سورۃ البقرۃ   -  2 : 142-202 / 286نادان لوگ ضرور کہیں گے: انہیں کیا ہوا کہ پہلے یہ جس قبلے کی طرف رُخ کرکے نماز پڑھتے تھے اُس سے یکایک پھر گئے ؟ [142] (اے نبی ؐ!) ان سے کہو: ’’ مشرق اور مغرب سب اللہ کے ہیں۔ اللہ جسے چاہتا ہے ، سیدھی راہ دکھا دیتا ہے ‘‘ [143] {۱۴۲} اور اِسی طرح تو ہم نے تم مسلمانوں کو ایک ’’ اُمّتِ وَسَط‘‘ بنا یا ہے تاکہ تم دنیا کے لوگوں پر گواہ ہو اور رسُول تم پرگواہ ہو۔ [144]پہلے جس طرف تم رُخ کرتے تھے اُس کو تو ہم نے صرف یہ دیکھنے کے لیے قبلہ مقرر کیا تھا کہ کون رسُول کی پیروی کرتا ہے اور کون الٹا پھر جاتا ہے ۔[145] یہ معاملہ تھا تو بڑا سخت ، مگراُن لوگوں کے لیے کچھ بھی سخت نہ ثابت ہوا جو اللہ کی ہدایت سے فیض یاب تھے۔ اللہ تمہارے اس ایمان کو ہر گز ضائع نہ کرے گا ۔ یقین جانو کہ وہ لوگوں کے حق میں نہایت شفیق ورحیم ہے ۔ { ۱۴۳} (اے نبی ؐ!)یہ تمہارے منھ کا باربار آسمان کی طرف اٹھنا ہم دیکھ رہے ہیں۔ لو، ہم اُسی قبلے کی طرف تمہیں پھیرے دیتے ہیں جسے تم پسند کرتے ہو ،مسجد حرام کی طرف رخ پھیردو۔ اب جہاں کہیں تم ہو ،اُسی کی طرف منھ کرکے نماز پڑھا [146]کرو ۔ یہ لوگ جنہیں کتاب دی گئی تھی ، خوب جانتے ہیں کہ ( تحویل قبلہ کا ) یہ حکم ان کے رَبّ ہی کی طرف سے ہے اور برحق ہے ، مگر اس کے باوجود جو کچھ یہ کررہے ہیں ، اللہ اس سے غافل نہیں ہے ۔{۱۴۴} تم ان اہلِ کتاب کے پاس خواہ کوئی نشانی لے آ ؤ ، ممکن نہیں کہ یہ تمہارے قبلے کی پیروی کرنے لگیں ، اور نہ تمہارے لئے یہ ممکن ہے کہ ان کے قبلے کی پیروی کرو اور ان میں سے کوئی گروہ بھی دوسرے کے قبلے کی پیروی کے لیے تیار نہیں ہے، اور اگر تم نے اُس علم کے بعد ، جو تمہارے پاس آچکا ہے ، اُن کی خواہشات کی پیروی کی ، تو یقینا تمہارا شمار ظالموں میں ہوگا[147]{۱۴۵} جن لوگوں کو ہم نے کتاب دی ہے ، وہ اس مقام کو( جسے قبلہ بنایا گیاہے ) ایسا پہچانتے ہیں ، جیسا اپنی اولاد کو پہچانتے ہیں،[148] مگر ان میں سے ایک گروہ جانتے بوجھتے حق کو چھپارہا ہے۔{۱۴۶} یہ قطعی ایک امرِحق ہے تمہارے رَبّ کی طرف سے ،لہٰذا اِس کے متعلق تم ہر گز کسی شک میں نہ پڑو {۱۴۷} ہر ایک کے لیے ایک رُخ ہے ،جس کی طرف وہ مُڑتا ہے ۔ پس تم بھلائیوں کی طرف سبقت کرو ۔[149]جہاں بھی تم ہوگے، اللہ تمہیں پالے گا ۔ اُس کی قدرت سے کوئی چیز باہر نہیں{۱۴۸} تمہارا گزر جس مقام سے بھی ہو ، وہیں سے اپنا رُخ ( نماز کے وقت ) مسجد حرام کی طرف پھیردو ، کیونکہ یہ تمہارے رَبّ کا بالکل برحق فیصلہ ہے اور اللہ تم لوگوں کے اعمال سے بے خبر نہیں ہے۔