سورۃ البقرۃ   -  2 : 75-141 / 286( اے مسلمانو! ) اب کیا اِن لوگوں سے تم یہ توقع رکھتے ہو کہ یہ تمہاری دعوت پر ایمان لے آئیں گے ؟ [86]حالانکہ اُن میں سے ایک گروہ کاشیوہ یہ رہا ہے کہ اللہ کا کلام سُنا اور پھر خوب سمجھ بوجھ کر دانستہ اس میں تحریف کی۔[87]{۷۵} (محمد رسول اللہ ؐ پر ) ایمان لانے والوں سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ ہم بھی اُنہیں مانتے ہیں ، اور جب آپس میں ایک دوسرے سے تخلیے کی بات چیت ہوتی ہے تو کہتے ہیں کہ بیوقوف ہوگئے ہو؟ اِن لوگوں کو وہ باتیں بتاتے ہو جو اللہ نے تم پر کھولی ہیں تاکہ تمہارے رَبّ کے پاس تمہارے مقابلے میں اُنہیں حجت میں پیش کریں؟[88]{۷۶} اور کیا یہ جانتے نہیں ہیں کہ جو کچھ یہ چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہرکرتے ہیں ، اللہ کو سب باتوں کی خبر ہے ؟ {۷۷} اِن میں ایک دوسرا گروہ اُمیّوں کا ہے، جو کتاب کا تو علم رکھتے نہیں ، بس اپنی بے بنیاد امیدوں اور آرزو ؤں کو لیے بیٹھے ہیں اور محض وہم وگمان پر چلے جارہے ہیں۔[89]{۷۸} پس ہلاکت اور تباہی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اپنے ہاتھوں سے شرع کا نوشتہ لکھتے ہیں پھر لوگوں سے کہتے ہیں کہ یہ اللہ کے پاس سے آیا ہوا ہے تا کہ اس کے معاوضے میں تھوڑا سافائدہ حاصل کرلیں۔[90] ان کے ہاتھوں کا یہ لکھا بھی ان کے لیے تباہی کا سامان ہے اور ان کی یہ کمائی بھی ان کے لیے موجب ہلاکت ہے ۔{۷۹} وہ کہتے ہیں کہ دوزخ کی آگ ہمیں ہر گز چھونے والی نہیں ا ِ لّایہ کہ چندروز کی سزامل جائے تومل جائے۔[91] ان سے پوچھو ، کیا تم نے اللہ سے کوئی عہدلے لیا ہے جس کی خلاف ورزی وہ نہیں کرسکتا ؟ یابات یہ ہے کہ تم اللہ کے ذمّے ڈال کر ایسی باتیں کہہ دیتے ہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ اس نے ان کا ذمّہ لیا ہے ؟{۸۰} آخر تمہیں دوزخ کی آگ کیوں نہ چھوئے گی ؟ جو بھی بدی کمائے گا اور اپنی خطا کاری کے چکّر میں پڑا رہے گا، وہ دوزخی ہے اور دوزخ ہی میں وہ ہمیشہ رہے گا ۔{۸۱} اور جو لوگ ایمان لائیں گے اور نیک عمل کریں گے وہی جنتی ہیں اور جنّت میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔ { ۸۲} یاد کرو ، اسرائیل کی اولاد سے ہم نے پختہ عہد لیا تھا کہ اللہ کے سوا کسی کی عبادت نہ کرنا ، ماں باپ کے ساتھ، رشتے داروں کے ساتھ ،یتیموں اور مسکینوں کے ساتھ نیک سلوک کرنا ، لوگوں سے بھلی بات کہنا، نماز قائم کرنا اور زکوٰۃ دینا ، مگر تھوڑے آدمیوں کے سواتم سب اس عہد سے پھر گئے اور اب تک پھرے ہوئے ہو۔