سورۃیوسف   -  12 : 53-111 / 111میں کچھ اپنے نفس کی براء ت نہیں کررہا ہوں ، نفس تو بدی پر اکساتا ہی ہے اِلاّ یہ کہ کسی پر میرے رَبّ کی رحمت ہو ، بے شک میرا رَبّ بڑا غفور و رحیم ہے۔ { ۵۳} بادشاہ نے کہا ’’ اُنہیں میرے پاس لا ؤ تا کہ میں اُن کو اپنے لئے مخصوص کرلوں‘‘۔جب یوسف ؑ نے اس سے گفتگو کی تو اس نے کہا ’’ اب آپ ہمارے ہاں قدر ومنزلت رکھتے ہیں اور آپ کی امانت پر پورا بھروسہ ہے ‘‘۔[47]{۵۴} یوسف ؑنے کہا ’’ ملک کے خزانے میرے سپرد کیجئے ، میں حفاظت کرنے والا بھی ہوں اور علم بھی رکھتا ہوں۔[47a]{۵۵} اِس طرح ہم نے اُس سرزمین میں یوسف ؑکے لیے اِقتدار کی راہ ہموار کی ۔ وہ مختار تھا کہ اس میں جہاں چاہے اپنی جگہ بنائے،[48] ہم اپنی رحمت سے جس کو چاہتے ہیں نواز تے ہیں ، نیک لوگوں کا اَجر ہمارے ہاں مارانہیں جاتا {۵۶} اور آخرت کا اَجر ان لوگوں کے لیے زیادہ بہتر ہے جو ایمان لے آئے اورتقویٰ کے ساتھ کام کرتے رہے۔ [49]{۵۷} یوسف ؑکے بھائی مصر آئے اور اس کے ہاں حاضر ہوئے،[50] اُس نے اُنہیں پہچان لیا۔ مگر وہ اُس سے ناآشنا تھے۔[51]{۵۸} پھر جب اس نے ان کا سامان تیار کرو ادیا تو چلتے وقت ان سے کہا ’’ اپنے سوتیلے بھائی کو میرے پاس لانا۔ دیکھتے نہیں ہو کہ میں کس طرح پیمانہ بھر کردیتا ہوں اور کیسا ا چھا مہمان نواز ہوں ۔ {۵۹} اگر تم اسے نہ لا ؤ گے تو میرے پاس تمہارے لئے کوئی غلہ نہیں ہے ، بلکہ تم میرے قریب بھی نہ پھٹکنا ‘‘۔[52]{۶۰} انہوں نے کہا ’’ہم کوشش کریں گے کہ والد صاحب اسے بھیجنے پر راضی ہوجائیں ، اور ہم ایسا ضرور کریں گے۔‘‘ {۶۱} یوسف ؑ نے اپنے غلاموں کو اشارہ کیا کہ ’’ ان لوگوں نے غلّے کے عوض جو مال دیا ہے وہ چپکے سے ان کے سامان ہی میں رکھ دو ‘‘۔ یہ یوسف ؑ نے اس امید پر کیا کہ گھر پہنچ کروہ اپنا واپس پایا ہوا مال پہچان جائیں گے ( یا اِس فیاضی پر احسان مندہوں گے) اور عجب نہیں کہ پھر پلٹیں۔ {۶۲} جب وہ اپنے باپ کے پاس گئے تو کہا ’’ اے ا بّا جان ! آئندہ ہم کو غلّہ دینے سے انکار کردیا گیا ہے ، لہٰذا آپ ہمارے بھائی کو ہمارے ساتھ بھیج دیجئے تا کہ ہم غلہ لے کر آئیںاور اس کی حفاظت کے ہم ذمہ دار ہیں۔‘‘{۶۳} باپ نے جواب دیا ’’ کیا میں اُس کے معاملہ میں تم پرویساہی بھروسہ کروں جیسا اِس سے پہلے اُس کے بھائی کے معاملہ میں کرچکا ہوں؟ اللہ ہی بہتر محافظ ہے اور وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔‘‘ {۶۴} پھر جب انہوں نے اپنا سامان کھولا تودیکھا کہ اُ ن کامال بھی انہیں واپس کردیا گیا ہے۔ یہ دیکھ کر وہ پُکار اُٹھے ’’ابّا جان ! اور ہمیں کیا چاہئے ، دیکھے یہ ہمارا مال بھی ہمیں واپس دے دیا گیا ہے ۔پس اب ہم جائیں گے اور اپنے اہلِ وعیال کے لیے رسدلے کرآئیں گے ، اپنے بھائی کی حفاظت بھی کریں گے اور ایک بارِشتر اور زیادہ بھی لے آئیں گے ، اتنے غلّہ کا اضافہ آسانی کے ساتھ ہوجائے گا۔ ‘‘{۶۵} ان کے باپ نے کہا ’’میں اُس کو ہرگز تمہارے ساتھ نہ بھیجوں گا جب تک کہ تم اللہ کے نام سے مجھ کو پیمان نہ دے دو کہ اسے میرے پاس ضرور واپس لے کر آ ؤ گے اِلاّ یہ کہ تم گھیرہی لئے جا ؤ ‘‘ ۔جب انہوں نے اس کو اپنے اپنے پیمان دے دیے تو اس نے کہا ’’دیکھو ، ہمارے اس قول پر اللہ نگہبان ہے‘‘{۶۶} پھر اس نے کہا ’’ اے میرے بچو !مصر کے دارالسلطنت میں ایک دروازے سے داخل نہ ہو نا، بلکہ مختلف دروازوں سے جانا۔ [53]مگر میں اللہ کی مشیّت سے تم کو نہیں بچا سکتا، حکم اس کے سوا کسی کا بھی نہیں چلتا ، اسی پر میں نے بھروسہ کیا اور جس کو بھی بھروسہ کرنا ہوا سی پر کرے‘‘{۶۷} اور واقعہ بھی یہی ہوا کہ جب وہ اپنے باپ کی ہدایت کے مطابق شہر میں (متفرق دروازوں سے ) داخل ہوئے تو اس کی یہ احتیاطی تدبیر اللہ کی مشیت کے مقابلے میں کچھ بھی کام نہ آسکی۔ ہاں بس یعقوب ؑ کے دل میں جو ایک کھٹک تھی اسے دور کرنے کے لیے اس نے اپنی سی کوشش کرلی ۔ بیشک وہ ہماری دی ہوئی تعلیم سے صاحبِ علم تھا مگر اکثر لوگ معاملے کی حقیقت کو جانتے نہیں ہیں۔[54]{۶۸} یہ لوگ یوسف ؑ کے حضور پہنچے تو اس نے اپنے بھائی کو اپنے پاس الگ بلایا اور اسے بتادیا کہ ’’ میں تیرا وہی بھائی ہوں( جو کھو یا گیا تھا) اب تو اُن باتوں کا غم نہ کر جو یہ لوگ کرتے رہے ہیں ‘‘۔ [55]{۶۹} جب یوسف ؑ ان بھائیوں کا سامان لدوانے لگا تو اس نے اپنے بھائی کے سامان میں اپنا پیالہ رکھ دیا۔[56] پھر ایک پکارنے والے نے پکار کرکہا ’’ اے قافلے والو! تم لوگ چور ہو‘‘[57]{۷۰} انہوں نے پلٹ کر پوچھا ’’تمہاری کیا چیزکھوئی گئی؟ ‘‘{۷۱} سرکاری ملازموں نے کہا ’’ بادشاہ کا پیمانہ ہم کو نہیں ملتا ‘‘۔ ( اور اُن کے جمعدار نے کہا)’’جو شخص لاکردے گا، اس کے لیے ایک بارِشترانعام ہے ، اس کا میں ذمہ لیتا ہوں‘‘ ۔{۷۲} ان بھائیوں نے کہا ’’ اللہ کی قسم ، تم لوگ خوب جانتے ہو کہ ہم اس ملک میں فساد کرنے نہیں آئے ہیں اور ہم چوریاں کرنے والے لوگ نہیں ہیں۔{۷۳} انہوں نے کہا ’’ اچھا اگر تمہاری بات جھوٹی نکلی تو چور کی کیا سزا ہے؟ ‘‘ {۷۴} انہوں نے کہا ’’ اس کی سزا؟ جس کے سامان میں سے چیز نکلے وہ آپ ہی اپنی سزا میں رکھ لیا جائے ، ہمارے ہاں تو ایسے ظالموں کو سزا دینے کا یہی طریقہ ہے‘‘۔[58]{۷۵} تب یوسف ؑ نے اپنے بھائی سے پہلے اُن کی خُرجیوں کی تلاشی لینی شروع کی ، پھر اپنے بھائی کی خرجی سے گم شدہ چیز بر آمد کرلی۔ اس طرح ہم نے یوسف ؑ کی تائید اپنی تدبیر سے کی[59]۔ اُس کا یہ کام نہ تھا کہ بادشاہ کے دین (یعنی مصر کے شاہی قانون ) میں اپنے بھائی کو پکڑتا اِلا ّیہ کہ اللہ ہی ایسا چاہے۔ [60] ہم جس کے درجے چاہتے ہیں بلند کردیتے ہیں ، اور ایک علم رکھنے والا ایسا ہے جو ہر صاحبِ علم سے بالاتر ہے۔{۷۶} ان بھائیوں نے کہا ’’ یہ چوری کرے تو کچھ تعجب کی بات بھی نہیں ، اس سے پہلے اس کا بھائی ( یوسفؑ) بھی چوری کرچکا ہے‘‘ ۔[61]یوسفؑ ان کی یہ بات سُن کر پی گیا ، حقیقت ان پر نہ کھولی ، بس ( زیرلب ) اتنا کہہ کر رہ گیا کہ ’’بڑے ہی بُرے ہوتم لوگ ، (میرے منھ درمنھ مجھ پر ) جو الزام لگارہے ہو اس کی حقیقت اللہ خوب جانتا ہے‘‘۔{۷۷} انہوں نے کہا ’’ اے سردارِ ذی اقتدار (عزیز) [62] اِس کا باپ بہت بوڑھا آدمی ہے ، اِس کی جگہ آپ ہم میں سے کسی کو رکھ لیجئے ، ہم آپ کو بڑا ہی نیک نفس انسان پاتے ہیں‘‘ ۔{۷۸} یوسف ؑ نے کہا ’’ معاذ اللہ! دوسرے کسی شخص کو ہم کیسے رکھ سکتے ہیں؟ جس کے پاس ہم نے اپنا مال پایا ہے[63] اس کو چھوڑ کر دوسرے کو رکھیں گے تو ہم ظالم ہوں گے‘‘۔{۷۹} جب وہ یوسف ؑ سے مایوس ہوگئے تو ایک گوشے میںجاکر آپس میں مشورہ کرنے لگے۔ اُن میں جو سب سے بڑا تھا وہ بولا’’ تم جانتے نہیں ہو کہ تمہارے والد تم سے اللہ کے نام پر عہد وپیمان لے چکے ہیں ؟ اور اِس سے پہلے یوسف ؑ کے معاملے میں جو تم کرچکے ہو وہ بھی تم کو معلوم ہے ۔ اب میں تو یہا ں سے ہرگز نہ جا ؤں گا جب تک کہ میرے والد مجھے اجازت نہ دیں ، یا پھر اللہ ہی میرے حق میں کوئی فیصلہ فرمادے کہ وہ سب سے بہتر فیصلہ کرنے والا ہے ۔{۸۰} تم جاکر اپنے والد سے کہو کہ اے ا بّا جان! آپ کے صاحبزادے نے چوری کی ہے۔ ہم نے اسے چوری کرتے ہوئے نہیں دیکھا۔ جو کچھ ہمیں معلوم ہوا ہے بس وہی ہم بیان کررہے ہیں، اور غیب کی نگہبانی تو ہم نہ کرسکتے تھے۔{۸۱} آپ اُس بستی کے لوگوں سے پوچھ لیجئے جہاں ہم تھے اُس قافلے سے دریافت کرلیجئے جس کے ساتھ ہم آئے ہیں۔ ہم اپنے بیان میں بالکل سچے ہیں ‘‘۔{۸۲} باپ نے یہ داستان سن کر کہا’’ دراصل تمہارے نفس نے تمہارے لئے ایک اور بڑی بات کو سہل بنا دیا۔[64] اچھا اِس پر بھی صبر کروں گا اور بخوبی کروں گا ۔ کیا بعید کہ اللہ ان سب کو مجھ سے لاملائے ، وہ سب کچھ جانتا ہے اور اس کے سب کام حکمت پر مبنی ہیں ‘‘۔{۸۳} پھر وہ ان کی طرف سے منھ پھیر کر بیٹھ گیا اور کہنے لگا کہ ’’ہائے یوسف !‘‘ وہ دل ہی دل میں غم سے گُھٹا جارہا تھا اور اس کی آنکھیں سفید پڑگئی تھیں۔{۸۴} بیٹوں نے کہا ’’ اللہ کی قسم ! آپ تو بس یوسف ہی کو یاد کئے جاتے ہیں۔ نوبت یہ آگئی ہے کہ اس کے غم میں اپنے آپ کو گُھلادیں گے یا اپنی جان ہلاک کر ڈالیں گے ‘‘ ۔{۸۵} اُس نے کہا میں اپنی پریشانی اور اپنے غم کی فریاد اللہ کے سوا کسی سے نہیں کرتا اور اللہ سے جیسا میں واقف ہوں تم نہیں ہو۔ {۸۶} میرے بچّو! جاکر یوسف ؑ اور اس کے بھائی کی کچھ ٹوہ لگا ؤ ، اللہ کی رحمت سے مایوس نہ ہو ، اس کی رحمت سے تو بس کافر ہی مایوس ہوا کرتے ہیں۔{۸۷} جب یہ لوگ مصر جاکر یوسف ؑ کی پیشی میں داخل ہوئے تو انہوں نے عرض کیا کہ ’’ اے سردارِ بااقتدار! ہم اور ہمارے اہل وعیال سخت مصیبت میں مبتلاہیں ، اور ہم کچھ حقیر سی پونجی لے کر آئے ہیں۔ آپ ہمیں بھر پور غلّہ عنایت فرمائیں اور ہم کو خیرات دیں ،[65] اللہ خیرات دینے والوں کو جزا دیتا ہے‘‘۔{۸۸} ( یہ سُن کر یوسف ؑ سے نہ رہا گیا) اس نے کہا ’’ تمہیں کچھ یہ بھی معلوم ہے کہ تم نے یوسف ؑ اور اس کے بھائی کے ساتھ کیا کیا تھا جب کہ تم نادان تھے ؟{۸۹} وہ چونک کر بولے ’’ ہائیں ! کیا تم یوسف ؑ ہو؟‘‘ اُس نے کہا ’’ ہاں ، میں یوسف ؑ ہوں اور یہ میرا بھائی ہے ۔ اللہ نے ہم پر احسان فرمایا ۔حقیقت یہ ہے کہ اگر کوئی تقویٰ اور صبر سے کام لے تو اللہ کے ہاں ایسے نیک لوگوں کا اجر مارانہیں جاتا ‘‘۔ {۹۰} انہوں نے کہا’’ اللہ کی قسم تم کو اللہ نے ہم پر فضیلت بخشی اور واقعی ہم خطا کارتھے {۹۱} اُس نے جواب دیا، ’’ آج تم پر کوئی گرفت نہیں،اللہ تمہیں معاف کرے ، وہ سب سے بڑھ کر رحم فرمانے والا ہے۔{۹۲} جا ؤ ، میرا یہ قمیص لے جا ؤ اور میرے والد کے منھ پر ڈال دو، ان کی بینائی پلٹ آئے گی اور اپنے سب اہلِ وعیال کو میرے پاس لے آ ؤ‘‘۔{۹۳} جب یہ قافلہ ( مصر سے ) روانہ ہو ا تو اُن کے باپ نے (کنعان میں) کہا’’ میں یوسف ؑ کی خوشبو محسوس کررہا ہوں ،[66] تم لوگ کہیں یہ نہ کہنے لگو کہ میں بڑھاپے میں سٹھیا گیا ہوں‘‘ {۹۴} گھر کے لوگ بولے ’’اللہ کی قسم آپ ابھی تک اپنے اُسی پُرا نے خبط میں پڑے ہوئے ہیں۔‘‘[67]{۹۵} پھر جب خوشنجری لانے والا آیا تو اس نے یوسف ؑ کا قمیص یعقوب ؑ کے منھ پر ڈال دیا اور یکایک اس کی بینائی عود کرآئی ۔ تب اس نے کہا ’’ میں تم سے کہتا نہ تھا ؟ میں اللہ کی طرف سے وہ کچھ جانتا ہوں جو تم نہیں جانتے، ‘‘{۹۶} سب بول اٹھے، ’’ اے ہمارے اباّ جان ! آپ ہمارے گناہوں کی بخشش کے لیے دُعا کریں ، واقعی ہم خطا کارتھے ‘‘۔{۹۷} اُس نے کہا :’’ میں اپنے رَبّ سے تمہارے لئے معافی کی درخواست کروں گا ، وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحیم ہے‘‘ ۔{۹۸} پھر جب یہ لوگ یوسف ؑ کے پاس پہنچے [68]تو اس نے اپنے والدین کو اپنے ساتھ بٹھا لیا [69]اور اپنے سب کُنبے والوں سے کہا’’ چلو اب شہر میں چلو ، اللہ نے چاہا تو امن وچین سے رہوگے‘‘{۹۹} (شہر میں داخل ہونے کے بعد) اس نے اپنے والدین کو اٹھا کر اپنے پاس تخت پر بٹھایا اور سب اُس کے آگے بے اختیار سجدے میں جُھک گئے ،[70]یوسفؑ نے کہا،’’ اَباّ جان ! یہ تعبیر ہے میرے اُس خواب کی جو میں نے پہلے دیکھا تھا میرے رَبّ نے اسے حقیقت بنادیا۔ اُس کا احسان ہے کہ اس نے مجھے قید خانے سے نکالا ، اور آپ لوگوں کو صحرا سے لاکر مجھ سے ملایا ، حالانکہ شیطان میرے اور میرے بھائیوں کے درمیان فساد ڈال چکا تھا۔ واقعہ یہ ہے کہ میرا رَبّ غیر محسوس تدبیروں سے اپنی مشیّت پوری کرتا ہے۔بیشک وہ علیم اور حکیم ہے۔{۱۰۰} اے میرے رَبّ ! تونے مجھے حکومت بخشی اور مجھ کو باتوں کی تہ تک پہنچنا سکھایا۔ زمین وآسمان کے بنانے والے ، توہی دنیا اور آخرت میں میرا سرپرست ہے ، میرا خاتمہ اسلام پر کر اور انجام کار مجھے صالحین کے ساتھ ملا۔ ‘‘[71]{۱۰۱} (اے نبی ؐ!)یہ قصّہ غیب کی خبروں میں سے ہے جو ہم تم پر وحی کررہے ہیں ، ورنہ تم اُس وقت موجود نہ تھا جب یوسف ؑ کے بھائیوں نے آپس میں اتفاق کرکے سازش کی تھی۔{ ۱۰۲} مگر تم خواہ کتنا ہی چاہو اِن میں سے اکثر لوگ مان کردینے والے نہیں ہیں۔[72]{۱۰۳} حالاں کہ تم اس خدمت پر اُن سے کوئی اُجرت بھی نہیں مانگتے ہو،یہ تو ایک نصیحت ہے جو دنیا والوں کے لیے عام ہے۔ [73]{۱۰۴} زمین [74]اور آسمانوں میں کتنی ہی نشانیاں ہیں جن پر سے یہ لوگ گزرتے رہتے ہیں اور ذرا توجہ نہیں کرتے۔[75]{۱۰۵} اِن میں سے اکثر اللہ کو مانتے ہیں مگر اس طرح کہ اُس کے ساتھ دوسروں کو شریک ٹھہراتے ہیں۔[76]{۱۰۶} کیا یہ مطمئن ہیں کہ اللہ کے عذاب کی کوئی بلا انہیں دُبوچ نہ لے گی یا بے خبری میں قیامت کی گھڑی اچانک ان پر نہ آجائے گی؟[77]{۱۰۷} تم اِن سے صاف کہہ دو کہ ’’ میرا راستہ تو یہ ہے ، میں اللہ کی طرف بلاتا ہوں ، میں خود بھی پوری روشنی میں اپناراستہ دیکھ رہا ہوں اور میرے ساتھی بھی ، اور اللہ پاک ہے[78] اور شرک کرنے والوں سے میرا کوئی واسطہ نہیں‘‘۔