{۱۴۹} اور جہاں سے بھی تمہارا گزر ہو ، اپنا رُخ مسجد حرام ہی کی طرف پھیرا کرو ، اور جہاں بھی تم ہو ، اُسی کی طرف منھ کرکے نماز پڑھو تاکہ لوگوں کو تمہارے خلاف کوئی حجت [150]نہ ملے۔ ہاں اُن میں سے جو ظالم ہیں ، اُن کی زبان کسی حال میں بندنہ ہوگی۔ تو اُن سے تم نہ ڈرو ، بلکہ مجھ سے ڈرو ، اور اس لیے کہ میں تم پر اپنی نعمت پوری کردوں[151] اور اس توقع[152] پر کہ میرے اس حکم کی پیروی سے تم فلاح کا راستہ پا ؤ گے۔{۱۵۰} اُسی طرح جس طرح (تمہیں اس چیز سے فلاح نصیب ہوئی کہ ) ہم نے تمہارے درمیان خود تم میں سے ایک رسول ؐبھیجا ، جو تمہیں ہماری آیات سناتا ہے، تمہاری زندگیوں کو سنوارتا ہے ، تمہیں کتاب اور حکمت کی تعلیم دیتا ہے ، اور تمہیں وہ باتیں سکھاتا ہے جو تم نہ جانتے تھے۔ {۱۵۱} لہٰذا تم مجھے یاد رکھو ، میں تمہیں یاد رکھوں گا ، اور میرا شُکرادا کرو،کُفرانِ نعمت نہ کرو{ ۱۵۲} اے لوگو[153] جو ایمان لائے ہو! صبر اور نماز سے مدد لو۔ اللہ صبر کرنے والوں کے ساتھ ہے[154]{ ۱۵۳} اور جو لوگ اللہ کی راہ میں مارے جائیں، اُنہیں مُردہ نہ کہو ، ایسے لوگ توحقیقت میں زندہ ہیں ، مگر تمہیں اُن کی زِندگی کا شعور نہیں ہوتا۔[155]{ ۱۵۴} اور ہم ضرورتمہیں خوف وخطر ، فاقہ کشی ، جان ومال کے نقصانات اور آمدنیوں کے گھاٹے میں مبتلا کرکے تمہاری آزمائش کریں گے ۔ ان حالات میں جو لوگ صبر کریں اُنہیں خوش خبری دے دو۔{۱۵۵} (یہ وہ لوگ ہیں، ان پر)جب کوئی مصیبت پڑے ، تو کہیں کہ ’’ ہم اللہ ہی کے ہیں اور اللہ ہی کی طرف ہمیں پلٹ کرجانا ہے ۔‘‘ [156]{۱۵۶} اُن پر ان کے رَبّ کی طرف سے بڑی عنایات ہوں گی،اُس کی رحمت اُن پر سایہ کرے گی اور ایسے ہی لوگ راست روہیں{۱۵۷} یقینا صفا اور مروہ اللہ کی نشانیوں میں سے ہیں۔ لہٰذا جو شخص بیت اللہ کا حج یا عمرہ کرے،[157] اس کے لیے کوئی گناہ کی بات نہیں کہ وہ ان دونوں پہاڑیوں کے درمیان سعی کرے[158] اور جو بر ضاور غبت کوئی بھلائی کاکام کرے[159] گا، اللہ کو اس کا علم ہے اور وہ اس کی قدر کرنے والا ہے۔{۱۵۸} جو لوگ ہماری نازل کی ہوئی روشن تعلیمات اور ہدایات کو چھپاتے ہیں ، درآں حالیکہ ہم اُنہیں سب انسانوں کی رہنمائی کے لیے اپنی کتاب میں بیان کرچکے ہیں ، یقین جانو کہ اللہ بھی اُن پر لعنت کرتا ہے اور تمام لعنت کرنے والے بھی اُن پر لعنت بھیجتے ہیں۔