سورۃ البقرۃ   -  2 : 253-286 / 286یہ رُسول ( جو ہماری طرف سے انسانوں کی ہدایت پر مامور ہوئے ) ہم نے اِن کو ایک دوسرے سے بڑھ چڑھ کر مرتبے عطا کئے۔ ان میں کوئی ایسا تھا جس سے اللہ خود ہم کلام ہوا ،کسی کو اُس نے دوسری حیثیتوں سے بلند درجے دیئے ، اور آخر میں عیسیٰ ؑ ابن مریم کو روشن نشانیاں عطا کیں اور رُوح پاک سے اُس کی مدد کی ۔ اگر اللہ چاہتا تو ممکن نہ تھا کہ ان رسولوں کے بعد جو لوگ روشن نشانیاں دیکھ چکے تھے وہ آپس میں لڑتے ۔ مگر( اللہ کی مشیت یہ نہ تھی کہ وہ لوگوں کو جبراً اختلاف سے روکے، اس وجہ سے ) اُنہوں نے باہم اختلاف کیا ، پھر کوئی ایمان لایا اور کسی نے کفر کی راہ اختیار کی ۔ ہاں ، اللہ چاہتا ، تو وہ ہر گز نہ لڑتے ، مگر اللہ جو چاہتاہے کرتا ہے[275]{ ۲۵۳} اے لوگو جو ایمان لائے ہو !جو کچھ مال و متاع ہم نے تم کو بخشا ہے اس میں سے خرچ کرو[276] قبل اس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہوگی ،نہ دوستی کام آئے گی اور نہ سفارش چلے گی۔ اور ظالم اصل میں وہی ہیں جو کفر کی روش اختیار کرتے ہیں[277]{۲۵۴} اللہ ، وہ زندہ ٔجاوید ہستی ،جو تمام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے، اُس کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں ہے[278]۔ وہ نہ سوتا ہے اور نہ اُسے اُونگھ لگتی [279]ہے۔ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے ، اُسی کا ہے۔[280] کون ہے جواُسکی جناب میں اس کی اجازت کے بغیر سفارش کرسکے ؟[281] جو کچھ بندوں کے سامنے ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جوکچھ اُن سے اوجھل ہے ، اس سے بھی وہ واقف ہے اور اس کی معلومات میں سے کوئی چیز اُن کی گرفتِ ادراک میں نہیں آسکتی اِلاّ یہ کہ کسی چیز کا علم وہ خودہی ان کو دینا چاہے۔[282] اُس کی حکومت[283] آسمانوں اور زمین پر چھائی ہوئی ہے اوراُن کی نگہبانی اس کے لیے کوئی تھکا دینے والا کام نہیں ہے ۔ بس وہی ایک بزرگ وبرترذات ہے[284]{۲۵۵} دین کے معاملے میں کوئی زور زبردستی نہیں ہے۔ [285]صحیح بات غلط خیالات سے الگ چھانٹ کررکھ دی گئی ہے۔ اب جو کوئی طاغوت[286] کا انکار کرکے اللہ پر ایمان لے آیا ، اُس نے ایک ایسا مضبُوط سہارا تھام لیا جو کبھی ٹوٹنے والا نہیں،اوراللہ (جس کا سہارا اس نے لیا ہے ) سب کچھ سننے اور جاننے والا ہے{۲۵۶} جو لوگ ایمان لاتے ہیں اُن کا حامی ومددگار اللہ ہے اور وہ ان کو تاریکیوں سے روشنی میں نکال لاتا ہے[287] اور جو لوگ کفر کی راہ اختیار کرتے ہیں ، اُن کے حامی ومدد گار طاغوت ہیں[288] اور وہ انہیں روشنی سے تاریکیوں کی طرف کھینچ لے جاتے ہیں۔