سورۃھود   -  11 : 84-123 / 123اور مَدْ ین والوں کی طرف ہم نے اُن کے بھائی شعیب ؑ کو بھیجا ۔ [94]اس نے کہا ’’ اے میری قوم کے لوگو! اللہ کی بندگی کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی اِلٰہ نہیں ہے۔ اور ناپ تول میں کمی نہ کیا کرو ۔ آج میں تم کو اچھے حال میں دیکھ رہا ہوں، مگر مجھے ڈرہے کہ کل تم پر ایسا دن آئے گا جس کا عذاب سب کو گھیر لے گا۔{۸۴} اور اے برادِر انِ قوم!ٹھیک ٹھیک انصاف کے ساتھ پورا ناپو اور تولو اور لوگوں کو اُن کی چیزوں میں گھاٹا نہ دیا کرو اور زمین میں فساد نہ پھیلاتے پھرو۔{۸۵} اللہ کی دی ہوئی بچت تمہارے لئے بہتر ہے اگر تم مومن ہو اور بہرحال میں تمہارے اوپر کوئی نگران کار نہیں ہوں‘‘[95]{۸۶} انہوں نے جواب دیا ’’ اے شعیب ؑ !کیا تیری نماز تجھے یہ سکھاتی [96]ہے کہ ہم اُن سارے معبودوں کو چھوڑ دیں جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے ؟ یایہ کہ ہم کواپنے مال میں اپنے منشاء کے مطابق تصّرف کرنے کا اختیار نہ ہو ؟[97] بس تُوہی تو ایک عالی ظرف او ر ر استبازآدمی رہ گیا ہے!‘‘ {۸۷} شعیب ؑ نے کہا ’’بھائیو! تم خود ہی سوچوکہ اگر میں اپنے رَبّ کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر تھا اور پھر اس نے مجھے اپنے ہاں سے اچھارزق بھی عطا کیا[98] ( تو اس کے بعد میں تمہاری گمراہیوں اور حرام خوریوں میں تمہارا شریک حال کیسے ہوسکتا ہوں؟)۔ اور میں ہرگز یہ نہیں چاہتا کہ جن باتوں سے میں تم کو روکتاہوں ان کا خودارتکاب کروں ۔ [99]میں تواصلاح کرنا چاہتا ہوں جہاں تک بھی میرا بس چلے۔اور یہ جو کچھ میں کرنا چاہتا ہوں اس کا سارا انحصار اللہ کی توفیق پر ہے۔ اُسی پر میں نے بھروسہ کیا اور ہر معاملے میں اسی کی طرف میں رجوع کرتا ہوں۔ {۸۸} اور اے برادران قوم !میرے خلاف تمہاری ہٹ دھرمی کہیں یہ نوبت نہ پہنچادے کہ آخر کا رتم پر بھی وہی عذاب آکر رہے جوقومِ نوح ؑیا قومِ ہودؑ یا صالح ؑکی قوم پر آیا تھا ۔ اور لوطؑ کی قوم تو تم سے کچھ زیادہ دور بھی نہیں ہے[100]{۸۹} دیکھو !اپنے رَبّ سے معافی مانگو اور اُس کی طرف پلٹ آ ؤ ،بے شک میرا رَبّ رحیم ہے اور اپنی مخلوق سے محبت رکھتا ہے‘‘۔[101]{۹۰} انہوں نے جواب دیا ’’ اے شعیبؑ!تیری بہت سی باتیں تو ہماری سمجھ ہی میں نہیں آتیں [102]اور ہم دیکھتے ہیں کہ تو ہمارے درمیان ایک بے زور آدمی ہے، تیری برادری نہ ہوتی تو ہم کبھی کا تجھے سنگسار کرچکے ہوتے، تیرا بل بوتا تو اتنا نہیں ہے کہ ہم پر بھاری ہو ‘‘ ۔[103]{۹۱} شعیب ؑ نے کہا ’’بھائیو ! کیا میری برادری تم پر اللہ سے زیادہ بھاری ہے کہ تم نے ( برادری کا تو خوف کیا اور ) اللہ کو بالکل پس پشت ڈال دیا ؟ جان رکھو کہ جو کچھ تم کررہے ہو وہ اللہ کی گرفت سے باہر نہیں ہے{ ۹۲} اے میری قوم کے لوگو!تم اپنے طریقے پر کام کئے جا ؤ اور میں اپنے طریقے پر کرتا رہوں گا جلدی ہی تمہیں معلوم ہوجائے گا کہ کس پر ذلّت کا عذاب آتا ہے اور کون جھوٹا ہے۔ تم بھی انتظار کرو اور میں بھی تمہارے ساتھ چشم براہ ہوں‘‘ ۔{۹۳} آخر کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے شعیبؑ اور اس کے ساتھی مومنوں کو بچالیا اور جن لوگوں نے ظلم کیا تھا ان کو ایک سخت دھماکے نے ایسا پکڑا کہ وہ اپنی بستیوں میں بے حِس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے {۹۴} گویا وہ کبھی وہاں رہے بسے ہی نہ تھے سنو ۔مَدْ ین والے بھی دور پھینک دیئے گئے ،جس طرح ثمود پھینکے گئے تھے ۔{۹۵} اور موسیٰ ؑکو ہم نے اپنی نشانیوں اور کُھلی سندِماموریت کے ساتھ بھیجا۔ {۹۶} فرعون اور اس کے اعیانِ سلطنت کی طرف،مگر انہوں نے فرعون کے حکم کی پیروی کی ، حالانکہ فرعون کا حکم راستی پر نہ تھا۔{۹۷} قیامت کے روز وہ اپنی قوم کے آگے آگے ہوگا اور اپنی پیشوائی میں انہیں دوزخ کی طرف لے جائے گا۔ [104]کیسی بدتر جائے وُرُود(پہنچنے کی جگہ) ہے یہ جس پر کوئی پہنچے ! {۹۸} اور اُن لوگوں پر دنیا میں بھی لعنت پڑی اور قیامت کے روز بھی پڑے گی۔ کیسا بُرا صلہ ہے یہ جو کسی کو ملے۔ {۹۹} یہ چند بستیوں کی سرگزشت ہے جو ہم تمہیں سنارہے ہیں۔ ان میں سے بعض اب بھی کھڑی ہیںاور بعض کی فصل کٹ چکی ہے ۔{۱۰۰} ہم نے ان پر ظلم نہیں کیا ، انہوں نے آپ ہی اپنے اوپر ستم ڈھایا اور جب اللہ کا حکم آگیا تو ان کے وہ معبود جنہیں وہ اللہ کو چھوڑ کر پکارا کرتے تھے ان کے کچھ کام نہ آسکے اور اُنہوں نے ہلاکت وبربادی کے سوا اُنہیں کچھ فائدہ نہ دیا۔{۱۰۱} اور تیرا رَبّ جب کسی ظالم بستی کو پکڑتا ہے تو پھر اس کی پکڑ ایسی ہی ہوا کرتی ہے ، فی الواقع اس کی پکڑ بڑی سخت اور درناک ہوتی ہے۔{ ۱۰۲} حقیقت یہ ہے کہ ِاس میں ایک نشانی ہے ہر اس شخص کے لیے جو عذاب آخرت کا خوف کرے ۔[105] وہ ایک دن ہوگا جس میں سب لوگ جمع ہو ں گے اور پھر جو کچھ بھی اُس روز ہوگا سب کی آنکھوں کے سامنے ہوگا{۱۰۳} ہم اس کے لانے میں کچھ بہت زیادہ تاخیر نہیں کررہے ہیں ، بس ایک گِنی چُنی مدت اس کے لیے مقرر ہے، {۱۰۴} جب وہ آئے گا تو کسی کو بات کرنے کی مجال نہ ہوگی اِلاّ یہ کہ اللہ کی اجازت سے کچھ عرض کرے [106]۔ پھر کچھ لوگ اس روزبدبخت (شقی) ہوںگے اور کچھ نیک بخت (سعید) {۱۰۵} جو بدبخت ہوں گے وہ دوزخ میں جائیں گے ( جہاں گرمی اور پیاس کی شدت سے ) وہ ہانپیں گے اور پُھنکا رے ماریں گے {۱۰۶} اور اسی حالت میں ہمیشہ رہیں گے جب تک کہ زمین و آسمان قائم ہیں،[107] اِلاّ یہ کہ تیرا رَبّ کچھ اور چاہے بے شک تیرا رَبّ پورا اختیار رکھتا ہے کہ جو چاہے کرے۔ [108]{۱۰۷} رہے وہ لوگ جو نیک بخت نکلیں گے ، تو وہ جن جنّت میں جائیں گے اور وہاں ہمیشہ رہیں گے جب تک زمین اور آسمان قائم ہیں، اِلاّ یہ کہ تیرا رَبّ کچھ اور چاہے۔[109] ایسی بخشش ان کو ملے گی جس کا سلسلہ کبھی منقطع نہ ہوگا۔{۱۰۸} پس( اے نبی ؐ! )آپؐ ان معبودوں کی طرف سے کسی شک میں نہ رہیے جن کی یہ لوگ عبادت کر رہے ہیں۔ یہ تو (بس لکیر کے فقیر بنے ہوئے) اُسی طرح پُوجاپاٹ کئے جارہے ہیں جس طرح پہلے ان کے باپ دادا کرتے تھے۔[110] اور ہم اِن کا حصہ انہیں بھرپور دیں گے بغیر اس کے کہ اس میں کچھ کاٹ کسر ہو ۔{۱۰۹} ہم اِس سے پہلے موسیٰ ؑ کو بھی کتاب دے چکے ہیں اور اس کے بارے میں بھی اختلاف کیا گیا تھا (جس طرح آج اِس کتاب کے بارے میں کیا جارہا ہے جو تمہیں دی گئی ہے ) [111] اگر تیرے رَبّ کی طرف سے ایک بات پہلے ہی طے نہ کردی گئی ہوتی تو اُن اختلاف کرنے والوں کے درمیان کبھی فیصلہ چُکا دیا گیا ہوتا ۔[112]یہ واقعہ ہے کہ یہ لوگ اس کی طرف سے شک اور خلجان میں پڑے ہوئے ہیں{۱۱۰} اور یہ بھی واقعہ ہے کہ تیرا رَبّ انہیں ان کے اعمال کا پورا پورا بدلہ دے کررہے گا ، یقینا وہ ان کی سب حرکتوں سے باخبر ہے{۱۱۱} پس( اے نبی ؐ! ) تم اور تمہارے وہ ساتھی جو ( کفر و بغاوت سے ایمان واطاعت کی طرف) پلٹ آئے ہیں ، ٹھیک ٹھیک راہِ راست پر ثابت قدم رہو جیسا کہ تمہیں حکم دیا گیا ہے اور بندگی کی حد سے تجاوز نہ کرو ۔جو کچھ تم کررہے ہو اس پر تمہارا رَبّ نگاہ رکھتا ہے ۔{۱۱۲} ان ظالموںکی طرف ذرا نہ جھکنا ورنہ جہنم کی لپیٹ میں آجا ؤ گے اور تمہیں کوئی ایسا ولی وسرپرست نہ ملے گا جو اللہ سے تمہیں بچاسکے اور کہیں سے تم کو مدد نہ پہنچے گی۔{۱۱۳} اور دیکھو ، نماز قائم کرو دن کے دونوں سروں پر اور کچھ رات گزرنے پر۔[113] درحقیقت نیکیاں برائیوں کو دور کردیتی ہیں ،[114] یہ ایک یاد دہانی ہے اُن لوگوں کے لیے جو اللہ کو یادرکھنے والے ہیں۔{۱۱۴} اور صبرکر ،اللہ نیکی کرنے والوں کا اجر کبھی ضائع نہیں کرتا۔{۱۱۵} پھرکیوں نہ اُن قوموں میں جو تم سے پہلے گزرچکی ہیں ایسے اہلِ خیر موجود رہے جو لوگوں کو زمین میں فسادبرپا کرنے سے روکتے؟ ایسے لوگ نکلے بھی تو بہت کم، جن کو ہم نے ان قوموں میں سے بچالیا، ورنہ ظالم لوگ تو اُنہی مزوں کے پیچھے پڑے رہے جن کے سامان انہیں فراوانی کے ساتھ دیئے گئے تھے اور وہ مجرم بن کررہے۔{۱۱۶} تیرا رَبّ ایسا نہیں ہے کہ بستیوں کو ناحق تباہ کردے حالانکہ ان کے باشندے اصلاح کرنے والے ہوں۔[115]{۱۱۷} بے شک تیرارَبّ اگر چاہتا تو تمام انسانوں کو ایک گروہ بناسکتا تھا ، مگر اب تو وہ مختلف طریقوں ہی پر چلتے رہیں گے{۱۱۸} اور بے راہ رویوں سے صرف وہ لوگ بچیں گے جن پر تیرے رَبّ کی رحمت ہے ۔ اِسی (آزادی انتخاب و اختیار اور امتحان ) کے لیے ہی تو اس نے انہیں پیدا کیا [116]تھا۔ اور تیرے رَبّ کی وہ بات پوری ہوگئی جو اس نے کہی تھی کہ میں جہنم کو جنوں اور انسانوں سب سے بھردوں گا۔{۱۱۹} اور اے نبی ؐ!یہ پیغمبروں کے قصے جو ہم تمہیں سناتے ہیں۔ یہ وہ چیزیں ہیں جن کے ذریعہ سے ہم تمہارے دل کو مضبوط کرتے ہیں اِن کے اندر تم کو حقیقت کا علم ملا اور ایمان لانے والوں کو نصیحت اور بیداری نصیب ہوئی۔ {۱۲۰} رہے وہ لوگ جو ایمان نہیں لاتے ، تو ان سے کہہ دو کہ تم اپنے طریقے پر کام کرتے رہو اور ہم اپنے طریقے پر کئے جاتے ہیں {۱۲۱} انجامِ کار کاتم بھی انتظار کرو اور ہم بھی منتظر ہیں۔{۱۲۲} آسمانوں اور زمین میں جو کچھ چھپا ہوا ہے سب اللہ کے قبضۂ قدرت میں ہے اور سارا معاملہ اسی کی طرف رجوع کیا جاتا ہے۔ پس اے نبی ؐ!تُو اس کی بندگی کر اور اسی پر بھروسہ ر کھ ، جو کچھ تم لوگ کررہے ہو تیرا رَبّ اس سے بے خبر نہیں ہے۔۔[117] {۱۲۳}
سورۃیوسف   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 12 : 1-52 / 111الٓرٰ ۔ یہ اُس کتاب کی آیات ہیں جو اپنا مدعاصاف صاف بیان کرتی ہے۔{۱} ہم نے اِسے نازل کیا ہے قرآن [1]بناکر عربی زبان میں تا کہ تم ( اہلِ عرب) اس کواچھی طرح سمجھ سکو۔[2]{ ۲} اے نبی ؐ! ہم اِس قرآن کو تمہاری طرف وحی کرکے بہترین پیرایہ میں واقعات اور حقائق تم سے بیان کرتے ہیں ، ورنہ اس سے پہلے تو (اِن چیزوں سے ) تم بالکل ہی بے خبر تھے۔[3] {۳} یہ اُس وقت کا ذکر ہے جب یوسف ؑ نے اپنے باپ سے کہا ’’ابا جان ! میں نے خواب دیکھا ہے کہ گیارہ ستارے ہیں اور سورج اور چاند ہیں اور وہ مجھے سجدہ کررہے ہیں۔ ‘‘{۴} جواب میں اس کے باپ نے کہا ’’ بیٹا! اپنا یہ خواب اپنے بھائیوں کو نہ سُنا نا ورنہ وہ تیرے درپے آزار ہوجائیں گے،[4] حقیقت یہ ہے کہ شیطان آدمی کا کھلادشمن ہے۔{ ۵} اور ایسا ہی ہوگا (جیسا تو نے خواب میں دیکھا ہے کہ) تیرا رَبّ تجھے ( اپنے کام کے لیے) منتخب کرے[5] گا او رتجھے باتوں کی تہ تک پہنچنا سکھائے گا[6]اور تیرے اوپر اور آل یعقوب ؑ پر اپنی نعمت اُسی طرح پوری کرے گا جس طرح اِس سے پہلے وہ تیرے بزرگوں ، ابراہیم ؑ اور اسحاق ؑ پر کرچکا ہے ، یقینا تیرا رَبّ علیم اور حکیم ہے‘‘ ۔[7]{۶} حقیقت یہ ہے کہ یوسف ؑ اور اس کے بھائیوں کے قصہ میں اِن پوچھنے والوں کے لیے بڑی نشانیاں ہیں۔ {۷} یہ قصہ یو ں شروع ہوتاہے کہ اُس کے بھائیو ں نے آپس میں کہا کہ ’’یہ یوسف ؑ اور اس کا بھائی،[8] دونوں ہمارے والد کو ہم سب سے زیادہ محبوب ہیں ، حالانکہ ہم ایک پورا جتھا ہیں ، سچی ّبات یہ ہے کہ ہمارے ابّا جان بالکل ہی بہک گئے ہیں۔