[160]{۱۵۹} البتہ جو اِس روش سے بازآجائیں اور اپنے طرز عمل کی اصلاح کرلیں اور جو کچھ چھپاتے تھے ، اُسے بیان کرنے لگیں ، ان کو میں معاف کردوں گا اور میں بڑا درگزر کرنے والا اور رحم کرنے والا ہوں۔{۱۶۰} جن لوگوں نے کفر کارویہ[161] اختیار کیا اور کفر کی حالت ہی میں جان دی ، ان پر اللہ اور فرشتوں اور تمام انسانوں کی لعنت ہے۔{۱۶۱} اسی لعنت زدگی کی حالت میں وہ ہمیشہ رہیں گے، نہ اُن کی سزا میں تخفیف ہوگی اور نہ انہیں پھر کوئی دوسری مہلت دی جائے گی۔{ ۱۶۲} تمہارا اِلٰہٰ تو بس ایک ہی اِلٰہ ہے ،اُس رحمان اور رحیم کے سوا کوئی اور اِلٰہٰ نہیں ہے۔ { ۱۶۳} ( اس حقیقت کو پہچاننے کے لیے اگر کوئی نشانی اور علامت درکار ہے تو ) جو لوگ عقل سے کام لیتے ہیں اُن کے لیے آسمانوں اور زمین کی ساخت میں ، رات اور دن کے پیہم ایک دوسرے کے بعد آنے میں ، اُن کشتیوں میں جو انسان کے نفع کی چیزیں لئے ہوئے دریا ؤں اور سمندروں میں چلتی پھرتی ہیں ، بارش کے اُس پانی میں جسے اللہ اُوپر سے برساتا ہے پھر اس کے ذریعے سے مُردہ زمین کو زندگی بخشتا ہے اور ( اپنے اسی انتظام کی بدولت) زمین میں ہر قسم کی جاندار مخلوق کو پھیلاتا ہے ، ہوا ؤں کی گردش میں اور اُن بادلوں میں جو آسمان اور زمین کے درمیان تابع فرمان بناکر رکھے گئے ہیں ، بے شمار نشانیاں ہیں۔[162] {۱۶۴} (مگروحدت الہٰی پر دلالت کرنیوالے ان کھلے کھلے آثار کے ہوتے ہوئے بھی )کچھ لوگ ایسے ہیں جو اللہ کے سوا دوسروں کو اس کا ہمسر اور مد مقابل بناتے ہیں[163] اور ان کے ایسے گرویدہ ہیں جیسی اللہ کیساتھ گرویدگی ہونی چاہئے۔ حالانکہ ایمان رکھنے والے لوگ سب سے بڑھ کر اللہ کو محبوب رکھتے ہیں ۔[164] کاش ، جو کچھ عذاب کو سامنے دیکھ کر انہیں سوجھنے والا ہے ، وہ آج ہی اِن ظالموں کو سوجھ جائے کہ ساری طاقتیں اور سارے اختیارات اللہ ہی کے قبضے میں ہیں اور یہ کہ اللہ سزادینے میں بھی بہت سخت ہے۔ {۱۶۵} جب وہ سزادے گا اس وقت کیفیت یہ ہوگی کہ وہی پیشوا اور رہنما جن کی دنیا میں پیروی کی گئی تھی ، اپنے پیرووں سے بے تعلقی ظاہر کریں گے ، مگر سزاپا کررہیں گے اور ان کے سارے اسباب و وسائل کا سلسلہ کٹ جائے گا۔{۱۶۶} اور وہ لوگ جو دنیا میں اُن کی پیروی کرتے تھے، کہیں گے کہ کاش ہم کو پھر ایک موقع دیا جاتا تو جس طرح آج یہ ہم سے بیزاری ظاہر کررہے ہیں ، ہم ان سے بیزار ہو کر دکھا دیتے[165]۔ یوں اللہ ان لوگوں کے وہ اعمال ، جو یہ دنیا میں کررہے ہیں ،ان کے سامنے اس طرح لائے گا کہ یہ حسرتوں اور پشیمانیوں کے ساتھ ہاتھ ملتے رہیں گے مگر آگ سے نکلنے کی کوئی راہ نہ پائیں گے۔{۱۶۷} لوگو! زمین میں جو حلال اور پاک چیزیں ہیں انہیں کھا ؤ اور شیطان کے بتائے ہوئے راستوں پر نہ چلو ،[166] وہ تمہارا کھلادشمن ہے {۱۶۸} تمہیں بدی اور فحش کا حکم دیتا ہے اور یہ سکھاتا ہے کہ تم اللہ کے نام پر وہ باتیں کہو جن کے متعلق تمہیں علم نہیں ہے کہ ( وہ اللہ نے فرمائی ہیں) [167]{۱۶۹} ان سے جب کہا جاتا ہے کہ اللہ نے جو احکام نازل کیے ہیں اُن کی پیروی کرو تو جواب دیتے ہیں کہ ہم تو اُسی طریقے کی پیروی کریں گے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے۔[168] اچھا اگر ان کے باپ دادا نے عقل سے کچھ بھی کام نہ لیا ہو اور راہ راست نہ پائی ہو تو کیا پھر بھی یہ انہی کی پیروی کیے چلے جائیں گے ؟ {۱۷۰} یہ لوگ جنہوں نے اللہ کے بتائے ہوئے طریقے پر چلنے سے انکار کردیا ہے ان کی حالت بالکل ایسی ہے جیسے چرواہا جانوروں کو پکارتا ہے اور وہ ہانک پکار کی صدا کے سوا کچھ نہیں سنتے ۔[169]یہ بہرے ہیں ، گونگے ہیں، اندھے ہیں ، اس لیے کوئی بات ان کی سمجھ میں نہیں آتی{۱۷۱} اے لوگو جو ایمان لائے ہو!اگر تم حقیقت میں اللہ ہی کی بندگی کرنے والے ہو تو جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں انہیں بے تکلف کھا ؤ اور اللہ کا شکرادا کرو۔[170]{ ۱۷۲} اللہ کی طرف سے اگر کوئی پابندی تم پر ہے تو وہ یہ ہے کہ مُردارنہ کھا ؤ ، خون سے اور سورکے گوشت سے پر ہیز کرو ، اور کوئی ایسی چیز نہ کھا ؤ جس پر اللہ کے سواکسی اور کا نام لیا گیا ہو،[171] ہاں جو شخص مجبوری کی حالت میں ہو اور وہ ان میں سے کوئی چیز کھالے بغیر اس کے کہ وہ قانون شکنی کا ارادہ رکھتا ہو یا ضرورت کی حد سے تجاوز کرے ، تو اس پر کچھ گناہ نہیں ، اللہ بخشنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔[172]{ ۱۷۳} حق یہ ہے کہ جو لوگ اُن احکام کو چھپاتے ہیں جو اللہ نے اپنی کتاب میں نازل کئے ہیں اور تھوڑے سے دنیوی فائدوں پر انہیں بھینٹ چڑھاتے ہیں ، وہ دراصل اپنے پیٹ آگ سے بھر رہے ہیں ۔[173] قیامت کے روز اللہ ہر گزان سے بات نہ کرے گا، نہ انہیں پاکیزہ ٹھہرائے گا ،[174] اور ان کے لیے دردناک سزا ہے۔{۱۷۴} یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے ضلالت خریدی اور مغفرت کے بدلے عذاب مول لے لیا۔ کیسا عجیب ہے اِن کا حوصلہ کہ جہنم کا عذاب برداشت کرنے کے لیے تیار ہیں۔