یہ آگ میں جانے والے لوگ ہیں ، جہاں یہ ہمیشہ رہیں گے۔ {۲۵۷} کیا[289] تم نے اُس شخص کے حال پر غور نہیں کیا جس نے ابراہیم ؑ سے جھگڑا کیاتھا[290] ؟ جھگڑا اس بات پر کہ ابراہیم ؑ کا رَبّ کون ہے ، اور اس بنا پر کہ اُس شخص کو اللہ نے حکومت دے رکھی تھی ۔[291] جب ابراہیم ؑ نے کہا کہ ’’میرا رَبّ وہ ہے جس کے اختیار میں زندگی اور موت ہے ، تو اُس نے جواب دیا : زندگی اور موت میرے اختیار میں ہے ‘‘ ابراہیم ؑ نے کہا : ’’ اچھا، اللہ سُورج کو مشرق سے نکالتا ہے ، توذرا اُسے مغرب سے نکال لا‘‘۔ یہ سُن کر وہ منکرِ حق ششدررہ گیا[292] ، مگر اللہ ظالموں کو راہ راست نہیں دکھایا کرتا۔ {۲۵۸} یاپھر مثال کے طور پر اُس شخص کو دیکھو، جس کا گزر ایک ایسی بستی پر ہوا ، جو اپنی چھتوں پر اَوندھی گِری پڑی تھی۔[293]اس نے کہا :’’ یہ آبادی جو ہلاک ہوچکی ہے ، اسے اللہ کس طرح دوبارہ زندگی بخشے گا‘‘؟[294] اس پر اللہ نے اُس کی روح قبض کرلی اور وہ سو(۱۰۰) برس تک مُردہ پڑارہا ۔ پھر اللہ نے اُسے دوبارہ زندگی بخشی اور اس سے پوچھا: ’’ بتا ؤ کتنی مدت پڑے رہے ہو‘‘ ؟ اس نے کہا : ’’ایک دن یا چند گھنٹے رہاہوں گا ‘‘۔ فرمایا’’تم پر سو(۱۰۰) برس اِسی حالت میں گزرچکے ہیں ۔ اب ذرا اپنے کھانے اور پانی کو دیکھو کہ اس میں ذرا تغیر نہیں آیا ہے، دوسری طرف ذرا اپنے گدھے کو بھی دیکھو ( کہ اس کا پنجرتک بوسیدہ ہورہا ہے) اور یہ ہم نے اس لیے کیا ہے کہ ہم تمہیں لوگوں کے لیے ایک نشانی بنادینا چاہتے ہیں ۔[295] پھر دیکھو کہ ہڈیوں کے اس پنجر کو ہم کس طرح اٹھا کر گوشت پوست اس پر چڑھاتے ہیں ‘‘۔ اُس طرح جب حقیقت اس کے سامنے بالکل نمایاں ہوگئی تو اُس نے کہا : ’’میں جانتا ہوں کہ اللہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔ ‘‘{۲۵۹} اور وہ واقعہ بھی پیشِ نظر رہے ،جب ابراہیم ؑ نے کہا تھا کہ ’’ میرے مالک ، مجھے دکھا دے تو مُردوں کو کیسے زندہ کرتا ہے ‘‘ فرمایا :’’ کیا تو ایمان نہیں رکھتا ‘‘؟ اُس نے عرض کیا ’’ ایمان تو رکھتا ہوں ، مگر دل کا اطمینان درکار ہے‘‘[296]فرمایا ’’ اچھا تو چار پرندے لے اور ان کو اپنے سے مانوس کرلے ۔ پھر ان کا ایک ایک ٹکڑا ایک ایک پہاڑ پر رکھ دے ۔پھر ان کو پکار ، وہ تیرے پاس دوڑے چلے آئیںگے ۔خوب جان لے کہ اللہ نہایت بااقتدار اور حکیم ہے۔‘‘[297]{۲۶۰} جو[298] لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں صرف کرتے ہیں،[299] اُن کے خرچ کی مثال ایسی ہے،جیسے ایک دانہ بویا جائے اور اس سے سات’۷‘ بالیں نکلیں اور ہربال میں سو’۱۰۰‘ دانے ہوں۔ اسی طرح اللہ جس کے عمل کو چاہتا ہے افزونی عطا فرماتا ہے۔ وہ فراخ دست بھی ہے اور علیم بھی [300]{۲۶۱} جو لوگ اپنے مال اللہ کی راہ میں خرچ کرتے ہیں اور خرچ کرکے پھر احسان نہیں جتاتے ، نہ دُکھ دیتے ہیں، ان کا اجراُن کے رَبّ کے پاس ہے اور اُن کے لیے کسی رنج اور خوف کا موقع نہیں۔[301]{ ۲۶۲} ایک میٹھا بول اور کسی ناگوار بات پر ذراسی چشم پوشی اُس خیرات سے بہتر ہے جسکے پیچھے دکھ ہو۔ اللہ بے نیاز ہے اور بُردباری اس کی صفت ہے۔ [302]{۲۶۳} اے ایمان لانے والو !اپنے صدقات کو احسان جتاکر اور دکھ دے کر اس شخص کی طرح خاک میں نہ ملادو جو اپنا مال محض لوگوں کے دکھانے کو خرچ کرتا ہے اور نہ اللہ پر ایمان رکھتا ہے نہ آخرت پر۔[303] اس کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے ایک چٹان تھی ، جس پرمٹی کی تہہ جمی ہوئی تھی ۔ اس پر جب زور کا مینہ برساتو ساری مٹی بہہ گئی اور صاف چٹان کی چٹان رہ گئی ۔[304]ایسے لوگ اپنے نزدیک خیرات کرکے جو نیکی کماتے ہیں ، اس سے کچھ بھی ان کے ہاتھ نہیں آتا، اور کافروں کو سیدھی راہ دکھانا اللہ کا دستور نہیں ہے۔[305]{ ۲۶۴} بخلاف اس کے جو لوگ اپنے مال محض اللہ کی رضا جوئی کے لیے دل کے پورے ثبات و قرار کے ساتھ خرچ کرتے ہیں، ان کے خرچ کی مثال ایسی ہے جیسے کسی سطحِ مرتُفع پر ایک باغ ہو۔ اگر زور کی بارش ہوجائے تو دوگنا پھل لائے ،اور اگر زور کی بارش نہ بھی ہو تو ایک ہلکی پُھوار ہی اُس کے لیے کافی ہوجائے[306] ۔ تم جو کچھ کرتے ہو سب اللہ کی نظر میں ہے۔{۲۶۵} کیا تم میں سے کوئی یہ پسند کرتا ہے کہ اس کے پاس ایک ہر ابھر ا باغ ہو ، نہروں سے سیراب ، کھجوروں اور انگوروں اور ہر قسم کے پھلوں سے لدا ہوا ، اوروہ عین اُس وقت ایک تیز بگولے کی زد میں آکر جُھلس جائے جبکہ وہ خود بوڑھا ہو اور اس کے کمسن بچے ابھی کسی لائق نہ ہوں ؟[307] اس طرح اللہ اپنی باتیں تمہارے سامنے بیان کرتا ہے ، شاید کہ تم غور وفکر کرو ۔{۲۶۶} اے لوگوجو ایمان لائے ہو! جومال تم نے کمائے ہیں اور جو کچھ ہم نے زمین سے تمہارے لئے نکالا ہے، اُس میں سے بہتر حصہ اللہ کی راہ میں خرچ کرو ۔ ایسا نہ ہو کہ اس کی راہ میں دینے کے لیے بُری سے بُری چیز چھانٹنے کی کوشش کرنے لگو، حالانکہ وہی چیز اگر کوئی تمہیں دے ، تو تم ہر گز اُسے لینا گو ارانہ کروگے اِلاّیہ کہ اس کو قبول کرنے میں تم اِغماض برت جا ؤ ۔ تمہیں جان لینا چاہئے کہ اللہ بے نیاز ہے اور بہترین صفات سے متصف ہے۔[308] {۲۶۷} شیطان تمہیں مفلسی سے ڈراتا ہے اور شرمناک طرز عمل اختیار کرنے کی ترغیب دیتا ہے ، مگر اللہ تمہیں اپنی بخشش اور فضل کی اُمیددِ لاتا ہے ۔ اللہ بڑا فراخ دست اور دانا ہے۔ {۲۶۸} جس کو چاہتا ہے حکمت عطا کرتا ہے ، اور جس کو حکمت ملی ، اُسے حقیقت میں بڑی دولت مل گئی ۔