سورۃالکہف   -  18 : 75-110 / 110 اس نے کہا ’’ میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے؟‘‘ {۷۵} موسیٰ ؑنے کہا ’’اس کے بعد اگر میں آپ سے کچھ پُوچھوں تو آپ مجھے ساتھ نہ رکھیں ۔ لیجئے، اب تو میری طرف سے آپ کو عذر مل گیا‘‘۔{۷۶} پھر وہ آگے چلے یہاں تک کہ ایک بستی میں پہنچے اور وہاں کے لوگوں سے کھانا مانگا مگر انہوں نے ان دونوں کی ضیافت سے انکار کردیا۔ وہاں انہوں نے ایک دیوار دیکھی جو گِراچا ہتی تھی۔ اُس شخص نے اس دیوار کو پھر قائم کردیا۔ موسیٰ ؑنے کہا۔’’ اگر آپ چاہتے تو اس کام کی اجرت لے سکتے تھے‘‘۔ {۷۷} اُس نے کہا ’’ بس میرا تمہارا ساتھ ختم ہو ا۔ اب میں تمہیں اُن باتوں کی حقیقت بتاتا ہوں جن پر تم صبر نہ کرسکے۔ {۷۸} اُس کشتی کا معاملہ یہ ہے کہ وہ چند غریب آدمیوں کی تھی جودریا میں محنت مزدوری کرتے تھے، میں نے چاہا کہ اسے عیب دار کردوں کیونکہ آگے ایک ایسے بادشاہ کا علاقہ تھا جو ہر کشتی کو زبردستی چھین لیتا تھا ۔{۷۹}[1 رہا وہ لڑکا ، تو اس کے والدین مومن تھے، ہمیں اندیشہ ہوا کہ یہ لڑکا اپنی سرکشی اور کفر سے ان کو تنگ کرے گا {۸۰} اس لیے ہم نے چاہا کہ ان کا رَبّ اس کے بدلے ان کو ایسی اولاد دے جو اخلاق میں بھی اس سے بہتر ہو اور جس سے صلہ رحمی بھی زیادہ متوقع ہو{۸۱} اور اِس دیوار کا معاملہ یہ ہے کہ یہ دو یتیم لڑکوں کی ہے جو اس شہر میں رہتے ہیں، اِس دیوار کے نیچے ان بچوں کے لیے ایک خزانہ مدفون ہے اور ان کا باپ ایک نیک آدمی تھا۔ اس لیے تمہارے رَبّ نے چاہا کہ یہ دونوں بچے بالغ ہوں اور اپنا خزانہ نکال لیں، یہ تمہارے رَبّ کی رحمت کی بناپر کیا گیا ہے ، میں نے کچھ اپنے اختیار سے نہیں کردیا ہے۔یہ ہے حقیقت اُن باتوں کی جن پر تم صبر نہ کرسکے‘‘[60]{۸۲} اور (اے نبی ؐ!)یہ لوگ تم سے ذوالقرنین کے بارے میں پوچھتے ہیں۔[61] ان سے کہو ، میں اُس کا کچھ حال تم کو سُناتا ہوں۔[62]{ ۸۳} ہم نے اُس کو زمین میں اقتدار عطا کررکھا تھا اور اسے ہر قسم کے اسباب ووسائل بخشے تھے۔{ ۸۴} اس نے ( پہلے مغرب کی طرف ایک مہم کا ) سروسامان کیا۔{۸۵} حتیٰ کہ جب وہ غروبِ آفتا ب کی حد تک پہنچ گیا [63]تو اس نے سُورج کو ایک کالے پانی میں ڈوبتے دیکھا [64]اور وہاں اسے ایک قوم ملی۔ ہم نے کہا ’’ اے ذُوالقرنین! تجھے یہ مقدرت بھی حاصل ہے کہ ان کو تکلیف پہنچائے اور یہ بھی کہ ان کے ساتھ نیک رویہّ اختیار کرے‘‘۔[65] {۸۶} اس نے کہا،’’ جو اُن میں سے ظلم کرے گا ہم اس کو سزادیں گے، پھر وہ اپنے رَبّ کی طرف پلٹا یا جائے گا اور وہ اسے اور زیادہ سخت عذاب دے گا۔