{۱۷۵} یہ سب کچھ اس وجہ سے ہوا کہ اللہ نے تو ٹھیک ٹھیک حق کے مطابق کتاب نازل کی تھی مگر جن لوگوں نے کتاب میں اختلافات نکالے وہ اپنے جھگڑوں میں حق سے بہت دُورنکل گئے ۔{۱۷۶} نیکی یہ نہیں ہے کہ تم نے اپنے چہرے مشرق کی طرف کرلئے یا مغرب کی طرف [175]، بلکہ نیکی یہ ہے کہ آدمی اللہ کو اور یوم آخر اور ملائکہ کو اور اللہ کی نازل کی ہوئی کتاب اور اس کے پیغمبروں کو دل سے مانے اور اللہ کی محبت میں اپنا دل پسند مال رشتے داروں اور یتیموں پر ، مسکینوں اور مسافروں پر ، مدد کے لیے ہاتھ پھیلانے والوں پر اور غلاموں کی رہائی پر خرچ کرے ، نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے ۔ اور نیک وہ لوگ ہیں کہ جب عہد کریں تو اُسے وفا کریں اور تنگی ومصیبت کے وقت میں اور حق وباطل کی جنگ میں صبرکریں ۔یہ ہیں راست باز لوگ اور یہی لوگ متقی ہیں۔{۱۷۷} اے لوگو جو ایمان لائے ہو!تمہارے لئے قتل کے مقدموں میں قصاص[176] کا حکم لکھ دیا گیا ہے۔ آزاد آدمی نے قتل کیا ہو تو اُس آزاد ہی سے بدلہ لیا جائے ، غلام قاتل ہو تو وہ غلام ہی قتل کیا جائے ، اور عورت اس جرم کی مرتکب ہوتو اُس عورت ہی سے قصاص لیا [177]جائے۔ ہاں اگر کسی قاتل کے ساتھ اُس کا بھائی کچھ نرمی کرنے کے لیے تیار ہو ،[178] تو معروف طریقے[178] کے مطابق خُوں بہا کا تصفیہ ہونا چاہئے۔ اور قاتل کو لازم ہے کہ راستی کے ساتھ خُوں بہا ادا کرے یہ تمہارے رَبّ کی طرف سے تخفیف اور رحمت ہے۔ اس پر بھی جو زیادتی کرے[180]اس کے لیے درد ناک سزا ہے۔{۱۷۸} عقل وخرد رکھنے والو !تمہارے لئے قصاص میں زندگی ہے[181]۔ امید ہے کہ تم اس قانون کی خلاف ورزی سے پرہیز کرو گے{۱۷۹} تم پر فرض کیا گیا ہے کہ جب تم میں سے کسی کی موت کا وقت آئے اور وہ اپنے پیچھے مال چھوڑرہا ہو ، تو والدین اور رشتہ داروں کے لیے معروف طریقے سے وصیت کرے۔ یہ حق ہے متقی لوگوں پر۔[182]{۱۸۰} پھر جنہوں نے وصیت سنی اور بعد میں اسے بدل ڈالا ، تو اس کا گناہ اُن بدلنے والوں پر ہوگا۔ اللہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔{۱۸۱} البتہ جس کو یہ اندیشہ ہو کہ وصیت کرنے والے نے نادانستہ یا قصداً حق تلفی کی ہے ، اور پھر معاملے سے تعلق رکھنے والوں کے درمیان وہ اِصلاح کرے، تو اس پر کچھ گناہ نہیں ہے ، اللہ بخشنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔{ ۱۸۲} اے لوگو جو ایمان لائے ہو !