[309] ان باتوں سے صرف وہی لوگ سبق لیتے ہیں جو دانشمند ہیں۔{۲۶۹} تم نے جو کچھ بھی خرچ کیا ہو اور جو نذر بھی مانی ہو ، اللہ کو اُس کا علم ہے، اور ظالموں کا کوئی مددگار نہیں۔[310] {۲۷۰} اگر اپنے صدقات علانیہ دو ، تویہ بھی اچھا ہے ،لیکن اگر چُھپا کرحاجت مندوں کو دو ، تویہ تمہارے حق میں زیادہ بہتر ہے ۔ [311]تمہاری بہت سی بُرائیاں اس طرزِ عمل سے محو ہو جاتی ہیں،[312] اور جو کچھ تم کرتے ہو اللہ کو بہر حال اُس کی خبر ہے۔ {۲۷۱} (اے نبی ؐ! )لوگوں کو ہدایت بخش دینے کی ذمہ داری تم پر نہیں ہے۔ ہدایت تو اللہ ہی جسے چاہتا ہے بخشتا ہے۔ اور راہ خیر میں جومال تم لوگ خرچ کرتے ہووہ تمہارے اپنے لئے بھلا ہے۔ آخر تم اسی لئے تو خرچ کرتے ہوکہ اللہ کی رضا حاصل ہو۔ تو جو کچھ مال تم راہِ خیر میں خرچ کروگے ، اس کا پورا پورا اجر تمہیں دیا جائے گا اور تمہاری حق تلفی ہر گزنہ ہوگی۔ [313] {۲۷۲} خاص طور پر مدد کے مستحق وہ تنگ دست لوگ ہیں جو اللہ کے کام میں ایسے گِھرگئے ہیں کہ اپنی ذاتی کسبِ معاش کے لیے زمین میں کوئی دوڑ دھوپ نہیں کرسکتے ۔ اُن کی خود داری دیکھ کر ناواقف آدمی گمان کرتا ہے کہ یہ خوش حال ہیں۔ تم اُن کے چہروں سے اُن کی اندرونی حالت پہچان سکتے ہو۔ مگر وہ ایسے لوگ نہیں ہیں کہ لوگوں کے پیچھے پڑکر کچھ مانگیں اُن کی اعانت میں جو کچھ مال تم خرچ کرو گے وہ اللہ سے پوشیدہ نہ رہے گا۔ [314]{ ۲۷۳} جو لوگ اپنے مال شب وروز کھلے اور چُھپے خرچ کرتے ہیں اُن کا اجراُن کے رَبّ کے پاس ہے اور ان کے لیے کسی خوف اور رنج کا مقام نہیں۔ { ۲۷۴} مگر جو لوگ سود[315] کھاتے ہیں ،اُن کا حال اُس شخص کا سا ہوتا ہے جسے شیطان نے چُھوکربا ؤلا کردیا ہو۔ [316]اور اِس حالت میں اُن کے مبتلا ہونے کی وجہ یہ ہے کہ وہ کہتے ہیں‘ ’’تجارت بھی تو آخرسود ہی جیسی چیز ہے‘‘[317] حالانکہ اللہ نے تجارت کو حلال کیا ہے اور سود کو حرام[318] ۔ لہٰذا جس شخص کو اس کے رَبّ کی طرف سے یہ نصیحت پہنچے اور آئندہ کے لیے وہ سُود خواری سے باز آجائے ،تو جو کچھ وہ پہلے کھا چکا ، سو کھا چکا ، اس کا معاملہ اللہ کے حوالے ہے۔[319] اور جو اِس حکم کے بعد پھر اِسی حرکت کا اعادہ کرے، وہ جہنمی ہے ، جہاں وہ ہمیشہ رہے گا۔ {۲۷۵} اللہ سُود کا مٹھ ماردیتا ہے اور صدقات کو نشوونما دیتا ہے ۔[320] اور اللہ کسی ناشکر ے بد عمل انسان کو پسند نہیں کرتا ۔[321]{۲۷۶} ہاں جو لوگ ایمان لے آئیں اور نیک عمل کریں اور نماز قائم کریں اور زکوٰۃ دیں اُن کا اجربے شک اُن کے رَبّ کے پاس ہے اور اُن کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں۔