سورۃبنی اسرائیل   -  17 : 99-111 / 111 کیا اِن کو یہ نہ سوجھا کہ جس اللہ نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا ہے وہ ان جیسوں کو پیدا کرنے کی ضرور قدرت رکھتا ہے؟ اُس نے اِن کے حشر کے لیے ایک وقت مقرر کررکھا ہے جس کا آنا یقینی ہے ، مگر ظالموں کو اصرار ہے کہ وہ اس کا انکارہی کریں گے۔{۹۹} (اے نبی ؐ!) ان سے کہو ، اگر کہیں میرے رب کی رحمت کے خزانے تمہارے قبضے میں ہوتے تو تم خرچ ہوجانے کے اندیشے سے ضرور ان کو روک رکھتے۔واقعی انسان بڑاتنگ دل واقع ہوا ہے ۔[112] {۱۰۰} ہم نے موسیٰ ؑکو نو (۹)نشانیاں عطا کی تھیں جو صریح پر طور پر دکھائی دے رہی تھیں،[113] اب یہ تم خود بنی اسرائیل سے پُوچھ لو کہ جب موسیٰ ؑ اُن کے ہاں آئے تو فرعون نے یہی کہا تھا ناکہ ’’ اے موسیٰ ؑ! میں سمجھتا ہوں کہ تُو ضرور ایک سحرزدہ آدمی ہے‘‘۔[114]{۱۰۱} موسیٰ ؑ نے اس کے جواب میں کہا ’’ تُو خوب جانتا ہے کہ یہ بصیرت افروز نشانیاں زمین اور آسمانوں کے رب کے سواکسی نے نازل نہیں کی ہیں،[115] اور میرا خیال یہ ہے کہ اے فرعون! تو ضرور ایک شامت زدہ آدمی ہے‘‘۔[116]{۱۰۲} آخر کار فرعون نے ارادہ کیا کہ موسیٰ ؑ اور بنی اسرائیل کو زمین سے اکھاڑپھینکے ، مگر ہم نے اُس کو اور اُس کے ساتھیوں کو اکٹھا غرق کردیا {۱۰۳} اور اِس کے بعد بنی اسرائیل سے کہا کہ اب تم زمین میں بسو ،[117] پھر جب آخرت کے وعدے کا وقت آن پورا ہوگا تو ہم تم سب کو ایک ساتھ لاحاضر کریں گے۔ { ۱۰۴} اِس قرآن کو ہم نے حق کے ساتھ نازل کیا ہے اور حق ہی کے ساتھ یہ نازل ہُوا ہے ، اور( اے نبی ؐ!) تمہیں ہم نے اس کے سوا اور کسی کام کے لیے نہیں بھیجا کہ ( جو مان لے اُسے ) بشارت دے دو اور ( جو نہ مانے اُسے) مُتنّبہ کردو ۔[118]{۱۰۵} اور اِس قرآن کو ہم نے تھوڑا تھوڑا کرکے نازل کیا ہے تا کہ تم ٹھہر ٹھہر کرا سے لوگوں کو سنا ؤ ، اور اسے ہم نے ( موقع موقع سے ) بتدریج اُتارا ہے۔[119]{۱۰۶} (اے نبی ؐ! ) ان لوگوں سے کہہ دو کہ تُم اسے مانو یا نہ مانو ، جن لوگوں کو اس سے پہلے علم دیا گیا ہے[120] انہیں جب یہ سُنایا جاتا ہے تو وہ منھ کے بل سجدے میں گرجاتے ہیں{۱۰۷} اور پکار اٹھتے ہیں ’’ پاک ہے ہمارا رَبّ ، اس کا وعدہ تو پورا ہونا ہی تھا‘‘۔[121]{۱۰۸} اور وہ منھ کے بل روتے ہوئے گِرجاتے ہیں اور( اسے سُن کر) اُن کا خشوع اور بڑھ جاتا ہے- [122]{۱۰۹} (اے نبی ؐ!) اُن سے کہو ’’ اللہ کہہ کر پکارو یا رحمان کہہ کر، جس نام سے بھی پکارو اُس کے لیے سب اچھے ہی نام ہیں ،[123] اور اپنی نماز نہ بہت زیادہ بلند آواز سے پڑھو اور نہ بہت پست آواز سے ، ان دونوں کے درمیان اُوسط درجے کا لہجہ اختیار کرو‘‘ ۔ [124]{۱۱۰} او رکہو’’ تعریف ہے اُس اللہ کے لیے جس نے نہ کسی کو بیٹا بنایا ، نہ کوئی بادشاہی میں اُس کا شریک ہے ، اور نہ وہ عاجز ہے کہ کوئی اُس کا پُشتیبان ہو‘‘[125]اور اُس کی بڑائی بیان کرو ، کمال درجے کی بڑائی۔{۱۱۱}
سورۃالکہف   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 18 : 1-74 / 110تعریف اللہ کے لیے ہے جس نے اپنے بندے پر یہ کتاب نازل کی اور اس میں کوئی ٹیڑھ نہ رکھی۔[1] {۱} ٹھیک ٹھیک سیدھی بات کہنے والی کتاب، تاکہ وہ لوگوں کو اللہ کے سخت عذاب سے خبردار کر دے ، اور ایمان لاکر نیک عمل کرنے والوں کو خوش خبر ی دیدے کہ ان کے لیے اچھا اجر ہے۔ { ۲} جس میں وہ ہمیشہ رہیں گے۔{ ۳} اور اُن لوگوں کوڈرا دے جو کہتے ہیں کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔[2] { ۴} اس بات کا نہ اُنہیں کوئی علم ہے اور نہ ان کے باپ دادا کو تھا۔[3] بڑی بات ہے جو ان کے منھ سے نکلتی ہے ، وہ محض جُھوٹ بکتے ہیں۔ {۵} اچھا ، تو( اے نبی ؐ!) شاید تم اِن کے پیچھے غم کے مارے اپنی جان کھودینے والے ہو اگر یہ اس تعلیم پر ایمان نہ لائے۔[4]{۶} واقعہ یہ ہے کہ یہ جو کچھ سروسامان بھی زمین پر ہے اِس کو ہم نے زمین کی زینت بنایا ہے تاکہ ِان لوگوں کو آزمائیں اِن میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔ {۷} آخر کار اِس سب کو ہم ایک چٹیل میدان بنادینے والے ہیں۔[5]{۸} کیا تم سمجھتے ہو کہ غار [6]اور کتبے[7] والے ہماری کوئی بڑی عجیب نشانیو ں میں سے تھے ؟[8]{۹} جب وہ چند نوجوان غار میں پناہ گزیں ہوئے اور انہوں نے کہا کہ ’’ اے پروردگار !ہم کو اپنی رحمتِ خاص سے نواز اور ہمارا معاملہ درست کردے ‘‘۔{۱۰} تو ہم نے اُنہیں اُسی غار میں تھپک کرسالہا سال کے لیے گہری نیند سُلادیا ۔{۱۱} پھر ہم نے انہیں اٹھایا تا کہ دیکھیں اُن کے دوگروہوں میں سے کون اپنی مدّتِ قیام کا ٹھیک شمار کرتا ہے۔{۱۲} ہم اِن کا اصل قصّہ تمہیں سُناتے ہیں ۔ [9]وہ چند نوجوان تھے جو اپنے رب پر ایمان لے آئے تھے اور ہم نے ان کو ہدایت میں ترقی بخشی تھی ۔ [10]{۱۳} ہم نے ان کے دل اُس وقت مضبوط کردیا جب وہ اُٹھے اور انہوں نے یہ اعلان کردیا کہ ’’ ہمارا رب تو بس وہی ہے جو آسمانوں اور زمین کا رب ہے ہم اُسے چھوڑ کرکسی دوسرے معبود کو نہ پکاریں گے ۔ اگر ہم ایسا کریں تو بالکل بیجابات کریں گے ‘‘۔ { ۱۴} ( پھر انہوں نے آپس میں ایک دوسرے سے کہا )’’ یہ ہماری قوم تو ربّ ِکائنات کو چھوڑ کردوسرے اِلٰہ بنا بیٹھی ہے ۔ یہ لوگ ان کے معبود ہونے پر کوئی واضح دلیل کیوں نہیں لاتے ؟ آخر اُس شخص سے بڑا ظالم اور کون ہوسکتا ہے جو اللہ پر جھوٹ باندھے ؟{۱۵} اب جبکہ تم ان سے اور ان کے معبود انِ غیر اللہ سے بے تعلق ہوچکے ہوتو چلو اب فلاں غارمیں چل کر پنا ہ لو۔[11] تمہارا رب تم پر اپنی رحمت کا دامن وسیع کرے گا اور تمہارے کام کے لیے سروسامان مہیا کردے گا۔ ‘‘{۱۶} تم انہیں غار میں دیکھتے [12] تو تمہیں یوں نظر آتا کہ سُورج جب نکلتا ہے تو ان کے غار کو چھوڑ کر دائیں جانب چڑھ جاتا ہے اور جب غروب ہوتا ہے تو ان سے بچ کر بائیں جانب اُتر جاتا ہے اور وہ ہیں کہ غار کے اندر ایک وسیع جگہ میں پڑے ہیں ۔ [13]یہ اللہ کی نشانیوں میں سے ایک ہے، جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے اور جسے اللہ بھٹکادے اس کے لیے تم کوئی وَلیِ مُرشد نہیں پاسکتے۔ {۱۷} تم انہیں دیکھ کریہ سمجھتے کہ وہ جاگ رہے ہیں، حالانکہ وہ سورہے تھے۔ ہم انہیں دائیں ، بائیں کروٹ دِلواتے رہتے تھے[14] اور ان کا کُتّا غار کے دہانے پرہاتھ (اپنے دونوں بازو) پھیلائے بیٹھا تھا۔ اگر تم کہیں جھانک کرانہیں دیکھتے تو اُلٹے پا ؤں بھاگ کھڑے ہوتے اور تم پر ان کے نظارے سے دہشت بیٹھ جاتی۔ [15]{۱۸} اور اسی عجیب کرشمے سے ہم نے انہیں اُٹھابٹھایا [16]تا کہ ذرا آپس میں پوچھ گچھ کریں ۔ اُن میں سے ایک نے پوچھا’’ کہو ، کتنی دیر اس حال میں رہے ؟‘‘ دوسروں نے کہا ’’ شاید دن بھر یا اس سے کچھ کم رہے ہوں گے۔پھر وہ بولے ’’اللہ ہی بہتر جانتا ہے کہ ہمارا کتنا وقت اس حالت میں گزرا ۔ چلو ،اب اپنے میں سے کسی کو چاندی کا یہ سِکّہ دے کر شہر بھیجیں اور وہ دیکھے کہ سب سے اچھا کھانا کہاں ملتا ہے۔ وہاں سے وہ کچھ کھانے کے لیے لائے۔ اور چاہیے کہ ذرا ہوشیاری سے کام کرے ، ایسا نہ ہو کہ وہ کسی کو ہمارے یہاں ہونے سے خبردار کر بیٹھے ۔{۱۹} اگر کہیں ان لوگوں کا ہاتھ ہم پر پڑگیا توبس سنگسارہی کر ڈالیں گے یاپھر زبردستی ہمیں اپنی مِلّت میں واپس لے جائیں گے۔اور ایسا ہوا تو ہم کبھی فلاح نہ پاسکیں گے‘‘۔{۲۰} اِس طرح ہم نے اہل شہر کو اُن کے حال پر مطلع کیا[17] تا کہ لوگ جان لیں کہ اللہ کا وعدہ سچا ہے اور یہ کہ قیامت کی گھڑی بیشک آکر رہے گی۔