سورۃالنحل   -  16 : 51-128 / 128 اللہ کافرمان ہے ’’ دو اِلٰہ نہ بنالو [43] اِلہٰ تو بس ایک ہی ہے لہٰذاتم مجھ ہی سے ڈرو ‘‘۔ {۵۱} اُسی کا ہے وہ سب کچھ جو آسمانوں میں ہے اور جو کچھ زمین میں ہے ، اور خالصًا اُسی کا دین ( ساری کائنات میں ) چل رہا ہے۔[44] پھر کیا اللہ کو چھوڑ کر تم کسی اور سے تقویٰ کرو گے ؟[45]{۵۲} تم کو جو نعمت بھی حاصل ہے ،اللہ ہی کی طرف سے ہے ۔پھر جب کوئی سخت وقت تُم پرآتا ہے تو تم لوگ خود اپنی فریادیں لے کر اُسی کی طرف دوڑتے ہو۔[46]{ ۵۳} مگر جب اللہ اُس وقت کو ٹال دیتا ہے تویکا یک تم میں سے ایک گروہ اپنے رَبّ کے ساتھ دوسروں کو ( اس مہربانی کے شکریے میں ) شریک کرنے لگتا ہے [47]{ ۵۴} تا کہ اللہ کے احسان کی ناشکری کرے۔ اچھا ،مزے کرلو ،عنقریب تمہیں معلوم ہوجائے گا۔ {۵۵} یہ لوگ جن کی حقیقت سے واقف نہیں ہیں [48]اُن کے حصے ہمارے دیے ہوئے رزق میں سے مقرر کرتے ہیں۔[49] اللہ کی قسم! ضرور تم سے پوچھا جائے گا کہ یہ جھوٹ تم نے کیسے گھڑلئے تھے؟{۵۶} یہ اللہ کے لیے بیٹیاں تجویز کرتے ہیں[50] سبحان اللہ ! اور اِن کے لیے وہ جو یہ خود چاہیں؟[51]{۵۷} جب اِن میں سے کسی کو بیٹی کے پیدا ہونے کی خوش خبری دی جاتی ہے تو اُس کے چہرے پر کَلْونْس چھاجاتی ہے اور وہ بس خون کا ساگھونٹ پی کر رہ جاتا ہے۔{۵۸} لوگوں سے چُھپتا پھرتا ہے کہ اِس بُری خبر کے بعد کیا کسی کو منہ دکھائے ۔ سوچتا ہے کہ ذلت کے ساتھ بیٹی کو لیے رہے یا مٹی میں دبادے ؟ دیکھو کیسے بُرے حکم ہیں جو یہ اللہ کے بارے میں لگاتے ہیں ۔[52] {۵۹} بُری صفات سے متصف کئے جانے کے لائق تو وہ لوگ ہیں جو آخرت کا یقین نہیں رکھتے ۔ رہااللہ تو اس کے لیے سب سے برتر صفات ہیں، وہی تو سب پر غالب اور حکمت میں کامل ہے۔{۶۰} اگر کہیں اللہ لوگوں کو ان کی زیادتی پر فوراً ہی پکڑلیا کرتا تورُوئے زمین پر کسی متنفس کو نہ چھوڑتا، لیکن وہ سب کو ایک وقت ِمقرر تک مہلت دیتا ہے ، پھر جب وہ وقت آجاتا ہے تو اس سے کوئی ایک گھڑی بھر بھی آگے پیچھے نہیں ہوسکتا، {۶۱} آج یہ لوگ وہ چیزیں اللہ کے لیے تجویز کررہے ہیں جو خود اپنے لئے اِنہیں ناپسند ہیں ، اورجھوٹ کہتی ہیں ان کی زبانیں کہ ان کے لیے بھلاہی بھلا ہے ۔ ان کے لیے تو ایک ہی چیز ہے ، اور وہ ہے دوزخ کی آگ۔ ضروریہ سب سے پہلے اس میں پہنچائے جائیں گے۔{ ۶۲} اللہ کی قسم ! (اے نبی ؐ!)تم سے پہلے بھی بہت سی قوموں میں ہم رسُول بھیج چکے ہیں ( اور پہلے بھی یہی ہوتا رہا ہے کہ ) شیطان نے اُن کے بُرے کرتوت انہیں خوشنما بناکر دکھائے ( اور رسولوں کی بات انہوں نے مان کر نہ دی )۔ وہی شیطان آج اِن لوگوں کا بھی سرپرست بناہوا ہے اور یہ درد ناک سزا کے مستحق بن رہے ہیں۔{ ۶۳} ہم نے یہ کتاب تم پر اس لیے نازل کی ہے کہ تم اُن اختلافات کی حقیقت ان پر کھول دوجن میں یہ پڑے ہوئے ہیں۔یہ کتاب رہنمائی اور رحمت بن کر اُتری ہے اُن لوگوں کے لیے جو اسے مان لیں۔[53]{ ۶۴} (تم ہر برسات میں دیکھتے ہو کہ ) اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور یکایک مُردہ پڑی ہوئی زمین میں اس کی بدولت جان ڈال دی۔ یقینا اس میں ایک نشانی ہے سننے والوں کے لیے[53a] {۶۵} اور تمہارے لئے مویشیوں میں بھی ایک سبق موجود ہے ۔اُن کے پیٹ سے گوبر اور خون کے درمیان ہم ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں ، یعنی خالص دودھ [54]، جو پینے والوں کے لیے نہایت خوشگوار ہے۔{۶۶} ( اِسی طرح) کھجور کے درختوں اور انگور کی بیلوں سے بھی ہم ایک چیز تمہیں پلاتے ہیں جسے تم نشہ آور بھی بنالیتے ہو اور پاک رزق بھی۔[55]یقینا اس میں ایک نشانی ہے عقل سے کام لینے والوں کے لیے۔ {۶۷} اور دیکھو ، تمہارے رَبّ نے شہد کی مکھی پر یہ بات وحی کردی [56]کہ پہاڑوں میں ، اور درختوں میں، اور ٹٹیوں پر چڑھائی ہوئی بیلوں میں ، اپنے چھتیّ بنا {۶۸} اور ہر طرح کے پھلوں کا رس چوس ، اور اپنے رَبّ کی ہموار کی ہوئی راہوں پر چلتی رہ ۔[57] اس مکھی کے اندر سے رنگ برنگ کا ایک شربت نکلتا ہے جس میں شفا ہے لوگوں کے لیے [58]یقینا اس میں بھی ایک نشانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو غوروفکر کرتے ہیں[59]{۶۹} اور دیکھو ، اللہ نے تم کو پیدا کیا ، پھر وہ تم کو موت دیتا ہے ،[60] اور تم میں سے کوئی بدترین عمر کو پہنچا دیا جاتا ہے تا کہ سب کچھ جاننے کے بعد پھر کچھ نہ جانے۔[61] حق یہ ہے کہ اللہ ہی علم میں بھی کامل ہے اور قدرت میں بھی۔ {۷۰} اور دیکھو ، اللہ نے تم میں سے بعض کو بعض پر رزق میں فضیلت عطا کی ہے ۔پھر جن لوگوں کو یہ فضیلت دی گئی ہے وہ ایسے نہیں ہیں کہ اپنا رزق اپنے غلاموں کی طرف پھیردیا کرتے ہوں تا کہ دونوں اس رزق میں برابر کے حصہ داربن جائیں ۔ تو کیا اللہ ہی کا احسان ماننے سے ان لوگوں کو اِنکار ہے؟ [62]{۷۱} اور وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے تمہاری ہم جنس بیویاں بنائیں اور اُسی نے ان بیویوں سے تمہیں بیٹے پوتے عطا کئے اور اچھی اچھی چیز یں تمہیں کھانے کو دیں ۔ پھر کیا یہ لوگ ( یہ سب کچھ دیکھتے اور جانتے ہوئے بھی) باطل کو مانتے ہیں [63]اور اللہ کے احسان کا انکار کرتے ہیں ۔