سورۃیونس   -  10 : 26-109 / 109 جن لوگوں نے بھلائی کا طریقہ اختیار کیا ان کے لیے بھلائی ہے اور مزید فضل ۔[33]ان کے چہروں پر روسیاہی اور ذلت نہ چھائے گی۔ وہ جنّت کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔{۲۶} اور جن لوگوں نے برائیاں کمائیں اُن کی برائی جیسی ہے ویساہی وہ بدلہ پائیں گے ،[34] ذلت ان پر مسلّط ہوگی ، کوئی اللہ سے اُن کو بچانے والا نہ ہوگا ، اُن کے چہروں پر ایسی تاریکی چھائی ہوئی ہوگی[35] جیسے رات کے سیاہ پردے اِن پر پڑے ہوئے ہوں ، وہ دوزخ کے مستحق ہیں جہاں وہ ہمیشہ رہیں گے۔{۲۷} جس روز ہم ان سب کو ایک ساتھ (اپنی عدالت میں ) اکٹھا کریں گے ،پھر اُن لوگوں سے جنہوں نے شرک کیا ہے کہیں گے کہ ٹھہر جا ؤ تم بھی اور تمہارے بنائے ہوئے شریک بھی ، پھر ہم اُن کے درمیان سے اجنبیت کا پردہ ہٹادیں گے[36] اور ان کے شریک کہیں گے کہ ’’ تم ہماری عبادت تو نہیں کرتے تھے ۔{۲۸} ہمارے اور تمہارے درمیان اللہ کی گواہی کافی ہے، کہ ( تم اگر ہماری عبادت کرتے بھی تھے تو) ہم تمہاری اس عبادت سے بالکل بے خبر تھے ‘‘[37]{۲۹} اُس وقت ہر شخص اپنے کئے کا مزہ چکھ لے گا ، سب اپنے حقیقی مالک کی طرف پھیردیے جائیں گے اور وہ سارے جھوٹ جو انہو ں نے گھڑ رکھے تھے گم ہوجائیں گے۔{۳۰} اُن سے پُوچھو ، کون تم کو آسمان اور زمین سے رزق دیتا ہے ؟ یہ سماعت اور بینائی کی قوتیں کس کے اختیار میں ہیں ؟ کون بے جان میں سے جاندار کو اور جاندار میں سے بے جان کو نکالتا ہے ؟ کون اس نظمِ عالم کی تدبیر کررہا ہے ؟ وہ ضرور کہیں گے کہ اللہ ۔ کہو ، پھر تم (حقیقت کیخلاف چلنے سے ) پرہیز نہیں کرتے ؟{۳۱} تب تویہی اللہ تمہارا حقیقی رَبّ ہے۔[38] پھر حق کے بعدگمراہی کے سوا اور کیاباقی رہ گیا ؟ آخر یہ تم کدھر پھر ائے جارہے[39] ہو ؟ {۳۲} (اے نبی ؐ !دیکھو ) اس طرح نافرمانی اختیارکرنے والوں پر تمہارے رَبّ کی بات صادق آگئی کہ وہ مان کر نہ دیں[40] گے۔{ ۳۳} اِن سے پُوچھو تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ہے جو تخلیق کی ابتداء بھی کرتا ہو اورپھر اس کا اعادہ بھی کرے؟ کہو وہ صرف اللہ ہے جو تخلیق کی ابتدا ء بھی کرتا ہے اور اس کااعادہ بھی[41] ، پھر تم یہ کس الٹی راہ پر چلائے جارہے ہو ؟ [42]{۳۴} اِن سے پوچھو تمہارے ٹھہرائے ہوئے شریکوں میں کوئی ایسا بھی ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہو[43] ؟ کہو وہ صرف اللہ ہے جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے۔ پھر بھلا بتا ؤ ، جو حق کی طرف رہنمائی کرتا ہے وہ اس کا زیادہ مستحق ہے کہ اس کی پیروی کی جائے یاوہ جو خودراہ نہیں پاتا اِلاّیہ کہ اُس کی رہنمائی کی جائے؟ آخر تمہیں ہوکیا گیا ہے ،کیسے اُلٹے فیصلے کرتے ہو؟{۳۵} حقیقت یہ ہے کہ ان میں سے اکثر لوگ محض قیاس وگمان کے پیچھے چلے جارہے ہیں،[44] حالانکہ گمان حق کی ضرورت کو کچھ بھی پورا نہیں کرتا۔جو کچھ یہ کررہے ہیں، اللہ اس کو خوب جانتا ہے۔{۳۶} اور یہ قرآن وہ چیز نہیں ہے جو اللہ کی وحی و تعلیم کے بغیر تصنیف کرلیا جائے ،بلکہ یہ توجو کچھ پہلے آچکا تھا اس کی تصدیق اور الکتاب کی تفصیل ہے۔[45] اِس میں کوئی شبہ نہیں کہ یہ فرمانروائے کائنا ت کی طرف سے ہے۔ {۳۷} کیا یہ لوگ کہتے ہیں کہ پیغمبر ؐنے اسے خود تصنیف کرلیا ہے ؟ کہو: ’’ اگر تم اپنے اس الزام میں سچے ہوتو ایک سُورۃ اِس جیسی تصنیف کرلا ؤاور ایک اللہ کو چھوڑ کر جس جس کو بلا سکتے ہو مدد کے لیے بلالو‘‘۔[46]{۳۸} اصل یہ ہے کہ جو چیز اِن کے علم کی گرفت میں نہیں آئی اور جس کا مآل (انجام)بھی ان کے سامنے نہیں آیا ، اس کو انہوں نے ( خواہ مخواہ اٹکل پچوّ) جُھٹلادیا [47]اِسی طرح تو اِن سے پہلے کے لوگ بھی جھٹلاچکے ہیں، پھر دیکھ لو ان ظالموں کو کیا انجام ہوا۔{۳۹} ان میں سے کچھ لوگ ایمان لائیں گے اور کچھ نہیں لائیں گے اورآپ ؐ کا رَبّ ان مفسدوں کو خوب جانتا ہے[48]{ ۴۰} اگر یہ آپ ا کوجھٹلاتے ہیں تو کہہ دیجئے کہ ’’ میرا عمل میرے لئے ہے اور تمہارا عمل تمہارے لئے، جو کچھ میں کرتا ہوں اس کی ذمہ داری سے تم بری ہو اور جو کچھ تم کررہے ہو اس کی ذمہ داری سے میں بری ہوں۔‘‘ [49]{۴۱} ان میں سے بہت سے لوگ ہیں جو تیری باتیں سنتے ہیں ، مگر کیا تو بہروں کو سنائے گا خواہ وہ کچھ نہ سمجھتے ہوں ؟[50]{۴۲} ان میں سے بہت سے لوگ ہیں جو تجھے دیکھتے ہیں، مگر کیا تو اندھوں کو راہ بتائے گا خواہ اُنہیں کچھ نہ سوجھتا ہو ؟[51]{۴۳} حقیقت یہ ہے کہ اللہ لوگوں پر ظلم نہیں کرتا ، لوگ خود ہی اپنے اوپر ظلم کرتے ہیں۔[52]{۴۴} (آج یہ دنیا کی زندگی میں مست ہیں) اور جس روز اللہ ان کو اکٹھاکرے گا تو (یہی دنیا کی زندگی اِنہیں ایسی محسوس ہوگی) گویا یہ محض ایک گھڑی بھر آپس میں جان پہچان کرنے کو ٹھہرے تھے۔[53] (اُس وقت تحقیق ہوجائے گا کہ ) فی الواقع سخت گھاٹے میں رہے وہ لوگ جنہوں نے اللہ کی ملاقات کوجھٹلایا [54]اور ہرگز وہ راہ راست پر نہ تھے۔ {۴۵} جن بُرے نتائج سے ہم انہیں ڈرا رہے ہیں اُن کا کوئی حصہ ہم تیرے جیتے جی دکھادیں یا اُس سے پہلے ہی تجھے اُٹھالیں ، بہرحال انہیں آنا ہماری طرف ہی ہے اور جو کچھ یہ کررہے ہیں اس پر اللہ گواہ ہے۔{۴۶} ہر اُمّت کے لیے ایک رسُول [55]ہے۔ پھر جب کسی اُمت کے پاس اس کا رسو ل آجاتا ہے تو اس کا فیصلہ پورے انصاف کے ساتھ چکا دیا جاتا ہے اور اس پر ذرّہ برابر ظلم نہیں کیا جاتا ۔[56]{۴۷} کہتے ہیں اگر تمہاری یہ دھمکی سچّی ہے تو آخر یہ کب پُوری ہوگی ؟ {۴۸} کہو، ’’ میرے اختیار میں تو خود اپنا نفع و ضرر بھی نہیں، سب کچھ اللہ کی مشیت پر موقوف ہے ۔ [57]ہر اُ مّت کے لیے مہلت کی ایک مدت ہے ، جب یہ مدت پوری ہوجاتی ہے تو گھڑی بھر کی تقدیم وتاخیر بھی نہیں ہوتی۔‘‘ [58]{۴۹} اِن سے کہو ، کبھی تم نے یہ بھی سوچا کہ اگر اللہ کا عذاب اچانک رات کویا دن کو آجائے ( تو تم کیا کرسکتے ہو؟) آخر یہ ایسی کونسی چیز ہے جس کے لیے مجرم جلدی مچائیں ؟ {۵۰} کیا جب وہ تم پر آپڑے اسی وقت تم اسے مانو گے؟ اب بچنا چاہتے ہو ؟ حالانکہ تم خود ہی اس کے جلدی آنے کا تقاضا کررہے تھے!{۵۱} پھر ظالموں سے کہا جائے گا کہ اب ہمیشہ کے عذاب کا مزہ چکھو ، جو کچھ تم کماتے رہے ہو اس کی پاداش کے سوا اور کیا بدلہ تم کو دیا جاسکتا ہے؟{۵۲} پھر پوچھتے ہیں کیا واقعی یہ سچ ہے جو تم کہہ رہے ہو ؟ کہو ’’ میرے رَبّ کی قسم ، یہ بالکل سچ ہے ، اور تم اتنا بل بوتا نہیں رکھتے کہ اسے ظُہور میں آنے سے روک دو ‘‘{۵۳} اگر ہر اُس شخص کے پاس جس نے ظلم کیا ہے، روئے زمین کی دولت بھی ہوتو اس عذاب سے بچنے کے لیے وہ اُسے فدیہ میں دینے پر آمادہ ہوجائے گا۔جب یہ لوگ اُس عذاب کو دیکھ لیں گے تو دل ہی دل میں پچھتائیں [59]گے ۔ مگر ان کے درمیان پورے انصاف سے فیصلہ کیا جائے گا،کوئی ظلم ان پر نہ ہوگا ۔ {۵۴} سنو! آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے اللہ کا ہے۔ سُن رکھو ! اللہ کا وعدہ سچّا ہے مگر اکثر انسان جانتے نہیں ہیں۔{۵۵} وہی زندگی بخشتا ہے اور وہی موت دیتا ہے اور اسی کی طرف تم سب کو پلٹنا ہے۔{۵۶} لوگو! تمہارے پاس تمہارے رَبّ کی طرف سے نصیحت آگئی ہے ۔ یہ وہ چیز ہے جو دلوں کے امراض کی شفا ہے اور جو اسے قبول کرلیں ان کے لیے رہنمائی اور رحمت ہے{۵۷} اے نبی ؐ! کہو کہ ’’ یہ اللہ کا فضل اور اس کی مہربانی ہے کہ یہ چیز اُس نے بھیجی ، اِس پر تو لوگوں کو خوشی منانی چاہئے، یہ اُن سب چیزوں سے بہتر ہے جنہیں لوگ سمیٹ رہے ہیں‘‘۔{۵۸} اے نبی ؐ! ان سے کہو ’’ تم لوگوں نے کبھی یہ بھی سوچا ہے کہ جو رزق[60] اللہ نے تمہارے لئے اتارا تھا اس میں سے تم نے خود ہی کسی کو حرام اور کسی کو حلال ٹھہرالیا!