تم پر روزے فرض کردیئے گئے، جس طرح تم سے پہلے انبیاء ؑکے پیرووں پر فرض کئے گئے تھے۔ اس سے توقع ہے کہ تم میں تقویٰ کی صفت پیدا ہوگی[183] { ۱۸۳} چند مقرر دنوں کے روزے ہیں۔ اگر تم میں سے کوئی بیمار ہو ، یا سفر پر ہو تو دوسرے دنوں میں اتنی ہی تعداد پوری کرلے۔ اور جو لوگ روزہ رکھنے کی قدرت رکھتے ہوں (پھر نہ رکھیں) تو وہ فدیہ دیں۔ ایک روزے کا فدیہ ایک مسکین کو کھانا کھلانا ہے، اور جو اپنی خوشی سے کچھ زیادہ بھلائی کرے ،[184] تو یہ اسی کے لیے بہتر ہے۔ لیکن اگر تم سمجھو ، تو تمہارے حق میں اچھا یہی ہے کہ روزہ رکھو[185] { ۱۸۴} رمضان وہ مہینہ ہے جس میں قرآن نازل کیا گیا جو انسانوں کے لیے سراسر ہدایت ہے اور ایسی واضح تعلیمات پر مشتمل ہے جوراہ راست دکھانے والی اور حق وباطل کا فرق کھول کررکھ دینے والی ہیں۔ لہٰذا اب سے جو شخص اِس مہینے کو پائے ، اس کو لازم ہے کہ اس پورے مہینے کے روزے رکھے ۔ اور جو کوئی مریض ہو یا سفر پر ہو ، تو وہ دوسرے دنوں میں روزوں کی تعداد پوری کرے۔[186] اللہ تمہارے ساتھ نرمی کرنا چاہتا ہے سختی کرنا نہیں چاہتا۔ اس لیے یہ طریقہ تمہیں بتایا جارہا ہے تا کہ تم روزوں کی تعداد پوری کر سکو اور جس ہدایت سے اللہ نے تمہیں سرفراز کیا ہے اُس پر اللہ کی کبر یائی کا اظہار و اعتراف کرو اور شکر گزار بنو[187] {۱۸۵} اور (اے نبی ؐ!) میرے بندے اگر تم سے میر ے متعلق پوچھیں ، تو انہیں بتادو کہ میں اُن سے قریب ہی ہوں۔ پکارنے والا جب مجھے پکارتا ہے ، میں اس کی پکار سنتا اور جواب دیتا ہوں ۔ لہٰذا انہیں چاہئے کہ میری دعوت پر لبیک کہیں اور مجھ پر ایمان لائیں۔[188] ( یہ بات تم انہیں سنادو) شاید کہ وہ راہ راست پالیں۔ [189]{۱۸۶} تمہارے لئے روزوں کے زمانے میں راتوں کو اپنی بیویوں کے پاس جانا حلال کردیا گیا ہے۔ وہ تمہارے لئے لباس ہیں اور تم ان کے لیے[190] لباس ہو۔ اللہ کو معلوم ہوگیا کہ تم لوگ چپکے چپکے اپنے آپ سے خیانت کررہے تھے، مگر اس نے تمہارا قصور معاف کردیا اور تم سے درگزر فرمایا۔ اب تم اپنی بیویوں کے ساتھ شب باشی کرو اور جولطف اللہ نے تمہارے لئے جائز کردیا ہے ،اُسے حاصل کرو۔[191] نیز راتوں کو کھا ؤ پیو ، [192]یہاں تک کہ تم کو سیاہی شب کی دھاری سے سپیدۂ صبح کی دھاری نمایاں نظر آجائے ۔ [193]تب یہ سب کام چھوڑ کر رات تک اپنا روزہ پورا کر و۔[194]اور جب تم مسجدوں میں معتکف ہوتو بیویوں سے مباشرت نہ کرو۔[195] یہ اللہ کی باندھی ہوئی حدیں ہیں، ان کے قریب نہ پھٹکنا ۔