[64]{ ۷۲} اور اللہ کو چھوڑ کراُ ن کو پوجتے ہیں جن کے ہاتھ میں نہ آسمانوں سے انہیں کچھ بھی رزق دیناہے نہ زمین سے اور نہ یہ کام وہ کرہی سکتے ہیں؟ {۷۳} پس اللہ کے لیے مثالیں نہ گھڑو۔ [65]اللہ جانتا ہے ، تم نہیں جانتے۔{ ۷۴} اللہ ایک مثال دیتا ہے ۔[66] ایک تو ہے غلام ، جو دُوسرے کا مملوک ہے اور خود کوئی اختیار نہیں رکھتا ۔ دوسرا شخص ایسا ہے جسے ہم نے اپنی طرف سے اچھا رزق عطا کیا ہے اور وہ اُس میں سے کُھلے اور چُھپے خوب خرچ کرتا ہے ۔ بتا ؤ کیا یہ دونوں برابر ہیں ؟ الحمد للہ،[67] مگر اکثر لوگ ( اس سیدھی بات کو ) نہیں جانتے۔[68]{۷۵} اللہ ایک اور مثال دیتا ہے ۔ دو آدمی ہیں ایک گونگا بہرا ہے، کوئی کام نہیں کرسکتا ، اپنے آقا پر بوجھ بنا ہو ا ہے، جدھربھی وہ اسے بھیجے کوئی بھلا کام اُس سے بن نہ آئے ۔ دُوسرا شخص ایسا ہے کہ انصاف کا حکم دیتا ہے اور خودراہِ راست پر قائم ہے۔ بتا ؤ کیا یہ دونوں یکساں ہیں ؟[69] {۷۶} اور زمین و آسمان کے پوشید ہ حقائق کا علم تو اللہ ہی کو ہے ۔[70] اور قیامت کے برپا ہونے کا معاملہ کچھ دیرنہ لے گا مگر بس اتنی کہ جس میں آدمی کی پلک جھپک جائے ، بلکہ اِس سے بھی کچھ [71]کم۔ حقیقت یہ ہے کہ اللہ سب کچھ کرسکتا ہے۔{۷۷} اللہ نے تم کو تمہاری ما ؤں کے پیٹوں سے نکالا اُس حالت میں کہ تم کچھ نہ جانتے تھے ۔اُس نے تمہیں کان دیے ، آنکھیں دیں اور سوچنے والے دل دیے ،[72] اِس لیے کہ تم شکرگزاربنو ۔[73]{۷۸} کیا اِن لوگوں نے کبھی پرندوں کو نہیں دیکھا کہ فضائے آسمانی میں کس طرح مسخر ہیں ؟ اللہ کے سواکس نے اِن کو تھام رکھا ہے ؟ اِس میں بہت نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو ایمان لاتے ہیں۔{۷۹} اللہ نے تمہارے لئے تمہارے گھروں کو جائے سکون بنایا ۔ اس نے جانوروں کی کھالوں سے تمہارے لئے ایسے مکان پیدا کئے [74]جنہیں تم سفر اور قیام ، دونوں حالتوں میں ہلکا پاتے ہو۔[75] اس نے جانوروں کے صوف اور اُون اور بالوں سے تمہارے لئے پہننے اور برتنے کی بہت سی چیزیں پیدا کردیں جو زندگی کی مدّت مقررہ تک تمہارے کام آتی ہیں۔ {۸۰} اس نے اپنی پیدا کی ہوئی بہت سی چیزوں سے تمہارے لئے سائے کا انتظام کیا ، پہاڑوں میں تمہارے لئے پناہ گاہیں بنائیں ،اور تمہیں ایسی پوشاکیں بخشیں جو تمہیں گرمی سے بچاتی ہیں [76]اور کچھ دوسری پوشاکیں جو آپس کی جنگ میں تمہاری حفاظت کرتی ہیں۔