سورۃالرعد   -  13 : 19-43 / 43بھلا یہ کس طرح ممکن ہے کہ وہ شخص جو تمہارے رَبّ کی اِس کتاب کو جو اس نے تم پر نازل کی ہے حق جانتا ہے ، اور وہ شخص جواس حقیقت کی طرف سے اندھا ہے ، دونوں یکساں ہوجائیں [35]؟ نصیحت تو دانشمند لوگ ہی قبول کیا کرتے ہیں۔[36]{۱۹} اوراُن کا طرِز عمل یہ ہوتا ہے کہ اللہ کیساتھ اپنے عہد کوپورا کرتے ہیں، اُسے مضبوط باندھنے کے بعد توڑ نہیں ڈالتے۔ [37]{۲۰} اُن کی روش یہ ہوتی ہے کہ اللہ نے جن جن روابط کو بر قرار رکھنے کا حکم دیا ہے[38] انہیں برقرار رکھتے ہیں، اپنے رَبّ سے ڈرتے ہیں اور اِس بات کا خوف رکھتے ہیں کہ کہیں ان سے بُری طرح حساب نہ لیا جائے۔{۲۱} اُن کا حال یہ ہوتا ہے کہ اپنے رَبّ کی رضا کے لیے صبر سے کام لیتے ہیں [39]، نماز قائم کرتے ہیں ، ہمارے دیئے ہوئے رزق میں سے علانیہ اور پوشیدہ خرچ کرتے ہیں ۔اور برائی کو بھلائی سے دفع کرتے ہیں۔[40] آخرت کا گھر انہی لوگوں کے لیے ہے۔{ ۲۲} یعنی ایسے باغ جو اُن کی ابدی قیام گاہ ہوں گے۔وہ خود بھی ان میں داخل ہوں گے اور اُن کے آباء و اجداد اور اُنکی بیویوں اور اُنکی اولاد میں سے جوجو صالح ہیں وہ بھی اُن کے ساتھ وہاں جائیں گے۔ ملائکہ ہر طرف سے اُن کے استقبال کے لیے آئیں گے{ ۲۳} اور اُن سے کہیں گے ’’ تم پر سلامتی ہے ،[41] تم نے دنیا میں جس طرح صبر سے کام لیا اُس کی بدولت آج تم اِس کے مستحق ہوئے ہو‘‘ ۔ پس کیا ہی خوب ہے یہ آخرت کا گھر۔{۲۴} رہے وہ لوگ جو اللہ کے عہد کو مضبوط باندھ لینے کے بعد توڑ ڈالتے ہیں ، جو اُن رابطوں کو کاٹتے ہیں جنہیں اللہ نے جوڑنے کا حکم دیا ہے اور جو زمین میں فساد پھیلاتے ہیں ، وہ لعنت کے مستحق ہیں اور اُن کے لیے آخرت میں بہت بُراٹھکانا ہے۔{۲۵} اللہ جس کو چاہتا ہے رزق کی فراخی بخشتا ہے اور جسے چاہتا ہے نپا تُلارزق دیتا ہے۔[42] یہ لوگ دنیوی زندگی میں مگن ہیں،حالاں کہ دنیا کی زندگی آخرت کے مقابلے میں ایک متاع ِقلیل کے سوا کچھ بھی نہیں۔{۲۶} یہ لوگ جنہوں نے ( رسالت محمدّیؐ کو ماننے سے ) انکار کردیا ہے ، کہتے ہیں ’’ اِس شخص پر اِس کے رَبّ کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اُتری ‘‘[43] کہو، اللہ جسے چاہتا ہے گمراہ کردیتا ہے اور وہ اپنی طرف آنے کاراستہ اُسی کو دکھاتا ہے جو اس کی طرف رجوع کرے۔[44]{۲۷} ایسے ہی لوگ ہیں وہ جنہوں نے( اس نبی ؐ کی دعوت کو ) مان لیا ہے اور اُن کے دلوں کو اللہ کی یاد سے ا طمینان نصیب ہوتا ہے ۔