سورۃبنی اسرائیل   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 17 : 1-98 / 111پاک ہے وہ جو لے گیا ایک رات اپنے بندے کو مسجد حرام سے دور کی اُس مسجد تک جس کے ماحول کو اُس نے برکت دی ہے تا کہ اُسے اپنی کچھ نشانیوں کا مشاہدہ کرائے۔ حقیقت [1] میں وہی ہے سب کچھ سُننے اور دیکھنے والا ۔{۱} ہم نے اِس سے پہلے موسیٰ ؑکو کتاب دی تھی اور اُسے بنی اسرائیل کے لیے ذریعۂ ہدایت بنایا تھا [2]اس تاکید کے ساتھ کہ میرے سواکسی کو اپنا وکیل نہ بنانا۔[3]{۲} تم اُن لوگوں کی اولاد ہو جنہیں ہم نے نوحؑ کے ساتھ کشتی پر سوار کیا تھا [4]اور نوحؑ ایک شکر گزار بندہ تھا۔{ ۳} پھر ہم نے اپنی کتاب [5]میں بنی اسرائیل کو اس بات پر بھی متنبہ کردیا تھا کہ تم دو مرتبہ زمین میں فساد ِعظیم برپاکرو گے اور بڑی سرکشی دکھا ؤ گے۔[6]{ ۴} آخر کار جب اُن میں سے پہلے سرکشی کا موقع پیش آیا ، تو اے بنی اسرائیل !ہم نے تمہارے مقابلے پر اپنے ایسے بندے اٹھائے جو نہایت زور آور تھے اور وہ تمہارے ملک میں گھس کر ہر طرف پھیل گئے۔ یہ ایک وعدہ تھا جسے پورا ہو کر ہی رہنا تھا۔ [7]{۵} اس کے بعد ہم نے تمہیں ان پر غلبے کا موقع دے دیا اور تمہیں مال اور اولاد سے مدددی اور تمہاری تعداد پہلے سے بڑھادی۔[8]{۶} دیکھو ! تم نے بَھلائی کی تو وہ تمہارے اپنے ہی لئے بھلائی تھی اور برائی کی تو وہ تمہاری اپنی ذات کے لیے برائی ثابت ہوئی۔ پھر جب دوسرے وعدے کا وقت آیا تو ہم نے دوسرے دشمنوں کو تم پر مسلط کیا تا کہ وہ تمہارے چہر ے بگاڑ دیںاور مسجد ( بیت المقدس ) میں اُسی طرح گُھس جائیں جس طرح پہلے دشمن گُھسے تھے اور جس چیز پر ان کا ہاتھ پڑے اُسے تباہ کرکے رکھ دیں۔[9] {۷} ہوسکتا ہے کہ اب تمہارا رب تم پر رحم کرے ، لیکن اگر تم نے پھر اپنی سابق روِش کا اعادہ کیا تو ہم بھی پھر اپنی سزا کا اعادہ کریں گے ، اور کافرِنعمت لوگوں کے لیے ہم نے جہنم کو قید خانہ بنارکھا ہے۔[10]{۸} حقیقت یہ ہے کہ یہ قرآن وہ راہ دکھاتا ہے جو بالکل سیدھی ہے۔ جو لوگ اسے مان کر بھلے کام کرنے لگیں انہیں یہ بشارت دیتا ہے کہ اُن کے لیے بڑا اجر ہے{۹} اور جو لوگ آخرت کو نہ مانیں انہیں یہ خبر دیتا ہے کہ ان کے لیے ہم نے درد ناک عذاب مہیا کررکھا ہے۔[11]{۱۰} انسان شراُس طرح مانگتا ہے جس طرح خیر مانگنی چاہئے ۔ انسان بڑا ہی جلد بازواقع ہواہے۔[12] {۱۱} دیکھو ، ہم نے رات اور دن کو دونشانیاں بنایا ہے۔ رات کی نشانی کو ہم نے بے نور بنایا ، اور دن کی نشانی کو روشن کردیا تا کہ تم اپنے رب کا فضل تلاش کرسکو اور ماہ وسال کا حساب معلوم کرسکو ۔ اِسی طرح ہم نے ہر چیز کو الگ الگ ممیز کرکے رکھا ہے۔[13]{ ۱۲} ہر انسان کا شگون ہم نے اس کے اپنے گلے میں لٹکارکھا ہے۔[14] اور قیامت کے روز ہم ایک نوشتہ اس کے لیے نکالیں گے جسے وہ کھلی کتاب کی طرح پائے گا۔{ ۱۳} پڑھ اپنا نامئہ اعمال ، آج اپنا حساب لگانے کے لیے تو خود ہی کافی ہے۔{ ۱۴} جو کوئی راہِ راست اختیار کرے اُس کی راست روی اُس کے اپنے ہی لئے مفید ہے، اور جو گمراہ ہواُس کی گمراہی کا وبال اُسی پر ہے ۔[15] کوئی بوجھ اٹھانے والا دوسرے کا بوجھ نہ اٹھائے گا [16] اور ہم عذاب دینے والے نہیں ہیں جب تک کہ (لو گوں کو حق وباطل کا فرق سمجھانے کے لیے ) ایک پیغام برنہ بھیج دیں۔[17]{۱۵} جب ہم کسی بستی کو ہلاک کرنے کاارادہ کرتے ہیں تو اس کے خوشحال لوگوں کو حکم دیتے ہیں اور وہ اس میں نافرمانیاں کرنے لگتے ہیں ، تب عذاب کا فیصلہ اُس بستی پر چسپا ںہوجاتا ہے اور ہم اسے برباد کرکے رکھ دیتے ہیں۔ [18]{۱۶} دیکھ لو ، کتنی ہی نسلیں ہیں جو نوحؑ کے بعد ہمارے حکم سے ہلاک ہوئیں ۔ تیرا رب اپنے بندوں کے گناہوں سے پوری طرح باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے۔{۱۷} جو کوئی ( اس دنیا میں ) جلدی[19] حاصل ہونے والے فائدوں کا خواہشمند ہو ، اسے یہیں ہم دے دیتے ہیں جو کچھ بھی جسے دینا چاہیں، پھر اُسکے مقسوم میں جہنم لکھ دیتے ہیں جسے وہ تاپے گا ملامت زدہ اور رحمت سے محروم ہو کر ۔[20]{۱۸} اور جو آخرت کا خواہشمند ہو اور اس کے لیے سعی کرے جیسی کہ اس کے لیے سعی کرنی چاہئے اور ہو وہ مومن ، تو ایسے ہر شخص کی سعی مشکور ہوگی۔ [21]{۱۹} اِن کو بھی اور اُن کو بھی ، دونوں فریقوں کو ہم ( دنیا میں ) سامان زیست دیے جارہے ہیں ، یہ تیرے رب کا عطیہ ہے اور تیرے رب کی عطا کو روکنے والا کوئی نہیں ہے۔[22]{۲۰} مگر دیکھ لو ، دنیا ہی میں ہم نے ایک گروہ کو دوسرے پرکیسی فضیلت دے رکھی ہے، اور آخرت میں اس کے درجے اور بھی زیادہ ہوں گے، اور اس کی فضیلت اور بھی زیادہ بڑھ چڑھ کر ہوگی[23]{۲۱} تُو اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا [24]ورنہ ملامت زدہ اور بے یارو مدد گار بیٹھا رہ جائے گا۔{ ۲۲} تیرے رب نے فیصلہ کردیا ہے[25] کہ : تم لوگ کسی کی عبادت نہ کرو ، مگر صرف اُس کی ۔