{۱۰۸} اے نبی ؐ !تم سے پہلے ہم نے جو پیغمبر بھیجے تھے وہ سب بھی انسان ہی تھے اور اِنہی بستیوں کے رہنے والوں میں سے تھے ، اور اُن ہی کی طرف ہم وحی بھیجتے رہے ہیں ۔پھر کیا یہ لوگ زمین میں چلے پھرے نہیں ہیں کہ اُ ن قوموں کا انجام اِنہیں نظر نہ آیا جو ان سے پہلے گزر چکی ہیں؟ یقینا آخرت کا گھر اُن لوگوں کے لیے اور زیادہ بہتر ہے جنہوں نے (پیغمبروں کی بات مان کر ) تقویٰ کی روش اختیار کی۔ کیا اب بھی تم لوگ نہ سمجھو گے ؟[79]{۱۰۹} (پہلے پیغمبروں کے ساتھ بھی یہی ہوتا رہا ہے کہ وہ مدتوں نصیحت کرتے رہے اور لوگوں نے سُن کر نہ دیا) یہاں تک کہ جب پیغمبر لوگوں سے مایوس ہوگئے اور لوگوں نے بھی سمجھ لیا کہ اُن سے جھوٹ بولا گیا تھا ، تو یکایک ہماری مدد پیغمبروں کو پہنچ گئی۔ پھر جب ایسا موقع آجاتا ہے تو ہمارا قاعدہ یہ ہے کہ جسے ہم چاہتے ہیں بچالیتے ہیں اور مجرموں پر سے تو ہمارا عذاب ٹالاہی نہیں جاسکتا ۔{۱۱۰} اگلے لوگوں کے اِن قصّوں میں عقل و ہوش رکھنے والوں کے لیے عبرت ہے۔ یہ جو کچھ قرآن میں بیان کیا جارہا ہے، یہ بناوٹی باتیں نہیں ہیں ،بلکہ جو کتابیں اِس سے پہلے آئی ہوئی ہیں اِنہی کی تصدیق ہے اور ہر چیز کی تفصیل[80]اور ایمان لانے والوں کے لیے ہدایت اور رحمت۔{۱۱۱}
سورۃالرعد   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 13 : 1-18 / 43ا لٓمّٓرٰ ۔ یہ کتابِ الہیٰ کی آیات ہیں اور جو کچھ تمہارے رَبّ کی طرف سے تم پر نازل کیا گیا ہے وہ عین حق ہے۔ مگر (تمہاری قوم کے) اکثر لوگ مان نہیں رہے ہیں۔[1]{۱} وہ اللہ ہی ہے جس نے آسمانوں کو ایسے سہاروں کے بغیر قائم کیا جو تم کو نظر آتے ہوں،[2] پھر وہ اپنے تختِ سلطنت پر جلوہ فرما ہوا ،[3] اور اس نے آفتاب و ماہتاب کو ایک قانون کا پابند بنایا ۔[4] اِس سارے نظام کی ہر چیز ایک وقتِ مقرر تک کے لیے چل رہی ہے[5] اور اللہ ہی اِس سارے کام کی تدبیر فرمارہا ہے ۔ وہ نشانیاں کھول کھول کربیان کرتا ہے[6] شاید کہ تم اپنے رَبّ کی ملاقات کا یقین کرو۔[7]{ ۲} اور وہی ہے جس نے یہ زمین پھیلارکھی ہے ، اِس میں پہاڑوں کے کھونٹے گاڑ رکھے ہیں اور دریا بہادیے ہیں ۔ اُسی نے ہر طرح کے پھلوں کے جوڑے پیدا کئے ہیں اور وہی دن پر رات طاری کرتاہے۔[8] اِن ساری چیزوںمیں بڑی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو غور فکر سے کام لیتے ہیں۔ {۳} اور دیکھو ، زمین میں الگ الگ خطّے پائے جاتے ہیں جو ایک دوسرے سے متصّل واقع ہیں۔