خبردار رہو ! اللہ کی یاد ہی وہ چیز ہے جس سے دلو ںکو اطمینان نصیب ہوا کرتا ہے۔ {۲۸} پھر جن لوگوں نے دعوتِ حق کو مانا اور نیک عمل کئے وہ خوش نصیب ہیں اور اُن کے لیے اچھا انجام ہے۔{۲۹} اے نبی ؐ! اسی شان سے ہم نے تم کو رسول ؐبناکر بھیجا ہے [45]ایک ایسی قوم میں جس سے پہلے بہت سی قومیں گزرچکی ہیں، تا کہ تم اِن لوگوں کو وہ پیغام سنا ؤ جو ہم نے تم پر نازل کیا ہے اِس حال میں کہ یہ اپنے نہایت مہربان رب کے کافربنے ہوئے ہیں۔[46] ان سے کہو کہ وہی میرا رَبّ ہے اُسکے سوا کوئی معبود نہیں ہے ، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور وہی میرا ملجا وماویٰ ہے۔{۳۰} اور کیا ہوجاتا اگر کوئی ایسا قرآن اتار دیا جاتا جس کے زور سے پہاڑ چلنے لگتے ، یازمین شق ہوجاتی ، یامُردے قبروں سے نکل کر بولنے لگتے ؟ [47] ( اِس طرح کی نشانیاں دکھا دینا کچھ مشکل نہیں ہے) بلکہ سارا اختیار ہی اللہ کے ہاتھ میں ہے۔ [48]پھر کیا اہلِ ایمان ( ابھی تک کفار کی طلب کے جواب میں کسی نشانی کے ظہور کی آس لگائے بیٹھے ہیں اور وہ یہ جان کر ) مایوس نہیں ہوگئے کہ اگر اللہ چاہتا تو سارے انسانوں کو ہدایت دے دیتا؟ [49] جن لوگوں نے اللہ کے ساتھ کفر کا رویہّ اختیار کررکھا ہے اُن پر اُن کے کرتوتوں کی وجہ سے کوئی نہ کوئی آفت آتی ہی رہتی ہے ، یا اُن کے گھر کے قریب کہیں نازل ہوتی ہے،یہ سلسلہ چلتا رہے گا یہاں تک کہ اللہ کا وعدہ آن پورا ہو۔ یقینا اللہ اپنے وعدے کی خلاف ورزی نہیں کرتا ۔{۳۱} تم سے پہلے بھی بہت سے رسُولوں کا مذاق اُڑایا جاچکا ہے مگر میں نے ہمیشہ منکرین کو ڈھیل دی اور آخر کار اُن کو پکڑلیا ، پھر دیکھ لو کہ میری سزا کیسی سخت تھی۔{ ۳۲} پھر کیاوہ جو ایک ایک متنفس کی کمائی پر نظر رکھتا ہے[50] (اسکے مقابلے میں یہ جسارتیں کی جارہی ہیں[51] کہ ) لوگوں نے اسکے کچھ شریک ٹھہرا رکھے ہیں؟ (اے نبی ؐ) ، اِن سے کہو ( اگر واقعی وہ اللہ کے اپنے بنائے ہوئے شریک ہیں تو ) ذرا اُن کے نام لو کہ وہ کون ہیں ؟ کیا تم اللہ کو ایک نئی بات کی خبردے رہے ہو جسے وہ اپنی زمین میں نہیں جانتا ؟ یا تم لوگ بس یونہی جو منھ میں آتا ہے کہہ ڈالتے ہو ؟[52] حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں نے دعوتِ حق کو ماننے سے انکا رکیا ہے اُن کے لیے ان کی مکّاریاں [53]خوشنما بنادی گئی ہیں اور وہ راہِ راست سے روک دیے گئے ہیں ،[54] پھر جس کو اللہ گمراہی میں پھینک دے اسے کوئی راہ دکھانیوالا نہیں ہے{۳۳} ایسے لوگوں کے لیے دنیا کی زندگی ہی میں عذاب ہے ، اور آخرت کا عذاب اِس سے بھی زیادہ سخت ہے ۔ کوئی ایسا نہیں جو اُنہیں اللہ سے بچانے والا ہو۔{ ۳۴} متقی انسانوں کے لیے جس جنّت کا وعدہ کیا گیا ہے اُس کی شان یہ ہے کہ اس کے نیچے نہریں بہہ رہی ہیں ، اس کے پھل دائمی ہیں اور اُس کا سایہ لازوال ۔ یہ انجام ہے متقی لوگوں کا ۔ اور منکرینِ حق کا انجام یہ ہے کہ ان کے لیے دوزخ کی آگ ہے۔{۳۵} اے نبی ؐ !جن لوگوں کو ہم نے پہلے کتاب دی تھی وہ اِس کتاب سے جو ہم نے تم پر نازل کی ہے ، خوش ہیں اور مختلف گروہوں میں کچھ لوگ ایسے بھی ہیں جو اس کی بعض باتوں کو نہیں مانتے ۔ تم صاف کہہ دو کہ ’’مجھے تو صرف اللہ کی بندگی کا حکم دیا گیا ہے اور اِس سے منع کیا گیا ہے کہ کسی کو اس کے ساتھ شریک ٹھہرا ؤں ، لہٰذا میں اُسی کی طرف دعوت دیتا ہوں اور اُسی کی طرف میرارجوع ہے ‘‘[55]۔{۳۶} اِسی ہدایت کے ساتھ ہم نے یہ فرمانِ عربی تم پر نازل کیا ہے۔ اب اگر تم نے اس علم کے باوجود جو تمہارے پاس آچکا ہے، لوگوں کی خواہشات کی پیروی کی تو اللہ کے مقابلے میں نہ کوئی تمہارا حامی ومدد گار ہے اور نہ کوئی اس کی پکڑ سے تم کو بچاسکتا ہے۔{۳۷} تم سے پہلے بھی ہم بہت سے رسُول بھیج چکے ہیں اور ان کو ہم نے بیوی بچوں والا ہی بنایا تھا ۔[56]اور کسی رسول کی بھی یہ طاقت نہ تھی کہ اللہ کے اِذن کے بغیر کوئی نشانی خود لادکھاتا۔[57] ہر دور کے لیے ایک کتاب ہے۔ {۳۸} اللہ جو کچھ چاہتا ہے مٹادیتا ہے اور جس چیز کو چاہتا ہے قائم رکھتا ہے ،اُمُّ الکتاب اُسی کے [58]پاس ہے۔ {۳۹} اور اے نبی ؐ! جس بُرے انجام کی دھمکی ہم اِن لوگوں کو د ے رہے ہیں اِس کا کوئی حصہ خواہ ہم تمہارے جیتے جی دکھادیں یا اس کے ظہور میں آنے سے پہلے ہم تمہیں اٹھالیں، بہر حال تمہارا کام صرف پیغام پہنچا دینا ہے اور حساب لینا ہمارا کام ہے۔ [59]{۴۰} کیا یہ لوگ دیکھتے نہیں ہیں کہ ہم اِس سرزمین پر چلے آرہے ہیں اور اِس کا دائرہ ہر طرف سے تنگ کرتے چلے آتے ہیں؟[60] اللہ حکومت کررہا ہے ، کوئی اُس کے فیصلوں پر نظر ثانی کرنے والا نہیں ہے اور اُسے حساب لیتے کچھ دیر نہیں لگتی۔{۴۱} اِن سے پہلے جو لوگ ہوگزرے ہیں وہ بھی بڑی بڑی چالیں چل چکے ہیں،[61] مگر اصل فیصلہ کُن چال (خفیہ تدبیر) تو پوری کی پوری اللہ ہی کے ہاتھ میں ہے۔ وہ جانتا ہے کہ کون کیا کچھ کمائی کررہا ہے ، اور عنقریب یہ منکرین ِحق دیکھ لیں گے کہ انجام کس کا بخیر ہوتا ہے۔{ ۲ ۴} یہ منکرین کہتے ہیں کہ تم اللہ کے بھیجے ہوئے رسول نہیں ہو۔ کہو ،’’ میرے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کا فی ہے اور پھر اُس شخص کی گواہی جو کتابِ آسمانی کا علم رکھتا ہے۔‘‘ [62]{۴۳}