{ ۸۳} پھر ذرا یاد کرو ، ہم نے تم سے مضبوط عہد لیا تھا کہ آپس میں ایک دوسرے کا خون نہ بہانا اور نہ ایک دوسرے کو گھر سے بے گھر کرنا ۔تم نے اِس کا اقرارکیا تھا، اورتم خود اس پر گواہ ہو۔{ ۸۴} مگر آج وہی تم ہو کہ اپنے بھائی بندوں(قرابت داروں ) کو قتل کرتے ہو ، اپنی برادری کے کچھ لوگوں کو بے خانماں کردیتے ہو ، ظلم وزیادتی کے ساتھ ان کے خلاف جتھے بندیاں کرتے ہو، اور جب وہ لڑائی میں پکڑے ہوئے تمہارے پاس آتے ہیں ، تو ان کی رہائی کے لیے فِدیہ کالین دین کرتے ہو،حالاں کہ انہیں اِن کے گھروں سے نکالنا ہی سِرے سے تم پر حرام تھا۔ تو کیا تم کتاب کے ایک حصہ پر ایمان لاتے ہو اور دوسرے حصے کے ساتھ کفر کرتے ہو؟ [92]پھرتم میں سے جو لوگ ایسا کریں ، اُن کی سزا اِس کے سوا اور کیا ہے کہ دنیا کی زندگی میں ذلیل وخوار ہوکر رہیں اور آخرت میں شدید ترین عذاب کی طرف پھیردیے جائیں ؟ اللہ اُن حرکات سے بے خبر نہیں ہے جو تم کررہے ہو۔{۸۵} یہ وہ لوگ ہیں ، جنہوں نے آخرت بیچ کر دنیا کی زندگی خریدلی ہے، لہٰذا نہ ان کی سزامیں کوئی تخفیف ہوگی اور نہ انہیں کوئی مدد پہنچ سکے گی۔{۸۶} ہم نے موسیٰؑ کو کتاب دی ، اس کے بعد پے درپے رسول بھیجے، آخر کارعیسیٰؑ ابن مریم کو روشن نشانیاں دے کر بھیجا اور روح پاک سے اس کی مدد [93]کی۔ پھر یہ تمہارا کیا ڈھنگ ہے کہ جب بھی کوئی رسول تمہاری خواہشاتِ نفس کے خلاف کوئی چیز لے کر تمہارے پاس آیا، تو تم نے اس کے مقابلے میں سرکشی ہی کی ، کسی کو جھٹلایا اور کسی کو قتل کر ڈالا !{۸۷} وہ کہتے ہیں، ہمارے دل محفوظ ہیں ۔[94] نہیں، اصل بات یہ ہے کہ ان کے کفر کی وجہ سے ان پر اللہ کی پھٹکار پڑی ہے ، اِس لیے وہ کم ہی ایمان لاتے ہیں۔{۸۸} اور اب جو ایک کتاب اللہ کی طرف سے اُن کے پاس آئی ہے اُس کے ساتھ اُن کا کیا برتا ؤ ہے ؟ باوجود یکہ وہ اُس کتاب کی تصدیق کرتی ہے جو اُن کے پاس پہلے سے موجود تھی، باوجود یکہ اس کی آمد سے پہلے وہ خود کفار کے مقابلے میں فتح ونصرت کی دُعائیں مانگاکر تے تھے، مگر جب وہ چیز آگئی، جسے وہ پہچان بھی گئے ، تو انہوں نے اسے ماننے سے انکار کردیا۔[95] لہٰذا اللہ کی لعنت اِن منکرین پر{۸۹} کیسا براذریعہ ہے جس سے یہ اپنے نفس کی تسلی حاصل کرتے [96]ہیں کہ جو ہدایت اللہ نے نازل کی ہے اس کو قبول کرنے سے صرف اِس ضد کی بنا پر انکار کررہے ہیں کہ اللہ نے اپنے فضل (وحی ورسالت ) سے اپنے جس بندے کو خود چاہا، نواز دیا[97] لہٰذا اب یہ غضب بالائے غضب کے مستحق ہوگئے ہیں اور ایسے کافروں کے لیے سخت ذلت آمیز سزا مقرر ہے۔