سورۃ البقرۃ   -  2 : 203-252 / 286 یہ گنتی کے چند روز ہیں جو تمہیں اللہ کی یاد میں بسر کرنے چاہئیں۔ پھر جو کوئی جلدی کرکے دوہی دن میں واپس ہوگیا تو کوئی حرج نہیں ، اور جو کچھ دیر زیادہ ٹھیر کر پلٹا تو بھی کوئی حرج نہیں[222] بشر طیکہ یہ دن اس نے تقویٰ کے ساتھ بسر کئے ہوں۔ اللہ کی نافرمانی سے بچو اور خوب جان رکھو کہ ایک روز اس کے حضور میں تمہاری پیشی ہونے والی ہے۔ {۲۰۳} انسانوں میں کوئی تو ایسا ہے جس کی باتیں دنیا کی زندگی میں تمہیں بہت بھلی معلوم ہوتی ہیں اور اپنی نیک نیتی پروہ بار بار اللہ کو گواہ ٹھیراتا ہے،[223] مگر حقیقت میں وہ بدترین دشمن حق ہوتا ہے۔[224] {۲۰۴} جب اُسے اقتدار حاصل ہوجاتا ہے[225] تو زمین میں اس کی ساری دوڑ دھوپ اس لیے ہوتی ہے کہ فساد پھیلائے ، کھیتوں کو غارت کرے اور نسل۔ انسانی کو تباہ کرے ۔حالانکہ اللہ (جسے وہ گواہ بنارہا تھا ) فساد کو ہر گز پسند نہیں کرتا۔{۲۰۵} اور جب اس سے کہا جاتا ہے کہ اللہ سے ڈر، تو اپنے وقار کا خیال اُس کو گنا ہ پر جمادیتا ہے۔ ایسے شخص کے لیے تو بس جہنم ہی کافی ہے اور وہ بہت بُرا ٹھکانا ہے۔{۲۰۶} دوسری طرف انسانوں ہی میں کوئی ایسا بھی ہے جو رضائے الہٰی کی طلب میں اپنی جان کھپا دیتا ہے اور ایسے بندوں پر اللہ بہت مہربان ہے۔ {۲۰۷} اے ایمان لانے والو!تم پورے کے پورے اسلام میں آجا ؤ [226]اور شیطان کی پیروی نہ کرو کہ وہ تمہارا کھلا دشمن ہے ۔ {۲۰۸} جو صاف صاف ہدایات تمہارے پاس آچکی ہیں ، اگر ان کو پالینے کے بعد پھر تم نے لغزش کھائی ، تو خوب جان رکھو کہ اللہ سب پر غالب اور حکیم و دانا ہے۔[227] {۲۰۹} ( ان ساری نصیحتوں اور ہدایتوں کے بعد بھی لوگ سیدھے نہ ہوں ، تو) کیا اب وہ اِس کے منتظر ہیں کہ اللہ بادلوں کا چتر لگائے فرشتوں کے پرے ساتھ لئے خود سامنے آموجود ہو اور فیصلہ ہی کر ڈالا جائے؟[228] آخر کار سارے معاملات پیش تو اللہ ہی کے حضور ہونے والے ہیں۔{۲۱۰} بنی اسرائیل سے پوچھو: کیسی کھلی کھلی نشانیاں ہم نے انہیں دکھائی ہیں( اور پھر یہ بھی انہی سے پوچھ لو کہ) اللہ کی نعمت پانے کے بعد جو قوم اُس کو شقاوت سے بدلتی ہے اُسے اللہ کیسی سخت سزا دیتا ہے۔[229]{۲۱۱} جن لوگوں نے کفر کی راہ اختیار کی ہے ، ان کے لیے دنیا کی زندگی بڑی محبوب و دل پسند بنادی گئی ہے۔ ایسے لوگ ایمان کی راہ اختیار کرنے والوں کا مذاق اُڑاتے ہیں ، مگر قیامت کے روز پرہیز گار لوگ ہی اُن کے مقابلے میں عالی مقام ہوں گے، رہادُنیا کا رزق ، تو اللہ کو اختیار ہے ، جسے چاہے بے حساب دے۔ {۲۱۲} ابتداء میں سب لوگ ایک ہی طریقے پر تھے ۔ ( پھر یہ حالت باقی نہ رہی اور اختلافات رونما ہوئے) تب اللہ نے نبی بھیجے جو راست روی پربشارت دینے والے اور کج روی کے نتائج سے ڈرانے والے تھے، اوراُن کے ساتھ کتاب بر حق نازل کی تا کہ حق کے بارے میں لوگوں کے درمیان جو اختلافات رونما ہوگئے تھے ، ان کا فیصلہ کرے۔ (اور ان اختلافات کے رونما ہونے کی وجہ یہ نہ تھی کہ ابتداء میں لوگوں کو حق بتایا نہیں گیا تھا۔ نہیں بلکہ ) اختلاف اُن لوگوں نے کیا ، جنہیں حق کا علم دیاجاچکا تھا۔ انہوں نے روشن ہدایات پالینے کے بعد محض اس لیے حق کو چھوڑ کر مختلف طریقے نکالے کہ وہ آپس میں زیادتی کرنا چاہتے تھے۔[230] پس جو لوگ انبیاء پر ایمان لے آئے ، انہیں اللہ نے اپنے اِذن سے اُس حق کا راستہ دکھادیا، جس میں لوگوں نے اختلاف کیا تھا ۔ اللہ جسے چاہتا ہے، راہ راست دکھادیتا ہے۔{۲۱۳} پھر [231]کیا تم لوگوں نے یہ سمجھ رکھا ہے کہ یو نہی جنّت کا داخلہ تمہیں مل جائے گا ، حالانکہ ابھی تم پر وہ سب کچھ نہیں گزراہے ، جو تم سے پہلے ایمان لانے والوں پر گزرچکا ہے؟اُن پر سختیاں گزریں ، مصیبتیں آئیں ، ہلامارے گئے ، حتی کہ وقت کارسول اور اس کے ساتھی اہل ایمان چیخ اٹھے کہ اللہ کی مدد کب آئے گی؟ (اُس وقت اُنہیں تسلی دی گئی کہ) ہاں اللہ کی مدد قریب ہے۔{۲۱۴} (اے نبی ؐ!) لوگ آپ سے پوچھتے ہیں ہم کیا خرچ کریں ؟ جواب دو کہ جو مال بھی تم خرچ کرو اپنے والدین پر ، رشتے داروں پر، یتیموں اور مسکینوں اور مسافروں پر خرچ کرو۔ اور جو بھلائی بھی تم کرو گے، اللہ اس سے باخبر ہوگا۔{۲۱۵} تمہیں جنگ کا حکم دیا گیا ہے اور وہ تمہیں ناگوار ہے ۔ ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں ناگوار ہواوروہی تمہارے لئے بہتر ہو، اور ہوسکتا ہے کہ ایک چیز تمہیں پسند ہو اور وہی تمہارے لئے بُری ہو ۔اللہ جانتا ہے، تم نہیں جانتے ۔{۲۱۶} (اے نبی ؐ!) آپ سے لوگ پوچھتے ہیں : ماہ حرام میں لڑنا کیسا ہے ؟ کہو ! اُس میں لڑنا بہت بُراہے ، مگر اللہ کی راہ سے لوگوں کو روکنا اور اللہ سے کفر کرنا اور مسجد حرام کا راستہ اللہ والوں پر بند کرنا اور حرم کے رہنے والوں کو وہاں سے نکالنا اللہ کے نزدیک اُس سے بھی زیادہ بُرا ہے اور فتنہ خونریزی سے شدید تر ہے۔ [232]وہ تو تم سے لڑے ہی جائیں گے حتی کہ اگر اُن کا بس چلے تو تمہارے دین سے تم کو پھیرلے جائیں ۔ (اور یہ خوب سمجھ لو کہ ) تم میں سے جو کوئی اپنے دین سے پھر ے گا اور کفر کی حالت میں جان دے گا ، اس کے اعمال دنیا اور آخرت دونوں میں ضائع ہوجائیں گے۔ ایسے سب لوگ جہنمی ہیں اور ہمیشہ جہنم ہی میں رہیں گے [233]{۲۱۷} بخلاف اِس کے جو لوگ ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے اللہ کی راہ میں اپنا گھر بار چھوڑا اور جہاد کیا ہے۔[234] وہ رحمت الٰہی کے جائز امیدوار ہیں اور اللہ ان کی لغزشوں کو معاف کرنے والا اور اپنی رحمت سے انہیں نوازنے والا ہے{۲۱۸} (اے نبی ؐ!) آپ سے لوگ پوچھتے ہیں : شراب اور جوئے کا کیا حکم ہے ؟ کہو ! ان دونوں چیزوں میں بڑی خرابی ہے، اگر چہ ان میں لوگوں کے لیے کچھ منافع بھی ہیں، مگر اُن کا گناہ ان کے فائدے سے بہت زیادہ ہے ۔[235]اور لوگ آپ ؐسے پوچھتے ہیں:ہم اللہ کی راہ میں کیا خرچ کریں ؟ کہو: جو کچھ تمہاری ضرورت سے زیادہ ہو۔ اس طرح اللہ تمہارے لئے صاف صاف احکام بیان کرتا ہے ، شاید کہ تم( دنیا اور آخرت دونوں کی) فکر کرو۔{۲۱۹} دنیا اور آخرت دونوں میں (خیراورفلاح کی فکر کرتے ہوئے اللہ کے واضح احکامات کی روشنی میں دنیامیں زندگی بسرکرو) اور پوچھتے ہیں یتیموں کے ساتھ کیا معاملہ کیا جائے ؟ کہو! جس طرز عمل میں ان کے لیے بھلائی ہو وہی اختیار کرنا بہتر ہے ۔[236] اگر تم اپنا اوراُن کا خرچ اور رہنا سہنا مشترک رکھو، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ آخرو ہ تمہارے بھائی بندہی تو ہیں۔ برائی کرنے والے اور بھلائی کرنے والے ، دونوں کا حال اللہ پر روشن ہے۔ اللہ چاہتا تو اس معاملے میں تم پر سختی کرتا، مگر وہ صاحب اختیار ہونے کے ساتھ صاحب حکمت بھی ہے{۲۲۰} تم مشرک عورتوں سے ہر گز نکاح نہ کرنا ،جب تک کہ وہ ایمان نہ لے آئیں ۔ ایک مومن لونڈی مشرک شریف زادی سے بہتر ہے ، اگر چہ وہ تمہیں بہت پسند ہو۔اور اپنی عورتوں کے نکاح مشرک مردوں سے کبھی نہ کرنا ، جب تک وہ ایمان نہ لے آئیں ۔ ایک مومن غلام مشرک شریف سے بہتر ہے ، اگر چہ وہ تمہیں بہت پسند ہو ۔ یہ لوگ تمہیں آگ کی طرف بُلاتے ہیں[237] اور اللہ اپنے اِذن سے تم کو جنّت اور مغفرت کی طرف بلاتا ہے ، اور وہ اپنے احکام واضح طور پر لوگوں کے سامنے بیان کرتا ہے ، توقع ہے کہ وہ سبق لیں گے اور نصیحت قبول کریں گے۔ {۲۲۱} لوگ آپ ؐ سے پوچھتے ہیں : حیض کا کیا حکم ہے ؟ کہو! وہ ایک گندگی کی حالت [238]ہے ۔ اس میں عورتوں سے الگ رہو اور ان کے قریب نہ جا ؤ ، جب تک کہ وہ پاک صاف نہ ہو جائیں۔[239] پھر جب وہ پاک ہوجائیں ، تو اُن کے پاس جا ؤ اُس طرح جیسا کہ اللہ نے تم کو حکم دیا [240]ہے ۔ اللہ ان لوگوں کو پسند کرتا ہے ، جو بدی سے باز رہیں اور پاکیزگی اختیار کریں {۲۲۲} تمہاری عورتیں تمہاری کھیتیاں ہیں ۔ تمہیں اختیار ہے ، جس طرح چاہو ، اپنی کھیتی میں جا ؤ [241]،مگر اپنے مستقبل کی فکر کرو[242] اور اللہ کی ناراضی سے بچو ۔خوب جان لو کہ تمہیں ایک دن اس سے ملنا ہے۔ اور اے نبی ؐجو (تمہاری ہدایات کو) مان لیں انہیں (فلاح و سعادت کی) خوشنجری دے دو۔ {۲۲۳} اللہ کے نام کو ایسی قسمیں کھانے کے لیے استعمال نہ کرو جن سے مقصود نیکی اور تقویٰ اور اصلاح اورلوگوں کے درمیان صلح اوربھلائی کے کاموں سے بازرہنا ہو۔[243] اللہ تمہاری ساری باتیں سن رہا ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔{ ۲۲۴} جو بے معنی قسمیں تم بلا ارادہ کھالیا کرتے ہو ، اُن پر اللہ گرفت نہیں کرتا ،[244] مگر جو قسمیں تم سچے دل سے کھاتے ہو ، اُن کی باز پرس وہ ضرور کرے گا ۔اللہ بہت درگزر کرنے والااوربردبار ہے۔ {۲۲۵} جو لوگ اپنی عورتوں سے تعلق نہ رکھنے کی قسم کھا بیٹھتے ہیں ، ان کے لیے چار مہینوں کی مہلت ہے۔[245] اگر انہوں نے رجوع کرلیا،تو اللہ معاف کرنے والا اور رحیم ہے[246] {۲۲۶} اور اگر انہوں نے طلاق ہی کی ٹھان لی[247] ہوتو جانے رہیں کہ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔[248]{۲۲۷} جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو ، وہ تین مرتبہ ایام ماہواری آنے تک اپنے آپ کو روکے رکھیں ، اور اُن کے لیے یہ جائز نہیں ہے کہ اللہ نے اُن کے رحم میں جو کچھ خلق فرمایا ہو ، اُسے چھپائیں۔ اُنہیں ہر گزایسا نہ کرنا چاہئے اگر وہ اللہ اور روز آخر پر ایمان رکھتی ہیں۔ اُن کے شوہر تعلقات درست کرلینے پر آمادہ ہوں ، تو وہ اس عدت کے دوران میں اُنہیں پھر اپنی زوجیت میں واپس لے لینے کے حق دار ہیں [249]عورتوں کے لیے بھی معروف طریقے پر ویسے ہی حقوق ہیں ، جیسے مردوں کے حقوق اُن پر ہیں ۔ البتہ مردوں کو اُن پر ایک درجہ حاصل ہے ۔ اور سب پر اللہ غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم ودانا موجود ہے۔{۲۲۸} طلاق دو بار ہے ۔پھر یاتو سیدھی طرح عورت کو روک لیا جائے یا بھلے طریقے سے اس کو رخصت کردیا جائے۔[250] اور رخصت کرتے ہوئے ایسا کرنا تمہارے لئے جائز نہیں ہے کہ جو کچھ تم انہیں دے چکے ہو ، اس میں سے کچھ واپس لے لو۔ [251]البتہ یہ صورت مستثنیٰ ہے کہ زوجین کو اللہ کے حُدود پر قائم نہ رہ سکنے کا اندیشہ ہو ۔ ایسی صورت میں اگر تمہیں یہ خوف ہو کہ وہ دونوں حدود الٰہی پر قائم نہ رہیں گے ، تو اُن دونوں کے درمیان یہ معاملہ ہوجانے میں مضائقہ نہیں کہ عورت اپنے شوہر کو کچھ معاوضہ دے کر علیٰحدگی حاصل کرلے ۔ [252]یہ اللہ کی مقرر کردہ حُدود ہیں، ان سے تجاوزنہ کرو۔ اور جو لوگ حُدود الٰہی سے تجاوزکریں ،وہی ظالم ہیں۔{۲۲۹} پھر اگر ( دوبار طلاق دینے کے بعد شوہر نے عورت کو تیسری بار ) طلاق دے دی[253] ، تو وہ عورت پھر اُس کے لیے حلال نہ ہوگی، اِلاّیہ کہ اس کا نکاح کسی دوسرے شخص سے ہو اور وہ اسے طلاق دیدے ۔تب اگر پہلا شوہر اور یہ عورت دونوں یہ خیال کریں کہ حدود الٰہی پر قائم رہیں گے ، تو ان کے لیے ایک دوسرے کی طرف رجوع کرلینے میں کوئی مضائقہ نہیں۔ یہ اللہ کی مقرر کردہ حدیں ہیں۔ جنہیں وہ اُن لوگوں کی ہدایت کے لیے واضح کررہا ہے۔ جو ( اس کی حدوں کو توڑنے کا انجام ) جانتے ہیں۔{۲۳۰} اور جب تم عورتوں کو طلاق دے دو اور ان کی عدت پوری ہونے کو آجائے، تو یا بھلے طریقے سے انہیں روک لو یا بھلے طریقے سے رخصت کردو ۔ محض ستانے کی خاطر انہیں نہ روکے رکھنا کہ یہ زیادتی ہوگی اور جو ایسا کرے گا، وہ درحقیقت آپ اپنے ہی اوپر ظلم کرے گا ۔[254] اللہ کی آیات کا کھیل نہ بنا ؤ ۔ بھول نہ جا ؤ کہ اللہ نے کس نعمت عظمیٰ سے تمہیں سرفراز کیا ہے۔ وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے کہ جو کتاب اور حکمت اس نے تم پر نازل کی ہے، اس کا حترام ملحوظ رکھو ۔[255]اللہ سے ڈرو اور خوب جان لو کہ اللہ کو ہر بات کی خبر ہے۔ {۲۳۱} اورجب تم اپنی عورتوں کو طلاق دے چکو اور وہ اپنی عدت پوری کرلیں، تو پھر اس میں مانع نہ ہو کہ وہ اپنے زیر تجویز شوہروں سے نکاح کرلیں، جب کہ وہ معروف طریقے سے باہم مناکحت پر راضی ہوں۔[256] تمہیں نصیحت کی جاتی ہے کہ ایسی حرکت ہر گز نہ کرنا، اگر تم اللہ اور روز آخر پر ایمان لانے والے ہو۔ تمہارے لئے شائستہ اور پاکیزہ طریقہ یہی ہے کہ اِس سے باز رہو ۔ اللہ جانتا ہے تم نہیں جانتے۔ {۲۳۲} جو باپ چاہتے ہوں کہ ان کی اولاد پوری مدت رضاعت تک دودھ پئے، تو مائیں اپنے بچوں کو کامل دوسال دُودھ پلائیں ۔ [257] اس صورت میں بچے کے باپ کو معروف طریقے سے اُنہیں کھانا کپڑا دینا ہوگا۔ مگر کسی پر اُس کی وسعت سے بڑھ کربار نہ ڈالنا چاہئے۔ نہ تو ماں کو اِس وجہ سے تکلیف میں ڈالا جائے کہ بچہ اس کا ہے ، اور نہ باپ ہی کو اس وجہ سے تنگ کیا جائے کہ بچہ اُس کا ہے۔ دودھ پلانے والی کا یہ حق جیسا کہ بچے کے باپ پر ہے ، ویساہی اس کے وارث پر بھی ہے۔[258] لیکن اگر فریقین باہمی رضا مندی اور مشورے سے دُودھ چھڑانا چاہیں ، تو ایسا کرنے میں کوئی مضائقہ نہیں ۔اور اگر تمہارا خیال اپنی اولاد کو کسی غیرعورت سے دودھ پلوانے کا ہو ، تو اس میں بھی کوئی حرج نہیں بشر طیکہ اس کا جو کچھ معاوضہ طے کرو، وہ معروف طریقے پر ادا کرو ۔ اللہ سے ڈرو اور جان رکھو کہ جو کچھ تم کرتے ہو، سب اللہ کی نظر میں ہے ۔ {۲۳۳} تم میں سے جو لوگ مرجائیں ، ان کے پیچھے اگر اُن کی بیویاں زندہ ہوں ، تو وہ اپنے آپ کو چار مہینے ، دس دن روکے رکھیں[259] پھر جب ان کی عدت پوری ہوجائے ، تو انہیں اختیار ہے، اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے جو چاہیں کریں۔ تم پر اس کی کوئی ذمہ داری نہیں۔ اللہ تم سب کے اعمال سے باخبر ہے {۲۳۴} زمانہ ٔعدّت میں خواہ تم ان بیوہ عورتوں کے ساتھ منگنی کا ارادہ اشارے کنایے میں ظاہر کردو ، خواہ دل میں چھپائے رکھو ، دونوں صورتوں میں کوئی مضائقہ نہیں ۔ اللہ جانتا ہے کہ اُن کا خیال تو تمہارے دل میں آئے گاہی ۔ مگر دیکھو ، خفیہ عہدو پیمان نہ کرنا۔ اگر کوئی بات کرنی ہے، تو معروف طریقے سے کرو۔اور عقد نکاح باندھنے کا فیصلہ اس وقت تک نہ کرو جب تک کہ عدت پوری نہ ہوجائے۔ خوب سمجھ لو کہ اللہ تمہارے دلوں کا حال تک جانتا ہے۔ لہٰذا اس سے ڈرو اور یہ بھی جان لو کہ اللہ بردبار ہے (چھوٹی چھوٹی باتوں سے ) درگزر فرماتا ہے۔{۲۳۵} تم پر کچھ گناہ نہیں ، اگر اپنی عورتوں کو طلاق دے دو قبل اِس کے کہ ہاتھ لگانے کی نوبت آئے یا مہر مقرر ہو ۔اس صورت میں اُنہیں کچھ نہ کچھ دینا ضرور چاہئے۔ [260]خوش حال آدمی اپنی مقدرت کے مطابق اور غریب اپنی مقدرت کے مطابق معروف طریقہ سے دے ۔ یہ حق ہے نیک آدمیوں پر۔{۲۳۶} اور اگر تم نے ہاتھ لگانے سے پہلے طلاق دی ہو ، لیکن مہر مقرر کیا جاچکا ہو ، تو اِس صورت میں نصف مہر دینا ہوگا۔ یہ اور بات ہے کہ عورت نرمی برتے (اور مہرنہ لے ) یاوہ مرد ، جس کے اختیار میں عقد نکاح ہے ، نرمی سے کام لے ( اور پورا مہردیدے) اور تم ( یعنی مرد) نرمی سے کام لو، تو یہ تقویٰ سے زیادہ مناسبت رکھتا ہے۔ آپس کے معاملات میں فیاضی کو نہ بھولو۔[261]تمہارے اعمال کو اللہ دیکھ رہا ہے۔{۲۳۷} اپنی نمازوں کی نگہداشت رکھو [262]، خصوصاً ایسی نماز کی جو محاسن صلوٰۃ کی جامع ہو۔[263] اللہ کے آگے اس طرح کھڑے ہو، جیسے فرماں بردار غلام کھڑے ہوتے ہیں۔