‘‘ [61]اِن سے پوچھو ، اللہ نے تم کو اس کی اجازت دی تھی؟ یا تم اللہ پر افترا کررہے ہو؟ [62] {۵۹} جو لوگ اللہ پر یہ جھوٹا افتراباندھتے ہیں ان کا کیا گمان ہے کہ قیامت کے روز ان سے کیا معاملہ ہوگا؟ اللہ تو لوگوں پر مہربانی کی نظر رکھتا ہے، مگر اکثر انسان ایسے ہیں جو شکر نہیں کرتے۔ [63]{۶۰} اے نبی ؐ ! تم جس حال میں بھی ہوتے ہو اور قرآن میں سے جو کچھ بھی سناتے ہو ، اور لوگو ، تم بھی جو کچھ کرتے ہو اُس سب کے دوران میں ہم تم کو دیکھتے رہتے ہیں ۔ کوئی ذرہ برابر چیز آسمان اور زمین میں ایسی نہیں ہے،نہ چھوٹی نہ بڑی، جو تیرے رَبّ کی نظر سے پوشیدہو اور ایک صاف دفتر میں درج نہ ہو ۔[64]{۶۱} (آگاہ رہو اور غور سے) سُنو! جو اولیاء اللہ(اللہ کے دوست )ہیں، یقینا ان پرنہ خوف کا موقع آئے گا اور نہ ہی وہ رنج و غم میں ہوں گے۔{ ۶۲} وہ (ایسے )لوگ (ہیں)جو ایمان لائے اور جنہوں نے تقویٰ کا رویہ اختیارکیا۔ {۶۳} دنیا اور آخرت کی دونوں زندگیوں میں ان کے لیے (خوش خبری اور مغفرت کی)بشارت ہی بشارت ہے ۔ اللہ تعالی کی باتیں بدل نہیں سکتیں ، یہی بڑی کامیابی ہے۔ {۶۴} اے نبی ؐ! جو باتیں یہ لوگ تجھ پر بناتے ہیں وہ تجھے رنجیدہ نہ کریں ،عزت ساری کی ساری اللہ کے اختیار میں ہے اور وہ سب کچھ سنتا اور جانتا ہے۔ {۶۵} آگاہ رہو ! آسمانوں کے بسنے والے ہوں یا زمین کے سب کے ،سب اللہ کے مملوک ہیں۔ اور جو لوگ اللہ کے سوا کچھ ( اپنے خود ساختہ ) شریکوں کو پکار رہے ہیں وہ نرے وہم وگمان کے پیروہیں اور محض قیاس آرائیاں کرتے ہیں {۶۶} وہ اللہ ہی ہے جس نے تمہارے لئے رات بنائی کہ اس میں سکون حاصل کرو اور دن کو روشن بنایا۔اس میں نشانیاں ہیں ان لوگوں کے لیے جو (کُھلے کانوں سے پیغمبر کی دعوت کو ) سنتے ہیں۔[65] {۶۷} لوگوں نے کہہ دیا کہ اللہ نے کسی کو بیٹا بنایا ہے۔ [66]سبحان اللہ ! [67]وہ تو بے نیاز ہے ، آسمانوں اور زمین میں جو کچھ ہے سب اس کی مِلک [68]ہے، تمہارے پاس اِس قول کے لیے آخر دلیل کیا ہے؟ کیا تم اللہ کے متعلق وہ باتیں کہتے ہو جو تمہارے علم میں نہیں ہیں ؟ {۶۸} اے نبی ؐ! کہدو کہ جو لوگ اللہ پر جھوٹے افتراء باندھتے ہیں وہ ہر گز فلاح نہیں پاسکتے۔ {۶۹} دنیا کی چندروزہ زندگی میں مزے کرلیں پھر ہماری طرف اُن کو پلٹنا ہے ، پھر ہم اس کفر کے بدلے جس کا ارتکاب وہ کررہے ہیں ان کو سخت عذاب کا مزہ چکھائیں گے۔