سورۃالحجر   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 15 : 1-99 / 99ا لٰٓ ۔ یہ آیات ہیں کتاب الہٰی اور قرآن مبین کی [1] { ۱ } بعید نہیں کہ ایک وقت وہ آجائے جب وہی لوگ جنہوں نے آج (دعوت اسلام کو قبول کرنے سے) انکار کردیا ہے ، پچھتا پچھتا کرکہیں گے کہ کاش ہم نے سرِتسلیم خم کردیا ہوتا۔{۲} چھوڑو اِنہیں ،کھائیں پییں ، مزے کریں ، اور بھلاوے میں ڈالے رکھے اِن کو جھوٹی اُمید، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔{ ۳} ہم نے اِس سے پہلے جس بستی کو بھی ہلاک کیا ہے اس کے لیے ایک خاص مہلت عمل لکھی جاچکی تھی۔[2]{۴} کوئی قوم نہ اپنے وقت ِمقررسے پہلے ہلاک ہوسکتی ہے ، نہ اس کے بعد چھوٹ سکتی ہے۔{۵} یہ لوگ کہتے ہیں ’’اے وہ شخص جس پر یہ ذکر [3] نازل ہوا ہے! [4] تو یقینا دیوانہ ہے {۶} اگر تو سچا ہے تو ہمارے سامنے فرشتوں کو لے کیوں نہیں آتا ؟ ‘‘{۷} ہم فرشتوں کو یوں ہی نہیں اُتار دیا کرتے۔ وہ جب اُترتے ہیں تو حق کے ساتھ اُترتے ہیں ، اور پھر لوگوں کو مہلت نہیں دی جاتی۔[5]{۸} رہا یہ الذِّکْر (قرآن مجید) تو اِس کو ہم نے نازل کیا ہے اور ہم خود اِس کے نگہبان ہیں۔[6]{۹} (اے نبی ؐ!)ہم تم سے پہلے بہت سی گزری ہوئی قوموں میں رسول بھیج چکے ہیں۔ {۱۰} کبھی ایسا نہیں ہو اکہ اُن کے پاس کوئی رسول آیا ہو اور اُنہوں نے اُس کا مذاق نہ اُڑا یا ہو۔ {۱۱} مجرمین کے دلوں میں تو ہم اِس( الذِّکْر:قرآنی احکامات) کو اسی طرح (سلاخ کے مانند ) گزارتے ہیں، {۱۲} وہ اس پر ایمان نہیں لایا کرتے ۔[7] قدیم سے اِس قماش کے لوگوں کا یہی طریقہ چلاآرہا ہے۔ {۱۳} اگر ہم اُن پر آسمان کا کوئی دروازہ کھول دیتے اور وہ دن دہاڑے اُس میں چڑھنے بھی لگتے{۱۴} تب بھی وہ یہی کہتے کہ ہماری آنکھوں کو دھوکا ہورہا ہے ، بلکہ ہم پر جادو کر دیا گیا ہے۔{۱۵} یہ ہماری کار فرمائی ہے کہ آسمان میں ہم نے بہت سے مضبوط قلعے بنائے،[8] اُن کو دیکھنے والوں کے لیے (ستاروں سے ) آراستہ کیا [9]{۱۶} اور ہر شیطان مردودسے اُن کو محفوظ کردیا[10]{۱۷} کوئی شیطان اُن میں راہ نہیں پاسکتا ، اِلاّ یہ کہ کچھ سُن گُن لے لے۔[11] اور جب وہ سُن گُن لینے کی کوشش کرتا ہے تو ایک شعلۂ روشن اُس کا پیچھا کرتا ہے۔ [12]{۱۸} ہم نے زمین کو پھیلایا، اُس میں پہاڑجمائے ،اس میں ہر نوع کی نباتا ت ٹھیک ٹھیک نپی تُلی مقدار کے ساتھ اُگائی[13] {۱۹} اور اس میں معیشت کے اسباب فراہم کئے ، تمہارے لئے بھی اوراُن بہت سی مخلوقات کے لیے بھی جن کے رازق تم نہیں ہو،{ ۲۰} کوئی چیز ایسی نہیں جس کے خزانے ہمارے پاس نہ ہوں۔ اور جس چیز کو بھی ہم نازل کرتے ہیں ایک مقرر مقدار میں نازل کرتے ہیں[14]{۲۱} بار آور ہوا ؤں کو ہم ہی بھیجتے ہیں ، پھر آسمان سے پانی برساتے ہیں ’ اور اس پانی سے تمہیں سیراب کرتے ہیں ۔ اس دولت کے خزانہ دار تم نہیں ہو ،{ ۲۲} زندگی اور موت ہم دیتے ہیں، اور ہم ہی سب کے وارث ہونے والے ہیں،[15] {۲۳} پہلے جو لوگ تم میں سے ہوگزرے ہیں اُن کو بھی ہم نے دیکھ رکھا ہے ، اور بعد کے آنے والے بھی ہماری نگاہ میں ہیں{۲۴} یقینا تمہارا رب ان سب کو اکٹھا کرے گا ، وہ حکیم بھی ہے اور علیم بھی۔[16] {۲۵} ہم نے انسان کو سٹری ہوئی مٹی کے سُوکھے گارے سے بنایا [17]{۲۶} اور اُس سے پہلے جنوّں کو ہم آگ کی لپٹ سے پیدا کرچکے تھے۔[18]{۲۷} پھریاد کرو اُس موقع کو جب تمہارے رَبّ نے فرشتوں سے کہا کہ ’’میں سٹری ہوئی مٹی کے سُوکھے گارے سے ایک بشر پیدا کر رہا ہوں۔{۲۸} جب میں اسے پورا بنا چکوں اور اس میں اپنی روح سے کچھ پُھونک دوں [19]تو تم سب اُس کے آگے سجدے میں گِرجانا‘‘۔{۲۹} چنانچہ تمام فرشتوں نے سجدہ کیا {۳۰} سوائے ابلیس کے کہ اُس نے سجدہ کرنے والوں کا ساتھ دینے سے انکار کردیا۔[20]{۳۱} رَبّ نے پوچھا ’’ اے ابلیس !تجھے کیا ہوا کہ تونے سجدہ کرنے والو ں کا ساتھ نہ دیا؟‘‘ {۳۲} اُس نے کہا ’’ میرا یہ کام نہیں ہے کہ میں اُس بشر کو سجدہ کروں جسے تو نے سٹری ہوئی مٹی کے سوکھے گارے سے پیدا کیا ہے‘‘ ۔{۳۳} رَبّ نے فرمایا’’ اچھا تو نکل جایہاں سے کیونکہ تومردود ہے{ ۳۴} اور اب روزِ جزا تک تجھ پر لعنت ہے‘‘۔[21]{۳۵} اُس نے عرض کیا ’’میرے رَبّ !یہ بات ہے تو پھر مجھے اُس روز تک کے لیے مہلت دے جب کہ سب انسان دوبارہ اٹھائے جائیں گے ‘‘{۳۶} فرمایا،’’ اچھا، تجھے مہلت ہے{۳۷} اُس دن تک جس کا وقت ہمیں معلوم ہے‘‘ ۔{۳۸} وہ بولا ’’ میرے رَبّ! جیساتو نے مجھے بہکایا اُسی طرح اب میں زمین میںان کے لیے دل فریبیاں پیدا کرکے ان سب کو بہکادوں گا [22]{۳۹} سوائے تیرے اُن بندوں کے جنہیں تونے ان میں سے خالص کرلیا ہو‘‘۔{۴۰} فرمایا’’یہ راستہ ہے جو سیدھا مجھ تک پہنچتاہے [23]{۴۱} بیشک جو میرے حقیقی بندے ہیں ان پر تیرا بس نہ چلے گا ۔ تیرا بس تو صرف اُن بہکے ہوئے لوگوں ہی پرچلے گا جو تیری پیروی کریں [24]{۴۲} اور ان سب کے لیے جہنم کی وعیدہے‘‘ ۔[25]{۴۳} یہ جہنم (جس کی وعید پیروان ابلیس کے لیے کی گئی ہے) اس کے سات دروازے ہیں ، ہر دروازے کے لیے اُن میں سے ایک حصہ مخصوص کردیاگیاہے۔ [26]{۴۴} ( بخلاف اِس کے )متقی لوگ باغوں [27]اور چشموں میں ہوں گے{۴۵} اور اُن سے کہا جائے گا کہ داخل ہوجا ؤ ان میں سلامتی کے ساتھ بے خوف وخطر۔{۴۶} اُن کے دلوں میں جو تھوڑی بہت کھوٹ کپٹ ہوگی اسے ہم نکال دیں گے ،[28] وہ آپس میں بھائی بھائی بن کر آمنے سامنے تختوں پربیٹھیں گے۔