسکے گا۔ اور آوازیں رحمان کے آگے دب جائینگی، ایک سرسراہٹ [84]کے سوا تم کچھ نہ سُنوگے {۱۰۸} اُس روز شفاعت کارگرنہ ہوگی ، الا ّیہ کہ کسی کو رحمان اسکی اجازت دے اور اسکی بات سننا پسند کرے۔[85]{۱۰۹} وہ لوگوں کا اگلا پچھلا سب حال جانتا ہے اور دُوسروں کو اس کا پورا علم نہیں ہے۔[86]{۱۱۰} لوگوں کے سراُس حیّ وقیْوم کے آگے جُھک جائیں گے۔نامراد ہوگا جو اُس وقت کسی ظلم کا بارِگناہ اٹھائے ہوئے ہو۔{۱۱۱} اور کسی ظلم یا حق تلفی کا خطرہ نہ ہوگا اُس شخص کو جو نیک عمل کرے اور اس کے ساتھ وہ مومن بھی ہو۔[87]{ ۱۱۲} اور( اے نبی ؐ!) اِسی طرح ہم نے اسے قرآن عربی بناکر نازل کیا [88]ہےاور اس میں طرح طرح سے تنبیہات کی ہیں شاید کہ یہ لوگ کج روی سے بچیں یا ان میں کچھ ہوش کے آثار اِس کی بدولت پیدا ہوں ۔[89]{ ۱۱۳} پس بالا وبرتر ہے اللہ ، پادشاہ حقیقی[90]۔ اور دیکھو ، قرآن پڑھنے میں جلدی نہ کیا کرو جب تک کہ تمہاری طرف اُس کی وحی تکمیل کو نہ پہنچ جائے ، اور دعا کرو کہ اے پروردگار! مجھے مزید علم عطاکر [91]{۱۱۴} ہم [92]نے اس سے پہلے آدم ؑکو ایک حکم دیا تھا[93] ،مگر وہ بھول گیا اور ہم نے اس میں عز م نہ پایا۔ [94]{۱۱۵} یاد کرو وہ وقت جبکہ ہم نے فرشتوں سے کہا تھا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو۔وہ سب تو سجدہ کرگئے ، مگر ایک ابلیس تھا کہ انکار کربیٹھا۔{۱۱۶} اس پر ہم نے آدمؑ [95]سے کہا کہ ’’دیکھو ، یہ تمہارا اور تمہاری بیوی کا دشمن [96]ہے ، ایسا نہ ہو کہ یہ تمہیں جنّت سے نکلو ادے[97] اور تم مصیبت میں پڑجا ؤ۔{۱۱۷} یہاں تو تمہیں یہ آسائشیں حاصل ہیں کہ نہ تم بُھوکے وننگے رہتے ہو{۱۱۸} نہ پیاس اور دھوپ تمہیں ستاتی ہے ‘‘۔[98]{۱۱۹} لیکن شیطان نے اس کو پُھسلایا ۔[99] کہنے لگا’’ آدمؑ بتا ؤں تمہیں وہ درخت جس سے ابدی زندگی اور لازوال سلطنت حاصل ہوتی ہے‘‘؟[100]{۱۲۰} آخر کا ردونوں (میاں بیوی) اُس درخت کا پھل کھا گئے۔ نتیجہ یہ ہوا کہ فوراً ہی اُن کے سترایک دوسرے کے آگے کھل گئے اور لگے دونوں اپنے آپ کو جنّت کے پتوں سے ڈھانکنے ۔[101] آدم ؑ نے اپنے رَبّ کی نافرمانی کی اور راہ راست سے بھٹک گیا۔[102]{۱۲۱} پھر اُس کے رَبّ نے اُسے برگزیدہ کیا[103] اور اس کی توبہ قبول کرلی اور اسے ہدایت بخشی ۔[104]{۱۲۲} اور فرمایا’’ تم دونوں (فریق ، یعنی انسان اور شیطان ) یہاں سے اُتر جا ؤ۔ تم ایک دوسرے کے دشمن رہوگے۔ اب اگر میری طرف سے تمہیں کوئی ہدایت پہنچے تو جو کوئی میری اس ہدایت کی پیروی کرے گاوہ نہ بھٹکے گا نہ بد بختی میں مبتلا ہوگا۔