{۸۷} اور جو اُن میں سے ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا ، اُس کے لیے اچھی جزا ہے اور ہم اُس کو نرم احکام دیں گے‘‘۔ {۸۸} پھر اُس نے( ایک دوسری مہم کی) تیاری کی {۸۹} یہاں تک کہ طلوعِ آفتاب کی حد تک جا پہنچا ۔ وہاں اس نے دیکھا کہ سورج ایک ایسی قوم پر طلوع ہورہا ہے جس کے لیے دُھوپ سے بچنے کا کوئی سامان ہم نے نہیں کیا ہے۔[66]{۹۰} یہ حال تھا اُن کا، اور ذوالقرنین کے پاس جو کچھ تھا اُسے ہم جانتے تھے۔{۹۱} پھر اُس نے (ایک اور مہم کا) سامان کیا{۹۲} یہاں تک کہ جب دوپہاڑوں کے درمیان پہنچا[67] تو اسے ان کے پاس ایک قوم ملی جو مشکل ہی سے کوئی بات سمجھتی تھی۔[68]{۹۳} اُن لوگوں نے کہا کہ ’’ اے ذوالقرنین! یاجوج اور ماجوج[69] اِس سرزمین میں فساد پھیلاتے ہیں تو کیا ہم تجھے کوئی ٹیکس اِس کام کے لیے دیں کہ تو ہمارے اور اُن کے درمیان ایک بند تعمیر کردے‘‘ ؟ {۹۴} اس نے کہا’’جو کچھ میرے رَبّ نے مجھے دے رکھا ہے وہ بہت ہے۔ تم بس محنت سے میری مدد کرو ، میں تمہارے اور ان کے درمیان بند بنائے دیتا ہوں۔[70] {۹۵} مجھے لوہے کی چادریں لاکردو‘‘۔آخر جب دونوں پہاڑوں کے درمیانی خلا کو اس نے پاٹ دیا تو لوگوں سے کہا کہ اب آگ دہکا ؤ۔حتیٰ کہ جب ( یہ آ ہنی دیوار ) بالکل آگ کی طرح سُرخ کردی تو اس نے کہا ’’ لا ؤ ،اب میں اس پر پگھلا ہواتانبا اُنڈیلوں گا‘‘۔ {۹۶} (یہ بند ایسا تھا کہ ) یاجوج وماجوج اس پر چڑھ کر بھی نہ آسکتے تھے اور اس میں نقب لگانا ان کے لیے اور بھی مشکل تھا۔{۹۷} ذوالقرنین نے کہا ’’ یہ میرے رَبّ کی رحمت ہے۔ مگر جب میرے رَبّ کے وعدے کا وقت آئے گا تو وہ اس کو پیوند خاک کردے گا۔[71] اور میرے رَبّ کا وعدہ برحق ہے ‘‘۔[72]{۹۸} اور اُس [73]روز ہم لوگوں کو چھوڑ دیں گے کہ (سمندر کی موجوں کی طرح) ایک دوسرے سے گُتھّم گُتّھاہوں اورصُورپُھونکا جائے گا اور ہم سب انسانوں کو ایک ساتھ جمع کریں گے۔{۹۹} اور وہ دن ہوگا جب ہم جہنم کو کافروں کے سامنے لائیں گے{۱۰۰} اُن کافروں کے سامنے جو میری نصیحت کی طرف سے اندھے بنے ہوئے تھے اور کچھ سننے کے لیے تیار ہی نہ تھے۔{۱۰۱} تو کیا [74]یہ لوگ ، جنہوں نے کفر اختیار کیا ہے ، یہ خیال رکھتے ہیں کہ مجھے چھوڑ کر میرے بندوںکو اپنا کارساز بنالیں؟ ہم نے ایسے کافروں کی ضیافت کے لیے جہنم تیار کررکھی ہے۔ { ۱۰۲} (اے نبی ؐ!) ان سے کہو ، کیا ہم تمہیں بتائیں کہ اپنے اعمال میں سب سے زیادہ ناکام ونامراد لوگ کون ہیں؟