{۹۰} جب اُن سے کہا جاتا ہے کہ جو کچھ اللہ نے نازل کیا ہے اُس پر ایمان لا ؤ ، تو وہ کہتے ہیں ’’ہم تو صرف اس چیزپر ایمان لاتے ہیں ، جو ہمارے ہاں ( یعنی بنی اسرائیل میں ) اُتری ہے‘‘ اُس دائر ے کے باہر جو کچھ آیا ہے ، اسے ماننے سے وہ انکار کرتے ہیں ، حالانکہ وہ حق ہے اور اُس تعلیم کی تصدیق وتائید کررہا ہے جو اُن کے ہاں پہلے سے موجود تھی۔ اچھا، اُن سے کہو : اگر تم اُس تعلیم ہی پر ایمان رکھنے والے ہو جو تمہار ے ہاں آئی تھی، تو اِس سے پہلے اللہ کے اُن پیغمبروں کو (جو خود بنی اسرائیل میں پیدا ہوئے تھے) کیوں قتل کرتے رہے؟ {۹۱} تمہارے پاس موسی ؑکیسی کیسی رُوشن نشانیوں کے ساتھ آیا۔ پھر بھی تم ایسے ظالم تھے کہ اس کے پیٹھ موڑتے ہی بچھڑے کو معبود بنا بیٹھے { ۹۲} پھرذرا اُس میثاق کو یاد کرو ، جو طُور کو تمہارے اُوپر اُٹھا کرہم نے تم سے لیا تھا ۔ ہم نے تاکید کی تھی کہ جو ہدایات ہم دے رہے ہیں ، اُن کی سختی کے ساتھ پابندی کرو اور کان لگا کر سنو۔ تمہارے اسلاف نے کہا کہ ہم نے سُن لیا ، مگر مانیں گے نہیں۔ اور ان کی باطل پرستی کا یہ حال تھا کہ دلوں میں اِن کے بچھڑا ہی بسا ہوا تھا۔ کہو! اگر تم مومن ہو ، تو یہ عجیب ایمان ہے جو ایسی بُری حرکات کا تمہیں حکم دیتا ہے۔{ ۹۳} اِن سے کہو کہ اگر واقعی اللہ کے نزدیک آخرت کا گھر تمام انسانوں کو چھوڑ کر صرف تمہارے ہی لیے مخصوص ہے ، تب تو تمہیں چاہئے کہ موت کی تمنا [98]کرو ، اگر تم اپنے اِس خیال میں سچے ہو۔ { ۹۴} یقین جانو کہ یہ کبھی اس کی تمنا نہ کریں گے ، اس لیے کہ اپنے ہاتھوں جو کچھ کماکر انہوں نے وہاں بھیجا ہے ، اس کا اقتضا یہی ہے ( کہ یہ وہاں جانے کی تمنا نہ کریں ) اللہ ان ظالموں کے حال سے خوب واقف ہے{۹۵} تم انہیں سب سے بڑھ کر جینے کا حریص [99]پا ؤ گے،حتّٰی کہ یہ اس معاملے میں مشرکوں سے بھی بڑھے ہوئے ہیں۔ اِن میں سے ایک ایک شخص یہ چاہتا ہے کہ کسی طرح ہزار برس جیے، حالانکہ لمبی عمر بہرحال اُسے عذاب سے تو دور نہیں پھینک سکتی۔ جیسے کچھ اعمال یہ کررہے ہیں ، اللہ تو انہیں دیکھ ہی رہا ہے۔{۹۶} ان سے کہو کہ جو کوئی جبریلؑ سے عداوت رکھتا ہو [100]، اُسے معلوم ہونا چاہئے کہ جبریلؑ نے اللہ ہی کے اِذْن سے یہ قرآن تمہارے قلب پر نازل کیا [101]ہے ، جو پہلے آئی ہوئی کتابوں کی تصدیق و تائید کرتا ہے[102] اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور کامیابی کی بشارت بن کرآیا ہے ۔