[322] {۲۷۷} اے لوگوجوایمان لائے ہو! اللہ سے ڈرواور جو کچھ تمہارا سود لوگوں پر باقی رہ گیا ہے اسے ،چھوڑدو ، اگر واقعی تم ایمان لائے ہو{۲۷۸} لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ، تو آگاہ ہوجا ؤ کہ اللہ اور اس کے رسول ؐ کی طرف سے تمہارے خلاف اعلان جنگ ہے ۔[323] اب بھی توبہ کرلو ( اور سود چھوڑدو) تو اپنا اصل سرمایہ لینے کے تم حق دار ہو ۔ نہ تم ظلم کرو ، نہ تم پر ظلم کیا جائے۔ {۲۷۹} تمہارا قرض دار تنگدست ہو ، تو ہاتھ کُھلنے تک اسے مہلت دو ، اور جو صدقہ کردو ، تو یہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے ، اگر تم سمجھو ۔[324]{۲۸۰} اُس دن کی رسُوائی ومصیبت سے بچو ، جب کہ تم اللہ کی طرف واپس ہوگے ، وہاں ہر شخص کو اس کی کمائی ہوئی نیکی یا بدی کا پورا پورا بدلہ مل جائے گا اور کسی پر ظلم ہر گز نہ ہوگا ۔{۲۸۱} اے لوگوجو ایمان لائے ہو! جب کسی مقررہ مدت کے لیے تم آپس میں قرض کالین دین کرو ،[325] تو اسے لکھ لیا کرو ۔[326] فریقین کے درمیان انصاف کے ساتھ ایک شخص دستاویز تحریر کرے۔ جسے اللہ نے لکھنے پڑھنے کی قابلیت بخشی ہو ، اُسے لکھنے سے انکار نہ کرنا چاہیے۔ وہ لکھے اور املا وہ شخص کرائے جس پر حق آتا ہے، (یعنی قرض لینے والا )، اور اُسے اللہ ، اپنے رَبّ سے ڈرنا چاہئے کہ جو معاملہ طے ہوا ہو اُس میں کوئی کمی بیشی نہ کرے۔ لیکن اگر قرض لینے والا خود نادان یا ضعیف ہو، یا املانہ کراسکتا ہو، تو اس کا ولی انصاف کے ساتھ املا کرائے۔ پھر اپنے مردوں[327] میں سے دوآمیوں کی اس پرگواہی کرالو ۔ اگر دو مرد نہ ہوں، تو ایک مرد اور دو عورتیں ہوں تا کہ ایک بُھول جائے تو دوسری اسے یاد دلادے ۔ یہ گواہ ایسے لوگوں میں سے ہونے چاہئیں، جن کی گواہی تمہارے درمیان مقبول ہو۔[328] گواہوں کو جب گواہ بننے کے لیے کہا جائے ، تو انہیں انکار نہ کرنا چاہیے ۔ معاملہ خواہ چھوٹا ہویا بڑا ،میعاد کی تعیین کے ساتھ اس کی دستاویز لکھو الینے میں تساہل نہ کرو۔ اللہ کے نزدیک یہ طریقہ تمہارے لئے زیادہ مبنی برانصاف ہے ، اس سے شہادت قائم ہونے میں زیادہ سہولت ہوتی ہے ، اور تمہارے شکوک وشبہات میں مبتلا ہونے کا امکان کم رہ جاتا ہے۔ ہاں جو تجارتی لین دین دست بدست تم لوگ آپس میں کرتے ہو ، اس کو نہ لکھا جائے تو کوئی حرج نہیں ،[329] مگر تجارتی معاملے طے کرتے وقت گواہ کرلیا کرو۔ کاتب اور گواہ کوستایا نہ جائے۔[330] ایسا کرو گے ، تو گناہ کا ارتکاب کرو گے۔ اللہ کے غضب سے بچو۔ وہ تم کو صحیح طریق عمل کی تعلیم دیتا ہے اور اسے ہر چیز کا علم ہے ۔{ ۲۸۲} اور اگر تم سفر کی حالت میں ہو اور دستاویز لکھنے کے لیے کوئی کاتب نہ ملے، تورہن بالقبض پر معاملہ کرو ۔