{۱۰۳} وہ کہ دنیا کی زندگی میں جن کی ساری سعی وجہدراہ ِ راست سے بھٹکی رہی [76]اور وہ سمجھتے رہے کہ وہ سب کچھ ٹھیک کررہے ہیں ۔{۱۰۴} یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رَبّ کی آیات کو ماننے سے انکار کیا اور اُس کے حضور پیشی کا یقین نہ کیا۔ اس لیے اُن کے سارے اعمال ضائع ہوگئے، قیامت کے روز ہم اُنہیں کوئی وزن نہ دیں گے۔[77] {۱۰۵} اِن کی جزا جہنم ہے اُس کفر کے بدلے جو انہوں نے کیا اور اُس مذاق کی پاداش میں جووہ میری آیات اور میرے رسُولوں کے ساتھ کرتے رہے۔{۱۰۶} البتہ وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کیے ، اُن کی میزبانی کے لیے فردوس[78] کے باغ ہوں گے{۱۰۷} جن میں وہ ہمیشہ رہیں گے اور کبھی اس جگہ سے نکل کر کہیں جانے کو اُن کاجی نہ چاہے گا۔[79]{۱۰۸} (اے نبی ؐ ! )کہو کہ اگر سمندر میرے رَبّ کی باتیں[80] لکھنے کے لیے روشنائی بن جائے تو وہ ختم ہوجائے مگر میرے رَبّ کی باتیں ختم نہ ہوں،بلکہ اگر اتنی ہی روشنائی ہم اور لے آئیں تو وہ بھی کفایت نہ کرے۔{۱۰۹} اے نبی ؐ! کہو کہ میں تو ایک انسان ہوں تم ہی جیسا ، میری طرف وحی کی جاتی ہے کہ تمہارا اِلٰہ بس ایک ہی اِلٰہ ہے ، پس جو کوئی اپنے رَبّ کی ملاقات کا اُمیدوار ہو ،اُسے چاہیے کہ نیک عمل کرے اور بندگی میں اپنے رَبّ کے ساتھ کسی اور کو شریک نہ کرے۔{۱۱۰}
سورۃمریم   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 19 : 1-98 / 98کٓھٰیٰعٓصٓ۔{۱} ذِکر [1]ہے اُس رحمت کا جو تیرے رَبّ نے اپنے بندے زَکرِیاؑ [2]پر کی تھی{ ۲} جب کہ اس نے اپنے رَبّ کو چُپکے چُپکے پُکارا۔{۳} اُس نے عرض کیا’’ اے پروردگار !میری ہڈیاں تک گھل گئی ہیں اور سربڑھاپے سے بھڑک اٹھاہے،اے پروردگار! میں کبھی تجھ سے دُعا مانگ کرنا مراد نہیں رہا{۴} مجھے اپنے پیچھے اپنے بھائی بندوں کی بُرائیوں کا خوف [3]ہے اور میری بیوی بانجھ ہے۔ تو مجھے اپنے فضل ِخاص سے ایک وارِث عطا کردے {۵} جو میرا وارث بھی ہو اور آلِ یعقوبؑ کی میراث بھی [4]پائے، اور اے پروردگار! اُس کو ایک پسندیدہ انسان بنا۔‘‘{۶} ( جواب دیا گیا) ’’ اے زَکرِیا ؑ!ہم تجھے ایک لڑکے کی بشارت دیتے ہیں جس کا نام یحییٰ ہوگا ہم نے اِس نام کا کوئی آدمی اِس سے پہلے پیدا نہیں کیا‘‘[5]{۷} عرض کیا ’’پروردگار ! بھلا میرے ہاں کیسے بیٹا ہوگا جبکہ میری بیوی بانجھ ہے اور میں بوڑھا ہو کر سوکھ چکاہوں ‘‘؟{۸} جواب ملا’’ایسا ہی ہوگا۔ تیرا رَبّ فرماتا ہے کہ یہ تو میرے لئے ایک ذراسی بات ہے ، آخر اِس سے پہلے میں تجھے پیدا کرچکا ہوں جب کہ تو کوئی چیزنہ تھا‘‘۔