[9]{۸} چلو یوسف ؑکو قتل کردو یا اسے کہیں پھینک دو تا کہ تمہارے والد کی توجہ صرف تمہاری ہی طرف ہوجائے ۔ یہ کام کرلینے کے بعد پھر نیک بن رہنا ‘‘[10]{۹} اس پر ان میں سے ایک بولا ’’یوسف ؑ کو قتل نہ کرو ، اگر کچھ کرنا ہی ہے تو اسے کسی اندھے کنوئیں میں ڈال دو ، کوئی آتا جاتا قافلہ اسے نکال لے جائے گا‘‘{۱۰} اس قرار داد پر انہو ں نے جاکر اپنے باپ سے کہا ’’ ا بّا جان ! کیا بات ہے کہ آپ یوسف ؑ کے معاملہ میں ہم پر بھروسہ نہیں کرتے حالانکہ ہم اس کے سچے خیر خواہ ہیں ؟ {۱۱} کل اسے ہمارے ساتھ بھیج دیجئے ، کچھ چَرچُگ لے گا اور کھیل کود سے بھی دل بہلائے گا۔ ہم اس کی حفاظت کو موجود ہیں‘‘[11]{۱۲} باپ نے کہا:’’ تمہارا اُسے لیجانا مجھے شاق گزرتا ہے اور مجھے اندیشہ ہے کہ کہیں اسے بھیڑیا نہ پھاڑکھائے جبکہ تم اس سے غافل ہو ‘‘۔{۱۳} انہوں نے جواب دیا ’’ اگر ہمارے ہوتے اسے بھیڑیئے نے کھالیا ، جب کہ ہم ایک جتھاہیں ،تب تو ہم بڑے ہی نِکمّے ہوں گے۔ ‘‘{۱۴} اس طرح اصرار کر کے جب وہ اسے لے گئے اور انہوں نے طے کرلیا کہ اسے ایک اندھے کنوئیں میں چھوڑدیں تو ہم نے یوسف ؑ کو وحی کی کہ’’ ایک وقت آئے گا جب تو اِن لوگوں کو اِن کی یہ حرکت جتائے گا، یہ اپنے فعل کے نتائج سے بے خبر ہیں ‘‘۔[12]{۱۵} شام کووہ روتے پیٹتے اپنے باپ کے پاس آئے{۱۶} اور کہا ’’ا بّاجان! ہم دوڑ کا مقابلہ کرنے میں لگ گئے تھے اور یوسف ؑ کو ہم نے اپنے سامان کے پاس چھوڑ دیا تھا کہ اتنے میں بھیڑیا آکر اسے کھا گیا۔ آپ ہماری بات کا یقین نہ کریں گے چاہے ہم سچے ہی ہوں ‘‘ ۔{۱۷} اور وہ یوسف ؑکے قمیص پر جُھوٹ مُوٹ کا خون لگاکر لے آئے تھے۔ یہ سُن کران کے باپ نے کہا ’’بلکہ تمہارے نفس نے تمہارے لئے ایک بڑے کام کو آسان بنادیا۔ اچھا ، صبرکروں گا اور بخوبی [13]صبرکروں گا، جوبات تم بنارہے ہو اس پر اللہ ہی سے مدد مانگی جاسکتی ہے ‘‘ ۔[14]{۱۸} اُدھر ایک قافلہ آیا اور اس نے اپنے سقّے کو پانی لانیکے لیے بھیجا ۔ سقیّ نے جو کنوئیں میں ڈول ڈالا تو (یوسفؑ کو دیکھ کر ) پُکا راُٹھا ’’ مبارک ہو یہاں تو ایک لڑکا ہے ‘‘ ۔ اِن لوگوں نے اُس کو مال تجارت سمجھ کر چھپا لیا ، حالانکہ جو کچھ وہ کررہے تھے اللہ اس سے باخبر تھا {۱۹} آخر کار انہوں نے تھوڑی سی قیمت پر چنددرہموں کے عوض اُسے بیچ ڈالا[15] اور وہ اس کی قیمت کے معاملہ میں کچھ زیادہ کے امیدوار نہ تھے۔{۲۰} مصر کے جس شخص نے اسے خرید ا[16]اس نے اپنی بیوی[17] سے کہا ’’ اس کو اچھی طرح رکھنا ، بعید نہیں کہ یہ ہمارے لئے مفید ثابت ہویا ہم اسے بیٹا بنالیں ۔‘‘ [18]اس طرح ہم نے یوسف ؑ کے لیے اُس سرزمین میں قدم جمانے کی صورت نکالی اور اسے معاملہ فہمی کی تعلیم دینے کا انتظام کیا۔