[77]اِس طرح وہ تم پر اپنی نعمتوں کی تکمیل کرتا ہے [78]شاید کہ تم فرمانبردار بنو{۸۱} اب اگر یہ لوگ منھ موڑتے ہیں تو (اے نبی ؐ!) تم پر صاف صاف پیغام حق پہنچادینے کے سوا اور کوئی ذمّہ داری نہیں ہے۔{ ۸۲} یہ اللہ کے احسان کو پہچانتے ہیں، پھر اس کا انکار کرتے ہیں [79]اور اِن میں بیش ترلوگ ایسے ہیں جو حق ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں ۔{ ۸۳} (انہیں کچھ ہوش بھی ہے کہ اُس روز کیا بنے گی) جب کہ ہم ہر اُمّت میں سے ایک گواہ[80] کھڑا کریں گے، پھر کافروں کو نہ حجتیں پیش کرنے کا موقع دیا جائے گا [81]نہ اُن سے توبہ و استغفار ہی کا مطالبہ کیا جائے گا۔ [82]{۸۴} ظالم لوگ جب ایک دفعہ عذاب دیکھ لیں گے تو اس کے بعد نہ اُن کے عذاب میں کوئی تخفیف کی جائے گی اور نہ اُنہیں ایک لمحہ بھر مہلت دی جائے گی۔{۸۵} اور جب وہ لوگ جنہوں نے دنیا میں شرک کیا تھا اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو دیکھیں گے تو کہیں گے ’’ اے ہمارے پروردگار! یہی ہیں ہمارے وہ شریک جنہیں ہم تجھے چھوڑ کرپکار اکرتے تھے۔‘‘ اس پر اُن کے وہ معبود انہیں صاف جواب د یں گے کہ ’’ تم جھوٹے ہو‘‘۔ [83]{۸۶} اس وقت یہ سب اللہ کے آگے جھک جائیں گے اور ان کی وہ ساری افتراپر دازیاں رفو چکر ہوجائیں گی جو یہ دنیا میں کرتے رہے تھے۔[84]{۸۷} جن لوگوں نے خود کفر کی راہ اختیار کی اور دُوسروں کو اللہ کی راہ سے رُوکا اُنہیں ہم عذاب پر عذاب دیں گے[85] اُس فساد کے بدلے جو دنیا میں برپا کرتے رہے۔{۸۸} ( اے نبی ؐ!انہیں اُس دن سے خبردار کردو ) جب کہ ہم ہر اُمّت میں خود اُسی کے اندر سے ایک گواہ اٹھاکھڑا کریں گے جو اُس کے مقابلے میں شہادت دے گا،اور اِن لوگوں کے مقابلے میں شہادت دینے کے لیے ہم تمہیں لائیں گے ۔اور ( یہ اُسی شہادت کی تیاری ہے کہ ) ہم نے یہ کتاب تم پر نازل کردی ہے جو ہر چیز کی صاف صاف وضاحت کرنے والی ہے[86] اور ہدایت و رحمت اور بشارت ہے(مسلمانوں کے لیے) اُن لوگوں کے لیے جنہوں نے سرِتسلیم خَم کردیاہے۔[87]{۸۹} اللہ عدل اور احسان اور صلہ رحمی کا حکم دیتا ہے[88] اور بدی وبے حیائی اور ظلم وزیادتی سے منع کرتا ہے ۔[89]وہ تمہیں نصیحت کرتا ہے تا کہ تم سبق لو ۔ {۹۰} اللہ کے عہد کو پورا کروجب کہ تم نے اس سے کوئی عہد باندھا ہو ، اور اپنی قسمیں پختہ کرنے کے بعدتوڑ نہ ڈالو جب کہ تم اللہ کو اپنے اوپر گواہ بناچکے ہو۔ اللہ تمہارے سب افعال سے باخبر ہے ۔{۹۱} تمہاری حالت اُس عورت کی سی نہ ہوجائے جس نے آپ ہی محنت سے سُوت کاتا اور پھر آپ ہی اسے ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا۔