[331] اگر تم میں سے کوئی شخص دوسرے پر بھروسہ کرکے اس کے ساتھ کوئی معاملہ کرے ، تو جس پر بھروسہ کیا گیا ہے ، اسے چاہئے کہ امانت ادا کرے اور اللہ، اپنے رَبّ سے ڈرے ۔ اور شہادت ہر گز نہ چھپا ؤ ۔[332] جوشہادت چھپاتا ہے ، اس کا دل گناہ میں آلودہ ہے ۔ اور اللہ تمہارے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔{ ۲۸۳} آسمانوں[333] اور زمین میں جو کچھ ہے سب اللہ کا ہے۔[334]تم اپنے دل کی باتیں خواہ ظاہر کرو ، خواہ چھپا ؤ ، اللہ بہر حال ان کا حساب تم سے لے لے گا ۔[335] پھراسے اختیار ہے ، جسے چاہے، معاف کردے اور جسے چاہے، سزادے ۔وہ ہر چیز پر قدرت رکھتا ہے۔[336]{ ۲۸۴} رسول ؐاس ہدایت پر ایمان لایا ہے جو اُس کے رَبّ کی طرف سے اس پر نازل ہوئی ہے۔ اور جو لوگ اِس رسُول ؐکے ماننے والے ہیں ، انہوں نے بھی اُس ہدایت کو دل سے تسلیم کرلیا ہے ۔ یہ سب اللہ اور اس کے فرشتوں اور اس کی کتابوں اور اس کے رسولوں کو مانتے ہیں اور ان کا قول یہ ہے کہ ’’ ہم اللہ کے رسولوں ؑکو ایک دوسرے سے الگ نہیں کرتے۔ ہم نے حکم سُنا اور اطاعت قبول کی۔ مالک !ہم تجھ سے خطابخشی کے طالب ہیں اور ہمیں تیری ہی طرف پلٹنا ہے ‘‘[337] {۲۸۵} اللہ کسی متنفس پر اُس کی مقدرت سے بڑھ کر ذمّہ داری کا بوجھ نہیں ڈالتا۔[338] ہر شخص نے جونیکی کمائی ہے اس کا پھل اسی کے لیے ہے اور جوبدی سمیٹی ہے، اُس کا وبال اُسی پر ہے ۔[339] (ایمان لانے والو، تم یوں دُعا کیا کرو ) اے ہمارے رَبّ!ہم سے بُھول چوک میں جو قصور ہوجائیں ، ان پر گرفت نہ کر ۔ مالک ہم پروہ بوجھ نہ ڈال، جو تو نے ہم سے پہلے لوگوں پرڈالے تھے ۔[340]پروردگار! جس بارکو اُٹھا نے کی طاقت ہم میں نہیں ہے، وہ ہم پرنہ رکھ ۔[341] ہمارے ساتھ نرمی کر ، ہم سے درگزر فرما ،ہم پر رحم کر ، تو ہمارا مولیٰ ہے ، کافروں کے مقابلے میں ہماری مدد کر ۔[342]{۲۸۶}
سورۃاٰل عمران   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 3 : 1-14 / 200 ا، ل، م۔ {۱} اللہ وہ زندۂ جاوید ہستی ،جو نظام کائنات کو سنبھالے ہوئے ہے ۔ حقیقت میں[1] اس کے سوا کوئی اِلٰہ نہیں ہے۔ { ۲} (اے نبی ؐ) اُس نے تم پر یہ کتاب نازل کی ، جوحق لے کر آئی ہے اور اُن کتابوں کی تصدیق کررہی ہے،جو پہلے سے آئی ہوئی تھیں،اور وہ تورات اور انجیل نازل کرچکا ہے ۔[2]{ ۳} اس سے پہلے انسانوں کی ہدایت کے لیے اس نے وہ کسوٹی اتاری ہے (جو حق اور باطل کا فرق دکھانے والی ہے)۔ اب جو لوگ اللہ کے فرامین کو قبول کرنے سے انکار کریں ،ان کو یقینا سخت سزاملے گی ۔ اللہ بے پنا ہ طاقت کا مالک ہے اور برائی کا بدلہ دینے والا ہے۔{ ۴} زمین اور آسمان کی کوئی چیز اللہ سے پوشیدہ نہیں۔