[26] والدین کے ساتھ نیک سلوک کرو ، اگر تمہارے پاس اُن میں سے کوئی ایک یادونوں ، بوڑھے ہوکر رہیں تو انہیں اُف تک نہ کہو ، نہ انہیں جھڑک کر جواب دو ، بلکہ ان سے احترام کے ساتھ بات کرو { ۲۳} اور نرمی اور رحم کے ساتھ ان کے سامنے جُھک کر رہو ، اور دعا کیا کرو کہ ’’پروردگار!ان پر رحم فرما جس طرح انہو ں نے رحمت وشفقت کے ساتھ مجھے بچپن میں پالاتھا ‘‘۔{۲۴} تمہارا رب خوب جانتا ہے کہ تمہارے دلوں میں کیا ہے ۔ اگر تم صالح بن کر رہو تو وہ ایسے سب لوگوں کے لیے درگزر کرنے والا ہے جو اپنے قصور پر متنبّہ ہو کر بندگی کے رویے کی طرف پلٹ آئیں ۔[27]{۲۵} رشتہ دار کو اس کا حق دو اور مسکین اور مسافر کو اس کا حق ۔ فضول خرچی نہ کرو۔{۲۶} فضول خرچ لوگ شیطان کے بھائی ہیں ، اور شیطان اپنے رب کا ناشکراہے۔ {۲۷} اگر ان (حاجت مندر شتہ داروں ، مسکینوں اور مسافروں )سے تمہیں کترانا ہو ، اُس بنا پر کہ ابھی تم اللہ کی اُس رحمت کو جس کے تم اُمیدوار ہو تلاش کررہے ہو، تو انہیں نرم جواب دے دو،[28] {۲۸} نہ تو اپنا ہاتھ گردن سے باندھ رکھو اور نہ اُسے بالکل ہی کُھلا چھوڑدو کہ ملامت زدہ اور عاجزبن کررہ جا ؤ ۔[29] {۲۹} تیرا رب جس کے لیے چاہتا ہے رزق کشادہ کرتا ہے اور جس کے لیے چاہتا ہے تنگ کردیتا ہے ۔ وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور انہیں دیکھ رہا ہے۔ [30]{۳۰} اپنی اولاد کو افلاس کے اندیشے سے قتل نہ کرو ۔ ہم انہیں بھی رزق دیں گے اور تمہیں بھی۔ درحقیقت اُن کا قتل ایک بڑی خطا ہے۔[31] {۳۱} زنا کے قریب نہ پھٹکو۔ وہ بہت بُرافعل ہے اور بڑا ہی بُرا راستہ[32]{ ۳۲} قتل ِنفس کاارتکاب نہ کرو جسے اللہ نے حرام کیا ہے[33] مگر حق کے ساتھ۔[34] اور جو شخص مظلومانہ قتل کیا گیا ہو اس کے ولی کو ہم نے قصاص کے مطالبے کا حق عطا کیا ہے۔ [35]پس چاہئے کہ وہ قتل میں حد سے نہ گزرے[36] اُس کی مدد کی جائے گی۔ [37]{۳۳} مال ِیتیم کے پاس نہ پھٹکو مگر احسن طریقے سے ، یہاں تک کہ وہ اپنے شباب کو پہنچ جائے۔[38] عہد کی پابندی کرو ، بے شک عہد کے بارے میں تم کو جواب دہی کرنی ہوگی۔[39]{۳۴} پیمانے سے دو تو پورا بھر کردو اور تو لو تو ٹھیک ترازوسے تو لو ۔ [40]یہ اچھا طریقہ ہے اور بلحاظ انجام بھی یہی بہترہے۔[41]{۳۵} کسی ایسی چیز کے پیچھے نہ لگو جس کا تمہیں علم نہ ہو۔ یقینا آنکھ، کان اور دل سب ہی کی باز پرس ہونی ہے [42]{۳۶} زمین میں اکڑ کر نہ چلو ، تم نہ زمین کو پھاڑ سکتے ہو ، نہ پہاڑوں کی بلند ی کو پہنچ سکتے ہو۔[43]{۳۷} اِن اُمور میں سے ہر ایک کا بُرا پہلو تیرے رب کے نزدک ناپسندیدہ ہے۔