[18] ( مگر ذراخیال کرو کہ جب سوچنے کی اصل بات یہ تھی) اُس وقت وہ آپس میں اس بات پر جھگڑرہے تھے کہ ان ( اصحاب کہف ) کے ساتھ کیا کیا جائے ۔ کچھ لوگوں نے کہا ’’ ان پر ایک دیوار چُن دو ، ان کارب ہی ان کے معاملے کو بہتر جانتا ہے ۔ ‘‘[19]مگر جو لوگ اُن کے معاملات پر غالب تھے[20] اُنہوں نے کہا ’’ ہم تو ان پر ایک عبادت گاہ بنائیں گے‘‘۔[21] {۲۱} کچھ لوگ کہیں گے کہ وہ تین تھے اور چوتھا اُن کا کُتّا تھا۔اور کچھ دوسرے کہہ دیں گے کہ پانچ تھے اور چھٹا اُن کا کُتّا تھا۔ یہ سب بے تُکی ہانکتے ہیں۔ کچھ اور لوگ کہتے ہیں کہ سات تھے اور آٹھواں اُن کا کُتّا تھا۔[22] کہو ،میرا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ وہ کتنے تھے۔ کم ہی لوگ ان کی صحیح تعداد جانتے ہیں۔ پس تم سرسری بات سے بڑھ کر ان کی تعداد کے معاملے میں لوگوں سے بحث نہ کرو، اور نہ ان کے متعلق کسی سے کچھ پوچھو۔ [23]{۲۲} اور دیکھو، کسی چیز کے بارے میں کبھی یہ نہ کہا کرو کہ میں کل یہ کام کردوں گا۔{۲۳} (تم کچھ نہیں کرسکتے) اِلاّ یہ کہ اللہ چاہے ۔ اگر بھولے سے ایسی بات زبان سے نکل جائے تو فوراً اپنے رب کو یاد کرو اور کہو’’ امید ہے کہ میرا رب اس معاملے میں رُشد سے قریب تربات کی طرف میری رہنمائی فرمادے گا‘‘۔[24]{۲۴} اور وہ اپنے غارمیں تین سوسال رہے، اور (کچھ لوگ مدت کے شمار میں) ۹ سال اور بڑھ گئے ہیں۔[25]{۲۵} تم کہو، اللہ ان کے قیام کی مدّت زیادہ جانتا ہے، آسمانوں اور زمین کے سب پوشیدہ احوال اُسی کو معلوم ہیں ، کیا خوب ہے وہ دیکھنے والا اور سُننے والا !(زمین و آسمان کی مخلوقات کا) کوئی خبرگیر اس کے سوا نہیں، اور وہ اپنی حکومت میں کسی کو شریک نہیں کرتا۔{۲۶} (اے نبی ؐ!) [26] تمہارے رَب ّکی کتاب میں سے جو کچھ تم پر وحی کیا گیا ہے اسے ( جوں کا توں) سُنادو ، کوئی اس کے فرمودات کو بدل دینے کا مجاز نہیں ہے، ( اور اگر تم کسی کی خاطر اس میں ردو بدل کروگے تو ) اُس سے بچ کر بھاگنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پا ؤ گے۔[27]{۲۷} اور اپنے دل کو اُن لوگوں کی معیّت پر مطمئن کرو جو اپنے رب کی رضا کے طلب گاربن کر صبح و شام اُسے پکارتے ہیں ، اور ان سے ہرگز نگاہ نہ پھیرو۔ کیا تم دنیا کی زینت پسند کرتے ہو؟[28] کسی ایسے شخص کی اطاعت نہ کرو [29] جس کے دل کو ہم نے اپنی یاد سے غافل کردیا ہے اور جس نے اپنی خواہشِ نفس کی پیروی اختیار کرلی ہے اور جس کا طریق کارافراط وتفریط پر مبنی ہے۔[30]{۲۸} صاف کہہ دو کہ یہ حق ہے تمہارے رب کی طرف سے ، اب جس کاجی چاہے مان لے اور جس کا جی چاہے انکار کردے ۔