سورۃھود   -  11 : 6-83 / 123زمین میں چلنے والا کوئی جاندارایسا نہیں ہے جس کا رزق اللہ کے ذمے نہ ہو اور جس کے متعلق وہ نہ جانتا ہو کہ کہاں وہ رہتا ہے ، اور کہاں وہ سونپا جاتا ہے،[6]سب کچھ ایک صاف دفتر میں درج ہے۔{۶} اور وہی ہے جس نے آسمانوں اور زمین کو چھ دنوں میں پیدا کیا۔ جب کہ اِس سے پہلے اُس کا عرش پانی پرتھا۔[7] تا کہ تم کو آزما کر دیکھے تم میں کون بہتر عمل کرنے والا ہے۔[8] اب اگر اے نبی ؐ! تم کہتے ہو کہ لوگو!مرنے کے بعد تم دوبارہ اُٹھائے جا ؤ گے تو منکرین فوراً بول اٹھتے ہیں کہ یہ تو صریح جادوگری ہے۔[9] {۷} اور اگر ہم ایک خاص مدّت تک اُن کی سزا کو ٹالتے ہیں تو وہ کہنے لگتے ہیں کہ آخر کس چیزنے اسے روک رکھا ہے؟ سنو ! جس روز اُس سزا کا وقت آ گیاتو وہ کسی کے پھیرے نہ پھرسکے گا اور وہی چیز ان کو آگھیرے گی جس کا وہ مذاق اُڑارہے ہیں۔{۸} اگر کبھی ہم انسان کو اپنی رحمت سے نواز نے کے بعد پھر اُس سے محروم کردیتے ہیں تو وہ مایوس ہوتا ہے اور ناشکری کرنے لگتا ہے۔[10]{۹} اور اگر اس مصیبت کے بعد جو اس پر آئی تھی ہم اُسے نعمت کا مزہ چکھاتے ہیں تو کہتا ہے میرے تو سارے دِلَدَّرپار ہوگئے، (مجھ سے محتاجی ، تنگ دستی ،نحوست، سختیاں ،دور ہوگئیں ) پھر وہ پھولا نہیں سماتا اور اکڑنے لگتا ہے،{۱۰} اس عیب سے پاک اگر کوئی ہیں تو بس وہ لوگ جو صبر کرنے والے[11] اور نیکوکار ہیں اور وہی ہیں جن کے لیے درگزربھی ہے اور بڑا اجر بھی۔[12]{۱۱} تو اے پیغمبر ؐ! کہیں ایسا نہ ہوکہ تم ان چیزوں میں سے کسی چیز کو (بیان کرنے سے ) چھوڑدو جو تمہاری طرف وحی کی جارہی ہیں اور اس بات پر دل تنگ ہو کہ وہ کہیں گے ’’اس شخص پر کوئی خزانہ کیوں نہ اتارا گیا؟‘‘یا یہ کہ: ’’ اس کے ساتھ کوئی فرشتہ کیوں نہ آیا‘‘ ؟ تم تو محض خبردار کرنے والے ہو ،آگے ہر چیز کا حوالہ دار اللہ ہے۔[13]{ ۱۲} کیایہ کہتے ہیں کہ پیغمبر ؐنے یہ کتاب خود گھڑلی ہے ؟ کہو ، ’’ اچھا یہ بات ہے تو اس جیسی گھڑی ہوئی دس (۱۰)سورتیں تم بنالا ؤ اور اللہ کے سوا اور جو جو ( تمہارے حامی و ناصر) ہیں اُن کو مدد کے لیے بُلاسکتے ہوتوبلا لو اگر تم سچے ہو { ۱۳} اب اگر وہ ( تمہارے حامی و ناصر ) تمہاری مدد کو نہیں پہنچتے تو جان لو کہ یہ اللہ کے علم سے نازل ہوئی ہے اور یہ کہ اللہ کے سوا کو ئی حقیقی معبود نہیں ہے۔ پھر کیا تم ( اس امر حق کے آگے) سر تسلیم خم کرتے ہو؟‘‘[14]{۱۴} جو لوگ بس اِس دنیا کی زندگی اور اس کی خوشنمائیوں کے طالب ہوتے ہیں[15] ان کی کارگزاری کا ساراپھل ہم یہیں ا ن کو دے دیتے ہیں اور اس میں ان کے ساتھ کوئی کمی نہیں کی جاتی ۔{۱۵} مگر آخرت میں ایسے لوگوں کے لیے آگ کے سوا کچھ نہیں ہے۔[16] (وہاں معلوم ہوجائے گا کہ ) جو کچھ انہوں نے دنیا میں بنایا وہ سب ملیامیٹ ہوگیا اور اب ان کا سارا کیا دھرامحض باطل ہے۔{۱۶} پھر بھلاوہ شخص جو اپنے رَبّ کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا،[17] اس کے بعد ایک گواہ بھی پروردگار کی طرف سے ( اُس شہادت کی تائید میں) آگیا،[18] اور پہلے موسیٰ ؑکی کتاب رہنما اور رحمت کے طور پر آئی ہوئی بھی موجود تھی ( کیا وہ بھی دنیا پرستوں کی طرح اِس سے انکار کرسکتا ہے؟) ایسے لوگ تو اس پر ایمان ہی لائیں[19] گے۔ اور انسانی گروہوں میں سے جو کوئی اس کا انکار کرے تو ا س کے لیے جس جگہ کا وعدہ ہے ، وہ دوزخ ہے پس (اے پیغمبر ؐ!) تم اس چیز کی طرف سے کسی شک میں نہ پڑنا ، یہ حق ہے تمہارے رَبّ کی طرف سے مگر اکثر لوگ نہیں مانتے۔ {۱۷} اور اس شخص سے بڑھ کر ظالم اور کون ہوگا جو اللہ پر جھوٹ گھڑے ؟[20] ایسے لوگ اپنے رَبّ کے حضور پیش ہوں گے اور گواہ شہادت دیں گے کہ یہ ہیں وہ لوگ جنہوں نے اپنے رَبّ پر جھوٹ گھڑا تھا ۔سنو ! اللہ کی لعنت ہے ظالموں [21]پر۔ (اُن ظالموں پر) [22]{۱۸} جو اللہ کے راستے سے لوگوں کو روکتے ہیں ،اس کے راستے کو ٹیڑھا کرنا چاہتے ہیں[23] ، اور آخرت کا انکارکرتے ہیں۔{۱۹} وہ زمین[24] میں اللہ کو بے بس کرنے والے نہ تھے اور نہ اللہ کے مقابلے میں کوئی ان کا حامی تھا ۔ انہیں اب دوہراعذاب دیا[25] جائے گا ۔ وہ نہ کسی کی سن ہی سکتے تھے اور نہ خود ہی انہیں کچھ سُوجھتا تھا۔{۲۰} یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے اپنے آپ کو خود گھاٹے میں ڈالا اور وہ سب کچھ ِان سے کھویا گیا جو انہوں نے گھڑرکھا تھا۔[26]{۲۱} ناگزیر ہے کہ وہی آخرت میں سب سے بڑھ کرگھاٹے میں رہیں۔ { ۲۲} رہے وہ لوگ جو ایمان لائے اور جنہوں نے نیک عمل کئے اور اپنے رَبّ ہی کے ہو کر رہے، تو یقینا وہ جنتی لوگ ہیں اور جنّت میں وہ ہمیشہ رہیں [27]گے۔