[44]{۳۸} یہ وہ حکمت کی باتیں ہیں جو تیرے رب نے تجھ پر وحی کی ہیں اور دیکھ ! اللہ کے ساتھ کوئی دوسرا معبود نہ بنا بیٹھ ورنہ توجہنم میں ڈال دیا جائے گا ملامت زدہ اور ہر بھلائی سے محروم [45] ہو کر۔{۳۹} کیسی عجیب بات ہے کہ تمہارے رب نے تمہیں توبیٹوں سے نوازا اور خود اپنے لئے ملائکہ کو بیٹیاں بنالیا؟ [46]بڑی جھوٹی بات ہے جو تم لوگ زبانوں سے نکالتے ہو۔{۴۰} ہم نے اِس قرآن میں طرح طرح سے لوگوں کو سمجھایا کہ ہوش میں آئیں ، مگر وہ حق سے اور زیادہ دُور ہی بھاگے جارہے ہیں۔{۴۱} اے نبی ؐ !اِن سے کہو کہ اگر اللہ کے ساتھ دوسرے اِلٰہ بھی ہوتے جیسا کہ یہ لوگ کہتے ہیں، تو وہ مالکِ عرش کے مقام کو پہنچنے کی ضرور کوشش کرتے۔ [47]{۴۲} پاک ہے وہ اور بہت بالا و برتر ہے اُن باتوں سے جو یہ لوگ کہہ رہے ہیں۔{۴۳} اس کی پاکی تو ساتوں آسمان اور زمین اور وہ ساری چیزیں بیان کررہی ہیں جو آسمان و زمین میں ہیں۔ [48]وئی چیز ایسی نہیں جو اُس کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح نہ کررہی ہو ،[49] مگر تم ان کی تسبیح سمجھتے نہیں ہو ، حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی بُردباراور درگزر کرنے والا ہے[50]۔{ ۴۴} جب تم قرآن پڑھتے ہو تو ہم تمہارے اور آخرت پر ایمان نہ لانے والوں کے درمیان ایک پردہ حائل کردیتے ہیں{۴۵} اور ان کے دلوں پر ایسا غلاف چڑھادیتے ہیں کہ وہ کچھ نہیں سمجھتے اور ان کے کانوں میں گرانی پیدا کردیتے ہیں۔[51] اور جب تم قرآن میں اپنے ایک ہی رب کا ذکر کرتے ہوتو وہ نفرت سے منھ موڑلیتے ہیں۔ [52]{۴۶} ہمیں معلوم ہے کہ جب وہ کان لگاکر تمہاری بات سُنتے ہیں تو دراصل کیا سُنتے ہیں،اور جب بیٹھ کر باہم سرگوشیاں کرتے ہیں تو کیا کہتے ہیں۔ یہ ظالم آپس میں کہتے ہیں کہ یہ تو ایک سحرزدہ آدمی ہے جس کے پیچھے تم لوگ جارہے ہو[53]{۴۷} دیکھو ، کیسی باتیں ہیں جو یہ لوگ تم پر چھا نٹتے ہیں ،یہ بھٹک گئے ہیں ، انہیں راستہ نہیں ملتا ۔[54]{۴۸} وہ کہتے ہیں ’’ جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہو کر رہ جائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کرکے اٹھائے جائیں گے؟ ‘‘{۴۹} ان سے کہو ،’’تم پتھر یا لوہا بھی ہوجا ؤ، {۵۰} یا اس سے بھی زیادہ سخت کوئی چیز جو تمہارے ذہن میں قبول حیات سے بعید ترہو‘‘(پھر بھی تم اُٹھ کر رہوگے ) ۔ وہ ضرور پوچھیں گے [55]’’ کون ہے وہ جو ہمیں پھر زندگی کی طرف پلٹا کر لائے گا ‘‘ ؟ جواب میں کہو ’’ وہی جس نے پہلی بار تم کو پیدا کیا۔‘‘ وہ سر ہلاہلا کر پوچھیں گے ’’ اچھا ، تو یہ ہوگا کب ‘‘؟ تم کہو ’’ کیا عجب کہ وہ وقت قریب ہی آ لگاہو۔{۵۱} جس روز وہ تمہیں پکارے گا تو تم اس کی حمد کرتے ہوئے اس کی پکار کے جواب میں نکل آ ؤ گے اور تمہارا گمان اُس وقت یہ ہوگا کہ ہم بس تھوڑی دیرہی اِس حالت میں پڑے رہے ہیں‘‘۔ [56]{۵۲} اور( اے نبی ؐ! ) میرے بندوں[57] (یعنی مومن بندوں ) سے کہہ دو کہ زبان سے وہ بات نکالا کریں جو بہترین ہو،[58]دراصل یہ شیطان ہے جو انسانوں کے درمیان فساد ڈالوانے کی کوشش کرتا ہے، حقیقت یہ ہے کہ شیطان انسان کا کھلادشمن ہے۔[59]{ ۵۳} تمہارا رب تمہارے حال سے خوب واقف ہے ۔ وہ چاہے تو تم پر رحم کرے اور چاہے تو تمہیں عذاب دیدے۔[60] اور( اے نبی ؐ!)ہم نے تم کو لوگوں پر حوالہ داربناکر نہیں بھیجا ہے۔[61]{۵۴} تیرا رب زمین اور آسمانوں کی مخلوقات کو زیادہ جانتا ہے ، ہم نے بعض پیغمبروں کو بعض سے بڑھ کر مرتبے دیے ،[62]اور ہم نے ہی دا ؤ دؑ کو زبوردی تھی[63]{۵۵} اِن سے کہو، پکار دیکھو ان معبودوں کو جن کو تم اللہ کے سوا ( اپنا کارساز ) سمجھتے ہو،وہ کسی تکلیف کو تم سے نہ ہٹا سکتے ہیں نہ بدل سکتے ہیں،[64]{۵۶} جن کو یہ لوگ پکارتے ہیں وہ خود اپنے رب کے حضور رسائی حاصل کرنے کا وسیلہ تلاش کررہے ہیں کہ کون اُس سے قریب ترہوجائے اور وہ اس کی رحمت کے امیدوار اور اس کے عذاب سے خائف ہیں،[65]حقیقت یہ ہے کہ تیرے رب کا عذاب ہے ہی ڈرنے کے لائق{۵۷} اور کوئی بستی ایسی نہیں جسے ہم قیامت سے پہلے ہلاک نہ کریں یا سخت عذاب نہ دیں ، [66]یہ نوشتۂ الہٰی میں لکھاہوا ہے۔{۵۸} اور ہم کو نشانیاں[67] بھیجنے سے نہیں روکا مگر اس بات نے کہ اِن سے پہلے کے لوگ ان کو جھٹلاچکے ہیں،۲( چنانچہ دیکھ لو) ثمود کو ہم نے علانیہ اونٹنی لاکردی اور انہوں نے اس پر ظلم کیا۔[68] ہم نشانیاں اسی لئے تو بھیجتے ہیں کہ لوگ انہیں دیکھ کر ڈریں [69]{۵۹} یاد کرو اے نبی ؐ! ہم نے تم سے کہہ دیا تھا کہ تیرے رب نے ان لوگوں کو گھیر رکھا ہے ۔[70] اور یہ جو کچھ ابھی ہم نے تمہیں دکھایا ہے،[71] اس کو او راُس درخت کو جس پر قرآن میں لعنت کی گئی ہے ۔[72] ہم نے اُن لوگوں کے لیے بس ایک فتنہ بناکر رکھ دیا۔ [73]ہم انہیں تنبیہ پر تنبیہ کئے جارہے ہیں، مگر ہر تنبیہ ان کی سرکشی میں اضافہ کئے جاتی ہے۔{۶۰} اور یاد کرو جبکہ ہم نے ملائکہ سے کہا کہ آدمؑ کو سجدہ کرو ، تو سب نے سجدہ کیا ، مگر ابلیس نے نہ کیا ۔