[196] اس طرح اللہ اپنے احکام لوگوں کے لیے بصراحت بیان کرتا ہے ، توقع ہے کہ وہ غلط رویّے سے بچیں گے۔{۱۸۷} اور تم لوگ نہ تو آپس میں ایک دوسرے کے مال نارواطریقہ سے کھا ؤ اور نہ حاکموں کے آگے ان کو اس غرض کے لیے پیش کرو کہ تمہیں دوسروں کے مال کا کوئی حصہ قصداً ظالمانہ طریقہ سے کھانے کا موقع مل جائے۔[197] {۱۸۸} اے نبی ؐ! لوگ تم سے چاند کی گھٹتی بڑھتی صورتوں کے متعلق پوچھتے ہیں ۔ کہو:یہ لوگوں کے لیے تاریخوں کے تعیین کی اور حج کی علامتیں ہیں۔[198]نیزان سے کہو: یہ کوئی نیکی کا کام نہیں ہے کہ تم اپنے گھروں میں پیچھے کی طرف سے داخل ہوتے ہو ۔ نیکی تو اصل میں یہ ہے کہ آدمی اللہ کی ناراضی سے بچے۔ لہٰذا تم اپنے گھروں میں دروازے ہی سے آیا کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو۔ شاید کہ تمہیں فلاح نصیب ہوجائے۔[199] {۱۸۹} اور تم اللہ کی راہ میں اُن لوگوں سے لڑو جوتم سے لڑتے ہیں ،[200] مگر زیادتی نہ کرو کہ اللہ زیادتی کرنے والوں کو پسند نہیں کرتا۔[201]{۱۹۰} اُن سے لڑوجہاں بھی تمہارا اُن سے مقابلہ پیش آئے اور انہیں نکالوجہاں سے انہوں نے تم کو نکالا ہے ، اس لیے کہ قتل اگر چہ بُرا ہے ، مگر فتنہ اس سے بھی زیادہ برا ہے[202] اور مسجد حرام کے قریب جب تک وہ تم سے نہ لڑیں، تم بھی نہ لڑو ، مگر جب وہ وہاں لڑنے سے نہ چُوکیں ، تو تم بھی بے تکلف انہیں مارو کہ ایسے کافروں کی یہی سزا ہے۔ {۱۹۱} پھر اگر وہ بازآجائیں ، تو جان لو کہ اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے[203]{ ۱۹۲} تم ان سے لڑتے رہو یہاں تک کہ فتنہ باقی نہ رہے اور دین اللہ کے لیے ہوجائے ۔[204]پھر اگر وہ باز آجائیں ، تو سمجھ لو کہ ظالموں کے سوا اور کسی پر دست درازی روا نہیں۔[205]{ ۱۹۳} ماہ حرام کا بدلہ ماہ حرام ہی ہے اور تمام حُرمتوں کا لحاظ برابری کے ساتھ ہوگا۔[206] لہذا جو تم پر دست درازی کرے، تم بھی اُسی طرح اس پردست درازی کرو۔ البتہ اللہ سے ڈرتے رہو اور یہ جان رکھو کہ اللہ انہی لوگوں کے ساتھ ہے، جو اس کی حُدود توڑنے سے پرہیز کرتے ہیں۔{ ۱۹۴} اللہ کی راہ میں خرچ کرو اور اپنے ہاتھوں اپنے آپ کو ہلاکت میں نہ ڈالو۔[207] احسان کا طریقہ اختیار کرو کہ اللہ محسنوں کو پسند کرتا ہے۔[208]{۱۹۵} اللہ کی خوشنودی کے لیے جب حج اور عمرے کی نیت کرو ، تو اُسے پورا کرو ، اور اگر کہیں گِھر جا ؤ تو جو قربانی میسر آئے ،اللہ کی جناب میں پیش کرو [209] اور اپنے سرنہ مونڈو جب تک کہ قربانی اپنی جگہ نہ پہنچ جائے۔