{ ۲۳} ان دونوں فریقوں کی مثال ایسی ہے جیسے ایک آدمی تو ہواندھابہرا اور دوسرا ہو دیکھنے اور سُننے والا، کیا یہ دونوں یکساں ہوسکتے ہیں؟[28] کیا تم ( اِس مثال سے ) کوئی سبق نہیں لیتے ؟{۲۴} ( اور ایسے ہی حالات تھے جب) ہم نے نوح ؑ کو اُس کی قوم کی طرف بھیجا تھا ۔[29] ( اُس نے کہا) ’’ میں تم لوگوں کو صاف صاف خبردار کرتا ہوں۔{۲۵} کہ اللہ کے سواکسی کی بندگی نہ کروورنہ مجھے اندیشہ ہے کہ تم پر ایک روز دردناک عذاب آئے گا ‘‘[30]{۲۶} جواب میں اُس کی قوم کے سردار جنہوں نے اس کی بات ماننے سے انکار کیا تھا ، بولے ’’ ہماری نظر میں تو تم اس کے سواکچھ نہیں ہو کہ بس ایک انسان ہو ہم جیسے۔[31] اور ہم دیکھ رہے ہیں کہ ہماری قوم میں سے بس اُن لوگوں نے جو ہمارے ہاں اَراذِل تھے بے سوچے سمجھے تمہاری پیروی اختیار کرلی ہے ۔[32] اور ہم کوئی چیز بھی ایسی نہیں پاتے جس میں تم لوگ ہم سے کچھ بڑھے ہوئے ہو ،[33] بلکہ ہم تو تمہیں جھوٹا سمجھتے ہیں ‘‘۔{۲۷} اُس نے کہا: ’’ اے برادران قوم! ذراسو چوتو سہی کہ اگر میں اپنے رَبّ کی طرف سے ایک کھلی شہادت پر قائم تھا اور پھر اس نے مجھ کو اپنی خاص رحمت سے بھی نواز[34] دیا مگر وہ تم کو نظر نہ آئی تو آخر ہمارے پاس کیا ذریعہ ہے کہ تم ماننا نہ چاہو اور ہم زبردستی اس کو تمہارے سرچپیک دیں؟ {۲۸} اور اے برادران قوم! میں اس کام پر تم سے کوئی مال نہیں مانگتا [35]، میرا اجر تو اللہ کے ذمہ ہے، اور میں اُن لوگوں کو دھکّے دینے سے بھی رہاجنہوں نے میری بات مانی ہے، وہ آپ ہی اپنے رَبّ کے حضور جانے والے ہیں۔[36] مگر میں دیکھتا ہو ںکہ تم لوگ جہالت برت رہے ہو ۔{۲۹} اور اے قوم ! اگر میں اِن لوگوں کو دُھتکاردوں تو اللہ کی پکڑ سے کون مجھے بچانے آئے گا؟تم لوگوں کی سمجھ میں کیا اتنی بات بھی نہیں آتی ؟ {۳۰} اور میں تم سے نہیں کہتا کہ میرے پاس اللہ کے خزانے ہیں ، نہ یہ کہتاہوں کہ میں غیب کا علم رکھتا ہوں ، نہ یہ میرا دعویٰ ہے کہ میں فرشتہ ہوں[37] ، اور یہ بھی میں نہیں کہہ سکتا کہ جن لوگوں کو تمہاری آنکھیں حقارت سے دیکھتی ہیں انہیں اللہ نے کوئی بھلائی نہیں دی۔ ان کے نفس کا حال اللہ ہی بہتر جانتا ہے۔ اگر میں ایسا کہوں تو ظالم ہو ں گا‘‘{۳۱} آخر کار اُن لوگوں نے کہا کہ ’’ اے نوحؑ!تم نے ہم سے جھگڑا کیا اور بہت کرلیا۔ اب تو بس وہ عذاب لے آ ؤ جس کی تم ہمیں دھمکی دیتے ہو اگر سچّے ہو ‘‘۔ {۳۲} نوحؑ نے جواب دیا ’’ وہ تو اللہ ہی لائے گا ، اگر چاہے گا ، اور تم اِتنا بَل بُوتا نہیں رکھتے کہ اسے روک دو۔{ ۳۳} اب اگر میں تمہاری کچھ خیر خواہی کرنا بھی چاہوں تو میری خیرخواہی تمہیں کوئی فائدہ نہیں دے سکتی جب کہ اللہ ہی نے تمہیں بھٹکا دینے کا ارادہ کرلیا ہو ،[38]وہی تمہارا رَبّ ہے اور اسی کی طرف تمہیں پلٹنا ہے‘‘۔{۳۴} اے نبی ؐ ! کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ اِس شخص نے یہ سب کچھ خود گھڑلیا ہے ؟ ان سے کہو ’’ اگر میں نے یہ خود گھڑا ہے تو مجھ پر اپنے جُرم کی ذمّہ داری ہے ، اور جو جرم تم کررہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں برَی ہوں‘‘[39]{۳۵} نوحؑ پر وحی کی گئی کہ تمہاری قوم میں سے جو لوگ ایمان لاچکے ، بس وہ لاچکے، اب کوئی ماننے والا نہیں ہے۔ ان کے کرتوتوں پر غم کھانا چھوڑو{۳۶} اور ہماری نگرانی میں ہماری وحی کے مطابق ایک کشتی بنانی شروع کردو۔ اور دیکھو جن لوگوں نے ظلم کیا ہے ان کے حق میں مجھ سے کوئی سفارش نہ کرنا، یہ سارے کے سارے اب ڈوبنے والے ہیں۔ [40]{۳۷} نوحؑ کشتی بنارہاتھا اور اس کی قوم کے سرداروں میں سے جوکوئی اس کے پاس سے گزرتا تھا وہ اس کا مذاق اڑاتا تھا ۔ اس نے کہا ’’ اگر تم ہم پر ہنستے ہو تو ہم بھی تم پر ہنس رہے ہیں{۳۸} عنقریب تمہیں خود معلوم ہوجائے گا کس پر وہ عذاب آتا ہے جو اُسے رسوا کردے گا اور کس پر وہ بلاٹوٹ پڑتی ہے جو ٹا لے نہ ٹلے گی‘‘۔[41] {۳۹} یہاں تک کہ جب ہمارا حکم آگیا اور وہ تنّوراُبل[42] پڑ اتو ہم نے کہا ’’ ہر قسم کے جانوروں کا ایک ایک جوڑا کشتی میں رکھ لو ، اپنے گھروالوں کو بھی ۔ سوائے اُن اشخاص کے جن کی نشاندہی پہلے کی جاچکی ہے[43] اس میں سوار کرادو اور اُن لوگوں کو بھی بٹھالو جو ایمان لائے ہیں۔ ‘‘[44]اور تھوڑے ہی لوگ تھے جو نوحؑ کے ساتھ ایمان لائے تھے ۔{۴۰} نوحؑ نے کہا ’’سوار ہوجا ؤ اِس میں،اللہ ہی کے نام سے ہے اس کا چلنا بھی اور اس کا ٹھہرنا بھی ، میرا رَبّ بڑا غفور و رحیم ہے۔[45]{۴۱} کشتی ان لوگوں کو لئے چلی جارہی تھی اور ایک ایک موج پہاڑ کی طرح اٹھ رہی تھی۔ نوحؑ کا بیٹا دور فاصلے پر تھا۔ نوحؑ نے پکار کر کہا’’بیٹا ، ہمارے ساتھ سوار ہوجا، کافروں کے ساتھ نہ رہ‘‘ {۴۲} اس نے پلٹ کر جواب دیا’’ میں ابھی ایک پہاڑ پرچڑھا جاتا ہوں جو مجھے پانی سے بچالے گا۔