{۱۲۳} اور جو میرے’’ ذِکر ‘‘(درس نصیحت) سے منھ موڑے گا اُس کے لیے دنیا میں تنگ زندگی ہوگی[105] اور قیامت کے روز ہم اُسے اندھا اٹھائیں گے‘‘[106] {۱۲۴} وہ کہے گا ، ’’پروردگار! دنیا میں تو میں آنکھوں والا تھا ، یہاں مجھے اندھا کیوں اٹھایا؟‘‘ {۱۲۵} اللہ تعالیٰ فرمائے گا ’’ ہاں اسی طرح تو ہماری آیات کو ، جبکہ وہ تیرے پاس آئی تھیں ، تُونے بھلادیا تھا۔ [107]اُسی طرح آج تُو بھُلایا جارہا ہے۔‘‘{۱۲۶} اسی طرح ہم حد سے گزرنے والے اوراپنے رَبّ کی آیات نہ ماننے والے کو ( دُنیا میں ) بدلہ دیتے ہیں،[108] اور آخرت کا عذاب زیادہ سخت اور زیادہ دیرپا ہے۔{۱۲۷} پھر کیا ان لوگوں کو[109] (تاریخ کے اِس سبق سے)کوئی ہدایت نہ ملی کہ ان سے پہلے کتنی ہی قوموں کو ہم ہلاک کرچکے ہیں جن کی (بربادشدہ ) بستیوں میں آج یہ چلتے پھرتے ہیں ؟ درحقیقت اس میں[110] بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سلیم رکھنے والے ہیں۔{۱۲۸} اگر تیرے رَبّ کی طرف سے پہلے ایک با ت طے نہ کردی گئی ہوتی اور مہلت کی ایک مدّت مقرر نہ کی جاچکی ہوتی تو ضروراِن کا بھی فیصلہ چُکا دیا جاتا۔ {۱۲۹} پس اے نبی ؐ!جو باتیں یہ لوگ بناتے ہیں اُن پر صبر کرو ، اور اپنے رَبّ کی حمد وثنا کے ساتھ اُس کی تسبیح کرو سورج نکلنے سے پہلے اور غروب ہونے سے پہلے ، اور رات کے اوقات میں بھی تسبیح کرواور دن کے کناروں پر بھی [111]، شاید کہ تم راضی ہوجا ؤ ۔[112]{۱۳۰} اور نگاہ اٹھاکر بھی نہ دیکھو دنیوی زندگی کی اُس شان و شوکت کو جو ہم نے اِن میں سے مختلف قسم کے لوگوں کودے رکھی ہے ۔ وہ تو ہم نے اُنہیں آزمائش میں ڈالنے کے لیے دی ہے ، اور تیرے رب کا دیا ہوا رزق حلال [113]ہی بہتر اور پائندہ تر ہے۔{۱۳۱} اپنے اہل وعیال کو نماز کی تلقین کرو[114] اور خود بھی اس کے پابند رہو۔ ہم تم سے کوئی رزق نہیں چاہتے۔ رزق تو ہم ہی تمہیں دے رہے ہیں اور انجام کی بھلائی تقویٰ ہی کے لیے ہے۔[115]{۱۳۲} وہ کہتے ہیں کہ یہ شخص اپنے رب کے طرف سے کوئی نشانی (معجزہ) کیوں نہیں لاتا ؟ اور کیا اُن کے پاس اگلے صحیفوں کی تمام تعلیمات کا بیان واضح نہیں آیا؟ [116]{۱۳۳} اگر ہم اُس کے آنے سے پہلے اِن کو کسی عذاب سے ہلاک کردیتے تو پھر یہی لوگ کہتے کہ اے ہمارے پروردگار !تونے ہمارے پاس کوئی رسول کیوں نہ بھیجا کہ ذلیل ورسوا ہونے سے پہلے ہی ہم تیری آیات کی پیروی اختیار کرلیتے ؟ {۱۳۴} (اے نبی ؐ!) ان سے کہو ، ہر ایک انجام کار کے انتظار میں[117] ہے، پس اب منتظر رہو ، عن قریب تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کون سیدھی راہ چلنے والے ہیں اور کون ہدایت یافتہ ہیں۔{۱۳۵}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)