[90] تم اپنی قسموں کو آپَس کے معاملات میں مکرو فریب کا ہتھیار بناتے ہو، تا کہ ایک قوم دوسری قوم سے بڑھ کرفائدے حاصل کرے ۔ حالانکہ اللہ اِس عہد وپیمان کے ذریعہ سے تم کو آزمائش میں ڈالتا ہے ،[91] اور ضرور وہ قیامت کے روز تمہارے تمام اختلافات کی حقیقت تم پر کھول دے گا ۔[92]{۹۲} اگر اللہ کی مشیت یہ ہوتی ( کہ تم میں کوئی اختلاف نہ ہو ) تو وہ تم سب کو ایک ہی اُمّت بنادیتا ،[93] مگر وہ جسے چاہتا ہے گمراہی میں ڈالتا ہے اور جسے چاہتا ہے راہِ راست دکھا دیتا ہے ،[94] اور ضرور تم سے تمہارے اعمال کی باز پُرس ہوکررہے گی۔ { ۹۳} اور( اے مسلمانو ! ) تم اپنی قسموں کو آپَس میں ایک دُوسرے کو دھوکہ دینے کا ذریعہ نہ بنالینا، کہیں ایسا نہ ہو کہ کوئی قدم جمنے کے بعد اکھڑ جائے [95]اور تم اس جرم کی پاداش میں کہ تم نے لوگوں کو اللہ کی راہ سے روکا ، برُ ا نتیجہ دیکھو اور سزا بھگتو۔{۹۴} اللہ کے عہد[96] کو تھوڑے سے فائدے کے بدلے نہ بیچ ڈالو ،[97] جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہ تمہارے لئے زیادہ بہتر ہے اگر تم جانو۔{۹۵} جو کچھ تمہارے پاس ہے وہ خرچ ہوجانے والا ہے اور جو کچھ اللہ کے پاس ہے وہی باقی رہنے والا ہے ،اور ہم ضرور صبر سے کام لینے والوں[98] کواُن کے اجراُن کے بہترین اعمال کے مطابق دیں گے۔ {۹۶} جو شخص بھی نیک عمل کرے گا ، خواہ وہ مرد ہو یا عورت ، بشرطیکہ ہو وہ مومن، اسے ہم دنیا میں پاکیزہ زندگی بسر کرائیں گے[99] اور( آخرت میں) ایسے لوگوں کو اُن کے اجراُن کے بہترین اعمال کے مطابق بخشیں گے۔ [100]{۹۷} پھر جب تم قرآن پڑھنے لگو تو شیطان ِرجیم سے اللہ کی پناہ مانگ لیا کرو۔ [101]{۹۸} اُسے اُن لوگوں پر تسلّط حاصل نہیں ہوتا جو ایمان لاتے اور اپنے رَبّ پر بھروسہ کرتے ہیں۔{۹۹} اس کا زور تو اُنہی لوگوں پر چلتا ہے جو اس کو اپنا سرپرست بناتے اور اس کے بہکانے سے شرک کرتے ہیں۔{۱۰۰} جب ہم ایک آیت کی جگہ دوسری آیت نازل کرتے ہیں۔ اور اللہ بہتر جانتا ہے کہ وہ کیا نازل کرے۔ تو یہ لوگ کہتے ہیں کہ تم یہ قرآن خود گھڑتے ہو ۔[102] اصل بات یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ حقیقت سے ناواقف ہیں۔{۱۰۱} ان سے کہو کہ اسے تو روح القدس نے ٹھیک ٹھیک میرے رَبّ کی طرف سے بتدریج نازل کیا[103] ہے تا کہ ایمان لانے والوں کے ایمان کو پختہ کرے [104]اور فرماں برداروں کو زندگی کے معاملات میں سیدھی راہ بتائے[105] اور انہیں فلاح وسعادت کی خوش خبری دے۔