[19] اللہ اپنا کام کرکے رہتا ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔{۲۱} اور جب وہ اپنی پوری جوانی کو پہنچا تو ہم نے اسے قوتِ فیصلہ اور علم عطا کیا ،[20] اس طرح ہم نیک لوگوں کو جزادیتے ہیں۔{۲۲} جس عورت کے گھر میں وہ تھا وہ اس پر ڈورے ڈالنے لگی اور ایک روز دروازے بند کرکے بولی ’’آجا‘‘ یوسف ؑ نے کہا :’’ اللہ کی پناہ ! میرے رَبّ نے تو مجھے اچھی منزلت بخشی ( اور میں یہ کام کروں ) ایسے ظالم کبھی فلاح نہیں پایا کرتے ‘‘ ۔[21]{۲۳} وہ اس کی طرف بڑھی اور یوسف ؑ بھی اس کی طرف بڑھتا اگر اپنے رَبّ کی برُہان نہ دیکھ لیتا۔[22] ایسا ہوا ، تا کہ ہم اس سے بدی اور بے حیائی کو دور کردیں،[23] درحقیقت وہ ہمارے چُنے ہوئے بندوں میں سے تھا۔{۲۴} آخر کار یوسف ؑاور وہ آگے پیچھے دروازے کی طرف بھاگے اور اس نے پیچھے سے یوسف ؑ کا قمیص(کھینچ کر ) پھاڑ دیا۔ دروازے پر دونوں نے اُس کے شوہر کو موجود پایا۔ اسے دیکھتے ہی عورت کہنے لگی، ’’کیا سزا ہے اس شخص کی جوتیری گھروالی پر نیت خراب کرے؟ اِس کے سوا اور کیا سزا ہوسکتی ہے کہ وہ قید کیا جائے یا اسے سخت عذاب دیا جائے ؟‘‘ {۲۵} یوسف ؑ نے کہا ’’یہی مجھے پھانسنے کی کوشش کررہی تھی۔‘‘ اُس عورت کے اپنے کنبہ والوں میں سے ایک شخص نے (قرینے کی) شہادت پیش کی[24] کہ ’’ اگر یوسف ؑ کا قمیص آگے سے پھٹا ہو تو عورت سچّی ہے اور یہ جھوٹا{۲۶} اور اگر اس کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہو تو عورت جھوٹی ہے اور یہ سچا ‘‘۔[25]{۲۷} جب شوہر نے دیکھا کہ یوسف ؑ کا قمیص پیچھے سے پھٹا ہے تو اس نے کہا ’’ یہ تم عورتوں کی چالا کیاں ہیں ، واقعی بڑے غضب کی ہوتی ہیں تمہاری چالیں۔ {۲۸} یوسف ؑ! اس معاملے سے درگزرکر۔ اور اے عورت تو اپنے قصور کی معافی مانگ ، توہی اصل میں خطار کار تھی‘‘ ۔[25a]{۲۹} شہر کی عورتیں آپس میں چرچا کرنے لگیں کہ ’’ عزیزکی بیوی اپنے نوجوان غلام کے پیچھے پڑی ہوئی ہے، محبت نے اس کو بے قابو کررکھا ہے ، ہمارے نزدیک تو وہ صریح غلطی کررہی ہے۔‘‘ {۳۰} اُس نے جو اُن کی یہ مکاّرانہ باتیں سُنیں تو اُن کو بُلاوابھیج دیا اور ان کے لیے تکیہ دار مجلس آراستہ کی [26]اور ضیافت میں ہر ایک کے آگے ایک ایک چُھری رکھ دی ، ( پھر عین اس وقت جبکہ وہ پھل کاٹ کاٹ کر کھارہی تھیں) اُس نے یوسف ؑ کو اشارہ کیا کہ اُن کے سامنے نکل آ۔ جب اُن عورتوں کی نگاہ اس پر پڑی تو وہ دنگ رہ گئیں اور اپنے ہاتھ کاٹ بیٹھیں اور بے ساختہ پکاراٹھیں’’ حَاشَ لِلّٰہ ، یہ شخص انسان نہیں ہے ، یہ تو کوئی بزرگ فرشتہ ہے‘‘۔{۳۱} عزیز کی بیوی نے کہا ’’ دیکھ لیا ،یہ ہے وہ شخص جس کے معاملہ میں تم مجھ پر باتیں بناتی تھیں۔ بیشک میں نے اسے رِجھا نے کی کوشش کی تھی مگر یہ بچ نکلا، اگر یہ میرا کہنا نہ مانے گا توقید کیا جائے گا اور بہت ذلیل و خوار ہوگا‘‘[27]{۳۲} یوسف ؑ نے کہا ’’ اے میرے رَبّ ! قید مجھے منظور ہے بہ نسبت اِس کے کہ میں وہ کام کروں جو یہ لوگ مجھ سے چاہتے ہیں ۔اور اگر تونے ان کی چالوں کو مجھ سے دفع نہ کیا تو میں ان کے دام میں پھنس جا ؤں گا اور جاہلو ںمیں شامل ہو [28]رہوں گا‘‘۔{۳۳} اس کے رَبّ نے اِس کی دعاقبول کی اور ان عورتوں کی چالیں اس سے دفع کردیں ،[29] بے شک وہی ہے جو سب کی سُنتا اور سب کچھ جانتا ہے۔ {۳۴} پھراُن لوگوں کو یہ سُوجھی کہ ایک مدت کے لیے اُسے قید کردیں حالانکہ وہ ( اس کی پاک دامنی اور خود اپنی عورتوں کے برے اطوار کی ) صریح نشانیاں دیکھ چکے تھے۔[30] {۳۵} قید خانے [31]میں دوغلام اور بھی اس کے ساتھ داخل ہوئے ۔[32]ایک روزان میں سے ایک نے کہا ’’ میں نے خواب دیکھا ہے کہ میں شراب کشید کررہاہوں ‘‘ دوسرے نے کہا ’’ میں نے دیکھا کہ میرے سر پرروٹیاں رکھی ہیں اور پرندے ان کو کھارہے ہیں‘‘ دونوں نے کہا ’’ہمیں اس کی تعبیر بتایئے ، ہم دیکھتے ہیں کہ آپ ایک نیک آدمی ہیں‘‘۔[33]{۳۶} یوسف ؑ نے کہا’’ یہاں جو کھانا تمہیں ملا کرتا ہے اس کے آنے سے پہلے میں تمہیں ان خوابوں کی تعبیر بتادوں گا ۔ یہ اُن عُلوم میں سے ہے جو میرے رَبّ نے مجھے عطا کئے ہیں۔ واقعہ یہ ہے کہ میں نے اُن لوگوں کا طریقہ ترک کردیا ہے جو اللہ پر ایمان نہیں لاتے اور آخرت کا انکار کرتے ہیں {۳۷} اور میں نے اپنے بزرگوں ، ابراہیم ؑ ، اسحاق ؑاور یعقوب ؑ کا طریقہ اختیار کیا ہے ۔ ہمارا یہ کام نہیں ہے کہ اللہ کے ساتھ کسی کو شریک ٹھہرائیں ۔ درحقیقت یہ اللہ کا فضل ہے ہم پر اور تمام انسانوں پر ( کہ اس نے اپنے سواکسی کا بندہ ہمیں نہیں بنایا) مگر اکثر لوگ شکر نہیں کرتے ۔ {۳۸} اے زنداں کے ساتھیو! تم خودہی سوچو کہ بہت سے متفرق رَبّ بہتر ہیں یا وہ ایک اللہ جو سب پر غالب ہے ؟{۳۹} اُس کو چھوڑ کر تم جن کی بندگی کررہے ہو وہ اِس کے سِوا کچھ نہیں ہیں کہ بس چند نام ہیں جو تم نے اور تمہارے آبا ؤ اجداد نے رکھ لئے ہیں ، اللہ نے اُن کے لیے کوئی سندنازل نہیں کی ۔ فرمانروائی کا اقتدار اللہ کے سوا کسی کے لیے نہیں ہے ۔ اُس کا حکم ہے کہ خود اُس کے سوا تم کسی کی بندگی نہ کرو۔یہی ٹھیٹھ سیدھا طریقۂ زندگی ہے ، مگر اکثر لوگ جانتے نہیں ہیں۔{۴۰} اے زنداں کے ساتھیو! تمہارے خواب کی تعبیر یہ ہے کہ تم میں سے ایک تو اپنے رَبّ (شاہِ مصر ) کو شراب پلائے گا، رہا دوسراتو اسے سولی پر چڑھا یاجائے گا اور پرندے اس کا سرنوچ نوچ کرکھائیں گے ۔ فیصلہ ہوگیا اُس بات کا جوتم پوچھ رہے تھے‘‘۔[34]{۴۱} پھر ان میں سے جس کے متعلق خیال تھا کہ وہ رہا ہوجائے گا اس سے یوسف ؑ نے کہا کہ’’ اپنے رَبّ (شاہ ِمصر) سے میراذکر کرنا ۔