‘‘ نوحؑ نے کہا ’’ آج کوئی چیز اللہ کے حکم سے بچانے والی نہیں ہے سوائے اس کے کہ اللہ ہی کسی پر رحم فرمائے ‘‘ اتنے میں ایک موج دونوں کے درمیان حائل ہوگئی اور وہ بھی ڈوبنے والوں میں شامل ہوگیا۔{۴۳} حکم ہوا ’’ اے زمین اپنا سارا پانی نگل جا اور اے آسمان رک جا ‘‘ چنانچہ پانی زمین میں بیٹھ گیا فیصلہ چکادیا گیا ،کشتی جُودِی پرٹک گئی [46]،اور کہہ دیا گیا کہ دور ہوئی ظالموں کی قوم! {۴۴} نوحؑ نے اپنے رَبّ کو پکارا ۔ کہا اے رَبّ! میرا بیٹا میرے گھر والوں میں سے ہے اور تیرا وعدہ سچا [47]ہے اور تو سب حاکموں سے بڑا اور بہتر حاکم [48]ہے۔ ‘‘{۴۵} جواب میں ارشاد ہوا’’ اے نوحؑ! وہ تیرے گھروالوں میں سے نہیں ہے ، وہ تو ایک بگڑا ہوا کام [49]ہے، لہٰذا تُواُس بات کی مجھ سے درخواست نہ کر جس کی حقیقت تُو نہیں جانتا ، میں تجھے نصیحت کرتاہوں کہ اپنے آپ کو جاہلوں کی طرح نہ بنالے‘‘[50]{۴۶} نوحؑ نے فوراً عرض کیا ’’ اے میرے رَبّ ! میں تیری پناہ مانگتا ہوں اس سے کہ وہ چیز تجھ سے مانگوں جس کا مجھے علم نہیں۔ اگر تو نے مجھے معاف نہ کیا اور رحم نہ فرمایا تو میں برباد ہوجا ؤں گا‘‘۔[51]{۴۷} حکم ہوا ’’اے نوحؑ !اترجا،[52] ہماری طرف سے سلامتی اور برکتیں ہیں تجھ پر اور اُن گروہوں پر جو تیرے ساتھ ہیں ، اور کچھ گروہ ایسے بھی ہیں جن کو ہم کچھ مدت سامان زندگی بخشیں گے پھر انہیں ہماری طرف سے دردناک عذاب پہنچے گا ‘‘{۴۸} اے نبی ؐ!یہ غیب کی خبریں ہیں جو ہم تمہاری طرف وحی کررہے ہیں۔ اس سے پہلے نہ تم ان کو جانتے تھے اور نہ تمہاری قوم۔ پس صبرکرو، انجام کارمتقیوں ہی کے حق میں ہے۔[53] {۴۹} اور عاد کی طرف ہم نے اُن کے بھائی ہودؑ کو بھیجا ۔[54] اُس نے کہا ’’ اے برادِران قوم ! اللہ کی بندگی کرو ، تمہارا کوئی اِ لٰہاُس کے سوا نہیں ہے۔ تم نے محض جھوٹ گھڑرکھے ہیں۔[55] {۵۰} اے برادران قوم!اس کام پر میں تم سے کوئی اجر نہیں چاہتا ، میرا اجر تو اُس کے ذِمّہ ہے جس نے مجھے پیدا کیا ہے ، کیا تم عقل سے ذرا کام نہیں لیتے ؟[56]{۵۱} اور اے میری قوم کے لوگو! اپنے رَبّ سے معافی چاہو، پھر اُس کی طرف پلٹو ، وہ تم پر آسمان کے دہانے کھول دے گا، اور تمہاری موجودہ قوّت پر مزید قوّت کا اضافہ کرے[57] گا ۔ مجرم بن کر (بندگی سے) منھ نہ پھیرو‘‘۔