{۷۰} ان کو نوح ؑ[69] کا قصہ سنا ؤ ، اس وقت کا قصہ جب اس نے اپنی قوم سے کہا تھا کہ ’’ اے برادران قوم! اگر میرا تمہارے درمیان رہنا اور اللہ کی آیات سُناسُنا کر تمہیں غفلت سے بیدار کرنا تمہارے لئے ناقابلِ برداشت ہوگیاہے تو میرا بھروسہ اللہ پر ہے ، تم اپنے ٹھہرائے ہوئے شریکوں کو ساتھ لے کر ایک متفقہ فیصلہ کرلو اور جو منصوبہ تمہارے پیش نظر ہو اُس کو خوب سوچ سمجھ لوتا کہ اس کا کوئی پہلو تمہاری نگاہ سے پوشیدہ نہ رہے ، پھر میرے خلاف اُس کو عمل میں لے آ ؤ اور مجھے ہر گز مہلت نہ دو۔[70] {۷۱} تم نے میری نصیحت سے منھ موڑا ( تو میرا کیا نقصان کیا) میں تم سے کسی اجر کا طلب گارنہ تھا ، میرا ا جر تو اللہ کے ذمہّ ہے ۔ اور مجھے حکم دیا گیا ہے کہ (خواہ کوئی مانے یانہ مانے ) میں خود مسلم بن کررہوں ‘‘۔ {۷۲} اُنہوں نے اسے جھٹلایا اور نتیجہ یہ ہوا کہ ہم نے اسے اور ان لوگوں کو جو اس کیساتھ کشتی میں تھے ، بچالیا اور انہی کو زمین میں جانشین بنایااور ان سب لوگوں کو غرق کردیا جنہوں نے ہماری آیات کو جھٹلایا تھا ۔ پس دیکھ لو کہ جنہیں متنّبہ کیا گیا تھا ( اور پھر بھی انہوں نے مان کر نہ دیا) ان کا کیا انجام ہوا۔{۷۳} پھر نوح ؑکے بعد ہم نے مختلف پیغمبروں کو اُن کی قوموں کی طرف بھیجا اور وہ اُن کے پاس کھلی کھلی نشانیاں لے کر آئے، مگر جس چیز کو انہوں نے پہلے جھٹلادیا تھا اُسے پھر مان کر نہ دیا ۔اس طرح ہم حد سے گزر جانے والوں کے دلوں پر ٹھپا لگادیتے ہیں ۔[71]{۷۴} پھر [72]ان کے بعد ہم نے موسیٰ ؑ اور ہارون ؑ کو اپنی نشانیوں کے ساتھ فرعون اور اس کے سرداروں کی طرف بھیجا، مگر انہوں نے اپنی بڑائی کا گھمنڈ [73]کیا اور وہ مجرم لوگ تھے{۷۵} پس جب ہمارے پاس سے حق ان کے سامنے آیا تو انہوں نے کہہ دیا کہ یہ تو کھلا جادو [74]ہے۔ {۷۶} موسیٰ ؑ نے کہا ’’ تم حق کو یہ کہتے ہو جبکہ وہ تمہارے سامنے آگیا ؟ کیا یہ جادو ہے ؟ حالانکہ جادو گر فلاح نہیں پایا کرتے‘‘۔[75]{۷۷} انہوں نے جواب میں کہا’’ کیا تو اس لیے آیا ہے کہ ہمیں اُس طریقہ سے پھیردے جس پر ہم نے اپنے باپ دادا کو پایا ہے اور زمین میں بڑائی تم دونوں کی قائم ہوجائے[76] ؟ تمہاری بات تو ہم ماننے والے نہیں ہیں۔‘‘{۷۸} اور فرعون نے ( اپنے آدمیوں سے ) کہا کہ ’’ہر ماہر فن جادوگر کو میرے پاس حاضر کرو ‘‘{۷۹} جب جادو گر آگئے تو موسیٰ ؑنے ان سے کہا ’’ جو کچھ تمہیں پھینکنا ہے پھینکو ‘‘ {۸۰} پھر جب انہوں نے اپنے انچھر پھینک دیے تو موسیٰ ؑنے کہا’’یہ جو کچھ تم نے پھینکا ہے یہ جادُو ہے ۔