[31]ہم نے (انکار کرنے والے ) ظالموں کے لیے ایک آگ تیار کررکھی ہے جس کی لپٹیں انہیں گھیرے میں لے چکی ہیں۔ [32]وہاں اگر وہ پانی مانگیں گے تو ایسے پانی سے ان کی تواضع کی جائے گی جو تیل کی تلچھٹ جیسا ہوگا[33]اور اُن کا منھ بھون ڈالے گا ، بدترین پینے کی چیز اور بہت بُری آرام گاہ !{۲۹} رہے وہ لوگ جو مان لیں اور نیک عمل کریں ، تویقینا ہم نیکو کارلوگوں کا اجر ضائع نہیں کیا کرتے ۔{۳۰} ان کے لیے سدا بہار جنّتیں ہیں جن کے نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی، وہاں وہ سونے کے کنگنوں سے آراستہ کئے جائیں گے، [34] بار یک ریشم اور اَطلس و دِیباَ کے سبز کپڑے پہنیں گے اور اُونچی مسندوں [35]پر تکیے لگاکر بیٹھیں گے۔ بہتر ین اجر اور اعلیٰ درجے کی جائے قیام!{۳۱} (اے نبی ؐ ! ) اُن کے سامنے ایک مثال پیش کرو۔[36] دو شخص تھے۔ ان میں سے ایک کو ہم نے انگور کے دو باغ دیے اور اُن کے گرد کھجور کے درختوں کی باڑھ لگائی اور ان کے درمیان کاشت کی زمین رکھی۔{۳۲} دونوں باغ خوب پھلے پھولے اور بار آور ہونے میں انہوں نے ذراسی کسر بھی نہ چھوڑی۔ ان باغوں کے اندر ہم نے ایک نہر جاری کردی{ ۳۳} اور اُسے خوب نفع حاصل ہوا۔ یہ کچھ پاکر ایک دن وہ اپنے ہمسائے سے بات کرتے ہوئے بولا :’’ میں تجھ سے زیادہ مالدار ہوں اور تجھ سے زیادہ طاقتور نفری رکھتا ہوں‘‘۔{۳۴} پھر وہ اپنی جنّت میں داخل ہوا [37]اور اپنے نفس کے حق میں ظالم بن کر کہنے لگا ’’میں نہیں سمجھتا کہ یہ دولت کبھی فنا ہوجائے گی،{۳۵} اور مجھے توقع نہیں کہ قیامت کی گھڑی کبھی آئے گی۔ تاہم اگر کبھی مجھے اپنے رب کے حضور پلٹا یا بھی گیا تو ضرور اِس سے بھی زیادہ شاندار جگہ پا ؤں گا‘‘۔[38]{۳۶} اس کے ہمسائے نے گفتگو کرتے ہوئے اس سے کہا ’’ کیا تو کفر کرتا ہے اس ذات سے جس نے تجھے مٹی سے اور پھر نطفے سے پیدا کیا اور تجھے ایک پورا آدمی بناکر کھڑا کیا؟ [39]{۳۷} رہا میں ، تو میرا رب تو وہی اللہ ہے اور میں اس کے ساتھ کسی کو شریک نہیں کرتا۔{۳۸} اور جب تُو اپنی جنّت میں داخل ہورہا تھا تو اُس وقت تیری زبان سے یہ کیوں نہ نکلا کہ مَاشَآئَ اللّٰہُ ، لَاقُوَّۃَ اِلاّبِاللّٰہِ [40]اگر تو مجھے مال اور اولاد میں اپنے سے کمتر پارہا ہے {۳۹} تو بعید نہیں کہ میرا رب مجھے تیری جنّت سے بہتر عطا فرمادے اور تیری جنّت پر آسمان سے کوئی آفت بھیج دے جس سے وہ صاف میدان بن کررہ جائے {۴۰} یا اس کا پانی