[6]{۹} زَکرِیاؑ نے کہا ،’’پروردگار! میرے لئے کوئی نشانی مقرر کردے۔ فرمایا ’’تیرے لئے نشانی یہ ہے کہ تُوپیہم تین دن لوگوں سے بات نہ کرسکے گا ‘‘۔ {۱۰} چنانچہ وہ محراب [7]سے نکل کر اپنی قوم کے سامنے آیا اور اس نے اشارے سے اُن کو ہدایت کی کہ صبح وشام تسبیح کرو۔[8]{۱۱} اے یحییٰ ؑ ! کتاب اِلہٰی کو مضبوط تھام لے۔[9] ہم نے اُسے بچپن ہی میں ’’ حکم ‘‘[10]سے نوازا{۱۲} اور اپنی طرف سے اس کو نرم دلی[11] اور پَاکیزگی عطا کی، اور وہ بڑا پرہیزگار تھا{۱۳} اور اپنے والدین کا حق شناس تھا۔ وہ جبّارنہ تھا او رنہ نافرمان۔{۱۴} سلام اُس پر جس روز کہ وہ پیدا ہوا اور جس دن وہ مرے اور جس روز وہ زندہ کرکے اٹھایا جائے۔[12]{۱۵} اور اے نبی ؐ! اس کتاب میں مریم کا حال بیان کرو،[13] جبکہ وہ اپنے لوگوں سے الگ ہو کر شرقی جانب گوشہ نشین ہوگئی تھی {۱۶} اور پردہ ڈال کر اُن سے چُھپ بیٹھی تھی۔[14] اس حالت میں ہم نے اس کے پاس اپنی روح کو ( یعنی فرشتے کو ) بھیجا اور وہ اس کے سامنے ایک پورے انسان کی شکل میں نمودار ہوگیا۔ {۱۷} مریم یکایک بول اُٹھی کہ ’’ اگر تو کوئی متقی آدمی ہے تو میں تجھ سے اللہ کی پناہ مانگتی ہوں‘‘ ۔{۱۸} اُس نے کہا ’’میں تو تیرے رَبّ کافرستادہ ہوں اور اس لیے بھیجا گیا ہوں کہ تجھے ایک پاکیزہ لڑکادُوں ‘‘۔{۱۹} مریم نے کہا ’’میرے ہاں کیسے لڑکا ہوگا جبکہ مجھے کسی بشر نے چُھواتک نہیں ہے اور میں کوئی بدکار عورت نہیں ہوں‘‘ ۔{۲۰} فرشتے نے کہا’’ ایسا ہی ہوگا تیرا رَبّ فرماتا ہے کہ ایسا کرنا میرے لئے بہت آسان ہے اور ہم یہ اس لیے کریں گے کہ اُس لڑکے کولوگوں کے لیے ایک نشانی بنائیں[15] اور اپنی طرف سے ایک رحمت۔ اور یہ کام ہوکر رہنا ہے‘‘۔{۲۱} مریم کو اِس بچے کا حمل رہ گیا اور وہ اس حمل کو لئے ہوئے ایک دُور کے مقام پر چلی گئی۔ [16]{۲۲} پھر زچگی کی تکلیف نے اُسے ایک کھجور کے درخت کے نیچے پہنچا دیا۔ وہ کہنے لگی ’’ کاش میں اس سے پہلے ہی مرجاتی اور میرانام ونشان نہ رہتا ۔‘‘[17] { ۲۳} فرشتے نے پائینتی سے اس کو پکار کر کہا ’’غم نہ کر تیرے رَبّ نے تیرے نیچے ایک چشمہ رواں کردیا ہے،{ ۲۴} اور تو ذرا اِس درخت کے تنے کو ہلا، تیرے اوپر تروتازہ کھجوریں ٹپک پڑیں گی۔{۲۵} پس توکھا اور پی اور اپنی آنکھیں ٹھنڈی کر۔ پھر اگر کوئی آدمی تجھے نظر آئے تو اُس سے کہہ دے کہ میں نے رحمان کے لیے روزے کی نذرمانی ہے ، اس لیے آج میں کسی سے نہ بولوں گی ‘‘۔[18]{۲۶} پھر وہ اس بچّے کو لئے ہوئے اپنی قوم میں آئی۔ لوگ کہنے لگے۔ ’’ اے مریم !یہ تو، تونے بڑا پاپ کرڈالا۔