{۴۷} انہیں نہ وہاں کسی مشقّت سے پالا پڑے گا اور نہ وہ وہاں سے نکالے جائیں گے۔[29]{۴۸} اے نبی ؐ!میر ے بندوں کو خبردے دو کہ میں بہت درگزر کرنے والا اور رحیم ہوں۔ {۴۹} مگر اِس کے ساتھ میرا عذاب بھی نہایت دردناک عذاب ہے۔ {۵۰} اور اِنہیں ذرا ابراہیم ؑ کے مہمانوں کا قصہ سنا ؤ[30]{۵۱} جب وہ آئے اس کے ہاں اور کہا’’ سلام ہوتم پر‘‘ تو اُس نے کہا ’’ ہمیں تم سے ڈرلگتا ہے۔‘‘[31]{۵۲} انہوں نے جواب دیا ’’ ڈرو نہیں، ‘‘ ہم تمہیں ایک بڑے سیانے لڑکے کی بشارت دیتے ہیں‘‘۔[32] {۵۳} ابراہیم ؑ نے کہا ’’ کیا تم اس بڑھاپے میں مجھے اولاد کی بشارت دیتے ہو؟ ذراسو چوتوسہی کہ یہ کیسی بشارت تم مجھے دے رہے ہو ‘‘۔{۵۴} انہوں نے جواب دیا : ’’ ہم تمہیں برحق بشارت دے رہے ہیں ، تم مایوس نہ ہو‘‘{۵۵} ابراہیم ؑنے کہا ’’ اپنے رَبّ کی رحمت سے مایوس تو گمراہ لوگ ہی ہوا کرتے ہیں ‘‘{۵۶} پھر ابراہیم ؑ نے پوچھا ’’ اے فرستادگانِ الہٰیـ !وہ مہم کیا ہے جس پر آپ حضرات تشریف لائے ہیں؟[33]{۵۷} وہ بولے ’’ ہم ایک مجرم قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں ۔[34]{۵۸} صرف لوط ؑ کے گھروالے مستثنیٰ ہیں ، اُن سب کو ہم بچالیں گے ۔{۵۹} سوائے اُس کی بیوی کے جس کے لیے ( اللہ فرماتا ہے کہ ) ہم نے مقّدر کردیا ہے کہ وہ پیچھے رہ جانے والوں میں شامل رہے گی‘‘{۶۰} پھر جب یہ فرستادے لوطؑ کے ہاں پہنچے[35]{۶۱} تو اُس نے کہا ’’ آپ لوگ اجنبی معلوم ہوتے ہیں‘‘[36] {۶۲} انہوں نے جواب دیا ’’ نہیں ، بلکہ ہم وہی چیزلے کر آئے ہیں جس کے آنے میں یہ لوگ شک کررہے تھے {۶۳} ہم تم سے سچ کہتے ہیں کہ ہم حق کے ساتھ تمہارے پاس آئے ہیں{۶۴} لہٰذا اب تم کچھ رات رہے اپنے گھروالوں کو لے کر نکل جا ؤ اور خود انکے پیچھے پیچھے چلو،[37] تم میں سے کوئی پلٹ کرنہ دیکھے،[38] بس سیدھے چلے جا ؤ جد ھر جانے کا تمہیں حکم دیا جارہا ہے ۔‘‘{۶۵} اور اُسے ہم نے اپنا یہ فیصلہ پہنچادیا صبح ہوتے ہوتے ان لوگوں کی جڑکاٹ دی جائے گی{۶۶} اِتنے میں شہر کے لوگ خوشی کے مارے بے تاب ہوکر لوطؑ کے گھر چڑھ آئے[39]{۶۷} لوطؑ نے کہا ’’بھائیو، یہ میرے مہمان ہیں ، میری فضیحت نہ کرو{۶۸} اللہ سے ڈرو ، مجھے رُسوانہ کرو ‘‘ {۶۹} وہ بولے ’’کیا ہم بارہا تمہیں منع نہیں کرچکے ہیں کہ دنیا بھر کے ٹھیکہ دارنہ بنو ‘‘ {۷۰} لوط ؑ نے ( عاجز ہوکر ) کہا ’’ اگر تمہیں کچھ کرنا ہی ہے تو یہ میری بیٹیاں موجود ہیں!‘‘ [40] {۷۱} تیری جان کی قسم اے نبی ؐ!اُس وقت اُن پر ایک نشہ سا چڑھا ہوا تھا جس میں وہ آپے سے باہر ہوئے جاتے تھے۔ { ۷۲} آخر کار پوپھٹتے ہی اُن کو ایک زبردست دھماکے نے آلیا{۷۳} اور ہم نے اُس بستی کو تَل پَٹ کرکے رکھ دیا اور ان پرپکی ہوئی مٹی کے پتھروں کی بارش برسادی۔[41] {۷۴} اس واقعے میں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو صاحبِ فراست ہیں۔{۷۵} اور وہ علاقہ (جہاں یہ واقعہ پیش آیا تھا) گزرگاہ عام پر واقع ہے [42] {۷۶} اس میں سامان ِعبرت ہے اُن لوگوں کے لیے جو صاحب ایمان ہیں۔{۷۷} اور اَیکہ[43]والے (بھی یقینا)ظالم تھے {۷۸} تو دیکھ لو کہ ہم نے بھی اُن سے انتقام لیا ، اور اِن دونوں قوموں کے اجڑے ہوئے علاقے کُھلے راستے پر واقع ہیں۔[44] {۷۹} حجر [45]کے لوگ بھی رسولوں کی تکذیب کرچکے ہیں۔{۸۰} ہم نے اپنی آیات ان کے پاس بھیجیں ، اپنی نشانیاں اُن کو دکھائیں ، مگر وہ سب کو نظر اندازہی کرتے رہے ۔{۸۱} وہ پہاڑ تراش تراش کرمکان بناتے تھے اور اپنی جگہ بالکل بے خوف اور مطمئن تھے ۔{ ۸۲} آخر کار ایک زبردست دھماکے نے اُن کو صبح ہوتے آلیا{ ۸۳} اور ان کی کمائی ان کے کچھ کام نہ آئی۔[46]{ ۸۴} ہم نے زمین اور آسمانوں کو اور ان کی سب موجودات کو حق کے سوا کسی اور بنیاد پر خلق نہیں کیا،[47] اور فیصلے کی گھڑی یقینا آنے والی ہے ، پس (اے نبی ؐ) !تم (ان لوگوں کی بیہودگیوں پر) شریفانہ درگزر سے کام لو۔ {۸۵} یقینا تمہارا رَبّ سب کا خالق ہے اور سب کچھ جانتا ہے۔ [48]{۸۶} اور یقینا ( اے نبی ؐ! )ہم نے تم کو سات ایسی آیتیں دے رکھی ہیں جو بار بار دہرائی جانے کے لائق ہیں ، [49] اور تمہیں قرآن عظیم عطا کیا ہے۔[50]{۸۷} تم اُس متاع ِدنیا کی طرف آنکھ اٹھا کرنہ دیکھو جو ہم نے ان میں سے مختلف قسم کے لوگوں کو دے رکھی ہے ، اور نہ ان کے حال پر اپنا دل کڑھا ؤ۔[51]انہیں چھوڑ کر ایمان لانے والوں کی طرف جھکو{۸۸} اور ( نہ ماننے والوں سے ) کہہ دو کہ ’’ میں تو صاف صاف تنبیہ کرنے والا ہوں۔‘‘ {۸۹} یہ اُ سی طرح کی تنبیہ ہے جیسی ہم نے اُن تفرقہ پر دازوں کی طرف بھیجی تھی{۹۰} جنہوں نے اپنے قرآن کو ٹکڑے ٹکڑے کرڈالا ہے۔ [52]{۹۱} تو قسم ہے تیرے رَبّ کی ، ہم ضرورا ن سب سے پوچھیں گے { ۹۲} کہ تم کیا کرتے رہے ہو۔{ ۹۳} پس (اے نبی ؐ!)جس چیز کا تمہیں حکم دیا جا رہا ہے اُسے ہانکے پکار ے کہہ دو اور شرک کرنے والوں کی ذرا پروانہ کرو۔{ ۹۴} تمہاری طرف سے ہم اُن مذاق اُڑانے والوں کی خبرلینے کے لیے کافی ہیں {۹۵} جواللہ کے ساتھ کسی اور کو بھی اِلٰہ قرار دیتے ہیں، عنقریب انہیں معلوم ہوجائے گا۔{۹۶} ہمیں معلوم ہے کہ جو باتیں یہ لوگ تم پر بناتے ہیں ان سے تمہارے دل کو سخت کوفت ہوتی ہے{۹۷} ( اس کا علاج یہ ہے کہ ) اپنے رَبّ کی حمد کے ساتھ اس کی تسبیح کرو، اس کی جناب میں سجدہ بجالا ؤ {۹۸} اور اُس آخری گھڑی تک اپنے رَبّ کی بندگی کرتے رہو جس کا آنا یقینی ہے۔[53]{۹۹}