[77] اللہ ابھی اسے باطل کئے دیتا ہے، مفسدوں کے کام کو اللہ سُدھرنے نہیں دیتا {۸۱} اور اللہ اپنے فرمانوں سے حق کو حق کر دکھاتا ہے ، خواہ مجرموں کو وہ کتنا ہی ناگوار ہو ۔ ‘‘{۸۲} (پھر دیکھو کہ ) موسیٰ ؑ کو اس کی قوم میں سے چند نوجوانوں [78] کے سوا کسی نے نہ مانا ، [79]فرعون کے ڈر سے اور خود اپنی قوم کے سربرآوردہ لوگوں کے ڈرسے ( جنہیں خوف تھا کہ ) فرعون اُن کو عذاب میں مُبتلا کرے گا۔اور واقعہ یہ ہے کہ فرعون زمین میں غلبہ رکھتا تھا اور وہ ان لوگوں میں سے تھا جو کسی حد پر رکتے نہیں ہیں۔ [80] {۸۳} موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ ’’ لوگو! اگر تم واقعی اللہ پر ایمان رکھتے ہو تو اس پر بھروسہ کرو اگر تم مسلمان ہو‘‘[81] {۸۴} انہوں نے جواب دیا [82] ’’ ہم نے اللہ ہی پر بھروسہ کیا ، اے ہمارے رَبّ !ہمیں ظالم لوگوں کے لیے فتنہ [83]نہ بنا{۸۵} اور اپنی رحمت سے ہم کو کافروں سے نجات دے‘‘۔{۸۶} اور ہم نے موسیٰ ؑاور اس کے بھائی کو اشارہ کیا کہ ’’ مصر میں چند مکان اپنی قوم کے لیے مہیّا کرو اور اپنے ان مکانوںکو قبلہ ٹھہرالو اور نماز قائم کرو [84]اور اہل ایمان کو بشارت دے دو‘‘۔[85]{۸۷} موسیٰ ؑنے [86]کہا: ’’اے ہمارے رَبّ! تو نے فرعون اور اُس کے سرداروں کو دنیا کی زندگی میں زینت [87]اور اموال [88]سے نواز رکھا ہے ۔ اے رَبّ! کیا یہ اس لیے ہے کہ وہ لوگوں کو تیری راہ سے بھٹکائیں ؟( پھر دعا کی کہ) اے رَبّ!ان کے مال غارت کردے اور ان کے دلوں پر ایسی مہر کردے کہ ایمان نہ لائیں جب تک درد ناک عذاب نہ دیکھ لیں۔ [89]{۸۸} اللہ تعالیٰ نے جواب میں فرمایا’’ تم دونوں کی دعا قبول کی گئی۔ ثابت قدم رہو اور اُن لوگوں کے طریقے کی ہر گز پیروی نہ کرو جو علم نہیں رکھتے ‘‘۔[90]{۸۹} اور ہم بنی اسرائیل کو سمندر سے گزار لے گئے ۔ پھر فرعون اور اُس کے لشکر ظلم اور زیادتی کی غرض سے اُن کے پیچھے چلے۔ حتیٰ کہ جب فرعون ڈوبنے لگاتو بول اُٹھا’’میں نے مان لیا کہ معبودِ حقیقی اُس کے سوا کوئی نہیں ہے جس پر بنی اسرئیل ایمان لائے ۔اور میں بھی سراطاعت جھکا دینے والوں میں سے ہوں‘‘[91]{۹۰} (جواب دیا گیا) ’’اب ایمان لاتا ہے ! حالانکہ اس سے پہلے تک تو نافرمانی کرتا رہا اور فساد کرنے والوں میں سے تھا۔{۹۱} اب تو ہم صرف تیری لاش ہی کو بچائیں گے تا کہ تو بعد کی نسلوں کے لیے نشان عبرت بنے[92] اگرچہ بہت سے انسان ایسے ہیں جو ہماری نشانیوں سے غفلت برتتے ہیں۔