زمین میں اُترجائے اور پھر تو اسے کسی طرح نہ نکال سکے‘‘ {۴۱} آخر کار ہوا یہ کہ اس کا سارا ثمرہ مارا گیااور وہ اپنے انگوروں کے باغ کو ٹٹیوں پر الٹا پڑا دیکھ کر اپنی لگائی ہوئی لاگت پر ہاتھ ملتا رہ گیا اور کہنے لگا کہ ’’ کاش ! میں نے اپنے رب کے ساتھ کسی کو شریک نہ ٹھہرایا ہوتا‘‘ {۴۲} نہ ہوا اللہ کو چھوڑ کر اس کے پاس کوئی جتھّا کہ اس کی مدد کرتا ، اور نہ کرسکا وہ آپ ہی اس آفت کا مقابلہ {۴۳} اس وقت معلوم ہوا کہ کارسازی کا اختیار معبودِبرحق ہی کے لیے ہے ، انعام وہی بہترہے جووہ بخشے اور انجام وہی بخیر ہے جو وہ دکھائے۔ {۴۴} اور( اے نبی ؐ) اِنہیں حیات دنیا کی حقیقت اِس مثال سے سمجھا ؤ کہ آج ہم نے آسمان سے پانی برسادیا تو زمین کی پود خوب گھنی ہوگئی ، اور کل وہی نباتات بُھس بن کررہ گئی جسے ہوائیں اُڑائے لئے پھرتی ہیں۔ اللہ ہر چیز پر قُدرت رکھتا ہے۔[41]{۴۵} یہ مال اور یہ اولاد محض دنیوی زندگی کی ایک ہنگامی آرائش ہے۔ اصل میں تو باقی رہ جانے والی نیکیاں ہی تیرے رب کے نزدیک نتیجے کے لحاظ سے بہتر ہیں اور اُنہی سے اچھی امیدیں وابستہ کی جاسکتی ہیں۔{۴۶} فکر اُس دن کی ہونی چاہئے جب کہ ہم پہاڑوں کو چلائیں گے ،[42] اور تم زمین کو باکل برہنہ پا ؤ گے ،[43] اور ہم تمام انسانوں کو اس طرح گھیر کر جمع کریں گے کہ ( اگلوں پچھلوں میں سے) ایک بھی نہ چُھوٹے گا [44]{۴۷} اور سب کے سب تمہارے رب کے حضورصف درصف پیش کئے جائیں گے۔ لودیکھ لو ، آگئے ناتم ہمارے پاس اُسی طرح جیسا ہم نے تم کو پہلی بار پیدا کیا تھا ۔ [45]تم نے تو یہ سمجھا تھا کہ ہم نے تمہارے لئے کوئی وعدے کا وقت مقّررہی نہیں کیا ہے۔{۴۸} اور نامۂ اعمال سامنے رکھ دیا جائے گا۔ اُس وقت تم دیکھو گے کہ مجرم لوگ اپنی کتابِ زندگی کے اندراجات سے ڈررہے ہوں گے اور کہہ رہے ہوں گے کہ ’’ ہائے ہماری کم بختی ، یہ کیسی کتاب ہے کہ ہماری کوئی چھوٹی بڑی حرکت ایسی نہیں رہی جو اس میں درج نہ ہوگئی ہو۔ ‘‘ جوجو کچھ اُنہوں نے کیا تھا وہ سب اپنے سامنے حاضر پائیں گے اور تیرا رب کسی پر ذرا ظلم نہ کرے گا۔[46]{۴۹} یادکرو ، جب ہم نے فرشتوں سے کہا کہ آدم ؑکو سجدہ کرو تو انہوں نے سجدہ کیا مگر ابلیس نے نہ کیا۔[47] وہ جنوں میں سے تھا اس لیے اپنے رب کے حکم کی اطاعت سے نکل گیا۔[48] اب کیا تم مجھے چھوڑ کر اس کو اور اُس کی ذُرّیت کو اپنا سرپرست بناتے ہو حالانکہ وہ تمہارے دشمن ہیں ؟ بڑا ہی برُا بدل ہے جسے ظالم لوگ اختیار کررہے ہیں۔