‘‘ مگر شیطان نے اُسے ایسا غفلت میں ڈالا کہ وہ اپنے رَبّ (شاہ ِمصر ) سے اس کا ذکر کرنا بھول گیا اور یوسف ؑ کئی سال قید خانے میں پڑارہا ۔ [35]{ ۴۲} ایک روز [36] بادشاہ نے کہا ’’ میں نے خواب میں دیکھا ہے کہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دُبلی گائیں کھارہی ہیں اور اناج کی سات بالیں ہری ہیں اور دوسری سات سوکھی ۔ اے اہلِ دربار! مجھے اس خواب کی تعبیر بتا ؤ اگر تم خوابوں کا مطلب سمجھتے ہو ‘‘۔[37]{ ۴۳} لوگوں نے کہا ’’ یہ تو پریشان خوابوں کی باتیں ہیں اور ہم اس طرح کے خوابوں کا مطلب نہیں جانتے ‘‘۔ {۴۴} اُن دوقیدیو ں میں سے جو شخص بچ گیا تھا اور اسے ایک مدت دراز کے بعد اب بات یاد آئی ،اُس نے کہا ’’میں آپ حضرات کو اِس کی تاویل بتاتا ہوں ، مجھے ذرا (قید خانے میں یوسف ؑ کے پاس ) بھیج دیجئے ‘‘ ۔[38]{۴۵} اُس نے جاکر کہا ’’ یوسف ؑ اے سراپا راستی! [39] مجھے اِس خواب کا مطلب بتاکہ سات موٹی گائیں ہیں جن کو سات دبلی گائیں کھارہی ہیں اور سات بالیں ہری ہیں اور سات سوکھی ، شاید کہ میں ان لوگوں کے پاس واپس جا ؤں اور شاید کہ وہ جان لیں‘‘ ۔[40]{۴۶} یوسف ؑ نے کہا ’’ سات برس تک لگاتار تم کھیتی باڑی کرتے رہوگے۔ اس دوران میں جو فصلیں تم کاٹو اُن میں سے بس تھوڑا سا حصہ ، جو تمہاری خوراک کے کام آئے ، نکالو اور باقی کو اس کی بالوں ہی میں رہنے دو۔{۴۷} پھر سات برس بہت سخت آئیں گے۔ اُس زمانے میں وہ سب غلہ کھا لیا جائے گا جو تم اُس وقت کے لیے جمع کروگے ۔ اگر کچھ بچے گا تو بس وہی جو تم نے محفوظ کررکھا ہو۔{۴۸} اِس کے بعد پھر ایک سال ایسا آئے گا جس میں بار انِ رحمت سے لوگوں کی فریادرسی کی جائے گی اور وہ رس نچوڑیں[41] گے‘‘۔{۴۹} بادشاہ نے کہا اُسے میرے پاس لا ؤ۔ مگر جب شاہی فرستادہ یوسف ؑ کے پاس پہنچا تو اُس نے کہا[42] ’’ اپنے رَبّ کے پاس واپس جا اور اس سے پوچھ کہ ان عورتوں کا کیا معاملہ ہے جنہوں نے اپنے ہاتھ کاٹ لئے تھے؟ میرا رَبّ تو ان کی مکاّری سے واقف ہی[43] ہے‘‘۔{۵۰} اس پربادشاہ نے ان عورتوں سے دریافت کیا[44] ’’ تمہارا کیا تجربہ ہے ۔اُس وقت کا جب تم نے یوسف ؑ کو رِجھا نے کی کوشش کی تھی ‘‘؟ سب نے ایک زبان ہوکر کہا ’’حَاشَ لِلّٰہِ‘‘ ہم نے تو اُس میں بدی کاشائبہ تک نہ پایا‘‘ عزیز کی بیوی بول اٹھی ’’ اب حق کھل چکا ہے ، وہ میں ہی تھی جس نے اُس کو پُھسلانے کی کوشش کی تھی ، بے شک وہ بالکل سچا ہے‘‘۔[45]{۵۱} (یوسف ؑ نے کہا) [46] ’’ اِس سے میری غرض یہ تھی کہ ( عزیز) یہ جان لے کہ میں نے دَرِپردہ اُس کی خیانت نہیں کی تھی اور یہ کہ جو خیانت کرتے ہیں اُن کی چالوں کو اللہ کامیابی کی راہ پر نہیں لگاتا ۔{ ۵۲}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)