‘‘[93]{۹۲} ہم نے بنی اسرائیل کو بہت اچھا ٹھکانا دیا[94]اور نہایت عمدہ وسائل زندگی اُنہیں عطا کئے۔پھر اُنہوں نے باہم اختلاف نہیں کیا مگر اُس وقت جب کہ علم ان کے پاس آچکا تھا۔[95] یقینا تیرا رَبّ قیامت کے روز ان کے درمیان اس چیز کا فیصلہ کردے گا جس میں وہ اختلاف کرتے رہے ہیں۔{ ۹۳} اب اگر تجھے اس ہدایت کی طرف سے کچھ بھی شک ہو جو ہم نے تجھ پر نازل کی ہے تو اُن لوگوں سے پوچھ لے جو پہلے سے کتاب پڑھ رہے ہیں۔ فی الواقع یہ تیرے پاس حق ہی آیا ہے تیرے رَبّ کی طرف سے ، لہٰذا توشک کرنے والوں میں سے نہ ہو { ۹۴} اور ان لوگوں میں نہ شامل ہو جنہوں نے اللہ کی آیات کو جھٹلایا ہے، ورنہ تو نقصان اٹھانے والوں میں سے ہوگا ۔[96]{۹۵} حقیقت یہ ہے کہ جن لوگوں پر تیرے رَبّ کا قول راست آگیا [97]ہےوہ ایمان نہیں لائیں گے۔ {۹۶} اُن کے سامنے خواہ کوئی نشانی آجائے وہ کبھی ایمان لاکر نہیں دیتے جب تک کہ دردناک عذاب سامنے آتا نہ دیکھ لیں۔{۹۷} پھر کیا ایسی کوئی مثال ہے کہ ایک بستی عذاب دیکھ کر ایمان لائی ہو اور اُس کا ایمان اُس کے لیے نفع بخش ثابت ہُوا ہو ؟ یونس ؑ کی قوم کے سوا [98] ( اِس کی کوئی نظیر نہیں) وہ قوم جب ایمان لے آئی تھی تو البتہ ہم نے اُس پر سے دنیا کی زندگی میں رُسوائی کا عذاب ٹال [99]دیا تھااور اُس کو ایک مدت تک زندگی سے بہرہ مند ہونے کا موقع دے دیا تھا۔[100]{۹۸} اگر تیرے رَبّ کی مشیت یہ ہوتی (کہ زمین میں سب مومن وفرمانبردارہی ہوں) تو سارے اہل زمین ایمان لے آئے ہوتے ،[101]پھر کیا تو لوگوں کو مجبور کرے گا کہ وہ مومن ہوجائیں ؟ [102]{۹۹} کوئی مُتنفِّس اللہ کے اِذن کے بغیر ایمان نہیں لاسکتا،[103] اور اللہ کا طریقہ یہ ہے کہ جو لوگ عقل سے کام نہیں لیتے وہ اُن پر گندگی ڈال دیتا ہے۔[104]{۱۰۰} ان سے کہو ’’ زمین اور آسمانوں میں جو کچھ ہے اُسے آنکھیں کھول کر دیکھو ‘‘ ۔اور جو لوگ ایمان لانا ہی نہیں چاہتے اُن کے لیے نشانیاں اور تنبیہیں آخر کیا مفید ہوسکتی ہیں؟[105]{۱۰۱} اب یہ لوگ اِس کے سوا اور کس چیز کے منتظر ہیں کہ وہی بُرے دن دیکھیں جو اِن سے پہلے گزرے ہوئے لوگ دیکھ چکے ہیں ؟ ان سے کہو ’’اچھا، انتظار کرو ، میں بھی تمہارے ساتھ انتظار کرتاہوں ‘‘ ۔{۱۰۲} پھر( جب ایسا وقت آتا ہے تو) ہم اپنے رسولوںؑ کو اور اُن لوگوں کو بچالیا کرتے ہیں جو ایمان لائے ہوں۔ ہمارا یہی طریقہ ہے۔ ہم پر یہ حق ہے کہ مومنوں کو بچالیں{۱۰۳} اے نبی ؐ! [106]کہہ دو کہ ’’ لوگو! اگر تم ابھی تک میرے دین کے متعلق کسی شک میں ہوتو سُن لو کہ تم اللہ کے سواجن کی بندگی کرتے ہو میں اُن کی بندگی نہیں کرتا،بلکہ صرف اُسی معبود حقیقی کی بندگی کرتا ہوں جس کے قبضے میں تمہاری موت ہے ۔