سورۃالنحل   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 16 : 1-50 / 128آگیا اللہ کا فیصلہ [1]، اب اس کے لیے جلدی نہ مچا ؤ ۔پاک ہے وہ اور بالاوبر تر ہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کر رہے ہیں۔[2]{۱} وہ اس روح [4]کو اپنے جس بندے پر چاہتا ہے اپنے حکم سے ملائکہ کے ذریعے نازل فرمادیتا ہے( اِس ہدایت کے ساتھ کہ لوگوں کو )’’ آگاہ کردو ، میرے سوا کوئی تمہارا معبود نہیں ہے، لہٰذا تم مجھ ہی سے ڈرو‘‘ ۔[5] {۲} اس نے آسمانوں و زمین کو برحق پیدا کیا ہے، وہ بہت بالاوبر ترہے اُس شرک سے جو یہ لوگ کرتے ہیں[6]{۳} اُس نے انسان کو ایک ذراسی بُوند سے پیدا کیا اور دیکھتے دیکھتے صریحاً وہ ایک جھگڑالوہستی بن گیا۔ [7]{۴} اس نے جانو ر پیدا کئے جن میں تمہارے لیے پوشاک بھی ہے اور خوراک بھی ، اور طرح طرح کے دوسرے فائدے بھی۔{۵} اُن میں تمہارے لئے جمال ہے جب کہ صبح تم انہیں چرنے کے لیے بھیجتے ہو اور جب کہ شام انہیں واپس لاتے ہو۔{۶} وہ تمہارے لئے بوجھ ڈھو کر ایسے ایسے مقامات تک لے جاتے ہیں جہاں تم سخت جانفشانی کے بغیر نہیں پہنچ سکتے۔ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رَبّ بڑا ہی شفیق اور مہربان ہے۔{۷} اس نے گھوڑے اور خچر اور گدھے پیدا کئے تا کہ تم ان پر سوار ہو، اور وہ تمہاری زندگی کی رونق بنیں ۔ وہ اور بہت سی چیزیں (تمہارے فائدے کے لیے ) پیدا کرتا ہے جن کا تمہیں علم تک نہیں ہے۔[8] {۸} اور اللہ ہی کے ذمہ ہے سیدھاراستہ بتانا جب کہ راستے ٹیڑھے بھی موجود ہیں ۔[9] اگر وہ چاہتا تو تم سب کو ہدایت دے دیتا۔ [10]{۹} وہی ہے جس نے آسمان سے تمہارے لئے پانی برسایا۔ جس سے تم خود بھی سیراب ہوتے ہو اور تمہارے جانوروں کے لیے بھی چارہ پیدا ہوتا ہے۔ {۱۰} وہ اس پانی کے ذریعے سے کھیتیاں اُگاتا ہے اور زیتون اور کھجور اور انگور اور طرح طرح کے دُوسرے پھل پیدا کرتا ہے۔ اِس میں ایک بڑی نشانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو غور وفکر کرتے ہیں۔{۱۱} اُس نے تمہار ی بھلائی کے لیے رات اور دن کو اور سُورج اور چاند کو مسخر کررکھا ہے اور سب تارے بھی اُسی کے حکم سے مسخر ہیں۔ اِس میں بہت نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔{ ۱۲} اور یہ جو بہت سی رنگ برنگ کی چیزیں اُس نے تمہارے لئے زمین میں پیدا کررکھی ہیں ، اِن میں بھی ضرور نشانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو سبق حاصل کرنے والے ہیں۔