سورۃابراہیم   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 14 : 1-52 / 52الٓرٰ۔( اے محمد ؐ !) یہ ایک کتاب ہے جس کو ہم نے تمہاری طرف نازل کیا ہے تا کہ تم لوگوں کو تاریکیوںسے نکال کر روشنی میں لا ؤ ، اُن کے رَبّ کی توفیق سے ، اُس رَبّ کے راستے [1]پر جو زبردست اور اپنی ذات میں آپ محمودہے ۔[2]{۱} اور(اللہ ہی ) زمین اور آسمانوں کی ساری موجودات کا مالک ہے۔اور سخت تباہ کُن سزا ہے قبولِ حق سے انکار کرنے والوں کے لیے { ۲} جو دنیا کی زندگی کو آخرت پر ترجیح دیتے ہیں[3] ، جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روک رہے ہیں اور چاہتے ہیں کہ یہ راستہ ( اُن کی خواہشات کے مطابق ) ٹیڑھا ہو جائے۔[4] یہ لوگ گمراہی میں بہت دور نکل گئے ہیں۔{ ۳} ہم نے اپنا پیغام دینے کے لیے جب کبھی کوئی رسول بھیجا ہے ، اُس نے اپنی قوم ہی کی زبان میں پیغام دیا ہے تاکہ وہ اُنہیں اچھی طرح کھول کر بات سمجھائے ۔[5] پھر اللہ جسے چاہتا ہے بھٹکا دیتا ہے اور جسے چاہتا ہے ہدایت بخشتا ہے،[6] وہ بالادست اور حکیم ہے۔[7]{ ۴} ہم اِس سے پہلے موسیٰ ؑ کو بھی اپنی نشانیوں کے ساتھ بھیج چکے ہیں۔ اُسے بھی ہم نے حکم دیا تھا کہ اپنی قوم کو تاریکیوں سے نکال کر روشنی میں لا اور اُنہیں تاریخِ الہٰی[8] کے سبق آموز واقعات سُناکر نصیحت کر۔ ان واقعات میں بڑی نشانیاں ہیں[9] ہراُس شخص کے لیے جو صبر اور شکر کرنے والا ہو۔[10] {۵} یادکرو جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا ’’ اللہ کے اُس احسان کو یادرکھو جو اس نے تم پر کیا ہے ۔ اس نے تم کو فرعون والوں سے چُھڑایا جو تم کو سخت تکلیفیں دیتے تھے۔ تمہارے لڑکوں کو قتل کرڈالتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ بچارکھتے تھے ، اس میں تمہارے رَبّ کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔{۶} اور یادرکھو تمہارے رَبّ نے خبردار کردیا تھا کہ اگر شکر گزاربنوگے[11] تو میں تم کو اور زیادہ نوازوں گا اور اگر کُفرانِ نعمت کروگے تو میری سزا بہت سخت ہے ‘‘[12]{۷} اور موسیٰ ؑ نے کہا کہ ’’ اگر تم کفر کرو اور زمین کے سارے رہنے والے بھی کافر ہوجائیں تو اللہ بے نیاز اوراپنی ذات میں آپ محمود ہے‘‘[13]{۸} کیا تمہیں[14] اُن قوموں کے حالات نہیں پہنچے جو تم سے پہلے گزرچکی ہیں ؟ قو مِ نوحؑ ،عاد ،ثمود اور اُن کے بعد آنے والی بہت سی قومیں جن کا شمار اللہ ہی کو معلوم ہے ؟ اُن کے رسولؑ جب اُن کے پاس صاف صاف باتیں اور کھلی کھلی نشانیاں لئے ہوئے آئے تو انہو ں نے اپنے منھ میں ہاتھ دبالئے [15]اور کہا کہ ’’جس پیغام کے ساتھ تم بھیجے گئے ہو ہم اُس کو نہیں مانتے اور جس چیز کی تم ہمیں دعوت دیتے ہو اس کی طرف سے ہم سخت خلجان آمیزشک میں پڑے ہوئے ہیں‘‘۔[16] {۹} ان کے رسُولوں نے کہا ’’کیا اللہ کے بارے میں شک ہے جو آسمانوں اور زمین کا خالق ہے؟[17] وہ تمہیں بُلا رہا ہے تا کہ تمہارے قصور معاف کرے اور تم کو ایک مدّت مقرر تک مُہلت دے‘‘۔[18] اُنہوں نے جواب دیا ’’ تم کچھ نہیں ہو، مگر ویسے ہی انسان جیسے ہم ہیں۔[19] تُم ہمیں اُن ہستیوں کی بندگی سے روکنا چاہتے ہو جن کی بندگی باپ دادا سے ہوتی چلی آرہی ہے۔ اچھا تو لا ؤ کوئی صریح سند ۔‘‘[20]{۱۰} اُن کے رسولوں نے ان سے کہا ’’ واقعی ہم کچھ نہیں ہیں مگرتُم جیسے انسان ، لیکن اللہ اپنے بندو ں میں سے جس کو چاہتا ہے نوازتا ہے[21] اور یہ ہمارے اختیار میں نہیں ہے کہ تمہیں کوئی سندلادیں۔ سند تو اللہ ہی کے اِذنْ سے آسکتی ہے اور اللہ ہی پراہل ایمان کو بھروسہ کرنا چاہیے ۔{۱۱} اور ہم کیو ںنہ اللہ پر بھروسہ کریں جب کہ ہماری زندگی کی راہوں میں اس نے ہماری رہنمائی کی ہے ؟جو اذیتیں تم لوگ ہمیں دے رہے ہو اُن پر ہم صبر کریں گے اور بھروسہ کرنے والوں کا بھروسہ اللہ ہی پر ہوناچاہیے ‘‘{۱۲} آخر کار منکرین نے اپنے رسُولوں سے کہہ دیا کہ ’’یاتو تمہیں ہماری ملت میں واپس آنا ہوگا ورنہ [22]ہم تمہیں اپنے ملک سے نکال دیں گے۔ ‘‘تب اُن کے رَبّ نے اُن پر وحی بھیجی کہ ’’ ہم اِن ظالموں کو ہلاک کردیں گے { ۱۳} اور ان کے بعد تمہیں زمین میں آباد کریں گے۔ [23]یہ انعام ہے اُس کا جو میرے حضور جواب دہی کا خوف رکھتا ہو اور میری وعید سے ڈرتا ہو‘‘ { ۱۴} اُنہوں نے فیصلہ چاہا تھا ( تو یوں اُن کا فیصلہ ہوا) اور ہر جبّار دشمنِ حق نے منھ کی کھائی [24]{۱۵} پھر اس کے بعد آگے اس کے لیے جہنم ہے ۔وہاں اُسے کچ لہو کا ساپانی پینے کو دیا جائے گا{۱۶} جسے وہ زبردستی حلق سے اُتار نے کی کوشش کرے گا اور مشکل ہی سے اُتارسکے گا ۔موت ہر طرف سے اس پر چھائی رہے گی مگروہ مرنے نہ پائے گا اور آگے ایک سخت عذاب اس کی جان کو لاگور ہے گا ۔{۱۷} جن لوگوں نے اپنے رَبّ سے کفر کیا ہے ان کے اعمال کی مثال اُس راکھ کی سی ہے جسے ایک طوفانی دن کی آندھی نے اُڑادیا ہو، وہ اپنے کیے کا کچھ بھی پھل نہ پاسکیں گے۔ [25]یہی پرلے درجے کی گم گشتگی ہے۔ {۱۸} کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے آسمانوں و زمین کی تخلیق کو حق پر قائم کیا ہے ؟[26] وہ چاہے تو تم لوگوں کو لے جائے اور ایک نئی خلقت تمہاری جگہ لے آئے ۔{۱۹} ایسا کرنا اُس پر کچھ بھی دشوار نہیں ہے۔[27]{۲۰} اور یہ لوگ جب اکٹھے اللہ کے سامنے بے نقاب ہوں گے تو اُس وقت ان میں سے جو دنیا میں کمزور تھے وہ اُن لوگوں سے جو بڑے بنے ہوئے تھے، کہیں گے ’’ دنیا میں ہم تمہارے تابع تھے ، اب کیا تم اللہ کے عذاب سے ہم کو بچانے کے لیے بھی کچھ کرسکتے ہو؟‘‘ وہ جواب دیں گے ’’ اگر اللہ نے ہمیں نجات کی کوئی راہ دکھائی ہوتی تو ہم ضرور تمہیں دکھادیتے ۔ اب تو یکساں ہے خواہ ہم جزع فزع کریں یا صبر،بہر حال ہمارے بچنے کی کوئی صورت نہیں۔ ‘‘[29]{۲۱} اور جب فیصلہ چکا دیا جائے گاتو شیطان کہے گا ’’حقیقت یہ ہے کہ اللہ نے جو وعدے تم سے کئے تھے وہ سب سچّے تھے اور میں نے جتنے وعدے کئے ان میں سے کوئی بھی پُورا نہ کیا ۔[30]میراتم پر کوئی زور تو تھا نہیں ، میں نے اِس کے سواکچھ نہیں کیا کہ اپنے راستے کی طرف تم کو دعوت دی اور تم نے میری دعوت پرلبیک کہا۔[31] اب مجھے ملامت نہ کرو ، اپنے آپ ہی کو ملامت کرو ۔ یہاں نہ میں تمہاری فریاد رسی کر سکتاہوں اور نہ تم میری۔ اِس سے پہلے جو تم نے مجھے اللہ کا شریک [32]بنارکھاتھا میں اس سے بری الذّمہ ہوں ، ایسے ظالموں کے لیے درد ناک سزایقینی ہے ۔{ ۲۲} بخلاف اِس کے جولوگ دنیا میں ایمان لائے ہیں اور جنہوں نے نیک عمل کئے ہیں وہ ایسے باغوں میں داخل کئے جائیں گے جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ وہاں وہ اپنے رَبّ کے اِذنْ سے ہمیشہ رہیں گے ، اور وہاں ان کا استقبال سلامتی کی مبارکباد [33]سے ہوگا۔{۲۳} کیا تم دیکھتے نہیں ہو کہ اللہ نے کلمئہ طیّبہ [34]کو کس چیز سے مثال دی ہے ؟ اس کی مثال ایسی ہے جیسے ایک اچھی ذات کا درخت جس کی جڑز مین میں گہری جمی ہوئی ہے اور شاخیں آسمان تک پہنچی ہوئی ہیں[35]{۲۴} ہر آن وہ اپنے رَبّ کے حکم سے اپنے پھل دے رہا ہے۔[36]یہ مثالیں اللہ اس لیے دیتا ہے کہ لوگ ان سے سبق لیں۔{۲۵} اور کلمۂ خبیشہ [37]کی مثال ایک بدذات درخت کی سی ہے، جو زمین کی سطح سے اُکھاڑ پھینکا جاتا ہے، اُس کے لیے کوئی استحکام نہیں ہے۔[38]{۲۶} ایمان لانے والوں کو اللہ ایک قول ثابت کی بنیاد پر دنیااور آخرت ، دونوں میں ثبات عطا کرتا ہے [39]، اور ظالموں کو اللہ بھٹکا دیتا ہے ۔