{۵۲} انہوں نے جواب دیا ’’ اے ہودؑ ! تو ہمارے پاس کو ئی صریح شہادت لے کر نہیں آیا ہے[58] اور تیرے کہنے سے ہم اپنے معبود وں کو نہیں چھوڑ سکتے، اور تجھ پر ہم ایمان لانے والے نہیں ہیں۔{ ۵۳} ہم تو سمجھتے ہیں کہ تیرے اوپر ہمارے معبودوں میں سے کسی کی مارپڑ گئی ہے‘‘[59] ہودؑ نے کہا ’’ میں اللہ کی شہادت پیش کرتا ہوں[60]۔ اور تم گواہ رہو کہ یہ جو اللہ کے سوا دوسروں کو تم نے اُلُوہیّت میں شریک ٹھہرا رکھا ہے اس سے میں بیزارہوں۔[61]{۵۴} تم سب کے سب مل کر میرے خلاف اپنی کرنی میں کسر نہ اٹھارکھو اور مجھے ذرا مہلت نہ دو۔[62]{۵۵} میرا بھر وسہ اللہ پر ہے جو میرا رَبّ بھی ہے اور تمہارارَبّ بھی۔ کوئی جاندار ایسا نہیں جس کی چوٹی اس کے ہاتھ میں نہ ہو۔ بیشک میرا رَبّ سیدھی راہ پر ہے۔[63]{۵۶} اگر تم منھ پھیرتے ہو تو پھیر لو جو پیغام دے کر میں تمہارے پاس بھیجاگیا تھا وہ میں تم کو پہنچاچکاہوں ۔ اب میرا رَبّ تمہاری جگہ دوسری قوم کو اٹھائے گا اور تم اُس کا کچھ نہ بگاڑ سکو گے ۔ [64]یقینا میرا رَبّ ہر چیز پر نگراں ہے‘‘{۵۷} پھر جب ہمارا حکم آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے ہودؑ کو اور اُن لوگوں کو جو اس کے ساتھ ایمان لائے تھے نجات دے دی اور ایک سخت عذاب سے انہیں بچالیا۔ {۵۸} یہ ہیں عاد ، اپنے رَبّ کی آیات سے انہوں نے انکار کیا، اُس کے رسوُلوں کی بات نہ مانی [65]اور ہر جبّاردشمنِ حق کی پیروی کرتے رہے۔{۵۹} آخر کار اس دنیا میں بھی ان پر پھٹکار پڑی اور قیامت کے روز بھی ۔ سنو! عاد نے اپنے رَبّ سے کفر کیا۔ سنو ! دور پھینک دیے گئے عاد ، ہودؑ کی قوم کے لوگ ۔{۶۰} اورثمود کی طرف ہم نے اُن کے بھائی صالح ؑ کو بھیجا۔[66] اس نے کہا ’’ اے میری قوم کے لوگو!اللہ کی بندگی کرو ، اس کے سوا تمہارا کوئی اِلٰہ نہیں ہے ۔ وہی ہے جس نے تم کو زمین سے پیدا کیا ہے اور یہاں تم کو بسایا ہے۔ [67]لہٰذا تم اُس سے معافی چاہو[68] اور اُس کی طرف پلٹ آ ؤ ، یقینا میرا رَبّ قریب ہے اور وہ دعا ؤں کا جواب دینے والا ہے‘‘۔[69] {۶۱} انہوں نے کہا ’’ اے صالح ؑ !اس سے پہلے تو ہمارے درمیان ایسا شخص تھا جس سے بڑی توقعات وابستہ تھیں۔[70] کیاتُو ہمیں اُن معبودوں کی پرستش سے روکنا چاہتا ہے جن کی پرستش ہمارے باپ دادا کرتے تھے ؟ [71] تُو جس طریقے کی طرف ہمیں بلا رہا ہے اس کے بارے میں ہم کو سخت شبہ ہے جس نے ہمیں خلجان میں ڈال رکھاہے‘‘۔