[9] انگور کے باغ ہیں ، کھیتیاں ہیں ، کھجور کے درخت ہیں جن میں سے کچھ اکہرے ہیں اور کچھ دوہرے ۔ [10]سب کو ایک ہی پانی سیراب کرتا ہے ، مگر مزے میں ہم کسی کو بہتر بنادیتے ہیں اور کسی کو کمتر۔ اِن سب چیزوں میں بہت سی نشانیاں ہیں اُن لوگوں کے لیے جو عقل سے کام لیتے ہیں۔[11]{۴} اب اگر تمہیں تعجب کرنا ہے تو تعجب کے قابل لوگوں کا یہ قول ہے کہ ’’ جب ہم مرکرمٹی ہوجائیں گے تو کیا ہم نئے سرے سے پیدا کئے جائیں گے ‘‘ ؟ یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے رَبّ سے کفر کیا ہے۔[12] یہ وہ لوگ ہیںجن کی گردنوں میں طوق پڑے ہوئے[13] ہیں ۔ یہ جہنمی ہیں اور جہنم میں ہمیشہ رہیں گے۔{۵} یہ لوگ بھلائی سے پہلے بُرائی کے لیے جلدی مچا رہے ہیں[14] حالانکہ اِن سے پہلے (جو لوگ اِس روش پر چلے ہیں ان پر اللہ کے عذاب کی) عبرت ناک مثالیں گزر چکی ہیں ۔ حقیقت یہ ہے کہ تیرا رَبّ لوگوں کی زیادتیوں کے باوجود اِن کے ساتھ چشم پوشی سے کام لیتا ہے ، اور یہ بھی حقیقت ہے کہ تیرا رَبّ سخت سزادینے والا ہے۔ {۶} یہ لوگ جنہوں نے تمہاری بات ماننے سے انکا رکردیا ہے، کہتے ہیں کہ ’’ اِس شخص پر اس کے رَبّ کی طرف سے کوئی نشانی کیوں نہ اُتری؟‘‘[15] تم تو محض خبردارکر دینے والے ہو اور ہرقوم کے لیے ایک رہنما ہے۔ [16]{۷} اللہ ایک ایک حاملہ کے پیٹ سے واقف ہے، جو کچھ اس میں بنتا ہے اسے بھی وہ جانتا ہے اور جو کچھ اس میں کمی یا بیشی ہوتی ہے اس سے بھی وہ باخبر رہتا ہے۔[17]ہر چیز کے لیے اُس کے ہاں ایک مقدار مقرر ہے۔ {۸} وہ پوشیدہ اور ظاہر ، ہرچیزکا عالم ہے۔ وہ بزرگ ہے اور ہر حال میں بالاتر رہنے والا ہے ۔{۹} تم میں سے کوئی شخص خواہ زور سے بات کرے یا آہستہ ، اور کوئی رات کی تاریکی میں چُھپا ہوا ہویا دن کی روشنی میں چل رہا ہواُس کے لیے سب یکساں ہیں ۔{۱۰} ہر شخص کے آگے اور پیچھے اُس کے مقرر کئے ہوئے نگراں لگے ہوئے ہیں جو اللہ کے حکم سے اس کی دیکھ بھال کررہے ہیں ۔[18] حقیقت یہ ہے کہ اللہ کسی قوم کے حال کو نہیں بدلتا جب تک وہ خود اپنے اوصاف کو نہیں بدل دیتی۔ اور جب اللہ کسی قوم کی شامت لانے کا فیصلہ کرلے تو پھر وہ کسی کے ٹالے نہیں ٹل سکتی ،نہ اللہ کے مقابلے میں ایسی قوم کا کوئی حامی و مددگار ہوسکتا ہے۔[19]{۱۱} وہی ہے جو تمہارے سامنے بجلیاں چمکاتا ہے جنہیں دیکھ کر تمہیں اندیشے بھی لاحق ہوتے ہیں اور امیدیں بھی بندھتی ہیں۔ وہی ہے جو پانی سے لدے ہوئے بادل اُٹھاتا ہے۔{۱۲} بادلوں کی گرج اُس کی حمد کے ساتھ اس کی پاکی بیان کرتی ہے [20]اور فرشتے اس کی ہیبت سے لرزتے ہوئے اس کی تسبیح کرتے ہیں۔