[103]{۹۷} (اگر جبریلؑ سے ان کی عدادت کا سبب یہی ہے ، تو کہہ دو کہ ) جو اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کے رسولوںؑ اور جبریلؑ اور میکائیلؑ کے دشمن ہیں، اللہ ان کافروں کا دشمن ہے۔ {۹۸} ہم نے تمہاری طرف ایسی آیات نازل کی ہیں جو صاف صاف حق کا اظہار کرنے والی ہیں۔ اور ان کی پیروی سے صرف وہی لوگ انکار کرتے ہیں جو فاسق ہیں۔{۹۹} کیا ہمیشہ ایسا ہی نہیں ہوتارہا ہے کہ جب اُنہوں نے کوئی عہد کیا ، تو اِن میں سے ایک نہ ایک گروہ نے اسے ضرورہی بالائے طاق رکھ دیا ؟ بلکہ ِان میں سے اکثر ایسے ہی ہیں جو سچے دل سے ایمان نہیں لاتے۔ {۱۰۰} اور جب ان کے پاس اللہ کی طرف سے کوئی رسُول اُس کتاب کی تصدیق و تائید کرتا ہوا آیا جو ان کے ہاں پہلے سے موجود تھی ، تو اِن اہل کتاب میں سے ایک گروہ نے کتاب اللہ کو اِس طرح پس پُشت ڈالا گویا کہ وہ کچھ جانتے ہی نہیں ۔{۱۰۱} اور لگے اُن چیزوں کی پیروی کرنے جو شیا طین ، سلیمان ؑکی سلطنت کا نام لے کر پیش کیا کرتے تھے ،[104] حالانکہ سلیمان ؑنے کبھی کفر نہیں کیا ، کفر کے مرتکب تووہ شیاطین تھے جولوگوں کو جادوگری کی تعلیم دیتے تھے ۔ وہ پیچھے پڑے اُس چیز کے جو بابل میں دو فرشتوں ، ہاروت وماروت پر نازل کی گئی تھی ، حالانکہ وہ (فرشتے) جب بھی کسی کو اس کی تعلیم دیتے تھے ، تو پہلے صاف طور پر متنبہ کردیا کرتے تھے کہ ’’ دیکھ ، ہم محض ایک آزمائش ہیں ، تُو کفر میں مبتلانہ ہو[105] ‘‘ پھر بھی یہ لوگ اُن سے وہ چیز سیکھتے تھے جس سے شوہر اور بیوی میں جدائی ڈال دیں۔[106] ظاہر تھا کہ اِذْنِ الہٰی کے بغیر وہ اس ذریعے سے کسی کو بھی ضررنہ پہنچا سکتے تھے، مگر اس کے باوجود وہ ایسی چیز سیکھتے تھے جو خود ان کے لیے نفع بخش نہیں ، بلکہ نقصان دہ تھی، اور اُنہیں خوب معلوم تھا کہ جو اس چیز کا خرید اربنا، اُس کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں ۔کتنی بُری متاع تھی جس کے بدلے انہوں نے اپنی جانوں کو بیچ ڈالا ، کاش انہیں معلوم ہوتا !{۱۰۲} اگر وہ ایمان اور تقویٰ اختیار کرتے ، تو اللہ کے ہاں اس کا جوبدلہ ملتا ، وہ ان کے لیے زیادہ بہتر تھا ۔کاش انہیں خبر ہوتی!{۱۰۳} اے لوگو جو ایمان لائے ہو ،[107] رَاعِنَا نہ کہا کرو ، بلکہ اُنْظُرْنَا کہو اور توجہ سے بات کو سنو ،[108] یہ کافر تو عذاب ِالیم کے مستحق ہیں۔ { ۱۰۴} یہ لوگ جنہوں نے دعوت حق کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے ، خواہ اہل کتاب میں سے ہوں یا مشرک ہوں ،ہر گز یہ پسند نہیں کرتے کہ تمہارے رَبّ کی طرف سے تم پر کوئی بھلائی نازل ہو،مگر اللہ جس کو چاہتا ہے ،اپنی رحمت کے لیے چُن لیتا ہے اور اللہ بڑا فضل فرمانے والا ہے۔ {۱۰۵} ہم اپنی جس آیت کو منسوخ کردیتے ہیں یا بھلا دیتے ہیں، اس کی جگہ اس سے بہتر لاتے ہیں یا کم از کم ویسی ہی۔[109] کیا تم جانتے نہیں ہو کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے ؟{۱۰۶} کیاتمہیں خبر نہیں ہے کہ زمین اور آسمانوں کی فرمانروائی اللہ ہی کے لیے ہے اور اس کے سوا کوئی تمہاری خبر گیری کرنے اور تمہاری مدد کرنے والا نہیں ہے؟{۱۰۷} پھر کیا تم اپنے رسُول سے اُس قسم کے سوالات اور مطالبے کرنا چاہتے ہو ،جیسے اس سے پہلے موسیٰ ؑ سے کئے جاچکے ہیں [110]؟حالانکہ جس شخص نے ایمان کی رَوِ ش کو کفر کی رَوِش سے بدل لیا، وہ راہِ راست سے بھٹک گیا۔{۱۰۸} اہل کتاب میں سے اکثر لوگ یہ چاہتے ہیں کہ کسی طرح تمہیں ایمان سے پھیر کر پھر کفر کی طرف پلٹالے جائیں، اگر چہ حق اِن پر ظاہر ہوچکا ہے، مگر اپنے نفس کے حسد کی بنا پر (تمہارے لیے اِن کی یہ خواہش ہے کہ تم کافربن جاؤ، مگراے مسلمانو! ان کے اس حسد کے جواب میں) تم عفوودَر گزر سے کام لو ،[111]یہاں تک کہ اللہ خود ہی اپنا فیصلہ نافذ کردے۔ مطمئن رہو کہ اللہ تعالیٰ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ {۱۰۹} نماز قائم کرو اور زکوٰۃ دو ۔تم اپنی عاقبت کے لیے جو بھلائی کما کر آگے بھیجو گے ،اللہ کے ہاں اِسے موجود پا ؤگے۔ جو کچھ تم کرتے ہو، وہ سب اللہ کی نظر میں ہے۔ { ۱۱۰} ان کا کہنا ہے کہ کوئی شخص جنّت میں نہ جائے گا جب تک کہ وہ یہودی نہ ہو یا (عیسائیوں کے خیال کے مطابق) عیسائی نہ ہو۔یہ اُن کی تمنائیں[112] ہیں۔ ان سے کہو ،اپنی دلیل پیش کرو، اگر تم اپنے دعوے میں سچے ہو۔ {۱۱۱} (دراصل نہ تمہاری کچھ خصوصیت ہے نہ کسی اور کی ) حق یہ ہے کہ جو بھی اپنی ہستی کو اللہ کی اطاعت میں سونپ دے اور عملاً نیک رَوِش پر چلے، اس کے لیے اُس کے رَبّ کے پاس اُس کااجر ہے اور ایسے لوگوں کے لیے کسی خوف یا رنج کا کوئی موقع نہیں۔{ ۱۱۲} یہودی کہتے ہیں :عیسائیوں کے پاس کچھ نہیں۔ عیسائی کہتے ہیں: یہودیوں کے پاس کچھ نہیں۔ حالانکہ دونوں ہی کتاب پڑھتے ہیں ۔اور اسی قِسم کے دعوے اُن لوگوں کے بھی ہیں، جن کے پاس کتاب کا علم نہیں ہے۔[113] یہ اختلافات جن میں یہ لوگ مبتلا ہیں، اِن کا فیصلہ اللہ قیامت کے روز کردے گا۔{ ۱۱۳} اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم کون ہوگا جو اللہ کے معبَدوں (مساجد) میں اُس کے نام کی یاد سے روکے اور اُن کی وِیرانی کے در پے ہو؟ ایسے لوگ اس قابل ہیں کہ ان عبادت گاہوں میں قدم نہ رکھیں اور اگر وہاں جائیںبھی تو ڈرتے ہوئے جائیں۔