{۲۷} اے ہارون کی بہن! [19] نہ تیرا باپ کوئی بُرا آدمی تھا اور نہ تیری ماں ہی کوئی بدکار عورت تھی۔‘‘{۲۸} مریم نے بچّے کی طرف اشارہ کردیا۔ لوگوں نے کہا’’ہم اِس سے کیا بات کریں جو گہوارے میں پڑا ہوا ایک بچّہ[20] ہے ‘‘؟{۲۹} بچہ بول اٹھا ’’ میں اللہ کا بندہ ہوں۔ اُس نے مجھے کتاب دی ، اور نبی بنایا۔{۳۰} اور بابرکت کیا جہاں بھی میں رہوں ، اور نماز اور زکوٰۃ کی پابندی کا حکم دیا جب تک میں زندہ رہوں، {۳۱} اور اپنی والدہ کا حق ادا کرنے والا بنایا اور مجھ کوجَبّار اور شقی نہیں بنایا۔{۳۲} سلام ہے مجھ پر جبکہ میں پیدا ہوا اور جبکہ میں مروں اور جبکہ زندہ کرکے اٹھایا جا ؤں‘‘۔ [21]{۳۳} یہ ہے عیسیٰؑ ابن مریم اور یہ ہے اس کے بارے میں وہ سچّی بات جس میں لوگ شک کر رہے ہیں۔ {۳۴} اللہ کا یہ کام نہیں کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے۔ وہ پاک ذات ہے۔ وہ جب کسی بات کا فیصلہ کرتا ہے تو کہتا ہے کہ ہوجا،اور بس وہ ہوجاتی ہے۔[22]{۳۵} (ا ور عیسیٰ ؑ نے کہا تھا کہ )’’ اللہ میرا رَبّ بھی ہے اور تمہارا رَبّ بھی ، پس تُم اُسی کی بندگی کرو ، یہی سیدھی راہ[23] ہے ‘‘۔ {۳۶} مگر پھر مختلف گروہ [24]باہم اختلاف کرنے لگے۔ سوجن لوگوں نے کفر کیا ان کے لیے وہ وقت بڑی تباہی کا ہوگا جب کہ وہ ایک بڑادن دیکھیں گے {۳۷} جب وہ ہمارے سامنے حاضر ہوں گے اس روز توان کے کان بھی خوب سُن رہے ہوں گے اور اُن کی آنکھیں بھی خوب دیکھتی ہو ںگی، مگر آج یہ ظالم کھلی گمراہی میں مبتلا ہیں۔{۳۸} ( اے نبی ؐ!) اِس حالت میں جب کہ یہ لوگ غافل ہیں اور ایمان نہیں لارہے ہیں ، انہیں اُس دن سے ڈرا دو جبکہ فیصلہ کردیا جائے گا اور پچھتا وے کے سواکوئی چارہ ٔکارنہ ہوگا۔{۳۹} آخر کارہم ہی زمین اور اس کی ساری چیزوں کے وارث ہوں گے اور سب ہماری طرف ہی پلٹائے جائیں گے۔[25]{۴۰} اور اس کتاب میں ابراہیم ؑ کا قصہ بیان کرو [26]، بے شک وہ ایک راست باز انسان اور ایک نبی تھا۔{۴۱} (انہیں ذرا اُس موقع کی یاد دلا ؤ) جبکہ اس نے اپنے باپ سے کہا کہ ’’ ا بّا جان !آپ کیو ںاُن چیزوں کی عبادت کرتے ہیں جو نہ سُنتی ہیں،نہ دیکھتی ہیں اور نہ آپ کے کوئی کام بناسکتی ہیں ؟ {۴۲} ابّا جان!میرے پاس ایک ایسا علم آیا ہے جو آپ کے پاس نہیں آیا، آپ میرے پیچھے چلیں ، میں آپ کو سیدھاراستہ بتا ؤں گا۔ {۴۳} ابّاجان! آپ شیطان کی بندگی نہ کریں[27] ، شیطان تو رحمن کانافرمان ہے۔ { ۴۴} ابّاجان ! مجھے ڈرہے کہ کہیں آپ رحمن کے عذاب میں مبتلا نہ ہوجائیں اور شیطان کے ساتھی بن کررہیں ‘‘{۴۵} باپ نے کہا، ’’ابراہیم ؑ! کیا تو میرے معبودوں سے پھر گیا ہے ؟ اگر تو باز نہ آیا تو میں تجھے سنگسار کردوںگا بس تو ہمیشہ کے لیے مجھ سے الگ ہوجا،‘‘{۴۶} ابراہیم ؑ نے کہا ’’ سلام ہے آپ کو میں اپنے رَبّ سے دعا کرو ں گا کہ آپ کو معاف کردے ، میرا رَبّ مجھ پر بڑاہی مہربان ہے۔{۴۷} میں آپ لوگوں کو بھی چھوڑتا ہوں اور ان ہستیوں کو بھی جنہیں آپ لوگ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے ہیں۔ میں تو اپنے رَبّ ہی کو پکارو ںگا ، اُمید ہے کہ میں اپنے رَبّ کو پکار کرنا مرادنہ رہوں گا۔ ‘‘{۴۸} پس جب وہ اُن لوگوں سے اور اُن کے معبود انِ غیراللہ سے جُدا ہوگیا تو ہم نے اس کو اسحاق ؑ اور یعقوب ؑجیسی اولاد دی اور ہر ایک کو نبی بنایا {۴۹} اور ان کو اپنی رحمت سے نوازا اور ان کو سچی نام وری عطا کی۔[28]{۵۰} اور ذکر کرو اِس کتاب میں موسیٰ ؑکا۔ وہ ایک چیدہ شخص [29]تھا اور رسول نبی تھا۔ [30] {۵۱} ہم نے اُس کو طور کے داہنی جانب سے پکارا [31]اور راز کی گفتگو سے اس کو تقرب عطا کیا [32] {۵۲} اور اپنی مہربانی سے اس کے بھائی ہارونؑ کو نبی بناکر اسے (مدد گار کے طور پر ) دیا۔ {۵۳} اور اس کتاب میں اسماعیل ؑ کا ذکر کرو۔ وہ وعدے کا سچّا تھا اور رسول نبی تھا۔{۵۴} وہ اپنے گھروالوں کو نماز اور زکوٰۃ کا حکم دیتا تھا اور اپنے رَبّ کے نزدیک ایک پسندیدہ انسان تھا۔{۵۵} اور اس کتاب میں ادریس ؑ [33]کا ذکر کرو۔ وہ ایک راست باز انسان اور ایک نبی تھا۔{۵۶} اور اسے ہم نے بلند مقام پر اٹھایا تھا ۔[34]{۵۷} یہ وہ پیغمبر ہیں جن پر اللہ نے انعام فرمایاآدم ؑ کی اولاد میں سے ، اور اُن لوگوں کی نسل سے جنہیں ہم نے نوحؑ کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا ، اور ابراہیم ؑ کی نسل سے اور اسرائیلؑ کی نسل سے ۔ اوریہ اُن لوگوں میں سے تھے جن کو ہم نے ہدایت بخشی اور برگزیدہ کیا۔ اُن کا حال یہ تھا کہ جب رحمان کی آیات ان کوسنائی جاتیں تو روتے ہوئے سجدے میں گِر جاتے تھے۔{۵۸} پھر ان کے بعد وہ ناخلف لوگ ان کے جانشین ہوئے جنہوں نے نماز کو ضائع [35]کیا اور خواہشاتِ نفس کی پیروی کی[36]، پس قریب ہے کہ وہ گمراہی کے انجام سے دوچارہوں۔ {۵۹} البتہ جو توبہ کرلیں اور ایمان لے آئیں اور نیک عملی اختیار کرلیں وہ جنت میں داخل ہوں گے اور ان کی ذرّہ برابر حق تلفی نہ ہوگی {۶۰} ان کے لیے ہمیشہ رہنے والی جنتیں ہیں جن کا رحمان نے اپنے بندوں سے درپردہ وعدہ کررکھا ہے [37]اور یقینا یہ وعدہ پورا ہوکر رہنا ہے۔