{۲۳۸} بدامنی کی حالت ہو ، تو خواہ پیدل ہو ، خواہ سوار ، جس طرح ممکن ہو، نماز پڑھو ۔ اور جب امن میسر آجائے ، تو اللہ کو اُس طریقے سے یاد کرو ، جو اس نے تمہیں سکھادیا ہے ، جس سے تم پہلے ناواقف تھے۔{۲۳۹} تم میں [264]سے جو لوگ وفات پائیں اور پیچھے بیویاں چھوڑرہے ہوں ، اُن کو چاہئے کہ اپنی بیویوں کے حق میں یہ وصیت کرجائیں کہ ایک سال تک ان کو نان ونفقہ دیا جائے اور وہ گھر سے نہ نکالی جائیں ۔ پھر اگر وہ خود نکل جائیں ، تو اپنی ذات کے معاملے میں معروف طریقے سے وہ جوکچھ بھی کریں، اس کی کوئی ذمہ داری تم پر نہیں ہے اللہ سب پر غالب اقتدار رکھنے والا اور حکیم ودانا ہے۔ {۲۴۰} اسی طرح جن عورتوں کو طلاق دی گئی ہو ، انہیں بھی مناسب طور پر کچھ نہ کچھ دے کر رخصت کیا جائے، یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔ {۲۴۱} اس طرح اللہ اپنے احکام تمہیں صاف صاف بتاتا ہے۔ امید ہے کہ تم سمجھ بوجھ کر کام کرو گے۔{۲۴۲} تم نے [265]اُن لوگوں کے حال پر بھی کچھ غور کیا ، جو موت کے ڈرسے اپنے گھر بار چھوڑ کر نکلے تھے اور ہزاروں کی تعداد میں تھے؟ اللہ نے اُن سے فرمایا : مرجا ؤ ،پھر اُس نے اُن کو دوبارہ زندگی بخشی۔[266] حقیقت یہ ہے کہ اللہ انسان پر بڑافضل فرمانے والا ہے ، مگر اکثر لوگ شکر ادا نہیں کرتے۔ {۲۴۳} مسلمانو! اللہ کی راہ میں جنگ کرو اور خوب جان رکھو کہ اللہ سننے والا اورجاننے والا ہے۔ {۲۴۴} تم میں کون ہے جو اللہ کو قرض حسن دے [267]تا کہ اللہ اسے کئی گنا بڑھا چڑھا کرو اپس کرے؟ گھٹانا بھی اللہ کے اختیار میں ہے اور بڑھانا بھی۔ اور اسی کی طرف تمہیں پلٹ کرجانا ہے۔{۲۴۵} پھر تم نے اُس معاملے پر بھی غور کیا جو موسیٰ ؑ کے بعد سرداران بنی اسرائیل کو پیش آیا تھا ؟ انہوں نے اپنے نبی سے کہا :ہمارے لئے ایک بادشاہ مقرر کردوتا کہ ہم اللہ کی راہ میں جنگ کریں ۔[268]نبی نے پوچھا : کہیں ایسا تو نہ ہوگا کہ تم کو لڑائی کا حکم دیا جائے اور پھر تم نہ لڑو؟ وہ کہنے لگے : بھلا یہ کیسے ہوسکتا ہے کہ ہم اللہ کی راہ میں نہ لڑیں، جبکہ ہمیں اپنے گھروں سے نکال دیا گیا ہے اور ہمارے بال بچے ہم سے جُدا کردیئے گئے ہیں۔ مگر جب ان کو جنگ کا حکم دیا گیا ، تو ایک قلیل تعداد کے سوا وہ سب پیٹھ موڑگئے، اور اللہ ان میں سے ایک ایک ظالم کو جانتا ہے۔{۲۴۶} اُن کے نبی نے ان سے کہا کہ اللہ نے طالوت [269]کو تمہارے لئے بادشاہ مقرر کیا ہے ۔ یہ سُن کروہ بولے : ’’ہم پر بادشاہ بننے کا وہ کیسے حق دار ہوگیا؟ اس کے مقابلے میں بادشاہی کے ہم زیادہ مستحق ہیں ۔ وہ تو کوئی بڑا مالدار آدمی نہیں ہے ‘‘۔ نبی نے جواب دیا: ’’اللہ نے تمہارے مقابلے میں اسی کو منتخب کیا ہے اور اس کو دماغی وجسمانی دونوں قسم کی اہلیتیں فراوانی کے ساتھ عطافرمائی ہیں اور اللہ کو اختیار ہے کہ اپنا ملک جسے چاہے دے ، اللہ بڑی وسعت رکھتا ہے اور سب کچھ اس کے علم میں ہے۔ ‘‘{۲۴۷} اس کے ساتھ ان کے نبی نے ان کو یہ بھی بتایا کہ ’’ اللہ کی طرف سے اُس کے بادشاہ مقرر ہونے کی علامت یہ ہے کہ اس کے عہد میں وہ صندوق تمہیں واپس مل جائے گا جس میں تمہارے رَبّ کی طرف سے تمہارے لئے سکون قلب کا سامان ہے ، جس میں آلِ موسیٰ ؑاور آلِ ہارونؑ کے چھوڑے ہوئے تبرکات ہیں ،اور جس کو اس وقت فرشتے سنبھالے ہوئے ہیں۔[270] اگر تم مومن ہو ، تو یہ تمہارے لئے بہت بڑی نشانی ہے۔{۲۴۸} پھر جب طالوت لشکر لے کر چلا تو اُس نے کہا : ’’ ایک دریا پر اللہ کی طرف سے تمہاری آزمائش ہونے والی ہے، جو اس کا پانی پئے گا ، وہ میرا ساتھی نہیں۔ میرا ساتھی صرف وہ ہے جو اس سے پیاس نہ بجھائے، ہاں ایک آدھ چُلّو کوئی پی لے ، تو پی لے ‘‘ مگر ایک گِروہ قلیل کے سوا وہ سب اس دریاسے سیراب ہوئے ۔[271] پھر جب طالو ت اور اس کے ساتھی مسلمان دریا پار کرکے آگے بڑھے ، تو انہوں نے طالوت سے کہہ دیا کہ آج ہم میں جالوت اور اس کے لشکروں سے مقابلہ کرنے کی طاقت نہیں ہے،[272]لیکن جو لوگ یہ سمجھتے تھے کہ انہیں ایک دن اللہ سے ملنا ہے ، انہوں نے کہا : ’’ بارہا ایسا ہوا ہے کہ ایک قلیل گروہ اللہ کے اِذن سے ایک بڑے گروہ پر غالب آگیا ہے ۔اللہ صبر کرنے والوں کا ساتھی ہے ‘‘ {۲۴۹} اور جب وہ جالوت اور اسکے لشکروں کے مقابلہ پر نکلے ، تو انہوں نے دعا کی ’’ اے ہمارے رَبّ !ہم پر صبر کا فیضان کر، ہمارے قدم جمادے اور اس کافرگروہ پر ہمیں فتح نصیب کر‘‘ {۲۵۰} آخر کار اللہ کے اِذن سے انہوں نے کا فروں کو ماربھگایا اور داؤد [273]نے جالوت کو قتل کردیا اور اللہ نے اُسے سلطنت اور حکمت سے نوازا اور جن جن چیزوں کا چاہا ، اس کو علم دیا ۔ اگر اس طرح اللہ انسانوں کے ایک گروہ کو دوسرے گروہ کے ذریعے سے ہٹا تا نہ رہتا تو زمین کا نظام بگڑ جاتا ،[274] لیکن دُنیا کے لوگوں پر اللہ کا بڑا فضل ہے ( کہ وہ اس طرح دفع فساد کا انتظام کرتا رہتا ہے ){۲۵۱} یہ اللہ کی آیات ہیں ، جو ہم ٹھیک ٹھیک تم کو سُنار ہے ہیں اور اے نبی ؐ!تم یقینا اُن لوگوں میں سے ہو جو رسول بناکر بھیجے گئے ہیں۔{۲۵۲}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)