سورۃ الفاتحۃ   -  1 : 1-7 / 7اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا[1] ہے۔ {۱} تعریف اللہ ہی کے لیے ہے[2] جو تمام کائنات کا رب[3] ہے ،{۲} نہایت مہربان اور رحم فرمانے والا[4] ہے،{۳} روز جزا کا مالک[5] ہے ۔{۴} ہم تیری ہی عبادت[6] کرتے ہیں اورتجھی سے مدد مانگتے ہیں۔[7]{۵} ہمیں سیدھا راستہ دکھا[8] ،{۶} اُن لوگوں کا راستہ جن پر تو نے انعام فرمایا،[9] جو معتوب نہیں ہوئے، جو بھٹکے ہوئے نہیں ہیں[10] ۔{۷}
سورۃ البقرۃ   -  اللہ کے نام سے جو بے انتہا مہربان اور رحم فرمانے والا ہے۔ 2 : 1-74 / 286الف لام میم [1]{۱} یہ اللہ کی کتاب ہے، اس میں کوئی شک نہیں [2] ہدایت ہے اُن پرہیز گار لوگوں کے لیے[3]{۲} جو غیب پر ایمان لاتے[4] ہیں، نماز قائم کرتے ہیں،[5] جو رزق ہم نے اُن کو دیا ہے، اُس میں سے خرچ کرتے ہیں[6] {۳} جو کتاب تم پر نازل کی گئی ہے (یعنی قرآن) اور جو کتابیں تم سے پہلے نازل کی گئی تھیں ان سب پر ایمان لاتے ہیں[7] اور آخرت پر یقین رکھتے ہیں۔[8]{۴} ایسے لوگ اپنے رَبّ کی طرف سے راہ راست پر ہیں اور وہی فلاح پانے والے ہیں۔{۵} جن لوگوں نے (اِن باتوں کو تسلیم کرنے سے ) انکار کردیا [9]، اُن کے لیے یکساں ہے ، خواہ تم اُنہیں خبردار کرویانہ کرو، بہر حال وہ ماننے والے نہیں ہیں ۔{۶} اللہ نے اُن کے دلوں اور اُن کے کانوں پر مہر لگادی[10] ہے اور ان کی آنکھوں پر پردہ پڑگیا ہے۔ وہ سخت سزا کے مستحق ہیں ۔{۷} اوربعض لوگ ایسے بھی ہیں جو کہتے ہیں کہ ہم اللہ پر اور آخرت کے دن پر ایمان لائے ہیں ، حالانکہ درحقیقت وہ مومن نہیں ہیں۔{۸} وہ اللہ اور ایمان لانے والوں کے ساتھ دھوکہ بازی کررہے ہیں ، مگردراصل وہ خود اپنے آ پ ہی کودھوکے میں ڈال رہے ہیں اور اُنہیں اُس کا شعور نہیں[11] ہے۔ {۹} ان کے دلوں میں ایک بیماریہے جسے اللہ نے اور زیادہ بڑھادیا [12]اور جو جُھوٹ وہ بولتے ہیں ،اُس کی پاداش میں اُن کے لیے دردناک سزا ہے ۔{۱۰} جب کبھی ان سے کہاگیا کہ زمین میں فساد برپانہ کرو، تو انہوں نے یہی کہا کہ ’’ ہم تو اِصلاح کرنے والے ہیں‘‘۔{۱۱} خبردار !حقیقت میں یہی لوگ مفسد ہیں مگر اُنہیں شعور نہیں ہے۔{ ۱۲} اور جب اُن سے کہا گیا کہ جس طرح دوسرے لوگ ایمان لائے ہیں اُسی طرح تم بھی ایمان[13] لا ؤ تو اُنہوں نے یہی جواب دیا کہ ’’ کیا ہم بیوقوفوں کی طرح ایمان لائیں‘‘؟[14] خبردار ! حقیقت میں تو یہ خود بیوقوف ہیں ، مگر یہ جانتے نہیں ہیں۔ {۱۳} جب یہ اہل ایمان سے ملتے ہیں تو کہتے ہیں کہ’’ ہم ایمان لائے ہیں ‘‘ اور جب علیٰحد گی میں اپنے شیطانوں [15]سے ملتے ہیں ، تو کہتے ہیں کہ ’’اصل میں تو ہم تمہارے ساتھ ہیں اور اِن لوگوں سے محض مذاق کررہے ہیں‘‘۔{ ۱۴} اللہ اِن سے مذاق کررہاہے، وہ اِن کی رسی دراز کئے جاتا ہے ، اور یہ اپنی سَرکشی میں اندھوں کی طرح بھٹکتے چلے جاتے ہیں۔{۱۵} یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے ہدایت کے بدلے گمراہی خرید لی ہے ، مگر یہ سودا ان کے لیے نفع بخش نہیں ہے اور یہ ہر گز صحیح راستے پر نہیں ہیں۔{۱۶} ان کی مثال ایسی ہے جیسے ایک شخص نے آگ روشن کی اور جب اس نے سارے ماحول کو روشن کردیا تو اللہ نے ان کا نور بصارت سلب کرلیا اور اُنہیں اِس حال میں چھوڑ دیا کہ تاریکیوں میں اُنہیں کچھ نظر نہیں آتا [16]{۱۷} یہ بہرے ہیں ، گو نگے ہیں، اندھے ہیں [17]، یہ اب نہ پلٹیں گے۔{۱۸} یاپھر ان کی مثال یوں سمجھو کہ آسمان سے زور کی بارش ہورہی ہے اور اس کے ساتھ اندھیری گھٹا اور کڑک اور چمک بھی ہے ،یہ بجلی کے کڑا کے سن کر اپنی جانوں کے خوف سے کانوں میں اُنگلیاں ٹھونسے لیتے ہیں ،اور اللہ ان منکرین حق کو ہر طرف سے گھیرے میں لیے ہوئے ہے[18]{۱۹} چمک سے ان کی حالت یہ ہورہی ہے کہ گویا عنقریب بجلی اِن کی بصارت اُچک لے جائے گی، جب ذراکچھ روشنی اِنہیں محسوس ہوتی ہے تو اُس میں کچھ دور چل لیتے ہیں اور جب ان پر اندھیرا چھاجاتا ہے تو کھڑے ہوجاتے ہیں[19]۔ اللہ چاہتا تو ان کی سماعت اور بصارت بالکل ہی سلب کرلیتا [20]، یقینا اللہ ہر چیز پر قادر ہے ۔{۲۰} لوگو! [21]بندگی اختیار کرو اپنے اُس رَبّ کی جو تمہارا اور تم سے پہلے جو لوگ ہو گزرے ہیں اُن سب کا خالق ہے، تمہارے بچنے کی توقع [22] اِسی صُورت سے ہوسکتی ہے۔ {۲۱} وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کا فرش بچھایا، آسمان کی چھت بنائی ، اُوپر سے پانی برسایا اور اس کے ذریعے سے ہر طرح کی پیداوار نکال کر تمہارے لیے رزق بہم پہنچایا۔ پس جب تم یہ جانتے ہو تو دوسروں کو اللہ کا مدِ مقابل[23] نہ ٹھہرا ؤ ۔ {۲۲} اور اگر تمہیں اِس امر میں شک ہے کہ یہ کتاب(قرآنِ مجید) جو ہم نے اپنے بندے (نبی ؐ)پر اُتاری ہے ، (یہ ہماری ہے یا نہیں)، تو اِس کے مانند ایک ہی سُورت بنالا ؤ ، اپنے سارے ہم نوا ؤں کو بُلا لو ، ایک اللہ کو چھوڑ کر باقی جس جس کی چاہو ، مدد لے لو ، اگر تم سچے ہو تو یہ کام کرکے دکھاؤ۔[24] {۲۳} لیکن اگر تم نے ایسا نہ کیا ، اور یقیناکبھی نہیں کرسکتے تو ڈرو اُس آگ سے ، جس کا ایندھن بنیں گے انسان اور پتھر،[25] جو مہیا کی گئی ہے منکرین ِحق کے لیے۔ { ۲۴} اور( اے پیغمبر ؐ!) جو لوگ اس کتاب پر ایمان لے آئیں اور (اس کے مطابق ) اپنے عمل درست کرلیں، اُنہیں خوشخبری دے دو کہ اُن کے لیے ایسے باغ ہیں ،جن کے نیچے نہریں بہتی ہوں گی۔ اُن باغوں کے پھل صورت میں دنیا کے پھلوں سے ملتے جُلتے ہوں گے۔ جب کوئی پَھل اُنہیں کھانے کو دیا جائے گا تو وہ کہیں گے کہ ایسے ہی پَھل اِس سے پہلے دنیا میں ہم کو دیے جاتے تھے۔ [26] اُن کے لیے وہاں پاکیزہ بیویاں ہوں گی،[27] اور وہ وہاں ہمیشہ رہیں گے۔ {۲۵} ہاں، اللہ اِس سے ہر گز نہیں شرماتا کہ مچھر یا اس سے بھی حقیر ترکسی چیز کی تمثیلیں [28]دے۔جو لوگ حق بات کو قبول کرنے والے ہیں ، وہ اِنہی تمثیلوں کو دیکھ کر جان لیتے ہیں کہ یہ حق ہے جواُن کے رَبّ ہی کی طرف سے آیا ہے ،اور جو ماننے والے نہیں ہیں، وہ اِنہیں سُن کر کہنے لگتے ہیں کہ ایسی تمثیلوں سے اللہ کو کیا سروکار؟ اِس طرح اللہ ایک ہی بات سے بہتوں کو گمراہی میں مبتلا کردیتا ہے اور بہتوں کو راہِ راست دکھا دیتا ہے۔[29] اور اُس سے گمراہی میں وہ اُنہی کو مبتلا کرتا ہے جو فاسق[30] ہیں{۲۶} اللہ کے عہد کو مضبُوط باندھ لینے کے بعد توڑ دیتے ہیں [31]،اللہ نے جسے جوڑ نے کا حکم دیا ہے اُسے کاٹتے ہیں[32]، ور زمین میں فساد برپا کرتے ہیں۔[33] حقیقت میں یہی لوگ نقصان اٹھانے والے ہیں۔ {۲۷} تم اللہ کے ساتھ کُفر کا رَویہّ کیسے اختیار کرتے ہو ، حالانکہ تم بے جان تھے ، اُس نے تم کو زندگی عطا کی ، پھر وہی تمہاری جان سَلْب کرے گا، پھر وہی تمہیں دوبارہ زِندگی عطا کرے گا ، پھر اِسی کی طرف تمہیں پلٹ کر جانا ہے۔{۲۸} وہی تو ہے جس نے تمہارے لیے زمین کی ساری چیزیں پیداکیں ، پھر اُوپر کی طرف توجہّ فرمائی اور سات آسمان[34] استوار کیے۔ اور وہ ہر چیز کا علم رکھنے والا ہے۔[35]{۲۹} پھر ذرا [36] اُس وقت کا تصّور کرو جب تمہارے رَبّ نے فرشتوں[37] سے کہا تھا کہ ’’ میں زمین میں ایک خلیفہ [38]بنانے والا ہوں‘‘۔ اُنہوں نے عرض کیا: ’’کیا آپ زمین میں کسی ایسے کو مقرر کرنے والے ہیں جو اُس کے اِنتظام کو بگاڑ دے گا اور خونریزیاں کرے [39]گا؟ آپ کی حمد وثنا کے ساتھ تسبیح اور آپ کی تقدیس تو ہم کرہی رہے [40]ہیں‘‘ فرمایا: ’’ میں جانتا ہوں، جو کچھ تم نہیں جانتے ‘‘ ۔[41]{۳۰} اس کے بعد اللہ نے آدمؑ کو ساری چیزوں کے نام سکھائے ،[42]پھر انہیں فرشتوں کے سامنے پیش کیا اور فرمایا: ’’ اگر تمہارا خیال صحیح ہے ( کہ کسی خلیفہ کے تقرّر سے اِنتظام بگڑ جائے گا) ،تو ذرا مجھے اِن چیزوں کے نام بتا ؤ ‘‘ ۔