[72]{۶۲} صالح ؑنے کہا ’’ اے برادران قوم !تم نے کچھ اس بات پر بھی غور کیا کہ اگر میں اپنے رَبّ کی طرف سے ایک صاف شہادت رکھتا تھا، اور پھر اُس نے اپنی رحمت سے بھی مجھ کو نواز دیا تو اس کے بعد اللہ کی پکڑسے مجھے کون بچائے گا اگر میں اس کی نافرمانی کروں ؟ تم میرے کس کام آسکتے ہو سوائے اس کے کہ مجھے اور زیادہ خسارے میں ڈال دو۔[73]{ ۶۳} اور اے میری قوم کے لوگو! دیکھو یہ اللہ کی اونٹنی تمہارے لئے ایک نشانی ہے۔ اسے اللہ کی زمین میں چرنیکے لیے آزاد چھوڑ دو ۔ اس سے ذراتعرض نہ کرنا ورنہ کچھ زیادہ دیرنہ گزرے گی کہ تم پر اللہ کا عذاب آجائے گا‘‘{۶۴} مگر انہوں نے اونٹنی کو مارڈالا۔ اس پر صالح ؑ نے اُن کو خبردار کردیا کہ ’’ بس اب تین دن اپنے گھروں میں اور رہ بس لو ۔ یہ ایسی میعاد ہے جو جھوٹی نہ ثابت ہوگی‘‘ {۶۵} آخر کار جب ہمارے فیصلے کا وقت آگیا تو ہم نے اپنی رحمت سے صالحؑ کو اور اُن لوگوں کو جو اِس کے ساتھ ایمان لائے تھے بچالیا اور اس دن کی رسوائی سے ان کو محفوظ رکھا ۔[74] بیشک تیرا رَبّ ہی در اصل طاقتور اور بالا دست ہے ۔{۶۶} رہے وہ لوگ جنہوں نے ظلم کیا تھا تو ایک سخت دھماکے نے اُن کو دھرلیا اور وہ اپنی بستیوں میں اس طرح بے حس و حرکت پڑے کے پڑے رہ گئے{۶۷} کہ گویا وہ وہاں کبھی بسے ہی نہ تھے۔ سُنو! ثمود نے اپنے رَبّ سے کفر کیا۔سنو! دور پھینک دیے گئے ثمود!{۶۸} اور دیکھو ،ابراہیم ؑ کے پاس ہمارے فرشتے خوشنجری لئے ہوئے پہنچے ۔ کہا تم پر سلام ہو۔ ابراہیم ؑنے جواب دیا تم پر بھی سلام ہو ، پھر کچھ دیرنہ گزری کہ ابراہیم ؑ ایک بُھنا ہوا بچھڑا(ان کی ضیافت کے لیے ) لے آیا۔[75]{۶۹} مگر جب دیکھا کہ ان کے ہاتھ کھانے پر نہیں بڑھتے تو وہ ان سے مشتبہ ہوگیا اور دل میں ان سے خوف محسوس کرنے لگا ۔[76] انہوں نے کہا’’ ڈرو نہیں ، ہم تو لوط ؑ کی قوم کی طرف بھیجے گئے ہیں‘‘۔[77]{۷۰} ابراہیم ؑ کی بیوی بھی کھڑی ہوئی تھی۔ وہ یہ سن کر ہنس دی۔ [78]پھر ہم نے اس کو اسحاق ؑ کی اور اسحاق ؑ کے بعد یعقوبؑ کی خوشنجری دی۔[79]{۷۱} وہ بولی ’’ ہائے میری کم بختی ! [80] کیا اب میرے ہاں اولاد ہوگی جب کہ میں بُڑھّیا پھونس ہوگئی اور میرے میاں بھی بوڑھے ہوچکے ؟[81] یہ تو بڑی عجیب بات ہے‘‘ ۔{۷۲} فرشتوں نے کہا ’’کیا تم اللہ کے حکم پر تعجب کرتی ہو؟