{۵۰} میں نے آسمان وزمین پیدا کرتے وقت اُن کو نہیں بلایا تھا اور نہ خود اُن کی اپنی تخلیق میں انہیں شریک کیا تھا۔[49] میرا کام یہ نہیں ہے کہ گمراہ کرنے والوں کو اپنا مددگار بنایا کروں {۵۱} پھر کیا کریں گے یہ لوگ اُس روز جب کہ ان کا ربّ اُن سے کہے گا کہ پکارو اب ان ہستیوں کو جنہیں تم میرا شریک سمجھ بیٹھے تھے۔[50]یہ ان کو پکاریں گے ، مگروہ ان کی مدد کو نہ آئیں گے اور ہم ان کے درمیان ایک ہی ہلاکت کاگڑھا مشترک کردیں گے۔[51]{ ۵۲} سارے مجرم اُس روز آگ دیکھیں گے اور سمجھ لیں گے کہ اب انہیں اس میں گِرنا ہے اور وہ اس سے بچنے کے لیے کوئی جائے پناہ نہ پائیں گے۔ {۵۳} ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر انسان بڑا ہی جھگڑ الوواقع ہوا ہے۔{ ۵۴} اُن کے سامنے جب ہدایت آئی تو اسے ماننے اور اپنے رب کے حضور معافی چاہنے سے آخر اُن کو کس چیز نے روک دیا؟ اِس کے سوا اور کچھ نہیں کہ وہ منتظر ہیں کہ ان کے ساتھ بھی وہی کچھ ہو ،جوپچھلی قوموں کے ساتھ ہوچکا ہے، یایہ کہ وہ عذاب کو سامنے آتے دیکھ لیں! [52]{۵۵} رسُولوں کو ہم اس کام کے سوا اور کسی غرض کے لیے نہیں بھیجتے کہ وہ بشارت اور تنبیہ کی خدمت انجام دے دیں[53] مگر کافروں کا حال یہ ہے کہ وہ باطل کے ہتھیار لے کر حق کو نیچادکھانے کی کوشش کرتے ہیں اور انہوں نے میری آیات کو اور اُن تنبیہات کو جو انہیں کی گئیں مذاق بنالیا ہے۔{۵۶} اور اُس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہے جسے اس کے رب کی آیات سُناکر نصیحت کی جائے اور وہ اُن سے منھ پھیرے اور اُس بُرے انجام کو بھول جائے جس کا سروسامان اس نے اپنے لئے خود اپنے ہاتھوں کیا ہے؟ ( جن لوگوں نے یہ روش اختیار کی ہے) ان کے دلوں پر ہم نے غلاف چڑھا دیے ہیں جو انہیں قرآن کی بات نہیں سمجھنے دیتے، اور اُن کے کانوں میں ہم نے گرانی پیدا کردی ہے۔ تم انہیں ہدایت کی طرف کتنا ہی بلا ؤ ،وہ اس حالت میں کبھی ہدایت نہ پائیں گے۔[54]{۵۷} تیرا رب بڑا درگزر کرنے والا اور رحیم ہے۔ وہ اِن کے کرتُوتُوں پر انہیں پکڑنا چاہتا تو جلدی ہی عذاب بھیج دیتا۔ مگر اِن کے لیے وعدے کا ایک وقت مُقّرر ہے اور اس سے بچ کربھاگ نکلنے کی یہ کوئی راہ نہ پائیں گے۔[55] {۵۸} یہ عذاب رسیدہ بستیاں تمہارے سامنے موجود ہیں ،[56] انہوں نے جب ظلم کیا تو ہم نے انہیں ہلاک کردیا، اور ان میں سے ہر ایک کی ہلاکت کے لیے ہم نے وقت مُقّرر کررکھا تھا۔