[40] اللہ کو اختیار ہے جو چاہے کرے۔ {۲۷} تم نے دیکھا اُن لوگوں کو جنہوں نے اللہ کی نعمت پائی اور اُسے کفرانِ نعمت سے بدل ڈالا اور ( اپنے ساتھ) اپنی قوم کو بھی ہلاکت کے گھر میں جھونک دیا{۲۸} یعنی جہنم، جس میں وہ جھلسے جائیں گے اور وہ بدترین جائے قرار ہے۔{۲۹} اور اللہ کے کچھ ہمسرتجویز کرلیے تا کہ وہ انہیں اللہ کے راستے سے بھٹکادیں ۔ ان سے کہو ، اچھا مزے کرلو ، آخر کا رتمہیں پلٹ کرجانا دوزخ ہی میں ہے۔{۳۰} (اے نبی ؐ!)میرے جو بندے ایمان لائے ہیں اُن سے کہہ دو کہ نماز قائم کریں اور جو کچھ ہم نے اُن کو دیاہے اُس میں سے کھلے اور چُھپے (راہِ خیر میں ) خرچ کریں[41] قبل اِس کے کہ وہ دن آئے جس میں نہ خرید و فروخت ہوگی اور نہ دوست نوازی ہوسکے گی۔[42]{۳۱} اللہ وہی تو[43] ہے جس نے زمین اور آسمانوں کو پیدا کیا اور آسمان سے پانی برسایا ، پھر اس کے ذریعہ سے تمہاری رزق رسانی کے لیے طرح طرح کے پھل پیدا کئے۔ جس نے کشتی کو تمہارے لئے مسخر کیا کہ سمندر میں اس کے حکم سے چلے اور دریا ؤں کو تمہارے لیے مسخر کیا ۔{۳۲} جس نے سُورج اور چاند کو تمہارے لئے مسخر کیا کہ لگاتار چلے جارہے ہیں اور رات اور دن کو تمہارے لئے مسخر کیا[44] {۳۳} جس نے وہ سب کچھ تمہیں دیا جو تم نے مانگا [45]اگر تم اللہ کی نعمتوں کاشمار کرنا چاہو تو نہیں کرسکتے ۔ حقیقت یہ ہے کہ انسان بڑا ہی بے انصاف اور ناشکرا ہے۔{ ۳۴} یادکرو وہ وقت جب ابراہیم ؑ نے دعا کی[46] تھی کہ: ’’ پروردگار ! اس شہر [47] ( یعنی مکہ ) کو امن کا شہر بنا اور مجھے اور میری اولاد کو بت پرستی سے بچا ۔{۳۵} اے میرے پروردگار ! اِن بتوں نے بہتوں کو گمراہی میں ڈالا ہے[48] ( ممکن ہے کہ میری اولاد کو بھی یہ گمراہ کردیں، لہذا اُن میں سے ) جو میرے طریقے پر چلے وہ میرا ہے اور جو میرے خلاف طریقہ اختیار کرے تو یقینا تو درگزر کرنے والا مہربان ہے۔[49]{۳۶} پروردگار ! میں نے ایک بے آب وگیاہ وادی میں اپنی اولاد کے ایک حصہ کو تیرے محترم گھر کے پاس لابسایا ہے ۔ پروردگار! یہ میں نے اس لیے کیا ہے کہ یہ لوگ یہاں نماز قائم کریں ، لہٰذا تو لوگوں کے دِلوں کو ان کا مشتاق بنا اور انہیں کھانے کو پھل دے ،[50] شاید کہ یہ شُکر گزار بنیں۔ {۳۷} پروردگار !تو جانتا ہے جو کچھ ہم چھپاتے ہیں اور جو کچھ ظاہر کرتے ہیں‘‘[51]اور[52] واقعی اللہ سے کچھ بھی چھپا ہو انہیں ہے ، نہ زمین میں نہ آسمانوں میں ۔{۳۸} ’’شکر ہے اُس اللہ کا جس نے مجھے اِس بڑھاپے میں اسماعیل ؑ اور اسحاق ؑ جیسے بیٹے دیئے۔ حقیقت یہ ہے کہ میرا رَبّ ضرور دُعا سنتا ہے۔ {۳۹} اے میرے پروردگار !مجھے نماز قائم کرنے والا بنا اور میری اولاد سے بھی( ایسے لوگ اُٹھا جو یہ کام کریں) پروردگار ! میری دُعا قبول کر۔ {۴۰} پروردگار ! مجھے اور میرے والدین کو اور سب ایمان لانے والوں کو اُس دن معاف کر دیجیو جبکہ حساب قائم ہوگا۔ ‘‘[53]{۴۱} اب یہ ظالم لوگ جو کچھ کررہے ہیں ، اللہ کو تم اس سے غافل نہ سمجھو۔ اللہ تو انہیں ٹال رہا ہے اُس دن کے لیے جب حال یہ ہوگا کہ آنکھیں پھٹی کی پھٹی رہ گئی ہیں{ ۴۲} سراٹھائے بھاگے چلے جارہے ہیں ، نظریں اوپر جمی ہیں[54] اور دل اُڑے جاتے ہیں ۔{ ۴۳} (اے نبی ؐ !) اُس دن سے تم انہیں ڈرادو جبکہ عذاب اِنہیں آلے گا ۔ اُس وقت یہ ظالم کہیں گے کہ ’’اے ہمارے رَبّ ، ہمیں تھوڑی سی مُہلت اور دیدے ، ہم تیری دعوت کو لبیک کہیں گے اور رسولوں کی پیروی کریں گے ‘‘ ( مگر انہیں صاف جواب دیا جائے گا کہ ) کیا تم وہی لوگ نہیں ہو جو اِس سے پہلے قسمیں کھا کھاکرکہتے تھے ، ہم پر تو کبھی زوال آنا ہی نہیں ہے ؟ {۴۴} حالانکہ تم اُن قوموں کی بستیوں میں رہ بس چکے تھے جنہوں نے اپنے اوپر آپ ظلم کیا تھااور دیکھ چکے تھے کہ ہم نے اُن سے کیا سلوک کیا اور اُن کی مثالیں دے دے کر ہم تمہیں سمجھا بھی چکے تھے ۔{۴۵} اُنہوں نے اپنی ساری ہی چالیں چل دیکھیں ، مگر اُن کی ہر چال کا توڑ اللہ کے پاس تھا اگر چہ ان کی چالیں ایسی غضب کی تھیں کہ پہاڑ اُن سے ٹل جائیں‘‘۔ [55]{۴۶} پس (اے نبی ؐ!) تم ہرگز یہ گمان نہ کرو کہ اللہ کبھی اپنے رسولوں سے کئے ہوئے وعدوں کے خلاف کرے[56] گا۔ اللہ زبردست ہے اور انتقام لینے والا ہے۔ {۴۷} ڈرا ؤ اِنہیں اُس دن سے جب کہ زمین و آسمان بدل کرکچھ سے کچھ کردیے جائیں [57] گے اور سب کے سب اللہ واحد قہار کے سامنے بے نقاب حاضر ہوجائیں گے ۔{۴۸} اُس روز تم مجرموں کو دیکھو گے کہ زنجیروں میں ہاتھ پا ؤں جکڑے ہوئے ہوں گے{۴۹} تارکول [58]کے لباس پہنے ہوئے ہوں گے اور آگ کے شعلے ان کے چہروں پرچھائے جارہے ہوں گے۔ {۵۰} یہ اس لیے ہوگا کہ اللہ ہر متنفس کو اس کے کئے کا بدلہ دے ۔ اللہ کو حساب لیتے کچھ دیرنہیں لگتی۔ {۵۱} یہ ایک پیغام ہے سب انسانوں کے لیے ، اور یہ بھیجاگیا ہے اس لیے کہ اُن کو اِس کے ذریعے سے خبردار کردیا جائے اور وہ جان لیں کہ حقیقت میں اِلٰہ تو بس ایک ہی ہے او رجو عقل رکھتے ہیں وہ ہوش میں آجائیں۔ { ۵۲}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)