{۱۳} وہی ہے جس نے تمہارے لئے سمندر کو مسخر کررکھا ہے تا کہ تم اس سے ترو تازہ گوشت لے کر کھا ؤ اور اس سے زینت کی وہ چیزیں نکالو جنہیں تم پہنا کرتے ہو۔ تم دیکھتے ہوکہ کشتی سمندر کا سینہ چیرتی ہوئی چلتی ہے۔یہ سب کچھ اس لیے ہے کہ تم اپنے رَبّ کا فضل تلاش کرو [11]اور اس کے شکر گزار بنو۔{ ۱۴} اُس نے زمین میں پہاڑوں کی میخیں گاڑدیں تا کہ زمین تم کو لے کر ڈُھلک نہ جائے۔[12] اس نے دریا جاری کئے اور قدرتی راستے [13]بنائے تا کہ تم ہدایت پا ؤ۔{۱۵} اُس نے زمین میں راستہ بتانے والی علامتیں رکھ دیں [14]، اور تاروں سے بھی لوگ ہدایت پاتے ہیں۔[15] {۱۶} پھر کیا وہ جو پیدا کرتا ہے اور وہ جو کچھ بھی پیدا نہیں کرتے ، دونوں یکساں ہیں؟[16] کیا تم ہوش میں نہیں آتے ؟ {۱۷} اگر تُم اللہ کی نعمتوں کو گننا چاہو تو گِن نہیں سکتے ، حقیقت یہ ہے کہ وہ بڑا ہی درگزر کرنے والا اور رحیم ہے[17] {۱۸} حالانکہ وہ تمہارے کُھلے سے بھی واقف ہے اور چُھپے سے بھی۔[18]{۱۹} اور وہ دوسری ہستیاںجنہیں اللہ کو چھوڑ کر لوگ پکارتے ہیں ، وہ کسی چیز کے بھی خالق نہیں ہیں ، بلکہ خود مخلوق ہیں۔{۲۰} مُردہ ہیں نہ کہ زندہ۔ اور ان کو کچھ معلوم نہیں ہے کہ انہیں کب (دوبارہ زندہ کرکے) اُٹھایا جائے گا۔ [19]{۲۱} تمہارا اِلٰہ توبس ایک ہی اِلٰہ ہے ۔ مگر جو لوگ آخرت کو نہیں مانتے اُن کے دلوں میں انکار بس کررہ گیا ہے اور وہ گھمنڈ میں پڑگئے ہیں۔[20]{ ۲۲} اللہ یقینا اِن کے سب کر توت جانتا ہے ، چُھپے ہوئے بھی اور کُھلے ہوئے بھی ۔ وہ اُن لوگوں کو ہرگز پسند نہیں کرتا جو غرورِ نفس میں مُبتلا ہوں۔[21]{ ۲۳} اور جب کوئی اُن سے پوچھتا ہے کہ تمہارے رَبّ نے یہ کیا چیز ناز ل کی ہے تو کہتے ہیں ’’ اجی وہ تو اگلے وقتوں کی فرسودہ کہا نیاں ہیں‘‘۔[22]{۲۴} یہ باتیں وہ اس لیے کرتے ہیں کہ قیامت کے روز اپنے بوجھ بھی پورے اٹھائیں ، اور ساتھ ساتھ کچھ اُن لوگوں کے بوجھ بھی سمیٹیں جنہیں یہ بربنائے جہالت گمراہ کررہے ہیں۔ دیکھو ! کیسی سخت ذمہ داری ہے جو یہ اپنے سرلے رہے ہیں۔{۲۵} ان سے پہلے بھی بہت سے لوگ (حق کو نیچا د کھانے کے لیے ) ایسی ہی مَکّاریاں کرچکے ہیں، تو دیکھ لو کہ اللہ نے اُن کے مکر کی عمارت جڑسے اُکھاڑپھینکی اور اُس کی چھت اُوپر سے ان کے سر پرآرہی اور ایسے رُخ سے اُن پر عذاب آیا، جِدھرسے اُس کے آنے کا اُن کو گمان تک نہ تھا ۔{۲۶} پھر قیامت کے روز اللہ اُنہیں ذلیل و خوار کرے گا اور اُن سے کہے گا ’’ بتا ؤ اب کہاں ہیں میرے وہ شریک جن کے لیے تُم ( اہل حق سے ) جھگڑے کیا کرتے تھے‘‘؟[23] جن لوگوں کو دنیا میں عِلم حاصل تھا وہ کہیں گے ’’آج رسوائی اور بدبختی ہے کافروں کے لیے۔ ‘‘ {۲۷} ہاں[24] اُنہی کافروں کے لیے جو اپنے نفس پر ظلم کرتے ہوئے جب ملائکہ کے ہاتھوں گرفتار ہوتے ہیں [25]تو (سرکشی چھوڑ کر ) فوراً ڈگیں ڈال دیتے ہیں اور کہتے ہیں ، ’’ہم تو کوئی قصور نہیں کررہے تھے۔ ‘‘ ملائکہ جواب دیتے ہیں۔ ’’ کرکیسے نہیں رہے تھے ! اللہ تمہارے کرتوتوں سے خوب واقف ہے ۔{۲۸} اب جا ؤ، جہنّم کے دروازوں میں گُھس جا ؤ۔ وہیں تم کو ہمیشہ رہنا ہے‘‘ ۔[26]پس حقیقت یہ ہے کہ بڑا ہی بُراٹھکانا ہے متکبّروں کے لیے ۔{۲۹} دوسری طرف جب متقی لوگوں سے پوچھا جاتا ہے کہ یہ کیا چیز ہے جو تمہارے رَبّ کی طرف سے نازل ہوئی ہے ، تو وہ جواب دیتے ہیں کہ ’’ بہتر ین چیز اُتری ہے ۔ ‘‘[27] اِس طرح کے نیکو کار لوگوں کے لیے اِس دنیا میں بھی بھلائی ہے اور آخرت کا گھر تو ضرور ہی ان کے حق میں بہتر ہے ۔ بڑا اچھا گھر ہے متقیوں کا {۳۰} دائمی قیام کی جنّتیں ، جن میں وہ داخل ہوں گے ، نیچے نہریں بہہ رہی ہوں گی اور سب کچھ وہاں عین اُن کی خواہش کے مطابق ہوگا۔[28] یہ جزادیتا ہے اللہ متقیوں کو۔ {۳۱} اُن متقیوں کو جن کی رُوحیں پاکیزگی کی حالت میں جب ملائکہ قبض کرتے ہیں توکہتے ہیں ’’ سلام ہوتم پر ، جا ؤ جنّت میں اپنے اعمال کے بدلے‘‘۔ {۳۲} ( اے نبی ؐ!) اب جو یہ لوگ انتظار کررہے ہیں تو اِس کے سوا اب اور کیا باقی رہ گیا ہے کہ ملائکہ ہی آپہنچیں، یا تیرے رَبّ کا فیصلہ صادر ہوجائے ؟[29] اِسی طرح کی ڈھٹائی اِن سے پہلے بہت سے لوگ کر چکے ہیں،پھر جو کچھ اُن کے ساتھ ہو ا وہ اُن پر اللہ کا ظُلم نہ تھا بلکہ اُن کا اپنا ظُلم تھا جو انہوں نے خود اپنے اوپر کیا۔{۳۳} اُن کے کرتوتوں کی خرابیاں آخر کار اُن کی دامن گیر ہوگئیں اور وہی چیزاُن پر مُسلّط ہو کررہی جس کا وہ مذاق اُڑایا کرتے تھے۔{ ۳۴} یہ مشرکین کہتے ہیں۔ ’’ اگر اللہ چاہتا تو نہ ہم اور نہ ہمارے باپ دادا اُس کے سوا کسی اور کی عبادت کرتے اور نہ اس کے حکم کے بغیر کسی چیز کو حرام ٹھہراتے۔ ‘‘[30]ایسے ہی بہا نے اِن سے پہلے کے لوگ بھی بناتے رہے ہیں ۔ [31]تو کیا رسُولوں پر صاف صاف بات پہنچادینے کے سوا اور بھی کوئی ذمہ داری ہے؟ {۳۵} ہم نے ہراُمّت میں ایک رسُول بھیج دیا، اور اس کے ذریعہ سے سب کو خبردار کردیا کہ ’’ اللہ کی بندگی کرو اور طاغوت کی بندگی سے بچو‘‘ ۔[32]اس کے بعد ان میں سے کسی کو اللہ نے ہدایت بخشی اور کسی پر ضلالت مسلّط ہوگئی۔[33] پھر ذرا زمین میں چل پھر کر دیکھ لو کہ جھٹلانے والوں کا کیا انجام ہوچکا ہے۔[34] {۳۶} اے نبی ؐ! تم چاہے ان کی ہدایت کے لیے کتنے ہی حریص ہو ، مگر اللہ جس کو بھٹکا دیتا ہے پھر اسے ہدایت نہیں دیا کرتا اور اس طرح کے لوگوں کی مدد کوئی نہیں کرسکتا ۔