[114] اُن کے لیے تو دنیا میں رسوائی ہے اور آخرت میں عذابِ عظیم۔ { ۱۱۴} مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں۔ جس طرف بھی تم رُخ کرو گے اُسی طرف اللہ کا رُخ ہے[115] اللہ بڑی وسعت والا ہے اور سب کچھ جاننے والا ہے ۔[116]{۱۱۵} ان کا قول ہے کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ اللہ پاک ہے اِن باتوں سے۔ اصل حقیقت یہ ہے کہ زمین اور آسمانوں کی تمام موجودات اُس کی مِلک ہیں ، سب کے سب اس کے مطیعِ فرمان ہیں،{۱۱۶} وہ آسمانوں اور زمین کا موجِدہے،اور جس بات کا وہ فیصلہ کرتا ہے اِس کے لیے بس یہ حکم دیتا ہے کہ ’’ہوجا ‘‘ اور وہ ہوجاتی ہے۔ {۱۱۷} نادان کہتے ہیں کہ اللہ خود ہم سے بات کیوں نہیں کرتا یا کوئی نشانی ہمارے پاس کیوں نہیں آتی؟[117] ایسی ہی باتیں اِن سے پہلے لوگ بھی کیا کرتے تھے۔ اِن سب ( اگلے پچھلے گمراہوں) کی ذہنیتیں ایک جیسی [118]ہیں۔ یقین لانے والوں کے لیے تو ہم نشانیاں صاف صاف نمایاں کر چکے ہیں۔ [119]{۱۱۸} ( اس سے بڑھ کر نشانی کیا ہوگی کہ ) ہم نے تم کو علمِ حق کے ساتھ خوش خبری دینے والا اور ڈرانے والا بناکر بھیجا۔[120] اب جو لوگ جہنم سے رشتہ جوڑ چکے ہیں، ان کی طرف سے تم ذمّہ دار اور جواب دِہ نہیں ہو۔{۱۱۹} یہودی اور عیسائی تم سے ہر گزراضی نہ ہوں گے جب تک تم اُن کے طریقے پر نہ [121]چلنے لگو۔ صاف کہہ دو کہ راستہ بس وہی ہے جو اللہ نے بتایا ہے ۔ ورنہ اگراُس علم کے بعد ، جو تمہارے پاس آچکا ہے ، تم نے اُن کی خواہشات کی پیروی کی ، تو اللہ کی پکڑ سے بچانے والا کوئی دوست اور مد دگار تمہارے لیے نہیں ہے ۔{۱۲۰} جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے، وہ اُسے اُس طرح پڑھتے ہیں جیسا کہ پڑھنے کا حق ہے۔ وہ اِس (قرآن)پر سچے دل سے ایمان لے آتے ہیں۔[122]اور جو اِس کے ساتھ کفر کا رویہ اختیار کریں ، وہی اصل میں نقصان اٹھانے والے ہیں۔{۱۲۱} اے بنی اسرائیل[123] ! یاد کرو میری وہ نعمت ، جس سے میں نے تمہیں نوازاتھا، اور یہ کہ میں نے تمہیں دنیا کی تمام قوموں پر فضیلت دی تھی۔ { ۱۲۲} اور ڈرو اُس دن سے جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا، نہ کسی سے فدیہ قبول کیا جائے گا، نہ کوئی سفارش ہی آدمی کو فائدہ دے گی، اور نہ مجرموں کو کہیں سے کوئی مدد پہنچ سکے گی۔ {۱۲۳} یاد کرو کہ جب ابراہیمؑ کو اُس کے رَبّ نے چندباتوں میں آزمایا [124]اور وہ اُن سب میں پورا اُتر گیا ، تو اُس نے کہا: ’’ میں تجھے سب لوگوں کا پیشوا بنانے والا ہوں۔ ابراہیم ؑ نے عرض کیا: ’’اورکیا میری اولاد سے بھی یہی وعدہ ہے‘‘؟ اس نے جواب دیا:’’ میرا وعدہ ظالموں سے متعلق نہیں ہے‘‘[125]{۱۲۴} اور یہ کہ ہم نے اس گھر (کعبے) کو لوگوں کے لیے مرکز اور امن کی جگہ قرار دیا تھا اور لوگوں کو حکم دیا تھا کہ ابراہیم ؑجہاں عبادت کے لیے کھڑا ہوتا ہے اس مقام کو مستقل جائے نماز بنالو ، اور ابراہیم ؑا ور اسماعیل ؑ کو تاکید کی تھی کہ میرے اس گھرکو طواف اور اعتکاف اور رکوع اور سجدہ کرنے والوں کے لیے پاک رکھو۔[126]{۱۲۵} اور یہ کہ جب ابراہیم ؑ نے دعا کی : ’’اے میرے رَبّ! اِس شہر کو امن کا شہر بنادے ، اور اِس کے باشندوں میں سے جو اللہ اور آخرت کو مانیں ، انہیں ہر قِسم کے پھلوں کا رزق دے‘‘ ۔جواب میں اس کے رَبّ نے فرمایا: ’’اور جو نہ مانے گا دنیا کی چند روزہ زندگی کا سامان تو میں اُسے بھی دوں[127] گا ، مگر آخر کار اُسے عذاب ِجہنم کی طرف گھسیٹوں گا ،اور وہ بدترین ٹھکانا ہے ‘‘۔ {۱۲۶} اور یاد کرو ، ابراہیم ؑاور اسماعیل ؑ جب اس گھر کی دیواریں اٹھار ہے تھے ، تو دُعا کرتے جاتے تھے :’’ اے ہمارے رَبّ!ہم سے یہ خدمت قبول فرمالے ، تُوسب کی سننے اور سب کچھ جاننے والا ہے ۔{۱۲۷} اے رَبّ ! ہم دونوں کو اپنا مسلم (مطیع فرمان ) بنا ، ہماری نسل سے ایک ایسی قوم اٹھا ، جو تیری مسلم ہو ، ہمیں اپنی عبادت کے طریقے بتا ، اور ہماری کو تاہیوں سے درگزر فرما،تُو بڑا معاف کرنے والا رحم فرمانے والا ہے۔ {۱۲۸} اور اے رَبّ !اِن لوگوں میں خود اِنہی کی قوم سے ایک رسول اٹھائیو ، جو انہیں تیری آیات سنائے ان کو کتاب اور حکمت کی تعلیم دے اور ان کی زندگیاں سنوارے ،[128]تو بڑا مُقتدِر اور حکیم ہے ‘‘۔[128]{۱۲۹} اب کون ہے جو ابراہیم ؑکے طریقے سے نفرت کرے ؟ جس نے خود اپنے آپ کو حماقت اور جہالت میں مبتلا کرلیا ہو اس کے سِوا کون یہ حرکت کرسکتا ہے ؟ ابراہیم ؑتو وہ شخص ہے جس کوہم نے دنیا میں اپنے کام کے لیے چُن لیا تھا اور آخرت میں اُس کا شمار صالحین میں ہوگا۔ {۱۳۰} اِس کا یہ حال تھا کہ جب اِس کے رَبّ نے اس سے کہا : ’’مُسلِم ہوجا ‘‘[130] تو اُس نے فوراً کہا :’’ میں مالک ِکائنا ت کا ’’مُسلِم‘ ہوگیا‘‘۔{۱۳۱} اِسی طریقے پر چلنے کی ہدایت اُس نے اپنی اولاد کو کی تھی اور اُسی کی وصیت یعقوبؑ [131]اپنی اولاد کو کرگیا تھا ۔ اُس نے کہا تھا کہ ’’میرے بچوّ ! اللہ نے تمہارے لیے یہی دین[132] پسند کیا ہے ۔ لہٰذا مرتے دم تک تم سب مُسلِم ہی رہنا۔ ‘‘{۱۳۲} پھر کیا تم اُس وقت موجود تھے جب یعقوبؑ اس دنیا سے رخصت ہورہا تھا؟ اُس نے مرتے وقت اپنے بیٹوں سے پوچھا ’’ بچو ّ !میرے بعد تم کس کی بندگی کروگے ؟ اُن سب نے جواب دیا ’’ہم اُسی ایک اِلٰہ کی بندگی کریں گے ، جسے آپؑ اور آپؑ کے بزرگوں ابراہیم ؑ ، اسماعیل ؑاور اسحاق ؑنے اِلٰہ مانا ہے اور ہم اسی کے مُسلِم ہیں‘‘[133]{۱۳۳} وہ کچھ لوگ تھے ،جو گزر گئے ۔جو کچھ انہوں نے کمایا ، وہ ان کے لیے ہے اور جو کچھ تم کما ؤ گے ، وہ تمہارے لئے ہے ۔ تم سے یہ نہ پوچھا جائے گا کہ وہ کیا کرتے تھے۔[134]{ ۱۳۴} یہودی کہتے ہیں : یہودی ہو،تو راہِ راست پا ؤ گے۔عیسائی کہتے ہیں : عیسائی ہو ،تو ہدایت ملے گی۔ ان سے کہو:’’ نہیں، بلکہ سب کو چھوڑ کر ابرہیم ؑ کا طریقہ۔ اور ابراہیم ؑمشرکوں میں سے نہ تھا‘‘۔[135]{۱۳۵} مسلمانو! کہو کہ ’’ہم ایمان لائے اللہ پر اور اس ہدایت پر جوہماری طرف نازل ہوئی ہے اور جو ابراہیم ؑ ، اسمٰعیل ؑ، اسحاقؑ، یعقوب ؑاور اولاد ِیعقوبؑ کی طرف نازل ہوئی تھی اور جو موسیٰ ؑاور عیسیٰؑ اور دوسرے تمام پیغمبروں کو ان کے رَبّ کی طرف سے دی گئی تھی ۔ہم اُن کے درمیان کوئی تفریق نہیں کرتے[136] اور ہم اللہ کے مُسلِم ہیں ‘‘ ۔{۱۳۶} پھر اگر وہ اُسی طرح ایمان لائیں ، جس طرح تم ایمان لائے ہو ، تو ہدایت پر ہیں ، اور اگر اس سے منھ پھیریں ، توکھلی بات ہے کہ وہ ہٹ دھرمی میں پڑگئے ہیں ، لہٰذا اطمینان رکھو کہ ان کے مقابلے میں اللہ تمہاری حمایت کے لیے کافی ہے ، وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔{۱۳۷} کہو: ’’ اللہ کا رنگ اختیار کرو[137]۔ اُس کے رنگ سے اچھا اور کس کا رنگ ہوگا ؟ اور ہم اسی کی بندگی کرنے والے لوگ ہیں۔‘‘ {۱۳۸} اے نبی ؐ! ان سے کہو : ’’ کیا تم اللہ کے بارے میں ہم سے جھگڑتے ہو ؟ حالانکہ وہی ہمارا رَبّ بھی ہے اور تمہارا رَبّ بھی۔ [138]ہمارے اعمال ہمارے لئے ہیں ، تمہارے اعمال تمہارے لئے، اور ہم اللہ ہی کے لیے اپنی بندگی کو خالص کرچکے ہیں۔ [139]{۱۳۹} یاپھر تمہارا کہنا یہ ہے کہ ابراہیمؑ،اسمٰعیل ؑ، اسحاق ؑ، یعقوب ؑاور اولادِ یعقوبؑ سب کے سب یہودی تھے یانصرانی تھے ‘‘ ؟ کہو: ’’تم زیادہ جانتے ہو یا اللہ ؟[140] اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوگا ، جس کے ذمے اللہ کی طرف سے ایک گواہی ہو اور وہ اُسے چُھپائے ؟ تمہاری حرکات سے اللہ غافل تو نہیں ہے۔[141] {۱۴۰} وہ کچھ لوگ تھے جو گزر چکے۔ اُن کی کمائی اُن کے لیے تھی اور تمہاری کمائی تمہارے لئے۔ تم سے اُن کے اعمال کے متعلق سوال نہیں ہوگا۔‘‘ {۱۴۱}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)