{۳۱} اُنہوں نے عرض کیا :’’ نقص سے پاک تو آپ ہی کی ذات ہے ، ہم تو بس اُتنا ہی علم رکھتے ہیں،جتنا آپ نے ہم کو دے دیا[43] ہے ۔ حقیقت میں سب کچھ جاننے اور سمجھنے والا آپ کے سوا کوئی نہیں ‘‘{۳۲} پھر اللہ نے آدم ؑسے کہا: ’’ تم انہیں اِن چیزوں کے نام بتا ؤ۔ ‘‘ جب اس نے ان کو ان سب کے نام بتادیے ،[44] تو اللہ نے فرمایا:’’ میں نے تم سے کہا نہ تھا کہ میں آسمانوں اور زمین کی وہ ساری حقیقتیں جانتا ہوں جو تم سے مخفی ہیں، جو کچھ تم ظاہر کرتے ہو، وہ بھی مجھے معلوم ہے اور جو کچھ تم چھپاتے ہو ، اسے بھی میں جانتا ہوں ‘‘۔ {۳۳} پھر جب ہم نے فرشتوں کو حکم دیا کہ آدمؑ کے آگے جھک جا ؤ، تو سب[45] جھک گئے، مگر اِبلیس [46]نے اِنکار کیا۔ وہ اپنی بڑائی کے گھمنڈ میں پڑگیا اور نافرمانوں میں شامل ہوگیا۔[47]{ ۳۴} پھر ہم نے آدم ؑسے کہا کہ ’’ تم اور تمہاری بیوی ، دونوں جنّت میں رہو اور یہاں بفراغت جو چاہو کھا ؤ ، مگر اِس درخت کا رخ نہ کرنا ،[48]ورنہ ظالموں [49]میں شمار ہوگے‘‘۔{۳۵} آخر کار شیطان نے ان دونوں کو اُس درخت کی ترغیب دے کر ہمارے حکم کی پیروی سے ہٹا دیا اور انہیں اُس حالت سے نکلو اکر چھوڑا جس میں وہ تھے۔ ہم نے حکم دیا کہ ’’اب تم سب یہاں سے اتر جا ؤ ، تم ایک دوسرے کے دشمن[50] ہو اور تمہیں ایک خاص وقت تک زمین میں ٹھہرنا اور وہیں گزر بسر کرنا ہے۔ ‘‘{۳۶} اُس وقت آدم ؑنے اپنے رَبّ سے چند کلمات سیکھ کر توبہ کی ،[51] جس کو اُس کے رَبّ نے قبول کرلیا ، کیونکہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم کرنے والا ہے ۔[52]{۳۷} ہم نے کہا کہ ’’تم سب یہاں سے اتر جا ؤ ۔[53] پھر جو میری طرف سے کوئی ہدایت تمہارے پاس پہنچے تو جو لوگ میری اُس ہدایت کی پیروی کریں گے ، اُن کے لیے کسی خوف ورنج کا موقع نہ ہوگا،{۳۸} اور جو اس کو قبول کرنے سے انکار کریں گے اور ہماری آیات[54] کو جھٹلائیں گے ، وہ آگ میں جانے والے ہیں ، جہاں وہ ہمیشہ رہیں[55] گے ‘‘۔ {۳۹} اے بنی اسرائیل! [56] ذرا خیال کرو میری اس نعمت کا جومیں نے تم کو عطا کی تھی ۔میرے ساتھ تمہارا جو عہد تھا اُسے تم پورا کرو تو میرا جو عہد تمہارے ساتھ تھا اُسے میں پورا کروں ، اور مجھ ہی سے تم ڈرو{ ۴۰} اور میں نے جو کتاب بھیجی ہے اس پر ایمان لا ؤ ۔ یہ اُس کتاب کی تائید میں ہے جو تمہارے پاس پہلے سے موجود تھی، لہٰذا سب سے پہلے تم ہی اُس کے منکرنہ بن جا ؤ ، تھوڑی قیمت پر میری آیات کو نہ بیچ [57]ڈالو ،اورمیرے غضب سے بچو۔{۴۱} باطل کا رنگ چڑھا کر حق کو مشتبہ نہ بنا ؤ اور نہ جانتے بوجھتے حق کوچھپانے کی کوشش کرو۔