[106]{ ۱۰۲} ہمیں معلوم ہے یہ لوگ تمہارے متعلق کہتے ہیں کہ اُ س شخص کو ایک آدمی سکھاتا پڑھاتا ہے ،[107] حالانکہ ان کااشارہ جس آدمی کی طرف ہے اس کی زبان عجمی ہے اور یہ صاف عربی زبان ہے۔{ ۱۰۳} حقیقت یہ ہے کہ جو لوگ اللہ کی آیات کو نہیں مانتے اللہ کبھی ان کو صحیح بات تک پہنچنے کی توفیق نہیں دیتا اور ایسے لوگوں کے لیے درد ناک عذاب ہے۔{ ۱۰۴} (جُھوٹی باتیں نبی نہیں گھڑتا بلکہ ) جھوٹ وہ لوگ گھڑرہے ہیں جو اللہ کی آیات کو نہیں مانتے،[108]وہی حقیقت میں جھوٹے ہیں۔{۱۰۵} جو شخص ایمان لانے کے بعدکفر کرے( وہ اگر) مجبور کیا گیا ہو اور دل اس کا ایمان پر مطمئن ہو (تب تو خیر ) مگر جس نے دل کی رضا مندی سے کفر کو قبول کرلیا اس پر اللہ کا غضب ہے اور ایسے سب لوگوں کے لیے بڑا عذاب ہے۔[109]{۱۰۶} یہ اس لیے کہ انہوں نے آخرت کے مقابلے میں دنیا کی زندگی کو پسند کرلیا ، اور اللہ کا قاعدہ ہے کہ وہ ان لوگوں کو راہ ِنجات نہیں دکھاتا جو اس کی نعمت کا کُفر ان کریں۔ {۱۰۷} یہ وہ لوگ ہیں جن کے دلوں اور کانوں اور آنکھوں پر اللہ نے مہر لگادی ہے ، یہ غفلت میں ڈوب چکے ہیں۔{۱۰۸} ضرورہے کہ آخرت میں یہی خسارے میں رہیں۔[110]{۱۰۹} بخلاف اس کے جن لوگوں کا حال یہ ہے کہ جب (ایمان لانے کی وجہ سے )وہ ستائے گئے تو انہوں نے گھربار چھوڑ دیے، ہجرت کی ، راہ الہٰی میں سختیاں جھیلیں اور صبر سے کام لیا ،[111] اُن کے لیے یقینا تیرا رَبّ غفور و رحیم ہے۔ {۱۱۰} ( ان سب کا فیصلہ اُس دن ہوگا) جب کہ ہر متنفس اپنے ہی بچا ؤ کی فکر میں لگاہوا ہوگا اور ہر ایک کو اس کے کیے کا بدلہ پورا پورا دیا جائے گا اور کسی پر ذرہ برابر ظلم نہ ہونے پائے گا۔{۱۱۱} اللہ ایک بستی کی مثال دیتا ہے۔ وہ امن و اطمینان کی ز ندگی بسرکررہی تھی اور ہرطرف سے اس کو بفراغت رزق پہنچ رہا تھا کہ اُس نے اللہ کی نعمتوں کا کُفران شروع کردیا۔ تب اللہ نے اس کے باشندوں کو اُن کے کرتوتوں کا یہ مزہ چکھایا کہ بھوک اور خوف کی مصیبتیں ان پر چھاگئیں۔ {۱۱۲} اُن کے پاس ان کی اپنی قوم میں سے ایک رسول آیا۔ مگر انہوں نے اس کو جھٹلادیا۔ آخر کار عذاب نے اُن کو آلیا جب کہ وہ ظالم ہوچکے تھے۔[112] {۱۱۳} پس اے لوگو!اللہ نے جو کچھ حلال اور پاک رزق تم کو بخشا ہے اسے کھا ؤ اور اللہ کے احسان کا شکر ادا کرو [113]اگر تم واقعی اُسی کی بندگی کرنے والے ہو۔[114]{ ۱۱۴} اللہ نے جو کچھ تم پر حرام کیا ہے وہ ہے مُردار اور خون اور سور کا گوشت اور وہ جانور جس پر اللہ کے سواکسی اور کا نام لیا گیا ہو ۔