{۶۱} وہاں وہ کوئی بیہُودَہ بات نہ سنیں گے،جو کچھ بھی سُنیں گے ٹھیک ہی سُنیں گے[38] اور اُن کا رزق انہیں پیہم صبح وشام ملتا رہے گا۔{ ۶۲} یہ ہے وہ جنّت جس کا وارث ہم اپنے بندوں میں سے اُس کو بنائیں گے جو پرہیز گار رہا ہے۔{ ۶۳} (اے نبی ؐ! [39] )ہم تمہارے رَبّ کے حکم کے بغیر نہیں اُتراکرتے۔ جو کچھ ہمارے آگے ہے اور جو کچھ پیچھے ہے اور جو کچھ اس کے درمیان ہے ہر چیز کا مالک وہی ہے اور تمہارا رَبّ بھولنے والا نہیں ہے۔{ ۶۴} وہ رَبّ ہے آسمانوں کا اور زمین کا اور ان ساری چیزوں کا جو آسمانوں اور زمین کے درمیان ہیں ، پس تم اُس کی بندگی کرو اور اُسی کی بندگی پر ثابت قدم رہو[40] ۔ کیا ہے کوئی ہستی تمہارے علم میں اس کی ہم پایہ ؟[41]{۶۵} انسان کہتا ہے کیا واقعی جب میں مرچکوں گا تو پھر زندہ کرکے نکال لایا جا ؤں گا؟ {۶۶} کیا انسان کو یاد نہیں آتا کہ ہم پہلے اس کو پیدا کر چکے ہیں جبکہ وہ کچھ بھی نہ تھا ؟{۶۷} تیرے رَبّ کی قسم ، ہم ضرور اِن سب کو اور ان کے ساتھ شیاطین کو بھی[42] گھیرلائیں گے ، پھر جہنم کے گردلا کر اِنہیں گھٹنوں کے بل گرادیں گے {۶۸} پھر ہر گروہ میں سے ہر اُس شخص کو چھانٹ لیں گے جو رحمان کے مقابلے میں زیادہ سرکش بناہوا تھا[43] {۶۹} پھر یہ ہم جانتے ہیں کہ ان میں سے کون سب سے بڑھ کر جہنم میں جھونکے جانے کا مستحق ہے۔ {۷۰} تم میں سے کوئی ایسا نہیں جو جہنم پر واردنہ ہو ، [44]یہ توایک طے شدہ بات ہے جسے پُورا کرنا تیرے رَبّ کا ذِمّہ ہے۔ {۷۱} پھر ہم اُن لوگوں کو بچالیں گے جو ( دنیا میں ) متقی تھے اور ظالموں کو اُسی میں گِراہوا چھوڑدیں گے ۔{۷۲} اِن لوگوں کو جب ہماری کھلی کھلی آیات سُنائی جاتی ہیں تو انکار کرنے والے ایمان لانے والوں سے کہتے ہیں ’’ بتا ؤ ہم دونوں گروہوں میں سے کون بہتر حالت میں ہے اور کس کی مجلسیں زیادہ شاندار ہیں‘‘؟[45] {۷۳} حالاں کہ ان سے پہلے ہم کتنی ہی ایسی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں جو اِن سے زیادہ سروسامان رکھتی تھیں اور ظاہری شان و شوکت میں ان سے بڑھی ہوئی تھیں۔{۷۴} اِن سے کہو ، جو شخص گُمراہی میں مبتلا ہوتا ہے اُسے رحمان ڈھیل دیا کرتا ہے یہاں تک کہ جب ایسے لوگ وہ چیز دیکھ لیتے ہیں جس کا اُن سے وعدہ کیا گیا ہے ۔ خواہ وہ عذابِ اِلہٰی ہویا قیامت کی گھڑی ۔تب انہیں معلوم ہوجاتا ہے کہ کس کا حال خراب ہے اور کس کا جتھا کمزور ! {۷۵} اِس کے برعکس جو لوگ راہ ِراست اختیار کرتے ہیں اللہ اُن کو راست روی میں ترقی عطا فرماتا ہے[46] اور باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیر ے رَبّ کے نزدیک جزا اور انجام کے اعتبار سے بہتر ہیں۔