[21] وہ کڑکتی ہوئی بجلیوں کو بھیجتا ہے اور (بسااوقات ) انہیں جس پر چاہتا ہے عین اُس حالت میں گرادیتا ہے۔ جب کہ لوگ اللہ کے بارے میں جھگڑرہے ہوتے ہیں۔فی الواقع اُس کی چال بڑی ز بردست ہے۔[22]{ ۱۳} اُسی کو پکارنا برحق ہے۔ [23]رہیں وہ دوسری ہستیاں جنہیں اُس کو چھوڑ کر یہ لوگ پکارتے ہیں، وہ اُن کی دُعا ؤں کا کوئی جواب نہیں دے سکتیں۔ اِنہیں پکار ناتو ایسا ہے جیسے کوئی شخص پانی کی طرف ہاتھ پھیلاکر اس سے درخواست کرے کہ تومیرے منھ تک پہنچ جا، حالانکہ پانی اس تک پہنچنے والا نہیں۔ بس اسی طرح کافروں کی دُعائیں بھی کچھ نہیں ہیں ،مگر ایک تیرِبے ہدف ! {۱۴} وہ تو اللہ ہی ہے جس کو زمین اور آسمان کی ہر چیز طوعًا وکر ھًا سجدہ کررہی [24]ہے اور سب چیزوں کے سائے صبح وشام اُس کے آگے جھکتے ہیں۔[25] {۱۵} اِن سے پوچھو ، آسمان وزمین کا رَبّ کو ن ہے ؟ کہو ، اللہ ۔[26] پھر ان سے کہو کہ جب حقیقت یہ ہے تو کیا تم نے اُسے چھوڑ کر ایسے معبودوں کو اپنا کارساز ٹھیرالیا جو خود اپنے لئے بھی کسی نفع ونقصان کا اختیار نہیں رکھتے ؟ کہو ، کیا اندھا اور آنکھوں والا برابر ہواکرتا ہے ؟[27] کیا روشنی اور تاریکیاں یکساں ہوتی ہیں ؟[28] اور اگر ایسا نہیں تو کیا اِن کے ٹھیرائے ہوئے شریکوں نے بھی اللہ کی طرح کچھ پیدا کیا ہے کہ اُس کی وجہ سے ان پرتخلیق کا معاملہ مشتبہ ہوگیا ؟ [29] کہو ہر چیز کا خالق صرف اللہ ہے اور وہ یکتا ہے ، سب پر غالب ! [30]{۱۶} اللہ نے آسمان سے پانی برسایا اور ہر ندی نالہ اپنے ظرف کے مطابق اسے لے کر چل نکلا۔ پھر جب سیلاب اٹھا تو سطح پر جھاگ بھی آگئے ،[31] اور ایسے ہی جھاگ اُن دھاتوں پر بھی اٹھتے ہیں جنہیں زیور اور برتن وغیرہ بنانے کے لیے لوگ پگھلایا کرتے ہیں۔[32] اسی مثال سے اللہ حق اور باطل کے معاملے کو واضح کرتا ہے۔ جو جھاگ ہے وہ اُڑ جایا کرتا ہے اور جو چیز انسانوں کے لیے نافع ہے وہ زمین میں ٹھہرجاتی ہے۔ اِس طرح اللہ مثالوں سے اپنی بات سمجھاتا ہے۔{۱۷} جن لوگوں نے اپنے رَبّ کی دعوت قبول کرلی ان کے لیے بھلائی ہے ، اور جنہوں نے اسے قبول نہ کیا وہ اگر زمین کی ساری دولت کے بھی مالک ہوں اور اُتنی ہی اور فراہم کرلیں تو وہ اللہ کی پکڑ سے بچنے کے لیے اس سب کو فدیہ میں دے ڈالنے پر تیار ہوجائیں گے۔[33]یہ وہ لوگ ہیں جن سے بُری طرح حساب لیا جائے گا [34]اور ان کا ٹھکا نا جہنم ہے، بہت ہی بُراٹھکانا ۔{۱۸}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)