[58]{ ۲ ۴} نماز قائم کرو ، زکوٰۃ دو[59]، اور جو لوگ میرے آگے جُھک رہے ہیں ان کے ساتھ تم بھی جھک جا ؤ۔ {۴۳} تم دوسروں کو تونیکی کا راستہ اختیار کرنے کے لیے کہتے ہو، مگر اپنے آپ کو بھول جاتے ہو؟ حالانکہ تم کتاب کی تلاوت کرتے ہو ۔ کیا تم عقل سے بالکل ہی کام نہیں لیتے؟{۴۴} صبر اور نماز سے مدد[60] لو ، بیشک نماز ایک سخت مشکل کام ہے ، مگراُن فرماں بردار بندوں کے لیے مشکل نہیں ہے{۴۵} جو سمجھتے ہیں کہ آخر کارانہیں اپنے رَبّ سے ملنا اور اسی کی طرف پلٹ کر جانا ہے ۔[61]{۴۶} اے بنی اسرائیل! یاد کرو میری اُس نعمت کو ، جس سے میں نے تمہیں نوازا تھا اور اس بات کو کہ میں نے تمہیں دنیا کی ساری قوموں پر فضیلت عطا کی تھی۔[62] {۴۷} اور ڈرو اُس دن سے جب کوئی کسی کے ذرا کام نہ آئے گا ، نہ کسی کی طرف سے سفارش قبول ہوگی ، نہ کسی کو فدیہ لے کر چھوڑا جائے گا، اور نہ مجرموں کو کہیں سے مدد مِل سکے گی۔[63]{۴۸} یادکرو وہ [64]وقت،جب ہم نے تم کو فرعونیوں [65] کی غلامی سے نجات بخشی ۔ اُنہوں نے تمہیں سخت عذاب میں مبتلا کررکھا تھا ، تمہارے لڑکوں کو ذبح کرتے تھے اور تمہاری لڑکیوں کو زندہ رہنے دیتے تھے اور اس حالت میں تمہارے رَبّ کی طرف سے تمہاری بڑی آزمائش تھی۔ [66]{۴۹} یاد کرو وہ وقت ، جب ہم نے سمندر پھاڑکر تمہارے لیے راستہ بنایا ، پھر اس میں سے تمہیں بخیریت گزروادیا ، پھر وہیں تمہاری آنکھوں کے سامنے فرعونیوں کو غرقاب کیا۔{۵۰} یاد کرو ، جب ہم نے موسیٰ ؑ کو چالیس شبانہ روز کی قرار داد پر بُلا یا ،[67] تو اس کے پیچھے تم بچھڑے کو اپنا معبُود بنا[68]بیٹھے۔ اس وقت تم نے بڑی زیادتی کی تھی، {۵۱} مگر اس پر بھی ہم نے تمہیں معاف کردیا کہ شاید اب تم شکر گزار بنو۔{ ۵۲} یاد کرو کہ (ٹھیک اُس وقت جب تم یہ ظلم کررہے تھے) ہم نے موسیٰ ؑکو کتاب اور فُرقان [69] عطا کی تا کہ تم اِس کے ذریعے سے سیدھا راستہ پاسکو۔ { ۵۳} یاد کرو جب موسیٰ ؑ(یہ نعمت لیے ہوئے پلٹا ، تو اُس ) نے اپنی قوم سے کہا کہ ’’ لوگو! تم نے بچھڑے کو معبود بنا کر اپنے اُوپر سخت ظلم کیا ہے ، لہٰذا تم لوگ اپنے خالق کے حضور توبہ کرو اور اپنی جانوں کو ہلاک کرو[70] اِسی میں تمہارے خالق کے نزدیک تمہاری بہتری ہے۔ ‘‘ اُس وقت تمہارے خالق نے تمہاری توبہ قبول کرلی کہ وہ بڑا معاف کرنے والا اور رحم فرمانے والا ہے۔{ ۵۴} یاد کرو جب تم نے موسیٰؑ سے کہا تھا کہ ہم تمہارے کہنے کا ہر گز یقین نہ کریں گے ،جب تک کہ اپنی آنکھوں سے علانیہ اللہ کو ( تم سے کلام کرتے) نہ دیکھ لیں ۔ اس وقت تمہارے دیکھتے دیکھتے ایک زبردست کڑکے نے تم کو آلیا ۔{۵۵} تم بے جان ہوکر گرچکے تھے ، مگر پھر ہم نے تم کو جِلا اُٹھایا،[71] شاید کہ اس احسان کے بعد تم شکر گزار بن جا ؤ۔{۵۶} ہم نے تم پر ابرکا سایہ[76] کیا ، مَنْ وسلویٰ کی غذا تمہارے لیے فراہم کی [73]اور تم سے کہا کہ جو پاک چیزیں ہم نے تمہیں بخشی ہیں ، اُنہیں کھا ؤ، (مگر تمہارے اسلاف نے جو کچھ کیا)وہ ہم پر اُن کا ظلم نہ تھا ، بلکہ اُنہوں نے آپ اپنے ہی اوپر ظلم کیا ۔{۵۷} پھر یاد کرو جب ہم نے کہا تھا کہ ’’ یہ بستی[74] ( جو تمہارے سامنے ہے ) اِس میں داخل ہوجا ؤ ، اِس کی پیداوار ، جس طرح چاہو، مزے سے کھا ؤ ، مگر بستی کے دروازے میں سجدہ ریز ہوتے ہوئے داخل ہونا اور کہتے جانا حِطَّۃٌ حِطَّۃ ٌ،[75] ہم تمہاری خطا ؤں سے درگزر کریں گے اور نیکو کاروں کو مزید فضل و کرم سے نوازیں گے‘‘ ۔{۵۸} مگر جو بات اُن سے کہی گئی تھی ،ظالموں نے اسے بدل کر کچھ اور کردیا۔ آخر کا ر ہم نے ظلم کرنے والوں پر آسمان سے عذاب نازل کیا۔ یہ سزا تھی اُن نافرمانیوں کی ، جووہ کررہے تھے۔{۵۹} یاد کرو ، جب موسیٰؑ نے اپنی قوم کے لیے پانی کی دعا کی تو ہم نے کہا کہ فلاں چٹان پر اپنا عصامارو ، چنانچہ اس سے بارہ چشمے پھوٹ نکلے[76] اور ہر قبیلے نے جان لیا کہ کونسی جگہ اس کے پانی لینے کی ہے۔ ( اُس وقت یہ ہدایت کردی گئی تھی کہ ) اللہ کا دیا ہوا رزق کھا ؤ پیو، اور زمین میں فسادنہ پھیلاتے پھرو۔{۶۰} یاد کرو ، جب تم نے کہا تھا کہ ’’ اے موسیٰ ؑ!ہم ایک ہی طرح کے کھانے پر صبر نہیں کرسکتے ۔ اپنے رَبّ سے دعا کرو کہ ہمارے لیے زمین کی پیداوار ، ساگ ، ترکاری ، کھیرا، ککڑی،گیہوں ، لہسن ، پیاز ، دال وغیرہ پیدا کرے‘‘۔تو موسیٰ ؑ نے کہا: ’’کیا ایک بہتر چیز کے بجائے تم ادنیٰ درجے کی چیزیں لینا چاہتے [77]ہو؟ اچھا ، کسی شہری آبادی میں جارہو ۔ جو کچھ تم مانگتے ہو وہاں مل جائے گا ‘ ‘۔ آخر کار نوبت یہاں تک پہنچی کہ ذِلّت و خواری اور پستی و بَدحالی اُن پر مسلّط ہوگئی اور وہ اللہ کے غضب میں گِھرگئے ۔ یہ نتیجہ تھا اِس کا کہ وہ اللہ کی آیات سے کفر[78]کرنے لگے اور پیغمبروں کو ناحق قتل [79]کرنے لگے ۔ یہ نتیجہ تھا اُن کی نافرمانیوں کا اور اس بات کا کہ و ہ حدُودِ شرع سے نِکل نِکل جاتے تھے۔{۶۱} یقین جانو کہ نبی عربی ؐ کو ماننے والے ہوں یا یہودی ، عیسائی ہوں یا صابی ، جو بھی اللہ اور روزِآخر پر ایمان لائے گا اور نیک عمل کرے گا ، اُس کا اجراس کے رَبّ کے پاس ہے اور اُس کے لیے کسی خوف اور رنج کا موقع نہیں ہے ۔