{۵۹} (ذرا اِن کو وہ قصہ سنا ؤ جو موسیٰ ؑ کو پیش آیا تھا) جبکہ موسیٰ ؑنے اپنے خادم سے کہا تھا کہ ’’ میں اپنا سفر ختم نہ کروں گا جب تک کہ دونوں دریا ؤں کے سنگم پر نہ پہنچ جا ؤں، ورنہ میں ایک زمانہ ٔدراز تک چلتا ہی رہوں گا۔[57] {۶۰} پس جب وہ ان کے سنگم پر پہنچے تو اپنی مچھلی سے غافل ہوگئے اور وہ نِکل کر اس طرح دریا میں چلی گئی جیسے کہ کوئی سُرنگ لگی ہو {۶۱} آگے جاکر موسیٰ ؑنے اپنے خادم سے کہا ’’ لا ؤ ہمارا ناشتہ ،آج کے سفر میں تو ہم بُری طرح تھک گئے ہیں‘‘۔ {۶۲} خادم نے کہا’’ آپ نے دیکھا ! یہ کیا ہوا؟ جب ہم اُس چٹان کے پاس ٹھہرے ہوئے تھے اس وقت مجھے مچھلی کا خیال نہ رہا اور شیطان نے مجھ کو ایسا غافل کردیا کہ میں اس کا ذکر (آپ سے کرنا ) بھُول گیا۔ مچھلی تو عجیب طریقے سے نکل کردریا میں چلی گئی‘‘{۶۳} موسیٰ ؑنے کہا ، ’’ اسی کی تو ہمیں تلاش تھی‘‘ ۔[58]۱چنانچہ وہ دونوں اپنے نقشِ قدم پرپھر واپس ہوئے {۶۴} اور وہاں انہو ں نے ہمارے بندوں میں سے ایک بندے کو پایا جسے ہم نے اپنی رحمت سے نوازا تھا اور اپنی طرف سے ایک خاص علم عطا کیاتھا۔ [59]{۶۵} موسیٰ ؑ نے اُس سے کہا ’’ کیا میں آپ کے ساتھ رہ سکتا ہوں تا کہ آپ مجھے بھی اُس دانش کی تعلیم دیں جو آپ کوسکھائی گئی ہے‘‘؟ {۶۶} اُس نے جواب دیا،’’ آپ میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے{۶۷} اور جس چیز کی آپ کو خبر نہ ہو آخرآپ اُس پر صبر کربھی کیسے سکتے ہیں‘‘۔{۶۸} موسیٰ ؑ نے کہا ’’ان شاء اللہ آپ مجھے صابر پائیں گے اور میں کسی معاملہ میں آپ کی نافرمانی نہ کروں گا‘‘۔{۶۹} اُس نے کہا ’’اچھا ، اگر آپ میرے ساتھ چلتے ہیں تو مجھ سے کوئی بات نہ پوچھیں جب تک کہ میں خو د اس کا آپ سے ذکر نہ کروں ‘‘۔{۷۰} اب وہ دونوں روانہ ہوئے یہاں تک کہ وہ ایک کشتی میں سوار ہوگئے تو اُس شخص نے کشتی میں شگاف ڈال دیا۔ موسیٰ ؑ نے کہا ’’ آپ نے اس میں شِگاف ڈالدیا تا کہ سب کشتی والوں کو ڈبودیں ؟ یہ تو آپ نے ایک سخت حرکت کرڈالی‘‘۔{۷۱} اس نے کہا ’’میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ تم میرے ساتھ صبر نہیں کرسکتے‘‘{۷۲} موسیٰ ؑ نے کہا ’’ بھول چوک پر مجھے نہ پکڑیے میرے معاملے میں آپ ذرا سختی سے کام نہ لیں۔ { ۷۳} پھر وہ دونوں چلے ، یہاں تک کہ ان کو ایک لڑکا ملا اور اُس شخص نے اسے قتل کردیا ۔ موسیٰ ؑنے کہا ’’آپ نے ایک بے گناہ کی جان لے لی حالانکہ اُس نے کسی کا خون نہ کیا تھا؟ یہ کام تو آپ نے بہت ہی بُرا کیا‘‘{۷۴}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)