[210] مگر جو شخص مریض ہویا جس کے سرمیں کوئی تکلیف ہو اور اس بنا پر اپنا سر منڈوالے ، تو اُسے چاہیے کہ فدیے کے طور پر روزے رکھے یا صدقہ دے یا قربانی کرے ۔[211]پھر اگر تمہیں امن نصیب ہو جائے [212] (اور تم حج سے پہلے مکے پہنچ جا ؤ) تو جو شخص تم میں سے حج کا زمانہ آنے تک عُمرے کا فائدہ اٹھائے ، وہ حسب مقدور قربانی دے ، اور اگر قربانی میسر نہ ہو ، تو تین روزے حج کے زمانے میں اور سات گھر پہنچ کر، اِس طرح پورے دس روزے رکھ لے ۔ یہ رعایت اِن لوگوں کے لیے ہے ، جن کے گھر مسجد حرام کے قریب نہ ہوں۔[213] اللہ کے اِن احکام کی خلاف ورزی سے بچو اور خوب جان لو کہ اللہ سخت سزادینے والا ہے۔{۱۹۶} حج کے مہینے سب کو معلوم ہیں۔ جو شخص ان مقررہ مہینوں میں حج کی نیت کرے ، اُسے خبردار رہنا چاہئے کہ حج کے دوران میں اُس سے کوئی شہوانی فعل[214] ،کوئی بدعملی،[215] کوئی لڑائی جھگڑے کی بات[216] سرزدنہ ہو، اور جو نیک کام تم کروگے ، وہ اللہ کے علم میں ہوگا ۔ سفر حج کے لیے زادِراہ ساتھ لے جا ؤ ، اور سب سے بہتر زادِ راہ پرہیزگاری ہے۔ پس اے ہو شمندو !میری نافرمانی سے پر ہیز کرو۔[217]{۱۹۷} (اور اگر )حج کے ساتھ ساتھ تم اپنے رَبّ کا فضل بھی تلاش کرتے جا ؤ ، تو اس میں کوئی مضائقہ نہیں۔[218] پھر جب عرفات سے چلو، تو مَشْعَرِ حَرام (مُزْدَلفہ) کے پاس ٹھیر کر اللہ کو یاد کرو اور اُس طرح یاد کرو جس کی ہدایت اس نے تمہیں کی ہے ، ورنہ اس سے پہلے تو تم لوگ بھٹکے ہوئے تھے ۔[219]{۱۹۸} پھر جہاں سے اور سب لوگ پلٹتے ہیں وہیں سے تم بھی پلٹو اور اللہ سے معافی چاہو،[220]یقینا اللہ معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔ {۱۹۹} پھر جب اپنے حج کے ارکان ادا کر چکو ، تو جس طرح پہلے اپنے آباء و اجداد کا ذکر کرتے تھے، اس طرح اب اللہ کا ذکر کرو ، بلکہ اس سے بھی بڑھ کر ۔[221] ( مگر اللہ کو یاد کرنے والے لوگوں میں بھی بہت فرق ہے ) اُن میں سے کوئی تو ایسا ہے جو کہتا ہے کہ اے ہمارے رَبّ !ہمیں دنیا ہی میں سب کچھ دیدے ۔ایسے شخص کے لیے آخرت میں کوئی حصہ نہیں۔ {۲۰۰} اور کوئی کہتا ہے کہ اے ہمارے رَبّ ! ہمیں دنیا میں بھی بھلائی دے اور آخرت میں بھی بھلائی ،اور آگ کے عذاب سے ہمیں بچا۔ {۲۰۱} ایسے لوگ اپنی کمائی کے مطابق ( دونوں جگہ ) حصہ پائیں گے۔ اور اللہ کو حساب چُکاتے کچھ دیر نہیں لگتی۔ { ۲۰۲}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)