[80]{ ۶۲} یاد کرو وہ وقت ، جب ہم نے طُور کو تم پر اٹھا کرتم سے پختہ عہد لیا تھا اور کہا [81]تھا کہ ’’جو کتاب ہم تمہیں دے رہے ہیں اسے مضبوطی کے ساتھ تھا منا اور جو احکام وہدایات اس میں درج ہیں انہیں یاد رکھنا، اِسی ذریعے سے توقع کی جاسکتی ہے کہ تم تقویٰ کی رَوِش پر چل سکوگے ‘‘۔ {۶۳} مگر اس کے بعد تم اپنے عہد سے پھر گئے۔ اِس پر بھی اللہ کے فضل اور اس کی رحمت نے تمہارا ساتھ نہ چھوڑا ، ورنہ تم کبھی کے تباہ ہوچکے ہوتے۔{ ۶۴} پھر تمہیں اپنی قوم کے اُن لوگوں کا قِصّہ تو معلوم ہی ہے جنہوں نے سَبْت [82]کاقانون توڑا تھا۔ ہم نے انہیں کہہ دیا کہ بندربن جا ؤاور اس حال میں رہوکہ ہرطرف سے تم پر دُھتکار پھٹکار پڑے۔[83]{۶۵} اس طرح ہم نے اُن کے انجام کو اس زمانے کے لوگوں اور بعد کی آنے والی نسلوں کے لیے عبرت اور ڈرنے والوں کے لیے نصیحت بناکر چھوڑا۔{۶۶} پھر وہ واقعہ یاد کرو ، جب موسیٰ ؑ نے اپنی قوم سے کہا کہ اللہ تمہیں ایک گائے ذبح کرنے کا حکم دیتا ہے۔ کہنے لگے کیا تم ہم سے مذاق کرتے ہو؟ موسیٰ ؑ ؑنے کہا میں اِس سے اللہ کی پناہ مانگتاہوں کہ جاہلوں کی سی باتیں کروں۔{۶۷} بولے، اچھا اپنے رَبّ سے درخواست کرو کہ وہ ہمیں اس گائے کی کچھ تفصیل بتائے ۔ موسیٰ ؑ نے کہا اللہ کا ارشاد ہے کہ وہ ایسی گائے ہونی چاہئے جو نہ بوڑھی ہو نہ بَچْھیا، بلکہ اوسط عمر کی ہو۔ لہٰذا جو حکم دیا جاتا ہے اس کی تعمیل کرو۔ {۶۸} پھر کہنے لگے اپنے رَبّ سے یہ اور پوچھ دو کہ اس کا رنگ کیسا ہو۔ موسیٰ ؑنے کہا وہ فرماتا ہے زرد رنگ کی گائے ہونی چاہیے، جس کا رنگ ایسا شوخ ہوکہ دیکھنے والوں کاجی خوش ہوجائے۔{۶۹} پھر بولے اپنے رَبّ سے صاف صاف پوچھ کربتا ؤ کیسی گائے مطلوب ہے ، ہمیں اس کی تعیین میں اشتباہ ہوگیا ہے ۔ اللہ نے چاہا تو ہم اس کا پتہ پالیں گے۔{ ۷۰} موسیٰ ؑنے جواب دیا : اللہ کہتا ہے کہ وہ ایسی گائے ہے جس سے خدمت نہیں لی جاتی ، نہ زمین جوتتی ہے نہ پانی کھینچتی ہے ، صحیح سالم اور بے داغ ہے ۔ اس پر وہ پکاراُٹھے کہ ہاں ، اب تم نے ٹھیک پتہ بتایا ہے۔ پھر انہوں نے اسے ذبح کیا ، ورنہ وہ ایسا کرتے معلوم نہ ہوتے تھے ۔[84]{۷۱} اور تمہیں یاد ہے وہ واقعہ جب تم نے ایک شخص کی جان لی تھی ، پھر اس کے بارے میں جھگڑنے اور ایک دوسرے پر قتل کا الزام تھوپنے لگے تھے اور اللہ نے فیصلہ کرلیا تھا کہ جو کچھ تم چھپاتے ہو ، اسے کھول کر رکھ دے گا۔ {۷۲} اُس وقت ہم نے حکم دیا کہ مقتول کی لاش کو اُس کے ایک حصے سے ضرب لگا ؤ۔ دیکھو ، اِس طرح اللہ مُردوں کو زندگی بخشتا ہے اور تمہیں اپنی نشانیاں دکھاتا ہے تا کہ تم سمجھو۔[85]{ ۷۳} مگر ایسی نشانیاں دیکھنے کے بعد بھی آخر کار تمہارے دل سخت ہوگئے ، پتھروں کی طرح سخت ، بلکہ سختی میں کچھ ان سے بھی بڑھے ہوئے ، کیونکہ پتھروں میں سے تو کوئی ایسا بھی ہوتا ہے جس میں سے چشمے پھوٹ بہتے ہیں ، کوئی پھٹتا ہے اور اس میں سے پانی نکل آتا ہے ، اور کوئی اللہ کے خوف سے لرز کر گر بھی پڑتا ہے ، اللہ تمہارے کرتوتوں سے بے خبرنہیں ہے ۔{ ۷۴}
X
JuzHizbSura
1. Alif-Lam-Mim1(1:1) - (2:74)
2(2:75) - (2:141)
2. Sayaqūl3(2:142) - (2:202)
4(2:203) - (2:252)
3. Tilka -r-rusul5(2:253) - (3:14)
6(3:15) - (3:92)
4. Lan Tana Lu7(3:93) - (3:170)
8(3:171) - (4:23)
5. W-al-muḥṣanāt9(4:24) - (4:87)
10(4:88) - (4:147)
6. Lā yuẖibbu-llāh11(4:148) - (5:26)
12(5:27) - (5:81)
7. Wa ʾidha samiʿū13(5:82) - (6:35)
14(6:36) - (6:110)
8. Wa law ʾannanā15(6:111) - (6:165)
16(7:1) - (7:87)
9. Qāl al-malāʾ17(7:88) - (7:170)
18(7:171) - (8:40)
10. W-aʿlamū19(8:41) - (9:33)
20(9:34) - (9:92)
11. Yaʾtadhirūna21(9:93) - (10:25)
22(10:26) - (11:5)
12. Wa mā min dābbah23(11:6) - (11:83)
24(11:84) - (12:52)
13. Wa mā ʾubarriʾu25(12:53) - (13:18)
26(13:19) - (14:52)
14. ʾAlif Lām Rāʾ27(15:1) - (16:50)
28(16:51) - (16:128)
15. Subḥāna -lladhi29(17:1) - (17:98)
30(17:99) - (18:74)
16. Qāla ʾa-lam31(18:75) - (19:98)
32(20:1) - (20:135)
17. Aqtaraba li-n-nās33(21:1) - (21:112)
34(22:1) - (22:78)
18. Qad ʾaflaḥa35(23:1) - (24:20)
36(24:21) - (25:21)
19. Wa-qāla -lladhīna37(25:22) - (26:110)
38(26:111) - (27:55)
20. Am-man khalaq39(27:56) - (28:50)
40(28:51) - (29:45)
21. Utlu ma uhiya41(29:46) - (31:21)
42(31:22) - (33:30)
22. Wa-man yaqnut43(33:31) - (34:23)
44(34:24) - (36:27)
23. Wa-mā-liya45(36:28) - (37:144)
46(37:145) - (39:31)
24. Fa-man ʾaẓlamu47(39:32) - (40:40)
48(40:41) - (41:46)
25. ʾIlaihi yuraddu49(41:47) - (43:23)
50(43:24) - (45:37)
26. Ḥāʾ Mīm51(46:1) - (48:17)
52(48:18) - (51:30)
27. Qāla fa-mā khatbukum53(51:31) - (54:55)
54(55:1) - (57:29)
28. Qad samiʿa -llāhu55(58:1) - (61:14)
56(62:1) - (66:12)
29. Tabāraka -lladhi57(67:1) - (71:28)
58(72:1) - (77:50)
30. ʿAmma59(78:1) - (86:17)
60(87:1) - (114:6)