{۷۶} پھر تو نے دیکھا اُس شخص کو جو ہمار ی آیات کو ماننے سے انکارکرتا ہے اور کہتا ہے کہ میں تومال اور اولاد سے نوازا ہی جاتا رہوں[47] گا؟ {۷۷} کیا اُسے غیب کا پتہ چل گیا ہے یا اس نے رحمان سے کوئی عہد لے رکھا ہے؟{۷۸} ہرگز نہیں، جو کچھ یہ َبکْتاہے اسے ہم لکھ لیں [48]گے اور اس کے لیے سزا میں اور زیادہ اضافہ کریں گے ۔{۷۹} جس سروسامان اور لا ؤ لشکر کا یہ ذکر کررہا ہے وہ سب ہمارے پاس رہ جائے گا اور یہ اکیلا ہمارے سامنے حاضر ہوگا۔{۸۰} اِن لوگوں نے اللہ کو چھوڑ کراپنے کچھ اِلٰہ بنا رکھے ہیں کہ وہ اِن کے پشتیبان ہوں[49] گے۔{۸۱} کوئی پشتیبان نہ ہوگا، وہ سب اِن کی عبادت کا انکار کریں [50]گے اور اُلٹے اِن کے مخالف بن جائیں گے۔{۸۲} کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ ہم نے منکرین حق پر شیاطین چھوڑ رکھے ہیں جو انہیں خوب خوب ( مخالفتِ حق پر) اُکسار ہے ہیں؟{۸۳} اچھا ، تو اب ان پرنُزول عذاب کے لیے بیتاب نہ ہو۔ ہم ان کے دِن گِن رہے ہیں [51]{۸۴} وہ دن آنے والا ہے جب متقی لوگوں کو ہم مہمانوں کی طرح رحمان کے حضور پیش کریں گے {۸۵} اور مجرموں کو پیاسے جانوروں کی طرح جہنم کی طرف ہانک لے جائیں گے ۔{۸۶} اس وقت لوگ کوئی سفارش لانے پر قادرنہ ہوں گے بجز اُس کے جس نے رحمان کے حضور سے پروانہ حاصل کرلیا ہو۔ [52]{۸۷} وہ کہتے ہیں کہ رحمان نے کسی کو بیٹا بنایاہے۔ {۸۸} سخت بے ہودہ بات ہے جو تم لوگ گھڑلائے ہو ۔{۸۹} قریب ہے کہ آسمان پھٹ پڑیں ، زمین شق ہوجائے اور پہاڑ گرجائیں {۹۰} اس بات پر کہ لوگوں نے رحمان کے لیے اولاد ہونے کا دعویٰ کیا !{۹۱} رحمان کی یہ شان نہیں ہے کہ وہ کسی کو بیٹا بنائے ۔{۹۲} زمین اور آسمانوں کے اندر جو بھی ہیں سب اس کے حضور بندوں کی حیثیت سے پیش ہونے والے ہیں۔ {۹۳} سب پروہ محیط ہے اور اُس نے اُن کو شمار کررکھا ہے۔{۹۴} سب قیامت کے روز فرداً فرداً اس کے سامنے حاضر ہوں گے۔{۹۵} یقینا جو لوگ ایمان لے آئے ہیں اور عمل صالح کررہے ہیں عنقریب رحمان اُن کے لیے دلوں میں محبت پیدا کردے گا۔[53] {۹۶} پس (اے نبی ؐ!) اِس کلام کو ہم نے آسان کرکے تمہاری زبان میں اِسی لئے نازل کیا ہے کہ تم پرہیز گاروں کو خوشنجری دے دو اور ہٹ دھرم لوگوں کو ڈرادو۔{۹۷} اِن سے پہلے ہم کتنی ہی قوموں کو ہلاک کرچکے ہیں،پھر آج کہیں تم ان کا نشان پاتے ہویا اُن کی بھنک بھی کہیں سنائی دیتی ہے؟{۹۸}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)