[3] {۵} وہی تو ہے جو تمہاری ما ؤں کے پیٹ میں تمہاری صُورتیں جیسی چاہتا ہے ، بناتا ہے ۔[4]اُس زبردست حکمت والے کے سوا کوئی اور اِلٰہ نہیں ہے۔{۶} (اے نبی ؐ) وہی اِلٰہ ہے جس نے یہ کتاب تم پر نازل کی ہے ۔ اس کتاب میں دو طرح کی آیات ہیں ۔ ایک محکما ت، جو کتاب کی اصل بنیاد ہیں،[5] اور دوسری متشابہات۔[6] جن لوگوں کے دلوں میں ٹیڑھ ہے ، وہ فتنے کی تلاش میں ہمیشہ متشابہات ہی کے پیچھے پڑے رہتے ہیں اور ان کومعنی پہنا نے کی کوشش کیا کرتے ہیں ،حالانکہ ان کا حقیقی مفہوم اللہ کے سوا کوئی نہیں جانتا ۔ بخلاف اس کے جو لوگ علم میں پختہ کار ہیں ، وہ کہتے ہیں کہ ’’ ہمارا ان پر ایمان ہے ، یہ سب ہمارے رَبّ ہی کی طرف سے ہیں‘‘،[7]اور سچ یہ ہے کہ کسی چیز سے صحیح سبق صرف دانشمند لوگ ہی حاصل کرتے ہیں۔ {۷} وہ اللہ سے دعا کرتے رہتے ہیں کہ ’’ پروردگار! جب توہمیں سیدھے راستہ پرلگا چکا ہے ، تو پھر کہیں ہمارے دلوں کو کجی میں مبتلانہ کردیجیو۔ ہمیں اپنے خزانہ ٔفیض سے رحمت عطا کر کہ تو ہی فیاض حقیقی ہے۔{۸} پرور دگار! تو یقینا سب لوگوں کو ایک روز جمع کرنے والا ہے، جس کے آنے میں کوئی شبہ نہیں ہے ۔ تو ہر گز اپنے وعدہ سے ٹلنے والا نہیں ہے ۔‘‘{۹} جن لوگوں نے کفر کارویہ اختیار کیا ہے ،[8] انہیں اللہ کے مقابلے میں نہ اُن کا مال کچھ کام دے گا ، نہ اولاد۔ وہ دوزخ کا ایندھن بن کررہیں گے ۔{۱۰} ان کا انجام ویساہی ہوگا، جیسا فرعون کے ساتھیوں اور ان سے پہلے کے نافرمانوں کا ہوچکا ہے کہ اُ نہوں نے آیات الہٰی کو جھٹلایا ، نتیجہ یہ ہوا کہ اللہ نے ان کے گناہوں پر انہیں پکڑ لیا اور حق یہ ہے کہ اللہ سخت سزادینے والا ہے ۔{۱۱} پس( اے نبی ؐ!)جن لوگوں نے تمہاری دعوت کو قبول کرنے سے انکار کردیا ہے، ان سے کہہ دو کہ قریب ہے وہ وقت، جب تم مغلوب ہوجا ؤ گے اور جہنم کی طرف ہانکے جا ؤ گے اور جہنم بڑا ہی بُرا ٹھکانا ہے{ ۱۲} تمہارے لئے اُن دو گروہوں میں ایک نشان عبرت تھا ، جو (بدر میں) ایک دوسرے سے نبرد آزما ہوئے۔ ایک گروہ اللہ کی راہ میں لڑرہا تھا اور دوسرا گروہ کا فر تھا ۔ دیکھنے والے بچشم سردیکھ رہے تھے کہ کافر گروہ مومن گروہ سے دوچند ہے ۔[9] مگر (نتیجے نے ثابت کردیا کہ ) اللہ اپنی فتح ونُصرت سے جس کو چاہتا ہے ، مدد دیتا ہے ، دیدۂ بینار کھنے والوں کے لیے اس میں بڑا سبق پوشیدہ ہے۔[10] {۱۳} لوگوں کے لیے مرغوباتِ نفس یعنی عورتیں ، اولاد ، سونے چاندی کے ڈھیر ، چیدہ گھوڑے ، مویشی اور زرعی زمینیں بڑی خوش آئند بنادی گئی ہیں، مگر یہ سب دنیا کی چندروزہ زندگی کے سامان ہیں ۔ حقیقت میں جو بہتر ٹھکانا ہے وہ تو اللہ کے پاس ہے { ۱۴}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)