{۳۷} یہ لوگ اللہ کے نام سے کڑی کڑی قسمیں کھا کر کہتے ہیں کہ ’’ اللہ کسی مرنے والے کو پھر سے زندہ کرکے نہ اٹھائے گا‘‘۔ اٹھائے گاکیوں نہیں؟ یہ تو ایک وعدہ ہے جسے پورا کرنا اس نے اپنے اوپر واجب کرلیا ہے، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔{۳۸} اور ایسا ہونا اس لیے ضروری ہے کہ اللہ ان کے سامنے اس حقیقت کو کھول دے جس کے بارے میں یہ اختلاف کررہے ہیں۔ اور منکرین حق کو معلوم ہوجائے کہ وہ جھوٹے تھے۔[35]{۳۹} ( رہا اُس کا امکان ، تو ) ہمیں کسی چیز کو وجود میں لانے کے لیے اس سے زیادہ کچھ کرنا نہیں ہوتا کہ اسے حکم دیں’’ ہوجا‘‘ اور بس وہ ہوجاتی ہے۔ [36]{۴۰} جو لوگ ظلم سہنے کے بعد اللہ کی خاطر ہجرت کرگئے ہیں ان کو ہم دنیا ہی میں اچھا ٹھکانا دیں گے اور آخرت کا اجر تو بہت بڑا ہے ۔ [37]کاش جان لیں {۴۱} وہ مظلوم جنہوں نے صبر کیا ہے اور جو اپنے رَبّ کے بھروسے پر کام کررہے ہیں ( کہ کیسا اچھا انجام اُن کا منتظر ہے۔){۴۲} اے نبی ؐ !ہم نے تم سے پہلے بھی جب کبھی رسُول بھیجے ہیں آدمی ہی بھیجے ہیں جن کی طرف ہم اپنے پیغامات وحی کیا کرتے تھے۔[38] اہل ذِکر [39]سے پُوچھ لو اگر تم لوگ خود نہیں جانتے ۔{۴۳} پچھلے رسُولوں کو بھی ہم نے روشن نشانیاں اور کتابیں دے کر بھیجا تھا ، اور اب یہ ذکر تم پر نازل کیا ہے تا کہ تم لوگوں کے سامنے اُس تعلیم کی تشریح و توضیح کرتے جا ؤ جو اُن کے لیے اُتاری گئی ہے،[40]اور تا کہ لوگ (خود بھی) غور وفکر کریں۔{۴۴} پھر کیا وہ لوگ جو (دعوت پیغمبر کی مخالفت میں ) بدتر سے بدتر چالیں چل رہے ہیں اِس بات سے بالکل ہی بے خوف ہوگئے ہیں کہ اللہ اُن کو زمین میں دھنسادے ، یا ایسے گوشے سے ان پر عذاب لے آئے جدھر سے اس کے آنے کا ان کو وہم وگمان تک نہ ہو{۴۵} یا اچانک چلتے پھرتے ان کو پکڑلے( وہ جو کچھ بھی کرنا چاہے وہ کر گزرتا ہے)یہ لوگ اُس کو عاجز کرنے کی طاقت نہیں رکھتے۔ {۴۶} یا ایسی حالت میں انہیں پکڑے جبکہ انہیں خود آنے والی مصیبت کا کھٹکالگا ہواہو اور وہ اس سے بچنے کی فکر میں چوکنّے ہوں؟ حقیقت یہ ہے کہ تمہارا رَبّ بڑا ہی نرم خُو اور رحیم ہے۔ {۴۷} اور کیا یہ لوگ اللہ کی پیدا کی ہوئی کسی چیز کو بھی نہیں دیکھتے کہ اس کا سایہ کس طرح اللہ کے حضور سجدہ کرتے ہوئے دائیں اور بائیں گرتا ہے ؟[41] سب کے سب اِس طرح اظہارِ عجز کررہے ہیں ۔{۴۸} زمین اور آسمانوں میں جس قدرجان دار مخلوقات ہیں اور جتنے ملائکہ ، سب اللہ کے آگے سربسجودہیں ۔ [42]وہ ہرگزسرکشی نہیں کرتے{۴۹} اپنے رَبّ سے جو اُن کے اُوپر ہے ، ڈرتے ہیں اور جو کچھ حکم دیا جاتا ہے اسی کے مطابق کام کرتے ہیں۔{۵۰}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)