[107]مجھے حکم دیا گیا ہے کہ میں ایمان لانے والوں میں سے ہوں۔{ ۱۰۴} اور مجھ سے فرمایا گیا ہے کہ یکسوہو کر اپنے آپ کو ٹھیک ٹھیک اس دین پر قائم کردے ،[108] اور ہرگز ہر گز مشرکوں میں سے نہ ہو۔[109]{۱۰۵} اور اللہ کو چھوڑ کر کسی ایسی ہستی کو نہ پکار جو تجھے نہ فائدہ پہنچاسکتی ہے نہ نقصان ، اگر توُایسا کرے گا توظالموں میں سے ہوگا۔{۱۰۶} اگر اللہ تجھے کسی مصیبت میں ڈالے تو خود اُس کے سِوا کوئی نہیں جو اُس مصیبت کو ٹال دے ، اور اگر وہ تیرے حق میں کسی بھلائی کا ارادہ کرے تو اُس کے فضل کو پھیر نے والا بھی کوئی نہیں ہے۔ وہ اپنے بندوں میں سے جس کو چاہتا ہے اپنے فضل سے نواز تا ہے اور وہ درگزر کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے‘‘ {۱۰۷} اے نبی ؐ! کہہ دو کہ :’’ لوگو! تمہارے پاس تمہارے رَبّ کی طرف سے حق آچکا ہے ۔اب جو سیدھی راہ اختیار کرے اُس کی راست رَوِی اُسی کے لیے مفید ہے ، اور جو گمراہ رہے اُس کی گمراہی اُسی کے لیے تباہ کُن ہے۔ اور میں تمہارے اوپر کوئی حوالہ دار نہیں ہوں ‘‘{۱۰۸} اور اے نبی ؐ! تم اُس ہدایت کی پیروی کئے جا ؤ جو تمہاری طرف بذریعہ وحی بھیجی جارہی ہے۔ اور صبر کرو یہاں تک کہ اللہ فیصلہ کردے ، اور وہی بہترین فیصلہ کرنے والا ہے ۔{۱۰۹}
سورۃھود   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 11 : 1-5 / 123الٓرٰ ۔(یہ کتاب دراصل) فرمان[1] ہے ،جس کی آیتیں پختہ اور مفصل ارشاد ہُوئی ہیں ،[2] ایک دانا اور باخبر ہستی کی طرف سے{۱} کہ تم نہ بندگی کرو مگر صرف اللہ کی۔ میں اُس کی طرف سے تم کو خبردار کرنے والا بھی ہوں اور بشارت دینے والا بھی ۔{۲} اور یہ کہ تم اپنے رَبّ سے معافی چاہو اور اُس کی طرف پلٹ آ ؤ تو وہ ایک مدّت ِخاص تک تم کو اچھا سامان ِزندگی[3] دے گا اور ہر صاحب فضل کو اس کافضل عطاکرے [4] گا۔لیکن اگر تم منھ پھیرتے ہو تو میں تمہارے حق میں ایک بڑے ہولناک دن کے عذاب سے ڈرتا ہوں ۔{۳} تم سب کو اللہ کی طرف پلٹنا ہے اور وہ سب کچھ کرسکتا ہے۔{ ۴} دیکھو یہ لوگ اپنے سینوں کو موڑتے ہیں تا کہ اُس سے چُھپ [5] جائیں۔ خبردار! جب یہ کپڑوں سے اپنے آپ کو ڈھانپتے ہیں، اللہ اُن کے چُھپے کو بھی جانتا ہے اور کھلے کو بھی، وہ تو اُن بھیدوں سے بھی واقف ہے جو سینوں میں ہیں۔{۵}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)