[74] اس نے کہا ’’ کیا میں اس کو سجدہ کروں جسے تو نے مٹی سے بنایا ہے؟ ‘‘{۶۱} پھر وہ بولا’’ دیکھ توسہی کیا یہ اس قابل تھا کہ تونے اسے مجھ پر فضیلت دی؟ اگر تو مجھے قیامت کے دن تک مُہلت دے تو میں اِس کی پوری نسل کی بیخ کنی کرڈالوں ،[75] بس تھوڑے ہی لوگ مجھ سے بچ سکیں گے‘‘۔{۶۲} اللہ تعالیٰ نے فرمایا:’’ اچھا تو جا ، ان میں سے جو بھی تیری پیروی کریں ، تجھ سمیت ان سب کے لیے جہنم ہی بھرپور جزاء ہے۔{ ۶۳} تو جس جس کو اپنی دعوت سے پھُسلا سکتا ہے پھُسلالے ، [76]ان پر اپنے سوار اور پیادے چڑھالا ،[77] مال اور اولاد میں ان کے ساتھ ساجھالگا ، [78]اور ان کو وعدوں کے جال میں پھانس ۔[79]اور شیطان کے وعدے ایک دھوکے کے سوا اور کچھ بھی نہیں۔ {۶۴} یقینا میرے بندوں پر تجھے کوئی اقتدار حاصل نہ ہوگا،[80] اور توکّل کے لیے تیرا رب کافی ہے‘‘۔[81]{۶۵} تمہارا (حقیقی ) رب تو وہ ہے جو سمندر میں تمہاری کشتی چلاتا ہے [82] تا کہ تم اس کافضل تلاش کرو۔ [83]حقیقت یہ ہے کہ وہ تمہارے حال پر نہایت مہربان ہے۔{۶۶} جب سمندر میں تم پر مصیبت آتی ہے تو اُس ایک کے سوا دوسرے جن جن کو تم پُکارا کرتے ہو وہ سب گُم ہوجاتے ہیں، [84]مگر جب وہ تم کو بچاکر خشکی پر پہنچا دیتا ہے تو تم اس سے منھ موڑ جاتے ہو ۔ انسان واقعی بڑانا شکر ا ہے۔{۶۷} اچھا! تو کیا تم اِس بات سے بالکل بے خوف ہو کہ اللہ کبھی خشکی پر ہی تم کو زمین میں دھنسا دے، یا تم پر پتھرا ؤ کرنے والی آندھی بھیج دے اور تم اس سے بچانے والا کوئی حمایتی نہ پا ؤ ؟{۶۸} اور کیا تمہیں اِس کا اندیشہ نہیں کہ اللہ پھر کسی وقت سمندر میں تم کو لے جائے اور تمہاری ناشکری کے بدلے تم پر سخت طوفانی ہوا بھیج کر تمہیں غرق کردے ۔ اور تم کو ایسا کوئی نہ ملے جو اُس سے تمہارے اِس انجام کی پوچھ گچھ کرسکے ؟{۶۹} یہ تو ہماری عنایت ہے کہ ہم نے بنی آدم ؑکو بزرگی دی اور انہیں خشکی و تری میں سواریاں عطاکیں اور ان کو پاکیزہ چیزوں سے رزق دیا اور اپنی بہت سی مخلوقات پر نمایا ں فوقیت بخشی ۔[85]{۷۰} پھر خیال کرو اُس دن کا جب کہ ہم ہر انسانی گروہ کو اُس کے پیشوا کے ساتھ بلائیں گے۔ اُس وقت جن لوگوں کو ان کانامۂ اعمال سیدھے ہاتھ میں دیا گیا، وہ اپنا کارنامہ پڑھیں گے[86] اور اِن پر ذرّہ برا بر ظلم نہ ہوگا ۔{۷۱} اور جو اس دنیا میں اندھا بن کر رہا وہ آخرت میں بھی اندھا ہی رہے گا۔ بلکہ راستہ پانے میں اندھے سے بھی زیادہ ناکام۔ { ۷۲} (اے نبی ؐ!)ان لوگوں نے اِس کوشش میں کوئی کسر اٹھا نہیں رکھی کہ تمہیں فتنے میں ڈال کر اس وحی سے پھیر دیں جو ہم نے تمہاری طرف بھیجی ہے تاکہ تم ہمارے نام پر اپنی طرف سے کوئی بات گھڑو۔[87] اگر تم ایسا کرتے تو وہ ضرور تمہیں اپنا دوست بنالیتے۔ {۷۳} اور بعید نہ تھا کہ اگر ہم تمہیں مضبوط نہ رکھتے تو تم ان کی طرف کچھ نہ کچھ جُھک جاتے۔ {۷۴} لیکن اگر تم ایسا کرتے تو ہم تمہیں دنیا میں بھی دُوہرے عذاب کا مزہ چکھاتے اور آخرت میں بھی دُوہرے عذاب کا ، پھر ہمارے مقابلے میں تم کوئی مدد گارنہ پاتے۔[88]{۷۵} اور یہ لوگ اِ س بات پر بھی تُلے رہے ہیں کہ تمہارے قدم اِس سرزمین سے اکھاڑدیں اور تمہیں یہاں سے نکال باہر کریں لیکن اگر یہ ایسا کریں گے تو تمہارے بعد یہ خود یہاں کچھ زیادہ دیرنہ ٹھہر سکیں گے ۔[89]{ ۷۶} یہ ہمار ا مستقل طریقِ کارہے جو اُن سب رسُولوں کے معاملے میں ہم نے برتا ہے جنہیں تم سے پہلے ہم نے بھیجا [90]تھا اور ہمارے طریق کار میں تم کوئی تغیر نہ پا ؤ گے ۔{۷۷} نماز قائم کرو،[91] زوالِ آفتاب [92]سے لے کر رات کے اندھیرے [93]تک اور فجر کے قرآن کا بھی التزام کرو [94]کیونکہ قرآن فجرمَشہُود ہوتا ہے۔[95]{۷۸} اور رات کو تہجد پڑھو ، یہ تمہارے لئے نفل ہے،[97] بعید نہیں کہ تمہارا رب تمہیں مقام ِ مُحمود [98]پر فائز کردے ۔{۷۹} اور دُعا کرو کہ پروردگار! مجھ کو جہاں بھی تولے جاسچائی کیساتھ لے جا اور جہاں سے بھی نکال سچائی کیساتھ نکال[99] اور اپنی طرف سے ایک اقتدار کو میر امددگار بنادے۔[100]{۸۰} اور اعلان کردو کہ ’’ حق آگیا اور باطل مٹ گیا ، باطل تومٹنے ہی والا ہے‘‘۔[101]{۸۱} ہم اس قرآن کے سلسلۂ تنزیل میں وہ کچھ نازل کررہے ہیں جو ماننے والوں کے لیے توشفا اور رحمت ہے، مگر ظالموں کے لیے خسارے کے سوا اور کسی چیزمیں اضافہ نہیں کرتا۔{۸۲} انسان[102] کا حال یہ ہے کہ جب ہم اس کو نعمت عطا کرتے ہیں تو وہ اینٹھتاہے اور پیٹھ موڑلیتا ہے ، اور جب ذرا مصیبت سے دوچار ہوتا ہے تو مایوس ہونے لگتا ہے۔{ ۸۳} (اے نبی ؐ! ) ان لوگوں سے کہہ دو کہ ’’ ہر ایک اپنے طریقے پر عمل کررہا ہے ، اب یہ تمہارا رب ہی بہتر جانتا ہے کہ سیدھی راہ پر کون ہے۔ ‘‘{۸۴} یہ لوگ تم سے روح کے متعلق پوچھتے ہیں۔ کہو: ’’ یہ روح میرے رب کے حکم سے آتی ہے ، مگر تم لوگوں نے علم سے کم ہی بہرہ پایا ہے‘‘ ۔ [103]{۸۵} اور اے نبی ؐ ! ہم چاہیں تو وہ سب کچھ تم سے چھین لیں جو ہم نے وحی کے ذریعے سے تم کو عطا کیا ہے ، پھر تم ہمارے مقابلے میں کوئی حمایتی نہ پا ؤ گے جو اسے واپس دلاسکے۔{۸۶} یہ تو جو کچھ تمہیں ملا ہے تمہارے رب کی رحمت سے ملا ہے ، حقیقت یہ ہے کہ اس کا فضل تم پر بہت بڑا ہے۔ [104]{۸۷} کہہ دو کہ اگر انسان اور جن سب کے سب مل کر اس قرآن جیسی کوئی چیز لانے کی کوشش کریں تو نہ لاسکیں گے ، چاہے وہ سب ایک دوسرے کے مددگار ہی کیو ں نہ ہوں۔[105] {۸۸} ہم نے اس قرآن میں لوگوں کو طرح طرح سے سمجھایا مگر اکثر لوگ انکارہی پر جمے رہے{۸۹} اور انہوں نے کہا ، ’’ہم تیری بات نہ مانیں گے جب تک کہ تو ہمارے لئے زمین کو پھاڑ کر ایک چشمہ جاری نہ کردے ۔{۹۰} یاتیرے لئے کھجوروں اور انگوروں کا ایک باغ پیدا ہو اور تو اس میں نہریں رواں کردے۔{۹۱} یا تُو آسمان کو ٹکڑے ٹکڑے کرکے ہمارے اوپر گرادے جیسا کہ تیرا دعویٰ ہے ۔ یا اللہ اور فرشتوں کو رُو در رُوہمارے سامنے لے آئے۔ { ۹۲} یاتیرے لئے سونے کا ایک گھربن جائے۔ یاتُو آسمان پر چڑھ جائے ، اور تیرے چڑھنے کا بھی ہم یقین نہ کریں گے جب تک کہ تُو ہمارے اوپر ایک ایسی تحریر نہ اُتار لائے جسے ہم پڑھیں ۔( اے نبی ؐ)!ان سے کہو ’’پاک ہے میرا پروردگار ! کیا میں ایک پیغام لانے والے انسان کے سوا اور بھی کچھ ہوں ؟‘‘[106]{۹۳} لوگوں کے سامنے جب کبھی ہدایت آئی تو اس پر ایمان لانے سے اُن کو کسی چیز نے نہیں روکا مگر اُن کے اسی قول نے کہ ’’ کیا اللہ نے بشر کو پیغمبر بناکر بھیج دیا؟‘‘ [107]{۹۴} ان سے کہو اگر زمین میں فرشتے اطمینان سے چل پھر رہے ہوتے تو ہم ضرور آسمان سے کسی فرشتے ہی کو اُن کے لیے پیغمبر بناکر بھیجتے۔[108]{۹۵} (اے نبی ؐ!) ان سے کہہ دو کہ میرے اور تمہارے درمیان بس ایک اللہ کی گواہی کافی ہے ، وہ اپنے بندوں کے حال سے باخبر ہے اور سب کچھ دیکھ رہا ہے۔[109]{۹۶} جس کو اللہ ہدایت دے وہی ہدایت پانے والا ہے ، اور جسے وہ گمراہی میں ڈال دے تو اس کے سوا ایسے لوگوں کے لیے تو کوئی حامی وناصر نہیں پاسکتا ۔[110] ان لوگوں کو ہم قیامت کے روز اوندھے منھ کھینچ لائیں گے ، اندھے ، گونگے اور بہرے ۔[111]اُن کا ٹھکانا جہنم ہے جب کبھی اس کی آگ دھیمی ہونے لگے گی ہم اسے اور بھڑکا دیں گے۔ {۹۷} یہ بدلہ ہے اُن کی اس حرکت کا کہ انہوں نے ہماری آیات کا انکار کیا اور کہا ’’ کیا جب ہم صرف ہڈیاں اور خاک ہوکررہ جائیں گے تو نئے سرے سے ہم کو پیدا کرکے اٹھاکھڑا کیا جائیگا؟ ‘‘ {۹۸}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)