[82] ابراہیم ؑ کے گھروالو! تم لوگوں پر تو اللہ کی رحمت اور اس کی برکتیں ہیں، اور یقینا اللہ نہایت قابل تعریف اور بڑی شان والا ہے‘‘۔ {۷۳} پھرجب ابراہیم ؑکی گھبراہٹ دور ہوگئی اور(اولاد کی بشارت سے) اس کا دل خوش ہوگیا تو اُس نے قوم لوط ؑکے معاملے میں ہم سے جھگڑا شروع کیا ۔[83]{۷۴} حقیقت میں ابراہیم ؑ بڑا حلیم اور نرم دل آدمی تھا اور ہر حال میں ہماری طرف رجوع کرتا تھا{۷۵} (آخرکار ہمارے فرشتوں نے اس سے کہا ) ’’اے ابراہیم ؑ ! اس سے باز آجا ؤ، تمہارے رَبّ کا حکم ہوچکا ہے اور اب اُن لوگوں پروہ عذاب آکر رہے گا جو کسی کے پھیرے نہیں پھرسکتا۔‘‘ [84]{۷۶} اور جب ہمارے فرشتے لوطؑ کے پاس پہنچے [85]تو ان کی آمد سے وہ بہت گھبرایا اور دل تنگ ہو ااور کہنے لگا کہ آج بڑی مصیبت کا دن [86]ہے۔۲{۷۷} (ان مہمانوں کا آنا تھا کہ) اس کی قوم کے لوگ بے اختیار اس کے گھر کی طرف دوڑ پڑے۔ پہلے سے وہ ایسی ہی بدکاریوں کے خوگر تھے ۔ لوطؑ نے ان سے کہا ’’ بھائیو !یہ میری بیٹیاں موجود ہیں ، یہ تمہارے لئے پاکیزہ تر ہیں۔[87]کچھ اللہ کا خوف کرو اور میرے مہمانو ں کے معاملے میں مجھے ذلیل نہ کرو ۔ کیا تم میں کوئی بھلا آدمی نہیں؟‘‘{۷۸} انہوں نے جواب دیا ’’تجھے تو معلوم ہی ہے کہ تیری بیٹیوں میں ہمارا کوئی حصہ نہیں ہے[88] اور تویہ بھی جانتا ہے کہ ہم چاہتے کیا ہیں ‘‘۔ {۷۹} لوط ؑ نے کہا ’’کاش میرے پاس اتنی طاقت ہوتی کہ تمہیں سیدھا کردیتا ، یا کوئی مضبوط سہاراہی ہوتا کہ اس کی پناہ لیتا ۔‘‘ {۸۰} تب فرشتوں نے اس سے کہا کہ ’’ اے لوط ؑ! ہم تیرے رَبّ کے بھیجے ہوئے فرشتے ہیں ، یہ لوگ تیرا کچھ نہ بگاڑ سکیں گے۔ بس تو کچھ رات رہے اپنے اہل وعیال کو لے کر نکل جا۔ اور دیکھو تم میں سے کوئی شخص پیچھے پلٹ کرنہ دیکھے ۔[89] مگر تیری بیوی (ساتھ نہیں جائے گی) کیو ںکہ اس پر بھی وہی کچھ گزرنے والا ہے جو ان لوگوں پر گزرنا ہے ۔[90]ان کی تباہی کے لیے صبح کا وقت مقرر ہے ۔ صبح ہوتے اب دیرہی کتنی ہے! ‘‘ {۸۱} پھر جب ہمارے فیصلہ کا وقت آپہنچا تو ہم نے اُس بستی کو تَل پَٹ کردیا اور اس پر پکی ہوئی مٹی کے پتھر تابڑتو ڑ [91]برسائے{۸۲} جن میں ہر پتھر تیرے رَبّ کے ہاں نشان زدہ تھا۔[92]اور ظالموں سے یہ سزا کچھ دور نہیں ہے ۔[93]{۸۳}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)