ا لبتہ بھوک سے مجبور اور بے قرار ہو کر اگر کوئی ان چیزوں کو کھالے ، بغیر اس کے کہ وہ قانونِ اِلہٰی کی خلاف ورزی کا خواہش مند ہویا حد ضرورت سے تجاوز کا مرتکب ہو ، تو یقینا اللہ معاف کرنے اور رحم فرمانے والا ہے۔ [115]{۱۱۵} اور یہ جو تمہاری زبانیں جھوٹے احکام لگایا کرتی ہیں کہ یہ چیز حلال ہے اور وہ حرام، تو اس طرح کے حکم لگا کر اللہ پر جھوٹ نہ باندھا کرو۔ [116]جو لوگ اللہ پر جھوٹے افتراباندھتے ہیں وہ ہر گز فلاح نہیں پایاکرتے۔ {۱۱۶} دنیا کا عیش چندروزہ ہے ۔ آخرکار ان کے لیے دردناک سزا ہے۔ {۱۱۷} وہ [117]چیزیں ہم نے خاص طور پر یہودیوں کے لیے حرام کی تھیں جن کا ذکر اِس سے پہلے ہم تم سے کرچکے ہیں۔ [118]اور یہ ان پر ہمارا ظلم نہ تھا بلکہ ان کا اپنا ہی ظلم تھا جو وہ اپنے اوپر کررہے تھے۔{۱۱۸} البتہ جن لوگوں نے جہالت کی بنا پر بُرا عمل کیا اور پھر توبہ کرکے اپنے عمل کی اصلاح کرلی تو یقینا توبہ و اصلاح کے بعد تیرا رَبّ اُن کے لیے غفور اور رحیم ہے۔{۱۱۹} واقعہ یہ ہے کہ ابراہیم ؑ اپنی ذات سے ایک پوری اُمّت تھا ،[119] اللہ کا مطیع فرمان اور یک سُو۔ وہ کبھی مشرک نہ تھا۔ {۱۲۰} اللہ کی نعمتوں کا شکر ادا کرنے والاتھا۔اللہ نے اس کو منتخب کرلیا اورسیدھا راستہ دکھایا ۔{۱۲۱} دنیا میں اس کو بھلائی دی اور آخرت میں وہ یقینا صالحین میں سے ہوگا۔ {۱۲۲} پھر ہم نے تمہاری طرف یہ وحی بھیجی کہ یک سُو ہوکر ابراہیم ؑ کے طریقے پر چلو اور وہ مشرکوں میں سے نہ تھا [120]{۱۲۳} رہاسَبْت تو وہ ہم نے اُن لوگوں پر مُسلّط کیا تھا جنہو ں نے اُس کے احکام میں اختلاف کیا [121]اور یقینا تیرا رَبّ قیامت کے روز اُن سب باتوں کا فیصلہ کردے گا جن میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔{۱۲۴} (اے نبی ؐ! )اپنے رَبّ کے راستے کی طرف دعوت دو حکمت اور عمدہ نصیحت کے ساتھ[122] ، اور لوگوں سے مباحثہ کرو ایسے طریقہ پر جو بہترین ہو۔[123] تمہارا رَبّ ہی زیادہ بہتر جانتا ہے کہ کون اس کی راہ سے بھٹکا ہوا ہے اور کون راہِ راست پر ہے{۱۲۵} اور اگر تم لوگ بدلہ لو تو بس اُسی قدرلے لو جس قدر تم پر زیادتی کی گئی ہو ۔ لیکن اگر تم صبر کرو تو یقینا یہ صبر کرنے والوں ہی کے حق میں بہتر ہے {۱۲۶} ( اے نبی ؐ ! ) صبر سے کام کئے جا ؤ، اور تمہارا یہ صبر اللہ ہی کی توفیق سے ہے۔ ان لوگوں کی حرکات پر رنج نہ کرو اور نہ ان کی چال بازیوں پر دل تنگ ہو۔{۱۲۷} اللہ اُن لوگوں کے ساتھ ہے جو تقویٰ سے کام لیتے ہیں، اور احسان پر عمل کرتے ہیں۔[124]{۱۲۸}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)